گداگری اور مسلم سماج

ڈاکٹر سید حسنین احمد ندوی

گداگری ایک قدیم عالمی مسئلہ ہے، جو مشرق سے مغرب تک ہر جگہ موجود ہے، البتہ اس کا طریقہ کار ، انداز اور شکل ہر معاشرہ میں الگ الگ ہے، یہ دراصل آخری سہارا ہے ان محروم ومجبور کے لئے جنہیں جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے درکار اشیاء فراہم نہ ہوں، نہ تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا میسر ہو اور نہ ہی پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے کھانے کے چند نوالے، اس طرح کے لوگ دوسروں کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور وہ بھی انہیں اپنی فطری ہمدردی کے تحت خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے، اس طرح گدا گری عرصہ تک ایک انفرادی مسئلہ رہا جس کے تحت مجبور وبے کس افراد گذر بسر کرتے ہیں، اس طرح کے افراد سماج میں عام طور پر اچھی نظر سے نہیں دیکھے گئے اور نہ ہی معاشرہ میں ان کا کوئی مقام ہوا کرتا تھا، البتہ بعض مذہبی پیشوائوں نے پیٹ بھرنے کا ذریعہ بنایا۔ اپنے ماننے والوں کے لئے ضروری قرار دیا کہ مذہبی پیشوا بھکشو وغیرہ ان کے دروازہ پر صدا لگائیں اور دست سوال دراز کریں تو کچھ نہ کچھ دان ضرور کریں اور انہیں خالی ہاتھ نہ لوٹائیں، اس طرح گداگروں کے صف میں بعض مذہبی نمائندوں کے داخلہ سے یہ ایک طرز زندگی بن گیا جسے بعد میں بہتوں نے گذر بسر کے ذریعہ کے طور پر اپنالیا۔

اسلام کا معاملہ دیگر مذاہب سے بالکل مختلف ہے، اس میں نہ صرف یہ کہ گداگری کی کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی بلکہ اس کے خاتمہ کے لئے ایک لمبا چوڑا نظام ترتیب دیا گیا تاکہ اس کے ذریعہ سماج کے بچھڑ جانے والے افراد کی دست گیری کی جائے ، اس طرح وہ آگے بڑھ کر سماج کے عمومی دھارے میں شامل ہوجائیں، چنانچہ زکوٰۃ، صدقات، اور کفارات وغیرہ کا لازمی کیا جانا، اس کے علاوہ شب وروز صدقات وخیرات وغیرہ کی حوصلہ افزائی اس جامع اور وسیع پروگرام کا حصہ ہے، تاکہ کوئی بھی لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے پر مجبور نہ ہو اور معاشرہ گداگری کی لعنت سے پاک ہوجائے، اسلام کا یہ فلسفہ حیات صرف نظری نہیں ہے جو صفحہ قرطاس کی زینت ہوا کرتا ہے بلکہ عملی بھی ہے، جس کا تجربہ بارہا کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور میں حالات اس قدر بدل گئے تھے کہ لوگ زکوٰۃ وصدقات لے کر مستحق کو ڈھونڈا کرتے تھے لیکن انہیں اس کا کوئی طلب گار نہ ملتا تھا، لہٰذا وہ اسے بیت المال میں جمع کرا دیا کرتے تھے یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اسلام جس نے معاشرہ کو گداگری سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی کئے آج اس کے ماننے والے گداگری میں دیگر اقوام سے بازی لے گئے، انہوں نے اسے ایک باضابطہ فن اور دلکش حرفت میں تبدیل کردیا، جس سے مجبور ومحتاج اور ضرورت مند کم جبکہ نکمے، کام چور، کاہل ، شاطر اورچالبازوں کی بڑی تعداد وابستہ ہوگئی ہے، گداگری کے پیشے سے منسلک پہلا طبقہ ان عام لوگوں کا ہے جو گلی گلی اور دروازے دروازے پھرنے کے علاوہ ہوٹلس، مالس،درگاہوں ، چوراہوں ، مساجد اور دیگر سیاحتی مقامات پر ڈیرا جماتے ہیں اور وہاں آنے جانے والوں سے کچھ نہ کچھ ہر حال میں وصول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے یہ دیندار لوگوں کی طرح وضع قطع اختیار کرلیتے ہیں، چنانچہ ان نقلی گداگروں میں آپ کو ایسے مردوں کی اچھی خاصی تعداد ملے گی جو داڑھی ٹوپی اور کرتا پاجامہ میں کافی متشرع نظر آئیںگے اسی طرح عورتیں عبایہ واسکارف میں دیندار ہونے کا تاثر دیںگی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا دین سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا،  ایسے خطرناک مافیا والے بھی شریک ہوچکے ہیں جو چھوٹے بچے اور بچیوں کو اغواء کرکے ان کے ہاتھ پیر توڑ دیتے ہیں یا پھر انہیں اندھا کردیتے ہیں اور پھر انہیں بھیک منگوانے کے لئے بڑا کرتے ہیں اس لئے کہ معذور قسم کے افراد لوگوں کی زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، اوربھیک بٹورتے ہیں، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صرف شہر حیدرآباد میں بھکاریوں کی تعداد چودہ ہزار سے متجاوز ہے  ان کی سالانہ آمدنی 24 کروڑ کے قریب ہے ان میں بچے روزانہ دو ہزار کے قریب بھیک مانگ کر روپیے حاصل کر لیتے ہیں۔

گداگروں میں دوسرا طبقہ وہ ہے جو آفت زدہ اور مصیبت کے ماروں کو عنوان بنا کر اپنی جیبیں بھرتے ہیں ، چنانچہ اگر کہیں زلزلہ یا سیلاب آجائے یا فسادات پھوٹ پڑے تو یہ مصیبت زدگان کی مدد کے نام پر سارے ملک میں اس طرح دور جاتے ہیں کہ دشت تو دشت سہی دریا بھی نہیں چھوڑتے اور قوم کا اچھا خاصہ سرمایہ جو وہ پریشان حال لوگوں تک پہنچانے کے متمنی ہوتے ہیں وہ اسے اچک لیتے ہیں، موسمی اور اتفاقی عناوین کے علاوہ ان کے پاس کئی صدا بہار عناوین بھی ہوتے ہیں،  وہ فرضی تصاویر، رسید بک اور تصدیق نامہ وغیرہ بھی تیار کرلیتے ہیں اور اسے آمدنی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں، یہ طریقہ کار کتنا نفع بخش ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب غیر مسلم بھی اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں، خاص طور پر رمضان میں یہ کرتا پاجامہ میں ملبوس چہر ے پر داڑھی لٹکائے اور سر پر ٹوپی چپکائے ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کے درمیان پھیل جاتے ہیں اور چندہ وصول کرتے ہیں، عام طور پر ان کا تعلق آرا یس ایس سے ہوتا ہے، جو انہیں اس غرض کے لئے خاص طور پرتربیت دیتی ہے۔

گداگروں کا تیسرا طبقہ ہمہ یاران صد رنگ ہے، اس میں امیر بھی ہیں اور غریب بھی، شہری بھی ہیں اور دیہاتی بھی، جاہل بھی ہیں اور تعلیم یافتہ بھی ، صاحب روزگار بھی ہیں اور بے روزگار بھی، دیندار بھی ہیں اور دنیادار بھی، یہ ہمارے معاشرہ کے وہ بے غیرت افراد ہیں جو شادی کو نہ صرف زن بلکہ زر کے حصول کا بھی ذریعہ بنا لیتے ہیں، یہ لڑکی کے دیئے ہوئے ساز وسامان سے اپنا گھر سجاتے ہیں، اس کے کیش سے عیش کرتے ہیں ،ا س کی دان کی ہوئی گاڑی پر شہر کا چکر لگاتے اور یار دوست میں شیخی بھگارتے ہیں، اس قماش کے لوگ شادی کے بازار میں کسی غلام کی طرح اپنا دام لگوانے سے بالکل نہیں شرماتے ہیں۔

گداگروں کا یہ طبقہ انتہائی ڈھیٹ ہوتا ہے اور اپنے مقصد کی برآوری کے لئے بسا اوقات اوچھی حرکتوں سے بھی نہیں چوکتا، منہ کھول کر مانگتا ہے اور دل کھول کر داد عیش دیتا ہے۔

دیگر فنون کی طرح گداگری کے فن نے بھی کافی ترقی کرلی ہے ، اس وجہ سے یہ کاروبار نیشنل اور انٹر نیشنل دونوں سطح پر جاری ہے اس لئے کہ بہت سے شاطر قسم کے لوگ بھی اس پیشہ سے وابستہ ہوچکے ہیں جو اس غرض کے لئے اپنے کارندوں کو نئی چراگاہ کی تلاش میں بیرونی ممالک خاص طور پر رمضان اور ایام حج میں سعودی بھیجتے ہیں، اس کے لئے وہ انہیں ویزا اور ٹکٹ کے علاوہ تربیت بھی فراہم کرتے ہیں۔

گداگروں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جواپنے اس کاروبار میں جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتاہے، اسے ہم سائبر گداگر کا نام دے سکتے ہیں، یہ کہیں جاتے آتے نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی آفس یا پھر گھر سے اپنا کاروبار چلاتے ہیں، یہ مصیبت کا شکار، خطرناک امراض میں مبتلا ، غریب بچیوں کی شادی وغیرہ میں مدد کے نام پر انفرادی یا تنظیم کے نام پر انٹر نیٹ پر لوگوں سے مدد کی درخواست کرتے ہیں اور اپنا بینک کا اکائونٹ نمبر دے کر اس میں رقم ڈالنے کی اپیل کرتے ہیں، اپنے جعلی خاکہ میں رنگ بھرنے کے لئے وہ ایسی تصویریں بھی سائٹ پر ڈالتے ہیں جو لوگوں کے دلوں کو پگھلا دے اور وہ زیادہ سے زیادہ رقم ان کے اکائونٹ میں ڈال دیں۔

گداگری سے متعلق عام طور پر دنیا میں دو طرح کا موقف اپنایا گیا ہے، بعض جگہوںپر اسے ذاتی مسئلہ قرار دے کر یونہی چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ بعض جگہوں پراس پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے، یہ دونوں موقف افراط وتفریط پر مبنی ہے، اس لئے کہ مکمل پابندی سے ہوسکتاہے کہ کوئی مجبور ومعذور موت کے منہ میں چلا جائے جبکہ اسے یونہی چھوڑ دینے سے یہ ناسور بڑھتا ہی جائے گا غیر مستحق مستحقین کے منہ کا نوالا تک اچک لینے میں پس وپیش نہیں کریںگے، اسلام نے اس سلسلے میں انتہائی حکیمانہ موقف اختیار کیا ہے اس نے گداگری کا دروازہ مکمل طور پر مقفل نہیں کیا لیکن ایسا طریقہ کار اختیار کیا کہ بتدریج یہ ناسور ختم ہوجائے اس کے لئے اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ وہ اپنے آپ کو عالی صفات اور اوصاف حمیدہ سے متصف کریں جن میں سرفہرست یہ ہیں۔

۱۔ قناعت

قناعت سے مراد اللہ کی دی ہوئی چیزوںپر راضی برضا ہونا ہے،یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جسے مل جائے سمجھئے بہت کچھ مل گیا، چنانچہ رسول اللہ ا نے فرمایا:

قد أفلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ     (مسلم: ۲۳۷۹)

’’خوش نصیب ہے وہ شخص جسے اسلام لانے کا موقع ملا، ضرورت کی حد تک رزق بھی ملا اور اللہ نے اسے قناعت کی دولت سے نوازا‘‘۔

طوبی لمن ہدي إلی الإسلام وکان عیشہ کفافًا وقنع     (ترمذی: ۲۳۸۸)

’’خوشخبری ہے اس کے لئے جسے اسلام کی دولت کے ساتھ ضروریات زندگی کا سامان اور قناعت کی صفت بھی ملی‘‘۔

قناعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے انسان حرص وہوس سے کافی حد تک محفوظ ہوجاتا ہے، اس لئے کہ یہ اس کی توجہ کا مرکز دنیا وما فیہا کے بجائے خالق کائنات کی جانب سے منعطف کردیتا ہے۔

۲۔ سوال سے گریز

لوگوں سے سوال سے گریز ان صفات میں سے ایک ہے جس کی رسول اللہ ا نے کافی تحسین فرمائی ہے اور اس پر ابھارا ہے، چنانچہ فرمایا جو ضرورت پڑنے پر بھی لوگوں سے سوال کرنے سے گریز کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے لئے ایسے حالات پیدا کردیتا ہے کہ اس کی ضرورت نہ پڑے۔

من یستعفف یعفہ اللہ         (بخاری: ۱۴۰۷)

جو لوگوں سے سوال کرنے سے گریز کرے گا، تو اللہ ان کے حالات بدل دے گا۔

۳۔ استغناء

استغناء سے مراد یہ ہے کہ آدمی مشکل حالات میں بھی لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کرے اور اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے لوگوں کے بجائے اللہ سے امید لگائے جو اپنے آپ کو اس صفت سے متصف کرلیتے ہیں، اللہ تعالیٰ واقعی انہیںدوسروں سے مستغنی کردیتا ہے، چنانچہ رسول اللہ ا نے فرمایا:

من یستغنی یغنیہ اللہ    (بخاری: ۱۴۵۱)

جو بندہ سے مستغنی رہے تو اللہ اسے مستغنی بنا دے گا۔

۴۔ صبر

صبر اللہ کی ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے بڑے بڑے مسائل حل ہوجاتے ہیں، کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں، تنگی فراخی میںبدل جاتی ہے اور مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔

ومن یتصبر یصبرہ اللہ وما اعطی احد عطاء اخیرا واسع من الصبر (بخاری: ۱۴۵۱)

’’جو صبر کرنے کی کوشش کرے گا تو اللہ اس کو صبر عطا فرمائے گا ، حققیت یہ ہے کہ صبر سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے‘‘۔

کما کر کھانے کی حوصلہ افزائی

اسلام میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ انسان کو اپنی طاقت ، صلاحیت اوروسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ نہ کچھ تعمیری ومفید کام ضرور کرنا چاہیے، لہٰذا اگر کوئی شخص کوئی کام کرکے اپنا گذر بسر کرتاہے خواہ وہ کام کتنا ہی چھوٹا اور معمولی کیوں نہ ہو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے، چنانچہ رسول اللہ ا نے فرمایا:

والذی نفسی بیدہ لأن یأخذ أحدکم حبلۃ فیحتطب علی ظہرہ فتصدق ویستغنی لہ من الناس خیر لہ من أن یسئل

’’خدا کی قسم اگر تم میں سے کوئی شخص لکڑی کا گٹھا پیٹھ پر رکھ کر کمائے، صدقہ بھی کرے اور لوگوں سے مستغنی ہوجائے تو یہ لوگوں سے مانگنے سے بہتر ہے‘‘۔

کما کر کھانے کو حضور ا نے سب سے بہتر کھانا قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

ما اکل احد صنعا ما قط خیر من ان یاکل من عمل یدہ

’’اپنی محنت کی کمائی سے کھانے جیسا کوئی اور کھانا نہیں ہے‘‘۔

غیر اللہ کے بجائے اللہ سے سوال

یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ تمام خیر کا سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے وہی حقیقی معنوں میں دینے والا ہے، لہٰذا حاجت روائی کے لئے اسی کی جانب متوجہ ہونا چاہیے، رسول اللہ ا نے ایک موقع پر ابن عباسؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

احفظ اللہ یحفظک ، احفظ اللہ تجدہ تجاھک اذا سئلت فاسئل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ۔

’’اللہ کو یاد رکھووہ تمہیں یاد رکھے گا جب بھی تم اسے پکاروگے قریب ہی پائوگے، لہٰذا جب بھی کچھ مانگنا ہو تو اس سے مانگو اور تعاون کی ضرورت ہو تو اسی سے چاہو‘‘۔

دوسروں سے تعاون لینے یا مانگنے سے اسلام منع نہیں کرتا البتہ وہ اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ انسان کو ہر معاملہ میں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے اور دنیا وآخرت کسی بھی چیز کے لئے اس کی جانب متوجہ ہونا چاہیے، اس لئے کہ وہ ہر پکار نے والے کی پکار کو سنتا ہے۔

وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ   (البقرہ:۱۸۶)

’’جب میرا بندہ مجھے پکارتا ہے تو وہ مجھے قریب ہی پاتا ہے، پکارنے والے کی پکار کا میں جواب دیتا ہوں‘‘۔

فقر وفاقہ کی شدت میں بھی اسلام یہی تعلیم دیتا ہے، کہ انسان کو اللہ کی جانب متوجہ ہونا چاہیے، یہ لوگوں کی جانب متوجہ ہونے سے ہزار درجہ بہتر ہے، چنانچہ نبی کریم ا نے فرمایا:

من اصابتہ فاقۃ فانزلھا بالناس لم تسد فاقتہ ومن انزلھا باللہ اوشک اللہ لہ بالغنی اما بموت عاجل او غنی عاجل

’’جو فاقہ کے مسئلہ کو لوگوں کے تعاون سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا البتہ جو اللہ سے رجوع کرتاہے تو اللہ اسے یا تو فوری طور پر غنی کردیتا ہے یا پھر اسے موت دے دیتا ہے اور اسی طرح اس کا کوئی مسئلہ نہیں رہتا ہے‘‘۔

ابودرداء ص نے بیان کیا کہ ایک موقع سے رسول اللہ ا نے مجھے بلایا اور فرمایا:

ھل لک الی بیعۃ ولک الجنۃ قلت نعم وبسطت یدی فقال رسول اللہ ﷺ وھو یشترط علی أن لا اسأل الناس شیئا۔

’’رسول اللہ ا نے ابودرداء سے فرمایا جنت پر مجھ سے بیعت کروگے ، انہوں نے عرض کیا ہاں آپ انے فرمایا لوگوں سے کچھ مت مانگا کرو‘‘۔

من یضمن لی واحدۃ اضمن لہ الجنۃ قلت انا یا رسول اللہ قال لا تسال الناس شیاء

’’جومجھے ایک چیز کی ضمانت دے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا ، ثوبان ص نے عرض کیا ہے میں، آپ انے فرمایا لوگوں سے مت ما نگا کرو‘‘۔

لوگوں سے مانگنے کی ممانعت

اسلام کا اصل موقف یہی ہے کہ آدمی ضرورت پڑنے پر بھی لوگوں کے بجائے اللہ سے مانگے ، پھر بھی علماء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ بوقت ضرورت لوگوں سے مدد لی جاسکتی ہے، البتہ یہ بقدر ضرورت ہی ہونی چاہیے ، اس سے زیادہ نہیں، لہٰذا اگر کوئی غلط طور پر اپنے کو ضرورت مند ظاہر کرے یا مختلف حیلے بہانے اور مکرو فریب سے کام لے کر لوگوں کا مال اڑالے تو ایسے لوگوں کے لئے سخت وعیدیں ہیں، احادیث میں کافی تفصیل سے اس کا ذکر آیا ہے:

من سألہ ولہ ما یغنیہ جاء ت یوم القیامۃ خموش او خدوش، او کدوح فی وجہہ ما یزال الرجل یسأل الناس حتی یاتی یوم القیامۃ لیس فی وجھہ مزغۃ لحم (مسلم: ۲۳۵۱)

’’جو لوگوں سے بلا ضرورت مانگتا ہے تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے زخم زدہ ہوںگے، لوگوں سے ہمیشہ مانگنے والا قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت بالکل نہیں ہوگا‘‘۔

لا یزال العبد یسئل وھو غنی حتی یخلق وجھہ مما یکون لہ عندللہ وجھہ

(کنزل العمال: ۱۶۴۷۱)

’’بلا ضرورت جو لوگ ہمیشہ مانگتے ہیں، تو اللہ کے یہاں وہ کسی گنتی میں نہ ہوںگے‘‘۔

من سئل الناس أموالہم تکثرا فإنما یسأل جمرا فلیستقل أو یکتثر۔

’’جو لوگ لوگوں سے مانگ کر مال جمع کرتے ہیں، تو یہ دراصل ان سے آگ مانگتے ہیں خواہ کم ہو یا زیادہ ہو‘‘۔

احادیث میں مذکور اس شدید وعید کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ اللہ کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، اس کے علاوہ وہ ان لوگوں کے حقوق پر بھی ڈاکا ڈالتے ہیں جو اس مال کے اصل مستحق ہیں، جیسے فقراء ومساکین اور دیگر اصناف جن کا قرآن وحدیث میں ذکر ہے۔مانگنے والا اگرغنی ہونے کے باوجود مانگتا ہے تو اس کی ایک سزا یہ بھی ہے کہ اللہ اس کی حالت کو غنی سے فقر میں بدل دے ، اس لئے کہ اس نے غنی کی نعمت پر شکر کے بجائے لوگوں کے سامنے فرضی پریشانیوں کا رونا رویا، لہٰذا اس کی سزا یہی ہے کہ اس کی نعمتیں سلب کرلی جائیں، اوراس پر فقر وتنگی کا دروازہ کھول دیا جائے۔

لا یفتح الانسان علی نفسہ باب مسالۃ الا فتح اللہ علیہ باب الفقر     (مسند امام احمد: ۱۶۸۶)

’’جو لوگ اپنے لئے مانگنے کا دروازہ کھولتے ہیں، تو اللہ ان کے لئے فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے‘‘۔

دوسروں سے مانگ کر کھانے کے نتائج کتنے بھیانک ہوسکتے ہیں، اس کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے۔

لو تعلمون ما فی المسألۃ ما مشی أحد إلی أحد یسألہ شیئا    (نسائی: ۲۳۶۷)

’’اگر تمہیں مانگنے کی برائی معلوم ہوجائے تو کوئی کسی سے کچھ نہ مانگے‘‘۔

رسول اللہ ا نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ صرف تین طرح کے لوگوں کے لئے مانگنے کی اجازت ہے جیسا کہ حدیث قبیصہ صسے واضح ہوتا ہے۔

تحملت حمالۃ فأتیت رسول اللہ ا اسالہ فیھا فقال اقم حتی تأتینا الصدقۃ فنا مر لک بھا فقال ثم قال یا قبیصۃ ، ان مسألۃ لا تحل الا لثلثۃِ رجل تحمل حمالۃ فحلت لہ المسألۃ حتی یصیبھا ثم یمسک ورجل اصابتہ جائحۃ اجتاحت مالہ حلت لہ المسألۃ حتی یصیب قواما من عیش او قال سداد من عیش ورجل اصابتہ فاقۃ    (مسلم:۲۳۵۷)

قبیصہ ص بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر بعض مالی بوجھ آپڑا ، لہٰذا میں نے رسول اللہ ا سے تعاون چاہا، آپ افرمایا: اے قبیصہ! تین شخصوں کے علاوہ کسی اور کے لئے مانگنا حلال نہیں ہے، ایک تو وہ جس پر کوئی مالی بوجھ آپڑا ہو تو مانگ سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کی ضرورت پوری ہوجائے، دوسر ا وہ شخص جس کا مال کہیں پھنس گیا، تیسرا جس کو فاقہ کا سامنا ہو۔

ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا:

ان المسألۃ لا تصلح الا لثلثلۃ لذی فقر مدقع او لذی غرم مفظع أو لذی دم موجع

مانگنا تین شخص کے علاوہ کسی کے لئے درست نہیں ہے، شدید فقر کا شکار، قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا، اور جس پر خون بہا ہو۔

ان کے علاوہ کسی اور شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے، آپ نے فرمایا:

ان من حاز مالا بالسوال من غیر الأصناف المذکورۃ فانماحاز سحتا یذھب  بالبرکۃ جمیعا

’’مذکورہ تین کے علاوہ جس نے لوگوں سے مال مانگ کر جمع کیا تو وہ مال حرام ہے اس سے ساری برکت بھی چلی جائے گی‘‘۔

رسول اللہ ا نے مانگنے والوں کے لئے اصول وضابطے متعین فرمائے ہیں اور اس کا دائرہ انتہائی تنگ رکھا ہے تاکہ لوگ اسے دھندہ نہ بنالیں، لہٰذا صرف ان صورتوں میں مانگنے کی اجازت دی گئی ہے۔

۱- ضرورت پڑنے پر سوال اور وہ بھی بقدر ضرورت۔

۲-  کسی بھی کام پر عدم قدرت۔

۳- مانگنے میںلالچ اور حرص سے گریز۔

۴- اصرار سے اجتناب ۔

۵- اس کے لئے کسی کو غیر ضروری تنگ نہ کرنا۔

گداگری کا حل

گداگری کے وسیع دائرہ کار اور اس سے وابستہ بے شمار افراد کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا علاج اگرچہ ناممکن نہیں لیکن مشکل ضرور ہے، یہ ٹھوس عملی اقدام سے ہی ممکن ہوسکتا ہے اس کے سد باب کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر محلہ میں اہل خیر حضرات کے تعاون سے ایسی کمیٹی قائم کی جائے جو اپنے محلے کی حد تک گداگری سے وابستہ افراد کی نشاندہی کے بعد ہر اس شخص کو کام کے مواقع فراہم کرے جو اس پر قادر ہو اور ایسے مجبور ومعذور افراد کی دستگیری کرے جو کام پر قادر نہ ہوں، ان کی اس حد تک مدد ضرور کی جائے کہ انہیں کہیں جا کر مانگنے کی ضرورت باقی نہ رہے ، اس سلسلہ میں یہ بھی اہم ہے کہ زکوۃ ، صدقات اور خیرات بھی دینے سے قبل اس بات کا اطمینان کرلیں کہ وہ شخص واقعی مستحق ہے اس کے علاوہ ایسے بہروپیوں کو ہرگز کچھ نہ دیںجو پبلک مقامات جیسے مسجد ، درگاہ، ہوٹل، اور چوراہوں پر بھیک مانگنے کا دھندہ کرتے ہیں، اس لئے کہ ان کی اکثریت مجبوری کے تحت نہیں بلکہ پیشہ اور کمائی کے آسان ذریعہ کے طور پر اختیار کیا ہوا ہے، اس کے علاوہ یہ لوگ مذہب اور سماج کے لئے بھی ایک بدنما داغ ہیں ۔

 

مشمولہ: شمارہ مئی 2018

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau