ہندو قوم پرست تحریکیں اور تصور قومیت

محمد علی شاہ شعیب

جارحانہ رجحانات کی حامل تحریکات پر گفتگو کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہندو لفظ پر ایک نظر ڈال لی جائے۔

لفظ ہندو کا مطلب

ہندو مذہب کی قدیم کتابوں، جیسے وید، اپنشد اور قدیم سنسکرت اور پالی گرنتھوں میں  لفظ ’ہندو‘  کا استعمال نہیں ملتا ہے، اس لیے ہندو لفظ کی کوئی متعین تعریف نہیں کی جا سکی ہے۔ اس سلسلے میں دانشوروں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔  پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ڈسکوری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ ’’ہمارے پرانے ادب میں تو ہندو لفظ کہیں آتا ہی نہیں ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ اس لفظ کا حوالہ جو کسی ہندوستانی کتاب میں ملتا ہے وہ آٹھویں صدی عیسوی کا ایک تانترک گرنتھ ہے اور وہاں ہندوسے مراد کوئی خاص مذہب نہیں بلکہ خاص لوگ مراد ہیں۔‘‘

اس خیال کے ماننے والوں کی بھی خاصی تعداد ہے کہ ہندو کی وجہ تسمیہ سندھو ہے۔ ڈاکٹر ڈی سی سرکارنے اپنی کتاب سیلیکٹ انسکرپشن میں کہا ہے کہ دریاء سندھ کے مغربی اور مشرقی علاقے اور اس کے باشندوں کو ایران کے بادشاہ[522-486بی سی] ہندو کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ اس ضمن میں مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہندو لفظ فارسیوں [یعنی ایرانیوں] کا دیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر راج بلی پانڈے اپنی کتاب ہندو دھرم کوش میں لکھتے ہیں کہ ’’یقیناً فارس [ایران]کے مشرق کا ملک بھارت ہی ‘’ہند‘ تھا ‘‘۔ ۔۔۔فارسی قواعد کے مطابق سنسکرت کا lحرف gمیں بدل جاتا ہے اسی وجہ سے سندھو بدل کر ہندو ہو گیا۔ پہلے ہندو یا ہند کے رہنے والے ہندو کہلائے۔ لیکن اس تشریح کو ماننے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر لفظ سندھو سے ہندو بنا ہے تو دریاء سندھ کا نام ابھی تک ویسا ہی کیوں ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو لفظ پر کچھ ہندووں کو اعتراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لفظ ہندو ہمارےطرز  زندگی کا مفہوم ادا نہیں کرتا، کیونکہ سنسکرت کے قدیم ادب میں یہ لفظ نہیں ملتا ہے ۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ لفظ دوسروں کا دیا ہوا ہے اور یہ غلامی کی علامت ہے۔ اس کی جگہ پر آریہ لفظ کا استعمال ہونا چاہیے۔ رام دھاری سنگھ دنکر اپنی کتاب سنسکرتی کے چار ادّدھیایہ میں کہتے ہیں کہ’’انّیسویں صدی عیسوی میں جب ہندوستان میں بیداری کی لہر پھیلی تو بہت سے لوگ ہندو نام چھوڑ کر اپنے کو آریہ کہنے لگے۔ کیونکہ ان کے خیال میں ہندو نام مسلمانوں کا دیا ہوا ہے اور فارسی میں اس کے معنی اچھے نہیں ہیں۔ ‘‘

اس کے برعکس ساورکر جیسے ہندوقوم پرست لیڈر اپنے آپ کو ہندو کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ ہندو دراصل سندھو سے ہی بنا ہے۔  اپنی کتاب ہندوتو میں لکھتے ہیں: ’’دنیا ہمیں جو نام دیتی ہے وہ اگر ہماری رغبت و دل چسپی کے خلاف نہ ہو تو ایسے نام کے ذریعے دوسرے سبھی ناموں کو دبا دینا زیادہ آسان ہے۔ لیکن دنیا اگر ہمیں ایسا نام دیتی ہے جس سے ہمارے ماضی کی عظمت محسوس ہوتی ہو تو وہ نام یقیناً ہمارے دوسرے ناموں کو بھلا دیگا ۔‘‘

’’ساورکر جیون درشن‘‘ کتاب کے مطابق خودساورکر نے ہندو لفظ کے فارسی میں اچھے معنیٰ نہ ہونے کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’جس فارسی زبان میں لفظ ہندو کا معنی اچھا نہیں ہے ،توہین آمیز ہے اسی فارسی زبان میں آریہ کا معنی گھوڑے کی دُم ہے۔ تب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں آریہ لفظ سے نفرت کرنی چاہئے؟پنڈت مادھو آچاریہ نے اپنی کتاب ہندو دھرم پریچئے میں لکھا ہے کہ اگر حقیقت میں ہندو لفظ غلامی کی لعنت کی علامت ہوتا تو مہارانہ پرتاپ اپنے آپ کو فخریہ طور پر’’ہندوپتی‘‘ کے لقب سے نہ پکارتے۔‘‘

ہندو ازم کیا ہے؟

آکسفورڈ ڈکشنری میں ہندوازم کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ’’وسیع رسوم، مقرر ذات پات کے نظام، پنرجنم میں یقین اور دنیاوی نجات کی خواہش جیسی چیزوں کے ذریعہ تیار کیا گیا مذہب، کلچر اور تہذیب۔‘‘ ہندوازم کہلاتا ہے۔ ایک اور تصور کے مطابق دراوڑ اور آریہ تہذیب کے ملن کو ہندوازم کہا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ دراوڑوں کے مقابلے آریوں کا اس میں زیادہ فیصلہ کن رول رہا ہے۔ ڈاکٹر راج بلی پانڈے کے مطابق ’’بھارت ورش میں بسنے والی قدیم قوموں کا اجتماعی نام ہندو اور ان کے کل مذہب کی روح ہندوازم ہے۔‘‘

ساورکر کہتے ہیں کہ ہندو دھرم سے مراد ہے ہندو لوگوں کا مذہب۔ اور ہندو لفظ کی پیدائش سندھو سے ہونے کی وجہ سے اس کا اصل مفہوم ہی ان لوگوں سے ہے جو دریاءِ سندھ سےسمندر تک پھیلے اس علاقے کے باشندے ہیں۔سوامی وویکانند جی کہتے ہیں کہ ’’ہندو دھرم کی تین بنیادی باتیں ہیں۔ خداپر یقین ، ویدوں پر یقین اور کرم اور پنرجنم پر یقین رکھنا۔‘‘ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ  ہندو دھرم کی بھی کوئی ایک تسلیم شدہ تعریف نہیں ہے۔

ہندو قوم پرستی کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

قوم پرستی کیا ہے؟ جب ہم لفظ احیاء یا انگریزی میں Revivalبولتے ہیں تو اس سے مراد ہوتا ہے تجدیدنو کرنا یا کسی مردہ یا بے جان چیز میں روح پھونکنا۔ ہندومذہب کی بہت سی تعلیمات اور بہت سی ریتی رواج کو لیکر ہمیشہ اختلاف  ہوتا رہا ہے۔ خاص طورپر  ‘’ورن آشرم دھرم‘ اور خواتین کے حقوق سے  متعلق بہت سی اصلاح پسند تحریکات اٹھتی رہی ہیں یہاں تک کہ بغاوت کرکے  بہت سے دھرم تک وجود میں آئے؟ جب برہمنیت کی گرفت کمزور پڑی اور جب محسوس ہوا کہ دھرم کے تنگ دائرے سے بیزار ہوکر سماج انتشار کا شکار ہو رہا ہے تو ودوانوں کو اس بات کی فکر ستانے لگی کی کہ ہندوازم کا احیاء کس طرح کیا جائے۔ چنانچہ آجیوک، کایستھ،  بودھ، جین وغیرہ کا ظہور ہندو مذہب یا برہمنیت کے خلاف زبردست بغاوت کے طور پر ہوا تھااور برہم سماج، تھیوسوفیکل سوسائٹی جیسی تنظیمیں ہندو دھرم میں اصلاحات کے لیے وجود میں آئی تھیں۔

رام دھاری سنگھ دنکر اپنی مشہور کتاب ’’سنسکرتی کے چار ادھیایے‘‘ میں ’قدیم ہندوتواسے بغاوت‘ باب کے تحت لکھتے ہیں: ’’بغاوت کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس کا ظہور اچانک ہو جاتا ہے۔ مواد بہنے سے پہلے بہت دن تک زخم پکتا رہتا ہے۔ افکار بھی دوسروں کو چیلنج کرنے سے پہلے برسہا برس تک نیم بیداری کے عالم میں پھیلتے رہتے ہیں۔ ویدک دھرم مکمل نہیں ہیں۔ اس بات کا ثبوت خود اپنشدوں سے ملنے لگا تھا۔ ۔۔۔۔ ویدوں میں سب سے زیادہ اہمیت یگیہ کو دی گئی تھی۔ یگیوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہونے کی وجہ سے سماج میں برہمنوں کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس صورت حال پر سماج نے تنقید کرنا شروع کر دی اور لوگوں کو یہ شبہ دامنگیر ہو گیا کہ انسان اور اس کی نجات کے درمیان برہمن کا حائل ہونا درست نہیں ہے۔ تنقید کے اسی روز افزوں رجحان نے بالآخر 600ق م میں ویدک دھرم کے خلاف کھلی بغاوت کا دروازہ کھولا جس کا منظم شکل  ظہور جین اور بودھ مذہب کی شکل میں ہوا۔‘‘

ہندوستان میں اسلام کی آمد  ہندو کلچر اور اس کے اثرات اور یہاں کی عوم میں اس مذہب کی مقبولیت اور قبولیت بھی ہندو قوم پرستی کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستان میں مالابار کی طرف سے مسلم تجار کی آمد ہو یا سندھ کی طرف فاتح کی حیثیت سے آمد ان سب سے ہندوازم یا برہمن ازم کو ایک بار پھر بڑا خطرہ محسوس ہونے لگا تھا۔ اس سلسلے میں ساتویں صدی عیسوی میں موپلا لوگوں کے قبول اسلام کا واقعہ تاریخ میں ملتا ہے جس میں ملک کے بڑے حصّے میں اس نے ہندوتوا یا برہمن ازم کو کافی حد تک متاثّر کیا۔ چارلس ایلیٹ نے اپنی کتاب ہندوازم اینڈ بدّھ ازم میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ مدھواور لنکایت یا  شیو پر اسلامی تعلیمات کا اثر تھا۔ ڈاکٹر تارا چند نے تفصیل کے ساتھ اس سلسلے میں اپنی کتاب Influence of Islam on Indian Culture  میں لکھا ہے کہ ’’شنکرآچاریہ، نمبارک، رامانج، رامانند، ولّبھاچاریہ اور جنوبی ہند کے آلوار سنت، ویر شیو اورلنکایت فرقہ یہ تمام کے تمام اسلام کے اثرات کے تحت پیدا ہوئے۔‘‘

مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ برہمنیت کو  بچانے یا اسے از سرِ نو قائم کرنے کے لیے جو بھی اقدام کیے گئے انہیں  ہندوازم کا احیاء یا ہندوتوا کا تحفظ قرار دیا گیا۔  بودھ اور جین مذاہب پر از سرِ نو غلبے معاملہ ہو یا اسلام کے اثرات سے  برہمن ازم کو محفوظ رکھنے کی حکمتِ عملی ہو یا سکھ مذہب کو ہندو مذہب میں ضم کرنے کی کوشش ہو اس سب کے لیے نعرہ  دیا جا رہا ہے ہندواحیاء یا ہندوتوا کا اصلاً یہ  برہمن ازم یا برہمنواد کے تحفظ کی کوششیں ہیں۔ ہندو سماج میں تبدیلی مذہب کی وجہ سے بھی ہندوازم کے احیاء کی ضرورت پیش آئی۔

ایسا نہیں ہے کہ ہندوقوم پرستی کا نعرہ آج پہلی بار سننے میں آ رہا ہے بلکہ یہ صدیوں پرانا نعرہ ہے، فرق صرف اتنا ہوا ہے کہ اس نے اپنی شکل میں تبدیلی کی ہے اور اب اس نے نیشنلزم یا راشٹرواد کا نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے جس سے ہندو احیاء پرستی یا برہمن واد کو مضبوط کرنے میں  کافی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

ہندوازم کا تصور ویدوں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ راشٹر سے مراد ساری دنیا ہے۔ غالباً اسی معنی کے پیش نظر زمین کو ماں کہا گیا ہے۔ جس طرح پنرجنم ویدوں اور اپنشدوں میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ تصور ہندوازم کا مشترکہ عقیدہ بن چکا ہے اسی طرح یہ لفظ راشٹر بھی ویدوں اور اپنشدوں میں آج رائج مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ۔ لیکن پھر بھی ‘ آج’ راشٹر‘ سے مراد بھارتورش تقریباً سبھی سمپردایوں کا مستقل عقیدہ بن گیا ہے۔ جس طرح پنر جنم کا عقیدہ ویدوں اور اپنشدوں سے نہ لے کر پرانوں سے لیا گیا ہے اسی طرح راشٹر کا موجودہ مفہوم بھی غالباً پرانوں سے مستعار ہے۔ اگنی پران کے مطابق ریاست کے تمام اجزاء میں راشٹر سب سے زیادہ اہم ہے۔ وشنو پران اور مارکنڈ پران اور دیگر پرانوں میں بھی ہندوستان کو کرم بھومی تسلیم کیا گیا ہے۔مختصر یہ کہ راشٹر جو کہ ویدوں اور اپنشدوں کے مطابق بذاتِ خود ایک بڑے وسیع معنی اور مفہوم کا حامل تھا ایک مخصوص علاقے یا خطّہ کی حدود میں محدود کر دیا گیا۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو بھی راشٹر تسلیم کیا جانے لگا۔ 1674 ء میں شیواجی نے متعدّد چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ملاکر مہاراشٹر بنا دیا تھا۔ اسی وجہ سے ہندو احیاءپرست تحریک کے وہ ہیرو مانے جاتے ہیں۔

راشٹرواد کیا ہے؟

آکسفورڈ ڈکشنری کےمطابق ’’راشٹر کے تئیں مکمل خود سپردگی، حبّ الوطنی کا جذبہ، کوششیں، اصول اور سیاسی آزادی کے لیے مہم‘‘۔ہندوستان میں راشٹروادکا آغاز اصلاً سترھویں اٹھارہویں صدی میں مرہٹوں اور سکھوں کے ذریعہ ہوا۔ ہندوستان میں سیاسی آزادی کے لیے جو راشٹروادی کوششیں ہوئیں اس نے ملک میں راشٹریتا یعنی نیشنل ازم کے تصوّر کو فروغ دیا۔ یہ کوششیں ہندو مذہب کے احیاء اور ہندووں میں مذہبی شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ انجام دی گئیں جسے ہندواحیاء پرستی نے آگے چل کر ہندو راشٹر کی شکل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر دیناناتھ ورما اپنی مشہور کتاب بھارت کے اپنیویشواد تتھا راشٹرواد میں لکھتے ہیں : ’’ہندو مذہب کی تحریکوں میں قریبی روابط موجود تھے اور قومی شعور کے ارتقاء میں ان چیزوں نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ ‘‘برہم سماج‘‘ نے خوابیدہ ہندوستان کو جگایا۔ کیشو جندر سین کی قیادت میں برہم سماج عیسائیت کے رنگ میں رنگ گیا تھا اس لیے آریہ سماج نے ہندوستانیوں کو اس کے اثراتِ بد سے بچایا۔ مگر آریہ سماج نے دیگر مذاہب کے پیرووں کے ساتھ انتہا پسندانہ رویّہ اختیار کیا۔‘‘رام کرشن مشن’’ اور ‘‘تھیو سو فیکل سوسائٹی‘‘ نے تمام مذاہب کی وحدت یعنی وحدتِ ادیان پر زور دیا۔ تھیوسوفیکل سوسائٹی کے زیرِاثر دوسرے مذاہب کے متبعین بھی راشٹریتا یا قوم پرستی کی طرف جھک گئے۔ اگرچہ مذہبی اصلاح کی یہ تحریکیں بنیادی طور پر مذہبی تھیں۔ پھر بھی انہوں نے قومی خودداری اور حبّ الوطنی کے جذبات بیدار کرکے قوم پرستی کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مغربی تہذیب و تمدّن کے تئیں نفرت کے جذبات بھڑکائے‘‘۔

مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید ہندو احیاءپرست تحریکات کے روپ میں ۳ تنظیمیں متوازی شکل میں قائم ہوئیں۔ آریہ سماج، ہندومہاسبھا اور آرایس ایس۔ ان تنظیموں میں آریہ سماج شروع  میں ایک معاشرتی اصلاح کی علمبردار تحریک تھی جو بعد میں بڑی حد تک اپنا بنیادی کردار کھو بیٹھی اوراس کی  ہئیت اور شکل و صورت تک برقرار نہ رہی۔یہ تحریک بنیادی طور سے اسلام اور عیسائیت مخالف ہو گئی اورہندوتواکی تحریک کے زیرِ اثر آ گئی۔ آج بھی یہ ہندوتو یا آریائی ہونے کے نام پر برہمنیت کے نظام کو تقویت پہنچانے کے لیے کام کر رہی ہے، مگر بنیادی طور پر یہ ایک نظریاتی تحریک رہی ہے۔ ہندو مہاسبھا ہندوتو کو تقویت پہنچانے ہی کے لیے وجود میں آئی تھی، لیکن آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھوتی چلی گئی اور آرایس ایس میں ضم ہو کر رہ گئی۔ اس وقت اصلاً آرایس ایس ہی وہ تنظیم ہے جس نے ہندو احیاء پرستی کا بیڑا اٹھارکھا ہے۔ اس کی شروعات عسکریت پسندی سے ہوئی اور اس میں فسطائی دماغ کام کرتا آ رہا ہے ۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS  اس وقت پورے ملک میں  ۵۰لاکھ ممبرس کے ساتھ سرگرم عمل ہے۔ پورے ملک میں اس کی  ۵۷ہزارشاکھائیں لگتی ہیں،  شہروں ہی میں نہیں بلکہ گاؤں میں بھی۔ ٹویٹر پر قریب ڈیڑھ لاکھ فالوورس ہیں۔ اس کے فیس بک پیج کو قریب ۱۵ لاکھ لوگوں نے لائک کیا ہے۔

سنگھ کے مقاصد

ہندو راشٹر قائم کرنے کی کوششیں پہلے بھی ہوئی تھیں لیکن آرایس ایس کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار نے سب سے پہلے اس کی منظم تحریک شروع کی ۔ 1940ء میں انہوں نے کہا  ’’میں اپنی آنکھوں کے سامنے ہندو راشٹر کا چھوٹا روپ دیکھ رہا ہوں‘‘۔ جے اے کَرَن کی کتاب ملیٹینٹ ہندوازم اِن انڈین پالیٹکس [اے اسٹڈی آف دی آرایس ایس] کے مطابق ’’سرکاری دباو کی وجہ سے آرایس ایس کے دستور کی دفعہ ۳میں درج ہے کہ سنگھ کے اغراض و مقاصد میں ہندو سماج کے مختلف طبقات کے درمیان باہمی اتحاد و یک جہتی پیدا کرنا اور اپنے دھرم اور سنسکرتی کی بنیاد پر ان کا احیاء کرنا اور انہیں نئی زندگی بخشنا  تاکہ ہندوستان کی ہمہ جہت ترقی ہو سکے‘‘۔

یہ الفاظ بظاہر سنگھ کا مقصد بیان کر رہے ہیں لیکن اصلاً سنگھ کا دعویٰـ یہ ہے کہ یہ ملک ہندووں کا ہے یہاں حکومت کرنے کا حق صرف انہی کو ہے۔  مسلمان ہندو سماج کے دشمن ہیں۔ گولوالکر کا خیال ہے کہ غیر ہندو کو ہندوستان کی شہریت نہیں ملنی چاہییے۔ ہاں اگر وہ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو رہ سکتے ہیں لیکن دیش کی مکھیہ دھارا میں ضم ہوکر ۔

سنگھ کا تصوّرِمذہب

سنگھ کا تصوّرِ مذہب تین نکات پر مشتمل ہے۔ اول ایک ایسے زندہ دیوتا کا تصوّر جو سنتا اور جواب دیتا ہو۔ وہ زندہ دیوتا ہندو قوم ہے۔ اس لیے پورا سماج ہی وہ واحد حقیقت ہے جسے بھکتی کا مرکزی نکتہ ہونا چاہیے۔گولوالکر لکھتے ہیں ’’اس سماج کی بھکتی کے راستے میں کوئی اور بھی خیال چاہے وہ ذات، فرقہ، زبان، جماعت کا ہو نہیں آنے دینا چاہیے۔‘‘

سنگھ کے تصوّرِ مذہب میں دوسرا جزو یہ ہے کہ ہندو سماج کا جائے مقام بھی مقدّس ہے۔ اس سر زمین کی پوجا بزرگوں نے کی ہے اس لیے ہمیں بھی کرنی چاہیے۔ اسی لیے اس بھارت ورش کے بہت سے نام ہیں جیسے ‘’جگن ماتا‘، آدی شکتی، مہامایا، مہا درگا، ماتربھومی، دھرم بھومی، دیو بھومی، موکش بھومی۔ چونکہ مقام مقدّس ہے اس لیے تمام اہم مذہبی رسومات بھومی پوجن سے ہی شروع ہوتی ہیں۔ اب مقام کو اتنا مقدّس درجہ حاصل ہے کہ اس کےلیے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔

تیسرا جزو یہ ہے کہ ہر ہندو سماج کامقروض ہے اس لیے  اس سماج کو طاقت ور بنانا اس پرلازم ہے۔ یہ بھی ذہنوں میں بٹھایا گیا ہے کہ اس سماج پر جن لوگوں نے باہر سے آکر حملہ کیا تھا وہ اس سماج کے شترو ہیں، ان سے وفا داری شتروتا ہے۔ سنگھ کا خیال ہے کہ بدھ، جین اور سکھ تو ہندوستانی مذاہب ہیں ان کے ماننے والوں کا باہر سے آئے ہوئے کسی مذہب [اسلام یا عیسائیت ]قبول کرنا اس دیش و سماج کے ساتھ غدّاری ہے، لیکن  بعض لوگ عدم واقفیت اور لالچ میں آکر دوسرا مذہب قبول کر لیتے ہیں تو اس تبدیلی مذہب پر پابندی لگنی چاہیے۔

سنگھ  اپنے آپ کو ہندوازم کا علمبردار سمجھتا  ہے لیکن ہندوازم کی اسکی اپنی تعریف اور اس کا خاص مفہوم ہے جو فسطائیت کی پالیسی پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک سنگھ کا کام خدائی کام ہے اور خود سنگھ خدا کا اوتار ہے۔ آرایس ایس کی شائع کردہ ایک کتاب ‘شری ’گروجی سمگردرشن‘ میں سنگھ پریوار کو خدا کا صریح اوتار مانا گیا ہے، گیتا کا شلوک نقل کرکے لکھا گیا ہے کہ’’ہندوستان میں موجودہ مذہبی تنزل کو دور کرنے کے لیے گویا سنگھ کی شکل میں بھگوان اوترت ہوئے ہیں ‘‘۔

وشوا ہندو پری شد

یہ آر ایس ایس کی برادرتنظیم ہے۔1967ء میں قائم ہوئی، اس کے تحت بہت سے آر ایس ایس لیڈروں اور کچھ مذہبی پنڈتوں نےمل کر ہندو مذہب اور ہندو روایات کو از سر نو تعمیر (Revive) کرنے کا کام شروع کیا۔یہ وہ تنظیم ہے جس نے رام جنم بھومی بہ مقابلہ (بابری مسجد) کا ایشوسارے ہندوستان میں عام کردیا ۔ بجرنگ دل اس کی یوتھ ونگ ہے جس کے تحت ۲۵سو اکھاڑے چلتے ہیں۔

اکھل بھارتیہ ودّیارتھی پریشد

1948ء میں قائم ہوئی تاکہ نوجوانوں کو سنگھ میں شامل کیا جاتا رہے۔اس وقت اس کے ممبرس کی تعداد ۳۲لاکھ ہے۔گیان، شیل، ایکتا اس کا مقصد ہے۔ اس کیےکچھ ذیلی ادارے بھی ہیں، جیسے عالمی تنظیم برائے طلباء و نوجوان، اسٹوڈینٹس فار ڈیولپمینٹ، فارن اسٹوڈینٹس یونین، سیو کیمپس وغیرہ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی BJP

یہRSS کا سیاسی ونگ ہے،اس کا پرانا نام بھارتیہ جن سنگھ ہے جس کا سنگ بنیاد شیاما پرساد مکھرجی نے 1951ء میں رکھی۔ 1980ء میں بدل کر بی جے پی بنی۔ قریب 9کروڑ ممبرس کے ساتھ دنیا کی بڑی پارٹی مانی جاتی ہے، وفاق کی سطح پراس نے 1996ء میں حکومت حاصل کی لیکن صرف 13 دن ہی یہ حکومت چلی۔ 1998ء میں اس نے دوبارہ حکومت سازی کی اور اس وقت پارلیامینٹ میں 280سیٹوں کے ساتھ حکومت پر قابض ہے۔ بھارتیہ جنتا یوامورچہ اسکی یوتھ ونگ ہے، مہلامورچہ اور کسان مورچہ اسکی ذیلی تنظیمیں ہیں۔کمل سندیش کے نام سےہندی، انگریزی میں پرچہ نکلتا ہے۔

ودیا بھارتی

1952ء میں گورکھپور میں ’’سرسوتی ششو مندر اور 1958ء میں ریاستی سطح کی ‘‘ششو شکچھاہندو سمیتی‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد 1977ء میں ودّیا بھارتی کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت 14ہزار اسکولوں کے ساتھ دنیا کا بڑا غیر سرکاری تعلیمی ادارہ بن گیا ہے، جن میں دس لاکھ سے زاید بچے تعلیم پا رہے ہیں۔ اس کا نصب العین ایک ایسے راشٹریہ تعلیمی نظام کو پروان چڑھانا ہے جو ایسی نوجوان نسل کی نشوونما کرے جو ہندو اقدار و اسوہ پر یقین کامل رکھتے ہوں۔ دل کی گہرائی تک راشٹریہ ہوں اور جسمانی ذہنی، دانشورانہ اور روحانی اعتبار سے پوری طرح ترقی کر سکیں۔ جن شکچھا سمیتی،سرسوتی سنسکار کیندراوربھارتی ادارہ برائے تعلیم و تحقیق ذیلی تنظیمیں ہیں۔

بھارتیہ مزدور سنگھ

مزدور طبقات میں کمیونسٹ تحریکات کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مقابلہ کرنے کی غرض سے آرایس ایس نے1955ء میں اس تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔2010 میں اس کے ممبرس کی تعداد 11ملین تھی۔

ہندو سیوا پرتسٹھان

1982ءمیں قیام عمل ہوا۔ اغراض و مقاصد میں تعلیمِ اطفال، بیداری خواتین، چھواچھوت کا خاتمہ، سماجی یگانگی، یوگا اور سنسکرت کی ترقی، ثقافتی ترقی، حفظانِ ماحول، اپاہج اور غبی بچوں کی تعلیم و تربیت وغیرہ شامل ہیں۔ اپاہج سیوا بھارتی، سیوا ان ایکشن اور شعبئہ سنسکرت اس کے ذیلی ادارے ہیں۔

وویکانند کیندر

اس کا قیام 1973ء میں عمل میں آیا۔ اس کے تحت تعلیمی مراکز، اساتذہ کی تربیت، صحت کے مراکز، یوامندر، دیپ پوجا، اعلیٰ امتحانات کی تیاری، فلم، لائبریریاں، حوادث زدگان کی مدد وغیرہ کے کام انجام دیے جاتے ہیں۔

سنسکار بھارتی

قیام 1981ء میں ہوا۔ اس وقت یہ ملک گیر ادارہ ہے اور پچّس سے زاید ریاستوں میں سنسکار پیدا کرنے والے پروگرام پیش کر رہی ہے۔ ملکی فنکاروں اور اسکے اداروں کا تعاون حاصل کرنا، فنون کی تربیت کے لیے کیمپ لگانا اور مقابلے کرنا، فن کو عام کرنا اور سب کے لیے اس کا حصول آسان بنانا، ملکی فنون کو سنسکار دینا، خواتین، دیہی، نونہال فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا، اچھے لٹریچر کی تیاری کے لیے شعراء و ادیب کا تعاون حاصل کرنا، ثقافتی گیتوں کی تخلیق کے لیے شاعروں اور عالموں کو راغب کرنا یہ سب اس ادارے کے مقاصد ہیں۔ بھارتیہ کسان سنگھ، گیان پربودھنی، جن کلیان سمیتی، دھرم رکھشا منڈل، بھارت سادھو سماج، اتہاس شودھک منڈل، بھارتی اتہاس و سنسکرتی پریشد،بجرنگ دل وغیرہ بہت سی اور تنظیمیں ہیں جو سنگھ کے کام کو پھیلانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اختتامیہ

ہندو توا کا مرکزی خیال ہے کہ برصغیر میں ہمالیہ سے لے کر کوہ ہندو کش تک اکھنڈ بھارت ہے جو کہ ہندوئوں کا ہوم لینڈ ہے۔ ہندو صرف وہ ہے جو بھارت کواپنی ماتر بھومی یا پونیہ بھومی سمجھتا ہے ۔ عیسائی اور مسلمان باہر سے آئی ہوئی قومیں ہیں انہوں نے ہندوں پر بڑے ظلم ڈھائے ہیں اور بہت سے ہندووں کو بزور مسلمان اور عیسائی بنایا ہے۔ ہندووں ہی کی کمزوری کی وجہ سے بیرونی طاقتیں ان پر غالب آئیں۔ لہٰذا مستقبل میں ایسی طاقتوں سے بچاو کے لیے ہندو راشٹرا کا قیام نہایت ضروری ہے۔ نیز ہندو مذہب اور ثقافت کے ریفارم اور ریویو یعنی تجدید نو کرنا ضروری ہے۔

نریندر مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہندوجارحیت میں خاصی تیزی آئی ہے جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گاو کشی کا الزام لگا کر مسلمانوں کو زدو کوب کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں سے کہا جاتاہے کہ وہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگائیں ،اگر وہ یہ نعرہ نہیں لگا سکتے توپاکستان چلے جائیں۔

یہ سب باتیں ، ثابت کرتی ہیں کہ ہندوستان استبدادی قوم پرستی اور مذہبی فاشسزم کی سمت جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ اور روشن خیال دانشور اس  فاشسزم کو للکارتو رہے ہیں لیکن اس وقت ہندوتا کا نعرہ لگانے والی آر ایس ایس ملک کے معاشرہ اور ریاست پر اس  طرح  مسلط ہے کہ اس کا مقابلہ مشکل نظر آتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ اس وقت ہندوستانی مسلمان اپنی تاریخ کے انتہائی مشکل اور نازک مرحلے میں ہیں۔1947 سے لے کر آج تک صورتِحال کی سنگینی پر سیکولر از م نے جو پردہ ڈال رکھا تھا وہ دل گرفتہ حقیقت اب پوری طرح مبرہن ہوگئی ہے۔  اب یہ حقیقت واشگاف نظر آرہی ہے  اگر حقائق اپنی اصل شکل میں نظر آنے لگیں اور احساس زیاں کی شدت اہل حق کو خود احتسابی پر آمادہ کرسکے تو  بہت جلد اس گھٹاٹوپ اندھیرے سے ایک نئی صبح طلوع ہوسکتی ہے لیکن جو لوگ اب تک  منافقت کے اسیررہے ہیں اور جنھوں نے گذشتہ 70 برسوں تک صبح کا ذب کی اسیری میں زندگی بسر کی ہے ان کے لیے کوئی راستہ نکالنا آسان نہ ہوگا۔

جس امت کے پاس خداکی آخری کتاب موجود ہو اسے یہ ہرگززیب نہیں دیتا کہ وہ کسی خدا سے بے نیاز دستورکی بالادستی کے لیے اپنی توانائیاں ضائع کرے۔1947سے لے کر اب تک وقت جن کاموں میں گنوایا گیا اُن سے باز آنا چاہیے۔ لوگوں نے  اپنی توانائی کو اس کام پہ لگائے رکھا کہ ملک میں سیکولر ازم اور جمہوریت کی فضا برقرار رہے لیکن اب جمہوریت کے پٹارے سے فرقہ پرستی کا عفریت نکل آیا ہے ۔ مسلمان اب تک اس خوف سے کہ کہیں ہندو احیا پرست اقتدار میں نہ آجائیں ایک منفی طرز سیاست کے اسیررہے۔ کار منصبی ادا کرنے   کے بجائے انہوں نے یہ کافی سمجھا کہ بی جے پی کے عروج کو روکنے کے لیے اپنی توانائی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی حمایت میں جھونک دیں۔ مسلمانوں کی سر توڑ جدوجہد  کے سبب سیکولر لوگوں کو اقتدار ملتا رہا انھوں نے اس بات کی ضرورت بھی نہ سمجھی کہ مسلمانوں کے چھوٹے موٹے علامتی نوعیت کے مطالبوں پر بھی کان دھراجائے۔  بے قصورمسلم نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ اور ان پر دہشت گردی کے بےبنیاد الزامات کے سلسلے نے ایک باقاعدہ ریاستی حکمتِ عملی کی شکل اختیار کرلی۔ جن صوبوں میں مسلمانوں کی کھلم کھلا نصرت وحمایت کے بل بوتے پر حکومتیں تشکیل پائیں اور جن کے کلیدی مناصب پر مسلم چہرے سجائے گئے وہا ں بھی مسلمانوں کو جان ومال کی امان نہ مل سکی۔ یقیناً میرٹھ، مرادآباد، ملیانہ، بھاگلپور ، مظفر نگر اور ان جیسے ہزاروں فسادات کے بیان سے گجرات کی شدت کم نہیں ہوتی اور نہ یہ مطلوب ہے البتہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اول الذکر قاتل کو ہم قاتل کیوں نہیں تصور کر پاتے۔

گزشتہ70 برسوں سے مسلمان جس ذہنی رویے کے اسیر رہے  اس نے بہتوں کی بصارت صلب کر لی ہے۔ ضرورت اس کی ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقائق کا ادراک کیا جائے اور موجودہ صورتحال کی خطر ناکیوں کو نئے امکانات سے بدلنے کے لئےقرآن اور سیرت کی روشنی میں حکمت عملی تیار کی جائے۔ اگر کل تاتاری اسلام کی نظری اور فکری قوت سے مسخر ہوسکتے تھے تو کوئی وجہ نہیں کہ آج کے تاتاریوں پر  نصح وخیر خواہی کی تیغ بے نیام کارگرنہ ہو۔ ہندو قوم پرستی کے فتنےسے نجات کے لیے منفی اور احتجاجی سیاست کے بجائے صبروتحمل کے ساتھ ذہنوں اور دلوں کو مسخر کرنا ہوگا، قرآن کریم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطابق نوجوانوں کے کردارکی تعمیر کرنی ہوگی۔ صحابہ کرام کی طرح مومنانہ عزم اور حوصلہ کے ساتھ میدان میں آنا ہوگا۔

آج  بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا

آگ  کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اپریل 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau