تحریک میں زندگی کا سرمایہ لگائیں

محی الدین غازی

تحریک محض نسبت جوڑنے کا نام نہیں ہے، تحریک تو یقین واخلاص، جوش و جذبہ اور قربانی وعمل مانگتی ہے۔ تحریک اسی وقت کام یابی کی منزلیں طے کرتی ہے جب اس کے افراد تحریک میں اپنی زندگی کا سرمایہ لگاتے ہیں۔ اس دنیا میں کی جانے والی یہ بہترین سرمایہ کاری ہے۔ تحریک کے لیے زندگی کے سرمایے کی کتنی زیادہ اہمیت ہے؟ امام حسن البنا کہتے ہیں:

’’کوئی آئیڈیا اس وقت کام یاب ہوتا ہے، جب اس پر مضبوط ایمان ہو، اس کے لیے اخلاص ہو، اس کی خاطر دل جوش سے معمور ہو، اور اندرون میں وہ جذبہ موجزن رہے جو اس آئیڈیا کو حقیقت کے روپ میں دیکھنے کے لیے قربانی اور عمل پر ابھارتا رہے۔‘‘

تحریک ہر آن حرکت میں رہنے اور دوسروں کو مسلسل حرکت میں رکھنے کا نام ہے۔ تحریک کوشش و محنت اور ایثار و قربانی سے عبارت ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد تحریک میں شامل ہے لیکن حرکت و عمل سے بےگانہ عام انسانوں جیسی زندگی گزار رہا ہے، تو تحریک میں صرف اس کا نام ہے، وہ خود نہیں ہے۔ اس نے نہ توتحریک کا مطلب سمجھا ہے اور نہ وہ فطرت کے قانون سے واقف ہے۔

فطرت کا قانون کوشش و محنت کو مقصد کے حصول کی لازمی شرط قرار دیتا ہے۔ بہت زیادہ تعجب اس شخص پر ہونا چاہیے جو دو پیسے کمانے کے لیے تو محنت کو ضروری سمجھتا ہے مگراسلامی تحریک کے عظیم مقاصد کو بنا کسی محنت اور وقت کے حاصل کرلینے کا خواب دیکھتا ہے۔ یہ سچا خواب نہیں محض سراب ہے۔ شیطان کا دھوکہ ہے۔ شیطان کے لیے یہ تو بہت مشکل ہوتا ہے کہ وہ تحریک کے افراد کو تحریک چھوڑ دینے پر آمادہ کردے،لیکن اس کے لیے یہ بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ تحریک کے افراد کو تحریک میں رہتے ہوئے تحریک کے کام سے بیگانہ کردے۔ اس کے لیے وہ خوش فہمی کا یہ نشہ پلاتا ہے کہ تحریک میں شامل ہوجانا ہی کافی ہے اور تحریک کے کچھ مخصوص پروگراموں میں شریک رہنا ہی تحریکی سرگرمی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تحریک میں افراد بہت زیادہ مگر کام بہت کم رہ جاتا ہے۔تحریک کے افراد کا اتنا تھوڑا مال، اتنی ذرا سی توانائی اور اتنا کم وقت تحریک کو مل پاتا ہے کہ جسے بتاتے ہوئے خود کو شرم آئے اور جو اکٹھا ہوکر بھی بہت تھوڑا رہے۔

اس دنیا میں کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کوشش اور دوڑ دھوپ لازمی شرط ہے۔ وہ ہدف اچھا ہو یا برا۔ یہ دنیا میں قدرت کا قانون ہے۔ وَأَنْ لَیسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى [النجم: 39] ’’ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے ۔‘‘

قرآن مجید اہل ایمان کو دکھاتا ہے کہ زمین میں فساد پھیلانے والے اپنے بُرےمقاصد کے لیے کتنی زیادہ دوڑ بھاگ کررہے ہیں:

وَتَرَى كَثِیرًا مِنْهُمْ یسَارِعُونَ فِی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا یعْمَلُونَ [المائدة: 62] 

’’تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں اور حرام کا مال کھانے میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ بہت برے کام ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔‘‘

وَیسْعَوْنَ فِی الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا یحِبُّ الْمُفْسِدِینَ [المائدة: 64]

’’اور وہ زمین میں فساد کے لیے دوڑتے پھرتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو نہیں پسند کرتا۔‘‘  

ایسے لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالی ایمان والوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھیں، بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کےلیے خوب دوڑ دھوپ کریں:

وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ [آل عمران: 133]

’’دوڑ کر چلو اُس راہ پر جو تمھارے رب کی بخشش کی طرف اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ خدا ترس لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘

اللہ تعالی ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو بھلائی کے کاموں میں سُستی نہیں دکھاتے بلکہ دوڑ دوڑ کر اپنے ہدف حاصل کرتے جاتے ہیں:

أُولَئِكَ یسَارِعُونَ فِی الْخَیرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ [المؤمنون: 61]

’’بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انھیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں۔‘‘

قرآن مجید کی یہ آیتیں بتاتی ہیں کہ اہل حق کو اہل باطل سے زیادہ محنت کرنے والا ہونا چاہیے۔

مولانا مودودیؒ نے جماعت اسلامی کے پہلے کل ہند اجتماع (بمقام پٹھان کوٹ، بتاریخ ۱۹ تا ۲۱ اپریل ۱۹۴۵ ) میں رفقائے تحریک سے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اس راہ میں محنت، صبر اور قربانی کی بہت ضرورت پڑے گی، داعی تحریک کے الفاظ سنیں:

’’آپ کی آنکھوں کے سامنے ان لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جو سخت سے سخت خطرات، شدید سے شدید نقصانات، جان و مال کے زیاں، ملکوں کی تباہی اور اپنی اور اپنی اولاد اور اپنے عزیزوں اور جگر گوشوں کی قربانی صرف اس لیے گوارا کر رہے ہیں کہ جس طریق ِزندگی کو وہ صحیح سمجھتے ہیں اور جس نظام میں اپنے لیے فلاح کا امکان انھیں نظر آتا ہے اسے نہ صرف اپنے ملک پر بلکہ ساری دنیا پر غالب کر کے چھوڑیں۔ ان کے صبر اور ان کی قربانیوں اور محنتوں اور ان کے تحمل مصائب اور اپنے مقصد کے ساتھ ان کے عشق کا موازنہ آپ اپنے عمل سے کر کے دیکھیے اور محسوس کیجیے کہ آپ اس معاملے میں ان کے ساتھ کیا نسبت رکھتے ہیں۔ اگر فی الواقع آپ کبھی ان کے مقابلے میں کام یاب ہو سکتے ہیں تو صرف اسی وقت جب کہ ان حیثیات میں آپ ان سے بڑھ جائیں۔ ورنہ آپ کے مالی ایثار، آپ کے وقت اور محنت کے ایثار اور اپنے مقصد کے ساتھ آپ کی محبت اور اس کے لیے آپ کی قربانی کا جو حال اس وقت ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو آپ یہ حق بھی نہیں رکھتے کہ اپنے دل میں اس تمنا کو پرورش کریں کہ آپ کے ہاتھوں یہ جھنڈا بلند ہو۔‘‘(روداد جماعت، حصہ سوم) 

امت کا فعّال حصہ اسلامی تحریک بنتا ہے

جب ہر طرف جمود اور بے عملی کا سناٹا چھایا ہوتا ہے اور جب امت کے کچھ افراد جمود کی زنجیریں توڑ کر اسلام کی راہ میں آگے بڑھتے، کوشش و محنت کرتے، دولت و توانائی لگاتے ہیں، تو اسلامی تحریک وجود میں آتی ہے۔ 

اسلامی تحریک دراصل اسی کا نام ہے کہ مختلف افراد اپنی گوناگوں صلاحیتیں اور توانائیاں حق کو غالب و سر بلند کرنے کے لیے لگادیں۔ 

اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے: لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاهِرِینَ عَلَى الْحَقِّ، لَا یضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى یأْتِی أَمْرُ اللهِ وَهُمْ كَذَلِكَ.

میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا۔ اس کی جدوجہد میں اس کا ساتھ نہ دینے والوں سے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ اسی حال میں اللہ کا فیصلہ آجائے گا۔ (مسلم)

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس حدیث میں امت کے کس گروہ کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔

اس کا جواب دیتے ہوئے امام نووی کہتے ہیں کہ:

’’یہاں امت کے ان افراد کا گروہ مراد ہوسکتا ہے جو امت کے اندر مختلف حیثیتوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں بہادر مجاہدین بھی ہوتے ہیں، فقہا اور محدثین بھی ہوتے ہیں، زاہدین بھی ہوتے ہیں اور معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے والے بھی ہوتے ہیں،ان کے علاوہ خیر سے وابستہ اور دوسرے بہت سے افراد بھی ہوتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ سب ایک جگہ اکٹھا ہوں، بلکہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مختلف علاقوں میں بکھرے ہوئے ہوں۔‘‘ (شرح نووی)

جمود میں مبتلا انبوہ سے بے پروا ہوکر اور خطرات کے ہجوم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حق پر جمنے اور حق کی خاطر دوڑ دھوپ کرنے والے اسلامی امت کے سچے ہیرو اور قیمتی ہیرے ہوتے ہیں۔اسلامی تحریک ایسے ہی افراد سے تشکیل پاتی ہے۔

جس کو ہو جان و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں!

دل و جان تحریک کےحوالے کردینا ہی تحریک سے اصل وابستگی ہے۔ اجتماعی فیصلوں پر سر تسلیم خم کرکے جی جان سے کوشش و محنت کرتے رہنا ہی تحریک کے ساتھ وفاداری ہے۔ہر اطاعت کی طرح تحریک کی اطاعت بھی اللہ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہوتی ہے، اس کے بعد پھر کوئی شرط حائل نہیں ہونی چاہیے۔ مکمل طور پر غیر مشروط اطاعت۔

تحریک کی روح سے بیگانہ افراد کے بارے میں عظیم تحریکی رہ نما شیخ عبدالوہاب عزام لکھتے ہیں:

’’ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ جو بات من کو بھاتی ہے، اس کی اطاعت کے لیے دوڑ پڑتے ہیں اور جو بات ناپسند ہوتی ہے اسے انجام دینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ اگر ان کے ذمے جماعت کی بھلائی کا کوئی ایسا کام کیا جائے جو انھیں پسند نہ ہو، تو وہ عذر کرکے بھاگ نکلتے ہیں، یا بے دلی سے اطاعت کرتے ہیں، یا غصہ دکھاکر اور پیشانی پر بل لاکر اسے انجام دیتے ہیں۔

جب کہ فرض کی شان تو یہ ہے کہ مشکل ہو یا آسان، اسے انجام دو، پسند ہو یا ناپسند، پیکر تسلیم بن جاؤ۔ اسے لیتے ہوئے عزیمت کا راستہ اپناؤ، رخصت کا خیال تک دل میں نہ لاؤ، اسے پورے یقین کے ساتھ قبول کرو، دل میں ذرا بھی تردّد نہ رکھو، اسے سنجیدہ ہوکر انجام دو، ذرا بھی کوتاہی نہ ہونے دو، اس میں تمھارے سامنے ایک سے زیادہ راستے ہی نہ رہیں، خواہش کا وہاں کوئی گزر نہ ہو۔ اسے ایک فرض سمجھو، خوشی خوشی اسے قبول کرو، آگے آگے اسے لے کر چلو، اس راہ کی ہر مشکل کو صبر کے ساتھ گوارا کرو، وہ کڑوا ہو تب بھی تمھیں میٹھا لگے، اور تمھیں ذاتی طور پر اس سے نقصان پہنچے جب بھی وہ تمھیں نفع بخش نظر آئے۔ ’’ (الشوارد)

تحریک آپ سے کیا مانگتی ہے؟

اسلامی تحریک کے مشن کو اگر آپ نے زندگی کے نصب العین کی حیثیت سے قبول کیا ہے، تو تحریک کو آپ کی زندگی کا محور بن جانا چاہیے۔ زندگی تحریک کی شاہراہ پر چلنے والی گاڑی بن جائے، اس شاہراہ سے آپ صرف راستے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اتریں اور پھر اسی شاہراہ پر گامزن ہوجائیں۔ تحریک کو آپ کی زندگی کا قیمتی حصہ ملنا چاہیے، نہ کہ بچا ہوا حصہ۔زندگی کے تمام کاموں سے جو بچ رہے، وہ کسی اور کے کام کا تو ہو سکتا ہے اسلامی تحریک کے کام کا نہیں ہوسکتا۔ اس بات کو امام حسن البنا نے دو ٹوک لفظوں میں بیان کردیا ہے: هذا الدین لا ینفع معه فضل مال و لا فضل جهد و لا فضل وقت ’’یہ وہ دین ہے کہ اس کے ساتھ بچا ہوا مال، بچی ہوئی توانائی اور بچا ہوا وقت کام نہیں آئے گا۔‘‘

انسان کے پاس تحریک میں سرمایہ کاری (investment) کرنے کے لیے اس کے علاوہ اور کیا ہے؟ مال، وقت اور توانائی۔ یہی انسان کی اصل متاع ہے اور اسی کی تحریک کو ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اگر مال، وقت اور توانائی کا اصل حصہ دوسرے کاموں میں صرف ہوگیا اور صرف بچا کھچا حصہ تحریک کو ملا، تو یہ وفا کا حق ادا کرنا تو نہیں ہوا۔

تحریک کو آگے بڑھانے والے دراصل وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنا زیادہ سے زیادہ مال، وقت اور توانائی تحریک کے راستے میں لگادیتے ہیں۔ باقی لوگ تو صرف رسمی تعلق نباہتے ہیں۔

اسلامی تحریک کو دل کی آگ بن جانا چاہیے

مولانا مودودیؒ نے تحریک کے افراد سے صاف مطالبہ کیا تھا کہ دل کی لگن کے ساتھ تن من دھن سے اس کام میں شریک ہوجائیں، ورنہ اس کام کا حق ادا نہیں ہوسکے گا۔ مولانا نے کہا تھا:

’’یہاں تو اس کی ضرورت ہے کہ دل میں اک آگ بھڑک اٹھے، زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی آگ تو شعلہ زن ہوجانی چاہیے جتنی اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر ہوجاتی ہے۔ اور آپ کو کھینچ کر ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے، یا اتنی جتنی اپنے بچے کو بیمار دیکھ کر ہوجاتی ہے اور آدمی کو تگ و دو پر مجبور کردیتی ہے، اور چین سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ سینوں میں وہ جذبہ ہونا چاہیے جو ہروقت آپ کو اپنے نصب العین کی دھن میں لگائے رکھے، دل و دماغ کو یکسو کردے اور توجہات کو اس کام پر مرکوز کردے کہ اگر ذاتی یا خانگی یا دوسرے غیرمتعلق معاملات کبھی آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچیں بھی تو آپ سخت ناگواری کے ساتھ ان کی طرف کھینچیں۔ کوشش کیجیے کہ اپنی ذات کے لیے قوت اور وقت کا کم سے کم حصہ صرف کریں۔ اور آپ کی زیادہ سے زیادہ جدوجہد اپنے مقصدِ حیات کے لیے ہو، جب تک یہ دل کی لگن نہ ہوگی اور ہمہ تن اپنے آپ کو اس کام میں جھونک نہ دیں گے، محض زبانی جمع خرچ سے کچھ نہ بنے گا۔ بیشترلوگ دماغی طور پر ہمارا ساتھ دینے پرآمادہ ہو جاتے ہیں لیکن کم لوگ ایسے ملتے ہیں جو دل کی لگن کے ساتھ تن من دھن سے اس کام میں شریک ہوں۔‘‘ (روداد حصہ دوم)

اسلامی تحریک میں اصل اہمیت کوشش و محنت کی ہوتی ہے

اسلامی تحریک میں عہدہ و منصب قابل توجہ نہیں ہوتا ہے۔ توجہ تمام تر تحریکی سرگرمی پر مرکوز ہوتی ہے۔ دنیوی اہداف کے لیے تشکیل پانے والے انسانی گروہوں، اداروں اور تنظیموں میں لیڈر شپ کا رول بہت زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔ وہاں سب سے حسین خواب اور سب سے اونچا ہدف لیڈر شپ کا حصول ہوتا ہے۔ اسلامی تحریک میں لیڈر شپ مقصود و مطلوب ہرگز نہیں ہوتی ہے۔ اس میں تو رضائے الہی کے حصول کی خاطر جدوجہد ہر کارکن کی سب سے بڑی تمنا اور سب سے اونچا خواب ہوتی ہے۔ اس جدوجہد میں جو سب سے آگے نکل جاتا ہے وہ سب سے خوش نصیب مانا جاتا ہے۔ جب خلافت کی بات آئی تو حضرت عمر ؓ فاروق نے حضرت ابوبکرؓ صدیق سے آگے نکلنے کی بالکل کوشش نہیں کی، بلکہ خود آگے بڑھ کر ان کا نام پیش کیا۔ لیکن جب تبوک کی مہم کے لیے تیاری ہورہی تھی تو وہی حضرت عمر ؓ حضرت ابوبکرؓ پر سبقت لے جانےکے لیے اتنے بیتاب تھے کہ اپنے گھر کی آدھی دولت اٹھالائے۔ انھیں امید تھی کہ آج وہ حضرت ابوبکر ؓ سے آگے نکل جائیں گے، تاہم حضرت ابوبکرؓ تو گھر کا سارا اثاثہ اٹھالائے تھے۔ اسلامی تحریک کے جہد کاروں کی یہی شان ہونی چاہیے۔

بصرہ کے قاضی اور ثقہ محدث عبیداللہ بن حسن عنبری کا یہ جملہ اسلامی تحریک کے کارکنوں کو اونچی سوچ دیتا، ان کے جذبے کو جِلا بخشتا اور انھیں ہر شیطانی ترغیب سے محفوظ رکھتا ہے:

’’میں اہل حق کی جماعت میں دُم بن کر رہوں، یہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ اہل باطل کی جماعت میں مجھے سر کا مقام حاصل ہو۔ ’’

اسلامی تحریک کے کارکنوں کی سعادت کے لیے یہ بات کافی ہے کہ انھیں اللہ کے دین کی نصرت کے قافلے میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے کندھوں پر منصب کا بوجھ ہے یا انھیں بغیر کسی منصب کے اپنی بڑی ذمے داری ادا کرنی ہے۔ اسلامی تحریک میں ہر شخص سے ایک رول مطلوب ہوتا ہے۔ جو اس رول کو بہتر طریقے سے انجام دے، اسی کے بارے میں امید کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے یہاں سرخ رو ہوگا۔

عظیم اخوانی رہ نما عبدالقادر عودہ کہتے ہیں:

’’یہ اللہ کی دعوت ہے، انسانوں کی دعوت نہیں ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو آگاہ کردیا ہے کہ اس دعوت کا سِرا خدائے ذوالجلال کے پاس ہے، اس دعوت کے علم برداروں کے پاس نہیں ہے۔ اس دعوت میں انسانوں کا نصیب یہ ہے کہ جس نے اس کے لیے کام کیا، اللہ اس کے کام کے صلے میں اس کا رتبہ بلند کرے گا اور جس نے اس کے کام سے پہلوتہی کی اس نے خیر کو خود اپنے سے دور کیا، دعوت کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘ (العوائق)

ساری توانائی جھونک دیں

امام احمد کےزمانے میں جب ایک بڑا فتنہ برپا ہوا تو انھوں نے اس کا مقابلہ کرنے کی بہت کوشش کی۔ وہ اپنے بیٹے کو اپنی کوششوں کی پوری روداد ایک جملے میں سنادیتے ہیں: یا بنی : لقد أعطیت المجهود من نفسی ’’اے میرے بیٹے، میں نے اپنی ساری توانائی لگادی تھی۔‘‘ (مناقب الإمام أحمد)

محمد احمد راشد کہتے ہیں: اپنی ساری توانائی لگادینے کا اثر روز مرہ کی زندگی میں اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ دن بھر چلنے پھرنے کے بعد جب رات میں سونے کے لیے اپنے بستر پر جاؤ تو گھٹنوں سے آہیں نکل رہی ہوں اور پٹھے کھنچاؤ سے کراہ رہے ہوں۔ (الرقائق)

اوراس محنت کو پر لطف بنادیتا ہے یہ خیال کہ آخر کار راحت بھری جنت ملے گی۔ علامہ ابن القیم ذکر کرتے ہیں کہ کسی عابد سے پوچھا گیا: اپنے آپ کو کتنا تھکاؤ گے؟ اس نے جھٹ سے جواب دیا: راحتها أرید ’’میں تو اس کے آرام کے لیے ساری تگ و دو کررہا ہوں۔‘‘ (الفوائد)

امام حسن البنا راحت و لذت کے راز سے آگاہ تھے، وہ کہتے تھے : راحتی فی تعبی وسعادتی فی دعوتی ’’میری راحت میری تھکن میں ہے، اور میری سعادت میری دعوت میں ہے۔‘‘

مردِ مومن زندگی بھر تھکنے کی لذت سے سرشار رہتا ہے۔ اس کے نزدیک دنیا کی زندگی آرام کرنے کے لیے ہوتی ہی نہیں ہے، نہ ہی دنیا کی زندگی میں اسے آرام کی لذت محسوس ہوتی ہے۔ آرام وہ صرف اس لیے کرتا ہے کہ اور زیادہ کام کرسکے، اس لیے وہ اتنا ہی آرام کرتا ہے جتنا ضروری ہوتا ہے۔

امام شافعی کہتے ہیں: طلب الراحة فی الدنیا لا یصحّ لأهل المروءات، فإن أحدهم لم یزل تعبان فی كل زمان ’’بڑے مقصد کے ساتھ جینے والوں کے لیے دنیا میں راحت طلب کرنا درست نہیں ہے، وہ تو ہر زمانے میں تھکن سے چور رہے ہیں۔‘‘ (الرقائق)

کام یابی کا پروانہ حاصل کرنے سے پہلے مردِ مومن کو آرام کی لذت ہی حاصل نہیں ہوتی ہے کہ وہ آرام کی خواہش کرے۔ امام احمد سے پوچھا گیا: بندہ آرام کی لذت کب پائے گا؟ انھوں نے کہا: عند أول قدم یضعها فی الجنة ’’جیسے ہی وہ جنت میں پہلا قدم رکھے گا‘‘۔ (طبقات الحنابلۃ)

محنت کا دل دادہ اور راحت سے بے گانہ ہوجانا اللہ کے محبوب بن جانے کی نشانی ہے۔ایک بزرگ ابوبکر کتانی نے اپنے استاذ سے پوچھا کہ اللہ کے کچھ خاص اور منتخب بندے ہوتے ہیں، کسی بندے کو کیسے پتہ چلے گا کہ وہ اللہ کے خاص اور منتخب بندوں میں ہے؟ انھوں نے جواب دیا: جب وہ آرام کا لبادہ اتار پھینکے، اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں پوری توانائی جھونک دے، دنیا کے منصبوں میں اس کی دل چسپی ختم ہوجائے اور مدحت و مذمت اس کے لیے یکساں ہوجائے۔ (تاریخ بغداد)

حضرت عمرؓ تو آرام پسندی کو غفلت پسندی کے برابر قرار دیتے تھے، ان کا قول ہے: الرَّاحَةُ لِلرِّجَالِ غَفْلَةٌ ’’مردوں کے لیے آرام غفلت ہی کی ایک صورت ہے۔‘‘ (أدب الدنیا و الدین)

اسلامی تحریک سے وابستہ فرد کے سامنے آخرت کی سرخ روئی ہوتی ہے، اس کی اصل کوشش اسی کی خاطر ہوتی ہے۔۔ علامہ ابن قیم اس کی حسین ترجمانی کرتے ہیں:

’’جو سچا طالب ہوتا ہے، اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کی ذات میں کہیں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو وہ اس میں دل اور روح کی تعمیر کا پہلو نکال لیتا ہے۔ جب اس کی دنیا میں کہیں نقصان ہوتا ہے تو وہ آخرت کے منافع کو بڑھالیتا ہے، دنیا کی کسی لذت سے اسے روک دیا جاتا ہے تو وہ آخرت کی لذتوں میں اضافہ کرلیتا ہے، اور جب جب اسے کوئی غم، کوئی دکھ اور کوئی الجھن لاحق ہوتی ہے، وہ ان سب کو آخرت کی خوشیوں میں تبدیل کرلیتا ہے۔‘‘ (الفوائد)

اسلامی تحریک کے بزرگ مربّی محمد احمد راشد لکھتے ہیں:

گزرے دنوں کی بات ہے میں اپنے دوستوں کی دل لگی کرتے ہوئے ان کے جوتوں کی تفتیش کیاکرتا تھا۔ فوج میں تو یہ دیکھنے کے لیے جوتوں کی تفتیش کی جاتی ہے کہ وہ صاف ہیں، پالش کیا ہوا ہے اور چمک رہے ہیں یا نہیں۔ میری تفتیش یہ دیکھنے کے لیےہوتی کہ وہ کتنے گھس گئے ہیں، کہاں کہاں سےپھٹ گئے ہیں، اور کس قدر دھول میں اٹے ہوئے ہیں۔ میں انھیں پلٹ کر جوتے کا تلا دیکھتا، جس جوتے کا تلا گھس کر ختم ہوچکا ہوتا وہ میری نظر میں کام یاب قرار پاتا، میں اس سے کہتا: تمھارا گواہ تمھارے ساتھ ہے، یہ جوتا تمھارے حق میں گواہی دے رہا ہے کہ تم تحریک کے کام کے لیے صبح سے شام تک دوڑ دھوپ میں لگےرہتے ہو، تمھاری زیادہ دوڑ دھوپ سے تمھارے جوتے گھس گئے، تم قابل قدر ہو، میرے نزدیک تم امتحان میں کام یاب ہوگئے ہو۔تم قرآن کی اس آیت کا نمونہ بن رہے ہو: وَجَاءَ مِنْ أَقْصَى الْمَدِینَةِ رَجُلٌ یسْعَى قَالَ یاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِینَ [یس: 20] ’شہر کے دور کنارے سے ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا، اس نے کہا میری قوم کے لوگو! رسولوں کی پیروی کرلو‘(صناعة الحیاة)

اپنے وقت کی قدر کریں

اگر آپ نے اپنی زندگی تحریک کے لیے وقف کردی ہے، اس یقین کے ساتھ کہ جو آپ کی زندگی کا نصب العین ہے وہی تحریک کا مقصد ہے، تو پھر آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ اپنا وقت ہرگز ضائع نہیں کریں گے اور اسے زیادہ سے زیادہ تحریک کےکام میں لگائیں گے۔ کیوں کہ امام حسن البنا کے الفاظ میں وقت ہی تو زندگی ہے۔ یہ کھلا ہوا تضاد ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ میری زندگی اللہ کے لیے ہے اور پھر اپنا وقت جہاں تہاں ضائع کرتا پھرے۔

جن لوگوں نے اپنے وقت کو زندگی سمجھا انھوں نے وقت کی حد درجہ قدر کی۔ ایک بار محمد بن سوقہؒ نے اپنے شاگردوں سے کہا: میں تمھیں ایک بات سناتا ہوں، امید ہے تمھیں فائدہ ہوگا، کیوں کہ مجھے اس سے بہت فائدہ ہوا، وہ یہ کہ بزرگ تابعی حضرت عطاء بن رباح ؒنے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ اے بھتیجے،تم سے پہلے جو لوگ گزرے وہ بے فائدہ باتوں کو ناپسند کرتے تھے۔ انھیں زبان کا صرف یہ استعمال پسند تھا کہ اللہ کی کتاب کو پڑھاجائے، بھلائی کوفروغ دیا جائے، برائی سے روکا جائے، اور ضروریات زندگی کے لیے اپنی بولنے کی قوت کو کام میں لایا جائے۔ کیا تم یہ نہیں مانتے کہ ’’تمھارے اوپر لکھنے والے معزز نگراں مقرر ہیں ’’ اور یہ کہ ’’ دو فرشتے ڈٹ کر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ دائیں اور بائیں طرف سے جو بات نکلتی ہے اسے اپنے قبضے میں کرلیتے ہیں،انسان کوئی بات نہیں کہتا مگر اس کے پاس نگراں چوکس تیار رہتا ہے۔‘‘ کیا تمھیں یہ سوچ کر شرم نہیں آتی کہ وہ رجسٹر جب کھولا جائے گا جس میں تم نےدن دن بھر جو جی چاہا وہ لکھوایا، تو اس کےکھلنے پر تمھیں معلوم ہوگا کہ اس میں زیادہ تر باتیں نہ تمھارےدین کی ہیں اور نہ تمھاری دنیا کے کام کی۔ (مصنف ابن أبی شیبہ)

علامہ ماوردیؒ کی یہ نصیحت تحریکِ اسلامی کے ہر فرد کے لیے قیمتی ہے: تمھاری صحت کا حاصل تمھاری کوشش ومحنت کی صورت میں ہونا چاہیے اور تمھاری فرصت کا مصرف کسی اچھےعمل کی صورت میں ہونا چاہیے، یاد رکھو کہ ہر زمانہ سازگار نہیں ہوتا اور گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا۔ (أدب الدنیا و الدین)

آرام پسندی بیماروں کے لیے ٹھیک لگتی ہے، صحت مند انسان کو آرام نہیں کام زیب دیتا ہے۔فرصت دراصل مہلتِ عمل کا قیمتی حصہ ہوتی ہے، اس کا بہترین مصرف تلاش کرنا چاہیے۔

عظیم محدث امام شعبہؒ کہتے تھے: لا تقعدوا فراغاً فإن الموت یطلبكم ’’خالی مت بیٹھو، کیوں کہ موت تمھارا پیچھا کررہی ہے۔‘‘

زیادہ محنت اور مسلسل محنت درکار ہے

اسلامی تحریک کا کام گھانس اگانے کی طرح نہیں ہے کہ معمولی سی کوشش کی اور چند روز میں پورا میدان ہرا ہوگیا۔ یہ تو ایسے باغ لگانے کا کام ہے، جن میں برسہا برس تک صبر اور لگن کے ساتھ محنت کرنی ہوتی ہے۔ مولانا مودودیؒ تحریکی محنت کا شوق رکھنے والوں کو ایک اہم نکتے سے آگاہ کرتے ہیں:

’’ہمیں مسلسل اور پیہم سعی اورمنضبط (systematic) کام کرنے کی عادت ہو۔ ایک مدتِ دراز سے ہماری قوم اس طریقِ کار کی عادی رہی ہے کہ جو کام ہو کم سے کم وقت میں ہوجائے، جو قدم اٹھایا جائے ہنگامہ آرائی اس میں ضرور ہو، چاہے مہینہ دو مہینہ میں سب کیا کرایا غارت ہو کر رہ جائے۔ اس عادت کو ہمیں بدلنا ہوگا۔ اس کی جگہ بتدریج اور بے ہنگامہ کام کرنے کی مشق ہونی چاہیے۔ چھوٹے سے چھوٹا کام بھی، جو بجائے خود ضروری ہو، اگر آپ کے سپرد کردیا جائے تو بغیر کسی نمایاں اور معجّل نتیجہ کے اور بغیر کسی داد کے آپ اپنی پوری عمر صبر کے ساتھ اسی کام میں کھپادیں۔ مجاہدہ فی سبیل اللہ میں ہروقت میدان گرم ہی نہیں رہا کرتا ہے اور نہ ہر شخص اگلی ہی صفوں میں لڑ سکتا ہے۔ ایک وقت کی میدان آرائی کے لیے بسا اوقات پچیس پچیس سال تک لگاتار خاموش تیاری کرنی پڑتی ہے اور اگلی صفوں میں اگر ہزاروں آدمی لڑتے ہیں تو ان کے پیچھے لاکھوں آدمی جنگی ضروریات کے ان چھوٹے چھوٹے کاموں میں لگے رہتے ہیں جو ظاہر بیں نظر میں بہت حقیر ہوتے ہیں۔‘‘ (روداد جماعت، حصہ دوم)

اسلامی تحریک کے لیے جان کھپانے کا شوق رکھنے والوں کے لیے داعی تحریک کے ان جملوں کے حرف حرف میں روشنی اور زندگی ہے۔

تحریک میں ہر دن قربانی کا دن ہوتا ہے

اسلامی تحریک کے حیات فروش دیوانوں کے لیے ہر دن قربانی کا دن ہوتا ہے۔ وہ قربانی کی عید ایک دن مناتے ہیں لیکن قربانی روز مناتے ہیں۔ ’’میری زندگی اللہ کے لیے ہے‘‘ یہ ان کا ترانہ ہوتا ہے، جسے وہ روز عمل کی دھن پر گاتے ہیں۔

جسم زیادہ سے زیادہ نیند اور آرام مانگتا ہے، لیکن تحریک سے سرشار کارکن اسے کم سے کم نیند اور آرام دے کر سارا وقت اپنی تحریک کےمشن میں لگا دیتا ہے۔

بیوی بچے اور دوست احباب تفریح کے لیے بے حساب وقت مانگتے ہیں، لیکن تحریک کا متوالا تفریح کو ناپ تول کے اور تحریک کو بے حساب وقت دیتا ہے۔

گھر والوں کی فرمائشیں اس کی ساری آمدنی نگل لینا چاہتی ہیں، لیکن وہ ان فرمائشوں کو ضرورت و حاجت کا پابند کرکے باقی ساری آمدنی دین کے مشن میں صرف کرتا ہے۔

زیادہ دولت کمانے کی خواہش اسے بیک وقت متعدد معاشی منصوبے شروع کرنے پر اکساتی ہے، جس سے سارا وقت معاشی سرگرمیوں کی نذر ہوجاتا ہے۔لیکن وہ اس خواہش کو قربان کرکے وقت کی صحیح تقسیم کرتا ہے، اس کا اپنا معاشی منصوبہ بھی ہوتا ہے لیکن زیادہ توجہ اور محنت تحریک کو نئے نئے محاذوں پر آگے بڑھانے کے لیے ہوتی ہے۔

مختلف مواقع، رسم و رواج اور تقریبات انسان کا بہت سا وقت، بہت سا مال اور بہت سی توانائی خرچ کروالیتی ہیں، تحریکی فرد ایسے ہر موقع پر اپنی نہایت قیمتی چیزوں کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے، اسے تو اپنا وقت، مال اور توانائی دین کے راستے میں لگانی ہوتی ہے۔

وہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ تحریکی مقاصد حاصل کرلینا چاہتا ہے، اس لیے گپ شپ کے شوق کو قربان کرتا ہے،ملاقاتوں میں با مقصد اور مفید گفتگو کرتا ہے۔ اس کی مجلسیں طویل نہیں ہوتی ہیں، مختصر اور مفید ہوتی ہیں۔

جھجک اس کے قدم نہیں روکتی، اندیشے اس کے راستے بند نہیں کرتے، کاہلی اور سستی اس کی طاقت سلب نہیں کرتی، کسی مخالفت کی وہ پروا نہیں کرتا، اس لیے وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے۔

امام احمد کے بارے میں ان کے شاگرد ابراہیم حربی کی گواہی اپنے اندر بڑا سبق رکھتی ہے، وہ کہتے ہیں: میں امام احمد کے ساتھ بیس سال رہا، موسم گرما میں بھی اور موسم سرما میں بھی، سخت گرمی میں بھی اور شدید سردی میں بھی، دن میں بھی اور رات میں بھی۔ اس دوران میں ان سے روز ہی ملتا اور جب ان سے ملتا تو انھیں گزرے ہوئے دن سے زیادہ بڑھا ہوا پاتا۔ (طبقات الحنابلہ)

اسلامی تحریک کے کارکن وہی ہیں جو ہر آنے والے دن میں تحریکی مشن کو کچھ آگے بڑھادیں۔

صلاحیتیں پہچانیں اور لگائیں

مولانا مودودیؒ نے رفقائے تحریک کو یہ حیات بخش ہدایت کی تھی کہ

’’انھیں اپنے عہد کی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ادا کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور ہر شخص کو اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا پورا جائزہ لے کر ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرناچاہے کہ وہ کیا کام کرسکتا ہے، پھر جس کام کی اہلیت و صلاحیت اسے اپنے اندر محسوس ہو اس کو انجام دینے میں بس لگ جانا چاہیے۔ یہ وقت وہ ہے جو ہم سے اپنی انتہائی حدوسع تک سعی و کوشش کا مطالبہ کررہا ہے۔ ضرورت ہے کہ ایک لمحہ کا انتظار کیے بغیر ہم میں سے ہر شخص اٹھے اور جس سے جو کچھ ہوسکتا ہے کرلے۔ جو اہل علم ہیں وہ تخریب و تعمیر افکار کی مہم میں مصروف ہوں، جو اہل تعلیم ہیں وہ نئی نسل کی تیاری کے لیے مستعد ہوجائیں، جو ادیب ہیں وہ ادب کی مختلف راہوں سے نظام حاضر پر حملہ آور ہوں اور نظام اسلام کی دعوت پھیلائیں، جو مضمون نگار ہیں وہ اخبار وں اور رسالوں میں اظہار خیال شروع کردیں، جو بات چیت سے لوگوں پر اثر ڈالنے کی قوت رکھتے ہیں وہ انفرادی تبلیغ کی مہم میں مصروف ہو جائیں، جنھیں دیہاتوں میں کام کرنے یا عوام کو خطاب کرنے کا تجربہ ہو وہ دیہات میں گھومیں اور عامة الناس کی اصلاح کے لیے کوشش کریں، جن کو اللہ نے بہتر معاشی حالات دیے ہوں وہ بیت المال کی تقویت کی فکر کریں۔ غرض کسی قوت کی ایک رمق بھی ضائع نہ ہونے پائے۔ رہا یہ سوال کہ آپ کتنا کام کریں اور کس حد تک کریں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا بہترین فیصلہ آپ کا اپنا ضمیر ہی کرسکتا ہے، آپ اتنا کام کریں اور اس حد تک کیے چلے جائیں جس کے بعد آپ کا ضمیر مطمئن ہوجائے کہ خدا جب آپ سے آپ کے وقت اور قوتوں کا حساب لے گا تو آپ اس کارنامۂ خدمت کو پیش کرکے مغفرت کی امید کرسکیں گے۔‘‘(روداد حصہ اول)

بہت سے لوگوں کی پوری زندگی گزرجاتی ہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ ان کے اندر کون سی صلاحیت ہے جو اسلام کے کام آسکتی ہے۔ انسان اگر اپنے اندرون کا سفر کرے تو اسے اپنے اندر قوت و توانائی کے بہت سے خزانے ملیں جنھیں وہ اسلام کے راستے میں لگاکر بہترین سرمایہ کار بن سکتا ہے۔

تحریک کے کاموں کو عبادت کی طرح انجام دیں

اپنے اندر پوشیدہ قوتوں سے اللہ کی عبادت کرنا اور پھر خاص قوت سےخصوصی عبادت کرنا، عبادت کا وہ تحریکی تصور ہے جو آپ کی تحریکی کوشش و محنت کو روحانی کیف و مستی عطا کرتا ہے۔ مولانا مودودیؒ کےان جملوں کو بار بار پڑھنا چاہیے:

’’دراصل اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر شخص سے اس عبادت کا مطالبہ کرتا ہے جس کی صلاحیت اس نے اس کے اندر ودیعت کی ہے۔ جو قوتیں اللہ نے کسی شخص کو تفویض کی ہیں، ان ساری قوتوں سے اس کو عبادت بجالانی چاہیے اور جو خاص قوت کسی کو زیادہ عطا فرمائی ہے اس پر عبادت کا حق بھی بہ نسبت دوسری قوتوں کے زیادہ عائد ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص کو اللہ نے گویائی کی قوت زیادہ عطا کی ہوتو اس کے لیے اصل عبادت یہی ہوگی کہ اپنی زبان کو اعلائے کلمة اللہ کی خدمت میں استعمال کرے، اور جسے تحریر کی نمایاں صلاحیت بخشی گئی ہو، سب سے زیادہ اس کے قلم ہی پر فرائض عبودیت عائد ہوں گے۔ غرض ہر شخص کے ذمے وہی کام ہے جس کی قوت خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اسے ودیعت کی ہو۔ اگر وہ اس کام کو چھوڑ کر کسی دوسرے ایسے کام میں اپنی قوتیں صرف کرتا ہے جس کی اہلیت اس میں نسبةً کم ہے تو وہ اجر کا مستحق نہیں بلکہ اس کے مبتلائے وزر ہوجانے کا اندیشہ ہے۔‘‘ (روداد حصہ اول)

غفلت ہوتی ہے تو سب ہاتھ سے جاتا رہتا ہے

سلف صالحین کا خیال تھا کہ ہر انسان، وہ کتنا ہی چوکس ہو، غفلت کا شکار ہوکر اپنا اچھا خاصا وقت ضائع کردیتا ہے، اس لیے مزید جان بوجھ کر وقت ہرگز نہیں ضائع کرنا چاہیے۔ 

امام ابن الجوزیؒ سے کسی نے پوچھا: کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ مباح قسم کی تفریحات کے لیے اپنے نفس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دوں؟ انھوں نے کہا: تمھارے نفس کے پاس پہلے سے جو غفلت ہے وہی اُس کے لیے بہت کافی ہے۔ (ذیل طبقات الحنابلة)

علامہ ابن قیم کی بات بڑے پتے کی ہے، وہ کہتے ہیں: لا بد من سِنة الغفلة، ورقاد الغفلة، ولكن كن خفیف النوم‘‘غفلت کے جھونکے سے چارہ نہیں اور غفلت کی نیند بھی ضرور آئے گی، لیکن تم ہلکی نیند والے بنو۔‘‘ (الفوائد)

غفلت کی نیند جب گہری ہوتی ہے تو بہت لمبی ہوجاتی ہے۔ ہفتوں گزر جاتے ہیں کسی دینی کتاب کا مطالعہ نہیں ہوپاتا۔ مہینوں گزرجاتے ہیں سماج کی اصلاح کا کوئی کام نہیں ہوپاتا، برسوں گزرجاتے ہیں دین کی دعوت کا کام ٹھنڈے بستے میں پڑا رہتا ہے۔ بچے چوتھائی صدی ساتھ رہ کر جوان ہوجاتے ہیں اور انھیں دین سکھانے کی نوبت نہیں آتی۔ زندگی بیت جاتی ہے اور زندگی کو سنوارنے کے بہت سے منصوبے شروع بھی نہیں ہوپاتے۔

غفلت کی نیند ہلکی رہے تو ایک دن کی کوتاہی رات کو سوتے وقت بے چین کردیتی ہے اور آدمی اگلے دن اس کوتاہی کی تلافی کرنے کا ارادہ کرکے سوتا ہے۔ پھر تزکیہ و تربیت اور اصلاح و دعوت کے بہت سے منصوبے صحیح وقت پر شروع ہوجاتے ہیں۔ دیر ہوتی ہے تو تھوڑی ہی دیر ہوتی ہے۔ بیچ میں وقفہ ہوتا ہے تو وہ مختصر وقفہ ہوتا ہے۔ اتنا وقفہ کہ جس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا ہے۔محنت بڑھاکر اور توبہ کے آنسو ٹپکاکر چھوٹے نقصان کی جلد ہی تلافی ہوجاتی ہے۔

غفلت سے نکالنے والے غفلت میں کیسے جاپڑے

افراد کی غفلت نے تحریک سے بہت سے قیمتی ہیرے چھین لیے۔ کتنے ہی بچے مطالعہ کے رسیا تھے، انھوں نے نوجوانی کی عمر تک خوب مطالعہ کیا، شاندار فکری اساس تیار کی،پھر غفلت کا دورہ پڑا، مطالعہ کی عادت چھوٹی، کچھ برسوں میں نوبت یہاں تک پہنچی کہ گویا علم سے کبھی رشتہ ہی نہیں تھا۔ کتنے ہی نوجوان طالب علمی کے دور میں قلم کے بادشاہ تھے، بڑی محنت اور محبت سے لکھتے تھے، ان کی تحریریں شاہ کار مانی جاتی تھیں، پھر غفلت نے دھیرے سے ان کے ہاتھ سے قلم لے لیا، اور وہ جنھیں اپنے قلم کی روشنائی سے ایک جہان روشن کرنا تھا قلم اٹھانا ہی بھول گئے، قلم کی روشنائی بھی سوکھ گئی اور ذہن میں فکر کے سوتے بھی خشک ہوگئے۔ فنون لطیفہ کی خداداد صلاحیتوں سے مالا مال بچے جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کی پرورش کرکے انقلاب کے سفر کو تیز تر کرسکتے تھے، جوان ہوکر اپنی صلاحیتوں کو یکسر فراموش کربیٹھے۔ مصوری، شاعری، نغمہ، ادا کاری، افسانہ نگاری اور ایسی بہت سی قیمتی صلاحیتیں پھولنے پھلنے سے پہلے ہی مرجھاگئیں۔ بہت سے نوجوان جو اپنی فعالیت کے لیے مثال تھے، ہر سرگرمی میں پیش پیش رہتے تھے، اس طرح جمود کا شکار ہوئے کہ جیسے وہ کچھ تھے ہی نہیں۔ بے پناہ ذہانت رکھنے والے طلبہ و طالبات، جن کے ذہین دماغوں سے اسلامی تحریک کو فکری توانائی ملنے کی امید تھی، تحریک کی علمی و فکری ضرورتوں سے بے گانہ ہوگئے۔ یا تو فکرِ امروز نے انھیں مصروف کردیا، یا کسی منفی سوچ کی لہر نے ان کے ذہن کو مفلوج کرکے رکھ دیا۔

غفلت کا یہ روگ کسی کو بچپن میں لگا، کسی کو نوجوانی میں اور کسی کو جوانی کے بعد۔ کسی کے لیے شادی بہانہ بنی، کسی کے لیے اعلی تعلیم اور کسی کے لیے ملازمت اور کاروبار۔ کوئی ملک سے باہر جاکر کسی بازار میں گم ہوا اور کوئی ملک میں رہتے ہوئے خواب غفلت میں ڈوب گیا۔ غفلت کی کیفیت بڑی خطرناک ہوتی ہے، آدمی زبان سے کہتا ہے کہ میرے پاس جو بھی ہے وہ خدا کا ہے، لیکن وہ کچھ بھی خدا کے سامنے پیش نہیں کرتا ہے اور اس طرح دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے۔

تحریک کا کام تو جمود کو توڑنا ہوتا ہے، اگر جمود کو توڑنے والے خود جمود کا شکار ہوجائیں تو اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا!!

غفلت کی تباہ کن حالت سے اگر کوئی چیز محفوظ رکھ سکتی ہے تو وہ نصب العین سے سچی محبت ہے، اللہ کو راضی کرنے کا خالص جذبہ ہے، آخرت کے دنیا سے کہیں زیادہ بہتر ہونے کا عقیدہ ہے، زندگی کے تیزی سے گزرنے اور مواقع کے ہاتھ سے نکلنے کا احساس ہے، روز سچی توبہ اور روز تازہ عزم ہے۔ 

اُٹھ کہ خورشید کا سامانِ سفر تازہ کریں

نفَسِ سوختۂ شام و سحر تازہ کریں

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau