اقبال کی تین بہترین نظمیں

غلام نبی کشاف

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے

وادیٔ کشمیر میں ہر دور میں ایسی بہت سے شخصیات جنم لیتی رہی ہیں جنھوں نے مذہبی، سیاسی، سماجی اور علمی وادبی لحاظ سے اپنی گراں قدر خدمات کے ذریعہ اپنے پیچھے گہرے اثرات ونقوش چھوڑے ہیں۔ اگرچہ اب تو اس طرح کی شخصیات کا معرضِ وجود میں آنا عنقا یا مدھم پڑگیا ہے مگر کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی علاقے میں کوئی نہ کوئی علمی وفکری پیکر کی حامل شخصیت ضرور جنم لیتی رہتی ہے۔ چنانچہ اسی طرح کی ایک ایسی شخصیت ہے جو نہ صرف علمی، ادبی اور مذہبی حلقوں اور اداروں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے بلکہ وہ عمل وکردار کے اعتبار سے بھی مقبول اور مرکز توجہ بنی ہوئی ہے۔ اس شخصیت سے میری مراد سرینگر سے تقریباً ۶۰ کلو میٹر کی مسافت کی دوری پر شمالی کشمیر حدی پورہ رفیع آباد بارہمولہ کے معروف عالم ودانشور اور ایک درجن کے قریب کتابوں کے مصنف ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب ہیں۔ (تاریخ پیدائش ۱۹۵۵ء)

ڈاکٹر لون صاحب نہ صرف اسلامی علوم وفنون کے عالم وماہر ہیں بلکہ وہ تاریخ، عمرانیات، فنونِ لطیفہ، فلسفہ، علم الکلام، ادب اور سائنسی علوم پر بھی عبور ودسترس اور گہری وعمیق نظر رکھتے ہیں اور وہ وسیع المطالعہ ووسیع المشرب ہونے کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند بھی ہیں جس کا واضح اور بین ثبوت ان کی وقیع وگراں قدر درجنوں کتابوں اور مختلف رسائل واخبارات میں ان کے شائع شدہ علمی وتحقیقی نوعیت کے مضامین ومقالات سے ملتا ہے۔ چونکہ وہ ہمیشہ نت نئے ومتنوع اور فکر انگیز موضوعات پر کھلے دل ودماغ سے لکھتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ عادت اور شہرت سے مجبور ہو کر نہیں بلکہ ضرورت کے تحت لکھتے ہیں اور یہی ایک اچھے اور قابل مصنف کی خوبی اور پہچان ہوتی ہے۔ چنانچہ ہندو پاک کے علمی حلقوں میں ان کی جن کتابوں سے پہچان بنی ہوئی ہے ان میں چند کے نام یہ ہیں۔

(۱)مطالعۂ تصوف (۲) قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے سائنسی کارنامے (۳) حضرت خضر (۴) خواب کی حقیقت (۵) اقبال کا جہانِ آدم وابلیس (۶) نٹشے اور اقبال (۷) اقبال کی تین بہترین نظمیں

اول الذکر کتاب ’مطالعۂ تصوف‘ ان کی پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ ہے۔ تصوف کے موضوع پر ان کا یہ مقالہ لاجواب اور علم و آگہی کی دنیا میں ایک گراں قدر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مقالہ کو بعد میں مرکزی مکتبہ اسلامی نے کتابی صورت میں شائع کیا تھا (سنِ اشاعت اول دسمبر: ۱۹۹۴ء، صفحات: ۶۰۵) میرے علم کی حد تک کشمیر میں اس سے پہلے اسلامیات کے حوالے سے اس طرح کی کسی بھی موضوع پر تحقیقی اعتبار سے کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے لون صاحب یقیناً  اس علمی وتحقیقی کاوش پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

اس طرح ان کی اس تحقیقی کاوش کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف ومتنوع موضوعات پر ان کی تصانیف وتحقیقات کا سلسلہ چل پڑا۔ اور وقفہ وقفہ سے ان کی کوئی نہ کوئی کتاب منظر عام پر آتی رہتی ہے۔ نیز یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے فکر وخیال پر علمی وعبقری شخصیات کے حوالے سے سب سے زیادہ اور غالب اثر شاعر مشرقی علامہ اقبال (۱۸۷۵ء- ۱۹۳۸ء) کا ہے۔ اس لیے ان کو اقبالیات پر بھی زبردست عبور ودسترس اور غیر معمولی استحضار حاصل ہے۔ اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ صحیح معنوں میں ان کا نام گرامی بھی چوٹی کے ماہرین اقبالیات میں شمار کئے جانے کے لائق ہے۔

حال ہی میں ان کی ایک نئی کتاب ’اقبال کی تین بہترین نظمیں‘ منظر عام پر آئی ہے۔ اس کتاب کو جماعت اسلامی، حلقہ حدی پورہ رفیع آباد (بارہمولہ) نے خوبصورت طباعت، معیاری کاغذ او رجاذب نظر سرورق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے صفحات ۱۰۶، قیمت ۸۰ روپے اورسن اشاعت جون ۲۰۱۴ء۔

علامہ اقبال برصغیر کی واحد ایسی شخصیت ہیں کہ جن کے افکار ونظریات نے بلا لحاظ مذہب وملت کے ہر طبقہ او رہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اہل علم ودانش پر گہرے اور دور رس اثرات چھوڑے ہیں۔ ان کی شعری ونثری کتابوں کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ کوئی بھی اہل دانش علامہ اقبال کے بعض نظریات سے کتنا بھی اختلاف کرے مگر ان کے کلام کے مطالعہ اور اس سے استفادہ کئے بنا نہیں رہ سکتا کیونکہ ان کا کلام آفاقی والہامی نوعیت کا ہے۔ اور ان کے کلام کی اہمیت، افادیت اور ضرورت ہمیشہ کی طرح آج بھی نئے محققین محسوس کرتے ہیں۔ اور عصری تقاضوں کے تحت مختلف عنوانات ترتیب دیکر اسے موضوع بحث بنادیتے ہیں۔ چنانچہ اس سلسلہ کی ایک کڑی ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی زیر نظر کتاب ’اقبال کی تین بہترین نظمیں‘ بھی ہے۔ اس کتاب میں جن تین نظموں کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اس طرح ہیں۔

(۱) شمع اور شاعر (۲) خضر راہ   (۳) طلوع اسلام

لون صاحب نے ان نظموں کی تشریح اس انداز سے کی ہے کہ یہ نظمیں بالکل تازہ معلوم ہوتی ہیں۔ انھوں نے نہ صرف ان نظموں کو زندہ کیا ہے بلکہ ان کی عصری معنویت کا بھی ثبوت پیش کیا ہے۔ انھوں نے پہلے ہر نظم کا پس منظر بتایا اور اس کے بعد ہر نظم کا مکمل متن دیا اور پھر آگے ہر شعر کو الگ الگ نقل کر کے ان کی جامع اور دلکش انداز میں تشریح کی ہے۔ اور یقینا ان نظموں کو انھوں نے آسان اور عام فہم بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ نیز انھوں نے غیر ضروری طوالت، ثقیل الفاظ اور بوجھل زبان سے حتی المقدر پرہیز کیاہے۔ اس لیے ہر شعر کے تشریحی نوٹ کی عبارت میں جملوں کی ساخت وپرداخت اور الفاظ کا انتخاب بہت ہی خوبصورت اور دلکش ہے۔ اور جو بھی ان کی اس کتاب کو پڑھنے کے لیے ہاتھ میں لے گا تو وہ اس کو ایک ہی نشت میں ختم کئے بنا نہیں رہ سکتا۔

چونکہ جب کوئی آفاقی والہامی نوعیت کے پیغام کی حامل شخصیت ہوتی ہے تو اس کے کلام کی تشریح کا حق بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے جو خود بھی تاریخ انسانی، قوموں کے عروج وزوال اور موجودہ عالم انسانیت کے احوال وواقعات پر گہری نظر رکھتا ہو، چنانچہ لون صاحب نے زیر نظر کتاب میںعلامہ اقبال کی تین خاص نظموں پر جس طرح کے تشریحی نوٹوں کو لکھا اور جس انداز میں ان نظموں سے موجودہ دور کے مسلمانوں خاص کر مسلم حکمرانوں کے لیے پیغامِ بیداری اخذ کیا ہے وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ لون صاحب حقیقی معنوں میں اس کے اہل ہیں۔ جیسا کہ انھوں نے ’شمع اور شاعر‘ والی نظم کے پسِ منظر کے ضمن میں ایک جگہ پر یہ چند فکر انگیز سطریں بھی سپرد قلم کی ہیں۔

’شمع اور شاعر‘ ایک سو سال پہلے لکھی گئی ہے۔ مگر آج ۲۰۱۳ء میں یہ نظم بالکل تازہ لگتی ہے۔اس نظم کے بعد ایک سو سال کی تاریخ پر نظر ڈالئے تو نظر آئے گا کہ عالم اسلام بظاہر ۵۷ ملکوں پر مشتمل ہے مگر اس میں کوئی دم خم نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ ختم ہوچکی ہے۔ عرب کو غداروں کی مدد سے اہل یورپ نے چھوٹے چھوٹے خطوں میں بانٹ کر رہی سہی کسر پوری کردی ہے۔ فلسطین میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہوچکی ہے۔ اس وقت پورا عالم اسلام مغرب اور امریکہ کے زرخرید ایجنٹوں کے قبضے میں ہے۔ ہر طرف آمریتیں اسلام کے سینے پر ناسور کی شکل میں موجود ہیں۔ اگر کسی ملک میں اسلامی بیداری کے آثار پیدا ہورہے ہیں تو یہ اپنے مغربی اور امریکی آقاؤں کے اشاروں پر واویلا مچاتی ہیں۔ ان بادشاہوں اور آمروں کی بے غیرتی نے پوری ملت اسلامیہ کو مصائب اور مشکلات میں مبتلا کردیا ہے۔

’شمع اور شاعر‘ میں علامہ نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ نظم میں علامہ نے مسلمانوں کی حالت کا ماتم کیا ہے۔ پچھلے ایک سو سال کے دوران عالم اسلام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ۱۱/۹ کے بعد عالم اسلام کے حالات نے جو رُخ اختیار کیا ہے، اسے دیکھ کر سو سال پرانی نظم آج بھی تازہ لگتی ہے‘‘۔ (ص: ۸۔۹)

عجیب اتفاق ہے کہ ابھی حالیہ دنوں میں غزہ پر اسرائیل کی طرف سے جو جارحیت ہوئی اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے لون صاحب نے یہ چند سطریں لکھی تھیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ چند سطریں علامہ اقبال ہی کے آئینہ بصیرت سے رقم کرگئے ہیں۔

علامہ اقبال نے اپنی اس نظم ’شمع اور شاعر‘ میں لفظوں کو خون جگر پلایا ہے۔ اور اس کے ہر شعر کے الہامی ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ جس کا اندازہ زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے اچھی طرح ہوتا ہے۔ اس نظم کے کئی اشعار اگرچہ آج بھی زبان زد خاص وعام ہیں مگر بدقسمتی سے اکثر لوگ ان کے معانی ومفہوم اور پیغام سے بے خبر ہیں۔ نمونے کے طور پر اس آفاقی پیغام کی حامل نظم کے چند اشعار یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔

۱)وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

۲)فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں، اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

۳)ے خبر! تو جوہرِ آئینۂ ایام ہے

تو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

۴)اپنی اصلیت سے ہو آگاہ اے غافل کہ تو

قطرہ ہے لیکن مثالِ بحرِ بے پایاں بھی ہے

۵)تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا

ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے

۶)آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آسکتا نہیں

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

۷)شب گریزاں ہوگی آخر جلوئہ خورشید سے

یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

لون صاحب نے زیر نظر کتاب میں جس دوسری نظم کا انتخاب کیا ہے، اس کاعنوان ’خضر راہ‘ ہے۔ یہ نظم امت مسلمہ کی زبوں حالی اور بربادی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کرتی ہے۔ جس میں علامہ اقبال حضرت خضر علیہ السلام سے عالم تخیل میں چند سوالات کر کے ان سے امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبال نے یہ نظم ۱۹۲۱ء میں لکھی تھی اور اس وقت عالم اسلام کی کیا صورت حال تھی؟ اس کا نقشہ لون صاحب نے اس طرح کھینچا ہے۔

’خضر راہ‘ جس وقت لکھی گئی اس وقت عالم اسلام سخت حالات سے گزر رہا تھا پہلی جنگ عظیم ختم ہوچکی تھی، خلافت عثمانیہ کے ٹکڑے ہوچکے تھے۔ عرب مسلمانوں میں لارنس آف عربیہ کے مکار دماغ نے ترک مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بوئے تھے اور وہ عرب قومیت کی شراب سے بدمست ہو کر ترکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ شریف حسین انگریزوں کے جال میں گرفتار ہو کر ترکوں کے خلاف بغاوت کرچکا تھا، خلافتِ عثمانیہ کی کمزوری کا یہ حال تھا کہ قسطنطنیہ پر اتحادی فوجوں نے قبضہ کیا تھا۔ برصغیر میں انگریزوں کے خلاف ترکِ موالات اور تحریک خلافت زوروں پر تھی۔ بیسویں صدی کی پہلی دہائی ہی سے عالم اسلام کے مقدس مقامات بیت المقدس دمشق اور بغداد مغربی طاقتوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں کی غداری سے بیت المقدس پر صلیبی پرچم لہرانے لگا‘‘۔ (ص: ۴۵)

جس زمانے میں علامہ اقبال نے اس ’خضر راہ‘ والی نظم کو لکھا تھا اس وقت عالم اسلام خاص کر عالم عرب کی سیاسی صورت حال انتہائی ابتر تھی۔ علامہ اقبال نے اس پر تبصرہ فرماتے ہوئے مسلمانوں کو متحد رہنے اور ایک ہو کر مضبوط طاقت بننے کی ترغیب دی تھی۔ تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے دشمنوں پر یلغار کرنے کے لیے صف آرا ہوجائیں۔ اس سلسلہ میں خاص طور پر موجودہ حالات کے تناظر میں بھی علامہ اقبال کی اس فکر انگیز نظم کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ لون صاحب نے اس نظم کے ہر شعر کی ترجمانی وتشریح انتہائی جاندار اور مؤثر انداز میں کی ہے۔ یہاں پر اس نظم کے بھی چند فکر انگیز اور غور طلب اشعار نقل کئے جاتے ہیں۔

۱)آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

۲)یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے

۳)سروری زیبا فقط اس ذاتِ بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی باقی بتانِ آزری

۴)اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے

مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

۵)حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی

کڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز

۶)ہوگیا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تیرا دل نہیں دانائے راز

۷)ایک ہوں مسلم، حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب نے زیر نظر کتاب میںجس تیسری نظم کا انتخاب کیا ہے اس کاعنوان ’طلوعِ اسلام‘ ہے۔ اس نظم کا شمار بھی علامہ اقبال کی چند بہترین نظموں میں سے ہوتا ہے۔ اس نظم کو علامہ اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں اپریل ۱۹۲۳ء میں پہلی بار پڑھ کر سنایا تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ترکوں کو ہر طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا تھا، یونانیوں نے سمرنا پر قبضہ کر کے ترکوں کا قتل عام کیا، جس سے ترکوں میں جذبات بھڑک گئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۹۲۲ء میںترکوں نے جارحانہ جنگ کا آغاز کیا اور ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کیا جو یونانیوں کے قبضہ میں چلے گئے تھے خاص کر سمرنا پر دوبارہ قبضہ اس جنگ کی سب سے بڑی فتح تھی۔ اور اس جنگ میں یونانیوں کی تین لاکھ فوج کو شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اور بیشتر فوجیوں کو قتل کردیا گیا۔ جس سے یورپ کے ایوانوں میں صف ماتم بچھ گیا تھا۔ چنانچہ لون صاحب ترکوں کی اس عظیم فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’ترکوں کی فتح نے اتحادیوں کے ایوانوں کو لرزادیا، یونانی فوجیوں میں بہت کم جان بچا پائے۔ بیشتر سمندر میں دھکیلے گئے یا میدانِ جنگ میں قتل ہوگئے۔ ایک بڑی تعداد گرفتار ہوگئی۔ ترکوں کے ہاتھ بے شمار مالِ غنیمت لگا۔ ان کی اس فتح نے یورپ کو مبہوت کردیا‘‘۔ (ص: ۸۱)

ترکوں کی اس فتح سے عالم اسلام میںخوشی کی لہر پھیل گئی۔ علماء اور اہل دانش نے اس عظیم فتح پر گراں قدر مضامین لکھے اور بہت سے شعراء نے ولولہ انگیز نظمیں لکھیں۔ اس زمانے کے ایک معروف شاعر اقبال سہیل خان نے ’’فتح سمرنا‘‘ کے عنوان سے ایک طویل نظم لکھی تھی جس میں ان کا ایک شعر اس طرح تھا  ؎

زمانے نے ورق الٹا ہے پھر تاریخ کا

وہ پہنچا پرچمِ اسلام پھر ارضِ سمرنا میں

ترکوں کی اس فتح نے علامہ اقبال پر بھی گہرے اثرات چھوڑے تھے اور انھوں نے بھی اسی تناظر میں ’طلوع اسلام‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز نظم لکھی تھی۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس نظم کے پس منظر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

’’طلوع اسلام‘ کا پس منظر یہ ہے کہ اس کو انھوں نے ۱۹۲۳ء میں لکھا تھا۔ چونکہ اس زمانہ میں مصطفیٰ کمال پاشا نے سقاریہ کی جنگ میں یونانیوں کو شکست دے کر ساری دنیا پر حقیقت آشکارا کردی تھی کہ ترک ابھی زندہ ہیں اور سمرنا فتح کر کے مسٹر گلیڈ سٹن کے خاندان میں صفِ ماتم بچھادی تھی۔ اس لیے اقبال نے جس طرح مایوسی کے عالم میں ’’شمع اور شاعر‘‘ لکھی تھی اسی طرح رجائیت کے عالم میں یہ نظم لکھی‘‘۔ (بانگ درا مع شرح، ص: ۸۱۵)

علامہ اقبال کی یہ نظم خیالات کی بلند پروازی کی شہکار ہے۔ اس نظم کی مضمون آفرینی اور فلسفہ طرازی کے حوالے سے لون صاحب نے پروفیسر یوسف سلیم چشتی ہی کا یہ اقتباس نقل کیا ہے۔

’’میری رائے میں بندش اور ترکیب،مضمون آفرینی اور بلند پروازی، رمزو کنایہ کی پریشانی اور مشکل پسندی، شوکتِ الفاظ اور فلسفہ طرازی غرضیکہ صوری اور معنوی محاسنِ شعری کے اعتبار سے یہ نظم بانگ درا کی تمام نظموں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اقبال کی شاعری کا نقش میرے دل پر اسی نظم کے مطالعہ سے مرتسم ہوا اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ یہ نظم انھوں نے اس وقت لکھی جب ترکوں کی کامیابی سے ان کے دل میں مسرت کے جذبات موجزن تھے ؎ ’’افق سے آفتاب ابھرا گیا دورِ گراں خوابی‘‘۔(زیر نظر کتاب ص: ۸۲/ بانگ درا مع شرح، ص: ۱۶۔۸۱۵)

واضح رہے یہ نظم علامہ اقبال نے اس وقت لکھی تھی جب ترکوں نے یونانیوں کی تین لاکھ فوج کو شکست دیکر عظیم فتح حاصل کی تھی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی اہل ترک عروج وزوال کے کئی دور سے گزرے اور دشمنوں کی ظلم وبربریت اور سازشوں کے شکار بھی رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج ترکی میں سیاسی وملکی صورت حال کافی زیادہ بہتر اور مستحکم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی موجودہ لیڈر شب عالم عرب کے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کے مقابلے میں زیادہ بھروسہ مند اور باضمیر ہے۔ اربکان اور رجب اردغان جیسے مخلص ودین پسند قائدین نے ترکی کا وقار واستحکام تعمیر وترقی اور شرعی احکام پر عمل آوری کرانے کے سلسلہ میں قابل تعریف رول انجام دیا ہے۔ اور اگرچہ رجب طیب اردغان کی وزارتِ عظمیٰ کی مدت پوری ہوچکی ہے لیکن وہ اب صدارتی عہدے پر بھی فائز ومنتخب ہوئے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ ایسی لیڈر شب چاہتے ہیں جو ان کو احساسِ تحفظ اور ملکی اعتبار سے مستحکم او رخود کفیل بنائے۔ اور اس سلسلہ میں ان کی پہلی پسند رجب طیب اردغان قرار پائے۔ اور سچ یہ ہے کہ وہاں اس وقت ان سے بہتر لیڈر اور مغربی ممالک کے حکمرانوں سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے والا کوئی نہیں۔ چنانچہ موجودہ ترکی کی بہتر سیاسی وملکی صورت حال، علامہ اقبال کی طلوع اسلام والی نظم کی یاد دلاتی ہے۔ جو تقریباً ایک صدی قبل انھوں نے ترکوں کی ہی یونانیوں کے مقابلے میں فتح اور سمرنا پر دوبارہ قبضہ کرنے پر لکھی تھی۔ یہ نظم آج بھی امت مسلمہ کو حوصلہ دیتی ہے، امید کی جوت جگادیتی ہے اور روشن مستقبل کا مژدہ سنادیتی ہے اور یہی چیز اس نظم میں عصری معنویت کو ثابت کرتی ہے۔ اور بالکل تازہ نظر آتی ہے۔

ڈاکٹر لون صاحب نے اس نظم میں تمام اشعار کی آسان وعام فہم اور بہت ہی جامع انداز میں ترجمانی کی ہے۔ یہاں نمونے کے طور پر اس نظم کے بھی چند خوبصورت اور ضرب المثل اشعار کو نقل کیا جاتا ہے۔

۱)مسلماں کو مسلماں کردیا طوفان مغرب نے

تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

۲)ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

۳)سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

۴)کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زورِ بازو کا؟

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

۵)یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتح عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

۶)جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے

۷)عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال کا بیشتر کلام الہامی ہونے کا گمان ہوتا ہے جس کا ایک واضح ثبوت یہ بھی ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے عالم عرب کے کئی ممالک جنگ یا جنگی جیسی صورت حال کی زد میں ہیں۔ جہاں کے عوام انتہائی بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ خاص کر شام وفلسطین کے نہتے انسانوں کا قتل عام ایک معمولی سی بات بن گئی ہے۔ ان دونوں ممالک کی اس ابتر وناگفتہ بہ صورت حال پر علامہ اقبال کی تقریباً ایک صدی پہلے لکھی ہوئی ایک نظم ’دام تہذیب‘ کا یہ شعر بالکل صادق آتا ہے   ؎

جلتا ہے شام و فلسطین پہ مرا دل

کھلتا نہیں تدبیر سے یہ عقدئہ دشوار

اس طرح ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب کی زیر نظر کتاب نہ صرف موجودہ دور میں تفہیم اقبال کے سلسلہ میں ایک کامیاب کوشش ہے بلکہ اس سے عالم اسلام کی موجودہ صورت حال کو سمجھنے اور آئندہ لائحہ عمل وضع کرنے میں زبردست تحریک اور مدد ملے گی۔ انھوں نے اپنی اس کتاب میں علامہ اقبال کی جن تین بہترین نظموں کا انتخاب کیا ہے ان کے مطالعہ سے اقبالیات کی عصری معنویت بھی نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ میں نے ذاتی طور پر علامہ اقبال کی کتاب ’بانگ درا‘ کو کئی بار پڑھا اور اس کی کئی شرحوں کو بھی دیکھا مگر جو فائدہ مجھے لون صاحب کی اس زیر نظر تازہ کتاب سے ملا وہ کسی اور کتاب سے نہیں ملا۔ اس لیے میں چاہوں گا کہ قارئین بھی اس کتاب کا ایک بار ضرور مطالعہ کریں۔ خدا نے چاہا وہ بھی میرے ان جذبات واحساسات سے ضرور اتفاق کریں گے۔ اور وہ بھی اس جدوجہد میں شریک ہو کر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے دفاع میں آوازِ حق بلند کرنے میں اپنا کردار اداکرنے پر ضرور آمادہ ہوں گے۔ کسی شاعر نے بہت خوب کہا ہے؎

جب ولولہ صادق ہوتا ہے، جب عزمِ مصمم ہوتا ہے

تکمیل کا سامان غیب سے خود اس وقت فراہم ہوتا ہے

دسمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau