ہندوستانی مسلم معاشرہ اور تحریک اسلامی

ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس

(یہ مقالہ اجتماع ارکان حیدرآباد منعقدہ دسمبر 2015میں پیش کیا گیا تھا)

یہ حقیقت ہم سب پر عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنی بندگی اور اطاعت کے لئے پیدا کیاہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ‘‘ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی اور عبادت کریں، انسانوں کی ہدایت کے لئے اس نے اپنے انبیاء بھیجے اور اپنی کتابیں اتاریں ۔ اس سلسلہ ہدایت کی آخری کڑی بنی کریم ﷺ ہیں۔ آپ پر دوہری ذمہ داری عائدکی گئی ۔ ایک یہ کہ اپنی زندگی میں دین کو مکمل شکل میں غالب کردیں۔

ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۝۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ(سورہ صف)

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کر دے چاہے، یہ بات مشرکین کو کتنی ہی ناگوار گزرے۔ ‘‘

اللہ کے رسولؐ نے 23سال کی قلیل مدت میں یہ کارنامہ کر دکھایا۔ چونکہ یہ دین اب قیامت تک کے انسانوں کے لئے واحد راہ نجات ہے ۔’’ ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘۔لہذا نبی کریم ﷺ پر دوسری ذمہ داری یہ عائد کی گئی کہ ایک ایسی امت کو تیار کردیں جو آپ کے بعد قیامت تک انسانوں کی راہ راست کی طرف رہنمائی کرتی رہے اور دین کے غلبہ وقیام کے لئے مسلسل کوشاں رہے۔

امت مسلمہ اپنے منصب اور مقام کے لحاظ سے امامت اور رہنمائی کے منصب پر فائز ہے ۔ تمام انسانوں کے سامنے حق کی گواہی دینا ، خیر کی طرف بلانا، معروف کا حکم دینا اور منکر سے روکنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ عدل وقسط کا قیام اور دین کی اقامت اس کا نصب العین قرار پایا۔ اسی طرح ایک ایسا دین اسے عطا کیا گیا جوایک مکمل نظام زندگی ہے اور اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اسلام کے تابع لے آئے ۔’’اُدْخُلُوْ فِی السِّلْمِ کَافَّہ‘‘ ۔

اس طرح امت کو اس امر کی بھی تلقین کی گئی کہ وہ اجتماعی زندگی گذارے ۔ سمع وطاعت کااس کا اپنا ایک مضبوط نظام ہو وہ فرقوں اور ٹولیوں میں نہ بٹ جائے ’’ وَاْعَتَصَمُوْابِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوا‘‘۔

ہندوستانی مسلمان

مذکورہ بالا نصب العین اس کے تقاضوں اوردیگر الٰہی ہدایات کی روشنی میں جب ہم ہندوستانی مسلم معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو چند باتیں بطور خاص کہی جاسکتی ہیں۔

(1)۔   ادھر چند سالوں سے مسلمانوں کی دین سے رغبت میں اضافہ ہوا ہے ۔ان کے ایمان میں تازگی آئی ہے ۔وہ اسلامی شعائر کو اختیار کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں ۔ نئی نسل میں بطور خاص خود اعتمادی اور بیداری پیدا ہوئی ہے ۔تمام تر حوادثات ، مصائب وآلام کے باوجود ان کا رشتہ اپنے دین سے نہیں کٹا۔ اسلامی شریعت کو پامال کرنے اور اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی ہر کوشش کا انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ۔  یہ بات بھی باعث طمانیت ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اسلام ہی واحد قابل قبول نظام حیات اور راہ نجات ہے۔ مذکورہ بالا خوش آئند پہلو ؤں کے باوجود مسلم معاشرہ کے متعدد پہلو ایسے ہیں جو باعث تشویش ہیں۔

(2) مسلمانوں کی حالت کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ انھیں اپنے منصب کا شعور نہیں ہے۔ انھیں اپنا نصب العین یاد نہیں رہا وہ یہ بھول گئے ہیں کہ وہ امت وسط ہیں اور حق کی شہادت ان کا بنیادی کام ہے اور یہ کہ تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے انھیں کھڑا کیا گیا ہے ۔ اس غفلت نے انھیں بھی دنیا کی دوسری قوموں کی طرح ایک قوم بنا دیا ہے۔ فریضہ شہادت حق کی ادائیگی سے کنارہ کشی نے انھیں اپنے ارد گرد کے سماج سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔

(3)مسلمانوں کی زندگی کا دوسرا قابل تشویش پہلو یہ ہے کہ وہ دین کا ایک محدودتصور رکھتے ہیں۔وہ انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر اسلام کی تعلیمات اور اس کے تقاضوں سے غافل ہیں۔کسی اعلیٰ  وارفع مقصدکی عدم موجودگی اور اپنے نصب العین سے غفلت کا نتیجہ ہے کہ ان میں مسلکی اختلافات اورگروہی عصبیتوں نے گھر کر لیا ہے ۔ وہ ایک امت بننے کے بجائے مختلف طبقوں میں بٹ گئے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتیں ان میں مسلکی اختلافات اور گروہی وطبقاتی عصبیتوں کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ مقصد کی عدم موجودگی نے ان میں متعدد اخلاقی کمزوریاں بھی پیدا کردی ہیں۔ ان کے اندر بے سمتی اور بے راہ روی درآئی ہے۔ وہ انتشار وتفرقہ بازی کا شکار ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں کی مخالفت اور دشمنی نے ان میں مایوسی اور قنوطیت پیدا کر دی ہے۔ مادہ پرستی اور دنیا وی آسائشوں کاحصول ان کا وطیرہ حیات بن گیا ہے ۔

(4)مسلمانوں کے بارے میں ایک اور بات بلا خوف وتردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ سیاسی طور پر بے وزن اور بے وقعت ہوگئے ہیں۔ وہ ملکی سماج کا ایک غیر مفید عنصر بن گئے ہیں۔ انھیں عام انسانی سماج کی مشکلات ومصائب سے کوئی سروکار نہیں رہا بلکہ اپنے حقوق کا تحفظ ہی ان کا بنیادی نصب العین قرار پایا ہے ۔ ان کا سیاسی ایجنڈا تحفظ ودفاع تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ جس نے انھیں ایک مطالباتی قوم بنا دیا ہے اورمسلمانوں کے بارے میں یہ تصور عام ہوگیا ہے انہیں اپنے تہذیبی تشخص کو برقرار رکھنے اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ حاصل کرنے سے زیادہ کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ہے۔

(5)اس کا نتیجہ ہے کہ ملکی سماج کی تشکیل وتعمیر کی ہر کوشش سے مسلمانوں نے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے، فکر ی اور عملی دونوں سطحوں پر ان کی شرکت برائے نام ہے۔ اس بے نیازی اور عدم شرکت کی وجہ سے زندگی کے کسی بھی میدان میں ان کی کوئی اہمیت محسوس نہیں کی جاتی۔ ملک کی پالیسی سازی میں ان کا کوئی مقام نہیں ہے۔ ملک کے سیاسی تغیرات میں ان کی حیثیت مہرے کی بن گئی ہے، صنعت وتجارت میں ان کا کوئی نمایاں مقام نہیں ہے اور نہ ہی سماج سدھار اور اصلاح معاشرہ کے تعلق سے ان کی کوئی نمایاںکاوش اہل ملک کے سامنے نہیں ہے۔ علمی مباحث میں بھی عملََا ان کی قابل ذکر شرکت نظر نہیں آتی۔

تحریک اسلامی

قرآن مجید کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حالات چاہئے کتنے ہی دگرگوں کیوں نہ ہوجائیںاگر امت بحیثیت مجموعی اپنے فریضہ شہادت حق ، امربالمعروف ونہی عن المنکر کی ادائیگی سے غافل ہوجائے تو کم از کم ان میں ایک گروہ تو ایسا ضرور ہونا ہی چاہئے جو مذکورہ بالا امور کی انجام دہی کے لئے میدان میں موجود رہے۔

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ’’تم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ضروررہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں، بھلائیوں کا حکم دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں، جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔‘‘ (سورہ آل عمران 104)۔

تحریک اسلامی ہند دراصل اسی ضرورت کی تکمیل کا دوسرا نام ہے ۔لیکن تحریک امت کا متبادل یا اس کی قائم مقام نہیں ہے بلکہ وہ اُمت کی ایک اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔تحریک کے پیش نظر دواہم کام ہیں۔ پہلا کام یہ ہے کہ وہ امت کی رہنمائی کرے اس کی تربیت کرے اور اس کو دو بارہ اس کے اصل منصب ومقام پر بحال کرنے کی کوشش کرے یعنی امت کی نشاۃ ثانیہ۔ اسی طرح مسلمانوں میں اسلامی اجتماعیت پیدا کرکے انھیںایک امت واحدہ اور بنیان مرصوص کے مقام پرفائز کرنابھی اس کی ایک اہم ترین ذمہ داری ہے۔دوسرا اہم کام جو تحریک اسلامی کو انجام دینا ہے وہ یہ ہے کہ جب تک امت اپنے منصب اور حقیقی مقام پرفائز نہیں ہوجاتی تحریک کو  امت  کے ان تمام کاموںکو حتی الوسع انجام دینا ہے جو امت کی منصبی ذمہ داریاں ہیں ۔ یعنی شہادت حق دعوت الی اللہ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، عدل وقسط کا قیام اور بحیثیت مجموعی دین کے قیام کی جد وجہد ۔

امت کی نشاۃ ثانیہ کا کام کافی وسیع الاطراف اور ہمہ جہت نوعیت کا ہے جیسے ہم پانچ حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔

1۔   تحفظ امت ،2۔  اصلاح امت،3۔  تعمیر امت، 4۔تنظیم امت ،اور 5۔احیاء امت۔

جماعت اسلامی کی میقاتی پالیسی وپروگرام کا جائزہ ہم کو بتاتا ہے کہ جماعت نے ان تمام کاموں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کر رکھا ہے ۔

تحفظ امت:۔ تحفظ امت سے مرادیہ ہے کہ ملت کی جان ومال ، دین وایمان ، شعائروپرسنل لا کا تحفظ ہو۔اس کے اداروں (بالخصوص دینی وعصری تعلیمی اداروں ) پر ہونے والے حملوں کا دفاع کیا جائے ۔ اس کے حوصولوں اور اعتماد کو ٹوٹنے نہ دیا جائے ۔ جماعت کی  تاریخ شاہد ہے کہ جماعت نے اس سمت میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔موجودہ پالیسی کے یہ الفاظ اس کی وضاحت کرتے ہیں’’ جماعت مسلمانوں کی جان ومال کے تحفظ، ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت ، نوجوانوں پر ہونے والے مظالم کے ازالے اور ملت کی دینی وتہذیبی تشخص کی بقا کے لئے کوشش کرے گیــ‘‘۔

اصلاح امت: اصلاح امت کے متعدد پہلو ہیں۔ عقیدہ کی اصلاح، فکر وعمل کی اصلاح ، تصور دین کی اصلاح ،رسوم ورواج کی اصلاح۔

جماعت کے پالیسی پروگرام کے یہ الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ ملت کی اصلاح کا کام ہمیشہ جماعتی سرگرمیوں میں سرفہرست رہا ہے۔ ’’ جماعت امت کے درمیان اسلام کے صحیح اور جامع تصور نیز انفرادی واجتماعی زندگی میں اس کے تقاضوں کو حکمت کے ساتھ اس طرح واضح کرے گی کہ مسلمانوںکے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس ، رضائے الٰہی کی طلب اور محبت واطاعت رسول ﷺ کا جذبہ بیدار ہو۔ مسلمانوں کا معاشرہ اور ان کے سماجی ، تعلیمی اور رِفاہی ادارے اسلامی قدروں کے آئینہ دار ہوں ، ان کی زندگیاں فکر وعمل کی خرابیوں اور شرک وبدعت کی آلائشوں سے پاک اور اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہوں، ان میںا پنے خیر امت ہونے کا شعور پیدا ہو، وہ دینی بنیادوں پر متحد ہو کر شہادت حق کا فریضۃ انجام دے سکیں اور اقامت دین کے  اپنے نصب العین کے تقاضے پورے کرسکیں‘‘۔

جماعت نے اسلام کے حر کی تصور اور اس کے ایک مکمل نظام زندگی ہونے  کو پوری قوت کے ساتھ واضح کیا ہے۔

تعمیر امت:۔  تعمیر امت سے مراد یہ ہے کہ ملت کی تعلیمی پسماندگی دور ہو اور اس کی معاشی بدحالی کا مداوا ہوسکے۔ جماعت کے پالیسی وپروگرام کے الفاظ میں ’’ جماعت کی یہ بھی کوشش ہوگی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ،تعلیم ،معیشت اور صحت عامہ کے محاذوں پر امت ترقی کرے ۔ اس جانب مسلمانوں کو بھی اجتماعی جدوجہد پر آمادہ کیا جائے گا‘‘۔

جماعت کی تاریخ گواہ ہے کہ اس میدان میں بھی جماعت نے حتیٰ المقدور کام کیا ہے اور حالیہ دنوں میںاس جانب زیادہ منصوبہ بند تو جہ کی گئی ہے ۔

تنظیم امت:۔  تنظیم امت سے مراد یہ ہے کہ ملت میں حقیقی اجتماعیت پیدا ہو اور ان اجتماعی اداروں کو بحال کیا جائے جو اجتماعیت کے لئے ناگزیر ہیں اور جو دین کا اہم ترین تقاضہ بھی ہیں۔ اس پہلو سے جماعت نے اول روز ہی سے اس ملک میں مسلمانوں کو اجتماعی زندگی گذارنے پر آمادہ کیا ۔ مسلم مجلس مشاورت کا قیام ہویا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تشکیل اور ان اداروں کے ذریعہ ہونے والی کوششیں جماعت کا رول کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس طرح ملت کے اجتماعی اداروں میں نظام قضاکا قیام ، اجتماعی نظم زکواۃ اور مساجد کے حقیقی کردار کی بحالی بھی ملت کی اجتماعیت اور دین پر عمل درآمد کے لئے ناگزیر ہے۔ جماعت اپنی سطح سے ان اداروں کے قیام ، استحکام اور بحالی کے لئے کوشاں رہی ہے ۔جماعت کا پالیسی پروگرام بھی اس پہلو سے جماعت کے ارکان وکارکنان کی رہنمائی کرتا ہے مثلا موجودہ پالیسی وپروگرام کے تحت پالیسی کے تقاضوں کے ذیل میں کہا گیا ہے ۔

1۔   مساجد مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کا مرکز بنیں اور اس کام کی طرف ائمہ اور ذمہ داران مساجد متوجہ ہوں۔

2۔  اصلاحی کمیٹیوں ، شرعی پنچایتوں اور دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

3 ۔   زکواۃ وعشرکے اجتماعی جمع وصرف  کے نظم پر مسلمان آمادہ ہوں۔

احیائے امت :۔   اللہ تعالیٰ نے  اس امت کو ایک عظیم الشان ذمہ داری سپرد کی ہے کہ وہ اس دین کو انسانوں تک پہنچائے، حق کی شہادت دے ، معروف کا حکم دے، منکر سے روکے اور عدل وقسط کا وہ نظام قائم کرے جو اس نے اپنے پیغمبروں پر نازل فرمایا ۔ امت کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر خدائی ہدایت کی امین ہے ۔ اس حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ خود اس خدائی ہدایت پر کاربند ہو اور ودسری طرف انسانوں کو راہ راست دکھائے اور ان کے سامنے حق کی گواہی دے ۔ اس وقت امت مسلمہ رہنمائی کے اس مقام سے عملا دستبردار ہوچکی ہے اور ایک بے سمت وپس ماندہ گروہ بن کر رہ گئی ہے۔ امت کی اس غفلت کے مضر اثرات پوری انسانیت پر پڑے ہیں اور انسانی قافلہ راہ راست سے بھٹک گیا ہے۔ امت کے حقیقی کردار کی بحالی وقت کا اہم ترین تقاضا ہے ۔ امت کو اس کے اصل مقام ومنصب پر فائز کرنا ہمارے کاموں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت کے پالیسی وپروگرام میں بہت صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ’’جماعت اسلامی ہند امت مسلمہ کو اپنے فکر وعمل اور اخلاق وکردار کے لحاظ سے خیر امت کے مقام پر دیکھنا چاہتی ہے ۔ جماعت کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کے سماج میں اسلامی ثقافت کے مظاہر نمایاں ہوں‘‘۔

جماعت کا پالیسی وپروگرام ، تحفظ امت ، اصلاح امت، تعمیر امت، تنظیم امت اور احیاء امت کا تفصیلی منصوبہ وپروگرام اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت اسلامی ہند تنہا اس عظیم الشان اور وسیع الاطراف منصوبہ کو اپنے موجودہ افراد ی وسائل اور مادی طاقت کی بنیادپر بروئے کار لاسکتی ہے یا اس سلسلہ میں اسے ملت کے سرگرم افراد اور دیگر جماعتوں اور اداروں کوبھی ساتھ لینا چاہئے ۔

حکمت کا تقاضا

جہاں تک اس منصوبہ کے پہلے چار اجزاء یعنی تحفظ  امت ، اصلاح امت، تعمیر امت اور تنظیم امت کا تعلق ہے مسلمانوں کی متعدد دینی وملی تنظیمیں اور ادارے جزوی طور پر یا کہیں کہیں کلی طور پر ان کی انجام دہی میں لگے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میدانوں میں تحریک اسلامی زیادہ توانائی صرف کرنے کے بجائے ان کوششوں کی رہنمائی تک خود کو محدود رکھے ۔ ملت کی ان کو ششوںکو تحسین کی نگاہ سے دیکھے، ان کی ہمت افزائی کرے اور تعاون علی البر والتقویٰ کی قرآنی ہدایت کی روشنی میں جہاں اور جس حد تک ممکن ہو ان کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرے ۔ اس سے مسلمانوں کی ان کوششوں میں بہتری آئے گی، ان کی ہمت افزائی ہوگی ، انھیں صحیح سمت سفر حاصل ہوگا۔ ہمارے بارے میں ان تنظیموں واداروں کے رویہ میں فرق آئے گا۔ وہ محسوس کریں گے کہ ہم ان کے حریف نہیں بلکہ حلیف ہیں ۔ اس طرح ہم کاموں کی غیر ضروری تکرار(duplication) سے بھی بچیں گے او راپنے وسائل کو دیگر اہم کاموںمیں لگاسکیں گے۔مثلا ہمیں از خود تعلیمی ادارے قائم کرنے کے بجائے ملت کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کے نظام اور معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے ۔ ہماری تعلیمی سرگرمیاں اسلام کی رہنمائی میں نصاب تعلیم مرتب کرنے، درسی کتب کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت تک محدود رہنی چاہئیں۔ ملک میں نظام تعلیم کی اصلاح اور قومی تعلیمی پالیسی وضع کرنے میں بھی ہمیں شریک ہونا چاہئے ۔تعلیمی اداروں کے قیام کا ہمارا اب تک کاتجربہ کوئی بہترتجربہ نہیں ثابت ہو اہے۔

اس وقت سب سے اہم مسئلہ اور وقت کی اہم ضرورت ملت کے اصل کردار کی بحالی ہے یعنی اسے خیر امت اور امت وسط کے مقام پر فائز کرنا ہے۔ لہذا امت کی نشاۃ ثانیہ اوراحیاء امت پر تحریک اسلامی کو زیادہ وقت ، قوت اور وسائل صرف کرنے چاہئیں۔ امت کو یاد دلانا چاہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے مشن کی  وارث ہونے کی حیثیت سے پوری انسانیت کی رہنمائی کے منصب پر فائز کی گئی ہے۔ خیر امت ہونے کی بِنا پر امر بالمعروف ونہی عن المنکر اس کا ہم ترین فریضہ ہے ، حق کی شہادت اور عدل قسط کا قیام اس کی بنیاد ی ذمہ داری ہے ۔

ہندوستانی معاشرہ:

ہندوستانی معاشرہ ایک تکثیری معاشرہ ہے ۔ اس معاشرہ کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، غربت، جہالت ، معاشی ناہمواری کسانوں کی خود کشی ، اونچ نیچ ، چھوت چھات، فحاشی وعریانی کا سیلاب ، عورتوں پر بڑھتے مظالم، ان کی عصمت وعفت کی پامالی، بچیوں کا مادر رحم میں قتل، مظالم کی کثرت ،نا انصافی ، کرپشن وبدعنوانی، قتل وغارتگری ، جرائم کی بھرمار، بکھرتے خاندان، صحت عامہ اور ماحولیاتی آلودگی وغیرہ یہ وہ مسائل ہیں جس نے ملک عزیز کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ان سب کے علاوہ فرقہ وارانہ منافرت، حکومت اور نیم حکومتی اداروں پر فسطائی وفرقہ پرست طاقتوں کے غلبہ اور سرمایہ دارانہ استعمار نے ملک کو دو لخت کر دیا ہے ۔ ان حالات میں اگر کسی گروہ سے توقع تھی کہ وہ ملک کو اس بدترین صورت حال سے نجات دلانے کے لئے جد وجہد کرے گا تو اسی خیر امت سے تھی لیکن یہ امت اپنے ہی چند گنے چنے مسائل میں گرفتار ایک مطالباتی گروہ بن گئی ہے اور دوسروں  کے سامنے دست سوال دراز کر رہی ہے ۔ جس نے اس کی سیاسی اور سماجی وقعت گھٹادی ہے۔

تحریک اسلامی جس ہمہ گیر تبدیلی کی داعی ہے، وہ ہمہ گیر فساد کے اس دور میں ایک ہی جست میں ممکن نہیں ہے بلکہ تدریجی پیش رفت کا تقاضہ کرتی ہے۔ اگر چہ اس ہمہ جہتی فساد کی جڑ خدائی ہدایت سے بے نیازی اور غفلت میں پیوست ہے لیکن حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ فرد اور سماج کو لاحق امراض کے علاج کو مؤخر نہ کیا جائے اور نہ کلی تبدیلی کے انتظار میں جزوی تبدیلیوں کو نظرا نداز کیا جائے ۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ ظلم وافلاس ، بے بسی اور استحصال کا سد باب ہر مسلمان کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے ۔ تحریک اسلامی کو ان مسائل کے ازالہ کے لئے ہر وقت سرگرم رہنا چاہئے۔ درست خطوط پر کی جانے والی کوشش اس امر کی غماز ہوگی کہ اسلام کے علمبردار فی الواقع انسانیت  کے بہی خواہ ہیں اور وہ یہ جذبہ رکھتے ہیں کہ اپنے سماج کو بہتر سماج میں تبدیل کر یں۔ دوسری جانب انسانی مسائل سے اگر تحریک اسلامی اور امت مسلمہ الگ تھلگ رہتی ہے تو اس کا یہ رویہ اس ا مر کا مظہر ہوگا کہ اسلام کی آفاقی قدروں کو خود اس کے علمبرداروں نے جذب نہیں کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہندوستان کے باشعور طبقہ کے درمیان ملکی سماج کی اصلاح اور تعمیر کے لئے جو مکالمہ ، بحث اور گفتگو جاری ہے، نیز اخبارات ورسائل، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا میں جو اظہار خیال ہو رہا ہے اس میں تحریک اسلامی اور مسلمانان ہند بھرپور حصہ لیں۔ ان مباحث کو صحیح رخ دیں اور پورے عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں اپنا بھرپور تعاون دیں۔اس وقت پورا ملک نظریاتی اعتبار سے قحط الرجال کا شکار ہے، تحریک اسلامی کو نظریاتی محاذ پر زیادہ قوت صرف کرنی چاہئے۔

اقامت دین ہمارا نصب العین ہے جس کی آخری منزل ریاست کی تشکیل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس آخری منزل کے حصول کی راہ میں جو درمیانی پڑاؤآئیں ان کا شعور بھی ہمیں ہو اور ہم واضح طور پر اپنے درمیانی اہداف متعین کر سکیں۔ حکمرانی (GOVERNANCE) سے شعوری پسپائی اور طاقت کے ذیلی مراکز سے دوری نے ہندوستانی مسلمانوں کو تعمیر وطن اور سماج کی اصلاح کےذمہ دار اہم اداروں سے استفادہ سے محروم کردیا ہے ۔ دیر ہی سے سہی تحریک نے اس ضرورت کو محسوس کیا ۔ایک طرف اس نے مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے تنظیمیں اور ادارے قائم کئےیا اُن کے قیام کی طرف توجہ دلائی۔ اور دوسری طرف اقدار پر مبنی سیاست ، اسلام اور مسلمانوں کے اہم مفادات کےتحفظ اور عدل وانصاف کے قیام کے لئے ایک منظم عوامی و سیاسی جد وجہد کا آغاز کر دیاہے۔ اسی طرح قوت کے ذیلی مراکز میں باشعور مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے بھی وہ کوشاں ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ وابستگانِ تحریک ان انقلابی فیصلوں سے واقف ہوں خود کو پوری طرح ہم آہنگ کریں، انہیں دینی رُخ دیں اور رضائے الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنائیں اخلاص وللہیت کے ساتھ کی جانے والی کوششوںکا بھرپور ساتھ دیں۔

اللہ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا کرےملکی حالات کو صحیح تناظر میں سمجھنے کی توفیق دے اجتہادی بصیرت کے ساتھ حالات کا رخ موڑنے اور صحیح خطوط پر امت کے احیاء اور ملکی سماج کی تشکیل کی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔

مشمولہ: شمارہ فروری 2016

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau