مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوریؒ

ڈاکٹر تابش مہدی

تعلیمی اَسناد کے مطابق میں ۳/جولائی ۱۹۵۱ کو اِس جہانِ فانی میں وارد ہوا ہوں۔ اب عمر کی اکسٹھ سیڑھیاں عبور کرچکا ہوں۔ اِس دوران میں بے شمار علماء ومشائخ، دینی وملی رہ نماؤں، علم وادب کے شہسواروں ، مفکروں اور دانشوروں سے ملنے ، اُنھیں نزدیک سے دیکھنے اور اُن کی صحبتوں میں بیٹھ کر سیکھنے اور خط وکتابت کے ذریعے سے ان سے استفادہ واستفاض ہ کرنے کے مواقع نصیب رہے ہیں۔ جب پیچھے مڑکر دیکھتا ہوں تو یہ سوچ کر دل شکر ومسرت سے لبریز ہوجاتا ہے کہ علم وادب اور حکمت و معرفت کے کیسے کیسے آفتاب وماہ تاب سے مجھے شرف نیاز حاصل رہا ہے۔ اگر ان میں مجھ سے ترجیحی نام دریافت کیا جائے تو میں عرض کروں گا کہ میرے نزدیک اُن میں سب سے عظیم ومحترم نام حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ وخلیفۂ اجل، اویس دوراں، مصلح الامت حضرت مولاناشاہ وصی اللہ فتح پوری رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ یہ وہی مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری ہیں، جنھیں بعض لوگ مولانا شاہ وصی اللہ الٰہ آبادی کے نام سے جانتے اور یاد کرتے ہیں۔ مجھے اس بات کا فخر واعزاز حاصل ہے کہ میں نے حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری رحمۃ اللہ علیہ کو نہ صرف دیکھا ہے، بلکہ ڈیڑھ دو برس ان کی مجلسوں میں بیٹھا ہوں، اُن کے ملفوظات سنے ہیں اور ان کی دُعائیں لی ہیں۔ آپ یقین کیجیے کہ جب بھی کسی مجلس میں حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری کا ذکر آتا ہے یا کسی کتاب میں ان کا نام نامی نگاہ سے گزرتا ہے، میرے صفحہ ، ذہن پرفراق گورکھ پوری کا یہ شعرروشن ہوجاتا ہے اور میں اپنے آپ کو ہِ ہمالہ سے بھی زیادہ بلند تصور کرنے لگتا ہوں:

آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی اے لوگو!

جب اُن کو معلوم یہ ہوگا تم نے فراق کو دیکھاہے

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے میرے کان اس وقت سے آشنا ہیں، جب میں مکتب میں بیٹھانے کے بھی قابل نہیں ہوا تھا۔ بس گھر ہی میں دعاؤں اور کلموں کے یاد کرانے کا سلسلہ چل رہا تھا۔ جد محترم حضرت میاں ثابت علی رحمۃ اللہ کے پاس علما، ائمہ مساجد اور دین پسند لوگوں کی مسلسل آمد ورفت رہتی تھی۔ میں زیادہ تر انھی کے پاس رہتا تھا۔ اِس دوران میں کسی نہ کسی کی زبان سے حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا نام سننے کو ملتا رہتاتھا۔ باتیں تو ان کے بارے میں بہت سی آتی رہتی رہی ہوں گی، لیکن میں اپنی کم عمری اور بے شعوری کی وجہ سے بس نام ہی حافظے میں محفوظ کرسکا۔ دوسری باتوں کا متحمل نہیںہوسکتا تھا۔ پھر جب میں ۱۹۶۳ئ میں گھر سے باہر نکلا، گھر کی مخصوص تربیت کی وجہ سے عصری تعلیم کا سلسلہ ترک کرکے دینی مدرسوں کا رُخ کیا، کچھ دنوں پرتاب گڑھ میں رہ کر حفظ قرآن مجید میں وقت لگایا، اس کے بعد قریبی قصبے مئو ائمہ ﴿ضلع الٰہ آباد﴾ میں داخلہ لیا تو وہاں بھی متعدد اساتذہ اور ساتھیوں کی زبانی خصوصاً استاذِ محترم مولانا فضل الرحمن فاروقی آئمی ؒ اور اپنے محسن ومشفق حضرت قاری رحمت اللہ صدیقی ؒ کی مجلسوں میں بھی حضرت شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نامی پروقار انداز سے سنا۔ اب میں عمر کی اس منزل میں آگیاتھا کہ اُن کے بارے میں جو کچھ سنوں اُسے ذہن ودل میں محفوظ بھی کرسکوں۔ اس وقت اُن کے تذکرے میں یہ بات ضرور آتی رہی ہے کہ دورانِ مجلس میں جو شخص ان کے نزدیک ہوتا ہے، اُسے وہ مارتے بھی ہیں۔ اِس بات سے شاہ صاحب کی نہایت بارعب تصویر سامنے آتی تھی۔ یہ بات بہت بعد میں ان کی مجالس میں مسلسل حاضری کے بعد مجھ پر منکشف ہوئی کہ یہ مارنامارنا نہیں تھا، بل کہ ملت اسلامیہ کی دینی واخلاقی ابتری اور معاشرے کے بگاڑ پر تاسف وفکر مندی کاایک والہانہ ومضطربانہ اظہار تھا۔

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کا شرف مجھے سب سے پہلے ۱۹۶۴ئ میں بمبئی کے کُرلا علاقے میں آگرہ روڈ پر جناب عبدالستار کے دولت کدے پر حاصل ہوا تھا۔ مجھے جناب ملا شریف احمد پرتاب گڑھی کی معیت میں حاضر ہوناتھا، شریف صاحب ریلوے ملازم تھے، انھیں ڈیوٹی سے آنے میں دیر ہوگئی تھی۔ اس لیے تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے ہمیں مجلس میں جگہ بالکل پیچھے ملی تھی۔ مجلس کے اختتام پر مصافحہ کرنے والوں کی قطار میں لگنا پڑا۔ آدھے گھنٹے سے زیادہ ہی لگے ہوں گے۔ حضرت ہر ایک کو مصافحہ کرکے نہایت ہلکی آواز میں دعائیہ کلمات سے بھی سرفراز فرمارہے تھے۔ چوں کہ میں خرد سال تھا، اِس لیے مجھے مصافحے کی سعادت سے ہم کنار کرنے کے ساتھ ساتھ سرپردستِ شفقت بھی رکھا اور دعاؤں سے بھی سرفراز فرمایا۔ اس کے دو تین دن کے بعد کرلا کے پائپ روڈ والی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد شرف نیاز حاصل ہوا۔ مسجد کے امام مولانا اختر حسین صاحب جو کہ بنگال کے رہنے والے تھے اور حضرت شاہ صاحب سے شرف ادارت بھی رکھتے تھے، میں ان کے پاس اکثر بیٹھا کرتا تھا ، انھوں نے بھیڑ چھٹ جانے کے بعد میرا ہاتھ پکڑ کرمیرا مختصر سا تعارف کرایا اور حضرت شاہ صاحب نے خفیف تبسم کے ساتھ دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔

جنوری ۱۹۶۵ میں میں نے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخلہ لیا۔ یہ مدرسہ خالص تعلیم کے لیے تھا۔ واضح طور پر دیوبندی، بریلوی یا کسی دوسری جماعت کا مدرسہ نہیں کہاجاسکتا تھا۔ کمیٹی میں ہر طبقے کے لوگ تھے، کبھی کسی کا غلبہ ہوگیا کبھی کسی کا۔ طلبہ اور اساتذہ کے سلسلے میں بھی یہی خوش گوار صورتِ حال تھی۔ ہمارے استاذِ محترم قاری اشتیاق احمد صدیقی تو اس سلسلے میں بالکل خالی الذہن تھے۔ وہاں پہنچ کر داخلے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مجھے سب سے پہلے آستانۂ وصی اللہؒ کی جستجو ہوئی ۔میں پابندی کے ساتھ صبح کی مجلس میں حاضری دینے لگا۔ اِس خوف سے کہ کم عمر بچہ سمجھ کرکوئی اٹھانہ دے، میں بائیں طرف بالکل کنارے بیٹھ جاتا اور حضرت شاہ صاحبؒ کو دیکھتا رہتا تھا۔ جب وہ معاشرے کی خرابیوں اور مسلمانوں کی بے راہ رویوں، نماز کی طرف سے بے توجہی، جماعت کے عدم اہتمام اور سماجی اور اخلاقی بگاڑ کاتذکرہ کرکے اس پر اظہار تاسف کرتے، کبھی دونوں ہتھیلیوں کو ملتے، کبھی دونوں کانوں کو زور زور سے مسلتے اور کبھی وفورِ اضطراب میں سامنے کے قریب بیٹھے ہوئے شخص کے سر کو پکڑ کر جھنجوڑتے تو ایسا لگتا کہ ان کے رگ وپے میں اصلاحِ احوال کی فکرمندی ودرد مندی کی بجلی سرایت کیے ہوئے ہے۔ سراپا اضطراب، بے چینی اور درد وسوز کی تصویر نظر آتے تھے۔ کئی بار تو ایسا ہوا کہ ان کی کیفیت دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ جس وقت ان پر یہ کیفیت طاری ہوتی تھی کسی کو ان سے آنکھیں ملانے کی تو کیا سر اٹھانے کی تاب نہیں رہتی تھی۔ اس کیفیت کو لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور فکر کے مطابق لیا ہے۔ کسی نے اسے عالم جذب سے تعبیر کیا ہے اور کسی نے وفور غضب سے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ جذب تھا تو وہ جذب نہیں تھا، جو انسان کو شریعت کی پابندیوں سے آزاد کردیتا ہے۔ بل کہ انتہائی ہوش وحواس والا جذب تھا اور اگر غضب تھا تو یہ غضب للہ تھا۔ مجلس میں ایک دوبار میںنے مدرسہ سبحانیہ کے عربی کے ایک استاذ مولانا نورالہدیٰ دربھنگویؒ کو بھی دیکھا تھا۔ اُن کو یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ میں پابندی سے وہاں حاضری دیتا ہوں۔ ایک بار عربی کے گھنٹے میں میں پہلے پہنچ گیا۔ فرمایا: تم تو خانقاہِ روشن باغ کی مجلس میں روزانہ شریک ہوتے ہو؟ میں نے عرض کیاجی! فرمایا: کبھی کبھی میں بھی چلاجاتاہوں، کسی سے ذکر نہیںکرتا ہوں۔ بڑی عظیم شخصیت ہے مولانا کی۔ مسلمانوں کے حالت زار پر ان کی اضطرابی کیفیت دیکھ کرمیری زبان پر اکثر یہ شعر رقص کرنے لگتا ہے:

شعلہا آخر زہر مویم دمید

از رگِ اندیشہ ام آتش چکید

حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ مجلس میں بیان کے وقت بالعموم حدیث وتفسیر کی مختلف کتابیں سامنے رکھتے تھے۔ دوسری کتابوں میں فارسی کی گلستاں وبوستاں کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ کبھی ان میں سے کوئی بات بیان فرماتے اور کبھی زبانی طورپرکبھی مجلس میں بالکل خاموشی رہتی۔ میں ایک معمولی طالب علم تھا۔ فہم کا بھی فقدان تھا۔ مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ جو کچھ فرمارہے ہیں میری فلاںفلاں عملی خامیوں، نمازِ باجماعت کے عدم اہتمام یادرسی کوتاہی کو سامنے رکھ کر فرمارہے ہیں۔ میں اِس احساس سے بالکل لرز اٹھتا تھا۔ یہ عجیب بات تھی کہ خود حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کو بار ہا یہ فرماتے سنا کہ ’مجھے کیامعلوم کہ کون کیسا ہے اور کس کے دل میں کیا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کسی مخصوص حالات، کیفیات اور اعمال کے مطابق زبان سے کوئی بات کہلوادیتا ہے۔ اسے کچھ اور نہ سمجھا جائے، مجالس میں مکارمِ اخلاق، صدق بیانی، امانت ودیانت ، ایفاے عہد اور حسن ظن کے مضامین پر زیادہ زور دیاجاتا تھا۔ ایک مجلس کا بیان مجھے من وعن یاد ہے۔ غالباً بعض سوانح نگاروں نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ فرمایا:

’’ میرے وطن ﴿فتح پور تال نرجا ضلع اعظم گڑھ﴾ میں ایک مولوی صاحب تشریف لائے، مجلس میں بیٹھنے کی اجازت چاہی، میں نے اجازت دی اور کہاکہ خاموش بیٹھیے گا، کسی بات پر اعتراض مت کیجیے گا۔ اس لیے کہ مجھے یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ انھیں اعتراض کی عادت ہے۔ اُنھوں نے کہا ٹھیک ہے۔ خاموشی کے ساتھ مجلس میں بیٹھے رہے۔ لیکن جب رخصت ہونے لگے تو ان سے رہا نہ گیا۔ ایک اعتراض کرہی ڈالا۔ کہا کہ مولانا ! آپ قالین کی جانماز پر کیوں نماز پڑھتے ہیں؟ میں نے کہاکہ آپ سے تو یہ بات طے تھی کہ آپ کسی بات پر اعتراض نہیں کریں گے۔ آپ نے وعدہ خلافی کیوں کی؟ بولے مولانا! ایک وسوسہ دل میں تھا، سوچا چلتے چلتے اس کو ظاہر کردوں تاکہ ذہن صاف ہوجائے۔ میں نے ان سے کہا کہ مولوی صاحب! یہ بتائیے کہ ایک تو وہ شخص ہے، جس نے قالین کی یہ جا نماز لاکر کردی اور خواہش کی میں اِسی پرنماز پڑھوں اور ایک آپ ہیں کہ دیا بھی نہیں اور یہ بھی گوارانہیں ہے کہ میں اس پر بیٹھوں۔ بتائیے دونوں میں کون مخلص ہے؟ مولوی صاحب قدرے خفیف ہوئے اور کہا: ’سمجھ میں آگیا‘۔ میں نے کہا مولوی صاحب! آپ کو یہ بات تو معلوم ہوگی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیمتی چیزیں بھی استعمال فرماتے تھے، امام ابوحنیفہ اور امام محمدؒ اچھے کپڑے پہنتے تھے، امام محمدؒ فرماتے تھے کہ میں زیبایش اس لیے اختیار کرتا ہوں تاکہ بیویوں اور باندیوں کی نگاہ دوسروں کی طرف نہ اٹھے۔ مولوی صاحب آپ یہ سب کیوں بھول گئے۔ آپ کو صرف اعتراض یاد رہ گیا۔ اسلام میں اعتراض تو ہے ہی نہیں۔ یہ تو منافقین کاکام ہے۔‘‘

شاہ صاحبؒ کی مجلس میں بیٹھنے ، ان کی باتیں سننے اور تربیتی کتابوں کے مطالعے سے اندازہ ہوا کہ انھیں جماعتوں، انجمن سازیوں، کمیٹیوں کی تشکیل اور پنچایتوں سے نہ صرف یہ کہ کوئی مناسبت نہیں تھی، بلکہ اِنھیں وہ اصلاح وتربیت کے لیے غیر مفید سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان چیزوں سے ذہن میں تبدیلی نہیں آتی، اللہ اور اس کے دین کی عظمت ورفعت دل میں نہیں جاگزیں ہوتی۔ فرماتے تھے اس صورت میں ساری توجہ صدارت، سکریٹری اور خازن کے عہدوں یا مجالس شوریٰ وعاملہ کی رکنیت پر ہوتی ہے۔ اپنی اصلاح وتربیت کی فکر نہیں ہوپاتی۔ فرماتے تھے آدمی اگر خلوص سے محض اللہ کی خوش نودی کے لیے کام کرے تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اس کے پاس بھیجے گا اور ان کی اصلاح وتربیت کا سامان فراہم کرے گا۔ اس لیے کہ سب کی پیشانیاں اور گردنیں تو اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہیں۔ جماعتوں، انجمنوں، کمیٹیوں اور اس قسم کے دوسرے اداروں کے افراد کی پوری توجہ اپنی اپنی جماعتوں، اداروں اور انجمنوں کی فوقیت اور بالاتری ثابت کرنے پر ہوتی ہے۔

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوریؒ انیسویں صدی کے بالکل اواخر میں اُترپردیش کے مردم خیز ضلع اعظم گڑھ کے مشرقی حصے فتح پور تال نرجا میں پیداہوئے تھے۔ اب یہ حصہ ضلع مئو میں آگیا ہے۔ حضرت مولاناؒ کے مورث اعلیٰ ملک دین دارخاں تھے۔ ان کا پہلا نام کنور سنگھ تھا۔ کنور سنگھ ۸۳۴ہجری میں شیرازِ ہند جون پور کے فرماں رواں ابراہیم شاہ شرقی کے دربار میں پہنچے، وہاں کے علماء وصلحا کا صاف ، ستھرا اور پاکیزہ ماحول دیکھا، اہل علم کی مجلسوں میں شرکت کی اور صوفیہ واہل اللہ کی صحبتیں اختیار کیں، ان سے متاثر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ ان کا نام دین دار رکھاگیا۔ یہ حضرت مولانا شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کے سولہویں بزرگ تھے۔ چوں کہ کنور سنگھ راج پوت تھے، اس لیے اُنھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے لیے ’خاں‘ کا لاحقہ پسند کیا۔

حضرت شاہ صاحبؒ کے والد محترم حافظ محمد یعقوب خاںؒ علاقے کے نہایت متدین اور متقی لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُس عہد کے مشہور بزرگ ومصلح داعی ومبلغ حضرت مولانا سید محمد امین نصیر آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے اُنھیں شرفِ ارادت حاصل تھا۔ انھوں نے دوشادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹی اور دو بیٹے تھے۔ جب کہ دوسری بیوی سے سات بیٹے پیدا ہوئے۔ حضرت شاہ صاحب دوسرے نمبر پہ تھے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ کوشش بسیار کے باوجود شاہ صاحب کی ولادت باسعادت کا سال نہیں معلوم ہوسکا۔ بس مختلف قرائن سے پتا چلتا ہے کہ انیسویں صدی عیسوی کی آخری دہائی کا نصف آخر کا سال رہا ہوگا۔

یہ بات مختلف سوانح نگار وں کے ہاں ملتی ہے کہ انبیاے کرام کی سنت کے مطابق حضرت شاہ صاحب نے بھی ابتدائ ً بکریاں چرائیں، اس کے بعد تعلیم شروع ہوئی۔ فتح پور تال نرجا سے دو تین میل کے فاصلے پر ایک بستی حمید پور ہے۔ وہیں کے ایک صاحب نسبت بزرگ حافظ ولی محمد صاحبؒ سے ناظرہ کے بغیر حفظ قرآن مجید کیا۔ یہ بھی محض حسن اتفاق ہے کہ حافظ ولی محمد صاحبؒ بھی عمر کے آخری حصے میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے وابستہ ہوگئے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے اپنی فطری سعادت مندی ، ذہانت ومستعدی اور ابتدائی عمر کے غیر معمولی احوال وانداز سے بہت جلد استاذ کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ دس بارہ برس کی عمر میں حفظ قرآنِ مجید بھی مکمل کرلیااور کچھ اُردو کی نوشت وخواندکی بھی استعداد پیدا ہوگئی۔

چونکہ حضرت شاہ صاحب کے دوسرے بھائی اور خاندان کے بھی متعدد نوجوان انگریزی تعلیم حاصل کررہے تھے ۱ور کچھ اچھے سرکاری ونیم سرکاری عہدوں اور منصبوں پر فائز تھے، اِس لیے حضرت شاہ صاحب کی ذہانت اور تعلیم سے ان کی خصوصی دل چسپی کے پیش نظر اہل خاندان کی یہی خواہش تھی کہ وہ بھی انگریزی تعلیم حاصل کریں۔ تاکہ کسی اونچے عہدہ ومنصب پر سرفراز ہوسکیں۔ لیکن ان کا اصرار عربی ومذہبی تعلیم کے لیے تھا۔ گھر میں کافی کش مکش رہی۔ اِس صورتِ حال سے حضرت شاہ صاحب بہت بے زار تھے۔ تنہائی میں جاکر روتے تھے اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ اے اللہ! یہ لوگ تیرے دین کی تعلیم میں مزاحم ہورہے ہیں۔ انھیں سمجھ عطا کر۔ میرے حال پر رحم فرما۔ مجھے دنیا میں ان کا دست نگر نہ کر، اے اللہ! اپنے فضل سے مجھے تو علم دین عطافرمااور دین کے راستے سے تو مجھے ایسی سرفرازی وسربلندی عطا کر کہ اِن پر یہ بات واضح اور منکشف ہوجائے کہ علم دین حاصل کرنے والے دنیا میں بھی سربلند وسرفراز رہتے ہیں اور آخرت میں بھی۔ آخر کار لوگوں نے شکست مان لی اور اُنھیں ان کی مرضی پہ چھوڑ دیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے عربی وفارسی کی کچھ کتابیں کانپور میں مولانا محمد عثمان صاحبؒ کی سرپرستی میں پڑھیں۔ شوال ۱۳۲۸ہجری میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔ اس وقت ان کی عمر چودہ یا پندرہ برس کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا حافظ محمد احمد ؒ﴿فرزند حضرت نانوتویؒ﴾ ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ، محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیریؒ، سید العلمائ مولانا میا ں سیداصغر حسین دیوبندیؒ، شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی دیوبندیؒ، مولانا حبیب الرحمن عثمانی دیوبندیؒ ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہویؒ، جامع المعقولات والمنقولات علامہ ابراہیم بلیاویؒ اور مفتی اعظم مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی دیوبندیؒ جیسے علم ومعرفت اور تدبر وتفقہ کے آفتاب و ماہ تاب موجود تھے۔ اِن میں کا ہر شخص علم وفضل کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہونے کے ساتھ زہد وتقویٰ ، ایثار وللہیت، خداترسی ودیانت اور محبت الٰہی واتباع سنت نبوی کاکامل نمونہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب نے ان سب سے ایک محنتی، ذہین اور علم دین کے لیے مکمل یک سو طالب علم کی حیثیت سے استفادہ کیا۔ اساتذۂ کرام اور رفقاے درس کی نگاہوں میں ان کی کیااہمیت تھی، اِس سلسلے میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ کی تحریر کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’آج سے چھپن ﴿۵۶﴾ سال پہلے ۱۳۳۱ہجری میں جب احقر نے دارالعلوم دیوبند میں کافیہ وقدوری وغیرہ کے اسباق میں داخلہ لیا تو ضلع اعظم گڑھ کے رہنے والے ایک ذہین وفطین مگر سیدھے سادے طالب علم سے ہم سبق ہونے کی حیثیت سے تعلق قائم ہوا اور دارالعلوم کے بہت سے اسباق میں ان کے ساتھ شرکت رہی، مگر دورانِ تعلیم ہی میں ان کو اصلاح اعمال کی فکر اور ذوق عبادت حق تعالیٰ نے عطا فرمایاتھا۔ طالب علمانہ شوخیاں ان کے پاس سے ہوکر نہیں گزریں، اجتماعات سے الگ تھلگ رہنے کے عادی تھے، خوش نصیبی سے دورانِ تعلیم ہی میں ان کو سیدی حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ، کی خدمت میں حاضری اور تربیت باطنی کا شرف حاصل ہوگیا۔               ﴿ماہ نامہ البلاغ ،کراچی، شوال المکرم ۱۳۸۷ھ﴾

زمانۂ طالب علمی میں شاہ صاحب کی کیفیت یہ تھی کہ اسباق کے دوران میں قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جب کبھی ترغیب وترہیب کاکوئی مضمون آجاتا، جنت ودوزخ کا ذکر ہوتا اور عذاب قبر اور قیامت کی بات آجاتی تو ان کا قلب بے حد متاثر ہوجاتا تھا۔ سبق ختم ہوجانے کے بعد درس گاہ سے چپ چاپ اپنے کمرے میں آجاتے اور ایک کنارے بیٹھ کر کافی دیر تک خاموش بیٹھے رہتے۔ ان کے دوسرے ہم کمرہ ساتھی ان کی اس روش پر خندہ زن ہوتے تھے۔ دارالعلوم دیوبند میں کھانا حاصل کرنے کے لیے لائن لگانی پڑتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب کو اس میں تضیع وقت کا احساس ہوتا تھا، چناں چہ انھوں نے پورے کھانے کی بہ جاے صرف ایک روٹی کی منظوری کرالی تھی، جس وقت بھی وہ پہنچتے تھے روٹی مل جاتی تھی، اس ایک روٹی کو وہ کبھی گڑسے کبھی نمک سے کھا کر درسی کتب بینی یا ذکر وفکر میں مشغول ہوجاتے تھے۔ پورا زمانۂ طالب علمی انھوں نے اسی طرح گزارا۔

دارالعلوم دیوبند میں شاہ صاحب ۱۳۲۸ھ سے ۱۳۳۶ھ تک رہے۔ ۱۳۳۶ میں وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد خانقاہِ تھانہ بھون سے یک سوئی کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ زمانۂ طالب علمی میں کچھ دنوں حضرت شیخ الہندؒ سے بھی وابستہ رہے ۱۹۱۰ئ میں ان کی وفات کے بعد حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے دامن گرفتہ ہوئے۔ پھر انھی کے ہوکر رہ گئے۔ طویل عرصے تک خانقاہِ تھانہ بھون میں مقیم رہے۔ خانقاہ کے اصول اور مزاج کے مطابق حصول تربیت وتزکیہ میں لگے رہے۔ قناعت ،توکل اور نسبت مع اللہ کی جو دولت اُنھیں حاصل تھی، وہ کسی اور کے ہاں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ تھانہ بھون کے قیام کے دوران میں شاہ صاحب نے اپنے مرشد کی خصوصی توجہ سے تربیت بھی حاصل کی اور ان کے علمی کا موں میں بھی تعاون فرمایا۔ حضرت تھانویؒ کتی کتب حیاۃ المسلمین اور تربیت السالک کی تسوید حضرت شاہ صاحب نے ہی فرمائی ہے۔ حضرت تھانوی کی شہرۂ آفاق تفسیر ’’بیان القرآن‘‘ کی تسہیل بھی انھی کے ذریعے سے ہوئی ہے۔ یہ مرشد تھانویؒ کے غیر معمولی علمی اعتماد کی بات ہے کہ اُنھوں نے ایک ایسے شخص سے اپنے علمی کام میں تعاون لیا، جو ابھی ابھی مدرسے کی دنیا سے نکل کر آیا ہے اور تصنیف وتالیف کی دنیا میں اس کی کوئی شناخت نہیں ہے۔ شاہ صاحب کے کسی تذکرہ نگار نے مفتی محمد شفیع دیوبندی ؒ کی کسی تحریر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک بار حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے کچھ خاص محبت وکیفیت کے ساتھ اور اپنے عام مزاج اور معمول سے ہٹ کر تحسین آمیز انداز میں مولانا شاہ وصی اللہ فتح پوری کا تذکرہ فرمایا۔ پھر ان ﴿مفتی محمد شفیع﴾ سے دریافت فرمایا: کیا آپ ان سے واقف ہیں؟ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ چونکہ مولانا شاہ وصی اللہ میرے ہم درس رہے ہیں، میں طالب علمی اور تھانہ بھون کے قیام کے زمانے سے ان سے واقف تھا، ان سے بے حد متاثر بھی تھااوراُن کی شخصیت میرے لیے قابل رشک بھی تھی، اس لیے میری زبان پربرجستہ یہ شعر آگیا:

ما و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق

اُو بہ صحرا رفت و ما در کوچہ ہا رُسوا شدیم

مفتی صاحب فرماتے ہیں : ’’میرے اس جواب پر حضرت تھانویؒ نے خاص کیفیت سے فرمایا: ’جی ہاں! یہاں کا یہی دستور ہے۔ کسی کو صحرا دیا جاتا ہے اور کسی کو سہرا دیاجاتا ہے۔ ہر ایک کو جو عطا ہو، اُسے اسی پر راضی رہنا چاہیے۔‘

جنھیں مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھنے ، ان کی مجلسوں کی رودادیں اور ان کے ملفوظات وبیانات کو پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے، انھیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تعلیم وتربیت کے سلسلے میں مولانا کا ایک مخصوص مزاج واندازاور طریقہ تھا۔ وہ اسی کے مطابق اپنے مریدین اور منتسبین کی تربیت فرماتے تھے۔ اس کے بہت واضح فوائد بھی سامنے آتے تھے۔ شاہ وصی اللہ فتح پوری مولانا کے نہایت چہیتے اور محبوب مرید تھے۔ خانقاہ کے قیام کے دوران میں مولانا نے انھیں بھی انھی مراحل سے گزارنا، جن کے لیے وہ مشہور تھے۔ شاہ صاحب کو سخت سے سخت مراحل سے گزرنا پڑا۔ لیکن شاہ صاحب نے ہر مرحلے میںکام یابی وسرخ روئی حاصل کی۔ ایک بار عید کا موقع تھا۔ مولانا تھانویؒ نے اُن سے فرمایا: ’’آپ کہیں نہیں جائیں گے۔ آپ کے لیے یہیں کھانا آئے گا۔ شاہ صاحب نے کہا بہتر ہے۔ لیکن تھوڑی دیر میں خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ تشریف لائے۔ قریب ہی کسی ڈپٹی صاحب کے ہاں جانے کی بات کی اور وہاں کھانے پینے کا تذکرہ کیا۔ شاہ صاحب جانے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ فرمایا: حضرت نے روکا ہے، مجھے یہیں رہنا ہے۔ خواجہ صاحب نے فرمایا: حضرت کے آنے میں ابھی دیر ہے، ہم اس سے بہت پہلے لوٹ آئیں گے۔ چناںچہ شاہ صاحب خواجہ صاحب کی باتوں میں آکر ان کے ہم راہ چلے گئے۔ لیکن ابھی وہ گئے ہی تھے کہ حضرت تھانوی خود طباق میں کھانا لے کر آگئے۔ دیکھا وہ موجود نہیںہیں، لیکن اِسی دوران میں شاہ صاحب بھی واپس آگئے۔ حضرت تھانویؒ نے دریافت فرمایا: کہاں گئے تھے؟ اُنھوں نے کہا: حضرت میں خواجہ صاحب کے ہم راہ چلا گیاتھا۔ حضرت تھانویؒ نے فرمایا: جب میں نے منع کیا تھا کہ کہیں مت جانا تو کیوں گئے؟ انھوں نے معذرت چاہی ، حضرت تھانوی خاموشی سے کھانا رکھ کر چلے گئے۔ بس وہ کھانا شاہ صاحب کے لیے زہر بن گیا۔ انھوں نے کھائے بغیر اُسے رکھ دیا۔ زبان باہر نکالی، اُسے کھینچا اور یہ کہہ کر زور سے چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے کہ اِسی کی وجہ سے یہ دن دیکھنے پڑے۔ جب مرشد تھانویؒ کی طرف سے معافی کااظہار ہوا، تب انھیں سکون ہوا۔ مخدومی حضرت مولانا شاہ قمرالزماں الٰہ آبادی نے کسی موقع پر فرمایاتھا کہ ایک بار مرشد تھانوی نے کسی بات پر ناراض ہوکر اُنھیں حکم دیا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ۔ شاہ صاحب مرشد کے حکم کی تعمیل میں خانقاہ سے نکل پڑے۔ ریل کی پٹری پکڑ کر پیدل ہی دلّی کے لیے روانہ ہوگئے۔ اِدھر مرشد تھانویؒ کو فکر ہوئی تو انھوں نے تلاش شروع کی، لالٹین لیکر پورے تھانہ بھون اور مضافات کے کنوؤں میں بھی دیکھا ، کہیں نہ ملے، بے حد فکر مند رہے۔ ایک دو دن کے بعد دلّی کے ایک حکیم صاحب کا سفارشی خط لے کر واپس ہوئے تو مرشد نے اُنھیں زانو پر لٹا کر کافی دیر تک پنکھا جھلا۔ اِس واقعے کے چند دنوں بعدمرشد تھانوی نے اُنھیں اجازت بیعت وارشاد مرحمت فرمادی۔

مولانا شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ عنہ خانقاہِ تھانہ بھون کی تربیت کو ہی اپنے لیے سب کچھ سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا سید مناظر احسن گیلانیؒ نے ان سے ان کی تعلیم سے متعلق دریافت فرمایا تو تحریر فرمایا: ’محترمی! اس کے سوا میں کیا کہوں کہ میرے پاس علم وتربیت کے نام سے جو کچھ بھی ہے، وہ سب فیضان تھانہ بھون کا ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں تو بس حروف شناسی ہوئی ہے۔‘

شاہ صاحب کی پوری زندگی، صبرواستقامت اور قناعت وتوکل سے عبارت تھی۔ تقویٰ طہارت اور پاکیزگی نفس کو ان کی زندگی میں خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ قناعت وتوکل پرزیادہ زور دیتے تھے۔ ان کی زندگی میں بھی اس کے مظاہر زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انھوں نے اپنے وطن کی ساری زمین جائداد اہل خاندان کے حوالے کردی۔ اپنا کوئی حصہ نہیںلیا۔ اِس کے صلے میں اللہ تعالیٰ ان کی غیب سے ایسی مدد کی کہ علاقے کے لوگ حیرت کرتے ہیں ۔ اپنے متعلقین ومنتسبین کی بھی مسلسل مدد کرتے رہتے تھے۔ علامہ ابوالمجاہد زاہدؒ نے ایک سے زائد بار بتایا کہ ایک بار وہ اور جماعت اسلامی ہند حلقہ یوپی کے سکریٹری مولانا عبدالغفار ندویؒ محض زیارت اور کسب فیض کے لیے لکھنؤ سے ان کی خدمت میں الٰہ آباد حاضر ہوئے۔ دونوں بیٹھے ہوئے اپنے حالات سنارہے تھے اور حضرت شاہ صاحب سے ان کا جواب سن رہے تھے کہ اسی دوران میں کہیں سے رقم کی صورت میں کچھ ہدیہ آیا، شاہ صاحب نے اُسے لے کر رکھ لیا۔ اس شخص کے چلے جانے کے بعد کسی خادم کے ذریعے سے ایک شخص کو بلوایا اور وہ پوری رقم اس کے حوالے کردی اور دریافت فرمایا: ’اب تمھاری ضرورت پوری ہوجائے گی‘؟ اس نے اثبات میں سرہلایا اور سلام کرکے چلاگیا۔ چند منٹ کے بعد ڈاک کے ذریعے سے ایک رقم وصول ہوئی۔ دور کھڑے ایک شخص کو طلب فرمایا۔ وہ آیا تو پوچھا تم نے کل کتنے کی ضرورت بتائی تھی؟ اس نے کچھ بتایا، شاہ صاحب نے پوری رقم اسے دی اور فرمایا لو یہ تمھاری ضرورت سے زیادہ ہے۔ محنت سے کام کرو نماز جماعت میں کوتاہی نہ کیا کرو۔ توکل کے سلسلے میں فارسی کا یہ شعر وہ اکثر پڑھا کرتے تھے؟

تکیہ برتقویٰ ودانش در طریقت کافری ست

راہ رو گر صدر ہنر دارد تو کل بایدش

خانقاہِ تھانہ بھون سے بیعت وارشاد کی اجازت مل جانے کے بعد شاہ صاحب نے پوری عمر ملت کی اصلاح ورہ نمائی ،رشد وہدایت اور سماج یا معاشرے کے اندر سے بدعت وضلالت اور کفریہ وشرکیہ افعال واعمال کو ختم کرنے کے لیے وقف کردی۔ کچھ دنوں اپنے وطن فتح پور میں قیام فرمایا۔ وہاں نامساعد حالات دیکھے تو گورکھ پور میں قیام فرمایا۔ اس کے بعد الٰہ آباد تشریف لائے۔ الٰہ آباد سے علم وعرفان اور اصلاح وہدایت کا ایسا سلسلہ چلا کہ دنیا کے ایک بڑے حصے تک ان کا فیض پہنچ گیا۔ اس عہد کے بڑے بڑے علماء اور مشائخ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور کسب فیض کرتے تھے۔ شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ محمد احمد پھول پوریؒ ، حضرت مولاناقاری محمد طیب قاسمی ﴿مہتمم دارالعلوم دیوبند﴾، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، حضرت قاری صدیق احمدباندویؒ، حضرت مولانا ابواللیث ندویؒ ﴿امیر جماعت اسلامی ہند﴾ اور حضرت مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلویؒ کو سب سے پہلے میں نے خانقاہِ وصی اللّٰہی میں ہی دیکھا۔ جماعت اسلامی الٰہ آباد کے مرحوم رفیق جناب احمد زکریا علوی نے کلکتے کے ایک سفر کے دوران میں برسبیل تذکرہ بتایا تھاکہ محترم محمد یوسف ﴿سابق امیر جماعت اسلامی ہند﴾ نے بھی ایک بار ان کے ہم راہ روشن باغ کی خانقاہ وصی اللہ میں حاضری دی تھی۔ ان کی مجلس میں کسی مسلک یا نقطۂ نظر کے فرق وامتیاز کے بغیر ہر ایک کو رسائی وپزیرائی حاصل تھی۔

حضرت مولانا شاہ وصی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت وبزرگی اور غیر معمولی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ علامہ ابراہیم بلیاویؒ جو کہ اپنے زمانے کے جید علما میں شمار ہوتے تھے، اس عہد کے بڑے بڑے علما کو ان سے شرف تلمذ حاصل رہاہے، خود حضرت شاہ وصی اللہ نے ان کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا ہے، وہ خود شاہ صاحب کے مرید ہوئے، اور اپنی روحانی وباطنی اصلاح کے لیے انھی کو منتخب کیا۔ کسی استاذ کی اپنے شاگرد کے سامنے زانوے تربیت تہ کرنے کی مثال شاذ ونادر ہی ملے گی۔ وہ بھی علامہ ابراہیم بلیاویؒ جیسا یگانۂ عصر استاذ۔

نومبر ۱۹۶۷ میں حضرت شاہ صاحب نے سفر حج میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ لیکن انھوں نے ذہن وفکر کو منور کرنے والی جو تصانیف چھوڑی ہیں اور قرآن وحدیث کی روشنی میں تربیت وتزکیہ اور رشد وہدایت کا جو سلسلہ چلایا تھا، وہ اب بھی جاری وساری ہے۔ محترم قاری شاہ محمد مبین صاحب اور حضرت مولانا شاہ قمر الزماں الٰہ آبادی اور دوسرے بے شمار تربیت یافتگان اس کے علم براداروں میں ہیں۔ ان شائ اللہ یہ سلسلہ تادیر جاری رہے گا۔

دسمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau