اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت

مقاصد اور بنیادیں

مولانا محمد جرجیس کریمی

قرآن و حدیث میں اجتماعیت کا تصور جتنا ابھرا ہواہے اور جتنی تاکید سے مسلمانوں کے ایک ایک فرد کو اجتماعیت سے جڑے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے افسوس ہے کہ مسلمانوں کے اندر اس پہلو سے کافی تساہل موجود ہے۔ قرآن مجید میں ایک سے زائد مقامات پر کہاگیاہے کہ مسلمان اللہ کی رسی کو مل جل کر پکڑے رہیں اور آپس میں تفرقہ بازی اور گروہ سازی نہ کریں (آل عمران ۱۰۳) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے ایک قول سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کی رسّی سے مرادجماعت اور اجتماعیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف ارشادات میں جماعت و اجتماعیت کو لازم پکڑنے کی بات کہی گئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے:

’’تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم جماعت کو لازم پکڑے رہو اور تفرقہ بازی سے بچو کیوں کہ شیطان ایک کے ساتھ ہوتاہے اور دو لوگوں کے ساتھ دو رہتا ہے۔‘‘    (الترمذی ابواب الفتن باب لزوم الجماعۃ)

جماعت کی اہمیت کے پیش نظر سفر کی حالت میں بھی اس کو لازم پکڑنے کی بات کہی گئی ہے۔ جماعت اگر قائم ہوتو اس سے الگ ہونے کی سخت مذمت کی گئی ہے بلکہ ایسے شخص کو جس کی گردن پر کسی امام؍امیر سے بیعت کا قلادہ نہ ہو اور اسی حالت میں اس کی موت ہوجائے تو اسے جاہلیت کی موت قرار دیاگیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

’’جس شخص نے امام ؍ امیر کی طاعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو قیامت کے دن وہ اللہ سے ایسے ملے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہوگی اور وہ شخص جس کی گردن میں کسی امام ؍ امیر کی بیعت کا قلادہ نہیں ہے اور اسی حالت میں اس کی موت ہوجائے تو گویا اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘ (مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب ملازم الجماعۃ)

ایک دوسری حدیث میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر امیر غلام حبشی اور ناک اور کان کٹا ہوتب بھی اس کی سمع و طاعت کی جائے۔ حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:

’’میرے خلیل نے مجھے وصیت کی کہ میں سمع طاعت بجالاؤں چاہے امیر غلام حبشی اور ناک کان کٹا ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (مسلم کتاب الامارہ باب وجوب طاعۃ الامراء)

بعض احادیث میں اطاعت امیر کو اطاعت الٰہی قرار دیاگیا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ اس سے اجتماعیت قائم رہتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔‘‘   (مسلم کتاب الامارہ باب وجوب طاعۃ الامراء)

جہاں عام لوگوں کو امیر کی اطاعت کا حکم ہے وہیں پر امیر کو اپنی رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کرنے اور ان کو ظلم و زیادتی سے بچانے کی تاکید کی گئی ہے۔ دوسری صورت میں اس کے خلاف سخت وعید وارد ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’اے اللہ! میری امت میں جو شخص امیر یا ذمہ دار بنایاگیا اور اس نے لوگوں کو مشقت میں مبتلا کیا تو بھی اس پر مشقت ڈال دے۔ اور جس نے نرمی برتی تو بھی اس سے نرمی برت۔‘‘ (مسلم کتاب الامارہ باب فضیلۃ الامیر العادل)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ

’’اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو امیر بنایا اور اس نے اپنی رعیت کے ساتھ دھوکہ کیا تو اس پر جنت حرام ہوگی۔‘‘ (حوالہ سابق)

اس مضمون کی اور بھی صحیح روایات ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہے تاکہ اجتماعیت میں امراء اور حاکموں کے مظالم سے بدامنی اور بے چینی پیدا نہ ہو، اجتماعیت میں دراڑ پیدا نہ ہو اور لوگوں کا شیرازہ بکھر نہ جائے۔

کوئی بھی صاحب عقل اس بات سے انکار نہیں کرسکتاکہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور اس کی ضروریات دوسروں سے اس قدر مربوط ہے کہ وہ تنہا زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اجتماعیت اس کی ایک فطری ضرورت ہے ظاہر ہے کہ اس کے چلانے کے لئے لازماً ایک نظام ہونا چاہیے۔ اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ میں اجتماعیت کے تعلق سے واضح احکام اور تعلیمات دی گئی ہیں اور اس کو واجبات دین میں شمار کیاگیا ہے۔ علماء اسلام نے سیاست شرعیہ کے موضوع پر بیش بہا کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ذیل میں چند موقر علماء اسلام کی آراء پیش کی جاتی ہیں جس سے اندازہ ہوگاکہ اسلامی اجتماعیت پر علماء کا اتفاق ہے اور فی زمانہ امت کا اس سے تغافل شریعت کے ایک حکم سے تغافل ہے۔ علامہ ابن حزم اندلسی فرماتے ہیں:

’’تمام اہل سنت، جملہ مرحبۂ، شیعہ اور خوارج اس بات پر متفق ہیں کہ امامت کا قیام واجب ہے اور امت پر واجب ہے کہ وہ ایسے امام عادل کی اطاعت کرے جو احکام الٰہی کو نافذ کررہاہو اور لوگوں کو شریعت محمدی کے مطابق چلارہاہو۔ ‘‘  (کتاب الفصل فی الملل والاہواد والنحل لابن حزم ۴؍۸۷)

علامہ نسفی شرح عقائد نسفیہ میں لکھتے ہیں:

’’مسلمانوں کے لئے واجب ہے کہ ان کاکوئی امام ہو جو احکام نافذ کرے، حدود جاری کرے، سرحدوں کی حفاظت کرے، زکوٰۃ وصول کرے، باغیوں کو سزا دے اور چوروں اور ڈاکوئوں پر حد جاری کرے۔‘‘              (شرح العقائد النسفیا۱۱۰)

امام ابن تیمیہؒ امامت کو واجبات دین میں شمار کرتے ہیں، لکھتے ہیں:

یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ امورِ رعایاکا والی و نگران ہونا واجبات دین میں سے ایک بڑا واجب ہے۔ بلکہ اس کے بغیر نہ تو دین کا قیام ممکن ہے اور نہ دنیا کا۔ چونکہ انسانوں کو اپنی حاجات میں ایک دوسرے سے سابقہ پڑتا ہے اور اجتماع کے بغیر بنی آدم اپنی حاجتیں اور مصلحتیں پوری نہیں کرسکتے اس لئے ضروری ہے کہ اجتماع کی حالت میں ان پر کوئی حاکم ہو۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تین آدمی بھی سفر کو نکلیں تو ان کو چاہیے کہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنالیں‘‘  پس نبی کریمؐ نے اس مختصر جماعت کے لئے بھی جو سفر میں عارض ہوتی ہے ایک کو امیر بنانا واجب کردیا تو عام زندگی میں یہ کیوں واجب نہ ہوگی۔ اس وجوب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امربالمعروف و نہی عن المنکر کو واجب کردیا ہے اور یہ کام قوت و امارت کے بغیر انجام نہیں پاسکتا۔ اسی طرح جہاد، عدل و انصاف ، حج، جمعہ، عیدین کا قیام، مظلوم کی امداد، حدود کی اقامت اور بہت سے فرائض پر واجبات بھی قوت وامارت کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہوسکتے۔‘‘ (السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الشرعی و الشرعیۃ لابن تیمیہ ص ۱۲۹)

اسلامی اجتماعیت کے مقاصد

علماء اسلام اور فقہاء عظام نے اسلامی اجتماعیت کا مقصد دین کی حفاظت اور دنیا کی سیاست بتایا ہے۔ (الاحکام السلطانیہ للحاوردی دارالکتاب العربی ص ۹۲) بعض علماء نے اس کا مقصد عام دینی و دنیاوی مصالح کا حصول، مفاسد کا دفعیہ، احکام الٰہی کے مطابق فیصلے کرنا اور امت کی شیرازہ بندی قرار دیا ہے۔ (التمہید لابن عبدالبرالقرطبی ۱۱؍۹۷   ۲۱؍۲۷۵،  ۲۵۲  ۲۲؍۱۵۱) ذیل میں ان کی مختصر تشریح کی جاتی ہے:

  • ۱۔عام دین و دنیاوی مصالح کا حصول اسلامی اجتماعیت یا خلافت کا اولین مقصد ہے۔ اس لئے امام پر لازم ہوگاکہ وہ عیدین اور جمعہ کی نمازیں قائم کرے، لوگوں کے معاملات کی نگرانی کرے ، عدالتیں قائم کرے، مظلوم کی فریاد رسی کرے اور اگر کوئی لاوارث ہے تو اس کی سرپرستی کرے۔ اس طرح دین کے اکثر احکام تقاضا کرتے ہیں کہ اجتماعیت قائم ہو، اس کے بغیر آدھی شریعت متروک ہوجاتی ہے اور صرف آدھی شریعت پر عمل ممکن رہ جاتا ہے۔
  • ۲۔اس دنیا میں صرف اچھائیاں نہیں ہیں بلکہ یہاں مفاسد بھی ہیں ان کا ازالہ اور دفعیہ انفرادی ضرورت کے ساتھ اجتماعی ضرورت بھی ہے، فتنہ و فساد کا انسداد، سرحدوں کی حفاظت اور دشمنوں کا مقابلہ اجتماعیت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
  • ۳۔اللہ تعالیٰ نے مختلف احکام نازل کیے ہیں، ان کاتعلق فرد سے بھی ہے اور معاشرہ سے بھی۔ اجتماعی احکام کا نفاذ ایک نظم کے بغیر ممکن نہیں ہے لہٰذا اسلامی اجتماعیت کا ایک مقصد یہ قرار پاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کیاجائے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وہ نافذ ہوں۔
  • ۴۔اسلام ساری انسانیت کا دین ہے۔ اس کا مطمح نظر انسانیت کی شیرازہ بندی بھی ہے چنانچہ اسلامی اجتماعیت کاایک مقصد یہ قرار دیا جاتاہے کہ لوگ الگ الگ گروہوں کی شکل میں زندگی گزارنے کے بجائے ایک وحدت بن کر زندگی گزاریں۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں اختلاف و نزاع کو ناپسند کیاگیاہے اوراتحاد واتفاق پر بہت زور دیاگیا ہے۔

اسلامی اجتماعیت کی بنیادیں

کسی بھی صالح اجتماعیت کا قیام محض لوگوں کے جمع ہوجانے یا کسی وقتی دنیاوی اور مادی ضرورت کی تکمیل کی غرض سے ممکن نہیں ہے اس کے لئے مضبوط بنیادوں کی ضرورت ہے۔ اسلامی شریعت میں اس کی چند بنیادوں کا ذکر کیاگیا ہے۔ ذیل میں ان کی وضاحت کی جاتی ہے:

۱۔ بیعت:۔

بیعت کے معنی عہدو پیمان کے ہیں جو عوام اورحکم راں کے درمیان ہوتی ہے یہ بیعت سمع و طاعت اور نصح و خیرخواہی پر مبنی ہوتی ہے۔ علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور دیگر خلفائے راشدین نے بیعت لی۔ اس کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر سمع وطاعت کا عہد لیاجاتا تھا اوریہ عہدِتنگی و کشادگی اور ناسازگاری ہرحال کے لئے ہوتاتھا۔ (التمہید ۱۶؍۳۴۸) حضرت عبادہ بن صاحب سے مروی ہے کہ ہم لوگ بیعت کرنے کے لئے کھڑے ہوتے اور یہ عہد کرتے تھے کہ ہر حال میں حق بات کہیںگے اور اس بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے موقع پر فرماتے تھے کہ حسب استطاعت تم پر عہد کی پابندی لازم ہے کیوں کہ اللہ نے کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔(حوالہ سابق ۴۳۳) عام قسم کا عہد طرفین کی رضامندی سے منسوخ ہوسکتا ہے لیکن بیعت منسوخ نہیں ہوسکتی اس کا ثبوت اس دیہاتی کے واقعہ سے ملتاہے جس میں ایک دیہاتی نے ایمان قبول کیا اور مدینہ میں آکر بودو باش اختیار کرلی، مگر اس کو یہاں کی آب و ہوا راس نہیں آئی اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے فسخ کا مطالبہ کیا مگر آپؐ نے اسے منظور نہ کیا۔ اس نے اصرار کیا مگر اس کے باوجود آپؐ نے اس کو منظور نہیں فرمایا۔ (التمہید۲۱؍۲۲۸)

علماء نے بیعت کے متعدد لوازم کابھی تذکرہ کیا ہے ان میں سے سمع و طاعت اذیت اور ناگواری پر صبر اور امام کی طرف سے رعایا کے لئے نصح و خیرخواہی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

۲۔سمع وطاعت:۔

سمع و طاعت بیعت کالازمہ ہے، لیکن ساتھ ہی اسلامی اجتماعیت کی بنیاد بھی ہے، کیوں کہ اگر سمع و طاعت نہ ہوتو تنہا امیرامورِ امارت انجام نہیں دے سکتا۔ اس کے لئے لازماً مامورین کی طرف سے سمع و طاعت ضروری ہے۔ سمع وطاعت کے ضمن میں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ یہ مطلق نہیں ہے بلکہ معروف کے ساتھ مشروط ہے یعنی اگر امام منکر یا معصیت کا حکم دے تو سمع و طاعت واجب نہیں ہوگی اور امیر کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔ علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ ’’امام اگر معروف مباح کا حکم دے تو اس کی اطاعت واجب ہوتی ہے چاہے بذات خود امام فاسق و فاجر کیوں نہ ہو۔‘‘ (حوالہ سابق ۲۳؍۲۷۹)

۳۔نصح و خیرخواہی:۔

اسلامی اجتماعیت جن بنیادوںپر قائم ہوتی ہے ان میں سے ایک بنیاد نصح وخیرخواہی ہے۔ اور اس کاتعلق امیر اور مامور دونوں سے ہے۔ امیر پر لازم ہے کہ وہ اپنی امارت کو لوگوں پر ظلم و ستم کا ذریعہ نہ بنائے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کوئی بھی امیر چاہے اس کی امارت میں صرف دس لوگ ہی کیوں نہ ہو، قیامت کے دن اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگا ۔ (الطبرانی فی الکبیر ۱۱؍۴۱۱) ایک دوسری روایت میں حضرت معقل بن بسیار سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ نے کسی کو ذمہ دار بنایا اور اس نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں جان بوجھ کر کوتاہی کی تو جنت اس پر حرام ہوگی۔‘‘ (بخاری کتاب الاحکام باب من استدعی رعیۃ۔۔۔)

نصح و خیرخواہی جس طرح امام کے لئے اپنی رعایا کے حق میں واجب ہے اسی طرح رعایا کے لئے اپنے امام کے حق میں بھی لازم ہے۔ امام کی خیرخواہی کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ پورےاخلاص کے ساتھ اس کی سمع و اطاعت کی جائے۔ لیکن اس کا وسیع مفہوم یہ ہے کہ اگر امام کے اندر بعض کم زوریاں یا خامیاں موجود ہوں تو ان کو حکومت کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کی جائے اس لئے کہ ہر حال میں شریعت میں حق بات کہنے کاحکم دیاگیا ہے۔ علامہ ابن عبداللہؒ فرماتے ہیں کہ ’’امت کا اس پر اتفاق ہے کہ بُرائی سے روکنا واجب ہے۔ اگر ہاتھ سے اس کو روک سکے تو ہاتھ سے روک دے، اگر زبان سے روک سکے تو اس سے روکے اور اگر اس کا امکان نہ ہوتو دل سے بُرائی کو بُرائی جانے۔‘‘ (التمہید۲۱؍۲۸۵)

۴۔عدل کا قیام:۔

اسلامی اجتماعیت کی ایک بنیاد کا قیام ہے، کسی بھی اجتماعیت کو باقی رکھنے کے لئے عدل ایک بنیادی پتھر ہے اس کے بغیر کوئی اجتماعیت وجود میں آسکتی ہے نہ دیر تک قائم رہ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ    (النحل: ۹۰)

’’بے شک اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔‘‘

حضرت علی بن ابی طالبؓ ایک خطبے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :’’اے حاکمو! تمہارے اوپر رعایا کے بہت سے حقوق ہیں۔ ان میں اولین حق عدل کے مطابق فیصلہ کرنا اور مساوات قائم کرنا ہے اللہ تعالیٰ کو امام عادل کا مبنی برانصاف فیصلہ سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (الاستذکار۲۷ظ۱۰۷) ایک حدیث میں ہے کہ ’’قیامت کے دن سات قسم کے لوگ اللہ کے سائے میں ہوںگے۔ جب کہ اس دن اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ ان میں سے ایک امام عادل بھی ہے۔‘‘ (بخاری کتاب الحدود باب فضل من ترک الفواحش)

عدل کی ضد ظلم ہے۔ اسلام نے جس طرح عدل کی تعریف کی ہے اور اس کے قیام کی تاکید کی ہے اسی طرح اس نے ظلم کی مذمت کی ہے، اس کو ناپسندیدہ قرار دیاہے اور اس پر جہنم کی وعید سنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَکَانُوا لِجَہَنَّمَ حَطَباً    (الجن:۱۵)

’’اور حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔‘‘

یہاں ’’فاسقون‘‘ سے مراد ظلم و ستم کرنے والے ہیں۔ علماء اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ فیصلہ کرنے میں ناانصافی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ اس پر سخت وعید آئی ہے۔ (الاستذکار ۲۷؍۲۳۷)

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نےحضرت کعب القرطی سے سوال کیاکہ عدل کیاہے؟ انہوںنے جواب دیاکہ یہ ایک عظیم شےہے۔ عدل یہ ہے کہ تم چھوٹوں کے حق میں باپ اور بڑوں کے حق میں بیٹا اور ہم سروں کے حق میں بھائی بن جائو اور لوگوں کی ان کی غلطیوں کے بقدر گرفت کرو۔(سیرالملام النبلاء للذھبی ۵؍۵۶)

۵۔مشاورت:۔

اسلامی اجتماعیت کی ایک بنیاد مشاورت ہے۔ مشورہ یا مشاورت کے معنی ایک دوسرے کی رائے جاننے کے ہیں، ابن عطیہ اندلسیؒ فرماتے ہیں کہ ’’مشورہ شریعت کی ایک اہم بنیاد ہے۔‘‘ (المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز ۳؍۲۸۰) علامہ ابن عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں کہ امیر کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ علماء اور اصحاب الرائے سے مشورہ کے بغیر کوئی فیصلہ نافذ کردے۔ (التمھید۸؍۳۶۹) چنانچہ خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطابؓ کا معمول تھا کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ پر لوگوں سے مشورہ طلب کرتے، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر فرماتے تھے۔ خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر خاص طور سے جنگی امور میں، صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا اور اس پر عمل فرمایاحالانکہ آپؐ اس کے پابند نہیں تھے۔ مشورہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایمان کاایک امتیازی وصف قرار دیا ہے اور مشورہ کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّہِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَأَمْرُہُمْ شُورَی بَیْنَہُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ   (الشوریٰ:۳۸)

’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیںاور جو کچھ بھی ہم نے ان کو دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

علامہ ابن العزیزؒ فرماتے ہیں کہ

’’مشورہ ان مسائل میں کیاجائے گا جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی حکم موجود نہیں ہے، لیکن جن کے بارے میں قرآن وسنت میں پہلے سے نص موجود ہے ان میں مشورہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مشورہ کا مطلب محض لوگوں کی رائے جاننا نہیں ہے، بلکہ پیش آمدہ مسئلہ میں شرعی تعلیمات سے ہم آہنگ فیصلہ مطلوب ہے۔ چنانچہ مشورہ ایسے لوگوں سے کیاجائے گا جو دین کا علم رکھتے ہوں جن کے اندر اجتہاد کی صلاحیت ہو اور وہ خود دینی احکام پر عمل کرتے ہوں اور عادل ہوں۔‘‘

امیر کی مطلوب صفات

اسلامی اجتماعیت کی آخری شکل اسلامی خلافت ہے۔ اس تعلق سے سربراہ اجتماعیت کی بعض مطلوبہ صفات بیان کی گئی ہیں حدیث میں امیر کو راعی (نگہبان) کہا گیا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ راعی وہ ہے جو محافظ، امانت دار، عادل اور دینی و دنیاوی مصالح کے مطابق رعیت کی نگہبانی کرے۔ (فتح الباری ۱۳؍۱۱۳) ۔ جب امامت اتنی عظیم ذمہ داری ہے تو لازم ہے کہ اس کے لئے بعض اہم شرائط ہوں تاکہ ان کی روشنی میں امیر کا انتخاب ہوسکے۔ علماء نے اس کی متعدد شرائط بیان کی ہیں۔ وہ شرائط یہ ہیں: وہ قریش کی نسل سے ہو (یہ شرط خلیفہ کے حوالے سے ہے۔ فی الوقت چونکہ اسلامی خلافت کا حقیقی وجود نہیں ہے اور مسلمان مختلف اجتماعیتوں سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے سربراہ اجتماعیت کے لئے یہ شرط ضروری نہیں ہے)۔ اس کے اندر اجتہاد کی صلاحیت موجود ہو، وہ ریاست اور دنیا کےحالات سے واقف ہو، حد سے زیادہ رقیق قلب نہ ہو کہ حدود کے اجراء میں نرم دلی غالب آجائے، آزاد ہو، مسلمان ہو، مرد ہو، جسمانی طورپر معذور نہ ہو یعنی گونگا، بہرا اور اندھا نہ ہو کہ احکام جاری کرنے میں اسے دوسرے کی مدد لینی پڑے، بالغ ہو، عاقل ہو، عادل ہو یعنی فسق و فجور اور فساد پروری میں مشہور نہ ہو صاحب فضل ہو یعنی سربراہ اجتماعیت دوسروں کے مقابلے میں زیادہ با اخلاق ہو، صاحب علم ہو اور جسمانی قوت و طاقت بھی رکھتا ہو، بہادر اور سخی ہو۔

امیر کی ذمہ داریاں

وسیع تر معنی میں امیر سربراہ مملکت ہوتاہے۔ اس حوالے سے اس کی ذمہ داریاں بھی وسیع اور نوع بہ نوع ہیں۔ علامہ ماوردی نےاس کی دس ذمہ داریوں کا ذکر کیا ہے:

۱۔            دین کی حفاظت اپنے تمام اصول و ضوابط کے ساتھ۔

۲۔           افراد کے درمیان تنازعوںکا فیصلہ کرنا یا فیصلہ کرنے کے لئے قاضی مقرر کرنا۔

۳۔           حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت

۴۔           حدود و تعزیرات کا نفاذ

۵۔           سرحدوںکی حفاظت

۶۔           دشمنانِ اسلام کے خلاف جہاد

۷۔           بیت المال کی تنظیم

۸۔           اسراف اور تنگی سے بچتے ہوئے کارکنوں کی تنخواہوں کی تعین

۹۔           کارکنوں کی کارکردگی کا جائزہ اور ان سے جواب طلبی

۱۰۔         ریاست کے مسائل میں ذاتی دلچسپی لینا اور ان کا حل تلاش کرنا۔ (الاحکام السلطانیۃ للماوری ص ۳۳)

امیر کے حقوق

اسلامی تعلیمات میں امیر کے کچھ حقوق متعین کیے گئے ہیں جن کی ادائی عامۃ الناس پر لازم ہے۔ وہ حقوق درج ذیل ہیں:

۱۔            معروف میں اس کی سمع و طاعت کی جائے گی۔

۲۔           علانیہ اور پوشیدہ ہر حال میں اس کی خیرخواہی کی جائے گی۔

۳۔           ظاہری وباطنی طورپر اس کی مدد کی جائے گی۔

۴۔           اس کا ادب واحترام کیاجائے گا اور اس کی طن و تشنیع کی جائے گی۔

۵۔           اگر اس کے اندر کوئی بُرائی موجود ہے تو اس کی اصلاح کی جائے گی۔

۶۔           اس کے ماتحتوں کی سیرت وکردار سے اس کو آگاہ کیاجائے گا۔

۷۔           ہر اس کام میں اس کی معاونت کی جائے گی جو امت کی فلاح وترقی کے لیے ہو۔

۸۔           اس کے مخالفین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

امیرکا طریقۂ انتخاب

کسی اجتماعیت کاسربراہ ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک عظیم ذمہ داری بھی ہے۔ ملک میں متعددلوگ ہوسکتے ہیں جو اس ذمہ داری کو ادا کرسکیں یا اس اعزاز کو پائیں، پھر اس کا انتخاب کیسے ہو؟ اس کی درج ذیل ممکنہ صورتیں ہیں:

۱۔            کوئی شخص بزور طاقت اس منصب کو حاصل کرلے۔ اس کے بارے میں شریعت کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ چونکہ اس صورت میں عوام الناس کو انتخاب کا اختیار نہیں ہوتا، اس لئے یہ ایک مجبوری کی صورت ہے اور بتقاضائے مصلحت اس کو تسلیم کرلیاجائے گا۔

۲۔           دوسری صورت یہ ہے کہ ریاست کے ارباب حلّ و عقد کسی ایک فرد کو اس منصب کے لئے منتخب کرلیں۔

۳۔           تیسری صورت یہ ہے کہ ریاست کا موجودہ امیر کسی کو اپنا جانشیں مقرر کردے۔

اسلامی تعلیمات اور اسلام کی ابتدائی تاریخ آخر کی دو صورتوں کی تائید کرتی ہیں، امام کا انتخاب ہوجانے کے بعد اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی راجح قول کے مطابق ارباب حل و عقد کی اکثریت کی بیعت کافی ہوگی اور ہر فرد کا بیعت کرنا واجب نہیں ہے

نومبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau