مولانا مودودیؒ کا خطابِ مدراس

ڈاکٹر محمد رفعت

تقسیمِ ہند اگست ۱۹۴۷ء میں عمل میں آئی۔ اس سے چند ماہ قبل اپریل ۱۹۴۷ء میں جماعتِ اسلامی کے مختلف حلقوں کے عام اجتماعات منعقد ہوئے۔ چنانچہ اس سلسلہ اجتماعات کے تحت حلقہ جنوبی ہند کا عام اجتماع بھی شہر مدراس میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں صوبہ مدراس، ریاست حیدرآباد اور میسور کے ارکانِ جماعت اور ہمدردان نے شرکت کی جن کی تعداد ڈھائی سو سے زائد تھی۔ ان کے علاوہ شہر مدراس کے مقامی احباب بھی تشریف لائے تھے۔ خواتین بھی اجتماع میں شریک تھیں۔ اجتماع کی کارروائی ۲۵؍۲۶؍ اپریل ۱۹۴۷ء کے دو دنوں میں انجام پائی۔ دوسرے دن امیرِ جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اختتامی تقریر کی۔ اس وقت تک یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ تقسیمِ ملک اَب عمل میں آنے ہی والی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اپنی تقریر کی ابتدا میں تقسیمِ ملک کے نتیجے میں واقع ہونے والے تغیرات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:

’’عنقریب ملک تقسیم ہوجائے گا، ہندوؤں کو ان کی اکثریت کے علاقے اور مسلمانوں کو ان کی اکثریت کے علاقے الگ الگ مل جائیں گے۔ دونوں اپنے اپنے علاقوں میں پوری طرح خود مختار ہوں گے اور اپنی مرضی کے مطابق اپنے اسٹیٹ کا نظام چلائیں گے۔…

آنے والے اس دور میں ہندو ہندوستان اور مسلم ہندوستان کے حالات بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے، اور چونکہ ہمیں دونوں علاقوں میں کام کرنا ہوگا اس لیے ہمیں بھی اپنی تحریک کو دو مختلف طریقوں پر چلانا پڑے گا…

جہاں تک مسلم علاقے کا تعلق ہے، اس پر تو میں یہاں کوئی بحث نہ کروں گا، کیونکہ اس کے لیے موزو ں مقام شمالی مغربی حلقے کا اجتماع ہے جو عنقریب ہونے والا ہے۔ آپ کے سامنے مجھے صرف ہندو ہندوستان کے مستقبل پر گفتگو کرنی ہے کہ یہاں مسلمانوں اور ہندوؤں کو کِن حالات سے سابقہ پیش آنے والا ہے اور اِن حالات میں آپ کو کس طرح کام کرنا ہوگا۔‘‘ (روداد جماعتِ اسلامی، پنجم)

مدراس کی تقریر کے بارے میں سوالات

یہ تمہیدی جملے ہیں اس تقریر کے جو مولانا مودودیؒ نے ۲۶؍اپریل ۱۹۴۷ء کے مدراس کے مذکورہ بالا اجتماع میں کی، یہ تقریر تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ تقسیم ملک کے بعد متوقع حالات کا تجزیہ مولانا نے اس خطاب میں پیش کیا اورپھر ان ارکان اور ہمدردانِ جماعت کو تحریک اسلامی کے آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں ہدایات دیں جو تقسیمِ ملک کے بعد، ہندوستان میں رہ جانے والے تھے۔ یہ ہدایات چار نکات پر مشتمل تھیں اور ’’چار نکاتی لائحۂ عمل‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ تجزیے کی گہرائی و وسعت اور لائحہ عمل کی معنویت و جامعیت ان ہدایات کا امتیازی وصف ہے۔ یہ تقریر مولانا مودودیؒ کی اس غیر معمولی بصیرت کا مظہر ہے، جس سے کام لے کر انھوںنے مسلمانانِ ہند کو عموماً اور کارکنانِ تحریک کو خصوصاً بروقت رہنمائی فراہم کی تھی۔

اس سلسلے میں ’’زندگی نو‘‘ کے اشارات دسمبر ۲۰۱۸ء میں ایک محترم دوست کے چند سوالات درج کیے گئے ہیں۔ مدراس کی مذکورہ بالا تقریر کے بارے میں انھوں نے ذیل کے امور دریافت کیے ہیں:

(الف) تقسیمِ ہند سے قبل، اپنی مدراس کے اجتماع کی تقریر کے ذریعے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کیا پیغام دینا چاہتے تھے؟

(ب) اس پیغام میں کیا حکمتِ عملی پیش کی گئی تھی؟ (اشارات، زندگی نو، دسمبر ۲۰۱۸ء)

خطابِ مدراس کا پیغام

مدراس کے خطاب میں مولانا مودودیؒ نے حالات کا تجزیہ پیش کیا اور کارکنوں کو ہدایات بھی دیں لیکن ان دو امور سے بھی زیادہ اہم، تقریر کی وہ اسپرٹ ہے جو اس خطاب کو مؤثر بناتی ہے۔ یہ تقریر اپنے مخاطبین کو حوصلہ، ہمت، استقامت، حسنِ اخلاق، قربانی اور سعیِ پیہم کا پیغام دیتی ہے۔ آپ نے تحریک اسلامی کے وابستگان کو تلقین کی کہ اپنی جگہ جَم کر حالات کا مقابلہ کریں اور اصلاحِ حال کے لیے مسلسل کوشش کریں۔ مولانا نے کہا:

’’ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ پورے استقلال کے ساتھ اپنی جگہ جم کر دعوتِ اصلاح اور سعی انقلاب میں منہمک رہے اور اپنے مقام سے ہرگز نہ ہٹے جب تک اس کا وہاں رہنا قطعی غیر ممکن نہ ہوجائے یا پھر وہاں دعوتِ حق کے بار آورہونے کی کوئی امید باقی نہ رہے۔

آنے والے دنوں میں آپ بہت کچھ ہجرت و مہاجرت کی باتیں سنیں گے اور بعید نہیں کہ عام رو کو دیکھ کر یا خیالی اندیشوں سے سہم کر آپ میں سے بہتوں کے پاؤں اکھڑنے لگیں، لیکن آپ جس مشن کے حامل ہیں اس کا مطالبہ یہ ہے کہ آپ میں سے جو شخص جہاں ہے، وہیں ڈٹ جائے اور اپنی دعوت کو اپنے ہی علاقے کی زندگی پر غالب کرنے کی کوشش کرے۔ آپ کے حال جہاز کے اس بہادر کپتان کا سا ہونا چاہیے جو آخر وقت تک اپنے جہاز کو بچانے کی کوشش کرتا ہے اور ڈوبتے ہوئے جہاز کو چھوڑنے والوں میں سب سے آخری شخص وہی ہوتا ہے۔

’’حالات خواہ کتنے ہی حوصلہ شکن اور صبر آزما ہوں، بہرحال مستقل نہیں ہیں بلکہ عنقریب بدل جانے والے ہیں۔ اس وقت آپ کے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ صبر اور حسنِ اخلاق سے اپنا کام کیے جائیں۔ الجھنے والوں کے ساتھ نہ الجھیں، نادان لوگوں کی مخالفتوں پر برافروختہ نہ ہوں … وہ اگر جہالت اور جاہلیت پر اتر آئیں تو آپ شریف آدمیوں کی طرح ان کے مقابلے سے ہٹ جائیں اور ان کی زیادتیوں کو خاموشی سے سہ لیں۔

اس کے ساتھ آپ کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ معقول طریقے سے اپنی دعوت، مسلم اور غیر مسلم سوسائٹی کے ان سب لوگوںتک پہنچائیں جو معقول بات کو سننے اور اس پر کھلے دل سے غور کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس طریقے پر اگر آپ نے عمل کیا تو ایک طرف آپ کی اخلاقی برتری کا سکہ بیٹھ جائے گا اور دوسری طرف وہ ذہنی فضا ایک حد تک تیار ہوجائے گی جو آنے والے حالات میں مؤثر کام کے لیے ضروری ہے۔‘‘ (روداد، پنجم)

مولانا مودودی کی مندرجہ بالا تلقین کو ہم خطابِ مدراس کا پیغام کہہ سکتے ہیں:

یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم

جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

گماں آباد بستی میں یقیں مردِ مسلماں کا

بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی

صورتحال کا تجزیہ

اسلامی تحریک کے وابستگان کو استقامت اور جدوجہد کا سبق دینے کے بعد مولانا مودودیؒ نے آنے والے حالات کے لیے تحریک اسلامی کی حکمتِ عملی پیش کی۔ اس حکمتِ عملی کی بنیاد، حالات اور سماج کا تجزیہ ہے۔ پیغامِ عمل کے علاوہ مدراس کے خطاب کا دوسرا اہم جز ہندوستان کی کیفیت کا یہی تجزیہ ہے جو مولانا مودودی نے پیش کیا۔ حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے اِس تجزیے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہندوستانی سماج کا بڑا جز وہ باشندے ہیں جو ہندو کہلاتے ہیں۔ ان کے بعد آبادی کے لحاظ سے مسلمان ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے، مولانا نے بتایا کہ آزادی کے بعد بننے والی ہندوستان کی سیکولر جمہوری ریاست، اپنے عمل کے لحاظ سے ہندو قومی ریاست ہوگی جو مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو برداشت نہیں کرے گی بلکہ ان کی انفرادیت کو فنا کرنے کی پوری کوشش کرے گی (آج کے بھارت کے حالات مولانا کے اس تجز یے کی تصدیق کرتے ہیں)۔ ان حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے تین راستے ہوں گے:

(الف) حوصلہ ہار بیٹھیں اور ہندو کلچر میں جذب ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔

(ب) مسلم قومیت کی موجودہ تحریک کو (جو مسلم لیگ کے زیرِ قیادت اس وقت برپا تھی) تقریباً اسی طرز پر (مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے) چلاتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے سے زیادہ طاقتور، ہندو قوم پرستی کے علمبردار گروہ، سے مغلوب ہوجائیں۔

(ج) مسلم قوم پرستانہ طرز اپنانے کے بجائے اسلام کی اصولی دعوت کے علم بردار بن کر اُٹھ کھڑے ہوں، اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں حق کی سچی شہادت دیں اور دعوتِ حق کے فروغ کے ذریعے باطل کے تسلط کو ختم کرنے کی سعی کریں۔

مولانا کے اس تجزیے کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے پہلے دو راستے خسران اور ناکامی کے ہیں اور صرف تیسرا راستہ کامیابی اور نجات کا ہے۔ مدراس کی تقریر سے دس سال قبل مولانا مودود ی اپنی تاریخی کتاب ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کش مکش‘‘ تحریر کرچکے تھے۔ اس کتاب کے حصہ دوم میں مولانا نے سیکولر جمہوری ریاست کی حقیقی نوعیت پر روشنی ڈالی تھی اور یہ حقیقت واضح کی تھی کہ ایسی ریاست، اپنی حدود کے اندر اکثریت کی تہذیب سے مختلف ، مستقل تہذیب کی حامل اقلیت کو گوارا نہیں کیا کرتی۔

مدراس کی تقریر میں مولانا مودودی نے اپنے اس تجزیے کو بیان کرنے کے بعد تحریک اسلامی کے کارکنوں کو توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کا حوصلہ بحال کریں اور ان کو صحیح راہِ عمل بتائیں، تاکہ ان کی قوتیں، انتشار کا شکار نہ ہوں اور وہ مایوسی اور بے عملی کی طرف مائل نہ ہوں۔ ان منفی کیفیات کے بجائے وہ شہادتِ حق کے واضح نصب العین کو اپنا مقصد بنائیں اور عزم و ہمت کے ساتھ ملک کے سامنے دعوتِ حق پیش کریں۔

غیر منصفانہ سماجی ڈھانچہ

مسلمان سماج کے بارے میں اظہارِ خیال کے بعد مولانا مودودی نے ہندو سماج کا تجزیہ پیش کیا۔ مولانا نے بتایا کہ ہندو قوم کے موجودہ اتحاد کی بنیادیں منفی ہیں اور وہ دو ہیں۔ ایک بنیاد، انگریزی اقتدار سے نجات پانے کا جذبہ ہے۔ آزادی مل جانے کے بعد یہ بنیاد ختم ہوجائے گی۔ ہندو اتحاد کی دوسری بنیاد، جدا گانہ مسلم قومیت اور تشخص کے مقابلے کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ اُس وقت باقی رہ سکتا ہے جب ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے کی منصوبہ بند کوشش کی جائے اور یہ کوشش کامیاب بھی ہوجائے۔ اگر مسلمان اپنے قول وعمل میں اصولی رویہ اختیار کریں اور دعوتِ حق کے لیے سرگرم بھی ہوں تو ہندو عوام کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے کی کوششیں زیادہ دیر تک کامیاب نہ ہوسکیں گی اور اس طرح ہندو سماج کے اتحاد کی دوسری بنیاد بھی ختم ہوجائے گی۔ ان بنیادوں کے ختم ہوتے ہی وہ اندرونی تضادات، شدت کے ساتھ نمایاں ہونے لگیں گے جو اس سماج کے انتشار کے باعث بنتے رہے ہیں۔

ہندو سماجی نظام کے اندرونی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے مولانا مودودی نے بتایا کہ اس نظام کی بنیاد طبقات کی پست اور بالامیں تقسیم پر رکھی گئی ہے۔ اس تقسیم میں محض پیدائش کو عزت و ذلت کا سبب قرار دیا گیا ہے اور نام نہاد پست طبقات کو یقین دلایا گیا ہے کہ تمہاری پستی عین تقاضائے فطرت ہے۔ عدم مساوات پر مبنی سماجی نظام کے ساتھ جدید سرمایہ داری بھی مُلک میں موجود ہے جو سماجی مرتبے میں کم تر سمجھے جانے والوں پر معاشی محرومی اور غربت بھی مسلط کردیتی ہے۔آزادی کےبعد قائم کیے جانے والے سیاسی نظام کے نعرے دل کش ضرور ہیں مثلاً جمہوریت، سماجی انصاف، مواقع کی یکسانی وغیرہ لیکن اندیشہ ہے کہ ان نعروں کی عملی تعبیر اس طرح کی جائے گی کہ پست و محروم طبقات کی محرومی بدستور باقی رہے گی اور وہ ملک کی آزادی کے فوائد سے حقیقی معنوں میں متمتع نہ ہوسکیں گے۔

منصفانہ نظام کی تلاش

مولانا مودودی نے بتایا کہ ملک کے غیر منصفانہ سماجی، معاشی و سیاسی نظام سے عوام جلد مایوس ہونے لگیں گے۔ فطری طور پر انہیں منصفانہ نظامِ زندگی کی تلاش ہوگی۔کمیونسٹ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاکر اشتراکی نظام کو ہندوستانی عوام کے مسائل کے حل کے طور پر پیش کریں گے لیکن اشتراکی فلسفے کی مذہب بیزاری کی بنا پر اور اب تک کے اشتراکی تجربات کی ناکامی کی بنا پر، اشتراکیوں کی دعوت میں کچھ زیادہ کشش نہ ہوگی۔ ان حالات میں مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ اسلام کو، بطور برحق نظامِ زندگی کے، ہندوستانی عوام کے سامنے پیش کریں۔ اسلامی نظامِ زندگی کی امتیازی خصوصیات، مولانا مودودیؒ نے اس طرح بیان کی ہیں:

(الف) اسلامی نظامِ فکر و عمل اپنے اندر اعلیٰ درجے کی اور حقیقی روحانی و اخلاقی قدریں رکھتا ہے۔

(ب) اس نظام میں نمائشی جمہوریت کے بجائے حقیقی جمہوریت ہوتی ہے جو محض سیاسی نہیں بلکہ تمدنی و معاشرتی بھی ہے۔

(ج) اسلامی نظام تمام انسانوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہے نہ کہ محض بعض طبقات کے مسائل۔

(د) اسلامی طرزِ فکر، سب کے ساتھ انصاف کا قائل ہے اور طبقات کے درمیان کش مکش کو فروغ دینے کے بجائے یہ نظام ان کو ایک دوسرے پر زیادتی کرنے سے باز رکھنا چاہتا ہے۔

(ہ) اسلامی نظام ان لوگوں کے ہاتھوں میں معاملات کی باگ ڈور دیتا ہے جن کی سیرت و اخلاق پر اعتماد کیا جاسکے، جو کسی قومی، طبقاتی یا ذاتی خود غرضی میں مبتلا نہ ہوں، جن کی زندگی دیکھ کر ان سے انصاف کی امید وابستہ کی جاسکتی ہو اور جن کی شخصیت کے اندر دیانت اور انتظامِ دنیا کی صلاحیت دونوں جمع ہوں۔مولانا نے توقع ظاہر کی کہ یہ منصفانہ نظام، ہندوستان کے عوام کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ اشتراکیت کے مقابلے میں اس کو ترجیح دیں گے۔

لائحہ عمل

ہندوستان کے موجود اور متوقع حالات اور سماجی ڈھانچے کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرنے کے بعد مولانا مودودیؒ نے وہ حکمت عملی پیش کی جسے وہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور حالات کی اصلاح کرنے کے لیے ضرور ی سمجھتے تھے۔ اس حکمتِ عملی کو اسلامی تحریک کالائحہ عمل بھی کہا جاسکتا ہے۔ لائحہ عمل کے چار نکات یہ ہیں :

(الف) ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان قومی کش مکش کا خاتمہ (اور قومی کش مکش کے خاتمے کے لیے مسلمانوں کی رائے عامہ کی تربیت)

(ب) مسلم سوسائٹی کی وسیع اور ہمہ گیر اصلاح تاکہ وہ حقیقتاً اسلام کی نمائندہ سوسائٹی بن جائے۔

(ج) مسلمانوں کے تعلیم یافتہ ذہین عنصر کو اسلامی نصب العین کا خادم بنانا۔

(د) ہندوستان کی علاقائی زبانوں میں اسلامی لٹریچر کو منتقل کرنا۔

یہ لائحہ عمل (موجود اور متوقع) حالات اور کیفیات کے اس تجزیے کا فطری نتیجہ ہے جو مولانا نے تقریر کے پہلے حصے میں پیش کیا۔ ہندو قوم پرستی، مولانا کے تجزیے کے مطابق اسی وقت تک پھل پھول سکتی ہے جب اس کے علمبردار، ہندوعوام کو مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے اور مشتعل رکھنے میں کامیاب ہوجائیں۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اشتعال انگیزی کے اس منصوبے کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ اس مقصد کے لیے مسلمانوں کو مسلم قوم پرستانہ طرزِ فکروعمل سے بچنا ہوگا اور اپنے اجتماعی رویے کو اصولی اور آفاقی بنانا ہوگا۔ یہ لائحہ عمل کا پہلا نکتہ ہے۔ اس نکتے پر عمل سے ان شرپسندوں کے عزائم ناکام ہوجائیں گے جو مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

پھر مولانا مودودی نے لائحہ عمل کا دوسرا نکتہ بیان کیا ہے یعنی ہندوستانی مسلمانوں کے سماج کی ہمہ گیر اصلاح۔ یہ اصلاح بالخصوص درج ذیل پہلوؤں سے ہونی چاہیے:

(الف) مسلمانوں میں وسیع پیمانے پر دین کا علم پھیلایا جائے۔

(ب) ان میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عام جذبہ پیدا کیا جائے۔

(ج) جاہلیت کے اثرات کی بنا پر مسلمانوں میں جو اونچ نیچ کے امتیازات اور برادریوں کے تعصبات پیدا ہوگئے ہیں، ان کو ختم کیا جائے۔

(د) مسلمان سماج میں رائج، دورِ جاہلیت کے غلط رواجوں اور رسوم کا خاتمہ کیا جائے۔

مسلمان سماج کی یہ اصلاح اصلاً اس لیے مطلوب ہے کہ یہ اسلام کا تقاضا ہے اور ہندوستان کے حالات میں اس لیے بھی مطلوب ہے کہ ہندوستان کے غیر منصفانہ سماجی ڈھانچے کے بالمقابل مسلمان سماج مساوات اور انصاف کا نمونہ پیش کرسکے۔ ایسا عادلانہ سماجی نظام، ان تمام انسانوں کے لیے وجہ کشش ثابت ہوگا جو حق و انصاف کی تلاش میں ہیں۔ لائحہ عمل کا یہ نکتہ، اس سماجی تجزیے کا نتیجہ ہے جس میں مولانا مودودی نے ہندوستان میں موجود غیر منصفانہ سماجی ڈھانچے کے خدوخال بیان کیے ہیں۔ مولانا کے نزدیک اسلامی دعوت اُسی وقت کامیاب ہوگی جب اسلام کے اصول محض داعیانِ اسلام کی تقریروں میں بیان نہ ہوں گے بلکہ مسلم سوسائٹی کے اجتماعی نمونے میں نظر آئیں گے۔ تب یہ سوسائٹی، انصاف اور مساوات کے متلاشیوں کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوگی۔

لائحہ عمل کے تیسرے نکتے کا تعلق اس تجزیے سے ہے جو مولانا نے اپنی دیگر تحریروں (خصوصاً سیاسی کش مکش سوم کے آخری باب) میں پیش کیا ہے۔ مولانا کے نزدیک آج دنیا میں افکار و نظریات کی کش مکش برپا ہے اور اجتماعی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ درست اور قوی استدلال کے ذریعے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کیا جائے۔ چنانچہ ان تمام ذرائع کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے جن سے ذہن و فکر کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ مولانا مودودی نے تیسرے نکتے میں بالخصوص ذیل کے امور کی طرف توجہ دلائی ہے: صحت مند صحافت، تعمیری ادب، اسلامی نظامِ زندگی کی تفصیلی صورت گری، موجو د علوم پر قرآن کی روشنی میں تنقید۔ مولانا مودودی نے دعوت دی ہے کہ مسلمانوں کا ذہین اور تعلیم یافتہ عنصر ان خطوط پر اسلامی نصب العین کی خدمت کرے اوراسے اس کام کے لیے آمادہ کیا جائے۔ لائحہ عمل کا آخری نکتہ ہندوستان کے لسانی تنوع کا نوٹس لیتا ہے۔ یہاں آزادی کے بعد محض وہ لٹریچر کافی نہیں ہے جو اردو میں لکھا جائے یا ملکی سطح کی زبانوں (انگریزی یا ہندی) میں تیار کیا جائے۔ یہاں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر علاقائی زبان میں اسلامی کتابیں اور رسائل و جرائد موجود ہوں جن سے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت میں فائدہ اٹھایا جاسکے اور جن کی اشاعت کے ذریعے عامۃ الناس تک اسلام کا پیغام پہنچایا جاسکے۔

لائحہ عمل پیش کرتے ہوئے مولانا مودودی نے اسلامی تحریک کے کارکنوں سے توقع کی ہے کہ وہ خود دین کی خدمت کرنے کو کافی نہیںسمجھیں گے بلکہ پورے مسلمان سماج کو اسلامی نصب العین سے وابستہ کریں گے۔ وہ مسلمان سماج کے ذہنی افق کو وسیع کریں گے تاکہ مسلم قوم پر ستی کے جذبات سے مغلوب ہونے کے بجائے، مسلمان اصولی اور آفاقی مزاج کے حامل بن سکیں۔ اسلامی تحریک کے وابستگان مسلمان سماج کی وسیع پیمانے پر اصلاح کریں گے تاکہ اس معاشرے سے قدیم و جدید جاہلیت کے اثرات مٹ جائیں اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی، اسلام کی صحیح تصویر پیش کرے۔ اسلامی تحریک، ذہین اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کرے گی کہ وہ فکری دنیا میں باطل کے غلبے کو مٹادیں اور دینِ حق کی تعلیمات اور تقاضوں کا مدلل اور مفصل نقشہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ دعوتِ اسلامی کے علمبردار، اس وسیع ملک کی آبادی کے ہر طبقے پر توجہ دیں گے اور اُسی کی زبان میں پیغامِ حق اُس تک پہنچائیں گے۔ لائحہ عمل نے ان سمتوں کی نشاندہی کی ہے جن کی جانب پیش رفت کی راہیں آج بھی کھلی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کے ذہنی و عملی رویے کی اصلاح، دنیا میں فکرِ صالح کی ترویج اور پیغامِ حق کی انسانوں کے درمیان مؤثر اشاعت، ایسے کام ہیں جن کے انجام دینے کے وسیع مواقع حاصل تھے اور حاصل ہیں۔ ان کاموں کی انجام دہی اس چیلنج کا کارگر جواب ہے، جو ہندوستانی مسلمانوں کو جارحانہ قوم پرستی کی منفی تحریک کی جانب سے درپیش ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حق و انصاف کے متلاشیوں کو اسلام کی دعوت، تکمیلِ ذات کا راستہ دکھاتی ہے، عرفانِ حق کی طرف رہنمائی کرتی ہے، دائمی زندگی میں کامیابی کی بشارت دیتی ہے، ظلم پر مبنی معاشرے کے بجائے ایک متبادل مبنی برانصاف سماج اُن کو فراہم کرتی ہے اور غیر عادلانہ نظام کے بجائے منصفانہ معاشی و سیاسی نظام پیش کرتی ہے۔ اس جامعیت کے ساتھ دعوتِ حق عام کی جائے تو فریب کے پردے چاک ہوکر رہیں گے۔

جنوری 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau