اسلامک فقہ اکیڈمی کے اہم فیصلے

اسلامک فقہ اکیڈمی

۱۲/تا ۱۵/فروری ۲۰۱۰ئ کو صوبۂ گجرات کے معروف تعلیمی ادارے جامعہ مظہر سعادت، ہانسوٹ، ضلع بھڑوچ میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی طرف سے ایک چہارروزہ سمی نار منعقد ہواتھا، جس میں ملک کے معتبر علمائ نے شرکت کی تھی۔ اس میں بعض اہم مسائل کو موضوعِ گفتگو بنایاگیاتھا۔ افادۂ عام کی غرض سے انھیں زندگیِ نومیں شائع کیاجارہا ہے۔ ﴿ادارہ﴾

غیرمسلم ممالک میں عدالت کے ذریعہ طلاق

۱-غیرمسلم ممالک کی عدالت کاجج اگر مسلمان ہو اور وہ فیصلہ کرتے وقت شرعی ضوابط کو ملحوظ رکھتا ہے تو اسے مسلم حاکم کے قائم مقام تسلیم کرتے ہوئے فسخ نکاح کے سلسلے میں اس کا فیصلہ معتبر ہوگا۔

۲-جن غیرمسلم ممالک میںحکومت کی طرف سے مسلمان کے لیے شرعی اصولوں کے مطابق قضا ئ کا نظام قائم نہیں ہے، وہاں کے مسلمانوں پر واجب ہے کہ ارباب حل و عقد کے مشورے سے دارالقضائ، شرعی پنچایت یا ان جیسے ادارے قائم کریں اور اپنے نزاعات و معاملات میں انھی کی طرف رجوع کریں۔

۳-طلاق چونکہ ابغض المباحات ہے، اس لیے اسے اختیارکرنے سے پہلے پورے طورپر مصالحت اور نباہ کی صورت نکالنی چاہیے اور حتی الامکان طلاق وخلع سے بچنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

۴-غیرمسلم ممالک کی عدالتوں میں شوہر قانونی مجبوری کے تحت غیرمسلم جج کو درخواست دیتا ہے کہ میرا رشتہ نکاح ختم کردیاجائے اور جج تفریق کا فیصلہ کرتاہے، توجج کے فیصلۂ تفریق کو طلاق بائن مانا جائے گا۔ البتہ بہتر ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد شوہر اپنی زبان سے بھی الفاظ طلاق کہہ دے۔

۵-اگرغیرمسلم ممالک کی عدالت میں غیرمسلم جج کے سامنے عورت رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کے لیے درخواست دیتی ہے اور غیرمسلم جج اس کی درخواست پر شوہر کی اجازت سے تفریق کا فیصلہ کرتا ہے تو معتبر ہے، ورنہ یہ تفریق شرعاً معتبر نہیں ہوگی، ایسی صورت میں عورت یا تو شوہر سے خلع حاصل کرے یا دارالقضائ و شرعی پنچایت کے ذریعے نکاح فسخ کرائے۔

موجودہ کرنسی کی شرعی حیثیت

  • ۱-مؤخر مطالبات اور بقایاجات کو قیمتوں کے اشاریہ یا سونے چاندی کی قیمت سے مربوط کرنا درست نہیں۔ اس لیے کہ اشاریہ دقیق فنی اصولوں اور ظن و تخمین پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناقابل عمل بھی ہے اورسخت نزاع کاباعث ہوسکتا ہے، نیز دونوں صورتوں میں ربا کا دروازہ بھی کھل سکتاہے۔
  • ۲-بہتر ہے کہ مہرمؤجل سونے یا چاندی میں مقرر کیاجائے جیساکہ اس سے پہلے بھی اکیڈمی فیصلہ کرچکی ہے۔ ایسی صورت میں بوقت ادائی مقررہ مقدار میں سونا یا چاندی ادا کرنا ہوگا اور اگر اس وقت دونوں فریق اتنی مقدار سونا یا چاندنی کی قیمت کے پیسوں کی ادائی پر اتفاق کرلیں تو یہ بھی جائز ہے۔ یہی حکم اس وقت بھی ہوگا جب کسی شئے کی اجرت یا قیمت سونے یا چاندنی میں طے کی جائے۔

تورّق کا مسئلہ

بعض دفعہ انسان کو نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے کوئی قرض دینے والا نہیں ملتا۔ لہٰذا وہ شخص کوئی مال ادھار زیادہ قیمت پر خرید کر کسی تیسرے شخص کے ہاتھ نقد کم قیمت پر فروخت کردیتاہے تاکہ اسے نقد رقم حاصل ہوجائے۔ یہ صورت دور قدیم سے رائج ہے۔ فقہائ حنابلہ کے یہاں اس کے لیے ‘‘ورق’’ کالفظ استعمال کیاگیاہے۔ جمہور فقہا کے نزدیک دو علاحدہ عقد ہونے کی بنا پر یہ صورت جائز ہے۔ دور حاضر میں بعض اسلامی بینک اور مالیاتی ادارے تورّق کے نام سے بعض معاملات کرتے ہیں، جن کے بارے میں اختلاف رائے پایاجاتاہے۔ اس پس منظر میں سمینار میں غوروخوض اور بحث ومباحثہ کے بعد درج ذیل قراردادیں طے پائیں:

۱-اگر اسلامی بینک یا کوئی اور مالیاتی ادارہ قرض لینے والے کے ہاتھ سامان زیادہ قیمت میں ادھار فروخت کرکے کم قیمت میں خود ہی یا اس کاکوئی ذیلی ادارہ خریدتا ہے تو یہ ناجائزہے۔

۲-اگر بینک حقیقت میں خریدو فروخت نہیں کرتابلکہ یہ صرف کاغذی کارروائی ہوتی ہے تو یہ بھی شرعاً ناجائز ہے۔

۳-اگر اسلامی بینک قرض لینے والے کے ہاتھ اپناکوئی سامان زائد قیمت میں ادھار فروخت کرکے بے تعلق ہوجائے اور خریدار اس سامان کو قبضے میں لینے کے بعد اپنے طورپر کسی ایسے شخص کے ہاتھ کم قیمت میں نقد فروخت کردے جس کا اس بینک سے اس معاملے میں کوئی تجارتی تعلق نہ ہوتو یہ صورت جائز و درست ہوگی۔

ایام قربانی میں کس مقام کا اعتبار ہے؟

جو شخص قربانی کا وکیل بنارہاہے اور وہ الگ مقام پر ہو اور جہاں قربانی کی جارہی ہو وہ الگ مقام ہو تو اوقات قربانی کی ابتدا و انتہا کے سلسلے میں مقام قربانی کا اعتبار ہوگا، بشرطیکہ جس شخض کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اس پر ۱۰/ذی الحجہ کی صبح صادق طلوع ہوگئی ہو، لہٰذا:

  • الف:جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اگر اس کے یہاں۱۰/ذی الحجہ شروع نہیں ہوئی، تو اس کی طرف سے قربانی نہیں کی جاسکتی، اگرچہ قربانی کیے جانے کے مقام پر اس دن ۱۰/ذی الجہ ہو۔
  • ب:جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اگر اس کے یہاں۱۲/ذی الحجہ کاغروب آفتاب ہوچکا ہے، لیکن جہاں قربانی ہورہی ہے، وہاں ابھی ۱۲/ذی الحجہ باقی ہے تو اس کی جانب سے قربانی کرنا درست ہے۔
  • ج:جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے، اس کے مقام پر۱۲/ذی الحجہ کی تاریخ ہے اور جہاں قربانی کی جارہی ہے، وہاں ۱۲/ذی الحجہ گزرچکی ہے، تو اب وہاں قربانی کرنا درست نہیں۔

شق ’’الف‘‘ میں درج ذیل حضرات کا اختلاف ہے:

مفتی رشید احمد فریدی، مفتی عبدالودود مظاہری، مفتی جمیل احمد نذیری، مفتی محمد عثمان گورینی، مولانا عبدالرب اعظمی، مفتی شوکت ثنائ قاسمی، مفتی نعمت اللہ ، مولانا محمد کامل قاسمی اور مولانا احتشام الحق۔ ان حضرات کے نزدیک مذکورہ صورت میں قربانی درست ہے۔ البتہ ان میں سے بعض حضرات کے نزدیک احتیاط اس میں ہے کہ اس صورت میں قربانی نہ کی جائے۔

ش ‘‘ب’’ میں مفتی سلمان پالن پوری صاحب کااختلاف ہے، ان کے نزدیک مذکورہ صورت میں قربانی درست نہیں۔

کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت

۱-شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو معاملات کی صفائی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے، اس لیے مسلمان اپنی معاشرت میں معاملات کی صفائی کاخاص اہتمام کریں، خصوصاً تجارت اور کاروبار میں اس کی اہمیت بہت ہی زیادہ ہے۔ ایک شخض تجارت کررہاہے اور اس کی اولاد بھی اس کاروبار میں شریک ہے تو جو بیٹے باپ کے ساتھ کاروبار میں شریک ہورہے ہیں، ان کی حیثیت ﴿شریک، اجیریا معاون کے طورپر﴾ شروع سے متعین ہوجائے، تو خاندانوں میں ملکیت کے اعتبار سے جو نزاعات ہوتے ہیں ان کا بڑی حد تک سّدباب ہوجائے گا، اس لیے اس طرح کے معاملات میں پہلے سے حیثیت متعین کرنے کااہتمام کیاجائے۔

۲-اگر والد نے اپنے سرمائے سے کاروبار شروع کیا، بعد میں اس کے لڑکوں میں سے بعض شریک کار ہوگئے، مگر الگ سے انھوں نے اپنا کوئی سرمایہ نہیں لگایا اور والدنے ایسے لڑکوں کی کوئی حیثیت متعین نہیں کی، تو اگر وہ لڑکے باپ کی کفالت میں ہیں تو اس صورت میں وہ لڑکے والد کے معاون شمار کیے جائیں گے اور اگر باپ کی زیرکفالت نہیں ہیں تو عرفاًجو اجرت عمل ہوسکتی ہے وہ ان کو دی جائے۔

۳-اگر والد کے ساتھ بیٹوں نے بھی کاروبار میںسرمایہ لگایاہو اور سب کا سرمایہ معلوم ہوکہ کس نے کتنالگایاہے تو ایسے بیٹوں کی حیثیت باپ کے شریک کی ہوگی اور سرمائے کی مقدار کے تناسب سے شرکت مانی جائے گی۔ سوائے اس کے کہ سرمایہ لگانے والے بیٹے کی نیت والد کے یا مشترکہ کاروبار کے تعاون کی ہو شرکت کی نہیں۔

۴-اگر کاروبار کسی لڑکے نے اپنے ہی سرمائے سے شروع کیاہو لیکن بہ طوراحترام دوکان پر والد کو بٹھایاہو یا اپنے والد کے نام پر دوکان کا نام رکھاہوتو اس صورت میں کاروبار کامالک لڑکا ہوگا، والد کو دوکان پر بٹھانے یا ان کے نام پر دوکان کانام رکھنے سے کاروبار میں والد کی ملکیت و شرکت ثابت نہ ہوگی۔

۵-باپ کی موجودگی میں اگر بیٹوں نے اپنے طورپر مختلف ذرائع کسب اختیار کیے اور اپنی کمائی کا ایک حصہ والد کے حوالے کرتے رہے تو اس صورت میں باپ کو ادا کردہ سرمایہ باپ کی ملکیت شمارکی جائے گی۔

۶-اگر کسی وجہ سے والد کا کاروبار ختم ہوگیا لیکن کاروبار کی جگہ باقی ہو، خواہ وہ جگہ مملوکہ ہو یا کرائے پر حاصل کی گئی ہو اور اولاد میں سے کسی نے اپنا سرمایہ لگاکر اسی جگہ اور اسی نام سے دوبارہ کاروبار شروع کیا تو اس صورت میں جس نے سرمایہ لگاکر کاروبار شروع کیا، کاروبار اس کی ملکیت ہوگی، والد کی ملکیت نہیں ہوگی، لیکن وہ جگہ ﴿خواہ مملوکہ ہو یا کرایہ پر لی گئی ہو﴾ دوبارہ کاروبار شروع کرنے والے کی نہیں بلکہ اس کے والد کی ہوگی اور والد کی وفات کی صورت میں اس میں تمام ورثہ کاحق ہوگااور اس طرح کاروبار کا گُڈول بھی باپ کا حق ہے اور اس کی وفات کے بعد تمام ورثہ کا حق ہوگا۔

۷-اس موضوع سے متعلق سماج میں پیش آنے والے مختلف مسائل ہیں جن کو واضح کرنے اور عام مسلمانوں کو ان سے واقف کرانے کی ضرورت ہے، اس لیے یہ اجتماع اکیڈمی سے اپیل کرتاہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک مفصل رہنما تحریر تیارکرے اور ان میں جو مسائل قابل تحقیق ہوں، حسب گنجائش آئندہ منعقد ہونے والے سمیناروں میں انھیں اجتماعی غورو فکر کے ذریعے طے کرے۔

۸-ائمہ خطبا اور علماے کرام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں معاملات کی صفائی کے سلسلے میں ذہن سازی کریں اور شرکت و میراث وغیرہ کے جو شرعی اصول واحکام ہیں، ان سے ان کو آگاہ کریں۔ خاص طورپر والدین ، اولاد، بھائیوں اور میاں بیوی کے درمیان شرکت کے مسائل سے واقف کرائیں۔

جون 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau