تعلیم پذیری اور سیکھنے کی آمادگی

قائدین اور کارکنان کے لیے ضروری رخت سفر

ایس امین الحسن

قیادت کی سطح پر رہنے والے افراد کی بعض ایسی کم زوریاں ہوتی ہیں جن کی جڑیں شخصیت میں گہرائی تک اتری ہوتی ہیں، مگر ان کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ تعلیم، تدریس، تذکیر، تقریر اور تحریر ان کا معمول کا مشغلہ ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے کیڈر کو سکھاتے اور آگے بڑھاتے رہتے ہیں اور ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی فکر اور سوچ، جذبات اور خیالات اور لائف اسٹائل تبدیل کرکے تحریک کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید ہوجائیں۔ ان کی تمنا ایک مقدس تمنا ہے مگر جس تبدیلی کا مطالبہ اپنے کیڈر سے ہوتا ہے کیا ویسی ہی نمایاں ظاہری اور کیڈر کی نگاہ میں نظر آنے والی تبدیلیاں ان کی زندگی میں بھی رونما ہو رہی ہیں؟ معلوم ہونا چاہیے کہ قائدین اس وقت سب سے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں جب وہ خود سیکھ رہے ہوتے ہیں اور کیڈر سے بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔

سیکھنے کی آمادگی اور تربیت پذیری (teachability) قیادت کی ایک اہم صفت ہے۔ مگر اس میں انھیں بڑی دقت پیش آتی ہے۔ کیوں کہ اکثر وہ معلم اور داعی کا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔ معلم اور داعی علم اور مقام کی بلند سطح سے خطاب کرتے ہیں جب کہ متعلم کو ایک درجہ نیچے اتر کر علم سیکھنا ہوتا ہے۔ جو معلم سیکھنے والی کلاس میں آکر شعوری طور پر اپنا ہیٹ نہیں بدلتے اور متعلم والا ہیٹ نہیں لگاتے وہ متعلم بن نہیں پاتے ہیں۔ ہمارے پروگرام عموماً تین قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ ایک، خطابات عام اور عمومی مذہبی و سیاسی اجتماعات۔ یہاں صرف سنانے والے اور صرف سننے والے ہوتے ہیں۔ سننے والی کی مرضی پر ہوتا ہے وہ جو نصیحت چاہے حاصل کرے۔ دوسرے، راؤنڈ ٹیبل، سمینار اجلاس شوریٰ، نقد وجائزہ کی نشست وغیرہ جہاں صدرمجلس کے سوا سب برابری کے درجے پر ہوتے ہیں۔ تیسرے، ورکشاپ، ٹریننگ کلاس، مختلف موضوعات پر کورس وغیرہ ہوتے ہیں، جہاں معلم اور متعلم (teachers and learners) کی الگ الگ حیثیتیں ہوتی ہیں۔

مجھے مدت سے تنظیم میں اور تنظیم کے باہر کمرشیل ورکشاپ اور ٹریننگ کلاسوں میں متعلم اور معلم کی حیثیت سے شرکت کا موقعہ ملا ہے۔ میرا مشاہدہ ہے کہ شرکا میں تین قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں

١. ایک بڑی تعداد میں شرکا طالب علمانہ تیاری اور آمادگی کے ساتھ آتے ہیں، خوب خوب استفادہ کرتے ہیں، اور خوش خوش لوٹتے ہیں۔

٢. تھوڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جن کا ٹیچبلیٹی انڈیکس کم ہوتا ہے وہ سیکھنے کے بجائے سکھانے کا زیادہ جوش رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ اس طرح کے پروگراموں سے کم ہی فائدہ اٹھاتے ہیں، تاثرات میں کمیوں کا تذکرہ کرتے ہیں اور روٹین کی زندگی سے باہر ایک مختلف ماحول میں رہ کر گھر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

٣. اس سے کم تعداد ایسی بھی ہوتی ہے جو خاموش رہتی ہے۔ یا تو ان کی طبیعت ناساز ہوتی ہے، یا ذہنی طور پر کسی الجھن میں رہتے ہیں، یا مضمون ان کی سطح سے بلند ہوتا ہے۔ ان کا کوئی رسپانس نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں وہ شخص قابل تعریف نہیں ہوتا ہے جو سیکھنے کے وقت بھی سکھانے کے جوش وخروش میں ہو، چاہے وہ عام کارکن ہو یا اہم ذمہ دار ہو۔ ایک امریکی فلسفی آرٹسٹ اور مصنف نے لکھا ہے۔

The recipe for perpetual ignorance is: Be satisfied with your opinions and content with your knowledge.” – Elbert Hubbard

ہمیشہ لاعلمی کے مزے لوٹتے رہنے کا نسخہ یہ ہے کہ اپنی رائے سے اور اپنے علم سے مطمئن رہو۔

ظاہر ہے یہ ایک مرض ہے اور ذیل میں ہم اس کا تجزیہ کریں گے کہ یہ مرض کب لاحق ہوتا ہے اور اس کا علاج کیا ہے۔

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو کچھ چیزوں کا علم، ہلکی سی واقفیت اور کچھ بنیادی صلاحیتیں لے کر آتا ہے۔ جیسے اپنی بھوک مٹانے کے لیے غذا کہاں ہے اور کیسے حاصل کی جائے؟ اپنی تکلیف کا اظہار کیسے کیا جائے؟ پھر دھیرے دھیرے آوازوں کی واقفیت، چہروں کی شناسائی، رشتوں کی پہچان ہونے لگتی ہے۔ پھر اپنی ضرورتوں اور جذبات کے اظہار کے طریقے خود سیکھتا ہے جیسے مختلف ضرورتوں کے لیے رونا، وقت پر دودھ نہ ملنے یا ٹھنڈا ملنے پر بوتل کا ٹھکرا دینا یا پھینک دینا، ہاتھ پیر کا مارنا اور اپنی ضد کا اظہار کرنا وغیرہ۔ یہ چیزیں ہماری فطرت میں ودیعت کی گئی ہیں جسے آپ علم ودانش مندی کا ابتدائی خمیر بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ خدا داد ہوتی ہیں۔ کچھ چیزیں ہمیں سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے جسم کی نشوونما، زخم کا مندمل ہونا، دل کی حرکت، ہاضمے کا کام اور بہت سے جسمانی وظائف۔ اس کے علاوہ جیسے جیسے ہم بڑھتے ہیں ہم بہت سی چیزیں سیکھتے جاتے ہیں، قبول کرتے ہیں اور ماحول سے اخذ کرتے ہیں۔

زندگی میں ہم نے جو کچھ سیکھا، چلنے پھرنے، پڑھنے لکھنے، ہنسنے اور بولنے، کام کرنے، اپنی ذات اور جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اسے سمجھنے سے لے کر زندگی کو با معنی بنانے تک کی تمام چیزیں ہماری سیکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ ہمارے اندر تعلیم پذیری اور آمادگی جتنی ہوگی، علم و صلاحیت کی اتنی ہی وسعت ہم اپنے اندر پیدا کر سکیں گے۔ سیکھنے بڑھنے اور پھیلنے کی ہماری قدرتی صلاحیت چار مرحلوں سے گزرتی ہے۔

سیکھنے کے مراحل کی خمیدہ  لکیر  (learning curve)

١. لاعلمی کی لاعلمی  ٢.  لاعلمی کا علم  ٣. علم کا علم ٤. علم کی لاعلمی

١. لاعلمی کی لاعلمی  (unknown unknowns)

عمر اور تعلیم کے مرحلے کے بعد سیکھنے کی شعوری کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ جو کچھ ہم نے جانا اور سیکھا وہی ہماری کل کائنات ہوتی ہے۔ ہماری زندگیوں میں لامحدود اور ان گنت ایسی چیزیں، موضوعات، آئیڈیاز اور مفاہیم ہوتے ہیں جن کا ہمارے شعور کی راہ سے کبھی گزر نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر کورونا، لاک ڈاؤن، زوم آن لائن میٹنگ، ٹویٹر کیمپین وغیرہ۔ ان امور سے ہماری مکمل نا واقفیت تھی اور ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ ہم یہ نہیں جانتے۔ وقت حالات اور مجبوریوں نے ہمیں سکھا دیا۔ مگر سچی بات یہ ہے کہ ہماری لاعلمی کی لاعلمی نے ہمیں کوتاہ کار بنا دیا۔ دن کی روشنی کی بچت (daylight saving) کا آئیڈیا کبھی میرے ذہن سے گزرا بھی نہ تھا، مگر مجھے جب آسٹریلیا جانا ہوا اور ایک اپریل کی صبح اٹھ کر میں نے اپنی گھڑی دیکھی کی تو وہ چھ بتا رہی تھی اور میرے سیل فون کا نیٹ ورک صبح کے سات بجے بتا رہا تھا جب کہ رات دونوں ساتھ چل رہے تھے۔ انسان میں اخذ واستفادے کا مزاج اس وقت پروان چڑھتا ہے جب اسے اپنی لاعلمی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ امریکی مصنف وین ڈیر نے‌لکھا ہے کہ

The highest form of ignorance is when you reject something you don’t know anything about.” – Wayne Dyer

جہالت کی اعلی ترین شکل یہ ہے کہ جب آپ کسی ایسی چیز کو مسترد کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتے ہیں۔

لاعلمی کی لاعلمی انسان کو مستقل طور پر ایسے چکر میں الجھائے رکھتی ہے کہ وہ اندھیروں میں ہوتا ہے اور روشنی کی تلاش تو دور کی بات اس کی تمنا بھی رمق بھر من کے اندر موجود نہیں ہوتی۔ اس بات کو مشہور سائنسدان بینجمن فرینکلن نے اس طرح بیان کیا ہے

Being ignorant is not so much a shame as being unwilling to learn.” – Benjamin Franklin

جاہل رہنا اتنا شرم کی بات نہیں ہے جتنا سیکھنے کو آمادہ نہ ہونا۔

اب اس کے بعد اپنی لاعلمی کی وہ ایک لمبی فہرست بنا سکے گا کہ جس کے بعد وہ حصول علم و صلاحیت کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔

٢. لاعلمی کا علم  (known unknowns)

جس دن آدمی کو اپنے جہل کا احساس ہونے لگے وہاں سے اس کی علمی زندگی کا آغاز ہونے لگتا ہے۔ جب تک آدمی لاعلمی کی زندگی بسر کرتا ہے وہ معلومات کے چند ٹکڑوں پر جیتا ہے اور خوش رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے پاس بڑے بڑے ہتھیار ہیں جن سے وہ افراد کے دل ودماغ کو، سماج کے اداروں کو اور ہو سکے تو قوت کے مراکز کو اپنے قبضہ میں کرلے گا۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے بچہ اپنے کھلونوں کے بندوق و تیر اور دیگر ہتھیار سے لیس ہو کر خوش ہوتا ہے۔ حصول علم کی پہلی سیڑھی ہے لاعلمی کا احساس۔ جس نے اسے پا لیا وہ علم کی ایک سیڑھی پر چڑھ گیا۔ پھر جیسے جیسے وہ سیڑھیاں چڑھتا ہے اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ بلندیاں اور ہیں اور وہ پست ترین مقام پر کھڑا ہے۔ تامل ادب کی دنیا کے مشہور شاعر کویکو عبدالرحمن (Kaviko شاعروں کا شہنشاہ) نے IFT Chennai کے ایک عید ملن پروگرام میں کہا تھا کہ ” عمر کے اس مرحلے میں مجھے افسوس ہونے لگتا ہے کہ میں نے کچھ پڑھا نہیں اور جانا نہیں۔ اگر خدا سے التجا کرنے کا موقع مل جائے تو میں چاہوں گا کہ ایک عمر مجھے صرف پڑھنے کے لیے دی جائے۔ ” جب آدمی اس دائرے میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے شرماتا نہیں بلکہ ایک حقیقت واقعہ کے طور پر دوسروں کے سامنے پیش بھی کرتا ہے تاکہ دوسروں کی تعلیم پذیری کا اشاریہ (teachability index) بڑھ جائے۔ تاریخ میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ جب ہمارے فقہا کے سامنے سوالات کی ایک طویل فہرست رکھی جاتی تو ان میں سے ایک یا دو کا جواب دیتے باقی کے بارے میں کہتے لا ادری‌۔ جس نے لا ادری پہچان لیا اس نے جان لیا کہ مجھے ابھی علم کے بہت سے سمندر عبور کرنے ہیں۔ لا ادری کہنے والا یہ جانتا ہے کہ جو کچھ میں جانتا ہوں وہ ایک قطرہ ہے اور جو مجھے ابھی جاننا اور سیکھنا ہے وہ سمندر کے برابر ہے۔ یا میں جو کچھ جانتا ہوں وہ مٹھی بھر ریت کے برابر ہے اور جو کچھ میں نہیں جانتا ہوں وہ دنیا کے سارے ساحل پر پڑی ریت کے برابر ہے۔ جو عروج کی راہ پر گام زن ہوتا ہے اور لا ادری کہتا ہے اور جو قطرے ہى کو دریا سمجھتا ہے تو ہر بات پر انا ادری کہتا ہے۔

سقراط نے کہا تھا: . I know that I know nothing

مجھے معلوم ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔ زیادہ تر امور کے بارے میں اگر آدمی اپنے آپ کو اس خانے میں رکھے تو وہ تعلیم پذیری والی پوزیشن میں ہوگا اور پھر سیکھنا اس کے لیے ایک حسین اور خوش گوار مشغلہ ثابت ہوگا۔ میں نے لفظ زیادہ تر استعمال کیا تاکہ معلوم ہو کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ انسان کچھ بھی نہیں جانتا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ میدانوں میں وہ قابل لحاظ واقفیت رکھتا ہو۔ اس لیے جہاں سقراط نے وہ بات کہی جو اوپر نقل ہے وہیں اس نے یہ بات بھی کہی:

“میں عملی طور پر کچھ نہیں جانتا ہوں، سوائے ایک خاص چھوٹے مضمون–محبت–کے، اس موضوع پر، میں حیرت انگیز طور پر ماضی یا حال کے کسی فرد سے بہتر سمجھا جاتا ہوں۔”

٣.علم کا علم  (known knowns)

پھر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ بعض اسباق، موضوعات اور امور پر انسان کو کچھ دسترس حاصل ہوجاتی ہے۔ یہ اسے حاصل ہوتا ہے جو اس موضوع سے متعلق گہرے سوالات کرنے کی اہلیت رکھتا ہو یا زیادہ سے زیادہ سوالوں کے جوابات دے سکتا ہو۔ ایک چپراسی سے لے کر ایک سائنسداں تک جو جہاں متعین ہے وہ اپنی جگہ بالکل فٹ ہے اس لیے کہ وہ اپنے امور ومعاملات سے اچھی واقفیت رکھتا ہے۔ جسے اپنے علم کا علم ہے وہ زیادہ معروف ومقبول ہوتا ہے۔ جو انجینئر ڈاکٹر پروفیشنل یا کوئی بھی شخص اپنا علم بھلا چکا ہو اس کی اس میدان میں وقعت کم ہوجاتی ہے۔

٤.علم کی لاعلمی  (unknown known)

کسی نئے حاصل شدہ علم اور صلاحیت کی مشق، تکرار اور انطباق کے نتیجے میں ہمارے لاشعور میں وہ بات اس طرح سے بیٹھ جاتی ہے کہ وہ ہماری عادت کا حصہ بن جاتی ہے. جو چیز عادت بن جائے اس کے دوہرانے میں شعور کے استعمال کی ضرورت نہیں ہوتی وہ خود بخود ہونے لگتی ہے۔ بغیر کسی محنت کے ہمارا جسم وہ کام ویسے کرنے لگتا ہے جیسے لاشعور میں اس کی پروگرامنگ کر دی گئی ہے۔ یہ وہ صلاحیتیں ہوتی ہیں جن میں ہمیں درک حاصل ہو جاتا ہے۔ جب کوئی ہم سے پوچھے کہ آپ نے یہ کام کیسے کر لیا تو ہم اسے کہتے ہیں کہ یہ بہت آسان ہے۔ اس کو کار کی ڈرائیونگ کی مثال سے سمجھ سکتے۔ سیکھنے کے زمانے میں شعور کو حاضر رکھنا پڑتا تھا اور ہر مرحلے میں دماغ لگا کر کام کرنا پڑتا تھا جیسے گیئر کو بدلنا، رفتار کو تیز کرنا، بریک لگانا، دائیں اور بائیں آئینوں پر نگاہ رکھنا، آس پاس چلنے والی گاڑیوں کے متعلق چوکنا رہنا وغیرہ۔ جب ڈرائیونگ میں مہارت حاصل ہو جائے تو ہم اپنے گھر سے دفتر یا منزل تک گھنٹوں سفر کر لیتے ہیں اور اپنے بازو کی سیٹ پر بیٹھے شخص سے باتیں کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ منزل آجاتی ہے اور ہم بحفاظت اپنا سفر مکمل بھی کر لیتے ہیں۔ ان مرحلوں میں ہم نے جو کچھ کیا وہ ہمیں معلوم تک نہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں ڈرائیونگ میں اتنی مہارت حاصل ہوگئی گویا کہ ہماری کار آٹو پائلٹ پر چل رہی تھی۔

اس طرح ہم علوم میں مہارت کے حصول کے معاملے میں چار خانوں میں سے کسی ایک میں ہوا کرتے ہیں۔ مجھ سے پوچھا جائے کہ لیڈروں کو کہاں ہونا چاہیے تو میں کہوں گا کہ خانہ نمبر ایک سے اکثر و بیشتر آغاز کرناچاہیے۔ یہاں سے آغاز اس بات کا اظہار ہے کہ ہمارے اندر تربیت پذیری (teachability) موجود ہے۔

دنیا میں کسی چیز کو دوام حاصل نہیں ہے۔ ہر چیز ارتقا پذیر ہے، پھیل رہی ہے، سکڑ رہی، مر رہی ہے یا مدغم ہو رہی ہے۔ کوئی چیز جو آج سے دس سال پہلے ہم نے دیکھی وہ اس حالت میں نہیں ہے۔ علم بدلتا جا رہا ہے، ٹیکنالوجی آسان بنتی جا رہی ہے، یا ایک دوسرے میں ضم ہو کر کوئی تیسری چیز وجود میں آ رہی ہے۔ ہر شئے ایک دائمی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ اس لیے کسی فرد کی تعلیم پذیری ہی اسے زمانے میں قیادت کے لائق رکھ سکتی ہے۔ اگر فرد کی تعلیم پذیری ختم ہوجائے تو اس کی معلمی کی حیثیت بھی ویسی ہی پرانی ہوجاتی ہے جیسے تلوار کی دھار صیقل نہ کرتے رہنے سے رکھے رکھے کند ہو جاتی ہے۔

ایک قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عمر کے ہر مرحلے میں اپنی تعلیم پذیری کو باقی رکھے اور نئی نئی چیزیں سیکھا کرے۔ اس کی ایک درخشاں مثال ہمیں قرآن مجید میں قصہ موسی اور خضر میں ملتی ہے۔ ہر نبی اپنے وقت کا سب سے بڑا عالم ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا بلکہ نطق وحی سے کلام کرتا ہے۔ شریعت کے اسباق کا وہی امام اور استاد ہوا کرتا ہے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے وفوق كل ذی علم علیم ،کائنات کے ایسے بہت سے راز ہائے سربستہ ہیں جن کے جاننے کا عام انسان متحمل نہیں ہو سکتا۔ مگر قائد میں آفاقی شعور کا ہونا ضروری ہوتا ہے، جس سے چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا افق بلند اور وسیع ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے حضرت موسی کو حکم دیا کیا کہ وہ ایک عبد صالح کے پاس جائیں۔ ہمارے اطراف کی دنیا میں ہر آن ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی توجیہ کرنا آسان نہیں ہوتا، جیسے کوئی بیمار ہوجاتا ہے، کوئی حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، کسی بھلے چنگے کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے، کوئی طویل علالت کے بعد بھلا چنگا کھڑا ہو جاتا ہے، کوئی بے صلاحیت بہت مالدار ہوجاتا ہے اور کوئی باصلاحیت نان شبینہ کے لیے ترستا رہتا ہے۔ اس کے پیچھے کیا حکمت ومصلحت ہے اسے جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ علم کا وہ نقطہ نظر جو صرف حواس خمسہ پر یقین رکھتا ہے اس کی توجیہ کی دنیا بہت محدود ہے۔ موسی علیہ السلام کو اس عبد صالح کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ ظاہری رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے اصل جو حکمت ومصلحت کارفرما ہوتی ہے اس سے ان کی شناسائی ہو جائے۔ اس سلسلے میں سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

موسیٰ نے اس سے کہا :  کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟

موسیٰ نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہ نمائی اور دانش مندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلوم اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبد صالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لیے عبد صالح کو معلوم تھا کہ موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبد صالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔

تعلیم پذیری کیسے پیدا کریں؟

اپنے اندر تعلیم پذیری پیدا کرنا آسان ہے- آپ کو صرف یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی مضمون پر اتنا ڈیٹا موجود ہے، اور جاننے کے لیے اتنا مواد موجود ہے کہ ان میں سے سب کچھ جاننا حقیقت میں ممکن نہیں ہے۔ جب ہماری نہیں جاننے کی صورت حال یہ ہے تو ہمیں کبھی بھی زندگی یا کسی بھی نئی چیز کے سیکھنے کے لیے “میں یہ سب نہیں جانتا ہوں” کے رویے کے ساتھ رجوع کرنا چاہیے۔ جس کے نتیجے میں دانشمندی اور پختگی کے بے شمار نئے دریچے کھلیں گے۔ تب چل کر نئی چیزوں کا سیکھنا آسان اور جانے ہوئے امور کی گہرائی میں پہنچنا سہل ہوگا۔

بہت سے ورکشاپ کے شروع میں شرکا کی تعلیم پذیری کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کا حساب کتاب لگا کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس مخصوص وقت میں شرکا اجتماع کی تعلیم پذیری کس سطح پر ہے۔ تعلیم پذیری وقتاً فوقتاً بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے۔ جب کوئی فرد آمادہ تعلیم ہو تو اس ٹیسٹ میں اس کا نمبر زیادہ ہوتا ہے، اس کے اندر پڑھنے لکھنے کے لیے لیے کشادگی پیدا ہو جاتی ہے اور اپنے رویوں کو بدلنے کے لیے آمادگی پیدا ہو جاتی ہے۔ جب کوئی فرد آمادہ تعلیم نہیں ہوتا تو اس وقت اس کا نمبر کم ہوتا ہے اور اس کے سامنے پیش کی جانے والی علمی تقریریں اور پریزنٹیشن سے شاید وہ بہت زیادہ استفادہ نہیں کرسکتا۔

کسی بھی ٹریننگ کلاس اور تربیتی ورکشاپ میں شمولیت سے قبل اپنے آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کریں۔ ہر سوال پر صفر سے دس کے سکیل پر اپنی ریٹنگ کریں۔

الف . آپ کی تعلیم پذیری کتنی ہے

١. آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟

٢. سیکھنے کے لیے آپ کتنا وقت صرف کر سکتے ہیں؟

٣. سیکھنے کے لیے آپ کتنی محنت لگانا چاہتے ہیں؟

۴۔ سیکھنے کے لیے آپ کتنی رقم لگانا چاہتے ہیں؟

۵۔ اس کی خاطر آپ کس چیز کی قربانی دے سکتے ہیں؟

٦. سیکھنے کے نتیجے میں کیا چیز آپ چھوڑ سکتے ہیں؟

ب۔ بدلنے کے لیے آپ کی آمادگی کتنی ہے

١. کیا آپ بدلنے کے لیے تیار ہیں؟

٢. کیا تبدیلی آپ کے لیے قابل قبول ہے؟

٣. آپ کے زاویہ سوچ بدلنے کے لیے کیا آپ کے اندر آمادگی پائی جاتی ہے؟

٤. آپ کے احساسات بدلنے کے لیے کیا آپ کے اندر آمادگی پائی جاتی ہے؟

مندرجہ بالا دس سوالات میں اپنے نمبرات کا ٹوٹل نکالیں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ وہ سو ہے یا اس سے کم۔

ان میں بہت سے سوالات آپ کے پیر پکڑ لیں گے اور بدلنے نہیں دیں گے۔ بہت سے سوالات وہ ہیں جو آپ سے وقت پیسوں اور آمادگی کا انویسٹمنٹ مانگتے ہیں۔ ان سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے اگر آپ کو یہ محسوس ہوتا ہو کہ آپ کے نمبر بہت کم ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تعلیم پذیری کم ہے۔ جب بھی آپ کا تعلیمی اشاریہ ایک سو سے کم ہو تو، آپ خود کو چھوٹا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ ویسا نہیں سیکھیں گے جیسا کہ آپ سیکھ سکتے تھے۔ اپنے ٹیچبلٹی انڈیکس کے بارے میں ہر وقت واقف رہنا چاہیے اور جب بھی آپ اس موضوع کو اہم سمجھتے ہوں تو اسے ایک سو میں ایڈجسٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ جب بھی آپ چھوٹے بڑے کورس یا تنظیمی وغیر تنظیمی ورکشاپ میں شرکت کر رہے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ دل چسپ مضامین کے آنے پر آپ کا نمبر خود بخود بڑھ جائے۔ یا کوئی موضوع آپ کو پسند نہ آئے یا کوئی ریسورس پرسن آپ کو پسند نہ آئے تو آپ کے ٹیچبلٹی انڈیکس کا نمبر نیچے جا سکتا ہے۔ نمبر نیچے جانے کی شکل میں آپ کا فوکس ختم ہو جائے گا یعنی آپ توجہ کھو دیں گے۔ آپ کو مایوسی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر یہ ایک سو تک بڑھ جاتا ہے تو آپ اس ورکشاپ کے لیے اپنے مطلوبہ نتائج کو پانے اور حاصل کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں، یہ اصول آپ کی زندگی میں کہیں بھی قابل اعتبار اور مکمل طور پر لاگو ہے۔ بند اور سخت رہنے سے آپ جہاں ہیں وہیں رہیں گے، جب کہ نئی تعلیم اور تبدیلی کے لیے کھلا پن یقینی طور پر بہتر نشوونما اور صحت مند تبدیلی کے لیے ایک انتہائی ضروری پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔ اور ترقی کی راہوں پر آپ گام زن ہوں گے۔

جولائی 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau