تحریک، تنظیم اور معاون ادارے

صلاح الدین شبیر

‘تحریک اور ادارے’ ان زندہ موضوعات میں سے ایک ہے جن پر تحریک کی ہر سطح پر گفتگو ہوتی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس موضوع سے متعلق کچھ منتخب اہل نظر کی آرا کو زندگی نو میں شائع کریں۔ اس حوالے سے سب سے پہلے جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری اور متعدد اداروں کے رکن محترم صلاح الدین شبیر صاحب کا کلیدی مقالہ پیش کیا جائے گا، اس کے بعد قلمی محفل مذاکرہ ہوگی اور آخر میں صدارتی تبصرہ ہوگا۔ تو لیجیے پیش ہے کلیدی مقالہ۔(ادارہ)

تحریک تبدیلی کی نوید کے ساتھ اٹھتی ہے اور کارکنوں کے اندر شوق و ولولہ بیدار کرتی ہے۔ تبدیلی کا بیانیہ اگر انقلابی ہو تو وہ تبدیلی ایک خواب کے مانند ہوتی ہے جس کے خد و خال بہت واضح اور روشن نہیں ہوتے لیکن اپنی اثر انگیزی میں اس کا بیانیہ بہت طاقتور اور پرکشش ہوتا ہے۔ انقلابی تبدیلی کا تصور ایک ایسے جہان تازہ کی تخلیق پر مشتمل ہوتا ہے جو حال سے بالکل الگ نئے مستقبل کی بشارت دیتا ہے۔ ایسا مستقبل جس میں زندگی کا ہر پہلو خیر و سکون کا مظہر ہوگا۔ خیر، عدل اور امن کی فطری خواہش جب تبدیلی کا محرک بنتی ہے تو سماج کے بہت سے افراد تبدیلی کی تحریک سے امیدیں قائم کرتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ عملی وابستگی اختیار کرنے لگتے ہیں۔ اس وابستگی کا نتیجہ تنظیم کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ مطلوبہ تبدیلی کے لیے منظم جد و جہد کے تقاضے نظم جماعت کی صورت گری کرتے ہیں۔ فکر و عقیدہ، نصب العین، اخلاقی اصول و اقدار تنظیم کے بنیادی خد و خال کی صورت گری کرتے ہیں اور سمع و طاعت کا ایک مخصوص نظام تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کرتا ہے۔ تحریک جب سماج میں اپنی منظم صورت گری کے ساتھ تبدیلی کے لیے حالات کا جائزہ لیتی ہے اور اس کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کرتی ہے تب تبدیلی کے بیانیے میں زیادہ وضاحت اور حقیقت پسندی نشو و نما پانے لگتی ہے۔ اب انقلابی بیانیے کی جگہ تدریجی تبدیلی کا بیانیہ زیادہ معقول بنتا چلا جاتا ہے۔ اب حال میں پیش نظر تبدیلیوں کو روبعمل لانے کے امکانات کی تلاش شروع ہوتی ہے۔ انقلابی تصورات اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں لیکن ان تصورات کو حال میں کس حد تک روبعمل لایا جا سکتا ہے اس پر غور و فکر کیا جاتا ہے کیوں کہ انقلابی تصورات اگر طویل عرصے تک ناقابل عمل دکھائی دینے لگیں تو لوگ اسے خیالی (utopian) قرار دے کر دل برداشتہ ہونے لگتے ہیں۔

تبدیلی کے تقاضے اور تنظیم

جو تحریک ہمہ گیر تبدیلی کا خواب پیش کرتی ہے اس کی تعبیر کے لیے مطلوبہ سرگرمیوں کی فہرست اتنی طویل ہوتی ہے جسے کسی ایک تنظیمی ڈھانچے میں سمو لینا ممکن نہیں ہوتا۔ کچھ سرگرمیاں وہ ہوتی ہیں جن کا تعلق راست تنظیم کے نصب العین کی تفہیم، تشریح اور تبلیغ سے ہوتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں بنیادی طور پر درج ذیل پانچ سرگرمیاں ایسی ہیں جو تحریک کے نصب العین اور انقلابی تصورات کو زندہ رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں: –

مطلوبہ تبدیلی کی امنگ پیدا کرنے اور اسے تازہ رکھنے کے لیے افراد کی ذہن سازی۔


منزل مقصود کے حصول کے لیے مطلوبہ لائحۂ عمل پر کارکنان تحریک کو مطمئن اور متحرک رکھنا۔


کاروان تحریک میں شامل افراد کی فکری، جذباتی اور عملی تربیت تاکہ وہ منزل مقصود کی راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن رہیں۔


مطلوبہ تبدیلیوں کے خد و خال کو علمی اور فکری اعتبار سے واضح کرتے چلے جانا تاکہ ہر نئے سوال کا تسلی بخش جواب ملتا چلا جائے۔


پیش نظر تبدیلیوں کے لحاظ سے حالات کے مطابق قابل عمل امور کا تعین اور انھیں رو بعمل لانے کی تدابیر اختیار کرنا۔

ان سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تحریک کا نظریاتی، دعوتی اور تربیتی لائحۂ عمل بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ نظریہ کی تفہیم و اشاعت، دعوت و اصلاح اور فکری و اخلاقی تربیت کے تحت مختلف النوع سرگرمیوں کی انجام دہی تحریکی نظم جماعت کی یکسوئی چاہتی ہے۔ یہ وہ کام ہیں جنھیں تحریکی نظم کو راست انجام دینا ہوتا ہے۔ نظم جماعت سے باضابطہ وابستگی رکھنے والے افراد کی تعداد ہمیشہ وسیع تر تحریکی اثرات کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ اس لیے تحریک کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی افرادی قوت کو تحریک کے اساسی کاموں کی انجام دہی پر مرکوز رکھے۔

 ادارہ جاتی سرگرمیوں کی ضرورت

بلا شبہ مطلوبہ سماجی تبدیلی کے عمل میں نظریاتی بیانیے کی ترویج اور عوامی ذہن سازی بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ امکانی تبدیلی اور نظریات و تصورات کے عملی اظہار کے لیے ایسی ادارہ جاتی کوششیں ضروری ہیں جو سماج کے سامنے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لیے نمونے (working models) سامنے لا سکے۔

نظریات و تصورات کو مقبول خاص و عام بنانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر علمی اور فکری تحقیق و تخلیق کے اداروں کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے فکری سطح پر نظریہ اور نظام کی تفصیل و تشریح کے لیے ناگزیر ہیں۔ جو کام پہلے کسی ایک یا چند عبقری شخصیتوں کی فکری کاوشوں کا مرہون منت رہا ہے اس کی توسیع اور گیرائی کے لیے ایسے علمی اور فکری اداروں کی ضرورت ہے جہاں زیادہ بڑی تعداد میں مختلف علمی میدان کے ماہرین اجتماعی طور پر سرگرم کار ہوں۔ پیش نظر تبدیلیوں کے لیے خطوط کار تیار کرنا علمی اور فکری صلاحیتوں کے حامل افراد کی ذمہ داری ہے۔ تحریک کو اس میدان میں پہلے سے موجود باصلاحیت افراد کی بھی ضرورت ہے اور نئے افراد کی تیاری کا کام بھی کرنا ہے۔ کسی متبادل نظام کو علمی سطح پر قابل قبول بنانے اور بدلتے حالات میں اس کی صورت گری کرنے کے لیے ایسے افراد کی کھیپ کی کھیپ درکار ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اس کام کے لیے اداروں کی ضرورت ہے جو عصری تقاضوں کے مطابق علم و تحقیق کا کام تسلسل کے ساتھ انجام دیتے رہیں۔

اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ لوگ انتظار کی گھڑیاں ہی نہ گنتے رہیں بلکہ ان کے سامنے تحریکی بیانیے پر مبنی عملی نمونے (working models) بھی پیش کیے جائیں جن سے پتہ چلے کہ مطلوبہ تبدیلیوں کا رخ کیا ہوگا اور موجود سے مطلوب کی طرف کچھ نہ کچھ پیش رفت بھی دکھائی دیتا نظر آئے۔ کام یاب عملی تجربات تحریکی بیانیے اور اس کی ساکھ کو مقبول بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کوششوں سے سماج کی تعمیر نو کے عملی صورتیں نکھرتی ہیں۔

 مستقبل کی تبدیلیوں کا خواب دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ مجوزہ متبادل نظام (alternative system) کے قابل عمل اجزا کو بطور نمونہ پیش کیا جائے۔ تعلیم، خدمت خلق، معیشت، سیاست، صحافت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں عصری تقاضوں اور ریاستی قوانین کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی ادارہ جاتی کوششیں ضروری ہیں جو تحریک کے خواب اور خاکے کا عملی اظہار ہوں اور اجتماعی اصلاح و ترقی کو مطلوبہ رخ پر ڈالنے میں مددگار ثابت ہوں۔

اداروں کے مخصوص تقاضے

 سماج میں ایسے لوگ عام طور پر زیادہ ہوتے ہیں جو اپنے مخصوص رجحان، حالات اور افتاد طبع کے باعث مقصد و نظریہ کو پسند کرنے کے باوجود نظم جماعت کا باضابطہ حصہ نہیں بنتے لیکن تحریک کی مخصوص سرگرمیوں اور ادارہ جاتی کاموں میں شریک رہتے ہیں۔ ایسے افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور انھیں مسلسل انگیج رکھنا تحریک کی ایک اہم ضرورت ہے۔ ایسے افراد کی صلاحیتوں کے استعمال کا ایک وسیع میدان عمل ادارہ جاتی سرگرمیاں ہیں۔ ادارہ جاتی سرگرمیوں میں اخلاق و کردار اور ایثار و قربانی سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ان اداروں کے مقاصد کی تکمیل اور بہتر نظم و انصرام کے لیے کن مطلوبہ صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

ادارہ جاتی نظم (institutional management) اور تحریکی نظم (movement’s organisation) کے تقاضوں کے مابین فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ تحریکی نظم سماج کے ہر اس فرد کو اپنے نظام میں شامل کرتا چلا جاتا ہے جو تحریک کے خواب، نظریے اور معیار سے وابستگی اختیار کرنے کے لیے آمادہ ہو۔ تحریک میں آنے کے لیے نظریاتی وابستگی، اخلاقی پختگی اور نظم کی پابندی درکار ہے خواہ صلاحیت کسی بھی سطح کی ہو۔ تحریکی نظم کا دامن عالم اور عامی، جواں سال اور عمر رسیدہ، جدید اور قدیم سب کے لیے کھلا ہوا ہے۔ صلاحیتوں کا تنوع، طبقاتی نمائندگی اور نظریاتی ہم آہنگی تحریک کے سماجی نفوذ، توسیع اور استحکام کا مظہر ہے۔

لیکن اداروں کا معاملہ ہے اس سے قدرے مختلف ہے۔ ادارے تحریک کی مخصوص ضرورتوں کی تکمیل کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ لہذا! مختلف النوع اداروں کے لیے مخصوص صلاحیتوں کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ بہتر کار کردگی کے لیے نہ تو ہر شخص ہر ادارے کے لیے موزوں ہو سکتا ہے نہ ہر ادارہ ہر طرح کے مقاصد کی تکمیل کر سکتا ہے۔ تحریک اسلامی کا نصب العین سماج میں ہمہ گیر تبدیلیوں کا جامع ہے۔ بظاہر یہ ایک نکاتی ایجنڈا ہے لیکن یہ ایجنڈا بے شمار چھوٹی بڑی تبدیلیوں پر مشتمل ہے جن میں انفرادی شخصی تبدیلیاں بھی شامل ہیں اور اجتماعی ادارہ جاتی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ تحریک اسلامی کی کشادہ دامنی اس کے نصب العین کا عین تقاضا ہے۔ جب کہ ادارہ جاتی کارکردگی کا تقاضا تخصص (specialisation) ہے۔ تخصیصی کام مخصوص صلاحیت کے حامل افراد کی شمولیت چاہتا ہے۔

تحریکی نظم اور معاون اداروں کے مابین تعلق 

تحریک کو اپنے بعض مقاصد کے لیے مخصوص اداروں کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے بیانیے کی عملی تفسیر ہوں۔ اسی لیے تحریک کی اصل فکر مندی (concern) ان مقاصد کی حفاظت اور بہتر تکمیل سے متعلق ہوتی ہے۔ تحریک کو اس بات سے غرض ہے کہ جو ادارے براہ راست تحریک یا تحریک سے وابستہ افراد کے ذریعے قائم کیے جارہے ہیں وہ مطلوبہ مقاصد سے انحراف نہ کریں اور ان کی کار کردگی سماج میں تبدیلی کے بیانیے کی ترویج کا ذریعہ ثابت ہو۔ تحریک کے لیے ادارہ جاتی سرگرمیوں میں راست عملی شرکت کے بجائے مربیانہ رہ نمائی زیادہ سازگار اور مفید مطلب ہے۔ یہ طرز عمل تحریکی قوت کو اپنے بنیادی کام، یعنی افراد کی ذہن سازی اور سماجی اثر و نفوذ، پر مرتکز رکھتا ہے۔ ادارجاتی نظم و انصرام میں راست شرکت سے گریز اس لیے بھی ضروری ہے کہ بیشتر ادارے کسی نہ کسی ملکی قانون کے تحت قائم کیے جاتے ہیں جو ان اداروں کو قانونی طور پر غیر متعلق افراد یا تنظیموں کی دخل اندازی کے بغیر کام کرنے کا پابند بناتے ہیں۔ مزید برآں ادارہ جاتی نظم و انصرام کے ذمہ داران کو خود اعتمادی کے ساتھ کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر فیصلے اور عمل کے وقت تحریکی رہ نمائی کے محتاج نہ رہیں بلکہ حالات و ضروریات کے لحاظ سے ضروری اقدام اپنے مشاورتی نظام کے تحت کریں۔ تحریک اسلامی نے اپنے مقاصد کے فروغ کے لیے شروع سے آج تک بے شمار ادارہ جاتی کوششیں کی ہیں۔ تعلیم، خدمت خلق، بلاسودی مالیات، صحافت، علاج و صحت، کوچنگ اور اسکالرشپ وغیرہ جیسے مختلف شعبوں میں تحریک اسلامی نے ادارہ جاتی کوششوں کو فروغ دیا ہے۔ دہائیوں کے تجربے سے اداروں کے مقاصد کی تکمیل و حفاظت اور نظم و انصرام کے اعتبار سے بہتر کارکردگی کے لیے جو بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ تحریک کی نگاہ پہلے حصے پر مرکوز ہونی چاہیے اور ادارہ جاتی نظم سے اس کا تعلق مربیانہ رہ نمائی کا ہونا چاہیے۔ سب چیزیں ہمارے قبضے، ہمارے حکم کی اسیر ہوں، یہ رویہ بہت ساری اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں کو جنم دینے کا باعث بنتا رہا ہے اور آئندہ بھی بن سکتا ہے۔

فروری 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau