مجتہدین وماہرین کی تیاری

امت کے ہر فرد کی ذمہ داری

امام شاطبی نے اصول فقہ پر ایک کتاب لکھی ہے، اس کا نام ہے الموافقات، ایک دن اصول فقہ کی ایک بحث تلاش کرنے کے لئے کتاب کی ورق گردانی کی، تو امت کی تقدیر سنواردینے والا ایک زریں اصول نظر آگیا۔ پہلے خیال آیا کہ امت کی ترقی کا یہ اصول غلطی سے تو یہاں نہیں آگیا، مگر جب اصول فقہ کے لفظ پر غور کیا تو دل نے کہا کہ فقہ اور اصول فقہ کا اصل کام تو یہی ہونا چاہئے تھا، فقہ میں تو اہل ایمان کی دونوں جہاں میں کامیابی کے عملی نسخے ہونے چاہئے تھے، اور اصول فقہ کو تو امت اور افراد امت کے لئے مجد وشرف حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے اصولوں کا مخزن ہونا چاہئے تھا۔ دوسرے لفظوں میں فقہ کی کتابوں میں فوز وفلاح کے نسخے، اور اصول فقہ کی کتابوں میں ان نسخوں کی تیاری کے اصول ہونے چاہئے تھے۔ فقہ اور اصول فقہ، یہ دونوں علم تو مسلمانوں کی ذہانت اور سمجھ داری کے اصل میدان تھے، یہاں تو انسانوں کے بہترین اور ذہین ترین لوگوں کی ذہانت اور سمجھ داری کی زبردست نمائندگی ہونا چاہئے تھی۔[1]

فقہ اور اصول فقہ کے حقیقی مقام وکردار پر گفتگو بہت ضروری ہے، لیکن اس وقت اس سنہری اصول کا تذکرہ مقصود ہے، جو امام شاطبی نے الموافقات میں ذکر کیا ہے۔

امام شاطبی کہتے ہیں کہ امت کے سب افراد امت کی ہر اہم ذمہ داری کو انجام دینے والے بن جائیں یہ مطلوب نہیں ہے، اہم ذمہ داریوں کے لئے خصوصی قابلیت درکار ہوتی ہے، ہر فرد الگ الگ صلاحیتوں کے ساتھ الگ الگ میدانوں میں کام کا اہل ہوتا ہے، جن کاموں کے لئے مخصوص اہلیت درکار ہے ان کاموں کا سب سے مطالبہ کرنا بھی معقول بات نہیں ہے، تاہم امت کے اہم محاذوں کو سنبھالنے کے لئے ماہر وقابل شخصیتوں کی تیاری کے کام میں شریک ہونا امت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

امام شاطبی وضاحت کرتے ہیں، کہ انسان بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ اس دنیا میں آتا ہے، لیکن جس طرح وہ بطن مادر سے باہر آکر ابتدا میں کچھ نہیں جانتا پھر دھیرے دھیرے وہ کچھ کچھ جاننے لگتا ہے، اسی طرح وہ اپنے اندر کی خوابیدہ صلاحیتوں سے بھی ناواقف ہوتا ہے، اور جیسے جیسے تعلیم وتربیت کے نتیجہ میں اس کا شعور جاگتا ہے، اس کے جوہر بھی کھلنے لگتے ہیں، اور یہی جوہر ترقی پاکر امت کے عظیم مفادات کے حصول میں مددگار ہوتے ہیں، ایسے میں سارے لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ افراد میں جوہر تلاش کریں، جس فرد کے اندر کوئی خاص خوبی نظر آئے اس کی نشوونما کا مناسب انتظام کریں، اور افراد کی صلاحیتیں راہ راست پر رہیں اس کی فکر کریں۔

امام شاطبی کہتے ہیں، کہ ہر فرد بہت سے کام کرسکتا ہے لیکن ہر فرد کی شخصیت میں کچھ خاص صلاحیتوں کا غلبہ ہوتا ہے، جس سے بسا اوقات وہ خود بے خبر ہوتا ہے، یا ان کی مناسب نشو ونما کا اس کے پاس انتظام نہیں ہوپاتا ہے، انجام کار چھپے ہوئے جوہر چھپے ہی رہ جاتے ہیں۔ اس لئے تمام لوگوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افراد کی مخصوص صلاحیتوں کو بھانپ کر خود ان کو ان کی طرف متوجہ کریں، اور انہیں ترقی دیتے رہنے کی مسلسل ترغیب دیتے رہیں، مبادا ان کی صلاحیتیں کسی غفلت کا شکار ہو جائیں۔

امام شاطبی یہ بھی کہتے ہیں، کہ افراد کچھ دور تک سیکھنے کے مشترک راستوں پر چلتے ہیں اور سب کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں پھر دھیرے دھیرے ان کے راستے الگ ہونے لگتے ہیں اور یہ جھلکنے لگتا ہے کہ کون کس میدان میں زیادہ آگے تک جاسکتا ہے۔ اس مرحلے پر آگے بڑھنے میں اس کی مدد کرنا بہت اہم ہوجاتا ہے۔

امام شاطبی تمام لوگوں کی یہ ذمہ داری بھی بتاتے ہیں کہ جب کسی فرد کی کوئی صلاحیت نمایاں ہوجائے تو یقینی بنائیں کہ اسے اس فن کے ماہرین کی سرپرستی حاصل ہوجائے جو اسے ماہر فن بنانے کی ذمہ داری قبول کریں۔ کیونکہ جب ماہرین فن کی نگہداشت میں شخصیت میں ودیعت کی ہوئی صلاحیت ترقی کرکے شخصیت کا فطری وصف بن جاتی ہے، تب جا کر اس صلاحیت سے فائدہ حاصل ہوتا ہے اور اس تربیت کا نتیجہ سامنے آتا ہے جس کی دریافت سے لے کر نگہداشت تک میں سب شریک رہے۔

امام شاطبی کہتے ہیں کہ امت کے کچھ عظیم کام ہوتے ہیں جنہیں سب نہیں کرسکتے ہیں، بلکہ ان کاموں کے لئے غیر معمولی طور پر نہایت اعلی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں اور ان صلاحیتوں کی دریافت اور ارتقا کے عمل میں سب کا شامل ہونا ضروری ہے۔ ان کاموں میں وہ علمی میدان میں اجتہاد کے کام اور عملی میدان میں انتظام کے کام کو خاص طور سے ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مجتہدین اور مدبرین کی تیاری میں پوری امت کو شریک ہونا چاہئے۔

امام شاطبی کے یہ الفاظ آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں:

فَبَعْضُهُمْ هُوَ قَادِرٌ عَلَیهَا مُبَاشَرَةً، وَذَلِكَ مَنْ كَانَ أَهْلًا لَهَا، والباقون -وَإِنْ لَمْ یقْدِرُوا عَلَیهَا- قَادِرُونَ عَلَى إِقَامَةِ الْقَادِرِینَ

(امت مین بعض لوگ تو راست ان امور پر قدرت رکھتے ہیں اور یہ ان کے اہل ہوتے ہیں اور باقی لوگ گو کہ کہ ان پر قدرت نہیں رکھتے مگر قدرت رکھنے والوں کو کھڑا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔)

امام شاطبی نے اپنے زمانے کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس اصول کو سادہ انداز سے سمجھایا۔ دور حاضر میں اس کو سمجھنا اور برتنا زیادہ دشوار مگر زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ مادی تقاضوں نے دل ودماغ پر غلبہ حاصل کرکے انفرادی ضرورتوں کو اجتماعی اور دینی ضرورتوں سے بہت زیادہ اہمیت دے دی ہے، ایسے میں نہ فرد اس کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ خود کو امت کے کسی عظیم کام کے لئے وقف کرے اور نہ لوگ ایسے کسی جذبے کی قدر و قیمت محسوس کرتے ہیں۔ لوگ اس طرح اپنی ذات میں محصور ہوتے چلے جارہے ہیں کہ جوہر قابل کی تلاش اور اسے فرد کامل بنانے کی جستجو کا خیال کسی کو بے چین نہیں کرتا۔ امام شاطبی اسے امت کے ہر فرد پر فرض قرار دیتے ہیں۔

دور جدید میں اجتہاد وانتظام کے ماہرین کی ضرورت کسی بھی دور سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اجتہاد کے ماہرین امت کے لئے کامرانی اور سرخ روئی کے راستے دریافت کریں اور انتظام کے ماہرین امت کے لئے وہ راستے ہموار کریں۔ یہ کام ہمیشہ ضروری تھا، اب اور ضروری ہوگیا ہے۔ اس کے اہل افراد ہمیشہ سے کم رہے ہیں اب اور کم ہوگئے ہیں۔

اہل افراد کی تیاری میں امت کے کردار سے امت کو واقف کرانا بہت ضروری ہے۔ ایک ایسے ماحول کی تشکیل میں سب کی بھرپور حصہ داری ضروری ہے، جس میں ملت کی ضرورتوں کا شعور عام ہو، ان کی تکمیل کے لئے مطلوب صلاحیتوں کی دریافت ہوتی ہو، ان صلاحیتوں کی بہترین نشوونما ہوتی ہو، ان صلاحیتوں کی قدر ہوتی ہو اور اپنی ان صلاحیتوں کو دین وملت کے لئے وقف کردینے والوں کی حوصلہ افزائی اور مدد ہوتی ہو۔ غرض امت کو اپنی عظمت رفتہ کی بازیافت کے لئے خود ہی مجتہدین، مجددین اور مدبرین کو تیار کرنا ہوگا۔

یہ قوموں کی تقدیر بدل دینے والا اصول ہے۔ جب ہم تبدیلی کی ذمہ داری لیڈر شپ پر ڈالتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے ہیں اور ذمہ داری ان لوگوں پر ڈالتے ہیں جو لیڈر تو ہیں لیکن انہیں تبدیلی لانے کے مشکل عمل کے لئے تیار نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن جب ہم ایسے افراد کو تیار کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، جو تبدیلی لانے کے اہل ہوں تو ہماری اپروچ نتیجہ خیز ہوجاتی ہے۔ ہم وہ کرنے لگتے ہیں جس کے ہم اہل ہیں اور ان کو تیار کرتے ہیں جو ہمارے حقیقی ہدف کی تکمیل کے اہل ہوں۔ اس طرح ہم دوسروں پر ذمہ داری ڈال کر خود فرار اختیار کرنے کے بجائے اپنے حصہ کی ذمہ داری قبول کرکے منزل مقصود کی طرف بڑھنے والے ہوجاتے ہیں، اور یہی قابل تعریف کیفیت ہے۔ ( دیکھیے: الموافقات، المسألة الحادیة عشرة: فرض الكفایة)

حواشی

  1. علم فقہ کا وہ حال تو نہیں ہونا چاہئے تھا، کہ شیخ محمد عبدہ کو اصول فقہ کی کتابوں کے بارے میں کہنا پڑا کہ وھذہ کتب فی أصول الفقہ ألھو بمباحثھا عن القرآن۔ یہ اصول فقہ کی کتابیں ہیں جن کے مباحث قرآن سے غافل کردیتے ہیں۔ (الأعمال الکاملة لمحمد عبدہ ۲۱۱)
    اور فقہ کی کتابوں کے بارے میں کہنا پڑا، کہ وقد جعل الفقہاء کتبھم ھذہ، علی علاتھا، أساس الدین، ولم یخجلوا من قولھم: انہ یجب العمل بما فیھا وان عارض الکتاب والسنۃ، فانصرفت الأذھان عن القرآن والحدیث، وانحصرت أنظارھم فی کتب الفقہاء، علی مافیھا من الاختلاف فی الآراء والرکاکۃ۔  فقہا نے اپنی ان کتابوں کو ان کی کم زوریوں کے باوجود دین کی اساس بناڈالا۔ وہ یہ کہنے سے شرمائے نہیں کہ ان پر عمل کرنا واجب ہے، خواہ وہ کتاب وسنت سے ٹکرائیں۔ اس سے یہ ہوا کہ ذہن قرآن و سنت سے ہٹ کر فقہا کی کتابوں میں محصور ہوگئے، جب کہ وہ اختلاف رائے اور رکیک مباحث کا پلندہ تھیں۔ (الأعمال الکاملة لمحمد عبدہ ۲۱۳)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مجتہدین وماہرین کی تیاری

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223