کیا ترکِ علاج اولیٰ ہے؟

سید جلال الدین عمری

ماہ نامہ زندگی نو اپریل ۲۰۱۰؁ کے ایک مضمون میں یہ بات کہی گئی تھی کہ ’’اللہ تعالیٰ نے بیماریاں بھی بنائی ہیں اور ان کاعلاج بھی بتایاہے اور لوگوں کو علاج کا بھی حکم دیاہے، لیکن اگر کوئی شخص مرض میں دوائیں استعمال نہ کرے، بل کہ کامل طورپر اللہ پربھروسا رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے گاتو ایسے شخص کے بارے میں آیاہے کہ بلاحساب و کتاب جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ اس پر زندگی نو کے ایک قاری نے توجہ دلائی ہے کہ یہ بات صحیح اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس موضوع پر مولاناسید جلال الدین عمری امیرجماعت اسلامی ہند کی ایک قیمتی تحریر ان کی مشہور کتاب ‘صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات’ میں شامل ہے۔ اس مناسبت سے اسے شائع کیاجارہاہے، تاکہ اس سلسلے کی غلط فہمیاں بھی دور ہوجائیں اور صحیح اسلامی تعلیم بھی سامنے آجائے۔ ﴿ادارہ﴾

دواعلاج کرانا جائزہی نہیں بل کہ مستحب اور پسندیدہ ہے۔ بل کہ بعض حالات میں یہ واجب بھی ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی ایک روایت سے بحث کرنا ضروری ہے۔ روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ کے رسولوں اور ان کی امتوں کامشاہدہ کرایاگیامیں نے دیکھاکہ کسی کے ساتھ اس کا ایک ہی ماننے والاتھا، کسی کے ساتھ دو تھے، کسی کے ساتھ چھوٹی سی جماعت تھی اور کسی کے ساتھ ایک بھی نہیں تھا۔ اسی دوران میں نے ایک بڑی جماعت دیکھی جو افق پر چھائی ہوئی تھی، مجھے خیال ہواکہ یہ میری امت ہوگی۔ لیکن بتایاگیاکہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے۔ پھر میں نے اس سے بڑی ایک جماعت دیکھی جو ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ مجھ سے کہاگیاکہ یہ تمہاری امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار انسان وہ بھی ہوںگے جو جنت میں اس طرح جائیںگے کہ ان کاحساب نہ ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاگیاکہ وہ کون لوگ ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا:

ہم الذین لاینتظرون و لایکتوئون ولا یسترقون وعلیٰ ربہم یتوکلون

’’یہ وہ لوگ ہیں جو پرندوں کے ذریعے نہ شگون لیتے ہیں ، نہ داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑپھونک کرتے ہیں اور اپنے رب سے بھروسا کرتے ہیں۔‘‘

یہ سن کر حضرت عکاشہ بن محصنؓ نے دریافت فرمایاکہ کیا میرا بھی شمار انھی میں ہے۔ آپﷺ نے فرما:یا ہاں! تم بھی انھی میں ہو۔ایک دوسرے شخص نے پوچھاکہ کیا میں بھی، انھی لوگوں میں ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: عکاشہ ؓ  تم سے اس میں سبقت لے گئے۔﴿۱﴾

اس روایت سے یہ استدلال کیاگیاہے کہ تدبیر کے مقابلے میں توکل کامقام اونچا ہے۔ علاج کرانا جائز تو ہے لیکن جو شخص بیماری میں دوا علاج کی فکر نہ کرے اور خداپر بھروسا رکھے، اس کاشمار ان ستر ہزار خوش نصیب انسانوں میں ہوگا، جو بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔ لیکن یہ استدلال کئی پہلوئوں سے غلط ہے۔

﴿۱﴾ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپﷺ کا اسوہ یہ ہے کہ صحت خراب ہوتو علاج کرایاجائے۔ اس لیے جو شخص علاج کراتاہے، وہ سنت پر عمل کرتاہے اور جو نہیں کراتا وہ سنت کو ترک کرتا ہے۔ علاج نہ کرانا کسی فضیلت کاباعث ہوتا تو یقینا آپﷺ اس سے احتراز فرماتے۔ اس کے جواب میں کہاجاتاہے کہ آپﷺ نے علاج ا س لیے کرایاتاکہ امت کو یہ بتایاجائے کہ یہ ایک جائز فعل ہے۔ اس سے یہ نہیں ثابت ہوتاکہ علاج کرانا شرعاً بہتر ہے اورفضیلت کاباعث ہے۔ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر قرآن وحدیث میں اشارۃً یا کنایتہ ہی سہی علاج معالجے سے منع کیاگیاہوتا تو اسے منسوخ کرنے اور جواز کاحکم دینے کی ضرورت پیش آتی۔ جب اس سے منع ہی نہیں کیاگیاتو اس کاجواز ازخود ثابت ہے۔ کسی حکم کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر یہ کہ جواز ثابت کرنے کے لیے دوایک بار کا علاج بھی کافی ہوسکتاہے۔ حالاں کہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ آپﷺنے بہ کثرت علاج کرائے ہیں۔ آپﷺکو جو دوائیں یا علاج بتائے جاتے تھے، ان کی وجہ سے حضرت عائشہؓ کی طبی معلومات اتنی زیادہ ہوگئی تھیں کہ لوگ تعجب کرتے تھے۔﴿۲﴾  کسی صحیح حدیث میں صراحت کے ساتھ ترک علاج کی کوئی فضیلت نہیں بیان ہوئی ہے۔ اس کے برخلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف امراض کی دوائیں اور ان کے علاج بتائے ہیں۔ صحابہ کرامؓ کو علاج کا مشورہ دیاہے اور انھوں نے اس پر عمل بھی کیاہے۔ ترک علاج افضل ہوتا تو کم از کم اکابر صحابہؓ حتی الوسع اس سے اجتناب فرماتے۔ حدیث اور سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ حضرات صحابہ نے علاج سے احتراز نہیں بل کہ اسے اختیارکیا اور اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کے اس عام طریقے یا سنت کے خلاف کوئی واقعہ مل جائے تو اس کے اسباب معلوم کرنے ہوں گے۔ اسی طرح کے ایک واقعے کا یہاں ذکر کیاجارہا ہے۔

ابوظبیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیمارہوئے تو حضرت عثمانؓ عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔ دریافت کیاتکلیف کیاہے؟ جواب دیاگناہوں کی۔ فرمایاکس چیز کی طلب اور خواہش ہے؟ جواب دیا اللہ کی رحمت کی۔ فرمایا کسی طبیب کو بلاؤں؟ جواب ‘طبیب’ ہی نے بیماری دی ہے ﴿وہی﴾ اسے ٹھیک کرے گا﴾ فرمایا۔ آپ کے لیے بیت المال سے رقم ﴿وظیفہ﴾کا حکم جاری کردوں؟ جواب دیا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فرمایا: آپ کی بچیوں کے کام آئے گی۔ جواب دیا:کیاآپ کو ڈر ہے کہ میری بچیاں فاقے میں مبتلاہوجائیں گی؟ میں نے ان سے کہہ رکھاہے کہ وہ ہر رات سورۂ واقعہ پڑھیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سناہے کہ جو شخص ہر رات سورۂ واقعہ پڑھے گا، وہ کبھی فاقے سے دوچار نہ ہوگا۔﴿۳﴾

اس واقعے میں حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے طبیب کو بلانے سے منع کیا تو اس سے یہ استدلال کچھ زیادہ قوی نہ ہوگاکہ علاج کاترک کردینا افضل ہے۔ اس کے کچھ اور اسباب بھی ہوسکتے ہیں۔

۱-حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عثمانؓ کے درمیان بعض وجوہ سے ایک طرح کی شکررنجی رہی ہے۔ اس وجہ سے امکان ہے کہ انھوں نے اس بات کو پسند نہ کیاہو کہ حضرت عثمانؓ ان کے لیے طبیب کانظم فرمائیں۔ انھوں نے غالباً اسی لیے عطیہ کی پیش کش کو بھی قبول نہیں کیا۔ جب کہ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں بیت المال سے ان کاوظیفہ جاری تھا۔ روایت میں آتاہے کہ ان کے انتقال سے دو سال پہلے حضرت عثمانؓ نے وظیفہ بند کردیاتھا یا کہ انھوں نے اسے قبول کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ رقم ان کے ورثاکے حوالے کی گئی۔﴿۴﴾

۲-حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کایہ واقعہ ان کے مرض الموت کاہے۔ ممکن ہے کہ اس وقت انھوں نے علاج کی افادیت نہ محسوس کی ہو۔

۳- اگرعلاج کاترک کرنا افضل ہوتا تو شاید حضرت عثمانؓ اس کی پیش کش ہی نہ فرماتے اور اگر پیش کش ہوتی تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صاف الفاظ میں فرماتے کہ علاج کرنے سے نہ کرنا زیادہ ثواب کاباعث ہے۔

۴- حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی یہ روایت گزرچکی ہے کہ اللہ نے ہر بیماری کاعلاج رکھا ہے۔ اس سے علاج کی اہمیت اور افادیت سامنے آتی ہے۔ ان کی کوئی رائے بہ ظاہر اس کے خلاف نہیں ہوسکتی۔

علاج کو توکل کے منافی سمجھنا بھی صحیح نہیں ہے۔ اس لیے کہ توکل یہ نہیں ہے کہ آدمی اسباب و وسائل کو اختیار نہ کرے۔ بل کہ توکل کامطلب یہ ہے کہ آدمی کو اصل اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بل کہ خدا کی ذات پر ہو۔ وسائل کو اختیار کیے بغیر جوتوکل کیاجائے وہ توکل غلط قسم کاتوکل ہوگا۔ بیماری میں توکل یہ ہے کہ آدمی دوا علاج کرنے کے باوجود اللہ پر بھروسا رکھے اور مرض اور شفائ سب کو اسی کی جانب سے سمجھے۔ امام ابن قیمؒ فرماتے ہیں:

صحیح احادیث میں علاج کا حکم ہے یہ توکل کے منافی نہیں ہے۔ جس طرح بھوک پیاس، گرمی اور سردی کو جو چیزیں دور کرتی ہیں ان کے ذریعے ان کودور کرنا خلاف توکل نہیں ہے، اسی طرح علاج بھی توکل کے خلاف نہیں ہے۔ بل کہ صحیح بات یہ ہے کہ توحید کی حقیقت ہی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کہ آدمی ان اسباب کو استعمال کرے، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسببات کو مقدر کر رکھا ہے۔ اور شرعاً ان کے استعمال کاحکم دیاہے۔ ان کو چھوڑنے والا اپنی جگہ یہ سمجھتاہے کہ اسے توکل کا اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ حالاں کہ اس سے توکل کوبھی نقصان پہنچتا ہے اور یہ اللہ کے قانون اور حکمت کے بھی خلاف ہے۔ توکل کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو دین و دنیا کے کسی بھی فائدے کو حاصل کرنے اور دونوں جگہ کے کسی بھی نقصان سے بچنے میںاللہ پراعتماد ہو۔ اس اعتماد کے ساتھ اسباب کا اختیارکرنابھی ضروری ہے۔ ورنہ آدمی حکمت وشریعت دونوں کو چھوڑنے والا ہوگا۔ اسے نہ تو اپنے عجزو کوتاہی کو توکل سمجھنا چاہیے، اور نہ توکل کو عجز اور کوتاہی بنادیناچاہیے۔﴿۵﴾

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:

جس شخص کو اللہ تعالیٰ پر وثوق اور اعتماد ہو اور جسے یہ یقین ہو کہ اللہ کا فیصلہ بہرحال نافذہوکر رہے گا۔ اس کارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور آپﷺکی سنت کے اتباع میں اسباب و وسائل کو اختیارکرنا توکل کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ میں ﴿ایک نہیں﴾ دوزرہیں پہنیں۔ سرمبارک کی حفاظت کے لیے خود استعمال فرمایا ﴿احدمیں﴾ گھاٹی کے دہانے پر تیراندازوں کو بٹھایا ۔ مدینے کے اطراف خندق کھدوائی، حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی ﴿صحابہ کو﴾ اجازت دی۔ خود بھی ہجرت فرمائی، کھانے پینے کے سازو سامان رکھے، گھروالوں کے لیے غلّہ جمع کیا اور اس کا انتظار نہیں کیاکہ آسمان سے کوئی چیز نازل ہو حالاں کہ آپﷺاس کے زیادہ مستحق ہوسکتے تھے۔ اسی طرح ایک شخص نے آپﷺسے سوال کیاکہ میں اپنے اونٹ کو باندھوں یا کھلاچھوڑدوں؟ آپﷺنے فرمایا: اسے باندھو اور پھر توکل کرو۔ گویاآپﷺنے یہ اشارہ کیاکہ احتیاط سے توکل ختم نہیں ہوتا۔﴿۶

جب دوا علاج کرانا توکل کے منافی نہیں ہے تو پھر حضرت عکاشہ بن محصنؓ کی روایت کاکیا مطلب ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں ممنوع اور ناپسندیدہ طریقوں کو اختیارکرنے سے منع کیاگیا ہے اور اس کے ساتھ صحیح طریقوں کی احادیث میں نشاندہی بھی کردی گئی ہے۔ اس حدیث میں پہلی بات یہ کہی گئی ہے :

’’ہم الذین لایتطیرون‘‘ یہ وہ لوگ ہیں، جو پرندوں کے ذریعے شگون نہیں لیتے ۔ اہل عرب کسی کام کے لیے نکلتے یا کوئی مقصد ان کے سامنے ہوتا تو یہ جاننے کے لیے کہ اس میں وہ کامیاب ہوں گے یا ناکام، پرندوں کے ذریعے شگون لیتے تھے۔ اس کادائیں جانب اڑنا مبارک سمجھاجاتاتھا۔ اس کی ان کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں تھی۔ البتہ اس کے بائیں جانب پروازکرنے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ یہ نحوست کی علامت تھی۔ چناںچہ ’’تطیر‘‘ بدفالی ہی کو کہاجاتاہے۔ اسلام نے اس طرح کے اوہام کو ختم کردیا۔ البتہ کسی موقع پر کسی کی زبان سے کوئی اچھا کلمہ نکل جائے تو اس سے خوشی محسوس کرنا ایک فطری بات ہے۔ اس سے اسلام منع نہیں کرتا۔ چناںچہ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لاطیرۃ وخیرہا الفال قالوا وماالفال قال الکلمۃ الصالحۃ یسمعہا احدکم۔﴿۶﴾

’’پرندوں کے ذریعے شگون لینا صحیح نہیں ہے اس میں بہترچیزفال ہے۔ لوگوں نے پوچھا۔ فال کیاہے؟ آپﷺنے فرمایا۔ اچھی بات جو تم میں سے کوئی شخص سنتاہے۔‘‘

زیرِبحث حدیث میں دوسری بات یہ کہی گئی ہے :

لایکتوون  ﴿اور وہ داغ نہیں لگواتے

بعض امراض میں لوہاگرم کرکے داغ دیاجاتاتھا۔ عربوں میں یہ احساس تھا کہ اس سے بیماری کابالکلیہ استیصال ہوجاتاہے۔ کبھی کبھی احتیاطی طورپر بھی داغ لگوایاجاتاتھا۔ یہ ایک بہت ہی سخت اور تکلیف دہ علاج ہے۔ اس میں بے احتیاطی سے نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور علاج اس کی افادیت تو تسلیم کی ہے، لیکن جہاں تک ہوسکے، اس سے بچنے کی تلقین کی ہے اور بلاضرورت اس علاج کو ناپسند فرمایاہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الشفائ فی ثلاث شربۃ عسل وشرطۃ محجم وکیۃ نار وانہی امتی عن الکی۔﴿۷﴾

’’شفائ تین چیزوںمیں ہے شہد کاگھونٹ پچھنے کانشان، اور آگ سے داغ لگانا میں اپنی امت کو داغ لگانے سے منع کرتاہوں۔‘‘

حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں۔

نہی النبیﷺعن الکی فاکتوینا فما افلحنا ولانجحنا۔ ﴿۸﴾

’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے داغ لگوانے سے منفع فرمایا۔ ﴿حرام نہیں قرار دیا﴾ ہم نے داغ لگوایا۔ لیکن ہم نے فلاح نہیں پائی اور کامیاب نہیں ہوئے۔

ان احادیث میں داغ کے ذریعے علاج کی جو ممانعت ہے وہ حرمت کے لیے نہیںہے۔ بل کہ اس سے کراہت اور ناپسندیدگی کااظہار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے صحابہ کرامؓ نے وقت ضرورت اس پر عمل کیاہے۔ اگریہ طریقہ ٔ علاج ممنوع یا حرام ہوتا تو ظاہر ہے صحابہ کرامؓ اس سے بالکل اجتناب فرماتے۔ لیکن اِن احادیث سے بہرحال یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شدید ضرورت کے بغیر داغ لگوانا یا احتیاطی تدبیر کے طورپر اس پر عمل کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔ اوپر کی حدیث میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے، جو اس ناپسندیدہ علاج سے حتی الوسع پرہیز کرتے ہیں۔

تیسری صفت جس کاحدیث میں ذکر ہے وہ یہ ہے:

ولایسترقون         ﴿وہ جھاڑپھونک نہیں کرتے ہیں

اس کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دورِجاہلیت میں جھاڑپھونک کا رواج تھا۔ اس میں غیراسلامی اور مشرکانہ تصورات بھی شامل ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا لیکن اگر اس طرح کی خرابی نہ ہوتو اس کی اجازت بھی دی ہے۔

جھاڑپھونک کو علماے تین شرائط کے ساتھ بالاتفاق جائز قرار دیاہے۔ ایک یہ کہ اللہ کے کلام اور اس کے اسما و صفات کے ذریعے جھاڑپھونک کی جائے۔ دوسری یہ کہ عربی زبان میں ہو، کسی اور زبان میں ہوتو اس کا معنی و مفہوم سمجھ میں آئے تاکہ اس میں کوئی غلط بات شامل ہوتو اسے ترک کردیاجائے، تیسری یہ کہ جھاڑپھونک کے بارے میں یہ اعتقاد نہ ہو کہ بذات خود اس میں تاثیر ہے، بلکہ یہ سمجھاجائے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس میں تاثیر پیداہوتی ہے۔﴿۹﴾

اس سے معلوم ہوتاہے کہ فی نفسہٰ جھاڑپھونک سے نہیں بل کہ اس میںمشرکانہ کلمات کے استعمال سے منع کیاگیا ہے۔

جہاں تک اس سلسلے میں قرآن و حدیث کی دعائوں کاتعلق ہے، ان کے جواز بل کہ استحباب میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔ پھر ان کے ترک کو افضل کیسے کہاجاسکتا ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں جس یقین اور توکل کی تعلیم دی گئی ہے یہ دعائیں تو اسے مضبوط اور اس میں اضافہ کرتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر حدیث میں غلط یا ناپسندیدہ طریقوں سے اجتناب کی فضیلت بیان ہوئی ہے تو اس سے ہرمومن بچتا ہی ہے اور اسے فی الواقع بچنابھی چاہیے۔ پھر ان سترہزار کی کیاخاص فضیلت ہے، جب کہ حدیث بتاتی ہے کہ ان کو دوسروں پر امتیاز اور فضیلت حاصل ہے؟

اس کاجواب یہ ہے کہ بیماری میں خاص طورپر جب کہ وہ طول کھینچ جائے یا پیچیدہ شکل اختیار کرلے تو علاج کے صحیح اور پسندیدہ طریقوں ہی پر قناعت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ صحت اتنی عزیز ہوتی ہے کہ ایسی صورت میں بہت سے نیک اور صالح افراد بھی حرام اور ممنوع دوائوں کے استعمال سے باز نہیں رہتے۔ خدا پر ان کا یقین بھی کمزور پڑنے لگتا ہے اور وہ بڑی آسانی سے جادو منتر، ٹونوں اور ٹوٹکوں اور قبروں اور مزاروں کاسہارا لینے لگتے ہیں۔ اس وقت علاج کے جائز طریقوں ہی پر اکتفا کرنا، غیراللہ سے استعانت نہ چاہنا اور صرف اللہ پربھروسا رکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اس کے لیے بڑے ایمان و یقین اور توکل کی ضرورت ہے۔

حدیث سے بہ ظاہر یہ شبہ بھی ہوتاہے کہ اس طرح کے اصحابِ توکل امت میں صرف ستر ہزار ہوں گے۔ لیکن اس طرح کے اعداد بسااوقات کثرت کے اظہار کے لیے ہوتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ان خصوصیات کے افراد کی تعداد بھی اس امت میں چھوٹی موٹی نہ ہوگی بلکہ بہت بڑی ہوگی۔

حواشی

۱- بخاری ،کتاب الطب، باب من لم یرق، مسلم کتاب الایمان باب بیان کون ہٰذالامۃ نصف اہل الجنۃ۔ یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے بھی مسند احمد میںموجود ہے۔ ۵/۷۰۳ حدیث نمبر ۹۰۸۳تحقیق احمد محمد شاکر۔

۲-  ملاحظہ ہو راقم کی کتاب : ‘عورت ، اسلامی معاشرہ میں’۔

۳-  ابن کثیر، تفسیر /سورہ الواقعہ/ ۴/۲۸۱

۴- ابن اثیر، اسدالغابہ : ۳/۳۸۹-۳۹۰

۵-  الطب النبویﷺص:۱۰۵ اور اس سے آگے۔

۶-  فتح الباری ۱۰۰/۱۶۵۔

۷-  بخاری، کتاب الطب باب الطیرۃ۔

۸-  بخاری کتاب الطب باب الشفائ فی ثلاث

۹- ابودائود کتاب الطب باب فی الکی۔

۰۱-   فتح الباری، ۱۰۰/۱۵۲۔ امام خطابیؒ اس سلسلے میں فرماتے ہیں ۔ فماالرتٰی فی المنہی عنہ ہوماکان منہا بغیر لسان العرب فلایدری ماہوولعلہ قدید خلد سحر ااوکفرا مااذاکان مفہوم المعنی وکان فیہ ذکر اللّٰہ تعالیٰ فانہ مستحب متبرک بہ واللہ اعلم۔ معالم السنن : ۴/۳۲۶۔

مشمولہ: شمارہ جولائی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau