قرآن کی سفارت کا عظیم فریضہ

درس قرآن کیسے دیا جائے؟

سید سعادت اللہ حسینی

(مدرسین قرآن کے تربیتی پروگرام میں کی گئی تقریر جسے افادہ عام کے لیے یہاں پیش کیا جارہا ہے)

درس قرآن یا تذکیر بالقرآن تحریک اسلامی کے پروگراموں کا اہم جزو ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ جماعت اسلامی ہند اور دیگراسلامی تحریکوں کا ایک بڑا اہم کام یہ ہے کہ انھوں نے درسِ قرآن کے حلقوں کو عام کیا اور عام لوگوں کے اندر قرآن فہمی کا ذوق و شوق پیدا کیا۔ جماعت کے ہفتہ وار ی اجتماعات یا تو درس قرآ ن سے شروع ہوتے ہیں یا صرف درس قرآن ہی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تربیتی اجتماعات کا آغاز اکثر درس قرآن سے ہوتاہے۔ عوامی اجتماعات، کانفرنسوں وغیرہ میں بھی بالعموم درس قرآن یا تذکیر بالقرآن کا پروگرام شامل ہوتا ہے۔ حتی کہ تنظیمی نشستیں اور فیصلہ سازی کے لیے منعقد مشاورتی اجلاس بھی اکثر درس قرآن سے شروع ہوتے ہیں۔ خواتین کے پروگراموں کا اہم ترین جزو درس قرآن ہی ہوتا ہے۔

درس دینے والے حضرات و خواتین کے لیے یقیناً یہ ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ وہ قرآن مجید کی خدمت، اس کے پیغام کی اشاعت اوراللہ کے بندوں کو اس کی ہدایت سے جوڑ نے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اعزاز کے ساتھ یہ ایک بڑی نازک ذمہ داری کا بھی کام ہے۔ درس قرآن محض ایک تقریریا لیکچر نہیں ہے کہ چند تفاسیر سے کچھ چیزیں پڑھ کر ان کا خلاصہ بیان کردیا جائے۔ یہ ایک ہفتہ واری معمول کی ادائیگی نہیں ہے کہ چند آیتیں پڑھ کر رسم پوری کرلی جائے۔ بلکہ یہ قرآن مجید کی سفارت کاری اور اس کی ترجمانی کا مقدس اور ذمہ دارانہ عمل ہے۔ یہ عوام کو قرآن سے جوڑنے اور قرآن سے عملی رہ نمائی حاصل کرنے کے لائق بنانے کی کوشش ہے۔ درس قرآ ن دینے والوں کو محض قرآن کا لیکچرر نہیں بننا ہے۔ بلکہ قرآن کا سفیر اوراس کا ایمبیسڈر بننا ہے۔ یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ایک بڑا جرم یہ قرار دیا ہے کہ:

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْن (ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سےلیا تھا کہ تمھیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انھیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا۔ مگر انھوں نےکتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنا بُرا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ آل عمران 132)

گویا اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اپنی کتاب دیتا ہے تو کتاب اللہ کی تعلیمات کو انسانوں کے سامنے واضح کرنا ( لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ) اور اس کی تعلیمات کو چھپانے کے جرم کا ارتکاب نہ کرنا (وَلَا تَكْتُمُوْنَهٗ) ان کی اہم ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اہل کتاب نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور کتاب کی تعلیم کو پس پشت ڈال دیا تو اس جرم کی پاداش میں وہ اللہ کے غضب کے سزاوار ہوئے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ جرم ہم بھی کریں گے تو ہم بھی نقصان اٹھائیں گے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی کتاب کو انسانوں کے سامنے واضح کرنا، اس کے پیغام کو، اس کے وژن کو، اس کی روح کو انسانوں کے سامنے لانا یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور مدرسین قرآن کا اصل کام اسی ذمہ داری کی ادائیگی ہے۔

قرآن کے مقاصد

قرآن کی سفارت کاری صحیح معنوں میں اس وقت ہوسکتی ہے جب درس قرآن دینے والوں کے سامنے اچھی طرح واضح ہو کہ قرآن کے مقاصد کیا ہیں؟قرآن کیا چاہتا ہے؟ وہ کس لیے آیا ہے؟ جب تک یہ باتیں اچھی طرح واضح نہیں ہوں گی قرآن کی سفارت کاری ممکن نہیں ہوگی۔

۱۔ قرآن سب سے پہلی بات تو یہی کہتا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے رہ نمائی اور گائیڈنس ہے۔ زندگی کے سفر کا جی پی ایس ہے۔ شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِیۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ(رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے البقرہ۔ 185) اس طرح کی متعدد آیات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ قرآن سارے انسانوں کے لیے ہدایت و رہ نمائی ہے۔ فلاح و نجات کا واحد سیدھا راستہ بس وہی ہے جو قرآن دکھا تا ہے۔ إِنَّ هَٰذَا الْقُرْآنَ یهْدِی لِلَّتِی هِی أَقْوَم (حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ اسراء 9) گویا قر آن کا اصل مقصد لوگوں کی عملی زندگی سے متعلق ہدایت وہ رہ نمائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے سفیر وہ لوگ ہوں گے جن کی زندگیوں کا مشن لوگوں کی ہدایت ہو۔ جو قرآن کی روشنی میں سیدھا اور صاف راستہ لوگوں کو دکھائیں۔ ان کے دروس سے قرآن کا راستہ بالکل روشن ہوکر لوگوں کے سامنے آئے۔ لوگوں کو محض معلومات نہ ملیں بلکہ ٹھوس عملی رہ نمائی ملے۔

۲۔ قرآن، اپنا تعارف ’فرقان ‘ کے لفظ سے بھی کراتا ہے۔ یعنی وہ کسوٹی ہے۔ حق اور باطل کا فرق کھول کر رکھتا ہے۔ تَبَارَكَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِیكُونَ لِلْعَالَمِینَ نَذِیرًا(بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کردینے والا بنے۔ الفرقان 1)حق اور باطل کو بالکل الگ الگ کرکے رکھ دینا قرآن کا ایک اہم مقصد ہے۔ اس مقصد کا تقاضا یہ ہے کہ آج کے دور کی بھول بھلیوں میں لوگوں پر ہمارے دروس سے حق و باطل کا فرق واضح ہوجائے۔ باطل نظریات، گم راہ خیالات، طاغوتی رجحانات، غلط رسوم و رواج اور لادینی سماجی معمولات کے سلسلے میں لوگوں کے اندر بیداری آئے۔ ان کا غلط ہونا معلوم ہو اور ان کے مقابلے میں حق واضح ہو۔ قرآن کے ارشادات اس طرح لوگوں کے سامنے آئیں کہ ان کو ایک کسوٹی میسر آجائے جس پر پرکھ کر ہر نامناسب بات کو وہ مسترد کرسکیں اور ہر سچی بات کو گلے لگاسکیں۔

۳۔ قرآن مجید کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف کسوٹی فراہم کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ سچائی کو پوری طرح روشن کردیتا ہے۔ لوگوں کو اندھیروں سے نکالنا، قرآن کا ایک اہم مقصد ہے۔ ھُوَ الَّذِی ینَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آیاتٍ بَینَاتٍ لِّیخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِیمٌ(وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔ الحدید 9) جاہلیت اور ناواقفیت یہ ایک مہیب اندھیرا ہے جو انسانوں کو گم راہی کا شکار بناتا ہے۔ غلط عقیدہ ایک گہری تاریکی ہے جو آنکھوں کو بے نور کرکے راہوں کو گم کردیتی ہیں۔ ہمارے دور میں طرح طرح کے جاہلی افکار و نظریات نے ایسے سنگین اندھیروں کی شکل اختیار کرلی ہے جن میں حق نظر ہی نہیں آپاتا۔ افکار ونظریات کے، غالب خیالات و رجحانات کے، نامحمود جذبات کے اور دل و روح کے ان اندھیروں کو دور کرنا اور لوگوں کو اللہ کی ہدایت کی روشنی میں لے آنا یہ قرآن مجید کا ایک اہم مقصد ہے۔ دروس قرآن کو بھی لوگوں کو دور جدید کی جاہلیت کے اندھیروں سے نکالنے اور قرآن کی روشنی میں لے آنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔

۴۔ قرآ ن مجید کا مقصد زندگی کے چند محدود گوشوں میں یا معروف معنوں میں صرف ’ذہبی ‘یا ’روحانی و اخلاقی ‘امور میں رہ نمائی تک محدود نہیں ہے۔ اس میں زندگی کے تما م پہلوؤں سے متعلق واضح ہدایت موجود ہے۔ وَنَزَّلْنَا عَلَیكَ الْكِتَابَ تِبْیانًا لِّكُلِّ شَیءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِینَ( ہم نے آپ پر وہ کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کا بڑا واضح بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔ النحل 89)یعنی انسانوں کی فلاح و نجات کے لیے جن جن باتوں کی ضرورت ہے ان میں سے ہر چیز کا بیان قرآن میں موجود ہے۔ یہ بیان واضح ہے۔ اس میں کوئی الجھاؤ اور کوئی ابہام نہیں ہے۔ اور یہی بیان انسانوں کے لیے رحمت، ہدایت اور بشارت کا ذریعہ ہے۔ قرآن کا مقصد زندگی کے ہر شعبے میں ٹھوس اور واضح رہ نمائی فراہم کرنا ہے اس لیے قرآن کی سفارت کاری یہ ہے کہ اس کی تبیان کل کی یہ حیثیت لوگوں کے سامنے وضاحت سے آئے۔ ہر معاملے میں قرآن کی رہ نمائی واضح ہو۔ عقیدہ و عبادت سے لے کر تجارت و معاملات تک اور سیاست و معیشت سے لے کر عائلی و خاندانی معاملات تک، بلند ترین روحانی تقاضوں سے لے کر عام مادی و جسمانی ضرورتوں تک اور علم و فکر کی وسعتوں سے لے کر جذبات و احساسات کی گہرائیوں تک، ہر معاملے سے متعلق قرآن کی ہدایت روشن ہوکر لوگوں کے سامنے پیش ہو۔

۵۔ قرآن میں صرف احکام اور تعلیمات ہی نہیں ہیں بلکہ ان تعلیمات پر عمل کی پر زور تحریک بھی ہے۔ اللہ کے احکام پر عمل کی تحریک و ترغیب بھی قرآن کے مقاصد میں شامل ہے۔ اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِیثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِی تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِینَ یخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ ذَٰلِكَ هُدَى اللَّهِ یهْدِی بِهِ مَن یشَاءُ وَمَن یضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزا ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے۔ الزمر23) قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو نفسیاتی بیماریاں ہدایت سے انسان کو دور کرتی ہیں ان کی شفا بھی قرآن ہی ہے۔ یا أَیهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِینَ (لوگو! تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہ نمائی اور رحمت ہے۔ یونس 57) ہمارے دروس بھی صرف علم و حکمت کی روشنی ہی سے عبارت نہ ہوں بلکہ دلوں کا علاج کرنے والے بھی ہوں۔ قرآن کی روحانی تاثیر کو بھی منتقل کرنے والے ہوں۔ لوگوں کے قلوب میں گداز پیدا کرنے والے، ان کے اندر عمل کی تحریک پیدا کرنے والے، نیکی کا جذبہ اور برائی سے نفرت پیدا کرنے والے ہوں۔

۶۔ قرآن اپنے نزول کے مقاصد میں عدل و قسط کے قیام کو بھی ایک اہم مقصد کے طور پر شامل کرتاہے۔ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَینَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ(ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔ الحدید 25)قرآن کے اس مقصد کا تقاضا ہے کہ قرآن کے سفیروں کے سامنے عدل و قسط کا واضح تصور موجود ہو۔ ان کے دروس قرآنی عدل و قسط کے تصورات کو بھی واضح کریں۔ عدل کے تقاضوں کو اچھی طرح ذہین نشین کرائیں۔ ذہن نشین کرانے سے آگے بڑھ کر، عدل و اعتدال کو مزاج کا حصہ بنادیں۔ ذاتی، خاندانی اور سماجی، ہر طرح کی زندگی میں قرآن کی تعلیمات اور اس کی روح سے ہم آہنگ عدل و اعتدال لوگوں کی فطرت ثانیہ بن جائے۔ وسیع تر سماج اور ملک اور دنیا کے نظام میں عدل و قسط کے فروغ کی سچی تڑپ پروان چڑھے اور عدل و قسط کی خاطر جدوجہد کا داعیہ اور حوصلہ پیدا ہو۔

۷۔ قرآ ن مجید علم و حکمت کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتاب حکیم ہے۔ وَاِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌ (اور در حقیقت یہ تمام کتابوں کی اصل کتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب.الزخرف 4) اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وَلَا یَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا یَخْلُقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبُهُ( علما کبھی اس کتاب سے سیر نہ ہوں گے، نہ کثرت تلاوت سے اس کے لطف میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی اس کے عجائبات (یعنی نئے نئے علوم و معارف) کا خزانہ کبھی ختم ہو گا۔)[1]

صد جہانِ تازہ در آیات اوست

عصر ہا پیچیدہ در آنات اوست

[اس قرآن کی آیتوں میں سیکڑوں دنیائیں آباد ہیں اور اس کے ایک ایک لمحے میں ان گنت زمانے موجود ہیں۔ ]

قرآن کے سفیر دراصل علم وحکمت کے اس لامحدود خزانے کے امین اور اس کے تقسیم کار ہیں۔ قرآن کی تربیت یافتہ اولین نسلوں نے اسی چشمہ صافی سے فیض پاکر، ہر طرح کے علوم و فنون کو نئی بلندیاں اور نئی پاکیزگیاں عطا کی تھیں۔ آج بھی خادمین قرآن کا یہ اہم کام ہے کہ وہ قرآنی علوم کے سوتے جگہ جگہ جاری کریں۔ اس کی شمعوں کو روشن کریں۔ قرآن سے کسب علم اور کسب حکمت کا جذبہ پیدا کریں۔

۸۔ قرآن حق و باطل کے معرکے میں ’جہاد کبیر‘ کا ذریعہ ہے۔ فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَجَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا ) لہذا تم ان کافروں کا کہنا نہ مانو، اور اس قرآن کے ذریعے ان کے خلاف’جہاد کبیر‘ کرو۔ الفرقان 52)اہل ایمان کو حق و باطل کی جس کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے اس میں قرآن مجید ان کے لیے سب سے اہم وسیلۂ قوت ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ فکری و نظریاتی کشمکش اور پروپیگنڈے کی جنگ میں قرآنی حجت اور قرآنی دلائل اہل ایمان کا سب سے قیمتی سرمایہ اور موثر ترین اور کارگر ترین ہتھیار ہیں۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس معرکے کے ہر مرحلے میں اہل ایمان کو اپنی حکمت عملی کے تعین اور اپنی ترجیحات کی تشکیل میں نیز حالات کو دیکھنے، سمجھنے اور اپنے نقطہ نظرperspective اور جذبات و داعیات کی تشکیل میں اصل روشنی قرآن مجید ہی سے حاصل کرنی چاہیے کہ وہی جہاد کبیر کا ذریعہ ہے۔ قرآن مجید کے اس مقصد کا تقاضا ہے کہ ہمارے دروس سے لوگوں کو وہ قرآنی دلائل میسر آئیں جو انھیں حق و باطل کی موجودہ فکری کشمکش میں سرگرم رول ادا کرنے کے لائق بناسکیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں کشمکش و جدوجہد کے واضح نقوش قرآن کی روشنی میں ان کے سامنے ابھر سکیں۔

قرآن نے اپنے مقاصد کے بارے میں ایسی بہت سی باتیں کہی ہیں۔ قرآن کا سفیر وہ ہے جو ان مقاصد کو سامنے رکھے اور ان کے حصول میں اپنے سامعین کی مدد کرے۔

سفیران قرآن کا کام

قرآن کے سفیر کا کام کیا ہے؟ خود قرآن اس کی وضاحت کرتا ہے۔ وَاَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ (اب یہ ذِکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاوٴ جو اُن کے لیے اُتاری گئی ہے، اور تاکہ لوگ (خود بھی)غور و فکر کریں۔ النحل 44) اس میں رسول اللہ کے دو کام بتائے گئے ہیں۔ ایک تو لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ یعنی قرآن کے پیغام کی اچھی طرح وضاحت اور اس کا مکمل کمیونکیشن۔ مولانا مودودیؒ نے اس کی تشریح میں لکھا ہے۔

تشریح و توضیح صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی، اور اپنی رہ نمائی میں ایک پوری مسلم سوسائٹی کی تشکیل کر کے بھی، اور “ذکر الہٰی” کے منشا کے مطابق اس کے نظام کو چلا کر بھی۔

درس قرآن دینے والوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اسی نبوی مشن کو آگے بڑھانا ہے۔ اس طرح، اس آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تبیان قرآن کے نتیجے میں ایسا ماحول بننا چاہیے کہ لوگ خود بھی قرآن پر غور و تدبر کرسکیں۔ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ (تاکہ لوگ خود بھی غور و فکر کریں) وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ کی تشریح میں تفسیر سعدی میں کہا گیا ہے۔

“ فیستخرجون من كنوزه وعلومه بحسب استعدادهم وإقبالهم علیه” (قرآن کے علوم و خزائن سے لوگ اپنی استعداد اور ذوق کے مطابق استخراج اور کسب فیض کریں)ایک اچھا مدرس اپنے قارئین کو صرف قرآن کا علم نہیں فراہم کرتا بلکہ قرآن پر غور و تدبر کا ذوق اور صلاحیت بھی بہم پہنچاتا ہے۔ وہ انھیں قرآن سےمسلسل تذکیر و رہ نمائی اور قرآن پر غور و تدبر کے وسائل سے مالامال کرتا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی ترجمانی اور اس کی سفارت کا کام ایک ہمہ گیر کام ہے۔ چندتفسیر یں پڑھ کر ان کا حاصل مطالعہ بیان کردینا بہت آسان کام ہے۔ کتابوں سے چند متعلق حدیثیں اوراقوال تلاش کرنا اور انھیں پیش کردینا، قرآنی آیات کے حوالے سے آج کل کے حالات پر کچھ تبصرہ کردینا یا کچھ علمی نکات نکال لینا بھی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن صرف ان کاموں سے قرآن کی سفارت کاری نہیں ہوسکتی۔ ایک اچھا درس قرآن نہیں ہوسکتا۔ قرآن کی سفارت کاری تو یہ ہے کہ آپ اپنے سامعین کو قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے تیار کریں۔ قرآن سے ان کا ذاتی تعلق (personal relation) قائم کریں۔ قرآن کے نور سے ان کے ذہنوں اور دلوں کو اور پھر ان کی زندگیوں کو منور کرنے میں ان کی مدد کریں۔

درس قرآن اور قارئین کا قرآن سے ذاتی تعلق

ہر انسان منفردہے۔ اس کے مسائل منفرد ہیں۔ اس کی الجھنیں منفرد ہیں۔ اس کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات منفرد ہوتے ہیں۔ اس کے احوال و کوائف منفرد ہوتے ہیں۔ اللہ کی کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر انسان کو مخاطب کرتی ہے۔ خود قرآن کہتا ہے کہ اس میں تمھارا یعنی قرآن کے ہر قاری کا ذکر موجود ہے۔ لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیكُمْ كِتَابًا فِیهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ(لوگو، ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمھارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ الانبیاء 10) روایات میں آتا ہے کہ صحابی رسول احنف بن قیس ؓنے یہ آیت پڑھی تو چونک پڑے اور کہا مصحف لاؤ، تلاش کریں کہ میرا ذکر اس میں کہاں ہے۔ قرآن سے ذاتی تعلق کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد اس میں اپنا ذکر تلاش کرسکے۔ [2]

یہ ذاتی تعلق قائم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے احوال و مسائل کا حوالہ قرآن میں موجود ہے۔ ہر انسان کے مسائل کا وہ حل پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسانوں کو راست مخاطب کیا ہے اور کسی واسطے کے بغیر ہر انسان کو اپنا مخاطب بنایا ہے۔ اس لیے ہر انسان کا قرآن سے راست رشتہ قائم ہونا چاہیے۔ ہر انسان کے لیے قرآن کے پاس خاص پیغام ہے۔ ہر انسان کو قرآن کا وہ خاص پیغام، جو اس کے لیے ہے، اسے سمجھنا چاہیے۔

قرآن سے محض علمی تعلق یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے دور کے مخصوص تاریخی پس منظر میں قرآن کو سمجھا جائے۔ قرآن پڑھتے اور سمجھتے ہوئے، ذہن پر صرف مکہ اور مدینہ کے حالات چھائے رہیں۔ یہ علمی تعلق ضروری(necessary)تو ہے لیکن کافی (sufficient)نہیں ہے۔ اس کا تعلق قرآن کے مطالب کے فہم سے تو ہے، تاہم اس سے عملی ہدایت کشید کرنے کے لیے یہ اپروچ کفایت نہیں کرتا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن پڑھتے ہوئے آدمی کے ذہن پر اپنے حالات، اپنے مسائل اور اپنی ضرورتیں بھی رہیں۔ اکیسویں صدی میں اپنے گھر، شہر، ملک اور معاصر دنیا کے ماحول اور ان کے سارے ڈائنامکس کو ذہن میں مستحضر رکھ کر وہ اس طرح قرآن کی طرف رجوع ہو کہ قرآن کے بیان کو اپنے زمان و مکان کا بیان محسوس کرنے لگے۔ اپنے حالات میں وہ قرآن سے سوال کرے اور جواب پائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس کے لیے اقبال نے ’ضمیر پر نزول کتاب‘کی بڑی شاندار اور بلیغ تعبیر استعمال کی ہے۔

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گِرہ کُشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف

مدرس قرآن کا اصل کام یہ ہے کہ وہ ہر انسان کا قرآن سےایسا زندہ ذاتی تعلق قائم کرنے میں مدد کرے۔ قرآن کے ذریعے اللہ سے راست تعلق قائم کرنے اور اللہ تعالیٰ سے کمیونکیشن میں اپنے سامعین کا معاون بنے۔

قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل ورلڈ ویو دیتا ہے۔ دنیا کو دیکھنے کا ایک خاص زاویہ دیتا ہے۔ ہم اپنی ذاتی زندگی میں، اپنے کیریر میں، اپنے گھروں اورخاندانوں میں، اپنے کاروبار اورتجارتوں میں، پیشہ ورانہ کاموں میں ہر جگہ جو طرح طرح کے فیصلے کرتے ہیں، قرآن ان کے لیے ٹھوس بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ ہر انسان کے ذہن میں کچھ خیالات اس طرح رچ بس جاتے ہیں اور کچھ جذبات واحساسات اس طرح قلب و جان کی گہرائیوں میں بسیرا کرلیتے ہیں کہ پوری شخصیت پر ان کی حکم رانی ہوتی ہے۔ ہر فیصلہ اور ہر عمل ان کے تابع ہوتا ہے۔ اہل ایمان سے مطلوب یہی ہے کہ ہمارے قلب وذہن پر ایسی حکم رانی قرآن کی ہو یہاں تک کہ ہمارا ہر فیصلہ قرآن کی روشنی میں لیا ہوا ہو۔ یہی وہ بات ہے جسے سورہ مائدہ کی مشہور آیت میں قرآن تحکیم بما أنزل اللہ کہتا ہے۔ وَمَن لَّمْ یحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں(قرآن کے سفیروں کا کام یہ ہے کہ وہ اس کے لیے لوگوں کو تیار کریں۔ لوگوں کے خیالات کو قرآنی بنادیں۔ ان کے ذہنی سانچوں کو قرآ ن کے مطابق ڈھال دیں۔ وہ زندگی کے ہر معاملے میں قرآن کی منشا کے مطابق فیصلہ کرنے کے لائق ہوجائیں۔ یہ اُسی وقت ہوگا، جب ہمارا درس صرف اکیڈ مک درس نہیں ہوگا بلکہ انسانوں کے حقیقی مسائل سےگہرائی کے ساتھ جڑا ہوا ہوگا۔ ہم اپنے آس پاس دیکھیں، لوگوں کے مسائل کو اور ان کی ضرورتوں کو سمجھیں۔ دیکھیں کہ ان کے ذہنوں میں کیا وسوسے اٹھ رہے ہیں۔ کن خیالات سے ان کا سابقہ ہے۔ یہ خیالات کہاں کہاں قرآن سے ہٹے ہوئے ہیں۔ لوگ کس کس قسم کے فیصلے اپنی ذاتی اور پروفیشنل زندگی میں کررہے ہیں۔ یہ فیصلے کس حد تک قرآن سے ہم آہنگ ہیں اور کہاں کہاں ان میں انحراف پایا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ذہن و فکر پر شیطان کن راستوں سے حملہ کررہا ہے۔ ان کے گھروں میں، کالجوں میں، کام کی جگہوں پر اُن کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ ہمار ے خاندانوں میں کیا تنازعات ہیں۔ کیا الجھنیں اور پریشانیاں ہیں۔ ملت کو درپیش مسائل کو لے کر ہمارے لوگ کس ذہنی کیفیت سے گزررہے ہیں۔ ان سب کو سامنے رکھ کر آپ قرآن میں غوطہ زنی کریں گے تو آپ کے دروس صحیح معنوں میں لوگوں کے لیے اپنی زندگیوں کو قرآن کی روشنی سے منور کرنے کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ یہی قرآن کا سفیر بننا ہے۔

ایک اور پہلو سے قرآن کی سفارت کاری کی بڑی اہمیت ہے۔ اللہ کی کتاب صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہے۔ صرف انفارمیشن نہیں ہے۔ صرف فکر اور خیال بھی نہیں ہے۔ یہ کتاب بے شک ذہنوں کو بھی مسخر کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ دلوں کو بھی مسخر کرتی ہے۔ اس کے الفاظ صرف ہمارے خیالات کو ہی رخ نہیں دیتے بلکہ دل کی گہرائیوں میں ہمارے جذبات و احساسات پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہماری روح پر اثر اندا ز ہوتے ہیں۔ اسے زندہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو روح قرار دیا ہے۔ وَكَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اسے ایک نور بنادیا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، بیشک آپ ایک سیدھی راہ کی طرف رہ نمائی کررہے ہیں۔ )فرمایا کہ یہ زندگی بخشنے والی کتاب ہے۔ یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَجِیبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یحْییكُمْ ( اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسُول تمھیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمھیں زندگی بخشنے والی ہے)اس کتاب کی آیات ہمیں ایک زندہ اور فعال و متحرک ایمان عطا کرتی ہیں۔ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِیتْ عَلَیهِمْ آیاتُهُ زَادَتْهُمْ إِیمَانًا (کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے)

قرآن کا سفیر وہ ہے جو اپنے قارئین کو قرآن سے یہ روحانی تعلق قائم کرنے میں مدد دے۔ ہمارا درس خشک علمی درس نہ ہو۔ ہمارے دروس لوگوں کے دلوں کے تاروں کو چھیڑیں۔ ان کے ایمان کے شعلوں کو بھڑکائیں۔ ان کے اندر وہ اضطراب پیدا کریں جو قرآن پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اللہ کی محبت، اس کی عبادت میں لطف و سرور، اس کے رسول ﷺکی محبت، اس کی اطاعت کا ذوق و شوق، اللہ کی راہ میں جدوجہد کا جنون، اس راہ کی مشقتوں اور قربانیوں میں لطف و سرور، اہل ایمان سے محبت، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں سے محبت، دعوت دین کے لیے اضطراب، اقامت دین اور قیام عدل و قسط کے لیے بے چینی۔ قرآن کے سفیر کے لیے ضروری ہےکہ وہ جہاں قرآن کی سوچ کو عام کرنے والا ہو وہیں پاکیزہ قرآنی جذبات کو بھی عام کرنے والا ہو۔ درس مکمل ہو تو جہاں سامعین کا دامن قرآنی علم و حکمت کے موتیوں بھرجائے وہیں ان کے قلب و روح کی گہرائیوں میں قرآنی جذبات کی طاقت ور موجیں بھی ٹھاٹھیں مارنا شروع کردیں۔

مثالی درس: تین چیزوں کا تعامل

اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کی سفارت کاری تین چیزوں کے تعامل (INTERACTION) میں لوگوں کی مدد و رہ نمائی کا نام ہے۔

پہلی چیز خود قرآن ہے۔ اللہ کا کلام، اس کے الفاظ، اس کی مستند تفسیر و تعبیر، اس کی ہدایت و رہ نمائی، اس کے اصول، اس کے قوانین، اس کا فلسفہ، اس کا ورلڈ ویو، اس کا وژن، اس کی روحانی تاثیر، اس کی ترغیب و تحریک۔

دوسری چیز آپ کے سامعین ہیں۔ ان کے افکار و خیالات، ان کے جذبات و احساسات، ان کے احوال و کوائف، ان کے مسائل اور ان کی الجھنیں، ان کی آرزوئیں، خواہشات اور ان کے خواب، ان کے تفکرات، ان کے دل کی دنیا اور ان کے دماغوں کی کائنات۔

تیسری چیز سماج ہے، یعنی زمان و مکان۔ ہمارا دور اور ہمارا جغرافیائی محل وقوع، یہاں رائج افکار وخیالات، قوانین و دساتیر، رسوم و رواج اورمعمولات، یہاں کے حالات، یہاں کے چیلنج، یہاں پائے جانے والے جاہلیت کے اندھیرے، شیطان کے جال، وسوسے، الجھنیں، یہاں کے تمدنی احوال، یہاں برپا حق و باطل کی مخصوص نظریاتی، تہذیبی اور سیاسی کشمکش۔

یہ تین چیزیں ہیں۔ ان کے باہم تعامل کا مطلب یہ ہے کہ پہلی چیز یعنی قرآن کی رہ نمائی کا اطلاق باقی دو چیزوں پر کیسے ہو۔ اس پر واضح عملی رہ نمائی درسِ قرآن کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔ تفسیر پڑھ کر اپنی زبان میں اسے بیان کردینا آسان کام ہے۔ لیکن قرآن کو زندگی کی عملی رہ نمائی کاسرچشمہ بنادینا محنت طلب کام ہے۔ اس کے لیے آپ کو تیاری کرنی ہوگی۔ محنت کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے قرآن کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا۔ اس سے زندہ تعلق قائم کرنا ہوگا۔ بار بار اور بہ کثرت قرآن پڑھنا ہوگا، ہر سوال کے جواب کے لیے اور ہر الجھن کے ازالے کے لیے قرآن سے رجوع ہونا ہوگا۔ بار بار قرآن میں غوطہ زن ہونا ہوگا۔ ذاتی، ملی، ملکی اور عالمی عملی احوال سے متعلق، قرآن سے بار بار، سوال کرنے اور اس سے جواب حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ پھراپنے سامعین، ان کے ذہن، ان کے مسائل، ان کی ضرورتوں، ان کی الجھنوں، ان کے سوالات، ان کے طرز زندگی، ان کے جذبات و غیرہ کو بھی سمجھنا ہوگا اور اپنے سماج اور اپنے عہد کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اپنے زمانے کی جاہلیت کا گہرا شعور بھی حاصل کرنا ہوگا۔ سماج کے مسائل اور اس میں درپیش چیلنجوں کو بھی سمجھنا ہوگا اوران تینوں کے گہرے فہم کے ساتھ درسِ قرآن دینا ہوگا۔

اگر اس طرح کے دروس عام ہوں تو ان شاء اللہ ان سے قرآن کی روشنی میں معاشرے کی تعمیر ممکن ہوگی۔ میں خاص طور پر اپنے نوجوان دوستوں، بہنوں اور بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قرآن سے گہرا جذباتی رشتہ قائم کریں۔ قرآن پر محنت کرنے کی عادت ڈالیں اور اس طرح درس دینے کی صلاحیت اپنے اندر پروان چڑھائیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔ آمین

مراجع

[1] سنن الترمذی: کتاب فضائل القرآن: باب ماجاء فی فضل القرآن۔ اس روایت کی اسناد میں ضعف ہے لیکن اس کے معنی کو سامنے رکھ کر متعدد علما نے اس سے استدلال کیا ہے۔

[2] محمد بن نصر المروزی؛ مختصرقیام اللیل وقیام رمضان وكتاب الوتر؛ حدیث أكادمی، فیصل آباد۔ ص42

مئی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau