حقوق انسانی کا اسلامی فلسفہ

ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی

تقابلِ اضداد قرآن پاک کا معروف ادبی اسلوب ہے یہاں  اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ اور اَصْحٰبُ الْمَشْئَمۃ کا تقابل کیا گیا ہے (دائیں بازو والے یعنی جنتی) کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ بات حذف کردی گئی کہ وہ جنت کے باغات میں لطف اندوز اور مسرور ہوں گے کیونکہ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمۃ  (بائیں بازووالے)کے انجام بد کو عَلَیْہِمْ نَارٌمُؤ صَدۃ (ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی) کہہ کر کھول دیا گیا ہے۔

اسی طرح اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃ کی  صفات تفصیل سے بیان ہوئی ہیں مگر اَصْحٰبُ الْمَشْئَمۃ کی صفات کو کفر کے ایک جامع لفظ میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ تقابل سے اس کفر کی تفصیل واضح ہورہی ہے یعنی جو غلاموں کی آزادی کی تحریک نہیں چلاتے بلکہ انسانوں کو غلام بناتے ہیں، یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے بجائے ان کا استحصال کرتے ہیں اور ایمان ، صبر اور رحم دلی کی اعلیٰ قدروں کو اختیار کرنے کی جگہ کفر کرتے ہیں ، ایسے لوگ بائیں بازو والے ہیں اور جہنم کا ایندھن بنیں گے۔

سورۃ الماعون قرآن مجید کی موجودہ ترتیب کے مطابق ۱۰۷ ویں سورت ہے اور مکہ میں نازل ہوئی ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ان نمازیوں پر لعنت بھیجی ہے جو نماز ادا کرنے کے باوجود انسانی حقوق کے تئیں مجرمانہ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں:

اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۝۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۝۲ۙ وَلَا  يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۝۳ۭ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۝۴ۙ الَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۝۵ۙ الَّذِيْنَ ہُمْ يُرَاۗءُوْنَ۝۶ۙوَيَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۝۷ۧ       (الماعون۱۰۷ : ۱۔۷)

’’تم نے  دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اُکساتا۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں،جو ریا کاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔

حقوق اور فرائض کے درمیان توازن

اسلام کا فلسفۂ حقوق توازن اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ امت  امتِ وسط بنائی گئی ہے۔ اس کے خمیر میں توازن رکھا گیا ہے۔ قرآن حکیم جہاں حقوق کی ادائی پر زوردیتا ہے وہیں اپنےفرائض کے تئیں حساسیت بھی پیدا کرتا ہے ۔ بغیر فریضے کے حق کا تصور ہی محال ہے۔ انسان جس لمحے کسی حق کا مطالبہ کرتا ہے  اپنے آپ کو کسی ذمے داری کی ادائی کے لئے اہل بھی ثابت کرتا ہے۔ قرآن حکیم کا فلسفہ ان حقوق و فرائض کے درمیان توازن اور تناسب کی وکالت کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خواتین کو اللہ تعالیٰ نے کچھ حقوق دیے ہیں تو ان کی کچھ ذمے داریاں بھی بتائی ہیں۔ خواتین کے حقوق اور فرائض کے درمیان ایک تناسب ہے اور اِسی تناسب کی رعایت میں مردوں کو ان پر یک گونہ درجہ حاصل ہے:

وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰۠ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْہِنَّ دَرَجَۃٌ۝۰ۭ وَاللہُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔(البقرہ:۲۲۸)

’’ اور عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اُسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمے داریاں ہیں  وہاں مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ ترجیح کا ہے اور اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے‘‘۔

یہاں قرآن حکیم نے وضاحت کردی کہ شوہروں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حقوق صرف ان ہی کے ہیں، بیویوں کا کوئی حق ہی نہیں ہے بلکہ جس طرح ان پر شوہروں سے متعلق فرائض اور ذمے داریاں ہیں اسی طرح دستور کے مطابق شوہروں پر اُن کے حقوق بھی ہیں اور یہ فرائض اور حقوق بالکل متوازن ہیں۔ ہر شوہر کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے مطالبے کے ساتھ ساتھ بیوی کے حقوق کا بھی لحاظ کرے۔ البتہ خاندانی نظام کے بقا و استحکام کے نقطۂ نظر سے اسلام نے مرد کو عورت پر ایک درجہ ترجیح کا دیا ہے یعنی خاندان کا قوّام اور سرپرست  اسلام نے  عورت کو نہیں بلکہ مرد ہی کو بنایا ہے کیونکہ معاشی کفالت کی ذمے داری عورت کی نہیں مرد کی ہے جس طرح ایک ریاست کا نظم ایک سربراہ کی سربراہی کا محتاج ہے اسی طرح چھوٹے پیمانے پر ایک گھر کا نظم بھی ایک قوّام کی قوّامیت کا محتاج ہے اور اس قوّامیت کے لئے اپنی فطرت اور اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے  مرد ہی  موزوں ہے نہ کہ عورت ۔ مرد کی اِسی قوّامیت کو تسلیم کرکے اسلام نے تمام عائلی قوانین  واحکام تشکیل دیے ہیں۔ ’’اگر اس بنیاد کو ڈھاکر مغربی نظریہ ٔ مساوات کی اساس پر، جوہر اعتبار سے عورت و مرد دونوں کو ایک ہی درجے میں رکھنے کا مدعی ہے، اسلام کے عائلی قوانین کو سمجھنے اور ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو اس کوشش کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ پورا دین محرّف ہوکر رہ جائے‘‘۔

عورتوں کے حقوق اور ذمے داریوں کے درمیان اسی توازن کو قائم رکھتے ہوئے قرآن حکیم نے اعلان کیا:

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ۝۰ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ۝۰۔(النساء۴: ۳۴)

’’مرد عورتوں پر قوّام ہیں ، اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حفاظت ونگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں‘‘۔

اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں حقوق وفرائض کے اِس توازن کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

’’عورتوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کی امانت کے طور پر قبول کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمے سے انہیں اپنے لئے حلال کیا ہے۔ اُن پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو تمہارا بستر نہ روندنے دیں کیونکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی سزا دو جس سے چوٹ نہ آئے اور ان کا تمہارے اوپر حق یہ ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق خوراک اورلباس دیا کرو‘‘۔

حق سے زیادہ عطا کرنے کا شعور

مطالبۂ حق کے بجائے قرآن پاک میں ادائے حق پر زور ہے اور ادائے حق بھی اس شان کے ساتھ کہ وہ حسن سلوک اور احسان میں تبدیل ہوجائے۔ ادائے حق کا نام عدل و انصاف کا قیام ہے۔ لوگوں کے درمیان حقوق میں تو ازن اور تناسب ہو اور سب کو ان کے حقوق بے لاگ طریقے سے مل جائیں۔ عدل کا تقاضا ہے کہ معاشرے میں سارے افرادکو مساوی درجے میں حقوق شہریت حاصل ہوں توازن اور تناسب کی کارفرمائی ہو اور ہرشخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی ، معاشی، قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمانداری کے ساتھ ادا کیے جائیں۔

اس سے آگے کا مقام ہے احسان اور اس سے مراد ہے نیک برتائو، فیاضانہ معاملہ، ہمدردانہ رویہ ، رواداری، خوش خلقی، درگزر، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس ولحاظ، دوسرے کو اس کے حق سے کچھ دینا اور اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہوجانا۔ یہ عدل سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے زیادہ ہے۔ ’’عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے۔ عدل اگر معاشرے کو ناگواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس سے خوشگواریاں اور شیرینیاں پیدا کرتا ہے ۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہرفرد ہر وقت ناپ تول کرکے دیکھتا رہے کہ اس کا کیا حق ہے اور اسے وصول کرکے چھوڑے اور دوسرے کا کتنا حق ہے اور اسے اتنا ہی دے دے۔ ایسے ایک ٹھنڈے اور کھُرے معاشرے میں کشمکش تو نہ ہوگی مگر محبت اور شکرگزاری اور عالی ظرفی اور ایثار اور اخلاص وخیرخواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کو نشو ونما دینے والی قدریں ہیں‘‘۔

قرآن اعلان کرتاہے:

اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۝۰ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۔                                (النحل۱۶: ۹۰)

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم وزیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو‘‘۔

مدینہ منورہ کے انصار کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

يُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَيْہِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۝۰ۭۣ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(الحشر۵۹: ۹)

’’یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ ان کو دے دیا جائے اس پر کوئی تنگی اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔

’’مہاجرین جب مکہ اور دوسرے مقامات سے ہجرت کرکے مدینہ آئے تو انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیشکش کی کہ ہمارے باغ اور نخلستان حاضر ہیں۔ آپ انہیں ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیجیے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ تو باغبانی نہیں جانتے ۔ یہ اُس علاقے سے آئے ہیں جہاں باغات نہیں ہیں، کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ اپنے اِن باغوں اورنخلستانوں میں کام تم کرو اور پیداوار میں سے حصہ ان کو دو؟ انصار  نے کہا : نعم یا رسول اللہ ﷺ(اے اللہ کے رسولؐ ! ہم راضی ہیں)

مہاجرین نے کہا: ’’ہم نے کبھی ایسے لوگ نہیں دیکھے جو اس درجہ ایثار کرنے والے ہوں۔ یہ کام خود کریں گے اور حصہ ہم کو دیں گے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ سارا اجر یہی لوگ لوٹ لے گئے‘‘۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’نہیں ۔ جب تک تم اِن کی تعریف کرتے رہوگے اور ان کے حق میں دعائے خیر کرتے رہوگے، تم کو بھی اجر ملتا رہے گا‘‘۔

حق نہیں ، فرض

بعض مسائل ایسے ہیں جو اپنی قانون اور معاشرتی  اہمیت کی وجہ سے حق سے آگے بڑھ کر فرض کا درجہ پاگئے ہیں ۔ شہادت دینا اسلام میں مردوں پر فرض ہے۔

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَہَادَۃً عِنْدَہٗ مِنَ اللہِ۝۰ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔                                (البقرہ: ۱۴۰)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اس گواہی کو چھپایا جو اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجود ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے‘‘۔

وَلَا تَكْتُمُوا الشَّہَادَۃَ۝۰ۭ وَمَنْ يَّكْتُمْہَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ۝۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ۔                             (البقرہ: ۲۸۳)

’’اور تم گواہی کو نہ چھپائو اور جو شخص گواہی کو چھپاتا ہے تو یقینا اس کا دل آلودہ گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو عمل تم کرتے ہو‘‘۔

شہادت کا صاف شفاف اور مؤثر نظام موجود نہ ہوتو قانون کی حکمرانی قائم نہیں کی جاسکتی۔ اسی لئے اسلام نے اسے فرض قرار دیا اور گواہی چھپانے کو قابل سزا جرم بتایا۔

ظلم نہیں، تحفظ اور تکریم

اسلام کے بعض احکام وحی الٰہی سے بے نیاز اور امور شریعت سے ناواقف لوگوں کو ظلم و ناانصافی محسوس ہوتے ہیں حالانکہ وہ آزادی اور حقوق کے تحفظ کے لیے ہیں۔ حجاب کا حکم بعض نادانوں کو عورتوں کی آزادی پر قدغن نظر آتا ہے۔ مغربی تہذیب کے پروردہ افراد خواتین کی تکریم وتحفظ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ اس حکم کو بے جا بندش اور آزادی نسواں کی راہ میں حائل تصور کرتے ہیں۔ قرآن حکیم نے خواتین اسلام کے لیے لازمی قرار دیا کہ وہ گھر میں اپنے شوہر کے علاوہ دوسرےمحرم مردوں کے سامنے جائیں تو دوپٹے سےسرڈھکا ہو اور سینےپر حیا کا آنچل ہو:

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۔                                                             (النور۲۴:۳۱)

’’اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچاکے رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت نہ دکھائیں  بجز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں‘‘۔

اور جب خواتین گھر سے باہر قدم نکالیں تو اپنے معمول کے لباس پر ایک لمبی چادر ڈال لیا کریں تاکہ دور سے پہچان لی جائیں کہ یہ حیادار ،شریف اور باعفت عورتیں ہیں اور بدطینت لوگ ان سے دور رہیں ۔ اس طرح ہوسناک نظروں سے اور فتنہ پرورافراد سے محفوظ رہیںگی:

اَيُّہَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔         (الاحزاب۳۳: ۵۹)

’’اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی لمبی چادروں کو لٹکالیا کریں (جب بھی انہیں باہر جانا ہو) یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفورالرحیم ہے‘‘۔

حجاب عورت پر کوئی بے جا پابندی نہیں لگاتا نہ اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کرتا ہے۔ یہ تو ان کی حیاداری اور عفت مآبی کی پہچان ہے ۔ حجاب خواتین کی شرافت و متانت کی علامت ہے۔ یہ ان کے وقار اور تکریم کی نشانی ہے۔ خواتین نے پوری تاریخ اسلام میں اسلامی حجاب کی پاسداری کرتے ہوئے تحفظ اور عصمت کی زندگی گزاری اور سماج کی تعمیر وترقی میں ، متوازن اور متناسب حصے داری نبھائی۔

یہی معاملہ تعددازدواج یعنی چارعورتوں کو بہ یک وقت نکاح میں رکھنے کے حق اور رخصت کا ہے۔ مردوں کے لیے یہ ایک مشروط اجازت ہے ۔ واجب العمل کوئی حکم نہیں ہے۔ یہ رخصت بیوگان اور یتیم خواتین کو وقار اور تحفظ عطا کرنے کے لیے بھی ہے مگر ہر حال میں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کا قیام ناگزیر شرط ہے۔ اگر عدل قائم نہ ہوپانے کا اندیشہ ہوتو یہ رخصت قابل رد ہے۔ تعددپر عمل کرنے کے نتیجے میں اگرعورتوں کے شرعی حقوق مجروح ہورہےہوں تو اسلامی حکومت ا ُن کے حقوق دلوائے گی جیسا کہ بعض علماء نے وضاحت کی ہے۔ قرآن کہتا ہے:

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ۝۰ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا۔  (النساء۴:۳)

’’اوراگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو،تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لائو جو تمہارے قبضے میںآئی ہیں ، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین صواب ہے‘‘۔

مقاصدِ شریعت کے حصول کا وجوب

اسلامی شریعت نے حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے ان اعلیٰ مقاصد میں شامل کیا ہے جن کے قیام واستحکام اور تشکیل وتنفیذ کے لیے انبیاء علیہم السلام تاریخ کے مختلف ادوار و مراحل میں تشریف لاتے رہے اور جن کی تکمیل و اقامت بدرجۂ اتم فرمائی۔ آخری نبی محمد مصطفیٰ ﷺ نے۔ ان مقاصد کو ہر انسان کے لیے سہل الحصول اور یقینی بنانا نبوت کے فرائض میں شامل ہے۔

امام ابوحامد الغزالی ؒ (م ۵۰۵؍ ۱۱۱۱ء) نے ان مقاصد یا مصالح کی ایک فہرست مرتب کردی اور کسی مصلحت یا مقصد کے فہم کا منہج کیا ہو اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

’’مصلحت سے ہماری مراد مقصود شریعت کی محافظت ہے اور شریعت کا مقصد خلقِ خدا کے سلسلے میں پانچ چیزوں سے عبارت ہے ، وہ یہ کہ ان کے دین، جان، عقل، نسل اور مال کی حفاظت کی جائے۔ ہر وہ چیز جو اِن پانچ بنیادی چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہو، مصلحت شمار ہوگی اور ہر وہ چیز جو ان بنیادوں کے لیے خطرہ ہو ، مفسدہ شمار ہوگی جسے دور کرنا مصلحت قرار پائے گا‘‘۔

مصلحت یا مقصد کا فہم کیسے ہو، اس پر امام غزالی ؒ لکھتے ہیں:

’’ہم نے مصلحت کا مدار مقاصدِ شریعت  تحفظ پر رکھا ہے اور مقاصدِ شریعت کو کتاب سنت اور اجماع کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ چنانچہ کوئی ایسی مصلحت جس کا تعلق کسی ایسے مقصد کی حفاظت سے نہ ہو جسے کتاب، سنت اوراجماع سے سمجھاگیا ہو، اور جو ایسی نامانوس مصلحت ہو جو شریعت سے مناسبت نہ رکھتی ہو تو ایسی مصلحت باطل ہے۔ اسے رد کردیا جائے گا اور جو اس کی پیروی کرے گا وہ بدعت کا مرتکب قرار پائے گا‘‘۔

دور جدید میں مقاصدِ شریعت کی اس روایتی فہرست میں اضافہ کرنے پر زور دیا گیا۔ تیونس کے عالم محمد طاہر بن العاشور (۱۸۷۹۔۱۹۷۳ء) نے اپنی مشہور کتاب مقاصد الشریعۃ الاسلامیۃ میں ’’مقاصدخمسہ‘‘ کی مزید تفصیل کی۔ وہ لکھتے ہیں: ’’اموال کی بابت شریعت کا مقصود پانچ چیزوں سے عبارت ہے: یہ کہ اموال گردش میں رہیں، اموال واضح رہیں کہ ان کا مالک کون ہے،محفوظ رہیں، ان کے لین دین میں عدل برقرار رہے اور حقوق ملکیت مستحکم ہوں‘‘۔

مراکش کے مصلح اور دانشور علال الفا سی (۱۹۰۸۔۱۹۷۴ء) نے بھی اس موضوع کو چھیڑا۔ انھوںنے عدل وانصاف قائم کرنے اور ہرفرد کے لیے فکری آزادی اورنفسیاتی سکون واطمینان کی ضمانت دینے کو مقاصد شریعت میں شمار کیا۔

اسلامی معاشیات کے ماہر اور فکر اسلامی کے ممتاز دانشور ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی (پیدائش ۱۹۳۱ء) کی حالیہ تصنیف ’مقاصد شریعت‘ نے اس موضوع کی توسیع کی ہے۔ انھوں نے مقاصد خمسہ کی روایتی فہرست میں قابل قدر اضافے کیے ہیں۔ فاضل مفکر کے خیال میں ’’گلوبلائزیشن کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے میں مقاصد شریعت کی فہرست میں ان چیزوں کے اضافے سے مدد ملے گی جن کی مقصودیت کو کتاب وسنت کی سندتو حاصل ہے مگر اب سے پہلے ان کو زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ مصنف کے خیال میں جن مقاصد کوابھارکر پیش کرنا  مناسب ہوگا وہ درج ذیل ہیں:

(۱) انسانی عز وشرف(۲) بنیادی آزادیاں (۳) عدل وانصاف (۴) ازالۂ غربت اور کفالت عامہ (۵) سماجی مساوات اور دولت و آمدنی کی تقسیم میں پائی جانے والی ناہمواری کو بڑھنے سے روکنا۔ (۶) امن وامان اور نظم ونسق (۷) بین الاقوامی سطح پرباہم تعامل ۔

شریعت کے جن مقاصد پر علمائے اسلام نے اپنا زور قلم صرف کیا ہے ان میں سے بیشتر کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے اور اس پہلو سے بھی قرآن حکیم اور اسلام کافلسفۂ حقوق انسانی زیادہ جامع اور ہمہ گیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں انسانی حقوق کی جس طرح حفاظت کی اس کی مثال آج کے نام نہاد مہذب اورترقی یافتہ دور میں بھی مشکل ہے۔

اپریل 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau