اشارات

ڈاکٹر محمد رفعت

فطری طور پر ہر انسانی گروہ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا جسمانی و مادّی وجود محفوظ رہے۔ اس کے افراد کی جان و مال، عزّت و آبرو محفوظ ہو۔ اُن کو امن و امان اور عافیت حاصل ہو۔ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے مواقع میسر ہوں، ظلم اور ناانصافی سے وہ محفوظ ہوں اور اُن کو معاشی فارغ البالی حاصل ہو۔ دنیا کے ذرائع و وسائل پر اُن کی دسترس ہو اور اُن سے فائدہ اٹھانے کی آزادی ہو۔ کسی گروہ کی ان تمناؤں ﴿Ambitions﴾ کو غلط یا ناپسندیدہ نہیں قرار دیا جاسکتا۔ ہر انسانی گروہ فطری طور پر یہ سب کچھ چاہتا ہے۔ اس کی یہ خواہش درحقیقت اُس انفرادی جبلّت ہی کی اجتماعی شکل ہے جو ہر فردِ انسانی کے اندر پائی جاتی ہے اور جسے’’جذبہ تحفظِ ذات ‘‘سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ہر فرد اپنے وجود کی حفاظت کا داعیہ رکھتا ہے اور اسی طرح ہر انسانی گروہ بھی اپنے مادّی وجود کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔

نظریاتی گروہ

البتہ جو انسانی گروہ کچھ اصول اور نظریات کے حامل ہوتے ہیں اور اُن پر اعتقاد رکھتے ہیں وہ اپنے مادّی وجود کے علاوہ اپنے معنوی وجود کا تحفظ وبقا بھی چاہتے ہیں۔ کسی گروہ کے ’’معنوی وجود‘‘ سے مراد یہ ہے کہ اس گروہ کے امتیازی اصولوں اور نظریات پر گروہ کے افراد کا یقین اور اطمینان برقرار رہے۔ وہ اپنے فکر و عمل میں اپنے اساسی تصورات پر قائم رہیں اور اُن تصورات پر قائم ہونے والی تہذیب اور اس کے امتیازی شعائر سے وابستہ رہیں۔ معنوی وجود کی بقا کے لیے یہ ضروری ہے کہ نظریاتی گروہ اپنی آنے والی نسلوں تک اپنے اصول و نظریات کو تسلسل کے ساتھ اُن کی صحیح شکل میں منتقل کرتا رہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں صرف اپنے آبائ و اجداد کے مادی سازوسامان ہی کی وارث نہ ہوں بلکہ اُن کے تہذیبی ورثے کی بھی وارث ہوں۔ اسی طرح کسی گروہ کے معنوی وجود کے قیام و بقا کے لیے یہ  بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اوپر ایسی خارجی طاقتوں کے تسلط کو گوارا نہ کرے جو اس کے اصولوں اور نظریات سے اس کو ہٹانا چاہتی ہوں۔ گویا معنوی وجود کی برقراری کے لیے یہ دو شرطیں ناگزیر ہیں:

﴿الف﴾ گروہ کے اندر اپنے اصولوں اور نظریات سے مخلصانہ فکری و عملی وابستگی اور آئندہ نسلوں تک اُن کو منتقل کرنے کی مسلسل سعی۔

﴿ب﴾ اُن خارجی طاقتوں کے تسلط کی مزاحمت جو اس گروہ کو اس کے اصول و نظریات سے ہٹانا چاہتی ہوں یا اس پر اس کی تہذیب کے مغائر تصورات کو مسلط کرنا چاہتی ہوں۔

کسی گروہ کے معنوی وجود کی بقاکی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر افراد کو اپنے اصولوں اور نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کی بھی قربانی دینی پڑے تو سچے اعتقاد کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس قربانی کے لیے بخوشی آمادہ ہوجائیں۔ گویا معنوی وجود کے مقابلے میں مادّی وجود بہرحال ثانوی حیثیت رکھتا ہے اور مخلصانہ اعتقاد نے ہمیشہ اسے یہی حیثیت دی ہے۔

روئے زمین پر اصولوں اور نظریات کا حامل جو گروہ سب سے نمایاں ہے وہ امتِ مسلمہ ہے۔ اسلامی ایمانیات وہ بنیادی اعتقادات ہیں جو امت کے معنوی وجود کی اساس ہیں۔ اسلام واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس کی راہ میں قربانی کا مرحلہ بھی آتا ہے جو اہلِ ایمان کو سیدھے راستے پر قائم رہنے کے لیے اور حق کے تقاضے پورے کرنے کے لیے لازماً دینی پڑتی ہے۔

وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ   الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ   (البقرۃ۲:۱۵۵،۱۵۶)

’’اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف سے، بھوک سے اور جان، مال و ثمرات کے تھوڑے سے نقصان سے۔ پس ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جب اُن کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں‘‘۔

الم ؐ أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ؐ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ؐ  ﴿العنکبوت: ۱-۳﴾

’’الف، لام، میم۔ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہہ کر چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور اُن کو آزمایا نہ جائے گا۔ حالانکہ ہم ان لوگو ںکی آزمائش کرچکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے تھے۔ اللہ کو تو یہ ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون‘‘۔

اگر کوئی فردِ مومن راہِ حق میں مارا جائے تو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے شخص کو مردہ نہ سمجھا جائے اور مردہ نہ کہا جائے، اس لیے کہ اسے حیاتِ جاودانی حاصل ہوئی ہے اور اس لیے بھی کہ اُس کی شہادت امت کے معنوی وجود کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے:

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ؐ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ؐ  يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّـهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّـهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ  ﴿آل عمران:۱۶۹ تا ۱۷۱﴾

’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ سمجھو۔ درحقیقت وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں۔ جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے اُن کو دیا ہے اس پر خوش اور مگن ہیں اور اپنے بعد کے اہلِ ایمان کے بارے میں بھی مطمئن ہیں کہ اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر مطمئن ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ اہلِ ایمان کا اجرضائع نہیں کیا کرتا ‘‘۔

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ  اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’(جہاد کے موقع پر) گھر میں بیٹھے رہنے سے موت تو رک نہیں سکتی (البتہ) آدمی اس موت سے محروم رہتا ہے جسے موت کے بجائے حیاتِ جاودانی کہنا چاہیے۔ شہیدوں کو مرنے کے بعد ایک خاص طرح کی زندگی ملتی ہے جو اور مُردوں کو نہیں ملتی۔ ان کو حق تعالیٰ کا ممتاز قرب حاصل ہوتا ہے۔بڑے عالی درجات و مقامات پر فائز ہوتے ہیں۔ جنت کا رزق آزادی سے پہنچتا ہے۔ شہدائ کی ارواح ’’طیورِ خضر‘‘ (کی صورت)میں. جنت کی سیر کرتی رہتی ہیں ‘‘۔

داعی گروہ

اصولی و نظریاتی گروہوں میں بعض وہ ہوتے ہیں جو کسی مشن اور دعوت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ایسے گروہوں کے معنوی وجود کے تسلسل و بقا کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اندرونی ماحول کے اندر اپنی تہذیب اور اس کے اصولوںکو زندہ رکھیں، اپنے تہذیبی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کریں اور ایسی خارجی طاقتوں کا تسلط گوارا نہ کریں جو اُن کی تہذیب کو مٹانا چاہتی ہوں بلکہ اِن سب کاموں کے علاوہ اُن کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اپنے مشن اور اصولوں کو دنیا میں پھیلائیں اور اس کی دعوت تمام انسانیت کو دیں۔ اگر وہ یہ کام نہ کریں توایک مشن کے علمبردار ہونے کی اُن کی حیثیت اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔

مزید برآں انسانی معاشرے کی نوعیت ایسی ہے کہ اس کے مختلف گروہ ایک دوسرے کو مسلسل متاثر کرتے رہتے ہیں۔ اگر کسی مشن اور دعوت کا علمبردار گروہ اپنی دعوت کو انسانیتِ عامہ کے اندر پھیلانے کا کام نہیں کرتا اور صرف اپنے اندرونی ماحول میں اپنے اصولوں کے مظاہرے پر قانع رہتا ہے تو اس کوتاہ عملی کا نتیجہ صرف اتنا نہیں ہوگا کہ اس کی دعوت کا فروغ رک جائے گا، بلکہ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ خود اس مشن کے نام لیوا گروہ کے اندر بھی دوسری دعوتیں پھیلنا شروع ہوجائیں گی جو اس گروہ کے نظریات اور اصولوں کے خلاف ہوں گی۔ دنیا کے اندر نظریات اور تصورات کی کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ یہا ںجو نظریہ پیش قدمی نہیں کرپاتا ﴿اپنی کمزوری کی وجہ سے یا اپنے علمبرداروں کی کوتاہی کی بنا پر﴾ اسے لازماً پسپائی سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ بقول اقبالؒ ’’روحِ امم کی حیات‘‘ کے لیے ’’کشمکشِ انقلاب‘‘ ناگزیر ہے۔

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی

روحِ امم کی حیات، کش مکشِ انقلاب

سوچنے کی تین سطحیں

’’اُمتِ مسلمہ کیا کرے؟‘‘  اس سوال پر غور کرنے والے تینوں سطحوں پر غورکرسکتے ہیں۔ غور کرنے کی ایک سطح یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے ایجنڈے کو متعین کرنے کے لیے صرف یہ حقیقت سامنے رکھی جائے کہ یہ امت انسانوں کا ایک گروہ ہے اور جس طرح عام انسانی گروہ اپنا ایجنڈا ترتیب دیتے ہیں اسی طرح اس گروہ کے جسمانی و مادّی وجود کی بقا و ترقی کے لیے منصوبہ بنایا جائے۔ سوچنے کی اور غوروفکر کی دوسری سطح اس پہلی سطح سے بلند ہے اور وہ یہ ہے کہ امت کو کچھ اصولوں اور نظریات کا حامل اور ایک منفرد و ممتاز تہذیب کا وارث گروہ سمجھا جائے اور اس کی اس حیثیت کے پیشِ نظر امت کے کرنے کے کام متعین کیے جائیں۔ سوچنے کی تیسری سطح ان دونوں سطحوں سے بلند ہے اور وہ اس حقیقت کے ادراک سے عبارت ہے کہ یہ امت ایک مشن کی علمبردار داعی امت ہے۔ یہ مشن اتنا اعلیٰ و ارفع اور پاکیزہ ہے کہ اس کی حامل امت حقیقی معنوںمیں ‘‘خیرِ امت’’ کہلانے کی مستحق ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ سوچنے کی یہ تینوں سطحیں یکساں نہیں ہیں۔ پہلی سطح پر سوچنے والے صرف امت کے مادی و جسمانی وجود کی بقا و ترقی اور اس کے لیے ضروری تعمیری منصوبہ بندی کے سلسلے میں فکرمند و کوشاں ہوں گے اور انھیں اس سے کچھ زیادہ دلچسپی نہ ہوگی کہ اعلیٰ اقدارِ حیات سے وابستگی اور صالحیتِ فکر وعمل کے اعتبار سے ملت کا حال کیا ہے۔ دوسری سطح پر سوچنے والے امت کی اصلاح اور سیاسی و تہذیبی آزادی و استقلال کے لیے کوشاں ہوں گے۔ ان کی یہ ذہنی سطح یقینا پہلی سطح پر سوچنے والوں کے مقابلے میں بلند ہوگی اس لیے کہ وہ دین سے مخلصانہ وابستگی کو امت کے معنوی وجود کے تسلسل کے لیے ضروری سمجھیں گے لیکن اس سطح پر سوچنے والے بھی اپنی تمام تر بلند نظری کے باوجود امت کو کوئی ایجابی و اقدامی ایجنڈا دینے سے قاصر رہیں گے۔ اس لیے کہ اُن کی نظر صرف امت کے اندرون تک محدود ہوگی اور اس اندرون کو معنوی اعتبار سے زندہ و تابندہ بنائے رکھنے تک اُن کی کوششیں مرکوز ہوں گی۔

آفاقی حیثیت اصل ہے

امتِ مسلمہ کی حقیقی حیثیت نہ محض ایک انسانی گروہ کی ہے اور نہ صرف ایک اصولی و تہذیبی گروہ کی۔ اس کی اصل حیثیت ایک آفاقی مشن کے علمبردار داعی گروہ کی ہے۔ جس کو قرآنِ مجید نے ‘‘امتِ وسط’’ اور ‘‘خیرِامت’’ سے تعبیر کیا ہے۔ اقدامی ایجنڈا اسی وقت ترتیب دیا جاسکتا ہے جب امت کی اس حیثیت کا نہ صرف ادراک ہو بلکہ اس کو ہر وقت ذہنوں میں مستحضر بھی رکھا جائے۔ اور اس حیثیت کے مقتضیات کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امت کے ایک آفاقی مشن کے علمبردار ہونے کی یہ حیثیت اُس کی بقیہ دو حیثیتوں کی نفی نہیں کرتی۔ داعی امت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امت ایک تہذیبی گروہ بھی ہے ان معنوں میں کہ وہ ایک تہذیب کی علمبردار ہے اور اُس کے کچھ اساسی اصول و نظریات ہیں جن کی وہ قائل ہے۔ اسی کے ساتھ بہرحال یہ امت ایک انسانی گروہ بھی ہے، جس کے مادّی بقا و تسلسل کے کچھ تقاضے ہیں جس طرح ہر انسانی گروہ کے ہوتے ہیں۔ امت کی اصل آفاقی حیثیت کے ادراک کا حقیقی منشا یہ نہیں ہے کہ اس کے تہذیبی گروہ ہونے کی یا انسانی گروہ ہونے کے فطری تقاضوں کی نفی کی جائے بلکہ آفاقی حیثیت پر زور دینے کا حقیقی منشا صرف یہ ہے کہ امت کی ان بقیہ دو حیثیتوں کو اس کی اصل حیثیت کے تابع رکھا جائے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان ثانوی حیثیتوں کو امت کی آفاقی حیثیت کے ‘‘تابع رکھنے’’ کا مفہوم آخر کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے تین مفہوم ہیں :

﴿الف﴾ اس کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ امت کے ایجنڈے کو ترتیب دیتے وقت ترجیحات بھی طے کی جائیں اور ان ترجیحات کے تعین میں اُن کاموں کو مقدم رکھا جائے جو امت کے آفاقی مشن کا تقاضا ہیں اور باقی کاموں کے مقابلے میں ان کو زیادہ اہم سمجھا بھی جائے اور عملی منصوبہ سازی میں بھی اُن کو فوقیت دی جائے۔

﴿ب﴾ ثانوی حیثیتوں کو امت کی اصل حیثیت کے تابع رکھنے کا جو اصول مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے، اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ امت کے معنوی وجود اور تہذیبی تشخص کی برقراری وترقی کے کام کو ایسے انداز میںاور اِس ڈھنگ سے انجام دیا جائے جو امت کی آفاقی حیثیت کے شایانِ شان ہو اور دین کے مزاج و روح کے مطابق ہو۔ مثلاً امت کی آفاقی حیثیت اُس کو اِنسانوں کا قائد و رہنما دیکھنا چاہتی ہے۔ قیادت و رہنمائی کے منصب کا تقاضا یہ ہے کہ قائد و رہنما امت کے اندر بلند حوصلگی، بلند نگاہی، خود اعتمادی، خود انحصاری، عالی ظرفی اور وسیع النظری کی صفات پائی جائیں۔ اگرامت اپنے تشخص کی برقراری کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے اِن اعلیٰ صفات کا مظاہرہ نہ کرسکے تو وہ اپنی آفاقی حیثیت کی خود ہی نفی کردے گی۔

﴿ج﴾ مذکورہ بالا اصولوں کا تیسرا مفہوم یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی مادّی ترقی کے لیے جو کوششیں کی جائیں وہ امت کے معنوی وجود کو نقصان نہ پہنچائیں۔ سادہ الفاظ میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ مادی بقا و ترقی کے لیے جو سرگرمیاں انجام دی جائیں وہ دینی محرکات کے تحت انجام پائیں اور شرعی حدود کے دائرے میں ہوں۔ اس اصول کا خیال رکھا جائے تو امت کی ذیلی حیثیتیں اس کی اصل حیثیت ہی میں ضم ہوجاتی ہیں۔

امتِ مسلمہ کا ایجنڈا

امتِ مسلمہ کی حقیقی نوعیت کا ادراک کرلینے کے بعد اس کے ایجنڈے کی نشاندہی بآسانی ممکن ہے۔ ترجیحات کی ترتیب کے لحاظ سے امت کے ایجنڈے کو اس طرح مرتب کیا جاسکتا ہے :

﴿الف﴾  عالمِ انسانیت میں اسلام کا تعارف اور اس کی طرف دعوت۔

﴿ب﴾    شہادتِ حق۔

﴿ج﴾    عالمی اور ملکی سطح پر عدل و انصاف کے تقاضوں کی نشاندہی۔

﴿د﴾     قیامِ عدل اور مظالم کے ازالے کے لیے عملی کوشش۔

﴿ہ﴾    امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔

﴿و﴾    امت میں عموماً اور نئی نسل کے لیے خصوصاً دینی تعلیم و تربیت کا نظم

﴿ز﴾    جن امور میں دین پر عمل کی آزادی حاصل ہے، اس آزادی کا تحفظ۔

﴿ح﴾   جن امور میں دین پر عمل کی آزادی حاصل نہیں ہے اُس آزادی کے حصول کی سعی۔

﴿ط﴾   امت کی اخلاقی و دینی اصلاح خصوصاً اجتماعی اداروں اور مسلمان حکومتوں کی اصلاح۔

﴿ی﴾  مسلمان مظلومین کی حمایت اور مدد

﴿ک﴾  مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ۔

﴿ل﴾  مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے لیے کوشش۔

مسلمانوں کی قیادت اس وقت اداروں، تنظیموں اور مسلم حکومتوں پر مشتمل ہے۔ اس قیادت میں جو باشعور اور مخْْلص افراد جہاں بھی موجود ہیں، اُن کی ذمہ داری ہے کہ اس ایجنڈے کو حقیقی دینی اسپرٹ ملحوظ رکھتے ہوئے بروئے کار لائیں۔

کیا نہ کیا جائے

اس ایجنڈے کے پہلو بہ پہلو منفی ایجنڈے کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے یعنی امت کے معنوی وجود کو نقصان پہنچانے والے وہ تمام کام بھی سامنے آنے چاہئیں، جن سے امت کو بچانا ضروری ہے :

﴿۱لف﴾ان میں پہلا کام یہ ہے کہ دین سے منحرف قیادت کے چنگل سے امت کو نکالا جانا چاہیے۔ اورجہاں نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مسلمانوں نے غیرمسلموں کی قیادت قبول کررکھی ہے، وہاں تو بدرجہ اولیٰ اُن کو اس قیادت سے آزاد کرانا ضروری ہے۔ عملاً یہ اسی وقت ممکن ہے جب صالح قیادت بطورِ متبادل موجود ہو۔ مسلمان اداروں اور تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ صالح قیادت فراہم کریں۔

﴿ب﴾جو نظامِ تعلیم مسلمانوں کے کنٹرول میں ہے، اس کے نصاب کو غیر اسلامی عناصر سے اور اس کی فضا کو غیر اسلامی اثرات سے پاک کیا جانا چاہیے۔

﴿ج﴾دین پر عمل کی آزادی کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو حکومتوں سے گفتگو کرنی ہوگی۔ اس گفتگو میں مسلمانوں کا طرزِ استدلال اسلام پر مبنی ہونا چاہیے۔ اپنے موقف کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے رائج الوقت باطل نظام یا رائج باطل نظریات کا حوالہ دینے کے بجائے اُن کو اُس فطری آزادی کا حوالہ دینا چاہیے جو خدا کی بندگی کرنے کے لیے تمام انسانوں کو پیدائشی طور پر حاصل ہے۔

مثلاً ہندوستانی نظام کے سیاق میں ’’مسلم پرسنل لا‘‘کے تحفظ کے لیے ایک طرزِ استدلال یہ ہوسکتا ہے کہ ’’دستورِ ہند نے مذہبی آزادی دی ہے چنانچہ مسلم پرسنل لا کو محفوظ رہنا چاہیے۔‘‘ یہ طرزِ استدلال مسلمانوں کے دعوتی موقف سے میل نہیں کھاتا۔ اس کے مقابلے میں درجِ ذیل استدلال مسلمانوں کی اصل پوزیشن سے زیادہ ہم آہنگ ہے:

’’مسلم پرسنل لا کو اس لیے محفوظ رہنا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہدایت پر مبنی ہے اور یہ ہدایت تمام انسانوں کے لیے واجب الاتباع ہے۔ اسی خدا نے انسانوں کو آزاد پیدا کیا ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں ہے کہ اللہ کی بندگی کرنے کی جو خدا داد آزادی تمام انسانوں کو پیدائشی طور پر حاصل ہے اسے سلب کرے‘‘۔

مندرجہ بالا استدلال پیش کیا جائے تو ’’دین پر عمل کی آزادی کے لیے کوشش‘‘ اور ’’دعوتِ دین‘‘ کے بظاہر دو جداگانہ کام، جدا نہیں رہتے، بلکہ ایک ہوجاتے ہیں۔ امتِ مسلمہ کے ایجنڈے کے مختلف نکات کے درمیان یہی یک رنگی و ہم آہنگی مطلوب ہے۔ ورنہ اگر ’’دین پر عمل کی آزادی‘‘ کی برقراری کے لیے کوشش ’’سیکولر‘‘ طرز پر کی جائے تو یہی کوشش مسلمانوں کے معنوی وجود کے لیے مضر بلکہ مہلک ثابت ہوگی۔

دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت

ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ       ﴿اقبالؒ ﴾

﴿د﴾دنیا کے ذرائع و وسائل کے استعمال کے لیے جو صلاحیتیں درکار ہیں، موجودہ صورتحال میں ان صلاحیتوں کے حصول کے لیے رائج الوقت نظامِ تعلیم کے علاوہ کوئی متبادل نظامِ تعلیم موجود نہیں ہے۔ اس لیے مسلمانوںکو اس نظامِ تعلیم سے استفادے کا مشورہ دینا تو ضروری ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ اس نظامِ تعلیم کی مضرتوں سے بھی آگاہ کرنا چاہیے اور اُن مضرتوں سے بچنے کی ممکن تدبیریں بھی بتانی چاہئیں مثلاً دینی تعلیم و تربیت کا اضافی انتظام، طلبائ کی دینی تنظیموں سے وابستگی، تعلیمی اداروں کے اخلاقی بگاڑ کو دور کرنے کی سعی معروفات کے فروغ کی کوشش، اور مخلوط تعلیم سے حتی الامکان گریز۔ اگر مسلمانوں کو موجودہ نظامِ تعلیم کی مضرتوں سے آگاہ نہ کیا جائے اور اُن سے بچنے کی تدابیر نہ بتائی جائیں اور محض ‘‘تعلیمی بیداری مہم’’ کے طرز پر موجودہ نظامِ تعلیم سے بے تکلف اور غیر مشروط استفادے کی ترغیب دی جائے تو یہ مسلمانوں کے معنوی وجود کو نقصان پہنچانے والا طرزِ عمل ہوگا۔

﴿ہ﴾یہی معاملہ معاشی ترقی کا ہے۔ بلاشبہ معاشی ترقی مطلوب ہے لیکن اس کے لیے سودی لین دین کی گنجائش نہیں نکالی جاسکتی۔ مسلمانوں کو مفید معاشی سرگرمی کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ مال کمانے اور خرچ کرنے کے سلسلے میں اسلامی ہدایات اور حدود کا بھی چرچا کیا جانا چاہیے اور اس بات کا بھی کہ مسلمان کی معاشی سرگرمی اس کو اتنا منہمک نہ کردے کہ وہ دینی فرائض سے غافل ہوجائے:

 

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ؐ رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ؐ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّـهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ                                                                                                                                                                                                                            ﴿النور: ۶۳ تا ۸۳﴾

’’﴿اللہ کے نور کی طرف ہدایت پانے والے﴾ اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنھیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اِذن دیا ہے۔ اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں، جنھیں تجارت اور خریدوفروخت، اللہ کی یاد سے اور اقامتِ صلاۃ و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی۔ وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آجائے گی۔ ﴿اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں﴾ تاکہ اللہ اُن کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے۔ اللہ جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے‘‘۔

غیر اسلامی سیاست

مسلمانوں کے معنوی وجود کے لیے جو شے سب سے زیادہ مہلک ہے وہ ’’غیر اسلامی سیاست‘‘ ہے خواہ اس کے ذریعے کتنے ہی مادّی منافع کے حصول کی توقع کی جارہی ہو۔

فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘‘غیر اسلامی سیاست’’ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ سیاست غیر اسلامی ہے:

﴿الف﴾   جو غیر اسلامی نظریات کی بنیاد پر استوار کی جائے۔  یا

﴿ب﴾  جس میں غیر اسلامی نظریات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں منظم کی جائیں۔      یا

﴿ج﴾    جس میں غیر مسلموں کی قیادت یا دین سے منحرف ‘‘مسلمانوں’’ کی قیادت کو قبول کرلیا جائے۔

مثبت ایجنڈے پر عمل کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کو اس غیر اسلامی سیاست سے بچایا جائے تاکہ امت کا معنوی وجود محفوظ رہ سکے۔

آج کل ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے جو مطالبات پیش کیے جارہے ہیں، اُن میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ اُن نومسلموں کو بھی ’’دلت‘‘ تسلیم کیا جائے ﴿اور انہیں رزرویشن دیا جائے﴾ جو اسلام قبول کرنے سے پہلے ’’دلت‘‘ تھے۔ یہ مطالبہ اسلام کی دعوت کے مصالح کو مجروح کرنے والا ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں کی باشعور قیادت اس سلسلے میں خاموش ہے اور کوتاہ بینوں کو اس نادانی سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کرتی۔

نادانی پر مبنی ایساہی ایک مطالبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے بعض طبقات کو سماجی طور پر ‘‘پس ماندہ’’ مانا جائے اور انہیں رزرویشن دے دیا جائے۔ اس مطالبے کے پیچھے جو طرزِ فکر کارفرما ہے وہ عدمِ مساوات کے اس انسانیت سوز نظام کو مسلمانوں پر باضابطہ مسلط کرنا چاہتا ہے جو مسلمانوں کی غلطیوں کی وجہ سے اُن میں درآیا ہے۔ مسلمانوں کی مخلص قیادت کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے معنوی وجود کے لیے مہلک ان مطالبات سے مسلمانوں کو باز رکھے۔ اور اُن مطالبات سے بھی، جن میں بظاہر گو کوئی مضرت نظر نہ آتی ہو، لیکن وہ مسلمانوں کی قائدانہ پوزیشن کے شایانِ شان بہرحال نہیں ہیں۔

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau