اصلاح کا طریقہ تشدد نہیں ہے
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تشدد اور سختی ہی بچوں کی غلطیوں کا بہترین علاج ہے۔ ان کے بہ قول سخت رویہ بچے کو سزا کے خوف میں مبتلا رکھتا ہے، جس سے وہ کوئی غلط حرکت کرنے سے باز رہتا ہے۔واضح رہے کہ بچے کو سزا دینا اور سزا کے دوران تشدد یا بے جا سختی برتنا، دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ سزا کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ پٹائی کو سزا کے طور پر اختیار کرنے کا مطلب بھی تشدد نہیں ہے۔
اسلام نے اگرچہ پٹائی کو بچوں کی سزا کے ایک ذریعے کے طور پر تسلیم کیا ہے، تاہم اسے مخصوص عمر اور متعین ضوابط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ مثال کے طور پر اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
’’اپنے بچوں کو سات سال کی عمرمیں نماز کی تعلیم دو۔ دس سال کے بچوں کو نماز نہ پڑھنے پر مارو اور ان کے بستر الگ کر دو۔‘‘ (دارمی: ۱۴۰۳، ابن ماجہ: ۱۰۰۲، حاکم: ۹۴۸)
نماز کے معاملے میں پٹائی کی سزا کو دس سال کی عمر کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ یعنی اس سے کم عمر کے بچے کو پٹائی کی سزا نہیں دی جائے گی۔ پٹائی سرزنش کی ایک شکل ہے اور اس لیے رکھی گئی ہے کہ بچہ جان بوجھ کر نماز ترک نہ کرے۔ یہاں وہ پٹائی مراد نہیں ہے جو جسمانی تشدد کی شکل اختیار کرلے۔ سرزنش والی اس قسم کی پٹائی کی شرط یہ ہے کہ جسم کے نازک حصوں، مثلاً چہرے، پیٹ یا سر وغیرہ پر نہ ماراجائے۔ اس لیے کہ جسم کے ان حصوں پر مارنے سے بچے کو سخت اذیت یا تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ البتہ ہاتھ پر مارا جاسکتا ہے۔ چہرے پر اس لیے بھی نہ مارا جائے کہ چہرے پر مارنا اسلام میں ممنوع ہے۔ چہرے پر مارنے سے انسان کی عزتِ نفس کو چوٹ لگتی ہے اور یہ بات اللہ کو پسند نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’چہرے پر نہ مارو‘‘ (احمد: ۱۹۵۲۰، ابودائود: ۱۲۴۲، نسائی: ۷۱۹۱۰، البیہقی: ۱۵۱۴۶)
مذکورہ حدیث کا تعلق اگرچہ بیوی کے ساتھ شوہر کے رویے سے ہے، تاہم اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ چہرے پر مارنا جائز نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چہرے پر مارنا ایک طرح سے انسان کی توہین کرنا ہے۔ اسلام میں سزا کا مقصد کسی کی اہانت و توہین کرنا تو ہے نہیں، بلکہ سزا کا مقصد تو غلطی سے روکنا اور اس کے سلوک و رویے کی کجی کو دور کرنا ہے۔ بعض لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کو فرماں بردار بنانے کے لیے ان کے ساتھ سختی برتنا ضروری ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ بچوں کے معاملے میں اصل رویہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ رحمت و شفقت سے پیش آئیں، ان کے سامنے محبت ونرمی اور شفقت و عاطفت کا اظہار کریں۔ ان کے ساتھ رہنے والے دوسرےافراد، خاص طور سے والدین، بچوں کے تئیں اس رویے کو محسوس بھی کرائیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے بچوں سے محبت و شفقت کے سلسلے میں شان دار مثال پیش فرمائی ہے۔ حضرت ابوبریدہؓ کہتے ہیں:
رسول اللہﷺ ہم سے خطاب فرما رہے تھے کہ نواسہ رسول حسنؓ اور حسینؓ آ گئے۔ دونوں نے سرخ رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی اور گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ (منبر سے) اترے ، دونوں کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا دیا۔‘‘ (سنن البیہقی: ۵۹۱۳،صحیح الجامع: ۳۷۵۷)
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں:
’’ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپؐ سجدے میں گئے تو حسنؓ اور حسینؓ کود کر آپؐ کی پیٹھ پر چڑھ گئے۔ آپؐ نے حالت سجدہ میں ہاتھ پیچھے کی طرف اٹھایا اور اپنے ہاتھ کی مدد سے آہستہ آہستہ انھیں نیچے اتار لیا۔ آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو وہ دوبارہ پیٹھ پر چڑھ گئے۔ پھر نماز مکمل کر لینے کے بعد آپؐ نے انھیں اپنے دونوں زانووں پر بٹھا لیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں آپؐ کی طرف اٹھا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! انھیں گھر واپس چھوڑ آؤں؟ ۔۔۔۔ آپؐ نے بچوں سے فرمایا:’’ اپنی ماں کے پاس جاؤ۔۔۔۔۔۔‘‘ (مسند الامام احمد: ۱۰۲۸۱)
یہ ہے بچوں سے اور اہل خانہ سے رسول اللہﷺ کی رحمت و شفقت۔ یہی رحمت وشفقت صحابۂ کرامؓ نے آپ سے وراثت میں پائی تھی۔ چنانچہ حضرت عمر بن خطاب،ؓ جو کہ اپنے مزاج میں شدت کے لیے معروف تھے، ان کے پاس حضرت اقرع بن حابسؓ آتے ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ اپنے کسی بچے کا بوسہ لے رہے ہیں۔ اقرع بن حابسؓ کو اس پر حیرت ہوئی۔ انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا: آپ بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ میرے تو دس بیٹے ہیں، میں نے ان میں سے کسی کا کبھی بوسہ نہیں لیا۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمھارے دل سے رحمت و شفقت کھینچ لی ہے تو میں کیا کروں؟“
رحمت و شفقت عدل و احسان کی طرح اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کے متعلق فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ (الانبیاء: ۱۰۷)
’’اور ہم نے تو تمہیں تمام لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
اسی لیے ہمارا دین، دینِ رحمت اور ہمارا دستور، دستورِ رحمت ہے۔ صحیح حدیث میں ہے:
’’رحم کرنے والوں پر تو اللہ بھی رحم فرماتا ہے۔ زمین والوں پر رحم کرو آسمان والاتم پر رحم کرے گا۔‘‘ (الحاکم ۷۲۷۴، ترمذی ۱۹۲۴)
ماہرینِ تربیت بالخصوص بچوں کی تربیت کے دوران تشدد اختیار کرنے کی تائید نہیں کرتے، کیوں کہ تربیت کا یہ اسلوب بچے کے اخلاق کے لیے سنگین حد تک نقصان دہ ہے۔ اس سے جو اثراتِ بد اس کی زندگی پر پڑتے ہیں وہ زندگی کے آخری برسوں تک بھی اس کے ساتھ لگے رہ سکتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تائید علم سماجیات کے ماہر علامہ ابن خلدون نے بھی کی ہے۔ وہ ’مقدمہ ابن خلدون‘ میں کہتے ہیں:
’’جن بچوں اور بچیوں کی تربیت اور نشو و نما ڈانٹ ڈپٹ اور تشدد سےہوتی ہے ان کے ذہن و دماغ پر استاذ کا قہر ہی چھایا رہتا ہے۔ ان کی خوشیاں مرجھا جاتی ہیں۔ ان کی چاق و چوبند طبیعت مردہ ہو جاتی ہے۔ یہ اندازِ تربیت انھیں سستی و کاہلی پر آمادہ کر دیتا ہے۔ اپنے اوپر سختی اور تشدد کے خوف سے جھوٹ بولنے کی طرف ان کی طیبعت آمادہ ہوتی ہے، اور وہ مکر و فریب سے کام نکالنے لگ جاتے ہیں۔ اس طرح یہ عیب ان کی عادت اور اخلاق کا حصہ بن جاتا ہے۔ [ان کے نزدیک] انسانیت کے کوئی معنی نہیں رہ جاتے۔ جس فرد کےساتھ تشدد کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے وہ دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی عزت و شرافت اور اپنے گھر خاندان کی عزت وکرامت کی حفاظت اوردفاع نہیں کر پاتا۔ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ شجاعت و حمیت کے جذبات سے عاری ہو چکا ہوتا ہے، جب کہ دوسرے اچھے اخلاق کی طرف بھی اس کی رغبت ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا نفس اپنے مقصد و غایت اور انسانیت کی سطح سے ہٹ جاتا ہے۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون، الفصل الاربعون فی اَن الشدة علی المتعلمین مضرة بھم)
دھر پکڑ والا اسلوب کوئی تربیتی اسلوب نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا اسلوب ہے جو بچے کے معاملات کو سنبھالنے سے عاجز ہوتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ صحیح انداز و اسلوب میں پیش آنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ بچے اور اس کی نفسیات کا مطالعہ کریں۔ اس کے اوصاف و خصوصیات کو پڑھیں ، اس کی عمر کے مختلف مراحل کا ادراک کریں تاکہ اس کے مزاج کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد آپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ صبرِ جمیل کے زیور سے آراستہ ہوں، بچے کے لیے رفیق و شفیق ثابت ہوں، اس لیے کہ رفق و شفقت اسلام کے عظیم اخلاقی اوصاف میں سے ایک ہے۔
بچے کی صلاحیتوں کی ناقدری
بعض والدین بچوں کی حرکتوں پر ایک قسم کے تمسخر کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی باتوں کا احترام نہیں کرتے، بلکہ بسا اوقات اس کی باتوں پر ہنس دیتے ہیں۔ یہ رویہ اس وقت تو والدین پر بہت زیادہ اثر نہیں ڈالتا، لیکن مستقبل میں ہوسکتا ہے کہ ان کے حد سے زیادہ مذاق و استہزا کی وجہ سے بچہ افسردگی کا شکار ہوجائے، اس کے ذہنی قویٰ اور فکری صلاحیتیں مضمحل ہوجائیں اور اس کے اندر بہت زیادہ سوچنے یا کچھ نیا کرنے کی صلاحیت نہیں رہے۔
مثال کے طور پر بچہ کچھ اشعار لکھے۔ ہو سکتا ہے یہ اشعار غیر موزوں اور سطحی ہوں، لیکن ان اشعار کو قلم بند کرنے کے بعد بچے کو خوشی و مسرت ضرور ہوئی ہوگی۔ پھر جب بچہ یہی اشعار والدین کے سامنے پیش کرے تو والدین اس کا مذاق اڑانے لگیں۔ بچہ بلاشبہ اس ردعمل سے افسردہ ہو جائے گا۔ یوں والدین ہی اس کی صلاحیتوں کے قاتل بن جائیں گے۔ مثبت رویہ یہ ہے کہ والدین تعریف کرکے اس کی حوصلہ افزائی کریں پھر شعر گوئی کی مشق کے سلسلے میں اس کی درست رہنمائی کریں۔ کہانی نگاری، مصوری، کارٹون سازی، دست کاری، نغمہ گوئی جیسی کوششوں کے بارے میں بھی یہی بات ہے۔
بچے کی حوصلہ افزائی انتہائی ضروری جب کہ حوصلہ شکنی نہایت نقصان دہ ہے۔ اس سلسلے میں مفید یہ بھی رہے گا کہ بچے کی عمر کے لحاظ سے کچھ مخصوص کام دیں۔ کام مکمل کرلینے پر اس کی تعریف کریں۔ اس طرح ہم اس کے دل میں اعتماد کا بیج بوسکیں گے اور ہچکچاہٹ اور تردد سے اسے محفوظ رکھ سکیں گے۔
بچہ سیکھنے کے دوران بہت سی غلطیاں کرتا ہے۔ سیکھنے کے لیے یہ غلطیاں ضروری ہیں۔ یہ غلطیاں ایسی نہیں ہوتیں کہ ان پر سزا دی جائے، یا ان پر بچے کا مذاق اڑایا جائے۔ بعض غلطیاں تو ہوسکتا ہے کہ بچے کی حماقت و کند ذہنی کے بجائے اس کی ذہانت کی دلیل ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ بچے نے جو تصویر بنائی ہے وہ آپ کو اٹ پٹی سی لگے مگر اس کے پیچھے بچے کی غیر معمولی تخلیقیت کارفرما ہو، جہاں تک آپ کا روایتی ذہن نہیں پہنچ رہا ہو۔
بچہ بلوغت کے مرحلے میں پہنچنے کے بعد احترام وتکریم کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ پیش آنے کے لیے زیادہ حساس اسلوب اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں بچہ اپنے اندر آنے والی بعض جسمانی تبدیلیوں کی بنا پر یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ پختہ عمر کو پہنچ چکا ہے۔ اس بنیاد پر وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے ساتھ بڑوں کا سا معاملہ کیا جائے۔
بالغ بچہ کوئی غلطی کر دے تو ہمیں اس کے کسی حساس پہلو کو نہیں چھیڑنا چاہیے۔ اس کی عقل کو قصور وار قرار دینا یا اس کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کا مذاق اڑانا اس کے لیے اتنہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس ضروری ہے کہ اس کی ذہنی وفکری صلاحیتوں کا اور اس کے اندازِ فکر کا احترام کیا جائے۔ رائے مشورہ میں اسے اپنے ساتھ شریک کیا جائے۔ اسے یہ احساس دلایا جائے کہ گھر کے اندر اس کی حیثیت ایک قابلِ احترام فرد کی ہے اور اس کی رائے کی قدر کی جاتی ہے۔ نوبالغ یا نوعمربچے کی غلطیوں سے نپٹنے کے لیے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
رشوت دے کر کام کرانا
رشوت دینے کا مطلب یہ ہے کہ والدین یہ دائمی شیوہ اپنا لیں کہ مطلوبہ کاموں کو انجام دینے کے لیے بچے کو کچھ صلہ دیں۔ مثال کے طور پر ماں بچے سے کہے کہ ’’اگر تم یہ شرارت نہیں کروگے تو تمھیں چاکلیٹ دوں گی۔۔۔۔‘‘ اس اسلوب کو مستقل ذریعے کے طور پر اختیار کرنا بچے کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ بچوں کی غلطیاں سدھارنے کے لیے یہ کوئی اچھا اسلوب نہیں ہے۔ ٹھیک ہے وقتی طور پر یہ اسلوب والدین کے لیے سکون آور ہوسکتا ہے، تاہم اس سے بچہ کسی کام کو اس وقت تک نہ کرنے کا عادی ہوجائے گا جب تک اس کا انعام تیار نہ رکھا ہو۔ اور یہی چیزبچے کے لیے خطرناک ہے۔ دنیوی انعام سے قطع نظر بچے کے اندر بری باتوں سے نفرت اور اچھی باتوں کا شوق پیدا کیا جائے ، رضائے الٰہی اور آخرت کے انعام سے اس کی آرزوؤں کو جوڑا جائے۔
اکثر والدین بچوں سے کیے ہوئے وعدے بھول جاتے ہیں، یا مخصوص حالات کے تحت انھیں پورا نہیں کر پاتے ہیں۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جسے بچے یاد رکھتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بیٹھ جاتا ہے کہ والدین ان سے جھوٹ بول رہے ہیں یا ان کے ساتھ فریب کر رہے ہیں۔ بچہ اسی بری عادت یا سلوک کو ذہن میں رکھتے ہوئے جوانی کے مرحلے میں داخل ہوتا ہے اور جھوٹ اور فریب کو معمول کی شے سمجھنے لگتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے بچوں سے جھوٹ بولنے سے ہوشیار فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عامرؓ کہتے ہیں: ’’رسول اللہﷺ ہمارے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ اس وقت میں بچہ تھا۔ میں کھیلنے کے لیے گھر سے باہر چلا گیا تو میری امی نے کہا: عبداللہ، آؤ میں تمھیں ایک چیز دوں گی۔ رسول اللہﷺ نے پوچھا: ’’ تم اسے کیا دینا چاہتی ہو؟‘‘انھوں نے عرض کیا: میں اسے کھجور دوں گی۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر تم ایسا نہ کرتی (یعنی اسے کچھ نہ دیتی) تو تمھارے نام پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔‘‘ (احمد: ۱۵۲۷۵)
اسلام یہ واضح کر دیتا ہے کہ بچوں سے جھوٹ بولنا بالکل ویسے ہی غلط ہے جس طرح بڑوں سے جھوٹ بولنا غلط ہے۔ یہ قابلِ سزا گناہ ہے، بلکہ ہو سکتا ہےاس سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو، کیوں کہ اس سے بچوں کوغلط رویے کا سبق ملتا ہے اور وہ بھی غلط رویے کے عادی بن جاتے ہیں۔
بچے کے بعض کاموں پر اسے انعامات سے نوازنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن سنگین بات یہ ہے کہ اس کا ہر کام انعام کے ساتھ مربوط ہوجائے، یعنی بچہ یہ شرط لگائے کہ ماں باپ کو خوش کرنے والا کوئی کام وہ اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک اسے فلاں اور فلاں چیز نہ ملے۔ یہ خطرے کی بات ہے۔ یہ چیز مذکورہ بالا برے نتائج کے علاوہ بچے کو انعام نہ ملنے کی صورت میں نافرمانی کا خوگر بناتی ہے۔ اسے سکھایا جائے کہ معروف اور نیک کاموں میں والدین کی اطاعت واجب ہے۔ ان کے عظیم تر احسانات اس کے اوپر ہیں۔ اس لیے اسے ان کی اطاعت وفرماں برداری یا ان کی خواہش وضرورت کو پورا کرتے ہوئے ان سے کسی انعام یا بدلے کا منتظر نہیں رہنا چاہیے۔ والدین کی خدمت و اطاعت کا اصل انعام اللہ کے یہاں ملے گا۔
ماں سے ہونے والی غلطیاں
مائیں چھوٹے بچوں کے سلسلے میں زیادہ تر اس بات کی شاکی رہتی ہیں کہ بچہ کھانا نہیں کھاتا۔ چنانچہ وہ بچے کو کھانے کی طرف راغب کرنے کے لیے سخت جدوجہد اور طرح طرح کے جتن کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں ماں بہت سی سنگین غلطیوں کا ارتکاب کر جاتی ہے۔ یہ غلطیاں مسئلے کے کامیاب حل میں مدد نہیں کرتیں، بلکہ الٹا بچے کو مزید بگاڑ دیتی ہیں، اس کو ضد، ہٹ دھرمی اور اپنی بات پر اڑے رہنے کا عادی بنا دیتی ہیں۔ ڈوگلَس آرمور ٹوم (Douglas Armour Thom) اپنی کتاب Everyday Problems of the Everyday Child میں لکھتے ہیں:
’’ظاہربات ہے ہمارا مقصد کھانے میں بچوں کی رغبت کی اہمیت کو کم کرنا نہیں ہے، کیو ںکہ یہی رغبت وہ مفید و کارآمد علامت ہے جس سے بچے کی عمومی صحت کا پتہ چلتا ہے۔تاہم، یہ تسلیم کر لینا بھی ضروری ہے کہ بچوں کی غذا کے سلسلے میں ہم کوئی لگا بندھا معیار مقرر نہیں کر سکتے، کیوں کہ ضروری نہیں کہ ایک مخصوص عمر کے تمام بچے یکساں وزن یا یکساں طول و عرض کے مالک ہوں۔ اور بچے اگر کسی لگے بندھے ’معیار‘ پر پورا اترنے میں ناکام بھی رہے یا کبھی کبھار ایک یا دو وقت کھانے کی طرف رغبت وخواہش کا اظہار نہ بھی کریں تو اس سے کوئی نقصان واقع نہیں ہو جائے گا۔ ہماری بھرپور توجہ اس حقیقت پر ہو کہ چھوٹی اور معمولی معمولی باتوں پر والدین کی تشویش اور پریشانی ہی وہ چیز ہے جو اکثر بچوں کے اندر کھانے پینے سے متعلق دشواریاں پیداکرتی اور ان دشواریوں کوبرقرار رہنے دیتی ہیں۔۔۔۔۔۔اگر یہ بات ذہن میں رہے کہ بچے کے اندر توانائی اور خود کو تسلیم کرانے کے کچھ مخصوص فطری و جبلّی رجحانات پائے جاتے، اور انھیں بروئے کار لانے کے طریقے اس کے پاس محدود ہی ہوتے ہیں، تو ہمارے لیے یہ بات حیران کن نہیں رہے گی کہ وہ ان رجحانات اور طریقوں کو لازمی طور پر استعمال میں لائے گا۔ ممکن ہے کہ ایک ماں قطعی طور پر یہ نوٹ کرنے سے عاجز رہے کہ اس کا چھوٹا سا بچہ، مثال کے طور پر، کھانے یا کھانے سے انکار کے ذریعے اپنی ماں کی بیش تر سرگرمیوں کو اپنے کنٹرول میں کر سکتا ہے۔ وہ اسے اپنے پاس بیٹھا کر کھانا کھلانے پر مجبور کر سکتا ہے، کہانیاں سنانے پر مجبور کرسکتا ہے، لالچ دینے ، ’رشوت‘ دینے یا ڈانٹنے پر مجبور کر سکتا ہے، بلکہ اسے رونے، یا غصے سے پھٹ پڑنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے۔ ممکن ہے وہ اپنے رویے پر اثرانداز ہونے والے محرکات سے قطعاً ناآشنا ہو، بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنے جسم کی ان کارگزاریوں سے واقف نہیں ہوتا جو اس کے کھانے کو ہضم کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود، وہ اپنی قوت و توانائی اور تسکین کے اس احساس کا شعور رکھتا ہو جو اس فطری قوت و توانائی کے ذریعے سے اسے حاصل ہوتی ہے۔ یہ تسکین بالکل اسی طرح کی ہوتی ہے جیسی ایک لطیف نیند کا جھونکا لینے یا بھرپور کھانا کھا لینے کے بعد حاصل ہوتی ہے۔
یہاں ایک متوقع خطرہ ماں کے اس وقت اپنے مقصد میں ناکام ہوجانے کا ہے جب وہ یہ کہہ کر بچے کو کھانے کی طرف راغب کرے کہ کھانا کھالے ورنہ بھوکا رہنا پڑے گا۔ حالاں کہ بچے کو یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ نہ تو اس کے لیے کھانا کھانا لازمی ہے اور نہ بھوکا رہنا۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ ماں کو پریشان کرنا، منتیں کروانا، یا ماں کا لالچ دے کر راضی کرنا بعد میں مہنگا پڑے گا، لیکن وہ ایسی پوزیشن میں ہوتا ہے جہاں بہرحال وہ حالات کواپنے حق میں کرا لیتا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ حد سے زیادہ فکر مند رہنے والی ماں ہمیشہ بچے کے ساتھ صلح کے موڈ میں رہتی ہے۔ بچہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے، کیوں کہ بار بار کا تجربہ اس پر یہ واضح کر دیتا ہے کہ ماں نہ صرف یہ کہ اپنی دھمکی کو بھول جائے گی، بلکہ کسی شک وشبہے کے بغیر آخر میں بیٹھ کر کھانا کھلائے گی۔ البتہ صورت حال کا جذباتی اثر وپہلو یہیں ختم نہیں ہو جاتا، اس لیے کہ ماں پوری صورت حال سے گہرا تعلق رکھنے کی وجہ سے، کھانے کے سلسلے میں بچے کی دشواریوں پر پڑوسیوں، دوستوں اور گھر کے دوسرے افراد سے بات کرتی ہے۔ اس طرح بچہ یقینی طور پر اس بات سے مزید تشفی اور اطمینان حاصل کرتا ہے کہ گھر کے اندر وہی ایک فرد ہے جس کے متعلق سب سے زیادہ گفتگو کی جاتی ہے۔‘‘ (ص: ۵۷، ۵۸)
بہرحال، بچے کے اندر پیدا ہونے والی یہ کیفیات اسے غیر سماجی فرد بنانے کا کام کرتی ہیں، ان سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
مجھے کس جرم کی سزا ملی ہے؟؟
ہو سکتا ہے بچہ بہت سے ایسے کام کر گزرے جنھیں والدین مناسب نہیں سمجھتے ہیں، لیکن کیا بچے کا ہر وہ کام جسے ہم غلطی تصور کرتے ہیں، علاج طلب ہوتا ہے؟ اور اگر ہوتا ہے تو کیا سزا طلب بھی ہوتا ہے؟
کیا ہر غلطی کا علاج ضروری ہے؟
بچے جو کام انجام دیتے ہیں ان میں سے بہت سے فطری نوعیت کے ہوتے ہیں اور انھیں زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر بچے کا ’’اچھل کود‘‘ کرنا فطری ہے۔ اس لیے کہ بچہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس توانائی کو کھیل کود میں لگائے اور آپ بچے سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو کر بیٹھا رہے، یا اچھل کود سے باز رہے تو یہ بات درست نہیں ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ ہم بچے کو ایسے کھیلوں کی طرف متوجہ کریں جن میں شور شرابہ اور توڑ پھوڑ کے امکانات کم ہوں۔ اس اعتراف کے باوجود کہ بچے کے اندر توڑ پھوڑ کی رغبت و خواہش بھی موجود رہتی ہے، اور اس رغبت وخواہش کی تسکین بھی اس کے لیے ضروری ہے، اس لیے یہ معلوم ہونے کی صورت میں کہ بچہ چیزوں کو توڑتا ہے، اسے اسے کھلونے مہیا کریں جو وہ بناکر توڑے اور توڑ کر پھر بنائے، یا وہ چیزیں جن کے ٹوٹنے سے کوئی نقصان نہ ہو۔ کوشش کریں کہ اسے ٹوٹی ہوئی چیزوں کو کام میں لانا سکھائیں۔ اسے یہ بھی سکھائیں کہ بہت سی چیزیں خطرناک ہوتی ہیں جن سے بچ کر رہنا ضروری ہے اور ان کے قریب جانا یا ان سے کھیلنا نہیں چاہیے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کا کھیلنا، بعض چیزوں کو الٹنا پلٹنا اور انھیں توڑ دینا اس کی غلطی ہے، وہ بچے کی فطرت ونفسیات کو نہیں سمجھتے۔ یہ حرکتیں بچے کی فطری حرکتیں ہیں، بلکہ سکون سے بیٹھا ہوا بچہ جو جسمانی حرکات کم ہی کرتا ہو، اس کے علاج معالجے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح بچوں کی طرف سے بعض ایسی حرکتوں کا ظہور ہوتا ہے جنھیں سنگین غلطیاں تصور کیا جاتا ہے، لیکن ان پر سزا دینا درست نہیں ہے۔ مثال کے طور پر سوتے ہوئے غیر ارادی طور پر بچے کا پیشاب کر دینا۔ بعض بچے کافی بڑے ہوجانے تک نیند میں غیر ارادی طور پر پیشاب کردیتے ہیں۔ ماں یا باپ فوراً انھیں سزا دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات دوسرے بھائیوں کے درمیان اسے طعنے بھی دیتے ہیں کہ اتنا بڑا ہو گیا لیکن ابھی تک بستر پر پیشاب کر دیتا ہے۔ یہ بہت سنگین بات ہے، اس لیے کہ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس قسم کی صورت حال کے علاج میں جو چیز مفید ہوا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بچے کی رعایت کی جائے، اسے ڈانٹا ڈپٹا نہ جائے یا سزا نہ دی جائے، بلکہ اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی دی ہوئی ہدایات اور پرہیز پر عمل کیا جائے۔
کیا ہر غلطی پر سزا دی جائے؟
بچہ ایسی بہت سی غلطیاں کرتا ہے جن پر اسے سزا نہیں دی جانی چاہیے۔ اس کا اہم سبب یہ ہے کہ بچہ اپنے جذبات پر قابو پالینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر بچوں میں آپسی چشمک ہوتی ہے۔ بڑا بھائی جب یہ دیکھتا ہے کہ چھوٹے بھائی کا زیادہ خیال رکھا جارہا ہے تو اس کے اندر ایک جلن کی سی کیفیت ہوتی ہے اور وہ جھنجھلاہٹ میں اسے تکلیف پہنچانے کے کام کرتا ہے۔
ایسے حالات میں صحیح علاج یہ ہو سکتا ہے کہ بچے سے نرمی و سکون کے ساتھ بات کریں۔ اسے یہ سمجھائیں کہ اس کا چھوٹا بھائی کمزور وناتواں ہے۔ اسے محبت و شفقت کی ضرورت ہے، کیو ںکہ وہ اپنے ذاتی کام خود نہیں کر سکتا۔ نئے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ہم بچے کی ذہن سازی اس طرح شروع کر یں کہ وہ نئے بچے کا استقبال کرنے کے لیے تیار رہے، اچانک اپنے سامنے دیکھ کر حیران نہ رہ جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی نہ ہو کہ چھوٹا بچہ ہی ہماری تمام تر توجہ اپنی طرف مبذول کیے رہے، اس کے بڑے بھائی کے حق بھول ہی جائیں اور اسے وہ توجہ اور التفات نہ دیں جو اب تک اسے حاصل تھا۔
بچوں کی اصلاح میں ماضی سے اثرپذیری
والدین جو غلطیاں کثرت سے کرتے ہیں، ان میں سے ایک ماضی سے اثر پذیری ہے۔ یعنی بچوں کی غلطیوں کی اصلاح کے وقت وہ اپنے ماضی سے متاثر رہتے ہیں۔ ایک ’فلاں‘ صاحب کے قصے سے یہ بات زیادہ واضح ہو سکے گی۔ ان کی پرورش سخت نظم و ضبط کے ماحول میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ان کے ساتھ بڑی سختی سے پیش آتے تھے۔ بحث ومباحثہ انھیں پسند نہیں تھا۔ ان کے احکامات دو ٹوک ہوتے تھے۔ کوئی ان کی مخالفت نہیں کر سکتا تھا۔ یہ سخت نظم وضبط ان کے لیے تکلیف دہ امر ہوا کرتا تھا۔ وہ اس نفسیاتی گھٹن کے ماحول سے نجات پانے کی آرزو کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ انتہائی محبت ونرمی کا انداز اختیار کریں گے تاکہ جس کرب سے وہ گزرے ہیں وہ بچوں پر نہ بیتے۔ چنانچہ ان کا معمول تھا کہ اپنے بچوں کی کسی خواہش کو رد نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر بار اپنے بچوں کے دباؤ کے آگے سپر ڈال دیا کرتے تھے۔ بچوں کے ساتھ یہ لاڈ ایک طرح سے ان کے اخلاق خراب دینے جیسا تھا۔ بچوں کو ہر حال میں اپنے مطالبات منوانے کی عادت پڑ گئی۔ یہ خود ایک سنگین صورت حال تھی۔ ایسے بچے کم زور شخصیت والے بنتے ہیں۔ کسی مشکل مسئلے کا سامنا کرتے ہوئے ہار جاتے ہیں۔ یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ حد سے زیادہ لاڈ پیار بچے کے مستقبل اور اخلاق کے لیے انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔
والدین میں سے دونوں کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کی اصلاح کرتے وقت وہ اپنے ماضی کے اثرات سے محفوظ رہیں۔ بچوں کی تربیت کے دوران ماضی کے تجربات و احساسات سے اثر پذیری اسی وقت درست ہے جب کہ یہ اثر مثبت ہو۔ اس کو مزید واضح انداز میں بیان کیا جائے تو یہ کہ والدین ان نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک ہوں جو ان کے ایام طفولیت کے دوران پیش آنے والے کسی واقعے کے نتیجے میں ان کے دل میں جاگزیں ہو گئی ہوں۔ والدین ماضی کی پیچیدگیوں سے متاثر ہوں تو اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ والدین اس غلطی کی شدت کا صحیح اندازہ نہ کرسکیں جو بچے سے سرزد ہوئی ہے، اور اسی سبب سے وہ اس کا مناسب علاج نہیں کرسکیں۔ غلطی کی اصلاح و علاج کے لیے عدل وانصاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدل کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواہشات سے پاک ہو، کیوں کہ ذاتی خواہشات والدین کو ماضی کی پیچیدگیوں سے متاثر ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔ غلطیوں کے سدھار کے لیے عدل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کا مناسب علاج کیا جائے۔ مناسب کا مطلب وہ تادیب ہے، جو غلطی کے موافق ہو، یعنی نہ کم ہو کہ بچہ سزا کو ہلکے میں لے لے اور نہ زیادہ کہ بچہ اسے اپنے اوپر ظلم تصور کر لے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اور اپنے بچوں کے سلسلے میں عدل سے کام لو۔‘‘ (بخاری و مسلم عند النعمان البشیر [۱۰] صحیح الجامع)
دوسرے بچوں سے موازنہ
ممکن ہے کبھی والدین بچے کی غلطیوں کو درست کرنے کی غر ض سے اس کے رویے اور اخلاق کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرنے لگ جائیں۔ مثال کے طور پر ماں اپنے بیٹے سے کہے کہ: احمد! تمھارا بھائی افضل تو تم سے بہت اچھا ہے۔ وہ ایک کے بعد ایک اپنا تمام ہوم ورک یاد کر لیتا ہے۔ اسی لیے وہ تم سے بہت بہتر ہے۔ تم بھی اسی جیسے کیوں نہیں بنتے؟‘‘
غلطیاں سدھارنے کے لیے یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اس سے بچہ اپنے ہی بھائی کے خلاف جلن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ بچے کے اوپر یہ تاثر قائم کر دیتا ہے کہ ماں باپ اس سے زیادہ اس کے بھائی کو پیار کرتے ہیں اور اسے اس سے بہتر سمجھتے ہیں۔ بھائی سے ماں باپ کی محبت اور اسے ترجیح دینے کا خیال اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ہی بھائی سے نفرت کرنے لگتا ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اس کے خلاف سازش بھی کرنے لگ جائے۔
درست طریقہ یہ ہے کہ ہوم ورک کے سلسلے میں بچے کی حوصلہ افزائی یا کسی غلطی پر اصلاح کرنی ہو تو اس معاملے میں اس کا موازنہ کسی دوسرے بچے سے نہ کریں، بلکہ خود اسی سے اس کا موازنہ کریں۔ مثال کے طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں: ’’احمد، پہلے تم بہت اچھے تھے۔ تم ایسے اور ایسے تھے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیشہ ایسے ہی رہو، اور یہ سستی اور کاہلی چھوڑ دو۔‘‘ اس طرح ہم اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کر دیں گے، اور اس پر یہ واضح کر دیں گے کہ وہ بہت اچھی پوزیشن پر ہے، لیکن کاہلی اور سستی کرتا ہے۔ اگر کاہلی اور سستی ترک کردے تو مطلوبہ خوبیوں والا بچہ بن جائے گا۔
سزا کےانتخاب میں دہرا معیار
کبھی کبھی ماں یا باپ کسی غلطی پر بچے کو سزا دیتے ہیں۔ پھر دوسری بار اسی غلطی یا اسی جیسی کوئی غلطی سرزد ہونے پر بچے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یا کسی غلطی پر ایک بچے کو سزا دیتے ہیں، لیکن وہی حرکت یا غلطی اس کے بھائی سے ہو جائے تو اس کو اس جیسی سزا نہیں دیتے یا سرے سے سزا ہی نہیں دیتے۔
اس قسم کا دہرا طریقۂ تربیت بچے کو حیرت میں مبتلا کردیتا ہے کہ اسے پہلی جیسی غلطی کے ارتکاب پر دوبارہ سزا کیوں نہیں دی گئی اورپہلی پر کیوں دی گئی تھی؟!
یہ حرکت واقعی غلطی تھی بھی یا نہیں؟! بچہ خود حیران رہتا ہے لیکن والدین سے اس کا سبب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا۔ اس وجہ سے یہ حیرت بڑے ہونے تک بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ اسے یہ بات ظلم محسوس ہوتی ہے کہ ایک مخصوص غلطی پر اسے سزا دی گئی، لیکن اس کے بھائی کو کچھ نہیں کہا گیا۔
دوہرے معیار اختیار کرنا ایک خطرنا ک امر ہے۔ یہ چیز دل میں حیرت وقلق اور اضطراب و پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اولاد کی ہی موجودگی میں غلط اور صحیح معیار کے سلسلے میں ماں باپ کے درمیان اختلاف ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی مخصوص حرکت یا عمل پر باپ بیٹے کو سزا دیتا ہے، لیکن ماں اس سزا پر معترض ہوتی ہےاس لیے کہ اس کا دل اس حرکت یا عمل کو غلطی ماننے کے لیے رضامند نہیں ہے۔ یہ صورت حال بھی اولاد کو اضطراب وحیرت میں مبتلا کر دیتی ہے اور یہ بھی اندیشہ ہے کہ ماں باپ سے ان کا اعتماد ہی ختم ہو جائے۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ غلط اور صحیح کے معاملے میں کچھ معیارات پر متفق ہو چکے ہوں اور اس بات پر اتفاق کر چکےہوں کہ وہ اس معاملے میں کسی باہمی اختلاف کا اظہار بچوں کے سامنے نہیں کریں گے۔
سزا کے طور پر جیب خرچ نہ دینا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے کو کسی ناپسندیدہ یا غلط بات سے باز رکھنے کے لیے ایک قسم کی سزا کے طور پر اس کا جیب خرچ بند کر دیتے ہیں، حالاں کہ جیب خرچ بند کرنا نامناسب سزا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خرچ بند ہو جانے کی صورت میں وہ اخلاق سے گری ہوئی حرکت، مثلاً چوری کا سہارا لے سکتا ہے۔ بچے کے لیے جیب خرچ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بچہ اپنے جیسے بچوں کے ماحول میں رہتا ہے۔ اس کے حلقے کے تمام بچوں کے پاس مناسب جیب خرچ ہوتا ہے۔ جیب خرچ سے اس کی مطلق محرومی اپنے احباب کے درمیان اس کے اندر محرومی کا احساس پیدا کر سکتی ہے اور اس کی نفسیات پر اس محرومی کا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی جانب سے چوری کے بیش تر واقعات میں ان کی اس حرکت کا باعث حیب خرچ یا مناسب جیب خرچ سے محرومی ہی تھا۔ اسی محرومی نے اسے چوری کرنے پر آمادہ کیا تاکہ اپنے دوستوں پر یہ واضح کر سکے کہ ان کی طرح وہ بھی چیزیں خرید سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ہم نے مناسب جیب خرچ کہا ہے۔
سبب واضح کیے بغیر سزادینا
ہو سکتا ہے کہ ماں باپ میں سے کوئی اپنے بچے کو کسی بات پر سزا دے، لیکن یہ نہ بتائے کہ سزا کس غلطی پر دی گئی ہے۔ ایسی صورت میں بچہ پریشانی میں مبتلا ہو جائے گا۔ سزا کا سبب اس کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ فلاں کام غلط ہے، بلکہ اس کے فہم کے مطابق اس پر یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ فلاں کام جو اس نے کیا ہے وہ غلط کیوں ہے۔ یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ اس کام کے کیا برے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ یہ سمجھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ انجام کو سامنے رکھتے ہوئے دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بچہ ذہن و دل سے قائل ہو کر غلطی سے اجتناب کرے گا۔ لیکن والدین یہ گمان نہ کر لیں کہ بچہ دوسری بار اس غلطی یا غلط کام کو نہیں دہرائے گا۔ بالکل ایسا نہ سمجھیں۔ یہ جان لینے کے باوجود کہ فلاں کام غلط ہے، بچہ اس کو ایک سے زائد بار دہرا سکتا ہے۔ بار بار دہرانے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بچے کی اپنی کچھ خواہشات ہوتی ہیں اور یہ خواہشات اتنی طاقت ور ہوتی ہیں کہ مثال کے طور پر کسی چیز کو توڑنے، روندنے، یا چھوٹے بھائی بہنوں پر ہاتھ چلانے ، یا دوسرے بہت سے اوٹ پٹانگ اور بے تکے کام کرنے پر اسے آمادہ کرتی ہیں۔ اس کی ان تمام حرکتوں کے پیچھے اس کا تجسس اور ارد گرد کی چیزوں کو دریافت کرنے کا شوق اور خواہش ہوتی ہے۔ یہ ایک فطری چیز ہے اور ہر بچے کے اندر پائی جاتی ہے۔ وقت کےساتھ ساتھ اس میں نکھار آتا جاتا ہے۔ اس میں زیادہ کارگر نسخہ یہی ہوتا ہے کہ بڑوں اور خاص طور سے والدین کی جانب سے بچوں کو ان کے خطرناک اور نقصان دہ پہلو سمجھا دیے جائیں۔






