اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت اور اس کا تدارک

ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس

ملک میں اس وقت مسلمان انتہائی نازک اور صبر آزما دور سے گزررہے ہیں۔ ایک طرف ان کی جان و مال ، عزت و آبرو پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں تو دوسری طرف ان کے خلاف نفرت اور بغض و عناد پر مبنی پروپیگنڈا مہم بہت تیزی سے چلائی جارہی ہے ، جس کی زد اسلامی تعلیمات، شعائر ، مسلمانوں کی تاریخ، ان کی بود و باش، رہن سہن ہر چیز پر پڑ رہی ہے۔افسوس کہ اس میں حکمراں پارٹی، اس کی سرپرست تنظیم اور اس کے چیلے چپاٹوں کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا بطور خاص الیکٹرانک میڈیا اور سوشل سب شامل ہیں ۔ مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال کھڑا کیا جارہا ہے۔ اپنی حب الوطنی اور وطن دوستی ثابت کرنے کے لیے ان سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے جو شرک اور بت پرستی پر مبنی ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ صورت حال اچانک پیدا ہو گئی ہے یا بتدریج ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔دوسری چیز جو بطور خاص مسلم تنظیموں اور مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کو دیکھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس صورت حال تک پہنچنے کے پس پشت کیا عوامل ومحرکات ہیں اور مسلمان خود اس کے لیے کس حد تک ذمہ دار ہیں۔

موجودہ صورت حال کے پیدا ہونے میں درج ذیل عوامل و محرکات کار فرما نظر آتے ہیں۔

۱۔آرایس ایس اور دیگر ہندتوا تنظیموں کی نفرت آمیز مہم۔

۲۔سیکولر سیاسی پارٹیوں کا موقع پرستانہ طرز عمل۔

۳۔اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط فہمیوں پر مبنی پروپیگنڈا ۔

۴۔آزادی کے بعد مسلمانوں کا ملکی معاشرہ سے الگ تھلگ ہو جانا۔

۵۔ مسلم تنظیموں اور مسلمانوں کے ارباب حل و عقد کا مسلم مسائل تک محدود ہو جانا

۶۔ ملک کی تعمیر اور عام انسانی مسائل سے مسلمانوں کی عدم دلچسپی

۷۔انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی شرکت صرف ووٹ دینے کی حدتک

۸۔اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے فریضہ سے مسلمانوں کی علیحدگی ولا تعلقی

ان کے علاوہ دیگر عوامل بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی حیثیت ضمنی و عارضی ہے۔

اس صورت حال کے تدارک کے لیے منصوبہ بند طریقے پر کا م کرنے کی ضرورت ہے ،اس سلسلے میں ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جارہا ہے۔

۱۔فریضہ دعوت دین

مسلمان بنیادی طور پر ایک داعی امت ہیں۔ خیر کی طرف دعوت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور عدل و قسط کا قیام ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اگر مسلمانوں نے اپنی ایک ہزار سالہ تاریخ میں دعوت دین اور اشاعت دین کے کام کو ایک فریضہ کے طور پر اپنایا ہوتا اور حکمت و موعظۃ الحسنہ کے ساتھ یہاں پر تبلیغ دین کا کام کیا ہوتا تو آج یہ ملک بھی ایک مسلم اکثریتی ملک ہوتا۔ایک ایسے ملک میں جو شرک و بت پرستی کی لعنت میں مبتلا ہو ، جہاں انسانوں کو ذات پات کے ظالمانہ و استبداد نظام میں تقسیم کر کے اونچ نیچ وچھوت چھات کا شکار بنایا جا رہا ہو ،جہاں ظلم و تشدد ، نا انصافی و بھید بھائو کی متعدد شکلیں اختیار کر لی گئی ہوں، اسلام کا نظام عدل و رحمت انسانوں کے لیے اپنے اندر بے پناہ اپنائیت و کشش رکھتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ مسلم بادشاہوں و حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے انہی راستوں کو اختیار کیا جو اس ملک میں پہلے سے رائج تھے۔ ان کی حکومت اور ایوانوں میں بھی اعلیٰ ذاتوں کو پذیرائی حاصل ہوئی ۔ ظلم وبربریت اور چھوت چھات کا شکار مظلوم و پسماندہ طبقہ اسی ذلت و پستی کا شکار رہا۔ البتہ اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور سماج کے گرے پڑے انسانوں کو گلے لگانے کاکوئی کام اگر ہوا تو وہ صوفیاء کرام و اولیا ء اللہ کی کو ششوں کا نتیجہ تھا۔ ان کی کوششوں سے یقیناً ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔تاہم ان نو مسلمین کی تعلیم و تربیت پر خاطر خوا ہ توجہ نہیں کی جاسکی ۔ لہٰذا حق کے ساتھ باطل، توحید کے ساتھ شرک و توہم پرستی کی تصورات بھی چلے آئے۔ماضی کا تذکرہ صرف احتساب و جائزہ اور اصلاح و تدارک کے لیے کیا گیا ہے۔ اب بھی اگر مسلمان اسلام کی تبلیغ و اشاعت ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ، عدل وقسط کے قیام اور ظلم و جاہلیت کے تدارک کے لیے کمر بستہ ہو جائیں اور اپنے اس دائمی فریضہ کی ادائیگی کو اپنا نصب العین بنالیں اور مسلم تنظیمیں  منصوبہ بند طریقہ پر دعوت دین کے کام پر توجہ دیں توحالات میں بنیادی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کا غیر مسلم معاشرہ مذہب بیزار اور ملحد نہیں ہے ۔ ایک خدا کا تصور چاہے شرک و بت پرستی کی کتنی ہی دبیز پردوں میں ڈھکا ہو ، ان کی فطرت اور عقیدہ کا خاصہ ہے۔ اونچ نیچ و چھوت چھات کے تصور ات کو چاہے مذہبی لبادہ اوڑھا دیا گیا ہو ، نا پسندیدہ اور ظالمانہ ہی سمجھے جاتے ہیں۔دلت و پسماندہ طبقہ میں بھی اب سماجی برابری کی مانگ و طلب بڑھتی جارہی ہے ۔یہ اور بات ہے کہ وہ اسے سیاسی وقومی کش مکش کے ذریعہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اگر اسلام کے نظام رحمت ، ایک خدا اور ایک انسان کے اعلیٰ تصور ات کو اہل ملک کے سامنے حکمت و تدبر کے ساتھ پیش کیا جائے، سماج کے ان دبے کچلے انسانوں کو مسلمان اپنے گلے لگا لیں اور توقیر انسانیت کی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات واقدارکا اپنے طرز عمل سے مظاہرہ کریں تو یہ پوراپس ماندہ غیر مسلم معاشرہ اسلام کے دامن رحمت میں جوق در جوق چلا آئے گا۔ہندوستان کے غیر مسلم معاشرہ میں خدا کی بھگتی، روح کی آسودگی اور نجات و کلیان کی راہ اختیار کرنے کی خواہش اتنی ابھری ہوئی ہے کہ وہ اس کے لیے اپنا سب کچھ مندروں ، مٹھوں، جعلی بابائوں، سادھوئوں و سنتوں پر نچھاورکردیتے ہیں۔ ان کے سامنے شرک و بت پرستی کے مقابلے آخرت کے اجر و سزا کا تصور اور اوتارواد کے مقابلہ رسالت کا قابل عمل و تقلیدکا نمونہ پیش کیا جائے تو کوئی عجب نہیں یہ سرزمین بھی اسلام کے چشمہ سے سیراب ہو جائے ۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ میں جو غیر اسلامی و جاہلی تصورات راہ پا گئے ہیں انہیں نکالا جائے۔ مسلمان دوسروں کو تو اسلام کی طرف بلائیں اور خود ایسا طرز عمل اختیار کریں جو اسلام کے منافی ہو تو اس کا الٹا اثر ہوگا۔

۲۔ملک کی تعمیر اور عام انسانی مسائل میں دلچسپی و شرکت

اگر ہم گزشتہ ۷۰ سالوں میں مسلمانوں کے اجتماعی طرز عمل کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آئے گی کہ :۔

۱۔مسلمان، ہندوستانی معاشرہ اور عام انسانوں سے الگ تھلگ اپنی دنیا میں محصور ہو گئے ہیں

۲۔ ان کی پوری تگ و دوملت کے تحفظ و دفاع تک محدود ہو گئی ہے۔

۳۔ سیاست میں بھی ان کی شرکت چند گنے چنے مطالبات تک محدود ہے۔

انتخابی سیاست میں ان کے ایجنڈے کے نکات ہیں:۔ملت کی جان و مال و عزت و آبرو کاتحفظ ، مسلمانوں کے تشخص و شعائرکا تحفظ، ان کے دینی و عصری تعلیمی اداروں کی بقا وتحفظ ، ان کے پرسنل لا اور اوقاف کا تحفظ ، دستور ہند میں دئے گئے حقوق کی دہائی وغیرہ۔مسلمانوں کے اس اجتماعی طرز عمل سے برادران وطن میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو ملک و انسانی سماج کی تعمیر سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ صرف ملک کے وسائل میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔

ان ۷۰ سالوں میں ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کئی منصوبے بنے، پالیسیاں بنیں اور قانون وضع کیے گئے لیکن مسلمانوں کے کسی رہنما ودانشورنے مسلمانوں کی کسی تنظیم وادارے نے نہ تو عملاً اس میں شرکت کی اور نہ ہی اپنی طرف سے کوئی منصوبہ و خاکہ پیش کیا۔اس دوران ملک کی تعلیمی پالیسی میں نئے نئے تجربات کیے گئے ، لیکن مسلمانوں کے ماہرین تعلیم کو اگر کوئی دلچسپی تھی تو بس اتنی کہ اردو بحیثیت میڈیم یاایک اختیاری مضمون کے باقی رہے،دینی تعلیمی اداروں کے نظام تعلیم کو نہ چھیڑا جائے ، عصری تعلیمی اداروں کے لیے دستور ہند کی دفعہ29 اور30میں در اندازی نہ کی جائے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اقلیتی کردار باقی رہے  وغیرہ وغیرہ ۔ پہلے ملک کی نظام تعلیم کو وضع کرنے میں سیکولر ، ملحد اور کمیونسٹ دانشور پیش پیش تھے تو اب ان کی جگہ ہندو فرقہ پرستوں و فسطائی عناصر نے لے لی ہے۔ اس وقت بھی ہم الگ تھلگ تھے اور اب بھی ہماری چیخ و پکار صرف اس حد تک ہے کہ نظام تعلیم پر زعفرانی رنگ نہ غالب آنے پائے۔

1992ء تک ملک کی اقتصادی پالیسیوں پر سوشلسٹوں کا غلبہ تھا ، نرسمہا رائو کے دور اقتدار میں اقتصادی پالیسیوں کا قبلہ ماسکو کے بجائے واشنگٹن کی طرف گھوم گیا، سوشلزم کی جگہ سرمایہ دارانہ نظام نے لے لی۔نہ پہلے مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار تھا اور نہ اب کوئی بے چینی و اضطراب ان میں پایا جاتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اسلام کے دیئے ہوئے اقتصادی نظام کو وہ خود دور جدید کے لیے ناقابل عمل تصور کرتے ہیں۔۱۹۹۲ء تک ناوابستگی، استعماری ممالک سے دوری ، اسرائیل کے مقابلے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت ، مسلم ممالک و پڑوسی ملکوں سے بہتر ودوستانہ تعلقات وغیرہ ہمارے خارجہ پالیسی کے ابھرے ہوئے نکات تھے۔ ۱۹۹۲ء میں ہماری خارجہ پالیسی نے یو ٹرن لے لیا، ناوابستہ ممالک کی تحریک کے مقابلے ہم نے بھی استعماری ممالک کی حاشیہ برداری کا رویہ اختیار کر لیا، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے ( جو اب بڑھ کر حساس معاملوں تک جا پہنچے ہیں) فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت اب برائے نام ہی رہ گئی۔ لیکن نہ پہلے خارجہ پالیسی کی تشکیل میں ہماری کوئی شرکت رہی اور نہ ملک کی بدلی ہوئی خارجہ پالیسی پر ہم نے کسی بے چینی و اضطراب کا مظاہرہ کیا۔

اس طرح ان ستر سالوں میں ملک کے مختلف طبقات و گروہوں نے طرح طرح کے مسائل کا سامنا کیا۔ مزدور پریشان ہوتے رہے ، کسانوں نے بڑے پیمانے پر خود کشیاں کیں، دلتوں وا ّدی باسیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایاگیا ۔ ملک کی دیگر اقلیتیں بھی مصائب و آلام کا شکار ہوئیں(سکھ و عیسائی وغیرہ)، ملک کی آدھی آبادی یعنی خواتین اپنی عفت و عظمت اور حقوق کے لیے پریشان ہوتی رہیں۔ملک کو غربت و بے روزگاری ، جہالت وپسماندگی ، فحاشی و عریانی، ظلم و تشدد ، ریاستی تشدد و دہشت گردی جیسی لعنتوں نے اپنے حصار میں لے لیا۔لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ہم اس پوری صورت حال سے الگ تھلگ صرف اپنا ہی راگ الاپتے رہے ۔اس طرز عمل نے مسلمانوں کو ایک مطالباتی قوم میں تبدیل کر دیا۔جسے ملک اور عام انسانی سماج کے مصائب و آلام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اسے صرف مسلمان ہی اس ملک میں مظلوم و مقہور نظر آئے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اس طرز عمل کی اصلاح کریں۔ انہیں بڑھ چڑھ کر ملک کی تعمیر اور عام انسانی سماج بطورر خاص سماج کی کمزور و پس ماندہ طبقات اور ریاست کی پالیسی و فیصلوں سے متاثر افراد و گروہوں کے مسائل میں عملی دلچسپی لینی چاہئیے ۔ اس کام کے لیے حسب ضرورت انہیں ادارے بھی بنانے چاہئیں اور سول سوسائٹی موومینٹ کی کو ششوں میں تعاون بھی کرنا چاہئے۔ ملک کی پالیسی سازی اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے لیے تمام جمہوری اور ادارہ جاتی کوششوں میں انہیں شامل ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں انہیں اسلام کی رہنمائی و ہدایات کو بطور خاص پیش نظر رکھنا چاہئے۔ بالخصوص تعلیم و صحت ، اقتصادی و خارجہ پالیسی کے تعلق سے اسلام کے نقطہ نظر کو بطورمتبادل ملک کے سامنے پیش کرنا چاہئے۔

۳۔ دلتوں ،آدی باسیوں اور پس ماندہ طبقات کے ساتھ مشترکہ کوششیں (ALLIANCE)

ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں ایک طرف مسلمان، دلتوں، آدی باسیوں اور پس ماندہ طبقات کے ساتھ ہونے والے مظالم اور امتیاز پر آواز اٹھائیں وہیں دلتوں، آدی باسیوں اور پس ماندہ طبقات کی الگ الگ ذاتوں کے ساتھ میثاق مدینہ کے طرز پر  مشترک ہیئت بنائیں۔ جس میں یہ بات پیشِ نظر ہو کہ وہ ہر قسم کی ظلم و زیادتی ، حق تلفی و نا انصافی کے مقابلے کےلیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ مسلمان پورے طور پر  ان طبقات کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی پابندی کریں، اس سے کم از کم نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کےنادان عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ان طبقات کو بطور آلہ کار استعمال کرنا بند ہو جائیگا۔

۴۔ہندوتوا ور ہندو فرقہ پرستوں سے نظریاتی سطح پر مقابلہ

ہندو فرقہ پرستوں کی پوری کوشش ہے کہ ملک میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو جائیں۔اس طرح وہ ایک تیر سے دو شکار کر نا چاہتے ہیں۔ ہندو مسلم صف بندی کا انتخابی سیاست میں فائدہ حاصل کرنا اور دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کو اپنے تحفظ و دفاع تک محدود کر کے اقدامی و تعمیری منصوبوں سے ہٹا دینا۔اس سے جہاں وہ ایک طرف ہندوئوں میں ایک عارضی اتحاد پیدا کر کے ان کی توجہ اصل مسائل یعنی سماجی نا انصافی ، غربت ، بے روزگاری سے ہٹانا چاہتے ہیں وہیں وہ ہندوئوں کو اسلام اور مسلمانوں سے بر گشتہ کر کے انہیںاسلام کے حیات بخش پیغام سے دور رکھنا چاہتے ہیں تا کہ ہندو سماج پر اعلیٰ ذاتوں بالخصوص برہمنوں کی بالادستی برقرار رہ سکے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اس سازش کو ناکام بنادیں ۔ ان کی پوری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ملک میں فرقہ وارانہ خطوط پر ملکی سماج کے مختلف عناصر باہم متصادم نہ ہونے پائیں۔ مسلمانوں کو حتی الامکان اشتعال انگیزی اور نفرت آمیز پروپیگنڈا مہم سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ محلوں اور شہروں کی سطحوں پر ہندوئوں کے انصاف پسند ، خیر پسند اور صلح جو افراد کو ساتھ لے کر سدبھائونا ، اتحاد و یکجہتی اور امن و خیر سگالی کے لیے کمیٹیاں اور گروپ تشکیل دئیے جائیں جو ہر قسم کے فرقہ وارانہ تنائو اور کش مکش کے تدارک کے لیے ہمہ وقت مصروف رہیں۔دوسری جانب مسلمانوں کی یہ کوشش ہونی چاہئیے کہ ہندوتوا، ہندوراشٹر اور راشٹر واد اور ہندو قومیت کے نعروں کا مقابلہ جذباتی نعروں کے بجائے نظریاتی سطح پر کیا جائے۔اس سلسلہ میں آر ایس ایس اور اس کے نظریہ کی مخالفت میں کام کرنے والے برادران وطن کے افراد و گروپوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔

۵۔انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی شرکت

انتخابی سیاست میں مسلمانوں کی شرکت صرف اپنے تحفظ و دفاع تک محدود رہی ہے۔ ہم ایک مطالباتی گروہ بن گئے ہیں ۔ مسلمانوں کو از سر نو اپنا انتخابی ایجنڈا تشکیل دینا چاہیئے، جو اقدار پر مبنی سیاست ،عدل و قسط کی بنیاد پر ملک کی تعمیر نو اور انسانی سماج کو مصائب و مشکلات سے نجات دلانے کے لیے ہو۔ مسلمانوں کے درمیان ایسی پارٹی یا پارٹیاں تشکیل دی جائیں جو مذکورہ بالا ایجنڈا کے ساتھ انتخابی سیاست میں حصہ لیں۔ مسلمان کو موجودہ سیاسی پارٹیوںکا حصہ نہیں بن جانا چاہیئے بلکہ وہ اپنی بھی جو بھی پارٹی یا پارٹیاں بنائیں وہ صرف مسلمانوں کی حد تک نہ ہوں بلکہ اس میں غیر مسلموں کی شرکت بھی ہو اور اس کا ایجنڈا پورے ملکی سماج پر محیط ہو۔کانگریس اور بی جے پی کے بجائے نظام کے مظلوم ذات پات کے عناصر کی امپاورمنٹ کےلیےسرگرم کی پر مبنی سیاسی پارٹیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ہمیں مستحکم کرنا چاہئے۔ سماج کے کمزور طبقات اور گروہوں میں اقتدار میں شرکت کا جو جذبہ پیدا ہوا ہے اسے درست قرار دینا چاہئے۔ البتہ ہماری یہ کوشش بھی رہنی چاہئے کہ بی جے پی اور آرایس ایس مذکورہ  بالا  پارٹیوں کو اپناآلہ کار نہ بنانے پائیں۔ ذات پات  کے مظالم کے شکار مظلوم طبقات کی حامی   پارٹیوں اور علاقائی پارٹیوں کا اگر کوئی متحدہ پلیٹ فارم بن سکے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔

۶۔امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور عدل و قسط کا قیام

مسلم تنظیموں کو ملک میں بھلائیوں کو پھیلانے ، برائیوں کو مٹانے ، ظلم و نا انصافی اور امتیازات کے خاتمہ اور عدل و قسط کے قیام کے لیے غیر مسلموں کے ساتھ مشترکہ جد وجہد کرنی چاہئے۔سماج میں پھیلی ہوئی ایسی برائیوں کی نشاندہی کی جائے جو مشترکہ نوعیت کی ہوں، جس کا شکار ہندو بھی ہوں اور مسلمان بھی جیسے جہیز و تلک کی لعنت، جوا ، سٹہ، سودی کاروبار، شراب و دیگر منشیات، ذات پات پر مبنی انسانی تفریق کا ظالمانہ نظام ، ڈھونگی بابائوں اور جعلی صوفیوں و سنتوں کے گھنائونا کاروبار وغیرہ۔ سی طرح ظلم و جاہلیت کی تمام شکلوں کی خلاف ہمیں تحریک چھیڑنا چاہئے: جیسے خواتین کا استحصال اوران پر ہونے والے مظالم، بچہ مزدوری، بندھوا مزدوری، کسانوں اور مزدوروں کااستحصال ، حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے ایسے ظالمانہ قوانین جو بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا ذریعہ بنتے  ہوں۔ Taxation کے  ظالمانہ قوانین اور چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو نقصان پہنچانے والے سرکاری فیصلے اور ضابطوںکے خلاف ہمیں مشترکہ جدو جہد کرنی چاہئے۔ اسی طرح ملٹی نیشنل کمپنیوں اور کارپوریٹ کے حق میں کئے جانے والے ایسے معاہدے اور قوانین جو ملک میں چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کی پامالی اور نقصان کا سبب بنتے ہوں ان کی مخالفت کی جانی چاہئے۔ملک میں ایسے اقتصادی پالیسیوں کی حمایت کی جائے جو وسائل کی منصفانہ تقسیم پر مبنی ہوں ، سیاسی سطح پر ایسی جمہوریت کی تائید و حمایت کی جائے جو شمولیاتی جمہوریت پر مبنی ہواور سماج کے ہر طبقہ و گروہ کی حصہ داری کو یقینی بناتی ہو۔ ہمیں موجودہ  FTPT نظام کے بمقابل متناسب نمائندگی (Proportional Representation)  کی حمایت کرنی چاہئے۔ملک میں ایک فلاحی ریاست اور تہذیبی وفاق پر مبنی نظام کے قیام کے لیے ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ محسن انسانیت نے انہیںخیرالناس من ینفع الناس کا نسخہ کیمیا عطا کیا ہے۔ ہمیں انسانوں کے لیے نفع بخش اور فائدہ مندثابت ہونا چاہئے۔

۷۔امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق

مسلمانوں میں اختلاف و انتشار کی ہر وہ کوشش ،چاہے وہ مسلک کی بنیاد پر ہو یا ذات برادری کی بنیاد پر اس کی ہمت شکنی کی جائے ۔اس کے بر عکس پوری امت کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے پر ہماری توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔ ضمنی اور فروعی اختلافات کو گوارا کرنا چاہئے ۔ فقہی مسالک کو فرقہ بندی اور اختلاف کا سبب نہیں بننے دینا چاہئے۔مسلمانوں کے اجتماعی اداروں جیسے مسلم پرسنل لا بورڈ، مشاورت و ملی کونسل کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا کرنے اور مستحکم کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ مختلف ملکی و ملی امور میں مسلم تنظیموںکومشترکہ بیانات و اپیلیں جاری کرنی چاہئیں۔

دسمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau