غلطیاں سدھارنے میں غلطیاں

طلبہ کی غلطیوں کے حوالے سے (5)

معلم اپنی اصلاح کیے بغیر طلبہ کی اصلاح کی کوشش کرے تو اس میں کامیابی کے امکانات سے زیادہ ناکامی کے اندیشے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ معلم اپنے طلبہ کے لیے نمونہ اور آئیڈیل ہوتا ہے۔ اگر وہ خود راہِ راست پر ہوگا تو اس کی کوششوں سے پروان چڑھنے والی نسل بھی راہِ راست پر ہوگی، اور اگر وہ خود کج رو ہوگا تو ٹیڑھی لکڑی کا سایہ تو ٹیڑھا ہی ہوتا ہے۔

استاذ کے لیے طالب علم بچے کی طرح ہوتا ہے۔ جیسا استاد ہوگا ویسا ہی شاگرد ہوگا۔ استاد خواہ امر و نہی کی کتنی ہی باتیں کرتا ہو، عمل باتوں کے خلاف ہو تو طلبہ اس کی باتوں سے نہیں عمل سے متاثر ہوں گے۔ اس کی باتیں کسی پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔ باتوں میں اثر پیدا کرنے کی ترکیب یہی ہے کہ پہلے خود اس کے اعضا وجوارح اس کی باتوں کو قبول کریں اور اس کا عمل اس کی باتوں کے مطابق ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں زبانِ حال زبانِ قال کی تصویر بن جائے۔

نبیﷺ سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:

” قیامت کے دن آدمی کو لایا جائے اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔اس کی انتڑیاں باہر اُبل پڑیں گی اور وہ اس طرح چکّر کاٹنے لگے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد گھومتا رہتا ہے۔ جہنمی لوگ اس کے گرد جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے: ارے فلاں! یہ کیا حال ہو گیا تمھارا؟ تم تو ہمیں بھلائی کا حکم اور برائیوں سے روکتے تھے نا؟ وہ کہے گا: میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود عمل نہیں کرتا تھا، تمھیں برائیوں سے روکتا تھا، لیکن خود کرتا تھا۔“(بخاری: ۳۰۹۴، مسلم: ۷۴۰۸)

موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اور شاگردوں کے لیے بہترین نمونے کی حیثیت سے استاذ کی جو اہمیت مسلّم ہے، اس کے پیش نظر ہی قدیم زمانے میں امرا و بادشاہ اور خاص طور پر مسلمان امرا اپنے بچوں کے لیے بہترین اساتذہ کا انتخاب کرتے تھے۔ مقرر کردہ اساتذہ کو یہ نصیحت کی جاتی تھی کہ حسن سلوک اور بچوں کے لیے بہترین نمونے کا مظاہرہ کریں۔ اس ضمن میں عقبہ بن ابی سفیان کی ایک نصیحت بھی بیان کی جاتی ہے جو انھوں نے اپنے بچوں کے اتالیق کو کی تھی:

” میرے بچوں کی اصلاح سے پہلے جو کام تمھیں کرنا ہے وہ ہے تمھاری اپنی اصلاح۔ اس لیے کہ تم ہی ان کی نگاہوں کا مرکز ہوگے۔ ان کے نزدیک اچھا وہی ہوگا جسے تم اچھا سمجھوگے اور ان کی نظر میں برائی وہی ہوگی جسے تم برا سمجھوگے۔ انھیں حکماء اور دانش مندوں کے حالات زندگی سنانا، مؤدب و مہذب لوگوں کے اخلاق سنانا، میرا حوالہ دے کر انھیں رعب میں رکھنا، میری ضرورت پڑے بغیر ان کی تادیب و اصلاح کرنا، اور ان کے لیے اس طبیب کی مانند بن کر رہنا جو اس وقت تک دوا دینے میں جلدی نہیں کرتا جب تک مرض کو نہ سمجھ لے اور میری طرف سے کسی عذر کو قبول کرنے کی امید نہ رکھنا، کیوں کہ میں تمھاری صلاحیت پر کامل بھروسا کر رہا ہوں۔“

بچہ نقل اور تقلید کے راستے سے سیکھتا ہے۔ وہ بڑوں کی نقل کرتا ہے۔ خاص طور سے ان لوگوں کی نقل کرتا ہے جن سے اسے محبت ہوتی ہے، مثلاً باپ، ماں اور معلم واساتذہ، یا اسی قسم کے بڑے بزرگ لوگ۔ دراصل انسان اور خاص طور سے بچوں پر باتوں سے زیادہ عملی رویہ اثر انداز ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو سب سے بہترین اخلاق و کردار کا مالک بنا کر بھیجا تاکہ وہ انسانیت کے لیے نمونہ بن سکیں اور ان کی عملی تقلید کا سامان کرسکیں۔ نبی محمدﷺ کی ذات کو اللہ نے ہم مسلمانوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بنایا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (الاحزاب: ۲۱)

“در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔”

استاذ کے ذکر پر واپس آتے ہیں کہ استاذ بچوں کو کچھ کرنے کو کہے، پھر خود اس کے برخلاف کرے تو بچوں کے اخلاق پر اس کے کہنے یا سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوگا، خواہ انھوں نے استاذ کی بات پر مثبت ردعمل ہی دیا۔ یہ ردعمل استاذ کےخوف کا نتیجہ ہوگا نہ کہ استاذ کی بات پر اطمینان کا اور اسی لیے جلد ہی وہ اپنی روش پر واپس آ جائیں گے۔ مثال کے طورپر معلم تفصیل ووضاحت سے سگریٹ یا تمباکو نوشی کے نقصانات بیان کرنے کے بعد بچوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کرے۔ لیکن درس ختم ہوتے ہی بچے اسی معلم کو سگریٹ پیتا ہوا دیکھ لیں تو کچھ دیر پہلے بیان کی ہوئی اس کی سب باتیں ہوا ہو جائیں گی۔ بچے سگریٹ نوشی نہ کرنے کی افادیت کے قائل نہیں ہو پائیں گے، کیوںکہ انھوں نے اپنے اسی اسوے کو سگریٹ نوشی کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے جو انھیں اس سے دور رہنے کی نصیحت کر رہا تھا۔

معلم شفیق و نیک صفت ہوتا ہے تو بچے اس کی نیکی وشفقت سے مستفید ہوتے ہیں اور اس کے جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح سچ بولنے والا استاد اپنے شاگردوں کو سچ بولنے کا خوگر بناتا ہے۔ امانت دار استاد زبان سے زیادہ خود اپنے عمل سے بچوں کو امانت دار بننے کی تلقین کرتا ہے۔ اچھے اخلاق کا نمونہ پیش کرنے والا استاد ایک اعلیٰ اخلاق کی حامل عمدہ نسل پروان چڑھاتا ہے۔ اپنی باتوں سے پہلے وہ اپنے اخلاق کا اثر ان پر چھوڑتا ہے۔

منفی تعلیم وتربیت

معلم یا استاد کا کام محض بچوں تک علم اور معلومات منتقل کردینا نہیں ہوتا، بلکہ ان کی شخصیت سازی بھی اسی کا کام ہوتا ہے۔ اس لیے کہ طالب علم اخلاق و کردار کی تعلیم اپنے معلم سے اسی طرح لیتا ہےجس طرح وہ دوسرے علوم اس سے سیکھتا ہے۔ البتہ کچھ اساتذہ بچوں یا طلبہ کی غلطیوں کے سلسلے میں سلبی (passive) اپروچ رکھتے ہیں۔ بچوں کے اندر غلطیاں دیکھتے ہیں تو ان پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے اور نہ انھیں درست کرنے کی کوئی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمارا کام اخلاقی مشن چلانا نہیں ہے۔ ہمارا مشن اولین درجے میں تعلیم دینا ہے۔ ان کے بہ قول بچوں کے اخلاق و کردار کی ذمے داری گھر اور خاندان کی ہے، معلم کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ان غلطیوں کو درست کرتا پھرے۔

یہ دعوی مطلق طور پر غلط ہے۔ بچے کی تربیت و اخلاق سازی میں گھر کا بھی کردار ہے اور اسی طرح مدرسہ و اساتذہ کا بھی کردار ہے۔ پھر یہ کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہے کہ اخلاقی تربیت اور تعلیم و آگہی کے عمل کو الگ الگ کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر طالب علم کا اپنے استاذ کی بات غور سے سننا، طلبہ کا (اسکول کے اندر)  باہم ایک دوسرے کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنا اور اپنے اساتذہ کے ساتھ بھی سلیقے سے پیش آنا یا اسی طرح کے بہت سے رویے اخلاقی رویوں میں ہی شمار کیے جاتے ہیں، حالاں کہ وہ تعلیمی عمل کا حصہ ہوتے ہیں اور تعلیم وتعلم کے دوران ان سے بے نیاز رہنا ممکن نہیں ہے۔ گویا تعلیمی اور تربیتی و اخلاقی عمل دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ان دونوں کو باہم الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جو معلم یا استاد ان دو عملی رویوں کے درمیان فرق کرے گا وہ حیرت و پریشانی سے دوچار ہوگا۔

یہ تو ایک بات ہوئی، دوسری بات یہ ہے کہ شاگرد استاد کے ذمے امانت ہوتا ہے۔ شاگرد یا طالب علم استاد کے زیرنگرانی ہوتا ہے جسے امانت کے طور پر اللہ اور معاشرے نے اس کے حوالے کیا ہے۔ حدیث میں ہے:

” تم میں کا ہر شخص نگراں ہے۔ اور ہر شخص اپنے زیرنگرانی لوگوں کے سلسلے میں جواب دہ ہے۔“ (بخاری: ۶۷۱۹، مسلم: ۷۴۰۱)

آپؐ نےفرمایا:

” اللہ ہر نگراں سے اس کے زیر نگرانی لوگوں کے بارے میں سوال کرے گا کہ اس نے اس (امانت ) کی حفاظت کی یا اسے ضائع کر دیا۔“ (صحیح ابن حبان: ۴۴۹۳)

یعنی شاگرد یا طالب علم استاذ کے ذمے امانت ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے سلسلے میں اس سے سوال کرے گا۔ اگر شاگرد کے اخلاق میں کجی نظر آئے توبہترین وسائل تربیت کو بروئے کار لاتےہوئے اسے درست کرنا استاد پر واجب ہے۔ اگر امانت و ذمے داری کے طور پر یہ کام اس کی ذمے داری نہ بھی ہو تو امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور تعاون علی البر والتقویٰ کے عام فریضے کے تحت تو اس پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہی ہے۔ اللہ فرماتا ہے:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ  (آل عمران: ۱۱۰)

”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“

اللہ فرماتا ہے:

وَتَعَاوَنُواْ عَلَى الْبَرِّ وَالتَّقْوَى وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَى الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: ۲)

” جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔“

صحیح حدیث میں آیا ہے:

” تم میں سے کسی کو کوئی برائی نظر آئے تو ہاتھ سے اسے روک دے۔ ہاتھ سے ممکن نہ ہو تو زبان سے روکے۔ زبان سے ممکن نہ ہو دل میں اسے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔“(مسلم: ۱۷۵)

ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا:

” دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کس کے لیے خیر خواہی؟ آپؐ نے فرمایا: ” اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، ائمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لیے۔“(مسلم: ۱۹۴)

طالب علم کے حالات کو جانے بغیر اصلاح کی کوشش

بعض طلبہ کے ساتھ کچھ گھریلو اور خاندانی مسائل ہوتے ہیں۔ کسی نہ کسی درجے میں ان حالات کا اثر ان کی تعلیم پر پڑتا ہے۔ طلبہ کی تعلیمی غلطیوں کو سدھارتے وقت ان مسائل کو نظر انداز کرنے سے اکثر اصلاح کی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ معلم کی ذمے داری ہےکہ کسی مخصوص طالب کے بارے میں جب یہ محسوس کرے کہ وہ محنتی تو ہے، لیکن کوئی ایسی چیز ہے جو اسے تعلیم میں آگے بڑھنے سے روک رہی ہے اور بار بار تعلیم میں پیچھے رہ جانے کا سبب بن رہی ہے، تو معلم کی ذمے داری ہے کہ بچے کو بار بار ڈانٹنے، سزا دینے یا اس سے محنت کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس کی مشکل اور پریشانی کو دریافت کرنے کی کوشش کرے۔ یا کسی سماجیات یا نفسیات کے ماہر کی توجہ اس پریشانی کی جانب مبذول کرائے جو اس کا جائزہ لے اور حل نکالنے کی کوشش کرے۔ اندیشہ ہے کہ آغاز میں بچہ ایسے کسی ماہر کے ساتھ بات چیت کرنے میں جھجھک اور بے چینی محسوس کرے گا، لیکن جب اسے معلوم ہوگا کہ اس کی پریشانی کسی درجے کی ہو، اس کا حل یا اس پر قابو پا لینا ممکن اور آسان ہے تو یقینی طور پر وہ تیار ہو جائے گا۔ استاذ کواپنے طلبہ کے معاملے میں دور رس اور دور اندیش ہونا چاہیے، تاکہ اسے معلوم رہے کہ کون طالب کس مشکل یا پریشانی میں ہے، اور کون بذات خود ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ پیش آنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جائیں گے وہ ایک دوسرے سےمختلف ہوں گے۔

اساتذہ کے درمیان ہم آہنگی کی کمی

بعض طلبہ شرارتی ہوسکتے ہیں یا ہوسکتا ہے کلاس میں ہمیشہ اساتذہ کے لیے مشکلات و مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتے ہوں۔ ایسے بچوں کے ساتھ مخصوص انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ ایسے طلبہ کی غلطیاں سدھارنے کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جائے، اس پر تمام اساتذہ ہم آہنگ ہوں۔ اکثر ہوتا یہ ہے کہ ہر استاد ایسے طلبہ کی اصلاح کے لیے اپنا مخصوص طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس سے بچوں کے مسائل کا صرف وقتی حل سامنے آ پاتا ہے، کوئی بنیادی اورحتمی حل سامنے نہیں آتا۔ اس سے ان کی شخصیت میں یا سوچنے سمجھنے کے انداز یا سرگرمیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آپاتی ہے۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ ایک استاد ایسے طلبہ کو کسی طریقے سے اپنے گھنٹے میں اصول و ضوابط کی پابندی پر مجبور کر دے، لیکن ان کی شخصیت میں ایسی تبدیلی نہ لاپائے جو انھیں مثلاً محنتی طالب علم بنا دے۔ اس سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ اس استاذ کے گھنٹے میں تو اصول و ضوابط کی پابندی کریں، لیکن باقی دوسرے گھنٹوں میں نہیں کریں۔ یا مثال کے طور پر کوئی دوسرا استاذ ممکنہ طور پر اپنے مضمون میں ایسے بچوں کی اصلاح کی کوشش کرے اور انھیں اس مضمون کے مطالعہ کا سہل طریقہ بتا دے۔ اس سے ہوگا یہ کہ طلبہ اس مضمون پر تو توجہ دیں گے لیکن ان کی نظر میں دوسرے مضامین کی اس اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں رہے گی کہ سب مضامین ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اور یہ احساس نہ ہو نے کی وجہ سے وہ دوسرے مضامین میں لاپروائی کریں گے۔

ایسے طلبہ کا صحیح علاج اور حل جو بھی ہو، ضروری ہے کہ اس کو اختیار کرنے میں تمام اساتذہ کے درمیان ہم آہنگی پائی جائے، تاکہ علاج بنیادی ہو اور تمام مشکلات کو حل کرنے والا ہو۔

اساتذہ کا غصہ و اشتعال

طلبہ سے غلطیاں ہوتی ہیں تو بعض اساتذہ اپنے اعصاب پر قابو نہیں رکھ پاتے اور وہ غلطیوں پر غیر معمولی جھنجھلاہٹ اور ردعمل کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔ اس سے تعلیم و تربیت کا مقصد بری طرح مجروح ہوجاتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ استاذ کوئی نامناسب انداز اختیار کر لے، مثلاً طلبہ کی زیادہ ہی پٹائی کردے اور اس طرح اسے شدید تکلیف اور چوٹ پہنچا دے یا جھنجھلاہٹ اور جذباتیت کے عالم میں خود کو ہی نقصان پہنچا لے۔ پھر یہی چیز طلبہ کی طرف سے تمسخر اور مذاق کا سبب بن جائے اور وہ اس کی حرکتوں پر ہنسنے کا موقع پالیں، یا کوئی ایسی ناپسندیدہ صورت حال پیش آ جائے جس کا پہلے سے اندازہ نہ ہو۔ اسی طرح طلبہ کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ فلاں استاذ کو جلدی غصہ آ جاتا ہے اور اپنے اعصاب پر قابو کھو دیتا ہے تو وہ استاذ کی اس حالت سے لطف لینے کی غرض سے ہمیشہ اسے بھڑکانے کی تاک میں رہتے ہیں۔ یہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ صورت حال کسی بھی نوعیت کی ہو، اس سے بہتر طریقہ کچھ اور نہیں کہ پرسکون  اعصاب اور رویے کے ساتھ اس سے نپٹا جائے، اور ساتھ ہی مناسب اور کارگر سزا بھی اختیار کی جائے۔ پرسکون ہونے کا مطلب غلطی پر خاموش رہنا یا غیر مناسب انداز میں اسے نپٹانا نہیں ہے، بلکہ سکون و اطمینان کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کو اہمیت دی جائے۔ استاذ کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک حد تک اپنے نفس پر قابو حاصل ہو اور اس کے رویے میں توازن ہو۔ وہ یہ نہ سمجھتا ہو کہ شدید غصے اور جھنجھلاہٹ سے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اس سے تو بیش تر اوقات پیچیدگی بڑھ جائے گی اور خود استاذ بعض ایسے مسائل سے دوچار ہوجائے گا جن کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حدیث میں آیا ہے:

” طاقت ور وہ نہیں ہے جو کشتی میں پچھاڑ دے، بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔“ (بخاری: ۵۷۶۳، مسلم: ۶۵۸۶)

سزا کے طور پر صرف پٹائی کا انتخاب

سزا کے طور پرطلبہ کی پٹائی یا کسی بھی بچے کی پٹائی تعلیمی و تربیتی حلقوں میں وسیع پیمانے پر بحت و مباحثے کا موضوع رہی ہے۔ بعض حلقے پٹائی کو سزا کے طور پر اختیار کرنے کو قطعاً ناپسند کرتے ہیں۔ بعض دوسرے لوگوں نے مخصوص حالات میں اس کے استعمال کی تائید وحمایت کی ہے۔ قطعِ نظر اس سے کہ سزا یا اصلاح کے ایک وسیلے کے طور پر اس کی افادیت ہے یا نہیں ہے، یہ قطعاً درست نہیں ہے کہ تنہا اسی کو اصلاح کا وسیلہ بنایا جائے۔ اسی طرح یہ بھی ہر گز درست نہیں ہوگا کہ اولین وسیلہ اسی کو بنایا جائے۔ یعنی اصلاح کا آغاز پٹائی سے ہی کیا جائے۔ اسلام نےاس وسیلے پر اعتماد بڑی یا سنگین غلطیوں کی اصلاح کے سلسلے میں کیا ہے، یعنی ان غلطیوں میں جنھیں “گناہِ کبیرہ” کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر شراب پینے والے کو کوڑے مارنا، پاک باز عورتوں پر تہمت لگانے والے اور غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے لگانا۔ اصلاح کا یہ وسیلہ اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب اس سے پہلے دوسرے مخصوص ومقرر وسائل اختیار کر لیے گئے ہوں۔ یعنی کوڑے لگانے کی نوبت آنے سے پہلے اللہ رب العالمین کی اطاعت وفرماں برداری کے ضمن میں سماج کی ایمانی تربیت کر لی گئی ہو۔ نماز، جو کہ فحش اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے، اسے قائم کرنے کے سلسلے میں سماج کی تربیت کی جا چکی ہو، زکوٰۃ جو کہ دلوں کی تطہیر کرتی ہے، اس کی ادائیگی کے سلسلے میں سماج کی تربیت ہوچکی ہو اور اسی طرح اسلام کے دوسرے تربیتی وسائل اختیار کیے جا چکے ہوں جو دلوں کو ایمان پر قائم رہنے اور حرام کاموں سے دور رہنے کا خوگر بناتے ہیں۔ اس کے بعد حرام کاموں کا ارتکاب کرنے کی دنیوی اور اخروی سزاؤں اور اللہ کے عقاب سے انھیں ہوشیار بھی کیا جا چکا ہو۔ انھیں یہ بھی بتایا جا چکا ہو کہ اللہ تعالی انسان کے ہر عمل و حرکت سے واقف ہے تاکہ اس کے اندر تقویٰ کی روش پیدا ہواور حرام کاموں سے باز رہے۔

حدیث میں فرمایا گیا ہے:

” سات سال کی عمر کے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو، اور دس سال کے بچے نماز نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو۔“(احمد: ۶۷۱۷، الحاکم: ۷۰۸)

گویا اسلام نے پٹائی کو سزا کے ایک طریقے کے طور پر منظوری دی ہے، لیکن دوسرے بہت سے تربیتی وسائل بھی وضع کیے ہیں جو سماج کو انحراف سے روکنے والے ہیں۔ کوئی شخص ان وسائل کو بروئے کار لانے کے بعد بھی منحرف ہو جائے تو وہ سماج کا فاسد عضو بن چکا ہے اور اصلاح و درستی کا محتاج ہے۔ مزید یہ کہ اسلام نے پٹائی کے لیے کچھ اصول و شرائط رکھی ہیں، جنھیں اسلامی فقہ میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ یہ اصول انسانیت پر اسلام کی رحمت و شفقت کے شاہد ہیں۔یہ بھی واضح رہے کہ پٹائی سزا کا ایک ایسا تادیبی وسیلہ ہے جس کا مقصد گناہ کار یا خطا کار سے انتقام لینا، اس کی توہین کرنایا بحیثیت انسان اس کے حقوق پامال کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اس کی اصلاح اور اسے انحراف سے بچانا ہے۔ استاذ کا رویہ اپنے طلبہ سے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ یعنی اصلاح و تادیب کا آغاز وہ پٹائی ہی سے نہ کرے، بلکہ پہلے طالب علم کو اس کی غلطی سے آگاہ کرے۔ اس کے اندر اعلیٰ اخلاق اور اعلی مثالی قدروں کی افزائش کرے۔ طویل عرصے تک اس سلسلے کو جاری رکھے۔ یہ کوشش ممکن ہے کہ اپنا رنگ لائے اور طالب علم راہِ راست پر آ جائے۔ ایسا اکثر وبیش تر ہوا ہے۔

اگر مذکورہ وسائل کارگر نہ ہوں تو پٹائی سے پہلے پٹائی کی دھمکی دی جائے۔ کبھی کبھی پٹائی سے زیادہ پٹائی کی دھمکی زیادہ مفید و کارگر ہوتی ہے۔ پٹائی بھی وہی درست ہوسکتی ہے جو اصلاح کے لیے مفید ہو نہ کہ وہ جس سے بچہ اور زیادہ ڈھیٹ اور ضدی ہو جائے۔

جس استاذ کے پاس تربیت کا ایک ہی وسیلہ ہوتا ہے یعنی پٹائی، وہ استاذ اپنے طلبہ کی اصلاح میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ طالب علم اگر غلطی سے باز آ بھی جائے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ اپنی غلطی کو غلطی مان لینا نہ ہو بلکہ پٹائی کا خوف ہو، اور استاذ کی غیر حاضری میں پٹائی کا خوف نہ ہو تو پہلے سے زیادہ شرارتی ہوجائے۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ طلبہ کی اصلاح کے لیے صرف پٹائی کا اسلوب اختیار کرنے والا استاذ اس وقت بے بس ہوجائے گا جب کہ بعض خارجی اسباب کی بنا پر وہ پٹائی کا طریقہ اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔ مثال کے طور پر اسکول نے سزا کے طور پر پٹائی کرنے پر پابندی عائد کر دی ہو، یا پٹائی کے لیے اسے کوئی مناسب چیز نہ مل پائے۔

طالب علم کو بار بار انتظامیہ کے سامنے حاضر کرنا

بعض اساتذہ طلبہ کے سلسلے میں مناسب کارروائی کی غرض سے انھیں انتظامیہ کے سامنے حاضر کردیتے ہیں۔ یعنی استاذ اپنی طرف سے کوئی کوشش اپنے طلبہ کی اصلاح کے سلسلے میں نہیں کرتا اور انتظامیہ کے سامنے حاضر کر دینا ہی کافی سمجھتا ہے۔ اس اسلوب میں استاذ کو اپنے لیے بڑی راحت محسوس ہوسکتی ہے، لیکن درحقیقت وہ اپنے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ طلبہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ استاذ کم زور ہے اور وہ اپنی کلاس کے اندر کی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس بنیاد پر وہ اسے مذاق کا نشانہ بنالیتے ہیں۔ یہ طریقہ مسائل حل کرنے کا غیر عملی طریقہ بھی ہے۔ اگر تمام اساتذہ ہر طالب علم کو انتظامیہ کے سامنے حاضر کرنے لگیں تو انتظامیہ کے دفتر میں تو طلبہ کا تانتا لگ جائے گا اور انتظامیہ ان کےساتھ کوئی مناسب کارروائی نہیں کر سکے گی۔ اس رویے سے بچوں کو کلاس میں زیادہ بدتمیزی کرنے کا حوصلہ ملتا ہے کیوں کہ انھیں یہ احساس ہو جاتا ہے کہ استاذ کلاس کا نظم و ضبط برقرار رکھنے میں ناکام ہے اور اس کے اندر خطا کار کو سزا دینے یا اس کو درست کرنے کے لیے صحیح قدم اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

غیر مہذب الفاظ کا استعمال

استاذ کے اندر عملی نمونہ بننے کی صفت اہمیت رکھتی ہے، تاہم بعض اساتذہ اس کا شعور نہیں رکھتے، یا اس کی طرف سے آنکھ بند کر لیتے ہیں اور شرارتی یا خطاکار طلبہ کے لیے جارحانہ اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ جو استاذ بچوں کے ساتھ بد زبانی کرتا ہے وہ اخلاق کا بھونڈا نمونہ ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔ طلبہ کے دل سے اس کا احترام ختم ہوجاتا ہے۔ ہر استاذ کو اللہ سے ڈرنا چاہیے اور ایسے الفاظ زبان سے نہ نکالنے چاہئیں۔ تادیب کے لیے مہذب الفاظ استعمال کرنے چاہئیں جو بے شمار ہیں۔ ان سے طلبہ کی دل آزاری بھی نہیں ہوگی، اور نہ ان کی عزت نفس متاثر ہوگی اور طالب علم بھی کوئی بازاری لفظ یا غیر اخلاقی حرکت نہیں سیکھے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم اس قسم کے الفاظ راہ چلتے غیرمہذب لوگوں کی زبان سے سن بھی لے تو انھیں زبان پر لانے کی ہمت نہیں کرے گا، لیکن استاذ کی زبان سے سنے گا تو اسے اپنی روز مرہ کی بول چال میں شامل کرنے میں کوئی ہچکچاہت محسوس نہیں کرے گا۔ کوئی بھی صاحب ایمان استاذ ہو، اسے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فحش گوئی اور فحش عمل سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ حدیث میں ہے:

” اللہ فحش گو اور بد زبان انسان کو ناپسند کرتا ہے۔“  (ختم شد)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

غلطیاں سدھارنے میں غلطیاں

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223