سورہ بقرہ میں امت کے لیے رہ نمائی کا سامان

محی الدین غازی

مسلم امت کی کام یابی اسی میں ہے کہ وہ سورہ بقرہ کی روشنی میں اپنا سفر طے کرے۔

اقرؤوا البقرة فإن أخذها بركة وتركھا حسرة (صحیح مسلم) سورہ بقرہ پڑھا کرو اسے اختیار کرنے میں برکت ہے اور چھوڑ دینے میں حسرت ہے۔

قرآن مجید میں سورہ بقرہ کو بہت نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ بالکل شروع میں یعنی سورہ فاتحہ کے فوراً بعد ہے اور قرآن کی سب سے طویل سورت ہے۔ اس کے مضامین اور موضوعات بھی ایسے ہیں کہ دینی رہ نمائی کے لیے سب سے زیادہ اسی کی طرف رجوع ہونے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: إن لكل شیء سناما وإن سنام القرآن سورة البقرة (ہر چیز کا ایک نمایاں حصہ ہوتا ہے اور قرآن کا نمایاں حصہ سورہ بقرہ ہے۔) (مستدرک حاکم)۔

سورہ بقرہ پر غور و فکر کے نتیجے میں یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ یہ سورت مسلم امت کے لیے رہ نمائی کا خاص سامان رکھتی ہے۔

سورہ بقرہ امت کی تعمیر و تشکیل میں اتنی زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مسلم امت کا نام اصحاب سورۃ البقرۃ (سورہ بقرہ والے لوگ) رکھ دیا۔حنین کے موقع پر جب دشمنوں نے کمین گاہوں سے مسلمانوں کی فوج پر اچانک شدید حملہ کیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی اور ان کے قدم اکھڑ گئے، تو اللہ کے رسول ﷺ نے حضرت عباسؓ سے کہا: یا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ کہہ کر انھیں پکارو۔ (مسند احمد)

امت کی رہ نمائی میں سورہ بقرہ کے کلیدی کردار کی بنا پر اللہ کے رسول ﷺ نے کم سن نوجوان کو بڑوں کے ہوتے قیادت کی ذمے داری دی۔عثمان بن ابو العاصؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس قبیلہ ثقیف کا وفد آیا۔ اس میں ہم چھے لوگ شامل تھے اور میں ان میں سب سے کم سن تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے وہاں کا عامل (گورنر) بنایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں سورہ بقرہ پڑھ چکا تھا۔ (دلائل النبوة، بیہقی)

سورہ بقرہ کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر صحابہ کرامؓ نے سورہ بقرہ پر غور و تدبر کے لیے کافی وقت بلکہ اپنی زندگی کا معتد بہ حصہ وقف کیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے سورہ بقرہ کے علوم ومعارف حاصل کرنے میں بارہ سال صرف کیےاور جب سورت مکمل ہوئی تو کئی اونٹ ذبح کیے۔ (شعب الایمان، بیہقی)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے سورہ بقرہ کو سیکھنے میں آٹھ سال لگائے۔ (موطا مالک)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کو شہید کیا گیا تو سورہ بقرہ کی آیت ۱۳۷ پر آپ کا خون بہہ کر چلا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آپ سورہ بقرہ کی تلاوت میں مصروف تھے۔ (شعب الایمان، بیہقی)

یہ حوالےاشارہ کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے امت کی قیادت سنبھالی انھوں نے اپنی بھاری ذمے داری کو ادا کرنے کے لیے سورہ بقرہ سے خاص طور پر مدد حاصل کی۔

اس مضمون میں سورہ بقرہ سے کچھ رہ نما نکات پیش کیے گئے ہیں، اس امیدکے ساتھ کہ مسلسل غور و فکر سے مزید بہت کچھ دریافت کیا جاسکتا ہے۔

سورہ بقرہ میں امت کا خاص حوالہ ہے

مسلم امت سے سورہ بقرہ کا خاص تعلق بہت نمایاں ہے۔ اسی سورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے منصب امامت کا عکس اپنی ذریت میں دیکھنے کی تمنا ظاہر کرتے ہیں (البقرة: 124)، خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اپنی ذریت میں ایک مسلم امت کے لیے دعا کرتے ہیں۔ (البقرة: 128) اس امت میں ایک رسول کی دعا کرتے ہیں جو ان کی تعلیم و تزکیہ کا کام کرے۔ (البقرة: 129) مسلم امت کو یہ بتایا گیا کہ تعلیم و تزکیہ کا یہ انتظام ان کے لیے کردیا گیا ہے۔ (البقرة: 151) مسلم امت کو دو بار آگاہ کیا گیا کہ بنی اسرائیل کو برطرف کردیا گیا اور امامت کے منصب سے اسے سرفراز کیا گیا، اس لیے اب وہ اپنی کارکردگی کی فکر کرے۔ (البقرة:134)، (البقرة: 141) اہل ایمان کو یہ بھی بتایا گیا کہ انھیں امت وسط بنایا گیا ہے، تاکہ وہ لوگوں پر گواہ ہوں اور رسول ان پر گواہ ہو۔ (البقرة: 143)

فساد اور خوں ریزی کو روکنا امت کا فریضہ ہے

سورت کے آغاز میں انسان کو زمین میں خلیفہ بنائے جانے کا واقعہ ہے۔ اللہ تعالی جب فرشتوں کو اپنا یہ فیصلہ سناتا ہے کہ وہ زمین میں خلیفہ (با اختیار مخلوق) بسانے والا ہے، تو فرشتے اپنا اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زمین میں بگاڑ کرے گا اور خون بہائے گا۔ اللہ تعالی نے آدم کو نام بتائے اور فرشتوں سے کہا کہ ان لوگوں کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو، فرشتوں نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کیا اور اللہ کے حکم سے آدم نے ان کے نام بتادیے۔بعض مفسرین کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان انبیا اور مصلحین کے نام تھے جو ہر زمانے میں بگاڑ اور خوں ریزی کو روکنے کے لیے سامنے آئیں گے۔ یاد ر ہے کہ حضرت آدم کا واقعہ قرآن کی کئی سورتوں میں آیا ہے لیکن ان کے واقعہ کا یہ ناموں والا حصہ صرف سورہ بقرہ میں ہے۔

مسلم امت کے لیے اس واقعہ کا پیغام یہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد زمین میں بگاڑ اور خوں ریزی کی روک تھام کے لیے مسلم امت کو اپنا بڑا کردار ادا کرنا ہے۔

پچھلی مسلم امت سے سبق لینا ضروری ہے

جس مسلم امت سے ہمارا تعلق ہے وہ انسانی تاریخ کی پہلی مسلم امت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بہت سی مسلم امتیں برپا ہوتی رہیں۔ آخری مسلم امت بنی اسرائیل کی صورت میں طویل عرصے تک باقی رہی۔ جب بنی اسرائیل نے بگاڑ کو روکنے کے بجائے خود کو پورے طور سے بگاڑ سے آلودہ کرلیا تو انھیں اپنے منصب سے معزول اور ہر طرح کی فضیلت سے محروم کردیا گیا۔

سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کی طویل روداد بیان کرنے کا یہ مقصد صاف نظر آتا ہے کہ مسلم امت کو یہ بتادیا جائے کہ اس سے پہلے بنی اسرائیل کو کن اسباب کی بنا پر اپنے منصب سے معزول کیا گیا تھا۔

قرآن پڑھتے ہوئے یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آخر قرآن کے شروع ہی میں بنی اسرائیل کی اس قدر طویل روداد کیوں بیان کی گئی۔ اس کا اطمینان بخش جواب یہ ہےکہ یہ پوری روداد مسلم امت کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ ایک امت جسے عظیم فضیلت اور بڑی نعمتوں سے نوازا گیا تھا، اپنی کن کوتاہیوں کی وجہ سے معتوب و مغضوب قرار دے دی گئی۔

اگر بنی اسرائیل کی یہ روداد سامنے ر ہے تو مسلم امت اس سے اپنے لیے بہت سے رہ نما اصول اخذ کرسکتی ہے۔

بنی اسرائیل کی معزولی کے اسباب

سورہ بقرہ کے ابتدائی حصے میں بڑی تفصیل کے ساتھ ان اسباب کو ایک ایک کرکے ذکر کیا گیا جو بنی اسرائیل کے بگاڑ اور پھر معزول کا سبب بنے۔

بنی اسرائیل نے اللہ کی بیش بہا نعمتوں کی ناشکری کا رویہ اپنایا۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو نہ صرف توڑا بلکہ عہد شکنی کی مسلسل روش اختیار کی۔ حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ کیا اور حق کو چھپانے کا وطیرہ اپنایا۔ لوگوں کو وفاداری کا سبق پڑھانے اور خود اسے فراموش کردینے میں وہ طاق ہوگئے۔ آخرت فراموشی اختیار کی اور آخرت کے سلسلے میں من گھڑت تصورات قائم کرکے اپنی نجات کے یقینی ہونے کا عقیدہ اپنا لیا۔ اللہ نے انھیں انسانوں پر فضیلت عطا کی لیکن انھوں نے اپنے مقام و مرتبے کی لاج نہیں رکھی۔ تنبیہ اور سرزنش کے باوجود بار بار نافرمانی اور سرکشی کا رویہ دوہراتے ر ہے۔اللہ کے کسی حکم پر کبھی صحیح طریقے سے عمل نہیں کیا، خواہ اس حکم میں ان کے لیے کتنا ہی خیر ہو۔ نبیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنے میں انھیں کوئی باک نہیں تھا۔ سبت کے دن شکار کرنے پر پابندی لگائی گئی تو وہ توڑ دی۔ گائے کی قربانی کے لیے کہا گیا تو آنا کانی کرنے لگے۔ قاتل کو سزا دینے کا وقت آیا تو اس کی مدافعت میں لگ گئے۔ ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہوگئے۔ کتاب الہی کی حیثیت ان کے نزدیک کچھ تمناؤں سے زیادہ نہیں رہی۔ اپنی لکھی باتوں کو کتاب الہی کی طرف منسوب کرنے کے سنگین جرم سے بھی انھیں خوف نہ آیا۔ خوں ریزی کرنے اور لوگوں کو شہر بدر کرنے سے روکنے کا عہد لیاگیا مگر اس عہد کو بھی توڑتے ر ہے۔ اللہ کی کتاب پر ایمان لانے کے بجائے جہاں جہاں مفاد تقاضا کرتا وہاں کفر کی روش اپنالیتے۔ اللہ کی کتاب کے ایک حصے پر ایمان لاتے تو دوسرے حصے کا انکار کردیتے۔ دنیا پرستی ان کے دل میں گھر کر گئی۔ حسد کی آگ ان کے دل میں بھڑکی تو جبرئیل امین کے دشمن بن بیٹھے۔ شیطانی طریقوں کی پیروی میں بھی انھیں کوئی جھجک نہ رہی۔ آپس میں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا بھوت سوار ہوا اور علم نافع کے بجائے ضرر رساں چیزوں کاعلم سیکھنے میں لگ گئے۔ مسجدوں میں اللہ کے ذکر پر پابندی لگانے میں انھیں کوئی عار نہ تھا۔ قوم پرستی ان کے دل ودماغ پر قابض ہوگئی۔ ایمان اور عمل صالح کے بجائے قوم یہود اور قوم نصاری سے تعلق کو نجات کے لیے کافی قرار دینے لگے۔ تمام بداعمالیوں کے باوجود وہ جہنم میں نہیں جائیں گے اور گئے تو نکال لیے جائیں گے، اس طرح کے عقیدے ان کے یہاں جڑ پکڑ گئے۔ خواہشات کا ان پر ایسا غلبہ ہوا کہ اللہ کی ہدایت کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو ترجیح دینے لگے۔خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں نے جس اندیشے کا اظہار کیا تھا۔ بنی اسرائیل اس کا عین مصداق بن گئے۔ وہ زمین میں بگاڑ پھیلانے اور خوں ریزی کرنے والے بن گئے۔ حضرت آدم نے جن صالح و مصلح نفوس کے نام لیے تھے، ان کی فہرست میں وہ نہیں ر ہے۔

ان کی بدعہدیوں، بداعمالیوں اور غرور و حسد نے انھیں بدبختی کے اس مقام تک پہنچادیا کہ جب آخری رسول، جس کا انھیں انتظار تھا، آخری کتاب کے ساتھ آیا تو انھوں نے اسے جھٹلادیا۔

حقیقت یہ ہے کہ سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کی روداد کو جن جزئیات اور تفصیلات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان میں مسلم امت کے لیے عبرت و نصیحت کا بڑا سامان ہے۔ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کی روداد کی روشنی میں اپنا کڑا احتساب کرتے رہناچاہیے۔ عقائد و افکار کی سطح پر بھی، انفرادی رویوں اور سماجی معمولات کی سطح پر بھی۔

قرآن کی ابتدا میں بنی اسرائیل کی یہ طویل روداد مسلم امت کے لیے راستے کے سرخ نشانات کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہ حفاظت سفر طے کرنے کے لیے ان نشانوں سے خبردار رہنا ضروری ہے۔

برائیوں کا سرچشمہ جھوٹی آرزوئیں

کسی قوم کی دینی و اخلاقی گراوٹ کا سب سے بڑا سبب جھوٹی آرزوئیں ہوتی ہیں۔ یہ آرزوئیں اس کے اندر سے برائی سے نفرت اور نیکی کی چاہت کو ختم کردیتی ہیں۔ جب برائیوں کے مزے لینے اور نیکیوں کی مشقت سے بچے رہنے کے باوجود نجات یقینی اور کام یابی پکی ہو تو لذتوں سے بھرپور اور مشقتوں سے خالی زندگی گزارنے سے کیا چیز روک سکتی ہے۔

جھوٹی آرزوئیں بگاڑ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے کھول دیتی ہیں۔کوئی قوم اگر اس زعم کا شکار ہوجائے کہ وہ نجات یافتہ قوم ہے، خواہ وہ عقیدہ و عمل کی کیسی ہی پستی میں گرچکی ہو، تو پھر اس کی اصلاح بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ بنی اسرائیل کے اندر جھوٹی آرزوؤں کی جڑیں گہرائی تک اتر گئی تھیں۔ اس سورت میں بنی اسرائیل کی دو جھوٹی آرزوؤں کو بیان کیا گیا اور ان کے سلسلے میں اللہ تعالی کے دوٹوک عادلانہ قانون کی وضاحت کی گئی۔

وَقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَیامًا مَّعْدُودَةً ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن یخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ (البقرة: 80)

(وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں اِلّا یہ کہ چند روز کی سز ا مل جائے تو مل جائے اِن سے پوچھو، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمھیں علم نہیں ہے کہ اُس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟ آخر تمھیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی؟)

بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَیئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ‎. ‏ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ (البقرة: 81، 82)

(جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا ر ہے گا، وہ دوزخی ہے او ر دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ ر ہے گا۔ اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے)

وَقَالُوا لَن یدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِیهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِینَ (البقرة: 111)

(ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو (یا عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو یہ ان کی تمنائیں ہیں، ان سے کہو، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو)

بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَیهِمْ وَلَا هُمْ یحْزَنُونَ (البقرة: 112)

(دراصل نہ تمھاری کچھ خصوصیت ہے، نہ کسی اور کی ،حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اُس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں)

اسی سورت میں دو مرتبہ جھوٹی آرزوؤں پر مشتمل بنی اسرائیل کے تصور آخرت کی تصحیح کی گئی ہے۔

وَاتَّقُوا یوْمًا لَّا تَجْزِی نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَیئًا وَلَا یقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا یؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ ینصَرُونَ (البقرة: 48)

(اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی)

وَاتَّقُوا یوْمًا لَّا تَجْزِی نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَیئًا وَلَا یقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ ینصَرُونَ (البقرة: 123)

(اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مل سکے گی)

اہل ایمان کو بھی اسی انداز سے آخرت کا صحیح تصور سمجھایا گیا ہے:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن یأْتِی یوْمٌ لَّا بَیعٌ فِیهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرة: 254)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں)

مسلم امت کو ترقی و تمکین عطا کرنے والے احکام

سورہ بقرہ میں جو احکام دیے گئے ہیں، مسلم امت کی طاقت ور تشکیل میں ان کا غیر معمولی کردار ہے۔

مسلم امت کا ایک قبلہ ہو۔ یہ قبلہ خانہ کعبہ ہو جو اسلام کی شان دار تاریخ کا امین ہے۔ اس کی بنیاد توحید خالص اور اسلام کامل پر ہے۔ اس کی تعمیر سے اس امت کی تقدیر وابستہ ہے۔ ایسے قبلہ سے پوری امت کی وابستگی یقیناً امت کو متحد، طاقت ور اور عظیم مشن کی علم بردار بننے میں مدد کرے گی۔

خون کے معاملے میں برابری کا اصول برتا جائے تو جان کی حرمت محفوظ رہ سکے گی۔ برابری کے اصول کو مسلم امت کے لیے زندگی کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔

وَلَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیاةٌ یا أُولِی الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 179)

(عقل و خرد رکھنے والو! تمھارے لیے قصاص میں زندگی ہے اُمید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے)

جان کے علاوہ مال کی حرمت بھی محفوظ رہنا امت کے داخلی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ مال کی حرمت محفوظ رہنے کی ایک واضح علامت یہ ہے کہ مرنے والے کامال زندہ رہ جانے والے تمام مستحقین تک پہنچ جائے۔ وصیت کے احکام سے متعلق آیتوں کا اس پہلو سے مطالعہ ہونا چاہیے۔

رمضان کے روزے اور رمضان میں قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنے کے نتیجے میں مسلم امت کے اندر صبر و تقوی جیسے متعدد اوصاف پیدا ہوتے ہیں جو امت کو ترقی اور طاقت دینے میں مددگار ہوتے ہیں۔

دوسروں کے مال پر قبضہ اور دوسروں کا حق مارنے کے لیے رشوت کا استعمال سماج کے لیے ناسور ہوتا ہے۔ایسی بدعنوانیاں سماج کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ مسلم امت کو اس سے بچے رہنے کی تائید کی گئی۔

اپنے دفاع کے لیے جنگ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ جنگ خانہ جنگی میں تبدیل نہ ہو اور ظلم و زیادتی کی صورت اختیار نہ کرلے، اپنے حدود میں ر ہے، اسے یقینی بنانے والے جنگ سے متعلق احکام دیے گئے۔

خانہ کعبہ سے مضبوط تعلق کی ایک صورت نماز میں اسے قبلہ بنانا ہے۔ پھر حج و عمرے کے ذریعے خانہ کعبہ سے تعلق اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ عالمی امت کی وحدت کے لیے ایک مرکز ہونا بہت ضروری ہے۔ خانہ کعبہ وحدت امت کا مرکز ہے۔ حج و عمرہ کے ذریعے امت کی ترقی و تمکین کے سفر میں تیزی لائی جاسکتی ہے اور جذبہ سفر کی تجدید ہوسکتی ہے۔

شراب اور جوئے سے سماج میں دشمنی اور بے حیائی تیزی سے فروغ پاتی ہے۔ یتیموں کا مال محفوظ نہ رہنے کا مطلب سماج میں کم زوروں کو تحفظ حاصل نہیں ہے۔ مسلم امت کو ایسی تباہ کن لعنتوں سے بچنے کی تاکید کی گئی۔

مضبوط ومستحکم سماج وہ ہے جہاں ضرورت مندوں کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہر شخص اپنے والدین اور رشتے داروں اور گردوپیش کے یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھتا ہے۔ مسلم امت کو اس طرف بار بار توجہ دلائی گئی۔

سماج کے اندر کوئی کام بھونڈے طریقے سے انجام نہ پائے۔ طلاق جیسا ناخوش گوار کام بھی بڑے سلیقے سے انجام پائے۔ طلاق کے نتیجے میں خاندانوں کے بیچ دشمنی جنم نہ لے۔ سب لوگ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کریں۔ نظام طلاق کو امت کے لیے نظام رحمت بنادیا گیا۔

اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا رجحان طاقت ور اور بابرکت سماج کی علامت ہے۔شرط یہ ہے کہ اس میں ایذا رسانی اور ریاکاری نہ ہو، تنگ دلی اور بد ذوقی نہ ہو۔ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے ان کی ضرورتوں کی تکمیل کی جائے۔ سورہ بقرہ میں امت کو اس کی خاص تعلیم دی گئی۔

سودی لین دین کا مطلب یہ ہے کہ سماج بے رحمی اور معاشی نا ہمدردی و نا ہمواری کی سمت بڑھ رہا ہے۔ امت کو سودی نظام سے دور رہنے کی سختی سے تاکید کی گئی۔

ادھار لین دین سماج کی ضرورت ہے، تاہم اس کے بطن سے بہت سے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے ادھار کے نظام کو منضبط کردیا گیا۔

غرض یہ کہ سورہ بقرہ میں جو احکام دیے گئے ہیں، وہ فرد کی اخروی فلاح کی ضمانت تو لیتے ہی ہیں، دنیا میں امت کو ترقی وتمکین سے سرفراز کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔

احکام الہی کی من و عن اطاعت ضروری ہے

سورہ بقرہ میں مذکور احکام الہی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ان احکام کا فائدہ اسی وقت سامنے آئے گا جب انھیں من وعن بلا کم و کاست ان کی روح کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ قصاص کے بارے میں رہ نمائی کی گئی پھر کہا گیا کہ اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے گا اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ وصیت کے بارے میں احکام دیے گئے پھر کہا گیا کہ جس نے وصیت کو سننے کے بعد اسے بدل دیا اس کا گناہ اس کے سر آئے گا۔ جو لوگ جنگ کریں ان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اور کہا گیا کہ زیادتی نہ کرو اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔

اگر احکام الہی کی اس طرح تعمیل نہیں کی گئی جس طرح کرنی چاہیے تو محرومی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔

مسلم امت کو صبر وجہاد کا خوگر بناتی ہے سورہ بقرہ

سورہ بقرہ مسلم امت کو فساد اور خوں ریزی کو روکنے کی ذمے داری دیتی ہے۔ یہ کام بے خوفی، بہادری اور صبر جیسے اوصاف چاہتا ہے۔ سورہ بقرہ مسلم امت کو ان اوصاف کا حامل بناتی ہے۔

سورہ بقرہ میں اہل ایمان کو تلقین کی گئی کہ دوسروں سے مت ڈرو اللہ سے ڈرو(البقرة: 150) ان سے کہا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (البقرة: 153) بتایا گیا کہ جو اللہ کی راہ میں قتل کردیے جاتے ہیں وہ زندہ رہتے ہیں، انھیں مردہ نہ کہو(البقرة: 154) آگاہ کیا گیا کہ اہل ایمان کو خوف، بھوک اور جانی و مالی نقصان کی شدید آزمائشوں سے گزرنا ہے، ایسے میں صبر کرنے والوں کے لیے کام یابی کی خوش خبری ہے(البقرة: 155)حکم دیا گیا کہ جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اللہ کی راہ میں تم ان سے جنگ کرو(البقرة: 190)جنگ کی حکمت بتائی گئی کہ جنگ اس لیےکرو تاکہ دنیا سے فتنہ (ظلم و جبر) ختم ہو، اور دین اللہ کے لیے ہوجائے(یعنی ہر شخص کو اللہ کی دی ہوئی دینی آزادی حاصل ہوجائے) (البقرة: 193)رہنمائی کی گئی کہ اللہ کی نصرت کی جلدی نہ کرووہ تو قریب ہے، تم سخت سے سخت آزمائش میں ثابت قدم رہو، یہی جنت کا راستہ ہے اور یہی ماضی میں رسولوں کی تاریخ رہی ہے(البقرة: 214)سمجھایا گیا کہ ایسے حالات آسکتے ہیں جب جنگ فرض ہوجائے، ایسے میں ناگوارِ خاطر ہونے کے باوجود اس فریضے کو انجام دینا ہوگا، کیوں کہ تمھارے لیے کس میں خیر ہے اور کس میں شر ہے، اس کا علم اللہ کو ہے(البقرة: 216)

صبر و جہاد کے سلسلے میں مسلم امت کے سامنے بنی اسرائیل کی ایک روداد الگ سے سنائی گئی۔ بتایا گیا کہ جب ان کے اندر موت کا ڈر پیدا ہوگیا تو وہ ہزاروں میں ہونے کے باوجود بے گھر کردیے گئے(البقرة: 243) جب وہ صبر کے معمولی امتحان میں ناکام ہوئے تو جہاد کے سخت امتحان میں کیسے کام یاب ہوتے(البقرة: 249) اصول دیا گیا کہ جنگ میں فیصلہ کن چیز صبر کی طاقت ہوتی ہے تعداد کی کثرت نہیں(البقرة: 249) اہل ایمان کو معنی خیز دعا سکھائی گئی: رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَینَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِینَ (البقرة: 250) (اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر)

مسلم امت پر بیرونی یلغار

یہ سورت اہل ایمان کو صاف لفظوں میں آگاہ کرتی ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین ان سے شدید قسم کا حسد رکھتے ہیں، وہ اس پر بھی آمادہ نہیں کہ دینِ حق کو قبول کرلیں اور انھیں یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی اور اس دین کو قبول کرکے کام یابی سے سرفراز ہوجائے۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ اللہ کی طرف سے ایمان والوں کو خیر و بھلائی سے نوازا جائے(البقرة: 105)وہ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان اپنے ایمان سے واپس پلٹ آئیں (البقرة: 109) وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک ان کے راستے کو اختیار نہ کیا جائے(البقرة: 120) وہ اس وقت تک ایمان والوں سے جنگ کرتے رہیں گے جب تک وہ اپنے دین سے نہ پھر جائیں(البقرة: 217)۔ اس طرح یہ سورت بتاتی ہے کہ مسلم امت کو ہمیشہ بیرونی یلغار کا سامنا ر ہے گا اور اسے اپنے دین کی حفاظت کے سلسلے میں ہمیشہ چوکنّا اور حسّاس رہنا ہوگا۔

ایمان کامل

سورہ بقرہ مسلمانوں کو متوجہ کرتی ہے کہ ان کی فلاح و نجات ایمان کامل میں ہے۔ ایسا ایمان جو کسی پہلو سے ناقص نہ ہو۔

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَیهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَینَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَیكَ الْمَصِیرُ (البقرة: 285)

(رسول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے اور جو لوگ اِس رسول کے ماننے والے ہیں، انھوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ: “ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے، ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی، مالک! ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے)

اس سورت میں بنی اسرائیل کی یہ روش بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ کتاب الہی کے کچھ حصے پر ایمان لاتے اور کچھ حصوں کا انکار کردیتے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ جو بھی اس جرم کا ارتکاب کرے گا اسے اس کی پاداش میں دنیا میں رسوائی ملے گی اور آخرت میں سخت ترین عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔ (البقرة: 85)

بلاشبہ ایمان مسلم امت کی بہت بڑی طاقت ہے۔ لیکن وہ ایمان جو کامل ہو، اس میں اپنے مفادات کی خاطر کوئی کٹوتی نہ کی گئی ہو۔

مسلم امت کا اللہ کے ساتھ معاہدہ

اللہ تعالی کا افراد اور قوموں کے ساتھ دو طرفہ معاہدہ ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ بھی یہ معاہدہ ہوا تھا مگر انھوں نے اسے توڑ کر پامال کیا۔ (البقرة: 40)

مسلم امت کے ساتھ اللہ کا معاہدہ سورہ بقرہ میں صاف صاف ذکر کیا گیا ہے:

فَاذْكُرُونِی أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِی وَلَا تَكْفُرُونِ ‎ (البقرة: 152)

(لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو، کفران نعمت نہ کرو)

مسلمان اللہ سے رشتہ مضبوط رکھیں گے تو انھیں اللہ کی رحمت و نصرت حاصل ر ہے گی۔

بوجھ سے آزاد امت

سورہ بقرہ کی آخری آیت مسلمانوں کو توجہ دلاتی ہے کہ وہ اپنے اوپر بوجھ نہ لادیں۔

رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَینَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِینَ مِن قَبْلِنَا (البقرة: 286)

(اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے)

اللہ تعالی نے دین کو آسان صورت میں دیا ہے۔ اسے سمجھنا بھی آسان ہے اور اس پر عمل کرنا بھی آسان ہے۔ اللہ تعالی اپنے مومن فرماں بردار بندوں کو دشواری میں ڈالنا چاہتا ہے بلکہ انھیں آسانیاں فراہم کرتا ہے۔

یرِیدُ اللَّهُ بِكُمُ الْیسْرَ وَلَا یرِیدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: 185)

(اللہ تمھارے ساتھ آسانی چاہتا ہے، دشواری نہیں چاہتا)

اللہ تعالی کی اطاعت میں گزرنے والی زندگی آسان ہوتی ہے مشکل نہیں۔ لیکن نادانی میں انسان اپنے اوپر بہت سے بوجھ لاد لیتا ہے، جس کے نتیجے میں زندگی ایک بوجھ بن جاتی ہے، انسان کے قدم بوجھل ہوجاتے ہیں اور ترقی کا سفر مشکل ہوجاتا ہے۔ غیر ضروری بوجھ سے لدی قومیں کبھی ترقی نہیں کرسکتی ہیں۔

بنی اسرائیل نے اپنے آپ پر خود ساختہ بوجھ لاد لیے تھے۔ مسلم امت کو ہر طرح کے بوجھ سے خود کو آزاد رکھنا چاہیے۔

نیکی کا اعلی تصور

وہ قومیں اخلاقی زوال کا شکار ہوجاتی ہیں جن کے یہاں نیکی کا صحیح تصور باقی نہیں رہ جاتا ہے اور نیکی کے نام پر وہ تصورات رائج ہوجاتے ہیں جن کا نیکی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا ہے۔

سورہ بقرہ مسلمانوں کو نیکی کے بہت اعلی تصور سے روشناس کراتی ہے۔

لَّیسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْیوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِیینَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِی الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِینَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرة: 177)

(نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں)

اگر مسلمان انفرادی اور اجتماعی سطح پر نیکی کے ان اعلی تصورات پرمضبوطی سے عمل پیرا ہوجائیں تو ترقی و تمکین کی منزل تک پہنچنا آسان ہوجائے گا۔

طاقت کے دو سرچشمے، صبر اور نماز

اس سورت میں مسلم امت کو طاقت کے دو سرچشموں سے آگاہ کیا گیا اور ایک نہیں دو بار ان سرچشموں سے طاقت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی۔

وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِینَ (البقرة: 45)

(صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک یہ ایک سخت مشکل کام ہے، سوائے ان کے لیے جن کے دل جھکے ہوئے ہیں۔)

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِینَ (البقرة: 153)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)

صبر کے ذریعے انسان اپنی ان قوتوں کو دریافت کرتا ہے جو اللہ نے اس کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں۔ جذباتیت کا ہیجان، جلد بازی کا اضطراب اور عافیت پسندی کا خمار انسان کو اپنے اندر پوشیدہ غیر معمولی قوتوں کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ صبر کی حالت میں انسان ان قوتوں سے آگاہ ہوتا ہے اور ان کے ذریعے غیر معمولی طور پر طاقت ور ہوجاتا ہے۔ جب کہ نماز اللہ سے مدد مانگنے کا ذریعہ ہے۔ اس سورت میں جہاں نماز سے مدد حاصل کرنے کی تعلیم دی گئی وہیں نماز کی حفاظت کی تاکید بھی کی گئی اور یہ ہدایت کی گئی کہ نمازوں کی اس طرح حفاظت کی جائے کہ ہر نماز صلاةِ وسطی (بہترین نماز) بن جائے۔

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِینَ

(اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰة کی جا مع ہو، اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑ ے ہوتے ہیں) (البقرة: 238)

جو لوگ نماز کی حفاظت کرتے ہیں وہ اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں اور جو لوگ نماز ضائع کردیتے ہیں وہ اللہ کی حفاظت و اعانت سے محروم ہوجاتے ہیں اور دنیا و آخرت کی رسوائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ

جس امت کو قدم قدم پر معرکے درپیش ہوں، باطل نے جسے مٹانے کا تہیہ کررکھا ہو اور باطل کے مقابلے میں حق کی نصرت جس پر فرض کردی گئی ہو، اس کے ہر ہر فرد کے اندر عظیم ترین مشن کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے اور اس راہ میں مال و دولت خرچ کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہونا چاہیے۔

قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کو سورہ بقرہ میں ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

قتال فی سبیل اللہ کے سلسلے میں واضح اصول دیا گیا کہ جو تم سے جنگ کریں تم بس انھی سے جنگ کرو۔

وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ الَّذِینَ یقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا یحِبُّ الْمُعْتَدِینَ (البقرة: 190)

(اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا)

انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں کہا گیا کہ جو ایسا نہیں کرے گا وہ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالے گا۔

وَأَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَیدِیكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ یحِبُّ الْمُحْسِنِینَ (البقرة: 195)

(اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنو ں کو پسند کرتا ہے)

امت کے ہر ہر فرد کے اندر انفاق کا جذبہ پیدا ہوجانے کے نتیجے میں مسلم امت اپنی ترقی وتمیکن کے منصوبوں پر آسانی سے عمل کرسکتی ہے۔ ترقی و تمکین کے منصوبوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بخل اور کنجوسی ہوتی ہے۔

سخت احتساب کی دعوت

مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ وہ سب کے سب اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور شیطان کی پیروی کسی معاملے میں بھی نہیں کریں گے۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِینٌ ‎ (اے ایمان لانے والو! تم سب کے سب اسلام میں آ جاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے) (البقرة: 208)

یہ آیت مسلمانوں کو خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے کہ ان کے انفرادی اور اجتماعی رویے اور معمولات، ان کے درمیان رائج رسوم و رواج اور ان کے دیکھنے اور سوچنے کا انداز کہاں کہاں اسلام کے دائرے سے باہر ہیں اور ان کی اصلاح ضروری ہے تاکہ وہ اسلام کے دائرے میں داخل ہوجائیں۔

مسلم امت کے پاس اللہ کی روشن آیتیں ہیں اور ان آیتوں پر اس کا ایمان بھی ہے۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بے شمار راستوں میں مسلمان وہی راستہ اختیار کریں جو کتاب الہی کی روشن آیتیں دکھاتی ہیں۔

كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِیینَ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِیحْكُمَ بَینَ النَّاسِ فِیمَا اخْتَلَفُوا فِیهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِیهِ إِلَّا الَّذِینَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَینَاتُ بَغْیا بَینَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِینَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِیهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ یهْدِی مَن یشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ (البقرة: 213)

(ابتدا میں سب لوگ ایک ہی طریقہ پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اور اُن کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا نہیں، ) اختلاف اُن لوگوں نے کیا، جنھیں حق کا عمل دیا چکا تھا ، انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس کے لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے پس جو لوگ انبیا پر ایمان لے آئے، انھیں اللہ نے اپنے اذن سے اُس حق کا راستہ دکھا دیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھا دیتا ہے)

باہمی جنگ و جدال سے خبردار

سورہ بقرہ مسلم امت کو باہمی تفرقے میں پڑنے سے خبردار کرتی ہے۔ فرقہ بندی جب شدید دشمنی کی صورت اختیار کرلے اور نوبت خوں ریزی تک پہنچ جائے تو ہر فریق کو اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے۔پچھلے رسولوں کی امتوں کا انجام بہت بُرا ہوا۔ روشن آیتوں کے ہوتے ان کے درمیان ایسے اختلاف رونما ہوئے کہ ان کے بعض فرقے کفر کی پستی میں جاگرے۔

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِینَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَینَاتُ وَلَٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ (البقرة: 253)

(اگر اللہ چاہتا، تو ممکن نہ تھا کہ اِن رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انھوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی)

قرآن کی روشن آیتوں سے مضبوط وابستگی اہل ایمان کو متحدرکھتی ہے اور ان کے ایمان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔

قیدِ مقام سے گزر

اس سورت میں مسلم امت کو ایک قیمتی اصول یہ دیا گیا ہے کہ اللہ کی رضا کسی خاص علاقے تک محدود نہیں ہے۔ مشرق و مغرب سب اللہ کے ہیں۔ پوری دنیا اللہ کی رحمت کے سائے میں ہے۔ مسلمان دنیا کے کسی خطے اور کسی کونے میں آباد ہوجائیں، وہ وہیں رہتے ہوئے دین کے تقاضوں اور ذمے داریوں کو بخوبی انجام دے کر اللہ کی رضا کے مستحق ہوسکتے ہیں۔

وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ (البقرة: 115)

(مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں جس طرف بھی تم جاؤ گے، وہاں اللہ کو پاؤ گے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے)

اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ اہل اسلام پہلے مکہ سے نکل کر مدینہ گئے اور پھر مدینہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گئے۔

قرآن کی تلاوت، جیسی کہ کرنی چاہیے

اس سورت میں قرآن کی تلاوت کا ذکر کئی بار آیا ہے۔ قرآن کی تلاوت میں مسلم ملت کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔ شرط یہ ہے کہ تلاوت اس طرح کی جائے جس طرح تلاوت کرنے کا حق ہے۔

الَّذِینَ آتَینَاهُمُ الْكِتَابَ یتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَٰئِكَ یؤْمِنُونَ بِهِ (البقرة: 121)

(جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے وہ اس پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں)

حقیقی تلاوت وہ ہے جس کے نتیجے میں کتاب و حکمت کا علم حاصل ہو اور نفس کا تزکیہ ہو۔

رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ یتْلُو عَلَیهِمْ آیاتِكَ وَیعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَیزَكِّیهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ (البقرة: 129)

(اور اے رب، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انھیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے)

ایسی تلاوت ہرگز مطلوب نہیں ہےجو کتاب الہی کی نافرمانی سے باز نہیں رکھے اور انسان کتاب الہی کی تلاوت بھی کرے اور کتاب الہی میں مذکور احکامات و ہدایات کی خلاف ورزی بھی کرے۔

بنی اسرائیل اسی بدترین قسم کی کیفیت میں مبتلا تھے۔

أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرة: 44)

(تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالاں کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟)

اللہ کی محبت ہر جذبے پر غالب ر ہے

مسلمانوں کے دلوں کو اللہ کی محبت سے سرشار رہنا چاہیے۔ یہ محبت ہر طرح کی عصبیت پر غالب ر ہے۔ بلکہ اس محبت کے ہوتے دل میں کوئی عصبیت پنپ ہی نہیں سکے۔ اللہ کی بے پناہ محبت ہی وہ چیز ہے جو مسلم امت کو مختلف قسم کی فرقہ بندیوں اور عصبیتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ فرقہ بندیوں اور گروہی عصبیتوں کے بت اسی وقت دلوں میں جگہ پاتے ہیں جب اللہ کی محبت کی طرح ان بتوں سے محبت کی جانے لگتی ہیں۔

وَمِنَ النَّاسِ مَن یتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا یحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ (البقرة: 165)

(مگر وحدت خداوندی پر دلالت کرنے والے اِن کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی) کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل بناتے ہیں اور اُن کے ایسے گرویدہ ہیں جیسے اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں، اور ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں)

محتاط زندگی

مسلمانوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی بڑی احتیاط کے ساتھ گزارنی چاہیے۔ فقہی تناظر میں احتیاط کا مطلب عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مباحات اور رخصتوں سے پرہیز کیا جائے۔ لیکن یہاں وہ محدود مفہوم پیش نظر نہیں ہے۔ یہاں احتیاط سے مراد یہ ہے کہ زندگی کے ہر قدم پر آنکھیں کھلی رہیں اور دماغ بیدار ر ہے۔کوشش یہ ر ہے کہ بھولے سے بھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہو اور اگر کوئی غلطی یا بھول چوک ہوجائے تو فوراً رجوع کرکے صحیح بات اختیار کرلی جائے، غلطی پر اصرار ہرگز نہ ہو۔ لاپروای کی کیفیت میں بھول چوک کا تناسب بہت بڑھ جاتا ہے۔ احتیاط اور بیداری کی حالت میں بھول چوک سے انسان بڑی حد تک محفوظ رہتا ہے۔

رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِینَا أَوْ أَخْطَأْنَا (البقرة: 286)

(اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر)

یہ دعا اپنے اندر رہ نمائی کا بڑا سامان رکھتی ہے۔ افراد کی زندگی میں بھول چوک سے زیادہ بڑا نقصان نہیں ہوتا ہے لیکن قوموں کی اجتماعی زندگی میں بھول چوک کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جتنی دیر میں بھول چوک سے واپسی ہو، اتنی ہی زیادہ قیمت چکانی پڑجاتی ہے۔

سورہ بقرہ کا آخری جملہ

سورہ بقرہ کا اختتامی جملہ بہت معنی خیز ہے اور مسلم امت سے اس سورت کے تعلق کو پوری طرح نمایاں کردیتا ہے۔

یہ مختصر جملہ بتاتا ہے کہ مسلم امت کے سامنے حق و باطل کا معرکہ ہمیشہ گرم ر ہے گا۔ باطل کے محاذ پر مختلف قومیں باری باری یا یک بارگی آتی رہیں گی، تاہم حق کے محاذ پر مسلم امت کو ڈٹے رہنا ہے۔ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِینَ (البقرة: 286)(تو ہمارا مولیٰ ہے، انکار کرنے والوں کے مقابلے میں ہماری مدد کر)کا مسلسل ورد اس احساس کو تازہ کرتا ہے کہ مسلم امت کو ہمیشہ کفر سے معرکہ درپیش ر ہے گا اور اسے سدا اللہ کی نصرت درکار ر ہے گی۔ مسلمانوں کی کام یابی اسی میں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اللہ سے مدد و نصرت کے طلب گار رہیں۔

جولائی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau