اسلامی کتب خانے

نسلی عصبیت کی زد میں

اندراز جے ریڈلمیر | ترجمہ : شہاب الدین انصاری

اس حادثہ سے تین مہینے پہلے سراجیو اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کو آتشیں بموں کے ذریعہ نشانہ بنایاگیاتھا۔ بوسنیا میں اسلامی مخطوطات اور عثمانی دور کی سرکاری دستاویزوں کا یہ سب سے بڑا ذخیرہ تھا۔ یہاں بوسنیا سے متعلق ذاتی ذخائر اور یورپ کے دوسرے کتب خانوں میں موجود مخطوطات کی مائیکروفلم کی تین سوریلیں بھی محفوظ تھیں۔ کتب خانہ کے ذخیرہ میں حوالہ جاتی وسائل میں دس ہزار مطبوعات اور رسائل کی تین سوجلدیں تھیں۔ دوسرے علمی مواد میں ۵۲۶۳جلد بند قدیم مخطوطات ، عثمانی دور کے صوبائی دستاویزات کی آرکایوز بوسنیا کی آبادی کا سولہویں صدی سے انیسویں صدی کے آخر تک کا ریکارڈ زمینوں کی ملکیت سے متعلق ریکارڈ کتب خانہ میں محفوظ تھے۔ ۱۷/مئی ۱۹۹۲؁ء میں کی گئی بمباری میں جملہ ذخیرہ مع کٹیلاگ آگ کی لپٹوں کی نذرہوگیا۔

سربیائی فوجوں کی بمباری کے ذریعہ سراجیو یونیورسٹی کے سولہ فیکلٹی کتب خانوں میں دس کتب خانے مکمل یا جزوی طور پر برباد کئے گئے جس کے نتیجہ میں پانچ لاکھ کتابوں اور ۵۰۰ رسائل کا نقصان ہوا۔ بچے ہوئے فیکلٹی کتب خانوں میں یونیورسٹی کے تحقیقی اداروں میں بھی ان کی عمارتوں، فرنیچر وغیرہ اور علمی وسائل کو کچھ کچھ نقصان اٹھانا پڑا اور عملہ کے افراد کی جانیں بھی گئیں۔ سراجیو میونسپل پبلک کتب خانہ کی آٹھ شاخیں بھی بمباری کا شکار ہوکر جل گئیں۔

فرنیسسکان(Franciscon) تھیولاجیکل سینری کو سربیائی فوجی دستوں نے اپنے قبضے میں لے کر وہاں کے پادریوں کو بھگادیا اور سیمینری کے ۵۰ ہزار کتابوں کے ذخیرہ کو جس میں سترہویں صدی تک کے نادر مخطوطات اور آرٹ کے نمونے تھے، لوٹ لیا۔ دوران جنگ ذخیرہ کی چند قیمتی مخطوطات کو فرانسسکان گروہ کے بلگراڈشہر کے صدر امام کو ایک سربیائی تاجر نے ایک بڑی رقم کے بدلے فروخت کرنے کے لئے پیش کیا تھا۔ کل ذخیرہ کی آدھی کتابوں کا جن میں نہایت قیمتی کتابیں بھی تھیں اب تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

بوسنیا کے دوسرے علاقے

سربیائی اور کروشیائی قوم پرستوں نے ’’نسلی تطہیر‘‘ کے لئے جس وسیع پیمانے پر دوسری نسلی اکائیوں کی بربادی کا جو طریقہ اپنایا اس کی مثال بوسنیا-ہرزے گوینا کے دوشہر جنجہ اور اسٹولیک اور ان کے کتب خانے ہیں۔

جنجہ: یہاں کی کل آبادی کا ۹۰فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ یہاں کی قدیم مسجد کو ۱۳/اپریل ۱۹۹۳؁ء کی شب میں اس وقت بم سے اڑادیاگیا جب کہ شہر میں کرفیو نافذ تھا اور مسجد کے ملبہ کو بل ڈوزر کی مدد سے برابر کردیاگیا۔ مئی ۱۹۹۲؁ء میں جنجہ کی نسبتاً نئی تعمیر مسجد کو زمین بوس کیاگیا۔ ایک قدیم کتب خانہ بھی تھا جو بوسینائی خاندان کے معروف فرد آفندی صاد قوچ (Sadikovic) کا ذخیرہ تھا۔ قدیم مخطوطات اور دوسرے علمی مواد ساتھ اسی کتب خانہ میں دو نہایت معتبر عالم ، خلیل آفندی زیلچ اور مصطفےٰ آفندی حاذق کے ذاتی ذخیرے بھی تھے۔ مجموعی طور پر ۳۲۰۰ قدیم مخطوطات اور مطبوعات تھیں۔ ان میں تفاسیر کے علاوہ مذہبیات، تاریخ، فلسفہ اور اسلامی قوانین پر کتابیں تھیں۔’’نسلی تطہیر‘‘ کرنے والوں نے وہاں کی مسلم آبادی کا بھی صفایا کردیا۔ انہوں نے فوجی خدمت کے اہل افراد کو ایک نظربندی کیمپ میں محصور کردیا اور خواتین، ضعیف العمر مردوں اور بچوں کو فدیہ لے کر سورش زدہ علاقہ ’’بھاگ جانے کا حق عطا کردیا۔‘‘ اس کے بعد بچی ہوئی آبادی کے ۳۰۰۰ نفوس میں سے گنتی کے چند افراد کو چھوڑ کرسب کی، ’’نسلی صفائی‘‘ کردی گئی۔

اسٹولیک(Stolac)

یہاں ہونے والے نقصانات بھی مسلمانوں کے قتل اور انہیں شہر بدر کرنے نیز ان کی قومی یادگاروں کے برباد کرنے اور علاقہ کی نسلی تطہیر میں ایک تعلق کی مثال ہیں۔ اسٹولیک جنوبی بوسنیا-ہرزے گوینا کا ایک تاریخی شہر تھا جس میں آدھے مسلمان اور ایک تہائی بوسینائی کروشین اور بوسینائی سربین آباد تھے۔ یہ چھوٹا سا نگینہ جیسا شہر تھا جو اپنے روایتی بوسنیائی طرز تعمیر پر بنے مکانات، اپنی چار قدیم مساجد، ایک ’’براق‘‘ طرز پر بنے سربیائی آرتھوڈاکس چرچ وکیتھولک چرچ اور اپنی سترہویں صدی سے قائم بازار کے لئے معروف تھا۔ حکومت اسے بونیسکوورلڈ ہیرٹیج سائٹ دیئے جانے کی درخواست دی تھی۔ یونائٹیڈ نیشنزہائی کمشنر برائے پناہ گزیں کی رپورٹ کے مطابق ۳۹۹۱ئ جولائی کے شروع میں جنگی خدمات کے اہل سیکڑوں افراد اسٹولیک کے جو ایک مسلم اکثریت کا شہر تھا ‘‘ گرفتار کئے گئے اور حراست میں رکھے گئے غالباً ﴿نظر بندی کیمپ﴾ میں جو درے ٹیلج(Deretelj)اور گابیلا (Gabell) میں تھے۔ اسٹولیک کے نظر بند رکھے گئے لوگوں کی تعداد ۰۵۳۱ یقین کی جاتی ہے۔ یکم اگست کو اسٹولیک کی چار مساجد کو بم سے اڑادیاگیا۔ گواہوں کا بیان ہے کہ اس رات ملٹری ٹرک جن میں فوجی تھے جو ہوائی فائرکرتے جارہے تھے۔ اور شہر میں سنائی دے رہی تھی۔ فوجی جو اپنے منہ رومال، موزے اوررنگ سے چھپائے ہوئے تھے شہریوں کو اسٹولیک کے شمال مغرب میں بلیگاج(Blagaj) کی طرف جہاں زبردست جنگ ہورہی تھی۔ لے گئے۔‘‘(UNHCR1993)

کوسوو(Kosovo) ۱۹۹۸-۱۹۹۹ میں جب بوسنیا اور کروشیا کے لائبریرین اپنے کتب خانوں کی دوبارہ ترتیب میں مصروف تھے، نسلی منافرت کی آگ کو سوومیں بھڑک اٹھی البانوی نسل کے باشندے جو جنوبی کوسوو میں اکثریت میں بلگراڈ کی سربیائی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے بلگریڈ کی افواج نے انہیں نہایت وحشیانہ ڈھنگ سے دبانے کی کوشش کی تاکہ کوسوو پر سربیائی نسل کا غلبہ قائم رہے۔ اس عمل میں انہوں نے بڑے پیمانے پر البانوی نسل کے لوگوں کی ’’نسلی تطہیری‘‘ کر ڈالی۔ یہ جنگ اگرچہ تین مہینے سے بھی کم مدت تک چلی لیکن اس دوران سربیائی پولیس، فوجی دستے اور نیم فوجی دستوں نے 800,000کوسووالبانیائی باشندوں کو ان کے گھروں سے ہی نہیں کوسوو سے باہر کھدیڑ دیا اور اسی عرصہ میں ۰۲۲ مسجدیں گرادی گئیں۔ شہر کے ۵۶ کتب خانوں کو جلادیا گیا، نتیجے میں ۹۰۰۵۸۸ کتابیں جل گئیں۔ اسی طرح ایک تہائی سے زیادہ اسکول کتب خانے تباہ کردیئے گئے۔ جلنے والے کتب خانوں میں ۱۵۹۵؁ء میں قائم خادم آغا سلیمان کا اسلامی اوقاف کا کتب خانہ اور البانوی قوم کی مرکزی تاریخی آرکایوز کا کتب خانہ بھی شامل ہیں۔ اس آرکایوزیں قوم کی پانچ سوسال تاریخ کی دستاویزیں محفوظ رکھی ہوئی تھیں۔

بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ قائم ہوا لیکن مقدمہ کی کارروائی کی سست رفتاری سے بہت سے نامزد مجرمین فیصلہ تک پہنچنے سے پہلے وفات پاچکے ہیں۔ چند کو جیل کی سزا ہوئی ہے لیکن نسلی عصبیت کا جو بیج اس علاقہ میں بویا جاچکا ہے اُسے آسانی سے بے اثر نہیں کیاجاسکتا۔ چنانچہ اگرچہ بیشتر حصوں میں صورت حال امن کی ہے لیکن کسی وقت ایک چھوٹی سی افواہ علاقے کو پھر فساد کی آگ میں ڈال سکتی ہے۔ اس کی ایک مثال کوسوو میں ۲۰۰۴ میں ہوئی ایک خبر ہے کہ تین جوان لڑکے کوسوو میں مارڈالے گئے اس افواہ کے نتیجہ میں بلگراد اورینس کے شہروں میں مسجدیں شہید کردی گئیں اس سے ملحق اسلامی کتب خانہ تھا جسے مع ۵۰۰۰۰ کتابوں مخلوطات اور مسلم آبادی کے ریکارڈ جلاکر راکھ کردیاگیا۔

جون 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau