نقد و تبصرہ

اسامہ شعیب علیگ

اسلام کے عائلی قوانین

مصنف:          مولانا سید احمد عروج قادری

ناشر:     مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

سنہ اشاعت:  ۲۰۱۵ء  l  صفحات:   ۲۸۰            l قیمت:    ۱۴۰ روپے

مولانا سید احمد عروج قادریؒ (۱۹۱۳- ۱۹۸۶ء)نے اسلامیات کے مختلف موضوعات، مثلاً قرآنیات، حدیث، فقہ، سیرت نبوی، تذکرہ و سوانح، دعوت، تحریک اور تصوف وغیرہ پر خامہ فرسائی کی ہے۔ ان موضوعات پر ان کی مستقل تصانیف ہیں یا ان کی تحریروں کے مجموعے شائع کیے گئے ہیں۔ خاص طور سے دو میدانوں میں انہیں اختصاص حاصل تھا: ایک تصوف اور دوسرا فقہ۔ تصوف میں ان کی مستقل تصانیف ’اسلامی تصوف‘ اور ’تصوف کی تین اہم کتابیں‘ کے علاوہ ان کی منتشر تحریروں کے مجموعے ’تصوف اور اہل تصوف‘ کو علمی حلقوں میں مقبولیت ملی ہے اور ان کے متعدد ایڈیشن منظر عام پر آئے ہیں۔ اسی طرح ماہ نامہ زندگی رام پور میں قارئین کے فقہی سوالات کے جواب میں شائع ہونے والے ان کے فتاویٰ کے مجموعہ ’احکام و مسائل‘ کو بھی قبول عام حاصل ہوا ہے۔

مولانا قادریؒ ہندوستان میں مسلم عائلی قوانین کے تحفظ کی جدوجہد میں ابتدا سے شریک رہے ہیں۔ آزادیِ ملک کے بعد جب پہلا دستور بنا تو اس میں ’یکساں سول کوڈ‘ کے نفاذ کی بات شامل کردی گئی، ملکی عدالتوں سے مسلمانوں کے معاملات میں ایسے فیصلے آنے لگے جو اسلامی تعلیمات و قوانین کے سراسر خلاف تھے، حکومتی سطح سے یکساں سول کوڈ کے حق میں فضا ہموار کی جانے لگی اور ہندو شدت پسندوں کی جانب سے مسلم پرسنل کو ختم کرنے کی آواز بلند ہونے لگی۔ ایسے تمام مواقع پر مولانا نے پرزور انداز میں مسلم پرسنل لا کا دفاع کیا۔ پھر جب مسلمانانِ ہند کے تمام مکاتبِ فکر کی بھرپور تائید سے بمبئی میں ۲۷،۲۸؍ دسمبر ۱۹۷۲ء کو تاریخ ساز کنونشن منعقد ہوا، جس کے بعد مارچ ۱۹۷۳ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا تو اس تحریک میں بھی مولانا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کے حق میں فضا ہموار کرنے کے لیے مضامین لکھے، اس کی مخالفت کرنے والوں کا منہ توڑ جواب دیا، جن اسلامی عائلی قوانین کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے تھے اور انہیں وحشیانہ، ظالمانہ اور غیر منصفانہ کہا جا رہا تھا، انہیں معقول، عادلانہ اور مبنی بر رحمت ثابت کرنے کے لیے مبسوط اور مدلل مقالات تحریر کیے۔ یہ تمام تحریریں ماہ نامہ زندگی  میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں تین مواقع پر مولانا نے زندگی کے خصوصی شمارے بھی نکالے تھے: (۱) مسلم پرسنل لا نمبر، حصہ اوّل، دسمبر ۱۹۷۲ء، جنوری ۱۹۷۳ء (۲)مسلم پرسنل لا نمبر، حصہ دوم، فروری ۱۹۷۳ء (۳) طلاق نمبر، جنوری فروری ۱۹۷۴ء۔

ملک کی آزادی کو چھ دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، بلکہ بعض پہلووں سے ان میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ یکساں سول کوڈ کی تلوار اب بھی لٹکی ہوئی ہے، مسلم پرسنل لا کی مخالفت میں سرکاری اور غیر سرکاری سطحوں پر آوازیں اٹھ رہی ہیں اور نام نہاد مسلم دانش وروں کا ایک ایسا طبقہ بھی سرگرم ہے جو مسلم خواتین کی مظلومیت کی داستانیں گھڑ کر اسلامی عائلی قوانین میں اصلاح اور ترمیم چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں زیر نظر کتاب کی صورت میں مسلم پرسنل لا سے متعلق موضوعات پر مولانا قادری کی تحریروں کے مرتب ہونے سے ایک قیمتی دستاویز تیار ہوگئی ہے۔

ان مقالات کو تین ابواب کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔ باب اوّل میں وہ مقالات شامل ہیں جن میں مسلم پرسنل لا کا تعارف کرایا گیا ہے یا اس کی مخالفت کرنے والوں کے افکار و خیالات کا تعاقب کیا گیا ہے۔ ان مقالات سے ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کے تحفظ کی جدوجہد کے مراحل پر روشنی پڑتی ہے۔ باب دوم میں وہ مقالات رکھے گئے ہیں جن میں اسلام کے عائلی قوانین: نکاح، مہر، تعدد ازواج، طلاق، نفقۂ مطلقہ اور وراثت وغیرہ کی تشریح و توضیح کی گئی ہے، ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے اور ان قوانین کی معقولیت ثابت کی گئی ہے۔ باب سوم میں ایک مقالہ ہے، جس کا عنوان ہے: اجتہاد کے امکانات۔ اس میں اجتہاد کا دائرۂ کار متعین کیا گیا ہے، منصوص مسائل اور اجتہادی مسائل میں فرق واضح کیا گیا ہے اور اجتہاد کے امکانات سے بحث کی گئی ہے۔ آخر میں بہ طور خاتمہ ایک مقالہ ’قضائے شرعی کا قیام ضروری ہے‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس میں مسلمانوں کی توجہ اس جانب مبذول کی گئی ہے کہ ان کے لیے شرعی عدالتوں کا قیام اور اپنے متنازعہ مسائل میں ان کی طرف رجوع ضروری ہے۔

امید ہے ، علمی حلقو ں میں اس مجموعۂ مقالات کو قبول عام حاصل ہوگا۔

فُکُّوالعَانِی (قیدیوں کو چھڑاؤ)

مصنف:        ڈاکٹر  شاہد بدر فلاحی

ناشر:      شعورِ حق، 6&7 / 21 M- ، خلیل اللہ مسجد، بٹلہ ہائوس ، جامعہ نگر، نئی دہلی۔۲۵

سنہ اشاعت:  ۲۰۱۴ء  l  صفحات:       ۱۷۶        l قیمت:    ۹۰ روپے۔

عالمی اور ملکی دونوں سطحوں پر مسلمانوں کی پہچان ’دہشت گرد‘ کی بنا دی گئی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کے خلاف اسلام دشمن طاقتوں نے عالمی سطح پر گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ وہ اسلام پسندوں کو دبانے کچلنے اور ان کے حوصلوں کو پست کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کر رہے ہیں۔ کیوبا کا گوانتاناموبے ہو یا عراق کی ابو غریب جیل یا ہندوستان میں تہاڑ جیل، سابرمتی جیل یا دوسرے عقوبت خانے، سب اس کے گواہ ہیں۔

اس کتاب کے مصنف کو اسلام پسندی کے جرم میں ۲۰۰۱ء میں داخلِ زنداں کیاگیا، جہاں انھوں نے کئی سال گزارے۔ ایذا وتعذیب کا ہرممکن ہتھکنڈا ان پر آزمایا گیا۔ انھوں نے پسِ دیوار زنداں حالات وواقعات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور قیدیوں کی نفسیات کا خود تجربہ کیا۔ زیر نظر کتاب دراصل جیل میں ان کے تجربات و مشاہدات کا مرقع ہے، جس کے ذریعے انھوں نے باہر کی دنیا کو باخبر اور اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسیرانِ بلا کی ایک طویل فہرست ہے۔ ان میں سے بعض (مثلاً پروفیسر خورشید احمد، جناب افتخار گیلانی، مولانا عطاء الرحمٰن وجدی، جناب انعام الرحمٰن خاں، محترمہ انجم زمرد حبیب، جناب علی شاہ گیلانی وغیرہ) نے اپنی آپ بیتیاں اور ڈائریاں لکھی ہیں ، جو شائع ہوگئی ہیں۔ مصنف نے ان سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ان کےعلاوہ اخباری تراشوں اور نامہ نگاروں کی رپورٹوں کوبھی پیش نظر رکھا ہے۔

ملک میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے TADA، پھر POTA اور آخر میں UAPA کے نام سے قوانین بنائے گئے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا شکار زیادہ تر بے گناہ مسلمان اور خاص کر اسلام پسند نوجوان بنائے گئے۔ اب بھی ہزاروں نوجوان جیلوں میں بند بدترین اذیتیں جھیل رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے۔ مصنف نے اس المیہ سے پردہ اٹھانے اور قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اس کتاب میں جہاں ایک طرف یہ دکھایا گیا ہے کہ جیلوں میں مسلم قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے، انہیں کیسی کیسی جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں پہنچائی جاتی ہیں، وہیں دوسری طرف قیدیوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے بھی روشناس کیا گیا ہے اور ان تعلیمات کے زیر اثر قیدیوں کے ساتھ مسلمانوں کے حسن سلوک کی تابناک مثالیں پیش کی گئی ہیں۔

کتاب کا آخری حصہ بہت اہم ہے۔ اس میں اسیروں کو مخاطب کرکے انہیں حوصلہ دلایا گیا ہے کہ وہ سنتِ یوسفی پر عمل پیرا ہوتے ہوئےد اعیانہ اوصاف کے حامل بنیں۔ ساتھ ہی امت کے باشعور ، سنجیدہ اور فکرمند افراد کی توجہ اس جانب مبذول کی گئی ہے کہ وہ بے گناہی کے جرم میں جیلوں میں بند مسلم نوجوانوں کی خبرگیری کریں، ان کے خاندانوں کی کفالت کی فکر کریں اور ان کی رہائی کے لیے محنت اور سلیقے سے قانونی چارہ جوئی کریں۔

اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ امت کا ضمیر بیدار ہو اور اس گمبھیر سماجی مسئلہ کے حل کے لیے ممکنہ تدابیر اختیار کی جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے انتہائی جرأت کے ساتھ امت کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور اسے پیغامِ عمل دیا ہے۔(محمد رضی الاسلام ندوی)

 مشرق وسطیٰ (عرب عوامی بیداری کے بعد)

مصنف:        ڈاکٹر محمد ارشد

ناشر:     البلاغ پبلی کیشنز، N-1،ابوالفضل انکلیو،جامعہ نگر،نئی  دہلی۔۲۵

سنہ اشاعت:  ۲۰۱۳ء  l  صفحات:       ۱۵۲        l قیمت:    ۲۰۰ روپے

زیرِنظر کتاب  مختلف  اوقات میں لکھے گئے چند مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کے مؤلف ڈاکٹر محمد ارشد،شعبہ اسلامک اسٹڈیز،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔’مشرقِ وسطیٰ‘ ان کے اختصاص کا موضوع ہے۔اس کے علاوہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مسلمانوں کے حوالے سے ان کے مضامین ملک کے مشہور اخبارات و رسائل میں شائع ہوکر علمی حلقوں سے خراجِ تحسین حاصل کر چکے ہیں۔

یہ کتاب بتیس (۳۲) مقالات پر مشتمل ہے، جنہیں فاضل مصنف نے ہندوستان کے معروف و  مقبول جریدے ’عالمی سہارا‘کی فرمائش پر قلم بند کیے تھے۔قارئین نے انہیں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اورانہیں کتابی شکل میں شائع کرنے پر اصرار کیا۔ اس کتاب کا مقدمہ پدم شری پروفیسر اختر الواسع،کمشنر برائے لسانی اقلیا ت،حکومت ہند نے لکھا ہے، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ اردو میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق، خصوصاً موجودہ حالات کے حوالے سے، بہت کم معلومات دست یاب ہیں۔ امید ہے،یہ کتاب اس کمی کو بہت حد تک پورا کرے گی۔

کتاب کے اہم مشمولات  یہ ہیں:’’عرب عوامی بیداری اور مسئلہ فلسطین، اسرائیل اور فلسطین کا داخلی منظر نامہ،مسجدِ اقصی کو تقسیم کرنے کی سازش، ایران کا جوہری پروگرام ہی کیوں؟ عراق میں استعمار کی ایک نئی شکل کا تجربہ،لہولہان مصر،اسلام کے خلاف امریکہ میں نفرت انگیزی اور O.I.Cکا سربراہ اجلاس۔چیلنجز میں مواقع کی تلاش‘‘ وغیرہ۔

مصنف نے اس کتاب میں علمی انداز میں دلائل کے ساتھ ان اسباب کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے ’بہارِ عرب‘ ثمر بار ہونے سے پہلے ہی خزاں کا شکا ر ہو گئی۔ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کا امریکہ کی قیادت میں فلسطین پر غاصبانہ قبضہ،مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشیں، ایران کے جوہری پروگرام کا بہانہ بنا کر اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اسے کم زور کرنے کی کوشش، پاکستان،سعودی عرب، مصر، ایران، عراق،شام اور اردن وغیرہ کے اہم واقعات و مسائل کا تجزیہ اوران ممالک میں مغرب کی طرف سے ہونے والی دخل اندازی کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔

مؤلفِ کتاب  اپنی اس فکر کو نمایاں کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ عالمی سطح پرامریکہ کی قیادت میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل پایا ہے جس میں آزادی،  انسانی حقوق اور جمہوریت کے تمام دعوؤں کے باوجود مشرقِ وسطیٰ یا عرب دنیا کے بیشتر ممالک غلامی کے شکنجے میں ہیں اور ان کو ًبڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرر ہی ہیں۔ زبان اور اسلوبِ بیان سلیس اور آسان ہے۔ قوی امید ہے کہ یہ کتاب  اہلِ علم، طلبہ و طالبات اور حالاتِ حاضرہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مفید ثابت ہو گی۔                              (اسامہ شعیب علیگ، ریسرچ اسکالر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)

اپریل 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau