مرکز جماعت اسلامی ہند کی تاب ناک کرنیں

محمد جاوید اقبال

جماعت اسلامی ہند کے پہلے امیر مولانا ابو اللیث اصلاحیؒ منتخب ہوئے۔ اگرچہ مولانا سے ان کے پہلے دور امارت کے دوران کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ لیکن باقاعدہ ان کے دوسرے دور امارت میں تفصیل سے دیکھنے برتنے کا موقع ملا۔ مولانا ایک عظیم عالم دین، مفکر اور بہت سادہ طبیعت کے انسان تھے۔ ہر معاملے اور ہر شخص کو بڑی گہرائی سے دیکھتے، سوچتے اور رائے قائم کرتے۔ ان کی رائے بہت مستحکم اور فیصلے غیر متبدل ہوتے تھے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے وہ ابتدائی ممبر تھے۔ جب وہ امیر نہیں رہے تو اپنی صحت کی معذوری کی وجہ سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی کئی نشستوں میں شریک نہیں ہو سکے۔ بدر الدین طیب جی مرحوم جو علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہ چکے تھے وہ بھی بورڈ کے ممبر تھے۔ انھوں نے ایک بورڈ کے ممبر سے پوچھا مولانا ابو اللیث صاحب کیوں نہیں آ رہے ہیں وہ بڑے زیرک آدمی ہیں، ہر معاملے میں غور کرتے ہیں اور نئے نئے نکات نکال کر لوگوں کو قائل کر دیتے ہیں۔ مولانا مرحوم نے بڑے پر آشوب زمانہ میں ملت کی رہ نمائی کی۔ انھوں نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ جب تک دستور کی دفعہ ۴۴ موجود رہے گی پرسنل لا کی حفاظت ممکن نہیں ہے۔ چناں چہ یہ بات سچ معلوم ہو رہی ہے۔

مولانا جماعت کے بیت المال پر بڑی گہری نگاہ رکھتے، فرماتے یہ بیت المال گویا یتیم کا مال ہے۔ ایک مرتبہ شام کو حسب معمول چائے پی رہے تھے ، اتفاق سے مولانا کے سامنے چائے کے ساتھ بہت عمدہ لذیذ اور قیمتی بسکٹ پیش کیے گئے، مولانا نے ایک بسکٹ کھالیا، اس کے بعد ان کو کچھ ناگوار خاطر ہوا۔ انھوں نے فرمایا بلائیے عبد العظیم صاحب کو ۔چناں چہ عبدالعظیم صاحب جو سیکرٹری مالیات تھے تشریف لائے ۔مولانا نے فرمایا کہ اتنے مہنگے بسکٹ مہمانوں کے سامنے پیش کرنا اسراف ہے، آئندہ اس کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ انھوں نے فرمایا کہ مولانا! میرے کچھ خاص ذاتی مہمان آئے تھے ان کے لیے میں نے یہ بسکٹ اپنی جیب خاص سے منگوائے تھے۔ آپ تشریف فرما تھے اس لیے میں نے آپ کو بھی بھیج  دیے، ان کا بیت المال سے تعلق نہیں ہے، کیا میں نے کوئی غلطی کی ہے؟ مولانا نے فوراً فرمایا آپ نے غلطی نہیں کی ۔ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔

مولانا عام طور پر گرمی کے زمانے میں بعد عصر اپنے دفتر کے باہر ملاقات کرتے تھے۔ وقت اور وعدے کے نہایت پابند تھے۔ ہر نماز کے لیے گھر سے دس منٹ پہلے نکلتے۔ ایک مرتبہ ایک رفیق نے شادی کی دعوت دی۔ دعوت نامے پر وقت ساڑھے آٹھ بجے شب کا درج تھا۔ مولانا نے مرکز کے ایک رفیق سے پوچھا: کیا آپ کو بھی دعوت نامہ ملا ہے؟ جواب دیا گیا جی ہاں ملا ہے، تو کہا ہم ایک ساتھ آٹھ بجے روانہ ہوں گے۔ مولانا کو بتایا گیا کہ دہلی میں لوگ دیر سے آتے ہیں۔ مولانا نے جواب دیا ہمیں تو وقت پر جانا ہے۔ چناں چہ جب شادی میں پہنچے تو چند آدمیوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا بلکہ اہل خانہ بھی بعد میں آئے۔ مولانا نے جماعت سے عشاء کی نماز پڑھی، لوگوں سے گفتگو کی اور جب اہل خانہ تشریف لائے تو ان سے فرمایا بھائی! جو وقت لکھا ہے اس پر عمل کرنا چاہیے۔

مولانا بیت المال کے ایک ایک واوچر کو توجہ سے دیکھتے۔ ایک بار 400 روپےکا واوچر نظر سے گزرا جو سیکریٹری اشاعت اسلام ٹرسٹ کا تھا۔ ان کو بلایا گیا اور اس کی تفصیل معلوم کی گئی۔ سکریٹری صاحب نے بتایا مولانا! میں جس مکان میں رہتا ہوں وہ ٹرسٹ کا ہے اس کا دروازہ ٹوٹ گیا تھا۔ میں نے لگوا لیا۔ مجھے 1000تک کے واوچر پاس کرنے کا اختیار ہے۔ مولانا نے فرمایا یہ اختیار آپ کو اپنے سلسلے میں نہیں ہے۔ اپنے معاملے میں آپ کو مجھ سے اجازت لینا چاہیے تھی، خیر آئندہ خیال رکھیے۔ مولانا بہت باخبر رہتے۔ محمد مسلم صاحب ایڈیٹر سہ روزہ دعوت کو کہہ رکھا تھا کہ وہ روزانہ دفتر جانے سے پہلے ان سے ملاقات کرتے ہوئے جائیں۔ چناں چہ وہ روزانہ صبح بلا ناغہ تشریف لاتے اور اخبارات کی اہم خبروں کا خلاصہ بیان کرتے۔ جب مسلم صاحب بیمار رہنے لگے اور کافی دنوں تک اسپتال میں داخل رہے تب محفوظ احمد صاحب قائم مقام ایڈیٹر کو روزانہ بلاکر حالات حاضرہ سے آگاہی حاصل کرتے۔

فرقہ وارانہ فساد کے زمانے میں مولانا بڑے بے چین رہتے۔ مسلم اور غیر مسلم لیڈروں سے ملاقاتیں کرتے اور ریلیف کے کاموں کو منظم کرتے۔ فساد زدہ علاقوں کا وفود کے ساتھ دورہ کرتے۔ مسلم اور غیر مسلم دونوں سے ملتے۔ مسلم اور غیر مسلم دونوں کو ریلیف پہنچانے کا نظم کرتے۔ مسلم مجلس مشاورت میں مولانا مرحوم کا ایک بڑا رول ہے۔

ٹرین میں مولانا ہمیشہ آخری درجہ میں سفر کرتے اگر کبھی کسی نے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ لاکر دے دیا تو فوراً واپس کراتے۔ بر وقت فیصلہ لیتے۔ جماعت اور دیگر حضرات سے خندہ پیشانی سے ملتے۔ ملک ‏میں کوئی سنگین مسئلہ پیدا ہو جاتا تو اخبارات کو بر وقت بیان دیتے۔ بیان بڑے جچے تلے اور قانون کے دائرے میں دیتے۔

صبح کو کبھی کبھی فجر کی نماز کے بعد دفتر دعوت میں جاکر رفقا سے ملاقات کرتے اور نمازوں کی طرف متوجہ کرتے۔ مرکز کے ہر رفیق پر ان کی گہری نگاہ تھی۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی رفیق نماز باجماعت میں کوتاہی کرے۔

‏محمد مسلم صاحب سابق ایڈیٹر دعوت جب پہلی بار انٹرویو کے لیے بلائے گئے تو انھوں نے بہت سی معلومات حاصل کیں۔ انٹرویو کے بعد فرمایا کہ وہ گھر واپس جاکر جواب دیں گے کہ وہ آئیں گے یا نہیں۔ مولانا ابو اللیث صاحب نے ان سے فرمایا کہ اچھا صبح کا ناشتہ ہمارے ساتھ کریں پھر چلے جائیں۔ صبح کو محمد مسلم صاحب امیر جماعت کے گھر ناشتے کے لیے گئے۔ ناشتے میں باسی گرم کی ہوئی روٹی اور چائے تھی۔ بس مسلم صاحب وہیں ڈھیر ہو گئے، کہا اس مرد قلندر کے زیر نگیں کام کرنا سعادت ہے۔ اب میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ یہیں خدمت انجام دوں گا۔

مولانا ہر بات کو سوچتے، تولتے اور پھر بولتے تھے۔ ایک مرتبہ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے مولانا کو بلایا، مولانا تشریف لے گئے مولانا نے جماعت کی دعوت پیش کی۔ وہاں محمد مجیب مرحوم وائس چانسلر جامعہ ملیہ بھی موجود تھے۔ مجیب صاحب نے مولانا سے سوال کیا مولانا اگر پاکستان ہندوستان پر حملہ کر دے تو آپ کا کیا رد عمل ہوگا۔ مولانا نے قدرے ناگوار انداز میں جواب دیا کہ مفروضہ پر سوال نہیں کیا جاتا۔ اگر آپ کو اسی طرح سوال کرنے ہیں تو پہلے مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ سے مفروضے کو لے کر کچھ سوالات کروں۔ اندرا گاندھی نے مجیب صاحب سے کہا کہ ایسے سوال نہ کریں۔

مولانا کی طبیعت میں مزاح بھی تھا بلکہ غیر معمولی مزاح۔ جب مولانا کے ساتھ رامپور کا سفر ہوا تو مولانا اپنے قدیم دوست احباب سے بے تکلفی سے ملے اور بر محل لطائف سناتے رہے۔

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لیے

مولانا ابو اللیث صاحب کے پہلے پورے دور امارت میں قیم جماعت مولانا محمد یوسف تھے۔ بعد میں دو میقاتوں کے لیے امیر جماعت منتخب ہوئے۔ موصوف اردو زبان کے علاوہ بہت اچھی انگریزی بولتے اور لکھتے تھے اس کے علاوہ عربی زبان بھی خود ہی سیکھ لی تھی۔ عربی کے معلم کے چار پانچ حصے انھوں نے کلید کی مدد سے پڑھے اور ترجمہ کی مشق بھی کی تھی۔ اتفاق سے میری نظر ان کی مشقی کاپیوں پر پڑی جو ان کی لکھی ہوئی تھیں۔ مولانا سلمان ندوی مرحوم جو عربی ‘پندرہ روزہ الداعی’کے ایڈیٹر بھی رہے، ان سے مولانا یوسف صاحب عربی بولنے کی مشق کرتے۔ عربوں سے ان کے تعلقات بہت گہرے تھے۔ ایک مرتبہ موصوف نے فرمایا کہ سعودی عرب میں ایک دفعہ ایسا موقع آیا کہ مجھے یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرنے کا موقع ملا، میں نے اللہ کا نام لے کر عربی میں تقریر کی جو پسند کی گئی۔ مولانا کی رہائش ان کے دفتر کے کمرے کے اوپر تھی۔ ان کا ایک بیٹا اور اس کے بچے یعنی مولانا کے پوتے اور پوتیاں بھی وہاں رہتے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ کبھی یہ بچے مولانا سے آل پن یا گوند مانگنے آ جاتے، مولانا انھیں دے دیتے لیکن فوراً ایک دو روپے نکال کر الگ رکھ لیتے اور یہ معمولی رقم بیت المال میں جمع کراتے۔

ایک دفعہ وزیر اعظم اندرا گاندھی نے مولانا کو بلایا۔ وہ وہاں تشریف لے گئے ہم لوگوں نے واپسی پر مولانا سے پوچھا کہ وزیر اعظم سے کیا گفتگو ہوئی۔ مولانا نے بتایا میں نے محترمہ کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی اور کہا کہ میں نے تمھارے دادا موتی لعل نہرو کے ساتھ کام کیا ہے۔ وہ خاتون بڑی عقیدت سے ملیں میں نے ان کو Towards Understanding Islam کتاب دی۔ انھوں نے رکھ لی میں نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے سامنے کم سے کم ایک صفحہ پڑھ لیں۔ موصوفہ نے مجھے پڑھ کر سنایا میں نے کہا: I hope you will read the whole book ‘مجھے امید ہے کہ آپ پوری کتاب پڑھیں گی۔ ‘ انھوں نے اثبات میں جواب دیا۔ مولانا وزیر اعظم اور دیگر وزرا کو انگریزی میں خطوط لکھتے۔ کوئی بھی خوشی یا غم کاموقع ہوتا یا کوئی اہم واقعہ رونما ہوتا تو مولانا اس کا نوٹس لیتے۔ مرحوم نے اپنے دفتر کے سامنے ایک بورڈ لگوایا ہوا تھا جس پر درج تھا :”مہمانان حضرات امیر جماعت سے عصر بعد ملیں لیکن اگر کوئی بہت ضروری کام ہے تو اس کے علاوہ اوقات میں بھی مل سکتے ہیں۔”

مولانا یوسف صاحب بر وقت فیصلہ لیتے۔ ایمرجنسی میں سہ روزہ دعوت نکلتا تھا۔ اس دوران ایک سینئر کارکن نے جو رکن جماعت بھی تھے، اخبار کی کچھ رقم دفتر میں جمع نہ کرکے ذاتی استعمال میں خرچ کرلی۔ یہ رقم مختلف پارٹیوں کی تھی۔ ایمرجنسی کے بعد یہ حقیقت کھلی کہ متعلق رکن جماعت نے گڑبڑ کی ہے۔ مولانا نے فوراً ان صاحب کو طلب کیا۔ انھوں نے اعتراف کیا اور کہا کہ یہ رقم وہ قسطوں میں واپس کریں گے انھیں معاف کیا جائے۔ مولانا نے فرمایا ہم رکن جماعت سے یہ توقع نہیں کر سکتے، آپ رکنیت سے استعفا دیں ورنہ میں خود آپ کو معطل کر دوں گا۔ چناں چہ انھیں دفتر دعوت اور رکنیت سے سبکدوش کر دیا۔ اس رفیق نے بعد میں پوری رقم واپس کی۔

 1981 میں جب مولانا یوسف کو امارت کے لیے منتخب نہیں کیا گیا اور مولانا ابو اللیث صاحب کا انتخاب عمل میں آیا تو مولانا ابواللیث اپنے وطن اعظم گڑھ میں تھے۔ نمائندگان میں بعض شرعی وجوہ سے شرکت نہ کر سکے تھے، لیکن انتخاب ان ہی کا ہوا تھا۔ اس موقع پر ان کو اطلاع دینے کے لیے ایک وفد دلی سے اعظم گڑھ گیا جس میں خود مولانا یوسف صاحب بھی گئے اور ان کو امارت کا چارج لینے کے لیے آمادہ کیا۔ امارت کا چارج دینے کے بعد مولانا یوسف صاحب نے شروع سے اخیر تک جتنی رقم مشاہرے کے طور پر لی تھی وہ سب حساب لگا کر بیت المال میں جمع کرائی۔ فلاح بہبود فنڈ کی رقم جو اخیر میں ملتی ہے وہ بھی بیت المال میں جمع کرا دی۔

مولانا محمد یوسف صاحب کے دور امارت میں افضل حسین صاحب قیم جماعت تھے۔ وہ جھانسی کے ایک کالج میں پڑھاتے تھے۔ وہاں سے استعفا دے کر 1949میں مرکز آ گئے۔ اور درس گاہ اسلامی کے ناظم مقرر ہوئے۔ انھوں نے درسیات کی تقریبًا تین درجن سے زائد کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں نے بچوں اور نوجوانوں کا ذہن تعمیری، اسلامی اور تحریکی بنایا۔ مرکزی درس گاہ اسلامی میں افضل حسین صاحب مرحوم نے طلبہ میں علم کا شوق ہی نہیں پیدا کیا بلکہ انھیں انقلابی مسلمان بنا دیا۔ اور اس درس گاہ کو اسلامی تہذیب کا نمونہ بنادیا۔ ہندوستان میں یہ پہلی درسگاہ تھی جہاں طلبہ اساتذہ کو چچا میاں کہتے اور اساتذہ طلبہ کو بالعموم بیٹا کہہ کر پکارتے۔ وقت ضرورت نام بھی لے لیتے۔ مرحوم نے اپنی کتابوں کی کوئی رائلٹی نہیں لی۔ بلکہ ایثار و قربانی کی یہ انتہا کر دی کہ اپنے بچوں کے لیے اپنی تحریر کردہ کتابیں مرکزی مکتبہ سے خرید کر فراہم کیں۔ میری آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک شخص پڑوسی ملک سے آیا اور اس نے کہا کہ اسلامی پبلیکشن لاہور ایک پرائیویٹ لمٹیڈ ادارہ ہے، آپ کی کتابیں چھاپتا ہے اس نے رائلٹی کی مد میں ایک کثیر رقم بھیجی ہے آپ اسے قبول کر لیں۔ لیکن انھوں نے رقم لینے سے انکار کر دیا۔ کئی دفعہ کے اصرار کے باوجود انکار پر قائم رہے۔ انھوں نے کہا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اپنی کتابوں کی کوئی اور کبھی رائلٹی نہیں لوں گا۔ مرحوم سراپا ایثار و قربانی کے پیکر تھے۔ ناظم درس گاہ کے بعد معاون قیم جماعت اور پھر قیم جماعت کی حیثیت سے تا حیات خدمت انجام دیتے رہے۔ اخیر میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوئے۔ علاج و معالجہ ہوتا رہا، زندگی کے آخری دو تین دنوں میں بیہوشی طاری ہو گئی۔ لیکن اس عالم میں بھی تین چار چیزوں کا ذکر غیر شعوری طور پر کرتے رہے۔ نمبر ایک اللہ کی یاد، نمبر دو والدہ، نمبر تین جماعت کے رفقا، اس کے بعد درس گاہ کے طلبہ۔ ان کے بارے میں کہتے بیٹا تم نے اچھی تقریر کی، بہت اچھی شاباش۔ جماعت اور درس گاہ ان کی رگ و پے میں سما گئی تھی۔ اگرچہ قیم جماعت ہونے کی وجہ سے مصروفیت بہت تھی۔ لیکن پھر بھی تعلیم پر بہت گہری نگاہ رکھتے تھے۔ مطالعہ کا بہت ذوق تھا۔ میں نے ان کے کتابوں سے تیار کیے ہوئے نوٹس بھی دیکھے ہیں۔ فن تعلیم کے موضوع پر ان کی مشہور کتاب ‘فن تعلیم و تربیت’کے دس سے زائد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ انگریزی اور ہندی میں بھی ہو چکا ہے۔ کئی ممالک نے اس کتاب کو اپنے یہاں نصاب میں داخل کر رکھا ہے۔ تدریسی ٹریننگ B.Ed وغیرہ کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ آج بڑے بڑے لوگ کہتے ہیں کہ محمد افضل حسین صاحب کی درسیات نے ان کا ذہن اسلامی بنایا ہے۔ اللہ ان کا مقام بلند کرے اور جنت الفردوس میں خصوصی مقام عطا کرے۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزہ ٔنور ُستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

مرکز جماعت کی ایک اہم شخصیت عبد العظیم خاں صاحب کی تھی۔ وہ بالکل ابتدائی زمانے میں جماعت کے رکن بنے۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے 1937 میں ایل ایل بی پاس کیا۔ وہیں ماہنامہ ترجمان القرآن سے متاثر ہوئے اور دوسرے نوجوانوں کو بھی متاثر کیا۔ 1941 سے 1944 تک منصف مجسٹریٹ رہے۔ اسی درمیان میں رکنیت کے لیے درخواست دی جو منظور نہیں ہوئی۔ مرحوم کا تعلق ٹونک راجستھان سے تھا، نواب گھرانے سے تعلق تھا لیکن وہ نوابی کی خو بو سے پاک تھے۔ مصنف مجسٹریٹ سے استعفا دے کر ایک اسکول میں استاد بھی رہے اور پھر لائبریرین کے فرائض بھی انجام دیے۔ 1947 میں اجتماع ٹونک کے موقع پر مولانا مودودی نے ان کی رکنیت منظور کی۔ 1957 میں مرکز جماعت اسلامی رامپور میں تشریف لے آئے اور جماعت کے ہمہ وقتی کارکن بن گئے۔ مالیات اور شعبہ تنظیم اور متفرق کاموں کی انجام دہی ان کے ذمے تھی۔

میں نے انھیں مرکز جماعت اسلامی ہند دہلی میں دیکھا ہے بلکہ ان کے ساتھ مرکز میں متفرق کام بھی انجام دیے ہیں۔ صبح سویرے مرکز تشریف لے آتے، دوپہر کو کھانے کے لیے جاتے اور عشاء تک کام کرتے۔ مہمان نوازی ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ تھی۔ بغیر مہمان کے پیٹ نہ بھرتا۔ گھر میں ہمیشہ دو تین آدمیوں کا زائد کھانا تیار کیا جاتا۔ کبھی وہ بھی کم پڑجاتا۔ روزانہ مرکز کے مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتے۔ اپنے پڑھنے کے کام کے علاوہ مہمانوں کی خدمت خاص مشغلہ تھا۔ ان کے مسائل سننا، ان کے حل بتانا۔ مرکز میں جو بھی شخص آتا اس سے ملاقات کرنا ان کا پسندیدہ کام تھا۔ رات کو تمام مہمانوں کی دیکھ بھال انھوں نے اپنے ذمے لے رکھی تھی اگرچہ ناظم مہمان خانہ موجود تھے اور اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتے لیکن وہ بھی مہمانوں کا خاص خیال رکھتے۔ ہر شخص عظیم خاں صاحب کا گرویدہ تھا۔ جماعت اسلامی کے کام کا جو فروغ ہوا اس میں ایک بڑا حصہ عبدالعظیم صاحب کا تھا۔ جو مہمان آتا جماعت کا گرویدہ ہوکر جاتا۔ موصوف کے پاس چھوٹا سا دو کمروں کا گھر تھا۔ بیوی اور بیٹی ساتھ رہتی تھیں۔ بیٹے اپنے وطن ٹونک میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ افضل مرحوم فرماتے جتنا بڑا گھر عبد العظیم صاحب کو مرکز نے دے رکھا ہے اتنا بڑا ان کے وطن میں ان کا غسل خانہ ہے۔ نواب خاندان سے تعلق کی وجہ سے ان کا خود کا وسیع و عریض مکان تھا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا جماعت اسلامی تھا۔ تعمیری کام کی نگرانی بھی ان کے ذ‏مےتھیں۔ ایک مرتبہ مرکز جماعت میں کوئی کام چل رہا تھا جن میں ایک غیر مسلم مستری اور ایک رکن جماعت مستری بھی تھے۔ غیر مسلم مستری کی مزدوری دوسروں سے زیادہ تھی۔ میں نے مرحوم سے پوچھا اس شخص کو زائد مزدوری کیوں دی جاتی ہے۔ مرحوم نے کہا آپ مرکز میں رہتے ہیں۔ صبح آکر دیکھیں کام کس وقت شروع ہوتا اور دن میں مزید دو بار آکر ان راج مستریوں کو دیکھیں اور بعد میں مجھے بتائیں۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ معلوم ہوا وہ غیر مسلم مستری باقی مستریوں کے اوپر نگراں ہے اور خود بھی کام کرتا ہے۔ نیز شام کو مزید دو گھنٹے کام کرتا ہے۔ چناں چہ میں نے مرحوم سے کہا کہ آپ نے جو طریقہ مقرر کیا ہے وہ مبنی بر انصاف ہے۔

جماعت اسلامی نے جب ابو الفضل انکلیو میں زمین خریدی اور نیا مرکز تعمیر کیا اس میں عبدالعظیم صاحب کی عظیم خدمات پوشیدہ ہیں بلکہ اس مرکز کی ایک ایک اینٹ میں عظیم خاں صاحب کا خلوص شامل ہے۔ رفقائے جماعت کو زمینیں خریدوانے میں موصوف نے بڑا کام کیا۔ بے شمار لوگوں کو قسطوں پر اور ادھار زمینیں خریدوائیں اور کاغذات کی تکمیل بھی کرا دی۔ بیسوں رفقا ان کے ممنون و مشکور ہیں۔ ان جائدادوں کا مالک عبدالعظیم صاحب سے اس طرح پیش آتا جیسے وہ اس کے باپ ہوں۔ مرکز میں ہندوستان اور غیر ملکوں سے بڑے بڑے لوگ آتے اور عبدالعظیم صاحب کے بلکہ دوسرے معنوں میں جماعت کے گن گاتے ہوئے جاتے۔ 1957 سے 1993تک انھوں نے مرکز میں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد راجستھان کی جماعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ 1996میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ وہ علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق تھے جس میں کہا گیا:

ہوحلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

یہ اور انھی جیسے حضرات کی وجہ سے جماعت اسلامی نے فروغ پایا۔

مرکز جماعت اسلامی کے احوال محمد شفیع مونس صاحب مرحوم کے بغیر نامکمل رہیں گے۔ وہ بڑے حوصلہ مند، نڈر، ایثار و قربانیوں کے پیکر اور ہر محاذ پر ڈٹ جانے والے انسان تھے۔ کبھی اور کسی موقع پر ان کے پائے استقامت میں ڈگمگاہٹ کا شائبہ تک دیکھنے میں نہیں آیا۔ 1949 میں وہ اینگلو عربک ہائیر سیکنڈری اسکول میں استاذ مقرر ہوئے۔ وہیں خدمت انجام دیتے ہوئے رسالہ ترجمان القرآن اور تحریک سے شناسائی ہوئی۔ اور پھر اپنے آپ کو کلیتًا تحریک کے حوالے کردیا۔ مرکزی درس گاہ اسلامی جب ملیح آباد میں قائم ہوئی وہ اس کے پہلے استاذ مقرر ہوئے۔ پھر جماعت کی مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ امیر حلقہ دہلی، پنجاب، حیدرآباد ہوئے اور پھر مرکز میں سیکریٹری، قیم اور نائب امیر کے عہدوں پر رہے۔ جہاں کہیں کوئی مسئلہ الجھتا وہاں مونس صاحب مرحوم کو بھیجا جاتا۔ وہ مسئلہ سلجھا دیتے۔ ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر دو احباب میں کوئی اختلاف ہوتا تو ہر ایک کی بات الگ الگ سنتے اور پھر ان لوگوں سے کہتے کہ آپ اپنی اپنی شکایات تحریر کر دیں۔ وہ تحریریں لے لیتے اور دونوں فریق سے گفتگو کرتے۔ کوئی شخص اگر اپنی بات کو بدلتا تو فوراً اس کی تحریر کا حوالہ دیتے اور مسئلہ افہام و تفہیم کے بعد حل ہو جاتا۔ ایک خوبی ان میں یہ بھی تھی کہ شوری کی نشستوں میں بعض امور میں وہ اختلاف کرتے، اپنے دلائل دیتے لیکن جب اکثریت سے کوئی فیصلہ ہو جاتا تو بس اس پر سختی سے قائم رہتے۔ اپنی نجی رائے کا بھی اظہار نہ کرتے۔ یوپی جماعت کے لیے دفتر کی تعمیر، فلاح عام سوسائٹی کے لیے زمینوں کی خریداری، مرکز جماعت اسلامی کے لیے ابو الفضل انکلیو دہلی میں زمینوں کی خریداری کے لیے رقوم کا نظم، مسلم مجلس مشاورت کے لیے دفتر کا حصول مونس صاحب کی مرہون منت ہے۔ انھوں نے ان کاموں کا کریڈیٹ ہمیشہ جماعت کو دیا۔ ایمرجنسی میں اگر کسی رفیق نے حالات سے مایوسی کا اظہار کیا تو مونس صاحب نے ہمیشہ اس کے روشن پہلو پر نظر رکھی اور کہا ان شاء اللہ حالات جلد بدل جائیں گے۔ اللہ تعالی کو کچھ بہتر ہی منظور ہے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ جماعت اسلامی کے فروغ میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مونس صاحب شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا نمونہ پیش ہے:

خود حسن تو نازاں ہے الفت کی اداؤں پر

یہ دل بھی عجب شے ہے،  بے وجہ پریشاں ہے

جینا ہو کہ مرنا ہو، غم ہو کہ مسرت ہو

ہر لمحہ محبت کا، تسکین کا ساماں ہے

مارچ 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau