استدراک

ڈاکٹر خالد حامدی فلاحی

سود: چند ضروری وضاحتیں

ماہ نامہ زندگی نو، مئی ۲۰۱۴ء میں،ص77-78 پرشائع شدہ’’رسائل و مسائل‘‘ کالم  پیش نظر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ’’لائف انشورنس کی رقم سے امداد‘‘ کے عنوان سے بجا طور سے سود کو اسلامی شریعت کے حوالے سے ناجائز قرار دیا گیا ہے، لیکن تشریح میں قرآن و احادیث کے واضح نصوص کے برخلاف نہایت سرسری طور پر’علما‘ کے حوالے سے سود کا استعمال جائز قرار دیا گیا ہے، چناںچہ مستفسر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے برادر مکرم ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی فرماتے ہیں:

’’ہر وہ معاملہ جس میں سود (Interest)شامل ہو، اسلامی شریعت میں ناجائز ہے۔ L.I.C.میں سود اور قمار (جوا) دونوں شامل ہوتے ہیں، اس لیے علما نے اسے بھی ناجائز کہا ہے۔ اگر کسی نےL.I.C.کی کوئی پالیسی لے رکھی ہے تو اس میں اس نے جتنا پیسہ جمع کیا ہے، اتنا واپس لینے اور اپنے کام میں لانے کا حق دار ہے۔ زائد رقم جو اسے ملی ہے،اس کا استعمال اس کے اپنے حق میں جائز نہیں ہے۔

انٹرسٹ کی رقم اور اس طرح کی دوسری رقموں (جیسےL.I.C.میں ملنے والی زائد رقم) کے بارے میں علما کا کہنا ہے کہ انھیں بینک میں نہیں چھوڑنا چاہیے، اس لیے کہ ان کے غلط کاموں میں استعمال ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے۔ انھیں نکلوا کر بہ غیر اجر و ثواب کی امید کے، مستحقین میں خرچ کردینا چاہیے۔ یہ مستحقین اجنبی بھی ہوسکتے ہیں اور اپنے رشے دار بھی۔ اب اگر آپ کی نواسیاں ایسی ہیں کہ ان کے باپ ان کی پرورش نہیں کررہے ہیں اور ان کی ماں بھی باوجود اسکول میں ٹیچر ہونے کے ان کی کفالت نہیں کرپارہی ہے تو یہ رقم آپ انھیں دے سکتی ہیں۔‘‘ (زندگی نو، مئی ۲۰۱۴ء، ص77-78)

اس پوری عبارت پر غور کیجیے کہ کس طرح سے ’علما‘ کے حوالے سے قطعیت کے ساتھ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز سود لینے کو نہایت ’خوب صورتی‘ کے ساتھ جائز قرار دیا گیا ہے، حالاںکہ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسلامی تناظر میں جب عالم کا لفظ آتا ہے تو اس سے مراد عالم القرآن والسنۃ ہوتا ہے، یعنی دینی معاملات میں علما کے حوالے سے مجرد کوئی بات نہیں پیش کی جانی چاہیے، جب تک کہ اس کو قرآن و حدیث کے تناظر میں نہ بیان کیا گیا ہو، یہ بات اس وقت تو نہایت ضروری ہو جاتی ہے، جب کہ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی چیز کو حلال ٹھہرایا جارہا ہو۔ ورنہ یہ تو بنی اسرائیل کی روش ہوجائے گی، جو کہ اللہ کی واضح تعلیمات اور احکام کے باوجود محض اپنے علما، فقہا کے اقوال کے حوالے سے حرام و حلال کا معاملہ طے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس عمل کو جرم ٹھہراتے ہوئے اسے شرک کے قبیل کا معاملہ قرار دیا ہے۔ (القرآن، التوبۃ ۹: ۳۱)

واضح رہے کہ اللہ کے حرام کردہ امور کو علما وفقہا تو کیا رسولوں اور نبیوں میں سے کوئی یہاں تک کہ اللہ کے آخری رسول محمد ﷺ بھی اپنے طور سے حلال نہیں کرسکتے۔ جس زمانے میں قرآن نازل ہورہا تھا، سود یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین تمام کے اندر نہ صرف رائج تھا، بلکہ معاشرے میں انتہائی گہری جڑیں پھیلا چکا تھا، جس سے اہلِ ایمان بھی بچے ہوئے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ علام الغیوب اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا کہ بعد کے زمانوں میں سود کی کیا کیا قہرسامانیاں ہوں گی، اس لیے سود کے بارے میں قرآن و احادیث میں انتہائی تفصیل سے وضاحت کی گئی اور احکام بتائے گئے ہیں کہ اتنی تفصیل سے شاید کسی حرام چیز کے بارے میں معلومات و احکام نہیں دیے گئے ہیں، قرآنِ مجید میں سود سے متعلق امور و احکام کو سورۃ البقرۃ ۲:۲۷۵-۲۷۹، آل عمران۳: ۱۳۰-۱۳۲، النساء ۴: ۱۶۰-۱۶۱، الروم ۳۰:۳۹ میں بیان کیا گیا ہے، وہیں تقریباً چالیس کے قریب صحیح احادیث ہیں، جن کو کثیر تعداد میں صحابہ نے اللہ کے رسول ﷺ سے روایت کرکے اہلِ ایمان پر سودی حرمت واضح کی ہے۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں سود کی حرمت سے متعلق واضح احکام آجانے کے بعدسود لینے کو نہ صرف یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے، بلکہ اس فعل کو کفر قرار دے کر اس کے مرتکب کے لیے جہنم کے دائمی عذاب کا اعلان بھی کیا ہے۔ (القرآن، البقرۃ ۲: ۲۷۵، ۲۷۹)

سود کی اسی شناعت کے پیشِ نظر اللہ کے رسول ﷺ نے قرض لینے والے سے کسی بھی قسم کے معمولی سے معمولی فائدے یا نفع حاصل کرنے سے منع فرمایا ہے:’’جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے تو مقروض اسے کوئی ہدیہ بھیجے یا اسے اپنی سواری پر سوار کرے تو وہ سوار نہ ہو، اور نہ ہی وہ اس کا ہدیہ قبول کرے، ہاں اگر قرض دینے سے پہلے بھی یہی معمول تھا تو کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ (ترجمہ حدیث سنن ابنِ ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان)

سود کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مدد یا شرکت بھی منع ہے۔چناںچہ ’’ اللہ کے رسولؐ نے سود لینے والے، سود دینے والے، سودی گواہوں اور سودی دستاویز لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ سب لعنت میں شریک ہیں۔‘‘ (ترجمہ حدیث صحیح مسلم، جامع الترمذی، سنن ابی داوٗد، مسند احمد عن عبداللہ بن مسعود و جابر بن عبداللہ) مزید تشریح کرتے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:’’سود کے ستر درجے ہیں، اس میں سب سے کم درجے کا سود ایسا ہے جیسے کہ کوئی شخص اپنی سگی ماں سے زنا کرے۔‘‘ (ترجمہ حدیث سنن ابنِ ماجہ والبیہقی فی شعب الایمان)

جب مخالفین نے تجارت اور سودی لین دین کو برابر قرار دے کر اپنے لیے جائز کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے نہایت واضح انداز میں حاکمِ مطلق رب کی حیثیت سے اپنے واضح فرمان کا اعلان کیا: ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، تو جس کے پاس اپنے رب کی جانب سے (حرمت کا) یہ فرمان آجائے اور وہ (سودی معاملات سے) رک جائے تو جو وہ اس سے پہلے لے چکا سو لے چکا، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، لیکن جو اس کے بعد بھی پھر دوبارہ سودی معاملات کو کرنا شروع کردے تو ایسے لوگ جہنمی ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘(ترجمہ القرآن، البقرۃ۲:۲۷۵)

مذکورہ بالا حکمِ الٰہی اہلِ ایمان بندوں سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی معاملے میں جیسے ہی یہ بات معلوم ہو کہ یہ سودی معاملہ ہے، اس سے فوری طور سے الگ ہو جانا چاہیے۔ اس سے پہلے کامعاملہ اللہ کے حوالے ہے اگر واقعتاً ایسا ہی ہے کہ اسے کسی معاملے میں سودی حرمت کا احساس اب اس وقت ہوا ہے تو اللہ معاف کرنے والا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ تو سینوں کے بھیدوں سے بھی واقف ہے، اسے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔

Saving Accountہو یا لائف انشورنس جیسی بیمہ اسکیم یہ سب سود پرمبنی ہوتی ہیں، ان کے بارے میں علم ہوتے ہی اسے ترک کردینا چاہیے، چناں چہ بینک کی فکسڈ ڈپازٹ اسکیم ہو یا سیونگ اکاؤنٹ یا ڈاک خانے کی سیونگ اسکیم یا اس جیسی کوئی بھی اسکیم جو کہ سود پر مبنی ہو، معلوم ہونے کے بعد اسے فوری طور سے ختم کرنا لازمی ہے، ورنہ عذابِ الٰہی کی گرفت میں آنے کا قوی اندیشہ ہے۔اگر کسی وجہ سے مدت پوری ہونے سے قبل اس کو ختم کرنا ممکن نہ ہو تو وہ باضابطہ تحریری و زبانی وصیت کررکھے کہ اگر اس دوران اس کی موت ہوجائے تو ورثا صرف اصل رقم لیں گے، باقی اضافی سودی اور جوئے والی رقم کو کسی بھی طرح اپنی تحویل میں نہ لیں گے۔

اس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ ہندوستانی بینکوں میں جو رقم سیونگ اکاؤنٹ اور فکسڈ ڈپازٹ میں جمع کرائی جاتی ہے، وہ بھاری شرحِ سود پر دوسروں کو قرض پر دی جاتی ہے، اس پربینک کو جو سود حاصل ہوتا ہے، وہ اسے متعینہ شرح سے کھاتے داروں میں تقسیم کرتا ہے۔ ہندوستان میں قرض لینے والوں سے بینک اتنی بھاری شرح پر سود لیتا ہے، جو شاید دنیا میں کہیں پر نہیں لیا جاتا۔ اس کی عدمِ ادائیگی کی وجہ سے مقروض افراد کے مکان و جائے داد وغیرہ قرق کرلیے جاتے ہیں اور پھر ان میں سے اکثر و بیش تر افراد خود کشیاں کرلیتے ہیں، جس کی رپورٹیں اور خبریں روزانہ ہی اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ جو لوگ بھی اپنے کھاتے میں بینک کی جانب سے دیے جانے والے سود کو وصول کرتے ہیں، وہ مجبور و مقروض لوگوں کی خودکشیوں کے وبال میں وہ بھی شامل ہیں۔

کوئی بھی صاحبِ ایمان سخت ترین آیاتِ الٰہی کے آنے اور سودی معاملے کے واضح ہونے کے بعد سودی معاملے کو مزید باقی نہیں رکھے گا اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سود کا جوکہ حرمت کی جان کاری یا علم سے قبل کا کسی کو ملنا باقی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا کرے، تو اس سلسلے میں نہایت واضح ہدایات اس طرح دی گئی ہیں: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو اگر تم (حقیقی) مومن ہو۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ قبول کرو۔ اگر تم اس سے باز آتے ہو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہے، نہ ہی تم کسی پر ظلم کرو گے اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ (ترجمہ القرآن، البقرۃ ۲:۲۷۸- ۲۷۹)

قرآن کے اس نصِ قطعی کے ذریعے ہمیں جو حکم دیا جارہا ہے کہ کسی بھی معاملے میں سودی حرمت واضح ہونے کے بعد جو بھی سودلینا باقی ہے، اسے لینے کے بجائے چھوڑ دینا لازمی ہے، یعنی اسے ہرگز ہرگز نہیں لینا ہے۔ اس کے برخلاف یعنی لینے کی صورت میں اسے اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلانِ جنگ کی دھمکی دی گئی ہے۔

’علما‘ کے حوالے سے سود لے کر اسے مستحقین کو دینے سے متعلق جو بات لکھی گئی ہے، وہ نصِ قرآنی اور اسوئہ رسول اللہ ﷺ کے صریحاً خلاف ہے، جب مدینہ میں سود کی حرمت کے احکام آئے تومکہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے سودکی حرمت کا اعلان کیا۔ چنانچہ سب سے پہلے اس علاقے کے بہت بڑے سودی سرمایہ کارعباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے کافی بڑی مقدارمیں سود ، جو زیادہ تر غیرمسلموں پر واجب الادا تھا، اللہ کے رسولؐ نے قدموں تلے روند کر ختم کرنے اور معاف کرنے کا اعلان فرمایا۔ (صحیح مسلم، سنن ابی داوٗد) ان میں سے کسی بھی موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے موہوم خطرات یا اضطراری حالات کے پیشِ نظر سود کو لے کر مستحقین اور غریبوں میں تقسیم کرنے کے لیے نہیں کہا۔

واضح رہے کہ سود ایک ایسی نجاست ہے، جس کی زیادتی و اضافہ خیر کے بجائے شر کا موجب ہے۔ وہ جہاں بھی رہے گا، اس سے شر و فساد ہی کا صدور ہوگا، خیر کا نہیں۔ اس لیے اسے خود لینا یا کسی اہلِ ایمان کو دینا ایمان کے منافی اور اسے نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بات بتا دی ہے:اللہ سود کو گھٹاتا اور صدقات والے مال کو فروغ دیتا ہے۔‘‘ (ترجمہ القرآن، البقرۃ۲:۲۷۶) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :’’سود چاہے کتنا ہی زیادہ ہو اس کا انجام کمی (تباہی) ہے۔‘‘(ترجمہ حدیث، سنن ابن ماجہ، مسند احمد)

یہودی ہمیشہ سودی معاملات اور لین دین میں بہت آگے رہے ہیں، اور دنیا کے متمول ترین افراد میں ان کا شمار رہا ہے، لیکن اللہ کی جانب سے، جب بھی عذاب کا فیصلہ ہوا تو یہ سودی دولت ان کے قطعاً کام نہ آئی، اس کے برعکس ان کی ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی کا ایک سبب اللہ تعالیٰ نے ان کی سود خوری اور حرام خوری ہی کو قرار دیا ۔ (القرآن، النساء۴: ۱۶۰-۱۶۱، المائدۃ ۵:۴۱-۴۲، ۶۲-۶۳) اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں بینک کے سودی اسکیموں و معاملات سے تعلق کوئی بھی مسلمان کیوں رکھ رہا ہے؟ یہ کوئی لازمی بات ہے؟ ترقی کی علامت ہے یا ایک فیشن ہے؟ دولت و رقم کو کنز یعنی جمع کرکے رکھنے کو تو اسلام میں مستحسن ہی نہیں مانا گیا ہے، چہ جائے کہ اس پر مستزاد یہ ہو کہ وہ اس پر سودی رقم بھی لے رہا ہو۔ سود دنیا و آخرت میں ترقی کے بجائے تباہی و بربادی، تنزلی اور عذابِ الٰہی پر منتج ہوتا ہے اور فیشن کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ کے قہروغضب کو مول لینا دنیا کی سب سے بڑی حماقت اور سنگین غلطی ہی کہی جائے گی۔

یہاں ایک اور غلط فہمی کا ازالہ مقصود ہے کہ قرآن و حدیث میں (لا تاکلوا الربا)اکل ربا (سود خوری) کا ذکر آیا ہے ۔عربی میں اس سے مراد سود لینا ہے، خواہ وہ کسی مصرف یا استعمال میں لایا جائے، محض کھانا یعنی ذاتی استعمال میں لینا ہی مراد نہیں ہے۔ چاہے لینے والا اس کا استعمال اپنے لباس، مکان پرکرے، اسے محفوظ رکھے یا اپنے اہل وعیال و متعلقین پر اسے خرچ کرے وہ سب اس میں داخل ہے۔ امام راغبؒ، قرطبیؒ اور امام رازیؒ، جلال الدین سیوطیؒ وغیرہم سمیت قدیم و جدید تمام مفسرین نے اکل ربا کا یہی مفہوم لیا ہے۔ دولت یا پیسے کو آدمی اپنے اور اپنے متعلقین پر خرچ کرے، اللہ کے راستے میں خرچ کرے، تجارت وغیرہ میں لگا کر اس سے فائدہ حاصل کرے، تاکہ سرمایہ ایک جگہ منجمد ہونے کے بجائے اضافہ پذیر ہو اور اس طرح دنیا و آخرت میں اس کے بعد اس کے متعلقین کے فائدہ مند ہو۔ ہاں اگر بینک میں رقم رکھنا کسی بھی وجہ سے ضروری ہو تو اس کے لیے فکسڈ ڈپازٹ اور سیونگ اکاؤنٹ (بچت کھاتہ) جس میں کہ کھاتے دار کو سود ملتا ہی کے بجائے، Current Account(چالو کھاتہ) لینا چاہیے، جس میں نہ صرف یہ کہ سود نہیں ملتا ہے، بلکہ ایک معمولی رقم سال میں کھاتے دار سے بینک وصول کرتا ہے۔

اب رہا وہ انشورنس جو کہ لازمی ہے، خصوصاً ڈرائیونگ لائسنس تو اس میں انشورنس کراتے وقت نیت صرف قانونی بچاؤ کی ہونی چاہیے، کسی قسم کے کلیم کی نہیں۔ چوں کہ قانونی طور سے لائسنس بنوانا ضروری ہے، اس لیے جامع و وسیع بیمہ پالیسی کے بجائے کم سے کم ترین تھرڈ پارٹی انشورنس بنوانا چاہیے، جس میں حادثے کی صورت میں انشورنس کروانے والے کا نہیں، بلکہ اگر اس کے ذریعے کسی دوسرے کا جو نقصان ہوا ہے، اس کو کمپنی پورا کرتی ہے۔ حادثے میں اگر دوسرے کی غلطی سے اس کا نقصان ہواہے تو وہ اس نقصان پہنچانے والے سے اپنے نقصان کی تلافی کا مطالبہ کرسکتا ہے، البتہ انشورنس کمپنی کے اوپر اس کی ادائیگی کی ذمے داری نہیں ہوتی ہے۔ اس انشورنس کے تعلق سے بھی طبیعت میں سخت کراہیت ہونی چاہیے اور توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے۔

صدقہ و خیرات بھی انسان کے مختلف تصرفات میں سے ایک استعمال ہے، جو آدمی اپنی ملکیت میں موجود چیزوں میں سے کرتا ہے۔ مومن کے ذریعے انجام دیا جانے والا کوئی ایسا ’’سیکولر کام‘‘ میرے علم میں نہیں ہے، جس پر ثواب یا عذاب نہ بتایا گیا ہو، یہاں تک کہ وہ غلطیاں جو کسی مومن سے سرزد ہوتی ہیں، تائب ہونے کے بعد اللہ ان کو بھی حسنات میں تبدیل کردیتا ہے۔ (القرآن، الفرقان ۲۵: ۷۰) اس کے علاوہ اس بات کو بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ غریب آدمی کے یہاں بھی ایمان ایک قیمتی قدر کی حیثیت رکھتا ہے، خنزیر کے گوشت سے بھی زیادہ غلیظ چیز سود کھلا کر اس کے ایمان کو ضائع کرنا، اس کے ساتھ ہم دردی نہیں دشمنی ہی کہلائے گا۔ اس کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے، جب کہ مستحق شخص قریبی رشتے دار ہو، کیوں کہ سود ان چیزوں میں نہیں آتا ہے، جن کو اضطراری طور سے استعمال کرلینے کی اجازت دی گئی ہو۔

شریعت کے مطابق مسلمان حرام چیز کا مالک ہو ہی نہیں سکتا کہ اسے اس کے بارے میں یہ فکر ہوکہ وہ اس کا کیا کرے اور اسے کس استعمال میں لائے۔ حرام چیز جہاں سے آئی ہے، اسے وہیں واپس کیا جانا چاہیے، اس کے لیے پوری جدوجہد کرنی چاہیے کیوں کہ سود ایسی خطرناک چیز ہے، جو مومن کی حلال کمائی اور اس کے ایمان اور اعمالِ حسنہ کو تباہ و برباد کردینے والی ہے۔ ہم جس ملک اور ماحول میں رہ رہے ہیں، یہاں قانون و عمل دونوں اعتبار سے اسلامی قانون کی حکم رانی نہیں ہے، ایسی صورت میںاگر کسی وجہ سے سود کی واپسی کسی بھی طرح ممکن نہ ہو تو بہ درجۂ مجبوری اس سودی رقم کو کسی مستحق و غریب غیرمسلم کو اسے پوری بات بتا کر دے دیناچاہیے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ کہیں سے آیا ہوا ایک مردانہ ریشمی جوڑا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھیجا، چوں کہ ریشم عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے۔ اِس لیے عمر رضی اللہ عنہ نےپوچھا کہ یا رسول اللہ! حرام ہونے کی بنا پر جب آپ نے اسے نہیں پہنا تو پھر اسے مجھے کیوں دیا ہے؟ اللہ کے رسول ﷺ نے جواب میں فرمایا: ’’یہ میں نے تمہارے لیے نہیں بھیجا ہے۔‘‘ چناںچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مکہ میں رہائش پذیر اپنے غیرمسلم بھائی کو بھجوادیا۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم) اس حدیث سے استنباط کرکے اس مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

یہ تحریر ان اہلِ ایمان بھائیوں کے لیے ہے،جو سود کی حرمت سے خود بھی بچنا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچانا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا ط (القرآن، العنکبوت ۲۹:۶۹)

جو ہمارے سلسلے میں جدوجہد کریں گے ،ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیں گے۔‘‘

اللہ تعالیٰ ہم سب کو سود اوراس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے، آمین!

ـCell: 9811794883, 9999017617, 9873964883

ستمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau