انسانی حقوق قرآن کریم میں

علامہ علی صلابی | ترجمہ: تنویر آفاقی

سویڈش حکام کی آنکھوں کے سامنے اور ان کی ہی نگرانی میں سویڈن کے بعض قدامت پرست انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن کریم کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ ان مجرمین کے تعصب کا کھلم کھلا اظہار اور اس حقیقت کے سوا کچھ نہیں کہ وہ لوگ تاریخ انسانی کی عظیم ترین کتاب کی قدر و قیمت اور اس کے مفہوم سے ناآشنا ہیں۔ یہ وہ بلند تر خدائی کتاب ہے جس نے انسانیت کو اخلاق اور اعلی اصول کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرح یہ کتاب ان عظیم مقاصد پر مشتمل ہے جو اپنی گہرائی وگیرائی میں تمام شریعتوں کی اقدارو قوانین اور دیگر بین الاقوامی معاہدوں سےبہت آگے کی چیز ہے۔

قرآن کریم کے مقاصد میں سے ایک مقصد انسانی حقوق کا تعین بھی ہے۔ اسلام میں انسانی حقوق کسی حاکم یا بادشاہ کی عطا کردہ بخشش کا نام نہیں ہے، یا وہ کوئی ایسا حکم نامہ نہیں ہے جو کسی علاقائی حکومت یا کسی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے صادر ہوا ہو۔ یہ تو وہ حقوق ہیں جو اپنے حقیقی سرچشمے یعنی خدائی حکم کے تابع ہیں، جن میں نہ حذف و تنسیخ کی گنجائش ہے، نہ وہ معطل کیے جا سکتے ہیں، نہ ان کے خلاف جانے کی اجازت ہے اور نہ ان سے دست بردار ہونا جائز ہے۔ ان حقوق کی تفصیلات یہ ہیں:

زندگی کا حق

انسان کی زندگی مقدس ہے، کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ اس پر دست درازی کرے۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ [المائدہ: ۳۲]

“جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔”

حیات انسانی کا یہ تقدس صرف شریعت کی دلیل پر اور ان اقدامات کے ذریعے ہی سلب کیا جا سکتا ہےجو شریعت نے متعین کیے ہیں۔ انسان کا مادی ووروحانی وجود ایک چراگاہ ہے جس کی حفاظت شریعت اس زندگی میں بھی کرتی ہے اور موت کے بعد بھی کرتی ہے۔ اس کا یہ حق ہے کہ انسان اپنے جسم کو برتنے میں نرمی اور عزت سے کام لے۔(الغزالی، ۲۰۰۵، ص ۱۷۴)

حریت و آزادی کا حق

انسان کی آزادی بھی بالکل اس کی زندگی کی طرح مقدس ہے۔ یہ فطرت کی وہ اولین صفت ہے جسے لے کر انسان پیدا ہوتا ہے۔

فرد کی آزادی کو حمایت و تحفظ دینے کے لیے مناسب ضمانتیں فراہم کرنا لازم ہے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ شریعت کی حجت کی روشنی میں اور اس کے ذریعے متعین کردہ اقدامات کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اس کی آزادی کو مقید کر دیا جائے یا اس پر روک لگا دی جائے۔کسی قوم کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسری قوم پر ظلم و زیادتی کرے۔ جس قوم پر زیادتی کی جا رہی ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس زیادتی کا جواب دے اور ہر ممکن طریقے سے اپنی آزادی کو واپس حاصل کر لے۔ اللہ فرماتا ہے:

 وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ [الشوری: ۴۱]

“اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں ان کو ملامت نہیں کی جا سکتی۔”

بین الاقوامی سماج پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر اس قوم کی معاونت و پشت پناہی کرے جو اپنی حریت و آزادی کی خاطر جدوجہد کر رہی ہو۔ اس سلسلے میں مسلمانوں پر ایک فرض عائد ہوتا ہے، اور اس فرض میں کوئی رخصت و رعایت نہیں ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَر﴾[الحج: ۴۱]

“یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰہ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے۔”

حق ِمساوات

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا إن أكرمكم عند الله أتقاكم﴾ [الحجرات: 13]

’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔‘‘

گویا شریعت کی نگاہ میں تمام کے تمام انسان برابر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“ی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے سوائے تقویٰ کے۔‘‘ شریعت کو ان کے اوپر نافذ کرنے کے سلسلے میں ان کے درمیان کوئی امتیاز برتنا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔”

انسانی قدر وقیمت کے حوالے سے تمام انسان برابر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تم میں کا ہر شخص آدم کی اولاد ہے اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔”وہ صرف اپنے اعمال کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: ﴿ولكل درجات مما عملوا﴾ [الأحقاف: ۱۹]

“ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں۔”

ہر نظریہ وفکر، ہر قانون اور ہر وہ صورت حال جو افراد کے درمیان جنس، نسل، رنگ، زبان یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کی راہ ہم وار کرتی ہے، وہ اس عام اسلامی اصول کے خلاف راست حملہ ہے۔ (الغزالی، ۲۰۰۵، ص: ۱۷۵)

ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ دوسروں کے ساتھ ساتھ اسے بھی روزگار اور کام کے مواقع فراہم کرکے سماج کے مادی وسائل سے استفادے کا موقع ملے۔اللہ فرماتا ہے:

﴿فامشوا في مناكبها وكلوا من رزقه﴾ [الملك: ۱۶]

“چلو اس (زمین) کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق۔”

ان کے درمیان نہ تو کمیت کے اعتبار سے اور نہ کیفیت کے اعتبار سے تفریق کرنا جائز ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ۝ ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره﴾  [الزلزلة: ۷-۸].

“پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔”

عدل و انصاف کا حق

ہر فرد کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ شریعت کو حکم اور فیصل بنائے۔صرف اسی کے سامنے اپنے مقدمات پیش کرے، کسی اور کے سامنے نہیں۔ اللہ فرماتا ہے:

“اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو۔”(النساء: ۵۹)

“اور یہ کہ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔”(المائدہ: ۴۹)

فرد کا حق یہ بھی ہے کہ اس پر ظلم کیا جا رہا ہو تو اس ظلم کے خلاف اپنا دفاع کرے۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿لا يحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم﴾ [النساء: 148]

“اللہ اس کو پسند نہیں کرتا ہے کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الّا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔”

اس کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ حسب استطاعت اپنے علاوہ کسی اور پر ظلم کے خلاف اس کا بھی دفاع کرے۔فرد کا حق یہ بھی ہے اس آئینی اقتدار کی پناہ لے سکے جو اسے تحفظ فراہم کرتا ہو، اس کے ساتھ انصاف کرتا ہو اور اس کو لاحق ہونےوالے نقصان اور ظلم کے خلاف اس دفاع کر سکتا ہو۔ مسلم حکم راں کی یہ ذمے داری ہے کہ ایسا اقتدار قائم کرے جوفرد کی آزادی اور انفرادیت کی ضمانت فراہم کرتا ہو۔ (الغزالی، ۲۰۰۵، ص: ۱۷۵)

اللہ فرماتا ہے:

﴿إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها وإذا حكمتم بين الناس أن تحكموا بالعدل إن الله نعما يعظكم به إن الله كان سميعا بصيرا﴾ [النساء: 58].

“اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناب اللہ سب کچھ جانتا اور دیکھتا ہے۔”

﴿يا داوود إنا جعلناك خليفة في الأرض فاحكم بين الناس بالحق ولا تتبع الهوى فيضلك عن سبيل الله إن الذين يضلون عن سبيل الله لهم عذاب شديد بما نسوا يوم الحساب﴾ [ص: 26].

“اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے۔”

اقلیتوں کے حقوق

اقلیتوں کے مذہبی حالات قرآن کے اس عام اصول کے تابع ہیں وپابند ہیں:

﴿لا إكراه في الدين﴾ [البقرة: 256]

“دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔”

اور ان کے شہری و شخصی احوال اسلامی شریعت کے تابع ہوتے ہیں اگر وہ شریعت کے پاس اپنے مقدمات میں لے آئیں۔ اللہ فرماتا ہے:

﴿فإن جاءوك فاحكم بينهم أو أعرض عنهم وإن تعرض عنهم فلن يضروك شيئا وإن حكمت فاحكم بينهم بالقسط﴾ [المائدة: 42]

“لہذا اگر یہ تمھارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمھیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو، ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمھارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو۔ ”

لیکن اگر وہ اپنے مقدمات ہمارے پاس لے کر نہ آئیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی شریعتوں کے ذریعے انھیں حل کریں، کیوں کہ اس سلسلے میں الہی اصول یہ ہے:

﴿وكيف يحكمونك وعندهم التوراة فيها حكم الله ثم يتولون من بعد ذلك﴾ [المائدة: 43].

“اور یہ تمھیں کیسے حَکَم بناتے ہیں جب کہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔”

﴿وليحكم أهل الإنجيل بما أنزل الله فيه﴾ [المائدة: 47].

“ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے۔”

عام زندگی میں شراکت کا حق

امت کے اندر ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ اجتماعیت کے عام مفادات و مصالح سے متعلق امور و حالات سے واقف ہو۔فرد کی ذمے داری یہ ہے کہ اپنی اہلیت و صلاحیت کے بقدر شوریٰ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنا حصہ ادا کرے۔ اللہ فرماتا ہے: ﴿وأمرهم شورى بينهم﴾ [الشورى: 38] “اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں۔”امت کا ہر فرد منصب و عہدے پر فائز ہونے کا اہل ہے، بشرطے کہ اس کے اندر قانونی شرائط پوری طرح موجود ہوں۔ یہ اہلیت کسی نسلی یا طبقاتی امتیاز کی وجہ سے نہ تو ساقط ہوتی ہے، نہ کم ہوتی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

“المسلمون تتكافأ دماؤهم، وهم يد على من سواهم، ويسعى بذمتهم أدناهم”

شوریٰ امت اور حاکم کے درمیان تعلق کی بنیاد و اساس ہوتی ہے۔ امت کا یہ حق ہے کہ اس اصول پر کاربند ہوتے ہوئے وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنے حکام کا انتخاب کر سکے۔حکام کے شریعت سے انحراف اختیار کرنے کی صورت میں امت کو اپنے حکام کے محاسبے اور انھیں معزول کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ فرماتے ہیں:

“إني وليت عليكم، ولست بخيركم، فإن أحسنت فأعينوني، وإن أسأت فقوموني، الصدق أمانة، والكذب خيانة… أطيعوني ما أطعت الله ورسوله، فإذا عصيت الله ورسوله، فلا طاعة لي عليكم” (الحميدي، 1998، 9/28)

“مجھے تمھارا ذمے دار بنایا گیا ہے، حالاں کہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میرے مدد کرنا، اور اگر برا کام کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔ سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔۔۔ میں جب تک اللہ اور رسول کی اطاعت پر قائم رہوں، میری اطاعت کرو۔ اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر جاؤں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں۔”

دعوت و تبلیغ کا حق

ہر ایک فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ معاشرتی زندگی میں دوسروں کے ساتھ مل کر یا انفرادی طور پر مذہبی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی اعتبار سے شریک ہو۔ ادارے قائم کرے اور ایسے وسائل تیار کرے جو اس حق کو برتنے کے لیے ضروری ہوں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿قل هذه سبيلي أدعو إلى الله على بصيرة أنا ومن اتبعني﴾ [يوسف: 108]

“تم ان سے کہہ دو کہ میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی۔”

ہر ایک کا حق بلکہ فرض یہ بھی ہے کہ معروف کا حکم دے، منکر سے روکے اور سماج سے ایسے اداروں کے قیام کا مطالبہ کرے جونیکی اور تقوی کے کاموں میں معاونت کے اصول پر افراد کو اس ذمے داری کو پورا رکرنے کے وسائل فراہم کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر﴾ [آل عمران: 104]

“تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور ہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائی کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔”

منکر کو نکارنے، فساد اور بگاڑ کو مسترد کرنے، کھلے اور صریح ظلم اور ظاہر و بین کفر کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں انسان کو جو حق حاصل ہے، اسے قرآن نے اس طرح متعین کیا ہے:

﴿ولا تركنوا إلى الذين ظلموا فتمسكم النار وما لكم من دون الله من أولياء ثم لا تنصرون﴾ [هود: 113].

“ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے او رتمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔”

وقال تعالى: ﴿لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داوود وعيسى ابن مريم ذلك بما عصوا وكانوا يعتدون ۝ كانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه لبئس ما كانوا يفعلون﴾ [المائدة: ۸۷-۹۷]

“بنی اسرائیل میں جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، کیوں کہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے۔ انھوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرز عمل تھا جو انھوں نے اختیا رکیا۔ ”

ایسا ہونا ضروری بھی ہے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ خود رسول کی اطاعت کو معروف سے مقید کر دیا ہے۔ اسی لیے عورتوں کی بیعت کے ضمن میں فرمایا:

﴿ولا يعصينك في معروف﴾ [الممتحنة: 12]

“اور بھلائی کے کاموں میں تمھاری نافرمانی نہیں کرتی ہیں۔”

حضرت صالح علیہ السلام کے زبان میں فرمایا:

﴿ولا تطيعوا أمر المسرفين ۝ الذين يفسدون في الأرض ولا يصلحون﴾ [الشعراء: ۱۵۱-۱۵۲]

“اور حد سے گزر جانے والوں کی بات نہ مانو، جو کہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے ہیں۔”

حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام نے ان تمام امور کو حقوق کے مرتبے سے اوپر اٹھا کر فرائض و واجبات کے درجے میں رکھا ہے۔اس لیے کہ حقوق میں بعض تو ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے انسان دست بردار ہو سکتا ہے، لیکن جہاں تک عائد کردہ فرائض کا تعلق ہے تو ان سے دست بردار ہونا جائز نہیں ہے۔(القرضاوی ۲۰۰۰، ص۷۴)

یہ عظیم حقوق وہ ہیں جو مقاصد قرآن کا جوہر ہیں۔ یہ حقوق [قرآن کریم کی] آیات کریمہ میں جدید دنیا میں موجود دستاویزوں اور مزعومہ حقوق سے صدیوں پہلے تفصیل سے بیان کیے جا چکے تھے۔ قرآن سے تعصب رکھنے والے یہاں وہاں اسلامی مقدسات و شعائر کی کتنی ہی توہین کریں قرآن کریم تمام انسانیت کے لیے کتاب ہدایت کی حیثیت سے باقی رہے گی اور خیر و بھلائی، حق و برتری اور فکری و اخلاقی تمدن کی ہر قدر و اصول کی طرف رہ نمائی کرتی رہی گی۔

مئی 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau