جدید ورلڈ ویو- قرآن کریم کی روشنی میں

محمد ذکی کرمانی

نیچرل اور قرآنی اقدار

بیسویں صدی فکر و سائنس کی عظیم الشان کام یابیوں سے مزین ہے۔ محض عظیم الشان نہیں بلکہ محیر العقول کام یابیوں نے انسان کے ذہن رسا کو ہمالیائی قدعطا کردیا ہے۔اس نے ترقی کی وہ منزلیں طے کی ہیں جو محض چند دہائیوں قبل اس کے خواب و خیال میں بھی نہ تھیں۔ لیکن بیسویں صدی کے نصف کے بعد یہ احساس شدت اختیار کر گیا کہ ترقی کی اس شاہراہ پر پُرجوش سفر کے دوران انسان کی نظر سے بعض اہم پہلو گم ہوگئے ہیں، ان گم کردہ پہلوؤں کا ادراک تو نیوٹن ہی کے زمانہ میں  ولیم بلیک[1] کو ہوگیا تھا جس نے inner richesکے کھوجانے کے خدشہ کا اظہار اپنی شاعری میں اس وقت ہی کردیا تھا لیکن وقت گزرتے گزرتے بیسویں صدی میں نقصان طبعی شکل میں ظاہر ہونے لگا جس کی بنیادی وجہ مذکورہ بالا رشتوں کا ادراک نہ ہونا تھا۔ اگر یہ صحیح ہے تو یہ خواہش فطری ہے کہ کوئی طریقہ دریافت کیا جائے جو ہمارے عمل کو ان ر شتوں کا پابند کردے اور انسان نقصان سے محفوظ ہوسکے۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان اس دنیا کے ساتھ دخل اندازی کے دوران کچھ قدرتی یعنی نیچرل اقدار کا حامل ہوتا ہے، جو دراصل اس کے و رلڈویو کا پراڈاکٹ ہوتی ہیں۔ ان نیچرل اقدار (natural values) کے مقابل بعض قرآنی اقدار ہیں جو نیچرل ہونے کے ساتھ تصوراتی نوعیت (conceptual values)کی بھی ہیں۔ ان کے تقابلی تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید یہ قرآنی تصوراتی اقدار ان نیچرل اقدار کے ساتھ مل کر ممکنہ خطرات سے انسانوں اور اس دنیا کو محفوظ کرسکتی ہیں۔

انسان بحیثیت خلیفہ

انسان اپنے عمل میں مکمل طور پر آزاداور بالعموم کسی کو جواب دہ نہیں ہوتا، وہ اس دنیا اور اس کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے وہ اپنے فائدے ہی کو پیش نظر رکھتا ہے اور اسے اس فائدے کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا حق ہے۔گوکہ انسان کی نیچر میں یہ شامل ہے کہ وہ دوسروں کا بھی خیال رکھے لیکن دوسروں کے فائدے کے لیے وہ اپنے حق یا فائدے کی قربانی نہیں دیتا۔ جن وسائل پر اسے اپنی قوت اور توانائی کے بل بوتے پر دسترس حاصل ہوگئی ہو وہ اسے مکمل طور پر اپنی ملکیت جانتا ہے اور یہ بھول جاتاہے کہ ان قدرتی وسائل پر دوسروں کا بھی حق ہے، اس کے برخلاف قرآن اس انسان کو بعض اوصاف کا پابند بنا کر اسے ایک خصوصی مقام یعنی خلیفہ کی حیثیت میں پیش کرتا ہے، خلیفہ اس دنیا میں خدا کا نائب ہے اور اس بنا پر اسے خدائی صفات کا حامل ہوناچاہیے یعنی محض اپنا فائدہ نہیں بلکہ دوسروں کے حقوق کو نہ صرف ادا کرنا بلکہ ان کی نگرانی اور حفاظت کرنا بھی اس کی صفت ہونا چاہیے، خلیفہ کی حیثیت میں ایک طرف اس کی نیچرل صفات مضبوط تر ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسے وہ تمام کام کرنے ہوتے ہیں جو اس دنیا کی بقا اور اس کے ارتقا کے لیے ضروری ہیں اور اس کائنات میں عدل کا نظام قائم کرنا اس کی ذمہ داری ہوجاتی ہے۔

دنیا اور آخرت

دوسری نیچرل اور تصوراتی قدر کا تعلق اس دنیا کے تصور سے ہے۔ نیچرل اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا انسان کی ہر نوع کی سرگرمیوں کی آماجگاہ ہے، اسے بہتر بنانا اور اس کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ارتقا کی بلند سے بلند تر منزلیں طے کرنا، اسے خوب صورت بنا نا اور انسانی زندگی کے لیے آرام دہ بنانے اور انسان کی ہر طرح کی تخلیقی قوتوں اور صلاحیتوں کے اظہار کی جگہ ہے۔اس دنیا میں موجود فطری توازن کو باقی رکھنا اور فساد سے محفوظ رکھنا بھی اسی کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس کے مقابلہ میں قرآن ایک تصورآخرت کا دیتا ہے جو انسان کی موت کے بعد سے تعلق رکھتا ہے۔ آخرت اسی مادّی دنیا کی سرگرمیوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہے، یہ مادّی دنیا ختم ہونے والی ہے اور اس میں ہونے والی انسانی سرگرمیاں بھی فانی ہیں البتہ آخرت اور اس کی زندگی نہ ختم ہونے والی ہے۔ مادّی دنیا میں انسانی کارگزار ی یہ فیصلہ کرے گی کہ موت کے بعد انسان کی اخروی زندگی کیسی ہوگی، ہمیشہ رہنے والی خوشیوں کی زندگی ہوگی یا مستقل دکھوں کی۔ قرآن کے نزدیک مادّی دنیا طبعی حقیقت اور اخروی دنیا تصوراتی حقیقت ہے جس کا ادراک اس دنیا میں انسان کے کردار کو متاثر کرتا ہے اور انسانی رویے زیادہ ذمہ دار اور مثبت ہوجاتے ہیں۔ دنیا اور اس کے وسائل کا استیصال کرنے کے بجائے عادلانہ استعمال اس دنیا کو خوب صورت اور انسان کے لیے زیادہ سے زیادہ آرام دہ اور سکون کا مقام بنادیتا ہے۔ بظاہر دنیا کے استعمال اور اس کے وسائل کی تلاش میں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ البتہ ان کے استیصال سے بچے رہنا، کائنات میں موجود تو ازن کو ٹوٹنے نہ دینا اور عادلانہ رویے کے ساتھ ان وسائل میں موجود آئندہ آنے والے انسانوں کے حصے اور فائدوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔[2] اور اس لیے کچھ پابندیاں انسانی سوچ کا حصہ بن جاتی ہیں۔

فرد اور اجتماعیت

تیسری اہم قدر کا تعلق فرد واحد سے ہے جس کے مقابلہ میں اجتماعیت ہے۔ انفرادیت اور اجتماعیت دونوں انتہائی ضروری اور اہم اقدار ہیں اور ان دونوں سے وابستہ مخصوص محرکات ہیں جو مخصوص رویوں کو جنم دیتے ہیں۔ انفرادی رویہ اگر اجتماعی فلاح کا خیال رکھنے میں ناکام ہوتو یہی انفرادیت خود غرضی اور خود پسندی کی شکل اختیار کرلے گی، اور اس طرح ایک انتہائی غیر مستحکم اور پریشان حال معاشرہ تعمیر ہوگا جس میں محض چند افراد یا چند خاندان وسائل پر قابض ہوں گے اور بڑی اکثریت وسائل سے محروم رہے گی، معیشت  trickledown effectکے زیر اثرترقی کرے گی، عوام کی ضروریات پوری ہوں گی لیکن پریشان حال اور بنیادی ضرورتوں سے محروم افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجہ میں انسانی نفسیات غیر معمولی رجحانوں کی آماجگاہ بن کر سوہان روح بن جائے گی۔ اس کے برخلاف اگر صرف اجتماعیت کو پیش نظر رکھا جائے گاتو لا محالہ انفرادی ارتقا  رک جائے گا اور ایک مصنوعی طور پر مستحکم معاشرہ کی شکل ابھر ے گی[3] جس کے خلاف ردّ عمل ہوگا۔ فرد کی آزادی اور اس کے حقوق کی حفاظت کیے بغیر اور اسے تمام مواقع فراہم کیے بغیر ایک مستحکم معاشرہ بن ہی نہیں سکتا۔ قرآن کو دیکھیں تو انسان کو اولاد آدم یا بنی آدم کہتا ہے جس میں فرد کو ہر اعتبار سے اہمیت دی گئی ہے اور اس کے ذاتی ارتقا پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ آدم ایک ایسے خاندان کا حصّہ بھی ہے جس کا آغاز ایک ماں باپ سے ہوا تھا۔ تمام انسان اسی ایک جوڑے کی اولاد ہیں اور اس لیے ایک فرد پر دوسروں کے حقوق بھی ہیں۔ رنگ، نسل اور زبان کا جو فرق پایا جاتا ہے قرآن اسے اﷲ کی آیات قراردیتا ہے اور اسی بناپراس فرق کو قابل احترام گردانتا ہے، قرآن تمام انسانوں کے درمیان بھائی بھائی کا رشتہ قائم کرتا ہے اور ایک فرد کی معیشت میں دوسروں کا حصہ مقرر کرتا ہے۔ قرآن اپنے متبعین کو یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی سالانہ بچت کا کم سے کم ڈھائی فیصد دوسرے ضرورت مندوں کے لیے نکالیں، اور یہ رقم کس کس پر خرچ کی جائے اس کے سلسلے میں ترجیحات بھی مقرر کرتا ہے۔

حسّی ذرائع اور وحی

حصول علم کے باب میں قرآن بار بار سمع (سننے)، بصر (مشاہدہ) اور فواد (عقل) کا حوالہ دیتا ہے[4]، اور ان کے بشمول حسّی ذرائع کو حصول علم کا ذریعہ قرار دیتا ہے، یہی ادراکی آلات(cognitive tools)آج بھی تسلیم شدہ ہیں اور ہر جدید معاشرہ نے اپنی فکری اور علمی عمارت ان ہی بنیادوں پر قائم کی ہے اور ترقی کی راہ پر سفر کیا ہے۔ سائنس کی دنیا میں اس نےscientific methodکی شکل اختیار کی ہے اور سماجی علوم میں بھی کم و بیش یہی رویہ رہا ہے البتہ جدید معاشرہ کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اس میں حصول علم کے دوسرے متبادل ذرائع قابل اعتنا نہیں رہے بلکہ بعض اوقات ان کے ذریعے حاصل شدہ نتائج کے انکار یا انھیں غیر اہم سمجھنے تک بات پہنچتی ہے۔ قرآن ان مذکورہ ادراکی آلات کو اعتبار دیتے ہوئے انھیں ایک نعمت قراردیتا ہے اور انسان کو ان پر شکر ادا کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے[5] لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وحی کے ذریعے ان آلات کا تزکیہ ضروری ہے، یعنی قرآن کے نزدیک سلامتی والا عقلی رویہ وہ ہے جس میں ادراکی آلات کے ساتھ وحی کو بھی تسلیم کیا جائے۔ وحی دراصل ہمارے ادراکی آلات کی capacity buildingکرتی ہے اور علم و دانائی کی دنیا کے ان گوشوں کو بھی منور کردیتی ہے جہاں تک ہمارے آلات کی روشنی پہنچ نہیں پاتی۔ہماری حقیقی دنیا اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کی کثیر تعداد ایسی ہے جو صرف اور صرف  ادراکی آلات کے ذریعے سمجھ میں نہیں آتے لیکن جب وحی ان آلات کا ایک حصہ بن جاتی ہے تو ہمارا حیطۂ ادراک وسعت اختیار کرلیتا ہے اور یوں نہ صرف ہماری شخصیت اور رویے بلکہ ہماری زندگی بحیثیت مجموعی زیادہ مستحکم اور معتبر بن جاتی ہے، البتہ یہ واضح رہنا چاہیے کہ وحی  وجدان یعنی الہام جیسی کوئی  ایجنسی نہیں ہے۔ الہام کا مسکن انسانی ذہن ہوتا ہے، لیکن وحی انسان کے دماغ سے خارج اور خدا کی جانب سے ہےاور یہ آخری بار آخری پیغمبر محمد رسول اﷲﷺ پر نازل ہوئی تھی جو قرآن کی شکل میں آج بھی موجود اور محفوظ ہے۔ عمومی مزاج یہ ہے کہ معتبر ترین وہی علوم ہیں جو ادراکی آلات کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں جب کہ وحی ایسی قدروں سے انسان کو روشناس کراتی ہے جو اس معتبر علم کے حصول اور اس کے استعمال میں انسانی رویوں کو سلامتی پر گامزن رکھتے ہیں۔

آزادی اور عبودیت

آزادی بڑی ہی گراں قدر متاع ہے جو انسان کو حاصل ہے، اس میں ہر نوع کی آزادی یعنی آزادیِٔ فکرو اظہار اور آزادیِٔ عمل شامل ہے۔ مذہب کی آزادی بھی اس کا حصہ ہے۔ جدید معاشروں میں یہ روایتوں سے آزادی کی شکل اختیا ر کرگئی ہے۔ اس آزادی کا ایک شاخسانہ یہ بھی ہے کہ بزرگی اورتقدس، انسان کی آزادانہ سوچ میں حائل نہیں ہوسکتے۔علمی دنیا میں کوئی بھی تنقید سے بالا نہیں ہے، البتہ انفرادی آزادی کے زیر اثر جونتائج اخذ کیے جائیں گے وہ معتبر جب ہی تسلیم کیے جائیں گے جب اکثریت بھی ان ہی نتائج تک پہنچی ہو، سائنس ہویا سماجی علوم اور دوسرے انسانی علوم ان کے ارتقا میں آزادی کی اس ہمہ جہت فضا نے عظیم الشان کردارادا کیا ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ ارتقا کے لیے آزاد مزاج نہیں بلکہ آزادفضا ضروری ہے۔ محض چند اداروںمیں نہیں بلکہ پورے معاشرہ میں اس نوع کی آزاد فضا ہی ہمہ گیر ارتقا کی ضمانت دے سکتی ہے۔ آزادی کا یہ ہمہ گیر تصور مغربی اقوام میں ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے، البتہ اس کے انتہائی مثبت نتائج کے ساتھ بعض اہم منفی نتائج بھی سامنے آتے ہیں جنھوں نے معاشرے کو مختلف انداز میں متاثر کیا ہے۔[6] مستحکم معاشروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ رشتوں اور مراتب کا احترام قائم ہو اور باقی رہے، اس کے نتیجہ میں علمی دنیا میں آزاد تحقیق اور اس کا معیار متاثر نہ ہوگا بلکہ معاشرہ تشنج سے محفوظ ہوکر مستحکم ہوسکے گا۔ قرآن جہاں آزادی کی ان مختلف جہتوں کی حفاظت کرتا ہے اور انھیں پروان چڑھاتا ہے، یہاں تک کہ مقدس ترین ہستیوں کے بہانے بھی انھیں پامال نہیں ہونے دیتا، وہیں ان رشتوں اور مراتب کی بقا کو خصو صی اہمیت دیتا ہے۔[7] اس سلسلے میں عبودیت کا تصور بڑی بنیادی اہمیت کا حامل ہے، اس تصور میں بندگی، شدید محبت اور عبادت کی کیفیات شامل ہیں۔ یہ تصور اس آزادی کے بظاہر خلاف نظر آتا ہے جس کی وضاحت مندرجہ بالا سطروں میں کی گئی ہے۔ لیکن حقیقت میں عبودیت کا تصور انسانی آزادی کے عمومی تصور کو ایک تہذیبی سانچے میں ڈھال کر اسے علمی میدان میں مزید بلندیاں عطا کرتے ہوئے معاشرتی سطح پر انکسار کے عنصر کو متعارف کراتا اور رشتوں اور مراتب کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ چناں چہ آزادی کے ساتھ اگر عبودیت کی قدر شامل ہوجائے تو معاشرے کو علمی و فکری ارتقا کے ساتھ مستحکم معاشرتی اقدار سے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

نفس اور تزکیہ

انسانوں کے رویے، فیصلے اور اقدامات ان کے اندرون میں واقع ایسی قوت سے تشکیل پاتے ہیں جس کی پیمائش تو ممکن نہیں لیکن انسان جس نوعیت کے فیصلے کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوت کس سطح پر سرگرم ہے۔ اس کی بلندترین سطح روح (spirit) ہے۔ اس سے نچلی سطح قلب (heart) ہے اور سب سے نچلی سطح (basal) نفس یعنی جسم کی ضروریات کا اس طرح حصول ہے جو قدروں سے متعارف نہ ہو۔یعنی نفس کے تحت انسان اپنی نیچرل ضروریات کو بالکل آزادانہ طور پر پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس میں جسمانی ضروریات بھی ہوسکتی ہیں۔حصول اقتدار کی نفسانی خواہشات بھی ہوسکتی ہیں، اور انھیں پورا کرنے کے لیے علم و دانش کا بے دریغ استعمال بھی۔ خودغرضی، بے ایمانی، جھوٹ، سچائی کو چھپانا یا اسے اچھا بنا کر پیش کرنا، کسی شئے یا نتائج کے نقصان دہ پہلوؤں کو ظاہر نہ کرنا کہ کہیں منافع کم نہ ہوجائے اس نفس ہی کے تحت ابھرتے ہیں۔ ہمارے زمانہ کی جدید اورعظیم الشان ترقیاں جن کا حجم بھی بڑا ہے اور رقبہ بھی، اکثر نفس کی انھی چیرہ دستیوں کا شاہ کار رہی ہیں، اپنی بنیاد اور مقصد کے اعتبار سے انتہائی سودمند ہونے کے باوجود اور ان کے نقصانات واضح ہوجانے کے بعد بھی ان کا استعمال اور ان کی مارکیٹنگ اس لیے جاری رہتی ہے کہ یہ بعض گروہوں اور افراد کے لیے زبردست فائدے کا باعث ہوتے ہیں۔

یہ نفس انسانی زندگی کا ایک ناقابل تنسیخ جز ہے لیکن قرآن کا تصور یہ ہے کہ اس میں منفی میلانات کے پیش نظر نفس کا تزکیہ ہوناچاہیے یعنی اسے ان محرکات سے متعارف کرایا جائے جو اسے منفی رخ اختیار کرنے میں مانع ہوسکیں۔ قرآن کی اصطلاح ’تزکیہ نفس’ کے پس منظر میں اسی بنا پر استعمال ہوتی ہے کہ نفس کو تزکیہ کے عمل سے گزار کر اسے وہ قوت عطا کی جاسکتی ہے جو جبلّی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے انسانی سرگرمیوں کے رخ کو صحت مند رکھتی اور قلب و روح کی نگرانی میں رکھتی ہے اور نفس کی نچلی ترین سطح پر گرنے سے روک سکتی ہے۔

ترقی کا جدید ماڈل اور اس کے حاصلات

جدید ورلڈویو کے اہم مشتملات کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا مختصر جائزہ لینے اور ان کے بالمقابل قرآن کے نقطۂ نظر کا تعارف کرانے اور اسی طرح جدید ورلڈ ویو سے ماخوذ حرکی نیچرل اقدار اور ان کے بالمقابل قرآنی تصوراتی اقدار کی اس مختصر وضاحت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن ان نیچرل اقدار کی صرف مخالفت نہیں کرتا بلکہ اپنے تصوراتی اقدار کوان سے اس طرح مربوط کردیتا ہے کہ ان کی اثر انگیزی تو بھر پور اندا زمیں باقی رہتی ہی ہے، مزید فائدہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نیچرل اقدار منفی رخ اختیار کرنے سے بڑی حد تک محفوظ ہوجاتی ہیں۔[8]

آیئے اب جدید ورلڈ ویو کے زیر سایہ ترقی کا جو ماڈ ل مرتب ہوا اس کے حاصلات کا ایک ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں اور یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ورلڈویو کے زیر سایہ ان اقدار سے اس ماڈل کا تعلق کس طرح قائم ہوتاہے۔ترقی کا یہ ماڈل دراصل بے دریغ ترقی کی خواہش سے عبارت ہے جس میں وسائل کا بے محابا استعمال اور ہر ضروری شئے بشمول انسان پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول کی خواہش اہم ہے۔ اس کے نتیجہ میں دنیا آج ویسی نہیں رہی جیسی پہلے تھی، مختلف سطحوں پر گہری تبدیلیاں آرہی ہیں، اب تک جو سچ تھا وہ تبدیل ہوگیا ہے، اس تبدیلی کے پیش نظر آکسفورڈ ڈکشنری میں بھی ایک نئی اصطلاحpost truth متعارف ہوئی ہے۔ ذیل میں ہم ان تبدیلیوں کا مختصر تعارف پیش کریں گے جن کے بارے میں ستانوے فیصد سائنسداں یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں خود انسان کی پیدا کردہ ہیں[9] اور انسانی سوچ اور رویے ہی ان کے ذمہ دار ہیں۔ وہ قدریں اصل ذمہ دار ہیں جنھیں آج کے انسان اور خاص طور پر اس گروہ نے اپنا رکھا ہے جو مؤثر ہے اور پالیسی سازی کرتا ہے اور ترقی کے ماڈل تیار کرنے اور اسے عمل درآمدکرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔

گلوبل ویئرڈنگ (global weirding)کی اصطلاح در اصل گلوبل وارمنگ کے مختلف اثرات کا احاطہ کرتی ہے جس میں بعض مقامات پر پہلے کے مقابلہ میں زیادہ اور بڑھی ہوئی حرارت کے جھپٹّوں (spells)کا آنا کہیں معمول سے بہت زیادہ سردی، خشک سالی، شدید تر آندھیاں اور ہواؤں کے جھکّڑ، برف باری میں شدت، بارش، پہلے سے کہیں زیادہ شدید سیلاب، جنگلوں میں شدید آگ لگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ ساتھ بعض انواع کے معدوم ہوجانے وغیرہ جیسے واقعات شامل ہیں۔ یہ سب ایسے مشاہدات ہیں جو ننگی آنکھ کو بھی نظر آجاتے ہیں۔ ہمارا کرۂ ارض اپنے معمول سے ہٹ گیا ہے اور اس میں ایک غیر ارضی پن نظر آنے لگا ہے، سائنسداں اس پر متفق ہیں کہ ہماری فضا، سمندر اور مٹی کی ساخت یعنی ان کے مشتملات میں گہری تبدیلی آچکی ہے۔ جانور معدوم ہورہے ہیں اور سرگرمیوں کے دباؤ کی بنا پر ایک ارضیاتی عہد (geological epoch)پیدا ہورہا ہے، جدید لٹریچر میں اس صورت حال کے لیے antithropoceneکی اصطلاح دی گئی ہے۔

انفرادی سطح پر دیکھیں تو آج کا انسان شدید آئسولیشن کا شکار ہے، رہائش کے نقشے بھی اس آئسولیشن کو ہوادیتے ہیں۔ مین دروازہ بند کرلینے کے بعد قریب کے دوسرے اپارٹمنٹ میں کیا ہورہا ہے نہیں معلوم۔ پرائیویسی کے نام پر اس صورت حال کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے لیکن اس کے منفی اثرات بھی واضح ہیں۔ تنہائی پسند اور خود مرکوزیت بتدریج خو د غرضی میں بدل جاتی ہے۔ یہ صورت حال ترقی یافتہ اقوام میں تو ہے ہی، ترقی پذیر ممالک میں بھی اب یہ کیفیت پیدا ہونے لگی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ روایتوں کا نہ ہونا اور مذہب سے دوری ہے۔ ترقی کے جدید ماڈل میں کم سونے کی عادتیں اور سوشل میڈیا بھی ہیجان (anxiety) یا تناو (depression)میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ زراعت کے میدان کو جدید علوم کی بنیاد پر استوار کرنے کے نتیجہ میں پیداوار میں اضافہ صرف ایک پہلو ہے، لیکن پیسٹی سائیڈز کا بڑھتا ہوا استعمال اور نائٹروجن پر مشتمل کیمیکل فرٹی لائزر کے نتیجہ میں بھی گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ مٹی کی ساخت میں نقصان دہ کیمیکل کی مقدار بھی بڑھی ہے۔ پیسٹی سائیڈز صرف کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی جو قرب و جوار میں رہتے ہیں۔ جو لوگ ان فصلوں کو استعمال کرتے ہیں یہ پیسٹی سائیڈز ان کی غداکا حصہ بن کر انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات ڈالتے ہیں۔ کیمیکل فرٹی لائزرکے مستقل استعمال کے نتیجہ میں زمین کی قوت نمو بھی متاثر ہوجاتی ہے اور بتدریج ریگستانی صفات پیدا ہونے لگتی ہیں، جہاں کسی بھی نوعیت کی زراعت ممکن نہیں رہتی۔[10]

اسی طرح جدید میڈیسن سے عوامی صحت کے لیے بڑے خطرات لاحق ہوئے ہیں، کیوں کہ جسم کے ہر حصہ کی بیماری کے لیے الگ الگ دوائیں ہیں جن کے دو درجن سے زیادہ سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں۔ ان کے علاج کے لیے الگ سے دوائیں دی جاتی ہیں اور یوں ضرورت سے زیادہ دواؤں کے استعمال (over prescription)کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق اموات کا تیسرا سب سے بڑا سبب یہ تجویز کردہ دوائیں ہی ہوتی ہیں۔[11] معلوم ہونا چاہیے کہ برطانیہ میں متوقع عمر (life expectancy) پر 2010 سے جمود طاری ہے اور یہ واضح طور پر کم ہوگئی ہے، جدید میڈیسن کے علم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کسی بیماری کے سیل کی سطح تک اثرات معلوم کرسکتی ہے اور ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک بیماری یا اس کے مریض کو دی جانے والی دوا جسم کے کس حصہ کو متاثر کرے گی۔ لیکن جسم انسانی آپس میں اتنا زیادہ گندھا ہوا ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہو پا تا کہ جسم کا زیر ہدف حصّہ مزید کہاں کہاں اور کس کس سے رشتہ رکھتا ہے۔ اس لیے ہم ان کے ضمنی اثرات کا اندازہ کر ہی نہیں سکتے۔ چناں چہ ایک بیماری کے علاج کے نتیجہ میں درجنوں مزید بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس کے برخلاف کلی نظام صحت  (holistic health system) زندگی کے تئیں ایک اپروچ کا نام ہے، یہاں جسم کے ایک حصہ کی بیماری پر توجہ دینے کے بجائے پورے سسٹم یا فرد پر توجہ دی جاتی ہے، اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ پورا انسان اپنے ماحول کے ساتھ کس طرح مربوط ہوناچاہیے۔ بالفاظ دیگر اس میں ذہن، جسم اور روح کا آپسی تعلق پیش نظر ہوتا ہے۔ چناں چہ کلی صحت دراصل ایک لائف اسٹائل ہے اور ہولسٹک دوائیں بھی اسی لائف اسٹائل سے متعلق ہیں۔ اس سسٹم کی دوائیں reduction basedپروسس سے نہیں بنتیں جیسا کہ جدید میڈیسن کا معاملہ ہے۔ بلکہ ان ادویہ کو ان جڑی بوٹیوں کی شکل میں ہی استعمال کیا جاتا ہے جو کسی خاص مرض میں فائدہ مند ثابت ہوئی ہیں۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ جدید میڈیسن کی جانچ کے لیے ہمارے پاس جدیدٹکنالوجی موجود ہے جب کہ کلی طب (holistic medicine)کے لیے  تکنیکی معاونت بالعموم دستیاب نہیں۔ جن معاشروں میں اس میڈیسن کی روایت موجود ہے انھوں نے بدقسمتی سے اس موضوع پر ریسرچ و تحقیق کم ہی کی ہے۔ مزید یہ کہ جدید میڈیسن سے چوں کہ گہرے معاشی فائدےوابستہ ہیں، اس لئےاشتہار کے زور پر یہ د وائیں اپنے انتہائی سنجیدہ نقصانات کے باوجود آج بھی حاوی ہیں۔[12]

ترقی کے اس ماڈل نے معاشرتی سطح پر بھی بڑے گہرے اثرات چھوڑے ہیں جوانسان کی جبلّی ضروریات کی تکمیل میں نظر آتے ہیں۔ معاشی ضروریات کی فراہمی ان کے وسائل کے حصول کا مسئلہ ہویا انسان کی جنسی ضروریات کی تکمیل جدید اقدار واضح طور پر مکمل آزادی کے تصور سے ہی عملی رویوں کی تشکیل کرتی ہیں۔ سوداور ظلم پر مبنی روایت ایسی ہے جس میں سود ادا کرنے والے پر کیا گزرتی ہے، سود لینے والے کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجہ میں مال دار زیادہ مال دار اور غریب غریب تر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح آزاد جنسی شہوت رانی جو انسانی جسم کی ایک حیاتیاتی ضرورت پورا کرتے ہوئے ایک ایسی فضا پیدا کردیتی ہے جس کے نتیجہ میں ایک طرف تو آبادیاں کم ہونے لگتی ہیں اور دوسری طرف ایسے افراد آبادی کا حصہ بن جاتے ہیں جنھیں اپنے بچپن میں خاندانی کفالت اور اس کی نگرانی نہیں ملی ہوتی۔ اس کے نتیجہ میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ خاندان تشکیل ہی نہ ہوں بلکہ بنے بنائے خاندان بھی شکست و ریخت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ جن معاشروں میں جدید ورلڈ ویو ہی معاشرتی اقدار کا سرچشمہ ہے وہاں کی صورت حال یہی ہے، خاندانی ذمہ داریاں بوجھ بن جاتی ہیں اور کم عمری ہی میں بچوں کو اپنی کفالت کا بوجھ سہنا پڑتا ہے۔

اسلامی ورلڈ ویو کی بنیادیں

اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جدید ماڈل کی بہترین کارکردگی اور عظیم الشان کام یابیاں جس ورلڈ ویو کے زیر سایہ وقوع پذیر ہیں وہ اس ورلڈویو کے متعدد پہلوؤں کی سچائی اور ان کی حقیقت کی طرف تو اشارہ ضرور کرتی ہیں لیکن ناکامیاں جن کی طرف مختصر اً اشارہ کیا گیا ہے یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ اس ورلڈ ویو کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ کیا ٹھیک نہیں ہے؟ اس کی ہم نے وضاحت کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج انسانیت کو ایک ایسے ورلڈ ویو اور اس سے پھوٹنے والی اقدار کے مجموعے کی شدید ضرورت ہے جو نیچرل اقدار کی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے انھیں تصوراتی اقدارکے ساتھ اس طرح مربوط کردے کہ جب یہ قدریں حرکت میں آئیں تو فساد نہ ہو اور توازن اور عدل وقسط قائم رہے اور انسان ارتقا کی نئی نئی منزلیں طے کرتا رہے۔ قرآن کریم کی فراہم کردہ اقدار ہی اس معیار پر پوری اترتی تھیں۔ اور یہی اسلامی ورلڈ ویو کی کی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

کائنات خدائے رحمان کی تخلیق ہے اور خدا خود اسے آیات کا مجموعہ اور قابل احترام قراردیتا ہے۔[13]

اسے انسان کے لیے مسخّر کردیا گیا ہے اور انسان اس میں مداخلت کرسکتا ہے۔[14]

یہ بعض ضابطوں اور قوانین کی پابند ہے اور انسان انھیں سمجھ سکتا ہے اور اس طرح یہ امتحان گاہ ہے۔

اس میں توازن ہے، اس کے تمام حصے آپس میں مربوط ہیں۔

اس میں بسنے والا انسان اﷲ کا بندہ اور احسن تقویم پر قائم ایک اخلاقی وجود ہے۔ لیکن وہ اسفل سافلین کے مقام پر بھی گرسکتا ہے۔

انسان کو سننے، دیکھنے اور سوچنے یعنی عقل کی قوت دی گئی ہے جسے استعمال کرکے وہ خوب سے خوب تر کی جستجو کرسکتا ہے۔

انسان کے اندر یہ صلاحیت پائی جاتی ہے کہ وہ ان کام یابیوں کے سلسلے کو نہ صرف دراز کرتا رہے بلکہ ان کام یابیوں کے رخ کو بھی اس طرح متعین کرے کہ انسانیت ناکامیوں سے دوچار نہ ہو۔ قرآنی قدریں ان رشتوں کا غیر شعوری طور پر ادراک کراتی ہیں جو اس کائنات کی مختلف اشیا کو آپس میں باندھے ہوئے ہیں جو انسان کو نظر نہیں آتے۔ جدید طرز فکر کے مطابق انسان غلطیوں کو بھی بار بار اور نئے نئے تجربے کرکے ٹھیک کرسکتا ہے، اس سے اصولاً انکار نہیں، لیکن شاید ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ انسانیت کو مزید تجربوں کی بھینٹ نہ چڑھا یا جائے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مشاہدہ اور تجربہ و عقل کی صحت مند فضا میں رہتے ہوئے بھی اپنے ادراکی آلات کو بے مہارنہ چھوڑیں اور ان کو تربیت کے پروسس سے گزاریں۔

قرآن جن اعتقادات کی طرف دعوت دیتا ہے وہ انسان میں پہلے سے موجود ادراکی صلاحیتوں کا تزکیہ یعنی cleansingکرتے ہیں، انھیں پنپنے کا بھرپور موقع دیتے ہیں بلکہ ان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ یہ عظیم صلاحیتیں ایسے برگ و بار لائیں جو تادیر قائم رہیں۔ ان ہی اعتقادات پر قائم ایک تہذیب بارہ سو سال کی طویل مدت تک قائم و دائم رہی جو معلوم تاریخ میں بے مثال ہے اور آج بھی محدود پیمانہ پر وہ متحرک نظر آتی ہے۔

حوالے اور حواشی:

[1] نیوٹن کا ہم عصربرطانوی انگریز شاعر  ولیم بلیک جس نے اپنی شا عری میں نیوٹنی فکر پر تنقید کی تھی۔

[2] موجودوسائل میں ہر دوسروں والی نسلوں کا حصّہ الحشر6,7: 75a

[3] کمیونزم اس کی بہترین مثال ہے جس پر قائم سوویت روس کا نظام حکومت ختم ہوچکا ہے اور اب وہاں کی معیشت سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہی ترقی کررہی ہے۔

[4] حصول علم کے باب میں سمع، بصراور فواد کا بار بار حوالہ( بنی اسرائیل 17: 36،الغاشیہ 88: 17-20)وغیرہ

[5] جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھارے کان، آنکھیں اور قلب بنائے۔ لیکن تم کتنا شکر ادا کرتے ہو۔ (الملک 67: 23)

[6] اشارہ ہے معاشرے کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا۔ ٹوٹتے خاندان، بے گھر افراد، ایسے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد جنھیں نہیں معلوم کہ ان کے باپ کون ہیں۔

[7] رشتوں اور مراتب کو قرآن بڑی اہمیت دیتا ہے۔ (حدیث، جو آدمی ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں (معار ف الحدیث، بحوالہ ترمذی)

[8] ایسے متعدد تصورات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے مثلاً توحید، خلافت، عبادت، علم، حلال و حرام، عد ل، ظلم، استصلاح۔

[9] یہ تبدیلیاں خود انسان کی پیدا کردہ ہیں۔ یعنی ان میں انسانی دخل اندازی کا رول ہے مثلاً، آگ لگنا، دہشت گردی، جنگ، بائیولوجیکل یا کیمیکل خطرات اور cyber attack وغیرہ۔

[10] دیکھیں یہ مضمون:

Excessive and Disproportionable use of chemicals causes soil contamination and Nutritional stress. www.intechopen.com.

[11] دیکھیں یہ مضمون:

Overprescription of drugs kill us in large numbers www.Pubmed.ncbi.nlm.nih.gov.  (2) Drug overdose Deaths in the US upto 30% in 2020 http://www.dec.gov.

[12] دیکھیں:

What are the Public Health Effects of Direct to consumer Drug Advertising www.ncbi.nih.gov.

[13] رحمان کی تخلیق الملک 67: 3، کائنات اﷲ کی آیت سورة الروم (30: 22)

[14] الجاثیہ www.minhaj org.13: 45

اگست 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau