چند سال پہلے ان صفحات میں اُن اجتماعی صفات کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی گئی تھی جن کو قرآن مجید نے عروج و سربلندی اور کام یابی و فتح مندی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ اُس وقت، ایمان[1]، صبر[2] اور توکل[3]کی صفات پرتفصیل سے گفتگو کی گئی تھی۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم چند اور اہم قرآنی صفات کو زیرِ بحث لائیں گے۔
قرآن مجید کےمطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کام یابی کا راز ایک خاص قسم کے رویے (attitude)میں پوشیدہ ہے۔ مذکورہ قرآنی صفات اس رویے کی تشکیل کرتی ہیں۔ قرآن کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ صفات افراد کے اندر بھی مطلوب ہیں اور اجتماعی طور پر امت کے اندر بھی مطلوب ہیں، یعنی یہ مطلوب ہے کہ پوری امت کا اجتماعی مزاج بھی انھی اوصاف کی اساس پر تشکیل پائے۔ یہ صفات آخرت میں بھی کام یابی کے لیے ضروری ہیں اور اس دنیا میں سر بلندی کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے کہ امت کا اجتماعی کردار ان صفات کا آئینہ دار ہو۔
ہم ان صفات کی اہمیت بھی واضح کریں گے، ان کے صحیح مفہوم پر بھی روشنی ڈالیں گے اور یہ بھی واضح کریں گے کہ امت کی حکمت عملی، اس کے اجتماعی رویوں اور چیلنجوں پر اس کے رسپانس کی تشکیل میں ان کا کیا رول ہونا چاہیے، نیز یہ کہ ہمارے موجودہ رویوں میں کیا باتیں ان کی اسپرٹ کے خلاف ہیں:
اس سلسلے کے تحت آج ہم ایک اہم مطلوب صفت ’شکر‘ کو زیرِ بحث لائیں گے۔
شکر کی اہمیت
شکر اُن الفاظ میں شامل ہے جن کا ذکر قرآن مجید میں کثرت سے آیا ہے۔ تقریباً 75 مقامات پر شکر اور اس کے مشتقات آئے ہیں۔اس کے علاوہ حمد، تسبیح وغیرہ جیسے الفاظ بھی کثرت سے استعمال ہوئے ہیں جو شکر کو ظاہر کرتے ہیں۔شکر کے مقابلے میں قرآن مجید ’ کفر‘ کا ذکر کرتا ہے۔ گویا شکر، ایمان کا ضروری تقاضا اور اہل ایمان کی لازمی صفت ہے۔ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ (یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔ النمل40)۔ امام راغب الاصفہانیؒ لکھتے ہیں: ويضادّه الكفر، وهونسيان النّعمة وسترها[4] (یعنی شکر کی ضد کفر ہے جس کا مطلب نعمتوں کو بھول جانا اور اس کو چھپانا ہے (قرآن نے جلیل القدر انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے خاص طور پر ان کی صفتِ شکر کو ابھارا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ان کی عظمت اور ان کو ملنے والی نعمتوں کا اصل سبب شکر ہی تھا۔إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری امت تھا، اللہ کا مطیع فرمان اور یک سو وہ کبھی مشرک نہ تھا۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔ اللہ نے اس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا۔ النحل 121)
شکر نعمتوں میں اضافے اور ان کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (اور یاد رکھو، تمھارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔سورہ ابراہیم 7) ابن ابی الدنیاؒ اس کی تشریح کرتے ہوئے حضرت علی ؓ کے حوالے سے کہتے ہیں۔’’إِنَّ النِّعْمَةَ مُوَصَّلَةٌ بِالشُّكْرِ، وَالشُّكْرُ مُعَلَّقٌ بِالْمَزِيدِ، وَهُمَا مَقْرُونَانِ فِي قَرْنٍ، فَلَنْ يَنْقَطِعَ الْمَزِيدُ مِنَ اللَّهِ حَتَّى يَنْقَطِعَ الشُّكْرُ مِنَ الْعَبْدِ[5]‘‘ (نعمتیں شکر کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں اور شکر نعمتوں میں اضافے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ جب تک بندے کا شکر ختم نہ ہو، خدا کی جانب سے نعمتوں میں اضافہ بھی نہیں رکتا )اسی لیے سلف صالحین نے شکر کا نام ’حافظ‘ رکھا ہے یعنی نعمتوں کی حفاظت کرنے والا اور ’جالب‘ بھی رکھا ہے یعنی جو نعمتیں موجود نہیں ہیں ان کو فراہم کرانے والا۔[6] حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ فرماتے ہیں۔ قیدوانعم اللہ بشکر اللہ[7] (اللہ کی نعمتوں کو شکر کے ذریعے محفوظ کرلو۔)
گویا اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں بھی بخشی ہیں ان کی حفاظت اور ان کی برقراری کے لیے بھی شکر ضروری ہے اور جو نعمتیں حاصل نہیں ہیں ان کا حصول بھی شکر گزاری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
بعض مفسرین نے یہ دل چسپ نکتہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کی متعدد اقسام کو اپنی مشیت پر منحصر رکھا ہے۔ فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ (بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمھیں ا پنے فضل سے غنی کر دے، اللہ علیم و حکیم ہے۔توبہ 28) فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِن شَاءَ (پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے۔الانعام 41) وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ (اور اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔البقرہ 212) اس طرح کی متعدد آیات میں اللہ کا انعام اللہ کی مشیت یعنی چاہنے پر منحصر رکھا گیا ہے لیکن شکر کی جزا اور اس کے انعام کو مطلق اور بلا کسی شرط و قید کے رکھا ہے۔ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ (جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جزا دے گا۔ آل عمران 144) یعنی شکر کی جزا بہت زیادہ یقینی ہے۔ آگے ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ شکر کا رویہ آخرت میں کام یابی کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیوی کام یابی کےلیے بھی ضروری ہے۔
شکر کیا ہے؟
شکر زبان سے الحمد للہ کہہ دینے یاحمد و شکر کے رسمی الفاظ زبان سے ادا کر دینے کا نام نہیں ہے۔(اگر چہ یہ زبانی اظہار بھی شکر والے رویے کا لازمی جزو ہے )شکر قلب و ذہن کی ایک خاص کیفیت کا نام ہے جس کا اثر عمل اور رویوں پر پڑتا ہے۔ امام راغب الاصفہانیؒ نے شکر کی بڑی خوب صورت تعریف کی ہے۔ ہم ان کی پوری عبارت نقل کرتے ہیں:
الشُّكْرُ: تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل: وهو مقلوب عن الكشر، أي: الكشف، ويضادّه الكفر، وهو: نسيان النّعمة وسترها، ودابّة شكور: مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، والشُّكْرُ ثلاثة أضرب: شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة، وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء على المنعم، وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مكافأة النّعمة بقدر استحقاقه
شکر نعمت کے بارے میں سوچنے اور اس کے اظہار کا نام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ کشر سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے کشف یا ظاہر کرنا۔ اس کی ضد کفر ہے جس کا مطلب نعمت کو فراموش کرنا اور اس کو چھُپانا ہے۔ ایک شکر گزار جانور وہ ہے جس کا موٹا جسم اس کے مالک کے احسان کو ظاہر کرتا ہے۔ شکر کی تین قسمیں ہیں۔ دل کا شکر جس کا مطلب نعمت کو پہچاننا، اس کا شعور اور اس کے بارے میں سوچنا یا تصور کرنا ہے۔ زبان کا شکر یعنی نعمت دینے والے کی حمد وثنا اور دیگر اعضا کا شکر جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان نعمت کا بدلہ اس کے حق کے مطابق ادا کرے، یعنی اس نعمت کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے جس کے لیے وہ دی گئی ہے۔[8]
اس بڑی واضح اور خوب صورت تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر دل کی ایک خاص کیفیت، ایک خاص مزاج اور ذہن و فکر کے ایک خاص سانچے کا نام ہے۔ شکر کا مزاج پیدا ہوجائے تو اس کے اثرات طرز فکر، سوچ، رویوں، عادتوں، جذبات نفسیات غرض یہ کہ انسانی شخصیت کے ہر جزو پر پڑتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی انسانی گروہ میں اجتماعی طور پر شکرکی صفت پیدا ہوجائے تو اس کا اجتماعی فکر، اجتماعی رویہ اور حالات و واقعات پر اس کے ردِ عمل وغیرہ پر اس کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔
ایک ناشکرے بندے کی توجہات کا مرکز مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔ وہ ساری نعمتوں اور مثبت باتوں کو بھول جاتا ہے اور صرف پریشانیوں، مصیبتوں اور تکلیف دہ منفی باتوں کے بارے میں سوچتا ہے۔جب کہ ایک شکر گزار بندے کی نگاہ اللہ کی نعمتوں پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایک ناشکرا بندہ ماتم و نوحہ میں، زمانے بھر کی شکایتوں میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ ایک شکر گزار بندہ سخت سے سخت حالات میں پُرامید ہوتا ہے۔تنگ سرنگ میں بھی وہ آگے نظر آنے والی روشنی کی کرن کو اپنی نگاہوں کا مرکز بنالیتا ہے۔سیاہ رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اس کی نظر دور افق پر پھوٹنے والی پَو پر جمی ہوتی ہے۔
کام یابی کے لیے اسی رویے کی ضرورت ہے۔ مشکلات سے پریشان ہوکر بددل اور مایوس ہوجانے والے پریشانیوں کے پیچ درپیچ جال میں پھنستے جاتے ہیں جب کہ مشکلات کے ہجوم میں بھی موقعے کی کرن دیکھنے والے شکر گزار بندے نجات اور کام یابی کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں اور اسے اختیار کرکے اپنا مقدر بدلنے میں کام یاب ہوجاتے ہیں۔ گویا صحیح وقت پر صحیح قدم کی بصیرت شکر ہی سے پیدا ہوتی ہے۔
غالباً یہی وجہ ہے کہ قرآن نےشکر کو حکمت قرار دیا ہے۔ وَلَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰـنَ الْحِکْمَةَ اَنِ اشْکُرْ للهِ ط وَمَنْ يَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یشْکُرُ لِنَفسِهٖ ج وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللهَ غَنِی حَمِيْدٌ۔ (ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔لقمان 12)حکمت در اصل عقل وفہم اور دانش مندی کی معراج ہے۔ امام ابن قیمؒ نے حکمت کی تعریف اس طرح کی ہے: الحِكمةُ: فِعلُ ما ينبغي، على الوجهِ الذي ينبغي، في الوقتِ الذي ينبغي[9] (حکمت صحیح وقت پر، صحیح طریقے سے صحیح کام کے کرنے کا نام ہے۔)صحیح وقت پر، صحیح طریقے سے صحیح کام ہی شکر کا رویہ ہے۔ اشیا، احوال، واقعات، اور کیفیات کی حقیقت کو ٹھیک ٹھیک پہچان لینا اور ان کی گہرائیوں کا شعور حاصل کرنا حکمت ہے۔اس شعور کے نتیجے میں آدمی کی نگاہ اللہ کے انعامات پر، اس کی رحمت پر، اس کی تدبیر، اور مصلحت پر مرکوز ہوتی ہے۔ اس شعور کا نتیجہ شکر کا رویہ ہے۔ سفلی جذبات، نفسانی خواہشات، اور وقتی مفادات اس شعور کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔اس لیے ان کے غلبے کے نتیجے میں انسانی شعور حکمت سے اور انسانی رویے شکر سے محروم ہوجاتے ہیں۔
ہم شکر اور ناشکری کے مطالب کا خلاصہ ذیل کے جدول میں درج کررہے ہیں۔
| نصوص | ناشکری | شکر |
| يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ(ے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو، جس سے میں نے تمھیں نوازا تھا۔ البقرہ 47) | نعمت کا شعور نہ ہونا، اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے بجائے ذہن کا مشکلات و مسائل پر زیادہ متوجہ ہونا | نعمت شناسی، نعمت کو پہچاننا اور اس پر ذہن و فکر کا مرکوز ہونا |
| حدیثِ رسول: اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے۔[10] سفیان ثوریؒ کا قول: جو شخص دنیا میں اپنے سے اوپر والوں کو دیکھتا ہے وہ غم گین ہوتا ہے، اور جو اپنے سے کم تر کو دیکھتا ہے وہ اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتا ہے۔[11] | خود کی محرومیوں کو اور دوسروں کی نعمتوں پر نظر اور حسد اور محرومی کا احساس | خود کو عطا کردہ نعمتوں کو دیکھنا اور دوسروں کی محرومیوں کو دیکھنا، دونوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا |
| إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ يُرَى أَثَرُ نِعْمَتِهِ عَلَى عَبْدِهِ[12]۔ اللہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمت کا اثر اس کے بندے پر نظر آئے | نعمت کو ٹھکرانا، ضائع کرنا، قدر نہ کرنا | نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینا، اس کی قدر کرنا استعمال کرنا |
| شکر دل میں خضوع و عجز کے احساس، زبان سے تعریف و اعتراف اور اعضاو جوارح سے اطاعت و فرماں برداری (میں نعمت کے استعمال) کا نام ہے۔[13] | نعمت پر اللہ کی حمد و ثنا نہ کرنا | نعمت پر کلمات تشکر کا ادا کرنا |
| اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِیلٌ مِّنْ عِبَادِی الشَّكُوْرُ
اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں (سبا 13)
|
اللہ کی نعمتوں کا اللہ کے دین اور اس کی رضا کے لیے استعمال نہ کرنا | نعمت کو صحیح مقصد کے لیے استعمال کرنا، اللہ کی اطاعت میں اسے استعمال میں لانا |
شکر اجتماعی طور پر بھی مطلوب
شکر کی یہ صفت جس طرح افراد سے مطلوب ہے، اسی طرح اجتماعی طور پر امت اور معاشرے سے بھی مطلوب ہے۔ افراد کے لیے شکر کا رویہ دنیا و آخرت میں کام یابی کا راستہ ہے۔ اسی طرح قوموں کی دنیوی کام یابی، سربلندی اور عروج کا گہرا تعلق شکر کے رویے سے ہے۔ سورہ ابراہیم کی جس آیت کا اوپر حوالہ آچکا ہے وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (اور یاد رکھو، تمھارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔ابراہیم 7) وہ اجتماعی طور پر پوری قوم (بنی اسرائیل) کو مخاطب کرتی ہے۔ سورہ آل عمران میں غزوہ احد کے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کئی جگہ شکر کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک جگہ کہا گیا کہ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمھاری مدد کر چکا تھا حالاں کہ اس وقت تم بہت کم زور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکر ی سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے۔ آل عمران 123) سورہ سبا میں کہا گیا: لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ (سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا۔سبا 15) یہ حکم بھی قوم کو اجتماعی طور پر دیا گیا ہے۔ جب انھوں نے شکر کا یہ رویہ اختیار نہیں کیا تو آگے کہا گیا کہ ان کو شدید معاشی مشکلات درپیش ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ قوموں کی معاشی ترقی کا بھی گہرا تعلق شکر کے رویے سے ہے۔ اسی طرح کا تذکرہ سورہ نحل میں بھی ہے۔ وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بہ فراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں۔ النحل 112) بھوک شدیدمعاشی بحران کی علامت ہے اور خوف کے حالات اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب سیاسی وعسکری لحاظ سے زوال و کم زوری پیدا ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان دو دنیوی اجتماعی مسائل کو اجتماعی ناشکری کا نتیجہ بتایا گیا ہے۔
شکر پر مبنی اجتماعی رویے
شکر کی اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کی نفسیات ایک خاص اجتماعی رویہ پیدا کرتی ہے۔قوموں اور اجتماعی گروہوں کےاجتماعی مواقف، رویوں اور حکمت عملی پر بھی اس رویے کا اثر پڑتا ہے۔ خصوصاً آزمائشی حالات میں حالات کو دیکھنے کے زاویے، بیانیے، عمل و رد عمل ا ور اقدامات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شکر کی صفت اجتماعی طور پر ان کی سرشت کا حصہ ہے یا نہیں ہے۔ ذیل میں مطلوب و غیر مطلوب اجتماعی رویوں کی کچھ تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
مشکلات سے زیادہ مواقع پر نظر
قوموں کو مشکلات بھی پیش آتی ہیں اور مواقع (opportunities) اور آسانیاں بھی دست یاب ہوتی ہیں۔ ہر موقع اللہ کی ایک نعمت ہے۔ شکر کا تقاضا ہے کہ اس نعمت کا یعنی موقع کا شعور و ادراک ہو (تصوّر النّعمة)۔ اس پر توجہات کا ارتکاز ہو۔ زبان پر اس کا تذکرہ ہو۔(اظہارہ) اور عمل و اقدام میں اس کا لحاظ ہو۔ یہ طرزِ فکر حوصلہ و اعتماد، رجائیت، ایجابیت اور امید پیدا کرتا ہے۔ اگر ننانوے دروازے بند ہوں اور ایک دروازہ کھلا ہو تو بند دروازوں سے سر ٹکراکر ماتم و شکایت ناشکری ہے اور ایک کھلے دروازے پر قلب و نظر کا ارتکاز اور اس کو حالات میں مثبت تبدیلی کا زینہ بنانے کی سنجیدہ اور حوصلہ مند کوشش شکر گزاری ہے۔ اس کےمقابلے میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور مواقع کو نظر انداز کرکے، صرف مشکلات اور پریشانیوں کو توجہات کا مرکز بنانا ناشکری کا رویہ ہے۔ سورہ البقرہ میں بنی اسرائیل کے جرائم کی جو چارج شیٹ پیش کی گئی ہے اس میں ان کا ایک بڑا جرم اسی ناشکری کو قرار دیاگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں من و سلویٰ جیسی نعمتیں عطا کیں، انھوں نے لہسن اور پیاز سے محرومی کا گلہ شروع کر دیا (البقرہ 61)۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں فرعون جیسے خوں خوار ظالم سے نجات دلائی اور انھیں شہری زندگی سے دوری کا غم ستاتا رہا۔ فرعون سے نجات کے بعد اللہ تعالیٰ نے فلسطین کی زرخیز وشاداب سرزمین کی وراثت عطا کی اور اس میں داخلے کا حکم دیا۔ يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ (اے برادران قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے، المائدہ 5:21)غلامی کے بعد آزادی، اپنی سرزمین، سیاسی استحکام اور زرخیز علاقے میں معاشی خوش حالی کا شان دار موقع اللہ تعالیٰ فراہم کر رہاتھا۔ لیکن ان ناشکروں کی نگاہ مشکلات اورپریشانیوں ہی پر مرکوز تھی۔کہنے لگے يَا مُوسَىٰ إِنَّ فِيهَا قَوْمًا جَبَّارِينَ (’’اے موسیٰؑ! وہاں تو بڑے جابر لوگ رہتے ہیں۔‘‘ المائدہ 22) اس ناشکری کا نتیجہ یہ نکلا کہ قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةً ۛ يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک اِن پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، اِن نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ۔‘‘ المائدہ 26)
اس کے بالمقابل سیرتِ نبوی ﷺ ایک بالکل مختلف اور شکر پر مبنی اجتماعی رویے کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مشکل حالات میں بھی مواقع، امکانات اور اللہ کی نصرت پر نظر رکھی اور اسی کے مطابق امت کی رہ نمائی فرمائی۔دشمنانِ اسلام نے آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا بازار گرم کردیا، آپ ﷺ نے اسے توسیع دعوت کا ذریعہ بنادیا۔ ہجرتِ حبشہ کو نئی سرزمینوں میں اور بین الاقوامی سطح پر دعوت کی ترویج کا ذریعہ بنالیا۔ ہجرت کا موقع ایک بڑی آزمائش تھی۔ لیکن اپنا محبوب وطن چھوڑ کر جاتے ہوئے، مدینے کو آپ صرف پناہ گاہ کے طور پر نہیں دیکھ رہے تھے بلکہ مواقع کی ایک ایسی سرزمین کے طور پر دیکھ رہے تھے جہاں سے دعوت دین کی توسیع آسان تر ہوسکے۔ آس پاس کے قبائل سے آپ فرماتے مَنْ يُؤْوِينِي وَيَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي؟ (کون ہے جو مجھے پناہ دے اور میری مدد کرے تاکہ میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں[14])
ہر معاملےمیں اللہ کی رحمت کی تلاش اور اس کا استعمال
قوموں کو جہاں بہ یک وقت مواقع اور مشکلات کے دو الگ الگ سیٹ میسر ہوتے ہیں وہیں بسا اوقات ایک ہی واقعے اور معاملے میں مواقع اور مشکلات دونوں کے پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو ان مع العسر یسرا کے آفاقی اصول کے طور پر بیان کیا ہے۔ شکر کا رویہ یہ ہے کہ موقعے اور آسانی والے پہلو پر نظر ہو، اس کا ادراک و شعور ہو اور حکمت عملی میں اس کا لحاظ ہو۔طائف کا سفر آپ کی حیات مبارکہ کا سخت ترین مرحلہ تھا لیکن لہو لہان بدن اور شدید جذباتی صدموں کے درمیان بھی آپ کی توجہات کا مرکز یہ امید تھی کہ بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ(نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے[15]) ہجرت کا مرحلہ آپؐ کی حیات مبارکہ کا ایک مشکل مرحلہ تھا۔اس مرحلے میں، قرآن مجید نےآپؐ کے الفاظ نقل کیے ہیں کہ لا تحزن ان اللہ معنا (غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ توبہ 40) آپؐ، اپنی زندگی کا ایک نہایت دشوار سفر فرمارہے تھے جس میں بظاہر جان کی حفاظت بھی غیر یقینی تھی لیکن اس وقت بھی آپؐ کی نظر مستقبل کے مواقع پر تھی۔سراقہ سے کہے گئے آپ کے الفاظ سیرت نگاروں نے ریکارڈکیے ہیں کہ كَيْفَ بِكَ إِذَا لَبِسْتَ سِوَارَي كِسْرَى (سراقہ، اس وقت کیا ہوگا جب تم [شاہِ ایران] کسریٰ کے کنگن پہنوگے[16]؟) غزوہ خندق کے موقعے پر آپ کیا دیکھ رہے تھے؟ اللَّهُ أَكْبَرُ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ… وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْآنَ (اللہ اکبر! مجھے شام کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں، اور میں اس وقت اس کے محلات دیکھ رہا ہوں)[17] صلحِ حدیبیہ بظاہر ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ تھا لیکن اللہ کی رہ نمائی میں آپؐ اسے فتحِ مبین کے طور پر دیکھ اور دکھا رہے تھے۔ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (اے نبیؐ، ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی۔ فتح 1) بیرونی آزمائشیں ہی نہیں بلکہ مسلمان معاشرے کے اندر سے بھی بعض سخت اذیت ناک فتنوں کا آپؐ کو سامنا کرنا پڑا۔ جن میں سب سے نمایاں افک (حضرت عائشہؓ پر بہتان) کا واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کے حوالے سے بھی یہی بات فرمائی اور یقیناً رسول اللہﷺ کے طرزِ فکر اور یقین کی ترجمانی فرمائی کہ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ (اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمھارے لیے خیر ہی ہے۔ النور 11) مولانا مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں تفصیل سے خیر کے اُن پہلووں کی وضاحت فرمائی ہے جو اس بظاہر شر انگیز فتنے میں اللہ نےپوشیدہ رکھے تھے۔[18]
وسائل کا بھرپور استعمال
قرآن مجید نے اللہ کے عطا کردہ وسائل کے بھرپور اور درست استعمال کو بھی شکر کا تقاضا قرار دیا ہے۔ يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ (وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔ سبا 13) اس آیتِ کریمہ میں ان متعدد مادی وسائل کی طرف اشارہ ہے جو سیدنا سلیمان ؑ کو عطا ہوئے تھے جن کا تعلق مال و دولت سے بھی تھا اور آرٹ، فنون اور ٹکنالوجی پر دسترس اور مہارت سے بھی تھا۔ ان وسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عملی شکر (اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا) کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ (وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ) اکثر لوگ، اللہ تعالیٰ نے ان کو جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ان سے جو تکالیف دور کی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔’’شکر‘‘ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا دل سے اعتراف کرنا، اپنے آپ کو اس کا محتاج سمجھتے ہوئے اس نعمت کو قبول کرنا، اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرنا اور اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے گریز کرنا-[19]‘‘
ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ قوموں اور انسانی گروہوں کو متعدد وسائل عطا کرتا ہے۔ مال ودولت، صلاحیتیں، باصلاحیت افراد، ادارے، مختلف شعبہ ہائے حیات میں اثر و رسوخ۔ یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔ شکر کا رویہ یہ ہے کہ ان پر ارتکاز کیا جائے۔ یعنی قوتوں (strengths) کو توجہات کا مرکز بنایا جائے۔ اپنی قوتوں کی شناخت، ان کا صحیح شعور، ان کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانا، ان کا بھرپور استعمال اور مجموعی حکمتِ عملی اس طرح بنانا کہ یہ قوتیں صحیح معنوں میں بروئے کار آئیں اور اللہ کی مرضی کے تقاضوں کے لیےنفع بخش بنیں، یہ سب شکر کے تقاضے ہیں۔ إِنَّ اللّٰہَ یحِبُّ أَنْ یرَی أَثْرُ نِعْمَتِہِ عَلٰی عَبْدِہِ [20] (اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کا اثر اپنے بندے کے اوپر دیکھنا چاہتا ہے۔ ) نعمتوں کا عدم استعمال بھی منعم کی ناشکری اوراس کی عطا کی ناقدری ہے۔ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے صرفِ نظر، ان کا انکار، ان کا شعور نہ ہونا، اور ان کا استعمال میں نہ آنا بھی ناشکری ہے اور ان کا غلط کاموں میں یا اللہ کی مرضی کے خلاف فعال ہونا بڑی ناشکری ہے۔
شکر پرمبنی بیانیے
امام ابن قیمؒ نے شکرکی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا ہے: وَهُوَ ظُهُورُ أَثَرِ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَى لِسَانِ عَبْدِهِ: ثَنَاءً وَاعْتِرَافًا. وَعَلَى قَلْبِهِ: شُهُودًا وَمَحَبَّةً. وَعَلَى جَوَارِحِهِ: انْقِيَادًا وَطَاعَةً[21] (اللہ کی نعمتوں کے اثرات کا اظہار، بندے کی زبان کے ذریعے اعتراف و حمد و ثنا کے ساتھ، بندے کے دل پر محبت اور شہادت کے ساتھ اور اعضا و جوارح پر تابعداری اور اطاعت کے ساتھ) اس میں شکر کا ایک اہم مظہر زبان کے ذریعے اعتراف اور اللہ کی حمد و ثنا ہے۔حدیث رسول ﷺ ہے: مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ۔ (جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔) [22]
شکر پر مبنی بیانیے سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کے حالات میں ہماری صحافت، عوامی تقاریر، قائدین کے بیانات، سوشل میڈیا کے مباحث، بیٹھکوں کے چرچوں وغیرہ میں اللہ کی عطا کردہ نعمتوں، مواقع اور حالات کے مثبت پہلووں کا تذکرہ نمایاں ہو۔ہماری زبان صرف شکایت، نوحہ، ماتم، الزام والی زبان نہ ہو بلکہ امید، حوصلہ اور عمل کی زبان ہو۔
ہر چھوٹے بڑے ناگوار واقعے پر صرف رونا دھونا شروع ہوجائے، اخبارات، مقررین، صحافی و دانش ور، سب اجتماعی ماتم میں مصروف ہوجائیں۔یہ تاثر دیا جانے لگے کہ اب کوئی امید باقی نہیں رہی۔ ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات کی بوچھار شروع ہوجائے۔ ہر جگہ ایسا محسوس ہو جیسے آسمان ٹوٹ پڑا ہو اور قیامت برپا ہوگئی ہو تو یہ ناشکری کا رویہ ہے۔
شکر کے بیانیے کی شان دار مثال سورہ ضحی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشکل حالات میں نبی کریم ﷺ کو اپنے بہت سے احسانات اور آپ کو عطا کردہ نعمتیں یاد دلائیں اور آخر میں فرمایا۔ وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّث (اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو۔سورہ الضحٰی 13)
شکر كا رویہ اور ہندوستانی مسلمان
ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے اس وقت بلاشبہ بڑے چیلنج ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جو مواقع اللہ تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں ان پر توجہ اور ان کو نتیجہ خیز بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا فقدان بھی ہے۔ آزادی کے بعد ہی سے ہماری سیاست اور ہماری اجتماعی جدوجہدکا محور و مرکز احتجاج و رد عمل پرمبنی دفاعی سیاست رہی ہے۔ ملک میں تعمیر و ترقی اور تمکین کے جو مواقع میسر تھے ان پر جتنی توجہ ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوسکی۔ اس کے نتیجےمیں یہ مواقع بتدریج کم ہوتے گئے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوتیں (strengths)عطا فرمائی ہیں۔ دو ڈھائی سو ملین کی وسیع آبادی، ملک کے ہر علاقے میں موجودگی، نوجوانوں کی کثرت، طرح طرح کی صلاحیتوں کی موجودگی،دینی جذبہ و حمیت، شاندار تاریخ اور تاریخی ورثہ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں کے بھرپور استعمال سے ترقی و عروج کے ایک نئے دور کی ابتدا کی جاسکتی ہے۔ لیکن ان سب پر توجہ بہت کم رہی ہے۔ وقتی مشکلات اور باطل طاقتوں کا پیدا کردہ وقتی شور وغوغا اکثر ہماری اجتماعی توجہ کااصل موضوع رہا ہے۔ ہمارے بیانیوں میں بھی اسی کا غلبہ رہا ہے۔ اللہ کے انعامات کا ذکر کم اور مشکلات و پریشانیوں پر بے فیض ماتم کی زیادتی ہمارے اجتماعی کمیونکیشن کی ایک بڑی کم زوری رہی ہے۔
شکر کا یہ رویہ پیدا ہوگا تو ان شاء اللہ ضرور اللہ کی رحمت اور جوش میں آئے گی۔ مواقع بڑھیں گے۔ مشکلات گھٹیں گی۔ راہیں کشادہ ہوں گی۔ اندھیرے چھٹیں گے اور صبح طلوع ہوگی۔
حواشی و حوالہ جات
[1] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ دسمبر 2019
[2] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ ستمبر 2020
[3] سید سعادت اللہ حسینی؛ اشارات؛ زندگی نو؛ نومبر 2020
[4]الراغب الأصفهانى؛ المفردات في غريب القرآن ؛ دار القلم، الدار الشامية- دمشق بيروت ؛ص 461
[5] كتاب الشكر لابن أبي الدنيا؛ المكتب الإسلا مي – الكويت ص ۱۱
[6] ابن القیم الجوزی؛ عدة الصابرين وذخيرة الشاكرين؛ دار ابن کثیر؛ دمشق ص 120
[7] ابن قیم الجوزی؛ عدة الصابرين وذخيرة الشاكرين؛ دار ابن کثیر؛ دمشق؛ ص 120
[8]الراغب الأصفهاني؛ المفردات في غريب القرآن؛ دار القلم، الدار الشامية – دمشق بيروت ص 461
[9]ابن قيم الجوزية؛ مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين؛ دار الكتاب العربي – بيروت؛ ج 2ص 449
[10] سنن ابن ماجہ (4142)صححہ الالبانی
[11] ابن ابی الدنیا؛ کتاب الشکر ؛ المكتب الإسلا مي – الكويت ص54
[12] قال الالبانی حسن صحیح؛ صحیح الترمذی لالبانی (2819)
[13]ابن قيم الجوزية؛ مدارج السالكين بين منازل إياك نعبد وإياك نستعين؛ دار الكتاب العربي – ج 2ص 237
[14] مسند احمد (14653) صححہ الالبانی
[15] صحيح البخاري/كتاب بدء الخلق/حدیث: 3231
[16]ابن حجر العسقلاني؛ الإصابة في تمييز الصحابة؛ الإصابة في تمييز الصحابة; ج 3 ص35
[17]النسائي (3176) أبو داود (4302)، وأحمد (23155)صححہ الالبانی (صحیح النسائی 3176)
[18] مولانا سید ابوالاعلی مودودی؛ تفہیم القرآن؛ سورہ نور؛ حاشیہ 10
[19] عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی; تفسیر السعدی ؛ مکتبہ شاملہ؛ سورہ سبا، آیت 13
[20]الترمذي (2819) مسند أحمد (6708)، والحاكم (7188)صححه الالباني سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1320
[21] ابن قیم الجوزی؛ مدارج السالکین؛ دارالکتاب العربی؛ بیروت؛ ج2 ص 234
[22] سنن ابوداود (4814)؛صححہ الالبانی







