اسلام میں جزیہ کا نظام

ڈاکٹر مصطفی سباعی | ترجمہ: عبد الحلیم فلاحی

جزیہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد مختلف ناموں سے اقوام عالم میں رائج رہا ہے۔ اور یہ مغلوب اقوام پر ان کی تذلیل اور اُنھیں نفسیاتی لحاظ سے پست کرنے کےلیے لاگو کیا جاتا رہا ہے۔ اس طرح مغلوب اقوام سے انتقام لینے کے لیےبغض وعناد پر مبنی یہ ایک کارروائی تھی۔ لیکن اسلام نے مغلوب اقوام پر جزیہ اس لیے لاگو کیاتاکہ ان کے عقائد، ان کے اموال اور عزت و ناموس کی حفاظت کرے۔ اور انھیں اس لائق بنائے کہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شہری حقوق سے یکساں طور پر متمتع ہوسکیں۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلمان فاتحین اور مغلوب اقوام کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں ان کے عقائد اور اموال واعراض کی حمایت و حفاظت کا بطور خاص ذکر ہوتا تھا۔ اسی طرح کاایک معاہدہ مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار خالد بن ولیدؓ نے ’’ناطف‘‘ نام کے ایک عیسائی پادری کے ساتھ کیا تھا: ’’میں نے آپ لوگوں سے جزیہ اور حفاظت کا معاہدہ کیا ہے۔ اگر ہم آپ کی حفاظت کریں تو ہمیں جزیہ لینے کا حق ہوگا۔ بصورت دیگر ہمیں جزیہ لینے کا کوئی حق نہ ہوگا، جب تک کہ ہم آپ کی حفاظت نہ کریں‘‘(تاریخ البلاذری)

اور ان معاہدات سےمتعلق ایسے تاریخی شواہد موجود ہیں جو بغیر کسی شک اور تردد کے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ جزیہ اُسی اصول کی بنیاد پر لیا ہے جو سابقہ سطور میں بیان ہوا ہے۔ اسلامی تاریخ سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ خالد بن ولیدؓ نے کس طرح اہل حمص کا جزیہ واپس کردیاتھا اور ابوعبیدہ ابن جراحؓ نے اہل دمشق کا جزیہ ان کو لوٹا دیا تھا۔ اسی طرح دوسرے مسلمان سپہ سالار جب معرکۂ یرموک سے پہلے ملک شام چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو انھوں نے تمام مفتوحہ شہروں کے باشندوں سے جو جزیہ لیا تھا وہ سب انھیں واپس کردیا۔ اور ان شہروں کے باشندوں سے صاف لفظوں میں کہہ دیا: ’’ہم نے آپ کے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے آپ سے جزیہ لیا تھا۔ اب ہم آپ کی حمایت و حفاظت سے عاجز ہیں، تو آپ سے جزیے میں لی ہوئی رقم ہم آپ کو واپس کر رہے ہیں‘‘۔

اس کے برعکس دوسری اقوام میں جزیہ مغلوب اقوام کے استحصال اور ان کا مال وجائداد ہڑپنے کے لیے ہوتا تھا۔ اور جزیہ (ٹیکس) کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ اس کی ادائی ان کے بس سے باہر ہوتی تھی۔ لیکن اسلام نے مفتوح اقوام پر جوجزیہ عائد کیا اس کااستحصال یا مغلوب اقوام کا مال ہڑپنے کی لالچ سے ادنیٰ تعلق بھی نہ تھا۔ اسلام کے خلاف جنگ میںحصہ لینے والوں اور کام کی قدرت رکھنے والوں سے جزیہ کی بہت معمولی مقدار لی جاتی تھی۔ اور یہ تین طرح کے لوگوں سے لیا جاتا تھا اور الگ الگ مقدار میں لیا جاتا تھا۔

(۱) جزیہ کی سب سے بڑی مقدار (۴۸ درہم) اغنیاء اور ا مراء سے سالانہ لی جاتی تھی، چاہے ان کے پاس کتنا ہی مال ودولت ہو۔ (۲) جزیہ کی اوسط مقدار چوبیس درہم تھی، جو تاجروں اور کسانوں سے سالانہ وصول کی جاتی تھی۔ (۳) جزیہ کی سب سے کم مقدار بارہ درہم تھی  جو پیشہ ور برسرِ روزگار لوگوں سے سالانہ لی جاتی تھی اور بے کار ہونے کی صورت میں معاف ہوجاتی تھی۔

ایک مسلمان صرف اپنے مال کی جتنی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس کے مقابلے میں یہ مقدار کسی لحاظ سے قابل ذکر نہیں ہے۔ پھر بھی ہم آئندہ سطور میں اس بات کا واضح طور پر جائزہ لیں گے۔

فرض کرلیجیے اگر ایک مال دار مسلمان کے پاس ایک ملین (دس لاکھ) درہم ہیں تو سو میں ڈھائی درہم کے حساب سے اس پر سالانہ پچیس ہزار درہم زکوٰۃ واجب ہوگی۔ اور یہ زکوٰۃ کی فرضیت کی جو شرعی مقدار ہے اس کے حساب سے ہوگا۔ لیکن اگر اس مسلمان کا ایک عیسائی پڑوسی بھی ایک ملین (دس لاکھ) درہم کا مالک ہے تو اسے سالانہ صرف ۴۸ درہم ہی بطور جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ایک عیسائی جزیہ کے طور پر حکومت کو جتنا دے گا، مسلمان اس سے پانچ سو گنا زیادہ حکومت کو بطور زکوٰۃ دے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اسلام مغلوب اقوام کے ساتھ استحصال کا معاملہ ہرگز نہیں کرتا ہے۔ اسلامی نظام میں جن لوگوں پر جزیہ لاگو کیا جاتا ہے ان کے تعلق سے اس بات کی بھرپور رعایت کی جاتی ہے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں یا نہیں۔ اسی بنا پر فقیروں، بچوں، عورتوں اور عبادت میں لگے ہوئے راہبوں، نابینائوں ، بے روزگاروں اور بیماروں سے جزیہ ساقط کردیاجاتا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے بڑی دلیل عہد اسلامی کے نامور سپہ سالار حضرت خالد بن ولیدؓ کا وہ معاہدہ ہے جو انھوں نے ناطف نامی پادری کے ساتھ کیا تھا اور جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’میں نے آپ لوگوں سے معاہدہ کیا ہے کہ ہر ایک با روزگار سے جزیہ لیاجائے گا اور آپ سب لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کی ذمے داری اسلامی حکومت پر عائد ہوگی۔ اوریہ جزیہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق لیاجائے گا۔ مال دار سے اس کی مالی پوزیشن کے مطابق اور فقیر و محتاج سے اس کے فقر اور محتاجی کے مطابق معاملہ کیاجائے گا۔

مسلمانوں سے پہلے دوسری اقوام کے یہاں جزیہ دینے والوں کے لیے غالب قوم کی فوج میں بھرتی ہونے اور فاتح قوم کے مجدو شرف اور ان کے توسیع اقتدار کی راہ میں خون بہانے سے رخصت نہیں تھی۔ وہ لوگ جزیہ بھی دیتے تھے اور دشمن سے جنگ کے لیے جبراً ہانک کر لے جائے جاتے تھے۔  لیکن اسلام نے اپنے دور میں مفتوح اقوام کے لوگوں کو عسکری خدمت سے مکمل طور پر رخصت دے رکھی تھی۔ چونکہ اسلام ساری دنیا  میں اسلامی آزادی کے پیغام کو پہنچانے کے لیے اس راہ کی مزاحم قوتوں سے نبرد آزما تھا۔ اس لیے یہ بات عدل وانصاف کے منافی تھی کہ ایسی قوم جو اس پیغام یعنی اسلام کے اصول و مبادی کو نہ مانتی ہو اس کے نوجوانوں کو اس کی راہ میں خون بہانے کے لیے آگے بڑھایا جائے۔ چنان چہ یہی وجہ ہے کہ ذِمیوں (اسلامی مملکت کی غیر مسلم رعایا) کو اسلامی فوج میں ہر طرح کی عسکری خدمت سے مستثنیٰ کردیاگیا تھا۔ اس سلسلے میں اُن متعصب ناقدین کی رائے بالکل صحیح نہیں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ذِمیوں کو فوجی خدمت سے رخصت  اس وجہ سے تھی کہ ان کے اندر جنگی صلاحیت ومہارت نہیں ہوتی تھی اور وہ جہاد کی اہمیت اور اس کے شرف سے پوری طرح واقف نہ تھے۔  ہم نے جو بات کہی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر مملکت اسلامی کاکوئی ذِمی رضاکارانہ طور پر لشکر اسلامی میں فوجی خدمت انجام دینا چاہتاہے تو اس کی اس پیشکش کو قبول کیا جائے گا اور اس کے عوض اس سے جزیہ ساقط ہوجائے گا۔ اس طرح آج ہمارے اس دور کی اصطلاح میں جزیہ دراصل فوجی خدمت سے رخصت کا معاوضہ ہے۔

اسلام سے پہلے غالب اقوام مغلوب اقوام کا کوئی حق تسلیم نہیںکرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے فقراء و مساکین اور بیماروں کا بھی کوئی حق نہ تھا۔ ان سے ناقابل برداشت حد تک جزیہ اور ٹیکس وصول کیا جاتاتھا اور ان کے محتاج لوگوں کو کچھ نہیں دیاجاتا تھا۔ بلکہ جزیہ دینے والے مالدار کو بھی مفلس ہونے کی صورت میں انہیں غربت، بھوک اور مرض میں مبتلا حالت میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام نے سارے ذِمیوں کے لیے خواہ وہ جزیہ دیتا ہو یا فقر و کم سنی کے سبب جزیہ نہ دیتا ہو، اپنی طرف سے ان کے لیے اجتماعی ضمانت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام  ذِمیوں کو مسلمانوں کی طرح اپنی مملکت کی رعایا سمجھتا ہے۔ اسلام اس بات کو حکومت کی ذمےداری قرار دیتا ہے کہ ذِمیوں کو باعزت زندگی گزارنے کی ضمانت فراہم کرے۔ تاکہ انہیں سوال کی ذلت اور غربت کی تلخی گوارا کرنے کے لیے مجبور نہ ہوناپڑے۔

اور جہاں تک اُن نصوص قرآنی کا تعلق ہے جو محتاجوں اور پریشان حال لوگوں کی کفالت کا حکم دیتی ہیں وہ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں، بلکہ وہ عام ہیں اور سماج کے ہرطبقے کے لیے یکساں حکم رکھتی ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ۔(بنی اسرائیل،۱۷:۲۶)

’’اوررشتے دار کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافرکو ان کا حق دو‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:

وَفِیٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ۔(الذاریات،۵۱: ۱۹)

’’اور ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے‘‘

خالدبن ولید ؓ نے اہل حیرہ (جگہ کانام ہے) کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس میں پوری وضاحت کے ساتھ مذکور ہے: ’’جو عمر رسیدہ لوگ از کار رفتہ ہوگئے یا جن پر کوئی افتاد آپڑی یا جو  مالدار تھے اب غریب ہوگئے، اور ان کے ہم مذہب لوگ انہیں صدقہ دینے لگے تو ایسے سب لوگوں سے جزیہ ساقط ہوجائے گا۔ اور ان کی اور ان کے اہل وعیال کی مالی کفالت کی ذمے داری مسلمانوں کے بیت  المال پر ہوگی‘‘۔ (کتاب الخراج،امام ابویوسف)حضرت عمرؓ نے اپنے دور خلافت میں اس عظیم اسلامی اصول کو پوری طرح نافذ کیا تھا۔ ایک بار ان کا گزر ایک عمر رسیدہ شخص کے پاس سے ہوا جو لوگوں سے صدقہ مانگ رہا تھا۔ جب آپ نے اس سے اس کے احوال دریافت کیے تو معلوم ہوا کہ وہ جزیہ دینے والوں میں سے ہے۔ آپ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے گھر لے گئے اور گھر میں جو کچھ کھانا کپڑا میسر تھا اس سے اس کو نوازا۔ پھر اسے لے کر بیت المال کے ناظم کے پاس گئے اور اس سے کہا: ’’اِس شخص کا اور اس جیسے دوسرے لوگوں کا خیال رکھو اور انھیں اسلامی حکومت کے خزانے سے اتنا وظیفہ دو جو ان کے اور ان کے اہل وعیال کے لیے کافی ہو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’إِنَّمَاالصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِیْن‘‘ (صدقات تو فقراء ومساکین کے لیے ہیں۔) فقراء تو مسلمان ہیں اور مساکین اہل کتاب ہیں‘‘۔ (کتاب الخراج۔ امام ابویوسف)

اسلام سے پہلے مغلوبین پر ہرحال میں جزیہ لاگو کیا جاتا تھا۔ لیکن اسلام میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ بلکہ سربراہ مملکت کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ چاہے تو سارے ذِمیوں سے جزیہ ساقط کردے۔ جیسا کہ ابوعبیدہؓ نے اردن میں سامرہؔ اور فلسطین کے عیسائیوں سے جزیہ ساقط کردیا تھا۔ (فتوح البلدان۔ بلاذری) اسی طرح حضرت عمرؓ نے مَلِک شہریار اور اس کی قوم سے جزیہ اس وجہ سے ساقط کردیاتھا کہ اُنھوں نے ان کے ساتھ دشمنوں سے جنگ کرنے کا معاہدہ کرلیا تھا ۔ اور اسی طرح حضرت معاویہؓ نے آرمینیا کے باشندوں کو تین سال کے لیے جزیہ سے مستثنیٰ کردیا تھا۔ فقہ اسلامی کا یہ ایک معروف تسلیم شدہ اصول ہے کہ جو ذِمی بھی اسلامی فوج میں داخل ہوگا یا اسلامی حکومت میں مفادِ عامہ کی کسی بھی خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کرے گا تو اس کو جزیہ کی ادائی سے استثناء حاصل ہوجائے گا۔ اسلام سے پہلے فاتحین کے علاوہ سارے لوگوں پر جزیہ لاگو کیا جاتا تھا، خواہ انھوں نے فاتح نظام کے ساتھ جنگ کی ہو یا نہ کی ہو۔ لیکن اسلام صرف اپنے دشمنوں میں سے ان پر جزیہ لاگو کرتا ہے جو اس سے آمادۂ جنگ رہے ہوں۔ جہاں تک عام غیر مسلم باشندوں کا تعلق ہے تو وہ لوگ جو لشکرِ اسلامی سے برسرِجنگ نہیں رہے ہیں ان سے جزیہ نہیںلیا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت عمرؓ نے تغلبؔ کے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ اگر ہم قرآن میں آیت جزیہ کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ یہی کہتی ہے :

قَاتِلُوا الَّذِینَ لَا یؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا یحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یدِینُوْنَ دِینَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِینَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰی یعْطُوا الْجِزْیۃَ عَنْ یدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوْنَ۔(التوبہ، ۹: ۲۹)

’’جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں سے جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں لاتے اور اللہ اور اس کے رسولؐ نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے اس کو حرام نہیں ٹھہراتے اور دینِ حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ استطاعت کے مطابق جزیہ دیں، (مملکتِ اسلامی) کی ماتحتی قبول کرتے ہوئے‘‘۔

اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب ہم اہل کتاب سے جنگ کے بعد ان پر غالب ہوں گے تو وہ ہمیں جزیہ دیں گے۔ اور ہم، پر ایک اہل کتاب سے جنگ نہیں کریں گے، بلکہ ہماری جنگ تو اُن سے ہوگی جوہم سے برسرِ جنگ ہوں گے اور ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے یا اسلامی مملکت کے لیے خطرہ بنیں گے۔ سورہ ’’البقرہ ،۲: ۱۹۰‘‘ میں اس بات کی پوری طرح وضاحت کردی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَقَاتِلُوْا فِی سَبِیلِ اللہِ الَّذِینَ یقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا یحِبُّ الْمُعْتَدِین  (البقرہ،۲: ۱۹۰)

’’اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔ اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتاہے‘‘۔

جزیہ والی آیت میں لڑائی کا حکم صرف ان کے لیے ہے جو ہم سے لڑیں۔ اور جن لوگوں نے ہم سے جنگ نہیں کی، ان سے جنگ کرنا کھلی زیادتی ہے۔ اللہ تعالیٰ زیادتی کسی حال میں پسند نہیں کرتا ہے۔ اس بات کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس قول سے ہوتی ہے:

لَا ینْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیہِمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ یحِبُّ الْمُقْسِطِینَ ۔ اِنَّمَا ینْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِینَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّینِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ۔الممتحنہ،(۶۰: ۸،۹)

’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تو تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے منع کرتا ہے جنھوںنے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تمہارے گھروں سے تمہیں نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے‘‘۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جو اہل کتاب (یہودی و عیسائی) اسلامی مملکت میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے بستے ہیں اور تعمیر وترقی کے کاموں میں مخلصانہ شرکت کرتے ہیں اور ملک کے ساتھ ان کی وفاداری ہے تو ایسے لوگوں سے لڑائی کرنا بالکل جائز نہیں ہے۔ اور ایسے لوگوں سے جزیہ بھی نہیں لیا جائے گا۔

اور جو کچھ اوپر بیان کیاگیا ہے دراصل جزیہ اور جنگ کی آیتوں کا وہی مفہوم بالکل واضح طور پر ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں جزیرۂ عرب کے عیسائیوں اور یہودیوں سے جو جزیہ لیا تھا تو آپؐ نے آیتِ جزیہ پر عمل کرتے ہوئے  ہی ایسا کیا تھا۔ اُن سے آپؐ نے جزیہ اس لیے لیا تھا کہ اُنھوں نے اسلام سے باقاعدہ جنگ کی اور اس کے خلاف مسلسل ریشہ دوانیاں کر رہے تھے۔ انھوں نے اسلام دشمن قوتوں (ایرانیوں اور رومیوں) سے اس کے خلاف معاہدہ کیا۔ اسی طرح مسلمانوں نے جب بلاد شام، مصر اور فارس کو فتح کیا تو وہاں کے اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) سے جزیہ لیا۔ کیوں کہ وہ جن ممالک کے باشندے تھے ان ملکوں نے اسلامی مملکت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا اور وہ اسلام دشمنی پر کمر بستہ تھے۔ چوں کہ یہود ونصاریٰ نے بھی اسلام کے خلاف جنگ میں اپنے ملکوں کی فوج کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا، اس لیے ان پر جزیہ عائد کیاگیا۔ البتہ اسلامی فتوحات کے بعد کے ادوار میں جزیہ لینے کاعمل جومسلسل باقی رہا، جب کہ اہل کتاب مسلمانوں کی طرح اسلامی مملکت کے مخلص اور وفادار شہری بن چکے تھے تو یہ مطالبہ اسلام کا نہیں، بلکہ مسلمان امرا اور حکمرانوں کا تھا۔ اور اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع ’’اسلام میں جزیہ کا نظام‘‘ ہے نہ کہ اسلامی مملکت میں جزیہ کی تاریخ۔

یہ بات پوری وضاحت سے آچکی ہے کہ جزیہ صرف ان لوگوں پر عائد کیا جائے گا جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ ہوں ۔ لیکن بعض متعصبین اور قوم پرست کہتے ہیں کہ امن وجنگ میں نظامِ اسلامی کا نفاذ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آج بھی مسلم ملکوں میں رہنے والے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جائے ۔ حالانکہ یہ بات  جدید دور میں اسٹیٹ کے مفہوم سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اُن شہریوں کے بہت سے گروپ اس بات کو قبول نہیں کریں گے جو کہ اسٹیٹ کے ساتھ وفاداری کا تعلق رکھتے ہیں۔

دسمبر 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau