عقیدۂ توحید اور وحدتِ اُمت

(4)

احراز الحسن جاوید

اسی طرح سیکولرزم محض گورنمنٹ کی عدم مداخلت یا غیر جانبداری کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ ایک تحریک ہے جو اگرچہ شروع میں مذہب کی کلیتاً مخالف نہیں تھی بلکہ اس کا اختلاف محض اس غلط مذہبیت سے تھا جس کا نام پاپائیت ہے اور اس کا منشاء محض اتنا ہی تھا کہ مذہب و سیاست کے دائرے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تاکہ سیاست کو مذہب کے بے جا دخل اندازیوں سے نجات مل جائے ۔ لیکن آگے چل کر یہ تحریک اس حد پر قناعت نہ کرسکی۔ تفریق دین و سیاست کا نتیجہ جہاں یہ ہوا کہ مذہب قوت و اقتدار سے محروم ہوکر خود اپنے اس مخصوص دائرے میں بھی مفلوج و بے جان ہوتا چلا گیا، وہاں اس کاایک دوسرا نتیجہ اس شکل میں بھی ظاہرہوا کہ سیاست نے طاقت پاکر خوب ہاتھ پائوں پھیلانے شروع کردئے یہاں تک کہ مذہب کی یہ محدود قلمرو بھی اس کی تاخت و تاراج سے محفوظ نہ رہ سکی۔ خود ہندوستان میں اگرچہ سیکولرزم کو جنم لئے ابھی کچھ زیادہ دن نہیں گزرے ہیں لیکن جو لوگ حالات پر نگاہ رکھتے ہیں وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حالات کا یہی نقشہ یہاں بھی زیر عمل ہے۔ ایک مذہبی ملک ہونے کے باوجود مذہب کی جگہ تیزی سے لامذہبیت لیتی جارہی ہے۔

دین اور سیکولرزم کی ان وسعتوں کو سامنے رکھتے ہوئے بآسانی فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ دونوں کہاں تک ایک دوسرے کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ لیکن تھوڑی دیر کے لئے ہم تسلیم کئے لیتے ہیں کہ واقعی دین میں یہ گنجائش ہے کہ انسانی زندگی کو دینی وغیر دینی دو مختلف شعبوں میں تقسیم کردیا جائے اور سیکولرزم صرف زندگی کے غیر دینی شعبے سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے دینی شعبۂ زندگی میں کوئی مداخلت نہیں کرتا اور غیر جانبدار رہتا ہے تو بھی یہ سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ آیا عملاً ایسا ممکن بھی ہے؟ دین کے مفہوم کو چاہے کتنا ہی محدود کیوں نہ کردیا جائے اگر اسے بالکلیہ ختم نہیں کردیاگیا تو زندگی کے کچھ معاملات تو اس سے متعلق ماننے ہی پڑیں گے اور اسی طرح اگر سیکولرزم یہ چاہتا ہے کہ وہ مذہب میں مداخلت نہ کرے تو اس کو اپنے اختیارات کی کوئی نہ کوئی حد بندی کرنی ہی پڑے گی‘‘۔

تو کیا عملاً یہ ممکن ہے کہ مذہب اور سیاست کے دائرۂ عمل و اختیارات کے اس طرح الگ الگ حدود قائم کئے جائیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے حدود میں دخل اندازی نہ کرسکیں؟ ہمارے نزدیک یہ قطعاً ناممکن ہے۔ یہاں کی اکثریت اب بھی کسی نہ کسی شکل میں خدا پرستی کی قائل ہے لیکن پھر بھی سیکولرزم کا یہ حال ہورہا ہے کہ نکاح وطلاق وغیرہ جیسے مسائل جو مذہب کی محدود سے محدود تعریف کے بموجب بھی خالص مذہبی معاملات ہیں آسانی کے ساتھ حکومت کے دائرے میں داخل ہوتے جارہے ہیں اور حکومت کا یہ حق یک گونہ مسلم ہوتا چلا جارہا ہے کہ وید اور قرآن وانجیل سب سے بالاتر ہوکر ایسے قوانین وضع کرے جو اس کے خیال میں ملکی استحکام و ترقی یا اس کی وحدت و یکجہتی کے لئے ضروری ہوں۔

یہ ہے حقیقت حکومت کی عدم مداخلت کی، اسی پر آپ غیر جانبداری کو بھی قیاس کرلیجیے۔ سیکولرزم کا نام ہی ہے درحقیقت عوام کی مرضی کی حکومت کا، اس لئے حکومتیں اپنی غیر جانبداری کے چاہے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کریں، یہ ممکن نہیں ہے کہ جمہور کے شخصی رجحانات حکومت کے اعمال اور سرگرمیوں پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔

پھر مولانا نے ایک اخبار کاایک مختصر سا بیان کانمونہ دیا ہے جو سیکولرزم کا بہت بڑا داعی اور مناد تھا۔ انھوں نے اخبار کا نام تو نہیں لکھا لیکن گمان غالب ہے یہ اخبار ’روزنامہ قومی آواز‘ ہوگا ۔ بیان یہ ہے:

’’اصل میں کوئی نہیں بتا سکتا کہ سیکولر حکومت کے حدود اربعہ کیا ہیں؟ اصل چیز سیکولرزم ہے اور نہ مذہبی اسٹیٹ، اصل چیز طاقت ہے، طاقت کی جو مصلحتیں ہوں گی ان کے پیش نظر خدا کانام لینا جائز بھی ہوسکتا ہے اور ناجائز بھی اور مذہب کو دھتا بھی بتائی جاسکتی ہے اور اس سے کام بھی نکالا جاسکتا ہے‘‘۔ یہ ہے سیکولرزم کی اصلیت۔

مولانا آگے لکھتے ہیں:

اس مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم اس پر ہر اس شخص کو غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو کسی دین دھرم پر یقین رکھتا ہو۔ خواہ کسی قوم سے اس کا تعلق ہو ، لیکن خصوصیت کے ساتھ ہم مسلمانوں کو اور ان میں سے بھی خاص طور پر ان لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں جن کی ذمے داریاں عنداللہ و عندالناس ہیں تو بڑی شدید لیکن بدقسمتی سے وہ اس فریب میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ بیک وقت دو ’’خداؤں‘‘ کی اطاعت ممکن ہے ۔ اس خدا کی بھی جو زمین وآسمان کا خالق ہے اور اس بنا پر وہی حقیقی اور کامل اطاعت کا مستحق ہے اور اس ’’خدا‘‘ کی بھی جسے سیکولرزم نے پیدا کیا ہے اور جو زبردستی بغیر کسی استحقاق کے اس حقیقی خدا کی جگہ پر قابض ہوتا جارہا ہے۔ یعنی وہ نظام جس کی جمہور کائنات کے حقیقی فرمانرواکی ہدایات سے بے نیاز ہوکر قانون بناتے ہیں اور خداوندی شریعت کی طرح اس کی اتباع ہر ایک پر لازم ہوتی ہے۔ (اشارات‘‘ ماہنامہ زندگی نو، اگست ۱۹۵۲ء)

سیکولرجمہوریت نے کس ’خدا‘ کو پیدا کیا ہے یہ جاننے کے لئے دیکھئے جو لین ہکسلے کی کتاب ’’مذہب بغیر الہام‘‘ اس میں یہ خدا اس طرح سامنے آتا ہے :

’’دور جدیدکا خدا خود سماج اور اس کے سیاسی اور معاشی مقاصد ہیں۔ اس خدا کا پیغمبر پارلیمنٹ ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی سے انسانوں کو باخبر کرتا ہے، اور اس کی عبادت گاہیں ، مسجد اور گرجا نہیں بلکہ ڈیم اور کارخانے ہیں‘‘۔ (علم جدید کا چیلنج، از جناب وحیدالدین خاں،صفحہ ۳۷، ڈسٹری بیوٹر ڈبائی ہندوستان پبلی کیشنز)

مولانا نے اپنی کتاب ’’بھارت کی نئی تعمیر اور ہم‘‘ میں سیکولرزم کو تمام خرابیوں کی جڑ بتایا ہے اور اس کے ساتھ قوم پرستی کو ایک خود غرضی سے تعبیر کیا ہے۔ملاحظہ کریں صفحہ ۱۹

تیسرا سبب: قومی اور وطنی اغراض و مفادات

ہر دور میں ایسے علماء موجود رہے ہیں جن کا مقصد صرف مفادات کا حصول تھا اور انھوں نے دین کو اپنے مفادات کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ بہت سی ایسی چیزوں کو اپنے اور عوام کے لئے جائز  کردیا جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا تھا یا وہ لوگوں کے لئے دین سے دوری کا سبب بن سکتی تھیں۔ اسلام اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایات پر تمام مسلمانوں کو متحد کرکے دنیا کی تعمیر کرناچاہتا ہے جس میں قومی، وطنی اغراض اور مفادات بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس ضمن میں جناب مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒ فرماتے ہیں:

’’ہمارے نزدیک آزادی صرف یہ نہیں ہے کہ ایک قوم کے افراد دوسری قوم کی غلامی سے نجات پاجائیں بلکہ اصل آزادی یہ ہے کہ ایک طرف وہ اپنے ہی جیسے انسانوں اور خود اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہوجائیں اور دوسری طرف اپنے حقیقی آقا کے غلام بن جائیں۔ اسی طرح ہمارے نزدیک مسلمانوں کا یہ مقام نہیں ہے کہ وہ دنیا کی اور قوموں کی طرح اپنے کو بھی ایک قوم فرض کرلیں اور پھر ان ہی قوموں کی طرح قومی عزت و سربلندی کی فکر میں لگ جائیں اور اس طرح دنیا کے مفسد گروہوں میں ایک مفسد گروہ کا اضافہ کریں بلکہ ان کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ وہ ایک اصولی جماعت اور پارٹی بن کر دنیا کے سامنے آئیں اور اپنے اصولوں کی عزت اور سربلندی کے لئے کوشاں ہوں جن پر ملک وقوم کی حقیقی سعادتوں کا دارومدار ہے ۔ افسوس اس حقیقت کو بھلا دیا جاتا ہے کہ اسلام کا مفاد اور مسلم قوم کا ہر طرح کا مفاد دونوں ہر حال میں ایک نہیں ہے اور جب دونوں میں مطابقت ممکن نہ ہو ایک حقیقی مسلم کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ اسلام کےمفاد کو ترجیح دے اور مسلمانوں کے جھوٹے قومی مفاد کو ترک اور نظرانداز کردے ورنہ اس کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوگا کہ اس کی اسلامی حیثیت مجروح ہوگی بلکہ اس طرز عمل کی بنا پر خود اسلام بھی بدنام ہوجائے گا اور اس کی ترقی کی راہیں مسدود ہوجائیں گی جیسا کہ فی الواقع مسلمانوں کے اس قسم کے طرز عمل سے ہندوستان میں ہورہا ہے ۔ کیونکہ قومی مفاد کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے کسی فرد یا جماعت کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ وہ عالمگیر اصولوں کی علمبردار ہے‘‘۔

’’لیکن یہ عجیب بدقسمتی ہے کہ مسلمانوں نے ایک عرصے سے اپنی حیثیت کو خلط ملط کر رکھا ہے ۔ کبھی تو وہ اصولی جماعت بن کر اپنے مسائل پر غور کرتے ہیں اور کبھی محض ایک قوم بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان دو مختلف حیثیتوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دین و دنیا دونوں میں نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اس دورخی پالیسی سے دین کا حسب مراد حاصل ہوناتو دشوار ہے ہی دنیابھی حاصل نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دنیا کی اور قوموں کی طرح ایک قوم بن جائیں اور بالکل قومی انداز میں اپنے مسائل پر غوروفکر کریں اور ان کا حل پیدا کریں۔ لیکن جس وقت وہ قومی بنیادوں پر مسائل کو سوچ رہے ہوتے ہیں یکایک انہیں درمیان میں اپنی دینی حیثیت  کا احساس ستانے لگتا ہے اور وہ اس کے لئے ہاتھ پائوں مارنے لگتے ہیں۔ اس طرح ان کا حال اس شخص کا سا ہوجاتا ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سوار ہو ۔ بہرحال اصل حیثیت مسلمانوں کی یہی ہے اور یہی ہونی چاہئے کہ وہ خالص اصولی جماعت بن جائیں جس کو قوم اور وطن وغیرہ کی غیرفطری حدبندیوں سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ بلکہ اپنے عالم گیر اصولوں کی طرح وہ عالم گیر پارٹی کی حیثیت اختیار کریں۔ قوم اور ملک کے ساتھ ایک مسلمان کو فطری حد تک ضرور تعلق ہوسکتا ہے اور اسلام ان کا منکر نہیں ہے کیونکہ وہ ایک دین فطرت ہے اور اس فطری تعلق کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کرنے میں بھی وہ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتابلکہ وہ خود ان کی ادائی کا محرک ہے لیکن ان حدود سے آگے قوم پرستی یا وطن پرستی کی یہ حد کہ وہ ان کے لئے اپنے اصولوں کو ترک کردے اور اپنے صحیح  مسلم ہونے کی حیثیت اور اس کے تقاضوں کو نظرانداز کردے۔ اسلام اس کا کسی حال میں بھی روادار نہیں ہوسکتا۔ یہ پرستاریاں خدا پرستی کے بالکل منافی ہیں اور ہمارے خیال کے مطابق یہ شیطان کی پھیلائی ہوئی لعنتوں میں سے دو بڑی لعنتیں ہیں جن میں اس وقت دنیا کی قومیں مبتلا ہیں‘‘۔ (جماعت اسلامی اور اس کاطریق کار، صفحہ ۳۶ تا ۳۹، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، اشاعت اول ۲۰۰۲ء، نیز ملاحظہ ہو ’’اشارات‘‘ زندگی ،شوال ۹۴ھ ؍نومبر ۱۹۷۴ء)

سیکولرزم اور نیشنلزم سے متعلق مولانا کے یہ فرمودات جو انھوں نے ۵۲۔۱۹۵۱ء میں ارشاد فرمائے تھے سامنے رکھ کر جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کی بات ہے۔ بھارت کی تمام سرکاریں اور حکومتیں کم از کم مسلمانوں کے سلسلے میں کبھی غیر جانبدار نہیں رہیں اور اس کا ثبوت آزادی کے بعد مسلسل ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے مسلمانوں کی نسل کشی ہے جن کے مجرمین کو کبھی کوئی سزا نہیں ملی۔ نہ جانے کتنے انکوائری کمیشن بیٹھے اور انھوں نے اپنی اپنی رپورٹوں کے ذریعے مجرمین کی نشاندہی کی مگر ان تمام رپورٹوں کو آہنی الماریوں میں قید کردیاگیا اور مجرموں کو آزادی دے دی۔ اب تک جس پارٹی (کانگریس) کی حکومت رہی اس نے خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود عمل سے اس کے خلاف ثبوت دیا اور اپنے کرموں سے سیکولرزم کو لہو لہان کرکے نیم جاں کردیا۔ رہی سہی کسر مودی سرکار نے پوری کرکے اس کی جان نکال دی۔ اب مسلمان علماء ، دانشور ان اور قائدین سیکولرزم کی ارتھی اپنے کاندھوں پر اٹھائے ستیہ ہے ستیہ ہےکے کتنے ہی نعرے لگالیں اس میں جان پڑنے والی نہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اس کی ارتھی کو شمشان گھاٹ پہنچاکر خود ہی اس کی چتا جلا دیں اور اس کا عشق اپنے دل و دماغ سے نکال دیں اب بحث کا موضوع سیکولرزم کو بنانے کے بجائے یہ ہونا چاہئے کہ بھارت کے لئے اس کے حق میں ’دین حق‘ بہتر ہے یا ہندو ازم۔ اس لئے کہ اب جارحانہ ہندتو کا راج ہے اور

دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش

تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا

اس درندگی کا برہنہ رقص فلسطین میں ہورہا ہے۔ مصر میں ہورہا ہے ۔ میانمار برما، بنگلہ دیش میں ہورہا ہے ۔ چائنا، لیبیا، یمن ،شام و عراق اور کہاں کہاں ہورہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ               ؎

آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے

کیا کسی کو پھر کسی کاامتحان مقصود ہے

ہاں یہ امتحان ہی ہے ترے ایثار کا خود داری کا، کچھ بے غیرت و بے حس عرب ممالک ساحل کے تماشائی بنے ڈوبنے والوں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ لیکن وہ جوانمرد موجوں سے لڑتے ہوئے ابھرابھر کر اپنی زندگی کا ثبوت دے رہے ہیں اور عرب ممالک جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے انتہا مال ودولت سے نوازا ہے اپنی تمام دولت شاہانہ ملوکیت اور اپنے عیش و آرام کو بچانے اور اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے میں لگائے دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں دیکھ رہا ہے اس نے رسی دراز کر رکھی ہے کہاں تک جائیں گے۔ بہت جلد ہی ان کی گرفت ہونے والی ہے۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْد۔

’’درحقیقت تمہارے رب کی گرفت بڑی سخت ہے‘‘۔

اور وہ ’’فَعّالُ لِّما یُرِیْد ہے۔

(جاری)

جولائی 2015

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau