اسلام : ایک دینِ سعادت

مولانا محمد جرجیس کریمی

دین اسلام کی خصوصیات و امتیازات میںسے ایک یہ بھی ہے کہ یہ دین لوگوں کو دنیا وآخرت کی سعادتوں سے ہم کنار کرتاہے، شقاوت و بدبختی سے بچاتاہے اور اس کی مختلف شکلوں اور قسموں سے آگاہ کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

یَوْمَ یَأْتِ لاَ تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٰ فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ ﴿ہود:۱۰۵﴾

’’جب وہ ﴿دن﴾ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی۔ الا یہ کہ اللہ کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوںگے اور کچھ نیک بخت۔‘‘

اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مامن نفس متفوسۃ الاقد سبق لہامن اللہ شقائ اوسعادۃ ﴿مسند احمد/۱۵۷﴾

’’ کوئی شخص نہیں ہے مگر اس کی سعادت و شقاوت کااللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکاہے۔‘‘

سعادت کا لفظ سعد ﴿س ع د﴾ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی نیک بختی اور خوش نصیبی کے ہیں۔ جب کہ شقاوت کے معنی بدبختی اور بدنصیبی کے ہیں۔ اس کا تعلق دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔اس کے مختلف درجات ہیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:

ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الناس اربعۃ والاعمال ستۃ فالناس موسع علیہ فی الدنیا والآخرۃ و مقتدرعلیہ فی الدنیا موسع فی الآخرۃ وشقی فی الدنیا والآخرۃ   ﴿مسنداحمد:۴/۳۴۵﴾

’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور ان کے اعمال چھے طرح کے ہوتے ہیں۔ لوگوں کی قسمیں یہ ہیں: کچھ لوگ ہیں جن کو دنیا و آخرت دونوں جگہ کشادگی ملتی ہے۔ کچھ لوگ ہیں جن کو دنیا میںکشادگی حاصل ہوتی ہے مگر آخرت میں تنگی نصیب ہوگی۔ کچھ لوگ ہیں جن کی دنیا تنگ کردی جاتی ہے، مگر آخرت میں کشادگی نصیب ہوگی اور کچھ لوگ دنیا واآخرت دونوں جگہ بدبخت ہوں گے۔

سعادت کے مترادف الفاظ

قرآن واحادیث میں سعادت کالفظ جن معنوں میں استعمال ہواہے،ان سے اس کے معنی و مفہوم کی تعیین میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور اس کے حصول کی راہ کھلتی ہیں۔ قرآن میں سعادت کے مفہوم میں نجات، فلاح، عاقبت، سلام، خیر، فوز،قرار وغیرہ الفاظ وارد ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَیَا قَوْمِ مَا لِیْ أَدْعُوکُمْ اِلَی النَّجَاۃِ وَتَدْعُونَنِیْ اِلَی النَّارِ﴿غافر:۴۱﴾

’’اے میری قوم کے لوگو! آخر یہ کیاماجرا ہے کہ میں تم لوگوں کو نجات کی طرف بلاتاہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو۔‘‘

عافیت اور فلاح سے متعلق وارد ہے:

فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَکُونُ لَہ‘‘ عَاقِبَۃُ الدِّارِ اِنَّہ‘‘ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون ﴿الانعام: ۱۳۵﴾

’’عن قریب تم لوگ جان لوگے کہ کس کے لیے عاقبت کا گھر ہے ۔ بے شک ظلم کرنے والے فلاح نہیں پاسکتے۔‘‘

سلام /سلامتی سے متعلق وارد ہے:

وَاللّہُ یَدْعُوٓ اِلَی دَارِ السَّلاَمِ  ﴿یونس:۵۲﴾

’’اور اللہ تمھیں دارالسلام ﴿سلامتی کے گھر﴾ کی طرف دعوت دے رہاہے۔‘‘

خیرامت کے ذیل میں ارشاد ہے:

وَأُوْلٰٓئِکَ لَہُمُ الْخَیْْرَاتُ وَأُوْلٰٓ ئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُون ﴿التوبہ:۸۸﴾

’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘

فوز سے متعلق وارد ہے:

خَالِدِیْنَ فِیْہَآ أَبَداً ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ﴿التوبہ:۱۰۰﴾

’’اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیںگے اور یہی عظیم کامیابی ہے۔‘‘

دارقرار سے متعلق ارشاد ہے:

یَا قَوْمِ اِنَّمَا ہَذِہٰ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ وَاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَار ﴿غافر:۳۹﴾

’’اے قوم! یہ دنیا کی زندگی توچند روزہ ہے، ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔‘‘

دنیا کی سعادت

دنیاکی زندگی مختصر اور عارضی ہے، مگر اس کے باوجود دو حالتوں سے خالی نہیں یا تو انسان کی زندگی اچھے ڈھنگ سے گزر رہی ہوگی اور وہ خوشیوں اور مسرتوںسے ہم کنارہورہا ہوگا یا اس کی زندگی برے ڈھنگ سے گزر رہی ہوگی اور اس کو غم والمنے گھیر رکھاہوگا۔ دنیا میں انسان کو مناسب اور ضروری وسائل زندگی کاحاصل ہونا اور ان کا اس کے موافق اور مناسب حال ہونا خوش بختی کی علامت ہے۔ اس کے برعکس وسائل زندگی حاصل ہی نہ ہوں یا حاصل ہوں مگر وہ موافق نہ ہوں تو یہ اس کی بدبختی کی علامت ہے۔ یہی بات ایک حدیث میں یوں کہی گئی ہے:

من سعادۃ ابن آدم ثلاثۃ ومن شقوۃ ابن آدم ثلاثۃ من سعادۃ ابن آدم المراۃ السوئوالمسکن السوئ والمرکب السوئ   ﴿مسنداحمد:۱/۱۶۸﴾

’’انسان کی سعادت بھی تین باتوں میں ہے اور بدبختی بھی۔یہ انسان کی سعادت ہے کہ اسے صالح بیوی ملے، اچھا گھر نصیب ہو اور اچھی سواری دست یاب ہو۔ اس کی بدبختی یہ ہے کہ اسے بُری بیوی ملے، تنگ مکان ہو اور سواری بھی بُری ہو۔

وسائل زندگی میں عورت ﴿بیوی﴾ گھر اور سواری کی خصوصی اہمیت ہے۔ زندگی کے سفر میں اگر ہم سفر نیک اور صالح ہوتو سفر کی مشکلات آسان ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اگر آدمی کو ایک کشادہ اور مناسب گھر نصیب ہوتو سکون قلب حاصل ہوتاہے اور اگر اس کے ساتھ ایک اچھی سواری بھی اُسے دست یاب ہوتو دیگر مشکلات حیات سے مقابلہ اس کے لیے آسان تر ہوجاتاہے۔ لیکن اس کے برعکس اگر بیوی بدخلق، بدمزاج اور غیرصالح ہوتو گھر جہنم بن جاتاہے ۔ اگر آدمی کو رہنے کے لیے مناسب گھر نہ ہو اور وہ سواری سے بھی محروم ہو یا وہ مطابق حال نہ ہوتو زندگی میں کئی طرح کی نحوستیں درآتی ہیں۔ دنیا میں وسائل و ذرائع کی بہت اہمیت ہے اور ان کا موافق و مناسب حال ہونا بھی ضروری ہے۔ سطور بالا میں دنیا کی ظاہری سعادت وشقاوت کاذکر تھامگر دنیوی زندگی میں بعض معنوی اور باطنی سعادت یا شقاوت کے اسباب بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک روایت ہے:

عن سعد بن ابی وقاص قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من سعادۃ ابن آدم استخارۃ اللہ ومن سعادۃ ابن آدم رضاہ بما قضاہ اللہ و من شقوۃ ابن آدم ترکہ استخارتہ اللہ ومن شقوۃ ابن آدم سخطہ بما قضی اللہ عزوجل۔ ﴿مسند احمد:۱/۱۵۸، ترمذی: کتاب القدرنمبر:۲۱۵۱﴾

’’حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ انسان کی سعادت میں سے یہ بات ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے خیرکاطالب ہو اور اس کی سعادت میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جو فیصلہ کردیاہے، اس سے وہ راضی رہے ۔﴿تقدیر سے راضی رہے﴾ اور اس کی بدبختی میں سے یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ سے خیر کی طلب ترک کردے اور اللہ کے قضا پر ناراض ہے۔

اللہ تعالیٰ سے خیرکاطالب ہونا اور اس کی تقدیر سے راضی رہنا سعادت کا باعث ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سے طلب خیر کو ترک کردینا یا اس کی تقدیر سے ناراضی ظاہر کرنا بدبختی اور شقاوت ہے۔ سعادت کے ذریعے کو اختیارکرنا اور شقاوت کے ذریعے سے بچنا بھی سعادت کے حصول کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دعا فرماتے رہتے اور لوگوں کو بھی تلقین کرتے رہتے کہ شقاوت لاحق ہونے کے اسباب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو۔ ارشاد ہے:

تعوذوا باللہ من جہد البلائ ودرک الشقائ وسوئ القضائ وشماتۃ الاعدائ ﴿بخاری کتاب القدرنمبر:۶۶۱۶﴾

’’اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو حد سے زیادہ آزمایش سے ، شقاوت لاحق ہونے سے، بُرے قضا ﴿تقدیر﴾سے اور دشمن کے عار دلانے سے۔‘‘

آخرت کی سعادت

سعادت وشقاوت کی اصل معنویت آخرت سے متعلق ہے۔ کیوں کہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہوگی اور جو شخص آخرت میں سعادت مند ہو اصل سعادت اس کی ہے اور جو شخص آخرت میں بدبخت ہو تو اس کی بدبختی اصل اور حقیقی بدبختی ہوگی۔ آخرت میں سعادت وشقاوت دو شکلوں میں ظاہر ہوگی۔ ایک جنت میں داخلہ وجہنم سے نجات یا جہنم میں داخلہ اور جنت سے محرومی ، دوم دیدار الٰہی یا اس سے محرومی۔ ارشاد ربّانی ہے:

یَوْمَ یَأْتِ لاَ تَکَلَّمُ نَفْسٌ اِلاَّ بِاِذْنِہٰ فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیْدٌ oفَأَمَّا الَّذِیْنَ شَقُواْ فَفِیْ النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَشَہِیْقٌoخَالِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ اِلاَّ مَا شَآئ رَبُّکَ اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُo وَأَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُواْ فَفِیْ الْجَنَّۃِ خَالِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ اِلاَّ مَا شَآئ رَبُّکَ عَطَآئ غَیْْرَ مَجْذُوذٍ ﴿ہود:۵۰۱-۸۰۱﴾

’’جس دن وہ ﴿قیامت﴾ آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیرکوئی بات بھی کرے۔ سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت۔ لیکن جو لوگ بدبخت ہوئے وہ جہنم میں ہوںگے وہاں چیخیں گے چلائیںگے وہ وہیں ہمیشہ رہیںگے، جب تک آسمان وزمین برقرار رہیں سوائے اس وقت کے جو تمھارا رب چاہے۔ یقینا تیرا رب جو کچھ چاہے کرگزرتاہے۔ لیکن جو لوگ نیک بخت ہوں گے وہ جنت میں ہوںگے جہاں وہ ہمیشہ رہیںگے جب تک آسمان و زمین باقی رہے گا مگر جو تیراپروردگار چاہے۔ یہ بے انتہا بخشش ہے۔”

قرآن واحادیث میں جنت و جہنم کی تفصیلات موجود ہیں، جن کے مطابق جنت انتہائی آرام و سکون اور انعام واکرام کی جگہ ہے، جو اس میں جائے گا،وہ ہمیشہ آرام وسکون اور نعمتوں میں رہے گا۔ اس کے برعکس جہنم انتہائی تکلیف اور عذاب کی جگہ ہے۔ جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ اس میں پریشانی اور عذاب میں مبتلا رہے گا۔ وہ وہاں موت کی تمنا کرے گا، مگر اسے موت نہیں آئے گی ۔ وہ دوبارہ دنیا میںآکر عمل صالح کرنے کی درخواست کرے گا مگر اسے منظور نہیں کیاجائے گا۔ سعادت و شقاوت کی ایک حالت وہ ہے، جس کاذکر قرآن واحادیث میں تفصیل سے ہوا ہے۔ آخرت میں سعادت کی ایک حالت اور ہے جس کو آخری درجے کی سعادت کہنی چاہیے وہ یہ کہ جنتیوں کودیدارِ الٰہی کرایاجائے گا، جس سے وہ انتہائی درجہ خوشی محسوس کریںگے اور جنت کی نعمتوں کو کم تر سمجھیں گے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وُجُوہٌ یَوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ o اِلَی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ  ﴿القیامۃ:۲۲،۲۳﴾

’’اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے۔‘‘

جنت میں دیدارِ الٰہی کی کتنی اہمیت ہوگی اس کی صراحت اس روایت میں کی گئی ہے:

عن صہیب عن النبی صلی اللہع لیہ وسلم فی قوم تعالیٰ ﴿للذین احسنواالحسنیٰ وزیادۃ﴾﴿یونس:۲۸﴾ قال اذا دخل اہل الجنۃ الجنۃ نادی مناد ان لکم عنداللہ موعدا ویرید ان نیجز کموہ قالوا الم یبیض وجوہنا وینجینا من النار ویدخلنا الجنۃ قال فیکشف الحجاب قال فواللہ مااعطاہم اللہ شیئاً احب الیہم من النظر االیہ ﴿ترمذی: کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ یونس : ۱۳۰۵﴾

’’حضرت صہیب سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ’’جن لوگوں نے بھلائی کاطریقہ اختیارکیا ان کے لیے بھلائی ہے‘‘ اور مزید فضل ہے، کے بارے میں فرمایا: جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ایک ندا دینے والا ندا دے گا: اے جنتیو! اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے ایک وعدہ کررکھاتھا ، جو چاہے گا کہ اب وہ اس کو پورا کرے تو جنتی کہیں گے :کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی اور ہمیں جنت میں داخل نہیںکیا ﴿اس سے زیادہ اور کیا چیز مل سکتی ہے﴾ اتنے ہی میں اللہ تعالیٰ سے حجاب اٹھ جائے گا اور جنتی اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ آپؑ نے فرمایا: جنتیوں کو رویت الٰہی سے زیادہ محبوب کوئی چیز نہیں ہوگی۔‘‘

بعض روایتوں میں وارد ہے کہ جنتیوں کو دیدار الٰہی کے ساتھ رضوان الٰہی کی بھی خوش خبری سنائی جائے گی۔ ﴿ترمذی:صفحہ الجنۃ﴾ جنتیوں کے برعکس جہنمیوں کو دیدار الٰہی نصیب نہیں ہوگا اور ان کو اس سے دور رکھاجائے گا،وہ اپنی تکلیف اور عذاب میں اضافہ محسوس کریں گے۔ ارشاد ربّانی ہے:

کَلَّآ اِنَّہُمْ عَن رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُون ﴿المصطففین:۱۵﴾

’’ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب ﴿کے دیدار﴾ سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔‘‘

کیا سعادت وشقاوت تقدیر سے ہے

سطوربالا میں جنت و جہنم کے حوالے سے سعادت و شقاوت کی جو تفصیل بیان کی گئی کیا اس کا تعلق تقدیر انسانی سے ہے۔ کیا انسان اپنے اعمال کے ذریعے اس سعادت کو پاسکتا ہے اور شقاوت سے بچ سکتاہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ کیوں کہ بعض روایات میں وارد ہے کہ انسان کی تخلیق کے وقت ہی اس کی قسمت کافیصلہ کردیاجاتاہے۔ ارشاد ہے:

عن عبداللہ قال حدثنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہو الصادق والمصدوق‘‘ ان احدکم یجمع خلقہ فی بطن امہ اربعین یوماً ثم یکون فی ذلک علقۃ مثل ذلک ثم یکون فی ذلک مضنعۃ مثل ذلک ثم یرسل اللہ الملک فینقع فیہ الروح ویؤمر باربع کلمات بکتب رزقہ واجلہ عملہ وشقی او سعید فوالذی لاالہ غیرہ ان احدکم لیعمل بعمل اہل الجنۃ حتی مایکون بینہ وبینہا الا ذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اہل النار فیدخلہا وان احدکم لیعمل بعمل اہل النار حتی مایکون بینہ وبینہا الا ذراع فیسبق علیہ الکتاب فیعمل بعمل اہل الجنۃ فیدخلہا۔ ﴿مسلم: کتاب القدر، باب:۱﴾

’’حضرت عبداللہ ؓسے مروی ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ہیں، نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کی تخلیق کاآغاز اس کے ماں کے پیٹ میں اس طرح ہوتاہے کہ چالیس دن نطفے کی حالت میںرہتاہے۔ پھر اسی طرح چالیس دن تک وہ علقہ کی شکل میں رہتاہے اور پھر چالیس دن تک مصفنہ کی شکل میں رہتاہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کوبھیجتاہے جو اس میں روح ڈالتاہے اور چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیتاہے جن باتوں کے لکھنے کاحکم دیتا ہے وہ ہیں: اس کا رزق، موت، عمل، بدبختی یا نیک بختی۔ قسم خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں تم میں سے ایک شخص اہل جنت کے اعمال بجالاتاہے یہاں تک کہ جنت اور اس کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتاہے پھر اس پر اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے اور جہنمیوں جیسا عمل کرگزرتاہے اور اس میں داخل ہوجاتاہے۔ اور تم میں سے ایک شخص اہل جہنم جیسے اعمال کرتاہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتاہے پھر اس پر تقدیر غالب آجاتی ہے اور وہ جنتیوں کا عمل کرلیتاہے اور جنت میں داخل ہوجاتاہے۔‘‘

اس روایت سے اور اس جیسی بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کی سعادت و شقاوت کافیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکاہے اور اب اس کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اہل سعادت کے لیے جہاں خوشی کی ہے، وہیں اہل شقاوت کے لیے افسوس اور مایوسی کی ہے اور اس سے عمل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس اشکال کا جواب خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دیا جب بعض صحابہ کرامﷺ نے آپؑ کی اسی طرح کی ایک گفتگو کے موقعے پر دریافت کیاکہ پھر ہم کیوں نہ تقدیر پر بھروسا کرلیں اور عمل ترک کردیں؟ توآپﷺ نے فرمایا:

اعملو فکل میسر اما اہل السعادۃ فییسرون لعمل اہل السعادۃ واما اہل الشقاوۃ فییسرون لعملاہل الشقاوۃ… ثم قرأ ﴿فَأَمَّا مَن أَعْطَی وَاتَّقَی oوَصَدَّقَ بِالْحُسْنیٰ oفَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرَی oوَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَی oوَکَذَّبَ بِالْحُسْنَی oفَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرَیo﴿الیل: ۵-۱۰﴾  ﴿مسلم،کتاب القدر باب:۱، نمبر:۶۷۳۱﴾

’’عمل کرتے رہو ہر ایک کو اس کی توفیق ملتی ہے۔ اہل سعادت کو سعادت کے باعث اعمال کو آسان بنادیاجاتاہے اور اہل شقاوت کو شقاوت کے باعث اعمال کو آسان بنادیاجاتاہے۔ پھر آپﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: ’’جس نے ﴿راہِ خدامیں﴾ مال دیا اور خدا کی نافرمانی سے پرہیزکیا اور بھلائی کو سچ مانا ، اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیںگے اور جس نے بخل کیا اور بے نیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مختلف ارشادات میں اس مضمون کو واضح کیاہے کہ عمل کرنا تقدیر سے جنگ کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ بل کہ اعمال واسباب بھی تقدیر کا حصہ ہیں۔ جس شخص کی قسمت میں سعادت لکھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کے مطابق اعمال انجام دینے کی توفیق عطا کردیتاہے اور جس شخص کی قسمت میں بدبختی لکھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس سے بدبختی کے اعمال سرزد کرادیتاہے۔ لہٰذا عمل کو معطل کرنا اور تقدیر پر بھروسا کرکے بیٹھے رہنا صحیح موقف نہیں ہے۔

ایمان

حصول سعادت کے لیے سب سے بنیادی عمل ایمان ہے۔ ایمان کے معنی یقین کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی ذات ﴿اس کی صفات کے ساتھ﴾ رسالت، آخرت، ملائکہ، کتب آسمانی اور تقدیر پریقین رکھنے کو ایمان کہاجاتاہے۔ ایمان کے مفہوم میں دل سے یقین کرنا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضائ وجوارح سے عمل کرنا داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کَانَتْ لَہُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاًoخَالِدِیْنَ فِیْہَا لَا یَبْغُونَ عَنْہَا حِوَلاً ﴿الکہف:۱۰۸-۱۰۷﴾

’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوںنے کام بھی اچھے کیے یقینا ان کے لیے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہاکریںگے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کاارادہ ہی نہ ہوگا۔‘‘

عمل صالح

قرآن وحدیث میں حصول سعادت کے لیے دوسری بنیادی چیز عمل صالح کو قرار دیاگیاہے۔ قرآن میں جہاں ایمان کا تذکرہ ہے وہاں ساتھ ہی عمل صالح کا بھی تذکرہ ہے۔ عمل صالح کے مفہوم میں ارکان اسلام نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ پر عمل کے علاوہ تمام معاملات، اخلاق اور سیاست میں خدا اور رسول کے مرضی کے مطابق عمل کرنا بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

’’بے شک جو لوگ ایمان کے ساتھ نیک کام کرتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ان کا اجران کے رب تعالیٰ کے پاس ہے ان پر نہ کوئی خوف ہے نہ اداسی اور غم۔‘‘    ﴿البقرہ:۲۷۷﴾

تقویٰ

حصول سعادت کاباعث تقویٰ بھی ہے۔ تقویٰ کے معنیٰ بچنے اور ڈرنے دونوں کے ہیں۔ اصطلاح میں تقویٰ شریعت کے خلاف عمل سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرنے کو کہاجاتاہے۔ قرآن میں تقویٰ کو جنت میں جانے کا سبب قرار دیاگیاہے۔ ارشاد ہے:

وَسَارِعُوآْ اِلَی مَغْفِرَۃٍ مِّن رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْن ﴿آل عمران:۱۳۳ ﴾

’’اور دوڑکر چلو اس راہ پر جو تمھارے رب کی بخشش اور جنت کی طرف جاتی ہے، جس کی وسعت میںزمین اور آسمان جیسی ہے جو تقویٰ والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

صبر

سعادت پانے کاایک ذریعہ صبر ہے۔ صبر کے معنی روکنے کے ہیں۔ قرآن میں صبر کے معنی نفس کو اس بات پر روکنے کے ہیں جو نفس کے لیے ناگوار ہو۔ اس کے مختلف پہلو ہیں: آفاتِ دنیا پر صبر، نفسانی خواہشوںپر صبر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی مشکلات پرصبر، اشاعت دین کی مشکلات پر صبر، میدان جہاد میں صبر اور انسانی تعلقات میں صبروغیرہ۔ قرآن میں ان میں سے ہر پہلوپرصبر کی واضح تعلیم دی گئی ہے اور اس کے بدلے میں سعادت کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ ارشاد ہے:

أُوْلٰئِٓکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ بِمَا صَبَرُوا وَیُلَقَّوْنَ فِیْہَا تَحِیَّۃً وَسَلَاماً   ﴿الفرقان:۵۷﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے صبر کاپھل منزل بلند کی شکل میں پائیںگے، آداب وتسلیمات سے ان کا استقبال ہوگا۔

توبہ

سعادت کے حصول کاایک ذریعہ توبہ ہے۔ توبہ کے معنی بازآنے کے ہیں۔ اصطلاحی معنی گناہ سے رجوع کرنے اور بازآنے کے ہیں۔ انسان کے اندر بہت سی کمزوریاں ہیں۔ بسااوقات اس سے گناہ سرزد ہوجاتاہے۔ اس کے ازالے کا بہترین ذریعہ توبہ ہے۔ توبہ کے معنی گناہ کی معافی چاہنا اور اس کا عہد کرناکہ جو گناہ اس سے سرزد ہوچکاہے، دوبارہ نہ ہوگا۔ گناہوں پر اصرار تباہی کا باعث ہے، جب کہ توبہ گناہ اور تباہی سے بچانے والاہے، جو سعادت کاباعث ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاٰمَّا مَن تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَعَسَی أَن یَکُونَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ   ﴿القصص:۶۷﴾

’’جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتاہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ السُّوَئٓ َ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِن قَرِیْبٍ فَأُوْلٰٓ ئِکَ یَتُوبُ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَکَانَ اللّہُ عَلِیْماً حَکِیْماً  ﴿النسا ئ   :۷۱﴾

’’اللہ تعالیٰ صرف انھی لوگوں کی توبہ قبول فرماتاہے، جو بوجہ نادانی کوئی بُرائی کرگزریں، پھر جلد اس سے باز آْائیں اور توبہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ بڑے علم والا اور حکمت والا ہے۔‘‘

سعادت کے باعث اور بھی بہت سے اعمال ہیں۔مثلاً: امربالمعروف ونہی عن المنکر کی انجام دہی،جہاد فی سبیل اللہ اور خدمت خلق وغیرہ۔

شقاوت

شقاوت کے لاحق ہونے کے بھی کچھ اسباب وعوامل ہوتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں ان کی تفصیلات موجود ہیں۔ یہاں چند اہم اسباب و عوامل شقاوت کاذکر کیاجاتاہے۔

شرک

شرک کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرنا۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں تنہا اوراکیلا ہے۔ اسی طرح وہ تنہا عبادت کے لائق ہے۔ ان میں سے کسی پہلو سے کسی بھی چیز کو جزوی یا کلی طورپر اللہ تعالیٰ کے برابر یا شریک سمجھنا اللہ کے نزدیک سنگین ترین گناہ ہے اور باعث شقاوت ہے۔ ارشاد ہے:

الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ ﴿المائدہ:۷۲﴾

’’جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا، اس پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘

کفر

کفر کے معنی انکارکرنے کے ہیں، جس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار کرنا یا اس کی صفات یا اس کے احکام میں سے کسی صفت و حکم کاانکار کرنا کفر کہلاتاہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ کَفَرواْ وَکَذَّبُواْ بِاٰ یَاتِنَآ أُولٰٓ ئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ  ﴿البقرہ:۳۹﴾

’’اوروہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیت کی تکذیب کی، یہی لوگ جہنم والے ہیں، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

آخرت کو جھٹلانا

شقاوت کاباعث انکار آخرت بھی ہے۔ قرآن میں عقیدۂ آخرت کو ٹھوس دلائل سے ثابت کیاگیاہے اور اس کے انکارکرنے والے کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے:

وَاِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُہُمْ أَئِذَا کُنَّا تُرَاباً أَئِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ أُوْلٰٓ ئِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِمْ وَأُوْلٰٓئِکَ الأَغْلاَلُ فِٓیْ أَعْنَاقِہِمْ وَأُوْلٰٓ ئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدون ﴿الرعد:۵﴾

’’اب اگر تمھیں تعجب کرناہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ ’’جب ہم مرکر مٹی ہوجائیں گے تو کیا نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟ ’’یہ وہ لوگ ہیںجنھوںنے اپنے رب سے کفر کیاہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں، یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

شیطان کی پیروی کرنا

شیطان انسان کاازلی دشمن ہے۔ اس نے انسان کو گمراہ کرنے اورجہنم کا ایندھن بنانے کی قسم کھارکھی ہے۔ لہٰذا شیطان ہمیشہ انسان کو ایسے اعمال و افعال کی انجام دہی پر اکساتا ہے، جو شقاوت کے باعث ہیں۔ ایسی صورت میں جو شخص دین اسلام کے طریقوں کو چھوڑکر شیطان کی پیروی کرے گا، وہ شقاوت کا مستحق ہوگا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَأُغْوِیَنَّہُمْ أَجْمَعِیْنَاِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ o قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُoلَأَمْلَأَنَّ جَہَنَّمَ مِنکَ وَمِمَّن تَبِعَکَ مِنْہُمْ أَجْمَعِیْنo        ﴿ص:۸۵-۸۶﴾

’’ابلیس ﴿شیطان﴾ نے کہا: ﴿اے اللہ﴾ تیری عزت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو بہکاکر رہوںگا بجزتیرے ان بندوں کے جنھیں تو نے خالص کرلیا ہے۔ فرمایا: تو حق یہ ہے کہ میں حق ہی کہاکرتاہوں کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان لوگوں سے بھردوںگا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے۔‘‘

نفسانی خواہشوں کی پیروی

انسان کو نہ صرف شیطان بُرائیوں کی طرف بلاتاہے، بلکہ اس کی نفسانی خواہشیں بھی اس کو بُرائیوں میں مبتلاکرتی ہیں۔ ان میں پیٹ، شرم گاہ اور جاہ ومنصب کی خواہشیں خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ قرآن وحدیث میں نفسانی خواہشوںکی پیروی کرنے کو بھی باعث شقاوت قرار دیاگیا ہے۔ ارشاد ہے:

فَخَلَفَ مِن بَعْدِہِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیّاً  ﴿مریم:۹۵﴾

’’پھر ان کے بعدناخلف لوگ ان کے جانشیں ہوئے، جنھوںنے نماز کو ضائع کیا اور خواہشِ نفس کی پیروی کی۔ پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔‘‘

دنیوی زندگی کو ترجیح دینا

اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت دونوں بنائی ہے۔ دنیا اور اس کی نعمتیں انسان پہلے دیکھ لیتاہے اور آخرت موت کے بعد۔ بہت سے لوگ دنیا کی رنگینیوں کو دیکھ کر آخرت کو فراموش کردیتے ہیں اور دنیا کو اس طرح اختیار کرلیتے ہیں، جیسے یہی ہمیشہ کی زندگی ہے۔ حالاں کہ دنیا چند روزہ ہوتی ہے۔ ایسا شخص جس نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دے دی ہو، اس کو بدبختی کامستحق قرادیاگیاہے۔ ارشاد ہے:

أُوْلٰٓ ئِکَ الَّذِیْنَ لَیْْسَ لَہُمْ فِیْ الاٰخِرَۃِ اِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِیْہَا وَبَاطِلٌ مَّا کَانُواْ یَعْمَلُون ﴿ہود:۱۶﴾

’’جو لوگ بس اس دنیا کی زندگی اور اس کی خوش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں، ان کی کارگزاری کاسارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں۔ اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے، جو کچھ انھوںنے دنیا میں بنایا، سب ملیامیٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیادھرا محض باطل ہے۔‘‘

گناہوں پر اصرار

گناہوں پر اصرار کرنابھی بدبختی کا باعث ہے۔ اصرار کے معنی یہ ہیں کہ ایک کے بعد ایک گناہ کاارتکاب کرتے رہنا اور اللہ تعالیٰ اور آخرت سے بے خوف ہوجانا اور توبہ سے اعراض کرنا۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں انسان کو شقاوت لاحق ہونالازم ہے۔ ارشاد ہے:

وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَآ أَصْحَابُ الشِّمَالo فِیْ سَمُومٍ وَحَمِیْمٍ oوَظِلٍّ مِّن یَحْمُومٍ o لَّا بَارِدٍ وَّلَا کَرِیْمٍo اِنَّہُمْ کَانُوا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَo وَکَانُوا یُصِرُّونَ عَلَی الْحِنثِ الْعَظِیْمِo وَکَانُوا یَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَاباً وَعِظَاماً أَئِنَّا لَمَبْعُوثُون    ﴿الواقعہ:۴۱-۴۷﴾

’’اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں ﴿کی بدنصیبی﴾ کا کیا پوچھنا وہ لو کی لپیٹ اور کھولتے ہوئے پانی اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوںگے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوںگے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلیخوش حال تھے اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ کہتے تھے: کیا عجب ہم مرکر خاک ہوجائیںگے اور ہڈیوں کاپنجر رہ جائیںگے تو پھر اٹھاکھڑے کیے جائیںگے؟‘‘

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اعمال واسباب ہیں جو بدبختی اور شقاوت کا باعث ہیں۔ ان میں سرکشی کرنا، مجرمانہ زندگی گزارنا، کتمان حق کرنا، اللہ اور آخرت پر شک کرنا، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرنا، یتیموں اور دوسروں کے مال ناجائز طریقے سے کھانا، خودکشی کرنا، مومنوں کو نشے میں ڈالنا، دین اسلام سے پھرجانا، ظلم کرنا، لوگوں کو معروف سے روکنا جیسے اعمال قابل ذکر ہیں۔

سعادت وشقاوت کی معرفت شاہ کلید

سعادت و شقاوت کی جتنی بھی تفصیلات ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشادات میں واضح فرمادیاہے اور وہ راہ بھی دکھادی ہے جس پر چل کر سعادت حاصل ہو اور شقاوت سے بچاجاسکے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔

فَاِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مِّنِّیْ ہُدًی فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقَی ﴿طہٰ:۱۲۳﴾

’’میری طرف سے تمھارے پاس ضرور ہدایت آئے گی تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گاوہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

اِنَّ ہَ ذَا الْقُراٰنَ یِہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ أَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ أَجْراً کَبِیْرا ﴿الاسرائ:۹﴾

’’حقیقت میں یہ قرآن وہ راہ دکھاتاہے، جو بالکل سیدھی ہے، جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انھیں یہ بشارت دیتاہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے۔‘‘

اسی طرح حدیت کے سلسلے میں وارد ہے کہ جو شخص اس کو پکڑے گا، وہ گم راہ نہیں ہوگا۔ ارشاد نبویﷺ ہے:

ترکت فیکم ماان تمسکتم بہالن تضوا کتاب اللہ وسنتی۔   ﴿السنن الکبریٰ للبیہقی:۱۰/۱۱۴﴾

’’تمھارے درمیان میں نے ایسی دوچیزیں چھوڑی ہیں کہ جب تک تم انھیں پکڑے رہوگے گم راہ نہ ہوگے، وہ دوچیزہیں قرآن اور میری سنت۔‘‘

ایک دوسری روایت میں وارد ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ألاانی اوتیت الکتاب و مثلہ معہ‘‘  ﴿ابوداؤد: کتاب السنۃ باب لزوم السنۃ﴾

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے قرآن دیاگیا اور قرآن جیسی ایک چیز اور دی گئی جو سنت ہے۔‘‘

ان نصوص سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا وآخرت کی سعادتوں کو جاننے اور اختیار کرنے کے لیے قرآن وحدیث پر عمل ضروری ہے۔ اسی طرح شقاوتوں اور بدبختیوں سے بچنے کے لیے بھی انھی دونوں چیزوں سے رہ نمائی حاصل کی جائے گی، جن کا مجموعہ ’’اسلام‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت سے فرمادیاہے کہ ’’اسلام کو چھوڑکر اور کوئی دین اور طریقہ یا نظریہ سعادت سے ہم کم کنار کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ ارشاد ہے:

وَمَن یَبْتَغِ غَیْْرَ الاِسْلاَمِ دِیْناً فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْن ﴿آل عمران: ۸۵﴾

’’جو شخص دین اسلام کو چھوڑکر کوئی اور دین تلاش کرے گا وہ ہرگز قبول نہ کیاجائے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد رہے گا۔‘‘

خلاصۂ گفتگو یہ کہ اسلام دینِ فطرت بھی ہے اور دینِ سعادت بھی۔ یہ انسان کو اس کی فطرت و استطاعت کے مطابق قرآن و سنت کی ہدایات و رہ نمائی کا مکلف بناتاہے اور اس کے نتیجے میں دنیوی واخروی فلاح و کام یابی کی سعادت سے ہم کنار کرتاہے۔ جو لوگ اِس سے ہٹ کر کوئی راستا اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے سراسر عذاب و خسران ہے۔

مارچ 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau