مسلمان ۔ علم و سائنس میں یوروپ کےپیش رو

(2)

محمد صلاح الدین ایوبی

فلپ کے۔ حٹی لکھتا ہے

اگرچہ عربوں نے صفر ایجاد نہیں کیا لیکن عربوں نے ہی یورپ کو عربی اعداد کے ساتھ ساتھ ’’ صفر ‘‘ سے بھی روشناس کرایا۔ اور اہل مغرب کو اس مفید ترین حسابی طریقے کا استعمال سکھا کر روز مرہ کی زندگی میں عملی حساب کی سہولتیں مہیا کیں ‘‘۔(۳۲)

 نباتات و حیوانات(Plants & Animals)

اسپینی مسلمانوں نے نباتات و حیوانات کے مطالعہ کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ، عہد وسطیٰ کے مسلم اسپینی حکمراں عبد الرحمن ثانی اور ثالث قیمتی و نایاب پودوں اور جانوروں کی دستیابی کے لئے اپنے سفیروں کو مشرقی دنیا میں بھیجتے تھے،  جس کی وجہ سے دسویں صدی عیسوی سے ہی اسپین میںنبا تاتی و حیواناتی باغات مشہور ہو گئے تھے ، ان موضوعات پر بہت سی کتابیں بھی تحریر کی گئیں ۔

ماہرین نباتا ت میں ابن بصال ، ابن وافد ، طغناری،  غرناطی اور ابو الخیر اشبیلی وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ ابن بصا ل نے زراعت پر ایک بہت ہی اہم کتاب ’’ القصد و البیان ‘‘ کے نام سے تحریر کی، الطغناری نے زراعت سے متعلق ایک کتاب ’’ زھر البستان و نزھۃ الأذھان ‘‘ کے نام سے تصنیف کی جو بارہ اجزاء اور ۳۶ ابواب پر مشتمل ہے یہ کتاب محظوطے کی شکل میں آج بھی غرناطہ کی لائبریری  Rabat اور   Tetuan  میں موجود ہے ۔

مسلم اسپین کا سب سے اہم اور مشہور ماہر نباتات ابو زکریا یحیٰ ابن العوام اشبیلی ہے جس نے کتاب الفلاحۃ کے نام سے ایک انسائیکلو ہیڈیائی کتاب مرتب کی ۔ (۳۳)  اس کتاب میں اسپین کے زراعتی تجربات کی تفصیل ہے ، اس کتاب میں ۵۸۵پودوں کا ذکر ہے۔  اسی طرح پچاس سے زائد پھلدار درختوں کا تذکرہ ہے ، قلم لگانے کے لئے تجربات ، زمین کی زرخیزی کی صلاحیتوں ، زراعت میں استعمال ہونے والی کھادوں کے علاوہ اس کتاب میں ان بیماریوں کا بھی بیان ہے جو درختوں ، پودوں ، کھیتوں ، خاص طور سے انگور کی کھیتی کو لاحق ہوتی ہیں ، کتاب میں ان امراض کے علاج کے طریقوں یا تدبیروں کا بھی ذکر ہے ۔

مسلم ا سپینی ماہر نباتات میں عبد اللہ بن احمد البیطارکا نام بھی کافی اہمیت کا حامل ہے، اس نے جڑی بوٹیوں اور نباتا ت کی تلاش میں اسپین اور افریقہ کے پہاڑوں ، جنگلوں اور میدانی علاقوں کی خاک چھانی ، اس نے کھانے اور دوائیوں سے متعلق حروف تہجی کے اعتبار سے ایک مکمل لغت (ڈکشنری) تیار کی ، اس کی سب سے اہم کتاب ’’ المغنی الادویۃ المفردۃ‘‘ سادہ اور عام دواؤں کا ایک مکمل خزانہ ہے ۔(۳۴)  ابن بیطار کی ایک دوسری اہم کتاب ’’الجامع فی الادویۃ المفردۃ‘‘ ہے، اس کتاب میں اس نے جانوروں سبزیوں اور معدنیات سے بنی ہوئی دواؤں کا ذکر کیا ہے،  جو مختلف امراض کے علاج کے لئے استعمال ہوتی تھیں، ماہرین کے خیال میں یہ اپنی نوعیت کی بڑی ممتاز کتاب ہے ۔ اس میں ۱۴۰۰ چیزوں کا ذکر ہے جن میں سے تین سو بشمول دوسوں درختوں کے با لکل نئی چیزیں ہیں، اس کتاب کا کئی یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور لوگ اس سے اٹھارہویں صدی عیسوی تک استفادہ کرتے رہے۔

 علم کیمیا (Chemistry)

مسلم ماہرین نے تجرباتی تحقیق و عمل کو ریاضیاتی تجزیہ سے ملا کر علم کیمسٹری کی داغ بیل ڈالی ، وہ صرف نظری علم ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ تجربات کر کے انھوں نے بہت سے دھاتوں کے خواص دریافت کئے ، دواؤں کی خاصیتوں کا پتہ لگایا ، معد نیات کی درجہ بندی کی اور بہت سی ایجادات کیں ۔(۳۵)

دنیا میں ہوائی جہاز بنانے کی سب سے پہلی کوشش (نویں صدی عیسوی میں ) اسلامی اسپین ہی کے ایک سائنس داں عباس ابن فرناس نے کی ، اس کا ہوائی جہاز تھوڑی بلندی تک اڑ کر نیچے گر گیا، ابن فرناس بڑا ذہین سائنس داں تھا ، اس نے اپنے گھر میں ایک مصنوعی آسمان بھی بنا رکھا تھا، جس میں سورج،چاند اور ستارے بنائے گئے تھے،  اس نے پتھر سے شیشہ تیار کرنے کی صنعت ایجادکی  اور سایہ کی مدد کے بغیر وقت معلوم کرنے کے لئے ایک آلہ بھی ایجاد کیا تھا۔ (۳۶) جابربن حیان جسے اہل یورپ  Geber کے نام سے جانتے ہیں ، بارہویں صدی عیسوی کا ماہر کیمیا داں تھا،  اس نے گندھک کا تیزاب ، شورے کا تیزاب،  نیز بہت سی کیمیائی مادوں کااختراع کیا ۔ دور جدید کے ماہرین کیمیا عہد وسطیٰ کے مسلم اسپینی کیمیاگروں کی ثنا خوانی کرتے ہوئے ا س بات کا بجا طور پر اعتراف کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہی کیمیائی عمل تقطیر ، تکلیس اور تصعید و تطہیر کو استعمال کیا ، اس کیمیائی عمل کے ذریعہ ہی وہ نباتات سے عرق کشید کرنے کے قابل ہو سکے ۔پیڑ ،پودوں اور نباتات سے عرق کشید کرنا لاطینی اور قوطی قوم کے لئے نا معلوم چیز تھی جبکہ اسپینی مسلمان ماہر کیمیا گر تھے ۔ مسلمانوں نے نباتات کی تقطیر اور اس سے عرق کشید کر نے کے لئے ایک آلہ تیار کیا تھا جس کا نام ’’ قرنیق ‘‘ تھا ۔ کیمسٹری میں مسلمانوں کی اس غیر معمولی مہارت نے انھیں نئی دوائیں تیار کرنے کے قابل بنادیا چنانچہ انھوں نے دواسازی کی بڑی بڑی فیکٹریاں قائم کیں ۔ کیمسٹری میں مسلمانوں کی مہارت اور ان کے کارناموں پر تبصرہ کرتے ہوئے اسکاٹ لکھتا ہے :

’’ اسپینی مسلمانوں نے سائنسی کیمیا کے تجربات و مطالعہ کو اس حد تک پہنچا دیا جہاں تک ان سے پہلے کسی نے نہیں پہنچایا تھا ، عملی طور پر زمانۂ حال کے علم کیمیا اور دوا سازی کے وہی موجد ہیں ، ان کے بہت سے ماہرین نے علم کیمیا  پر نہایت ہی عمدہ اور اچھی تحریریں قلم بندکی ہیں اور  تبلور ( Crystallization) ، تصعید (Sublimation )، تقطیر (Distllation )، ترویق (Filteration) اور تحلیل (Solution) کی ترکیبیں بتائی ہیں ۔ تیزاب شورہ اور تیزاب گندھک کو رواج دیا ۔ یہ دونوں تیزاب ایسے محلل ہیں کہ ان کے بغیر کیمیائی ترکیب کا امکان ہی نہ تھا ۔ ان ہی کے طفیل دنیا کو الکحل ، تیزاب،نوشادر ، پوٹاس ،بائیکلور ا ئڈ آف مرکری ( Bicolouride of Mercury)چاندی کے پانی اور فارسفورس کا علم ہوا ۔ ‘‘(۳۷)

عہد وسطیٰ کے اسپینی کیمیا گروں نے بہت سی کیمیائی ایجادات کرکے جراحوں کو انسانی تکلیف رفع کرنے کا سامان بہم پہنچادیا تھا اور  Caustic Drugs و تیزابوں نے فن دوا سازی میں انقلاب عظیم پیدا کر دیا تھا ۔ اسپین کے مسلمانوں کو یہ علم تھا کہ ایک مکلس معدنی چیز بجائے اپنا وزن کم کرنے کے بڑھا لیتی ہے ، نیز وہ آکسیجن کو معلوم کر چکے تھے ، یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہائیڈروجن کے وجود اور اس کے خواص سے بے خبر نہ تھے ۔ (۳۸)

اس کے علاوہ تیرہویں صدی عیسوی کے ایک اسپینی کیمیا گر حسن الرماح نے بارود کے استعمال اور آتشیں اسلحوں کے استعمال پر ایک اہم کتاب لکھی تھی یہ اپنے فن کی اہم ترین اور قدیم ترین کتابوں میں سے ہے،  اس کا بعد کے محققوں پر بہت گہرا اثر پڑا ۔ (۳۹)

 علم طبیعیات (Physics)

اسپینی مسلمانوں نے طبیعیات میں بھی بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے ، طبیعیات کے میدان میں بھی دونوں قسم کے کام کئے : نظری تصانیف تیار کیں اور عملی تجربات بھی کئے ۔

طبیعیات میں حرکیات (  Dynamics ) ایک اہم موضوع ہے ، ارسطو کا نظریہ تھا کو جسم والی شئی جیسے پتھر وغیرہ کو پھینکنے سے ہوا میں تموج پیدا ہوتا ہے اور وہ ہوا ہی پتھر یا جسم کو پیچھے سے آگے ڈھکیلتی ہے ۔ مسلم سائنس دانوں نے اس نظریہ کو غلط قرار دیا ۔

بصریات (  Optics) اس علم کا دوسرا اہم موضوع ہے ، اس کو بھی اسپینی سائنس دانوں نے اپنی تحقیق و تجربات کا موضوع بنایا۔ اسپین کے ماہر ریاضیات محمد ابن معاذ جیانی نے صبح و شام کے دھندک لکے کے مظاہر کو اپنی تصانیف و تجربات کا موضوع بنایا جیانی نے صبح کاذب اور شام کے دھندلکے کے وقت سورج کا زاویہ انخفاض اٹھارہ ڈگری دریافت کیا جو کہ آج کے ریسرچ اور تحقیق کے مطابق بھی تقریباً ہی ہے ۔

اسپین کے مشہور و معروف فلسفی ابن رشد سب سے پہلے شخص ہیں جنھوں نے یہ تحقیق پیش کی کہ صرف آنکھ کی پتلی دیکھنے کا کام انجام نہیں دیتی بلکہ دراصل آنکھ سے پرے ایک   Retina   اس کو انجام دیتا ہے ، سورج ، چاند اور دوسرے اجرام فلکی سے متعلق بھی مسلمان ماہرین طبیعیات نے عمدہ تحقیقات پیش کیں۔(۴۰)

 طب و جراحت ( Medicine & Surgery):

عہد وسطیٰ کے اسپین میں طبی سائنس کا مطالعہ عبد الرحمن ثانی کے دور میں شروع ہوا اور اس فن میں بھی اسپین کے مسلمانو ں نے غیر معمولی ترقی کی ، حتی کہ وہ مشرقی اطبا ء سے بھی بازی لے گئے ۔

ابو القاسم زہراوی (۹۰۳۶۔ ۱۰۱۳) عربوں کا سب سے بڑا سرجن مانا جاتا ہے ، وہ اسپینی حکمران حکم ثانی کا درباری طبیب تھا ۔ اس نے ’’التصریف‘‘ کے نام سے تیس جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم اور طبی انسائکلو پیڈیائی کتاب تصنیف کی ۔ جس کی تین جلدیں صرف سرجری سے متعلق ہیں ۔(۴۱)  اس کتاب میں زہراوی نے سرجری سے متعلق وہ تمام معلومات جمع کردی ہیں جو اس دور میں پائی جاتی تھیں ، اس کتاب میں زہراوی نے زخموں پر کاٹن سے مرہم پٹی کرنے کی وکالت کی ہے ، اسی طرح مثانے میں پتھر ی کو دواؤں سے توڑنے کا بھی اس نے ذکر کیاہے ، وہ مطالعے اور مشاہدے کے لئے لاشوں کو چیر پھاڑ ( Anatomy ) کی ضرورت بھی بیان کرتا ہے ، اس زمانے میں یہ بڑے اچھوتے اور نئے خیالات تھے ۔

ڈاکٹر فواد سیزگین لکھتے ہیں : ’’ ابوالقاسم زہراوی کے ہاں ہمیں دموی امراض کا ایک مفصل  بیان ملتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ جوڑوں کی سوزش اور ریڑھ کی ہڈی کی دق پر بھی توجہ دیتا ہے ‘‘۔ (۴۲) آگے لکھتے ہیں  : ’’آج اہم جراحی عمل جو بعض بڑے جراحوں سے منسوب کیے جاتے ہیں ، الزہراوی کی کتاب التصریف میں وہ سب موجود تھے، مثلاً بڑی نسوں سے خون بہنے کی روک تھام کا عمل جس میں سولہویں صدی کے فرانسیسی جراح پارے (Ambroise Pare) نے شہرت پائی ، اسی طرح فن تولید (Obstetrics) میں وہ طریقہ جو جرمن طبیب والہر (Walcher) (متوفی ۱۹۳۵ء) سے منسوب ہے اور’’ وضع والہر ‘‘(Walcher Position) کہلاتا ہے۔ الزہراوی زخموں کی سلائی کے مختلف طریقوں سے واقف تھا اور جو طریقہ ٹرنڈلن برگ (Freidrich Terndelenburg) (متوفی ۱۹۲۴ء ) کی نسبت سے ٹرنڈلن برگی کہلاتا ہے ، وہ بھی الزہراوی کے ہاں معروف تھا ‘‘۔(۴۳)یٰسین مظہر صدیقی رقمطراز ہیں : ’’ زہراوی نے آنکھ کے موتیابند کا آپریشن کیا، مثانہ کی پتھری کو بغیر بغیر آپریشن کے ریزہ ریزہ کرنے اور آپریشن کے ذریعہ بھی نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا ، آنکھوں ،دانتوں اورجسم کے دیگر اعضاء کا بھی آپریشن کیا ، ٹوٹی ہوئی ہڈی جوڑنے کا کامیاب علاج کیا ، انھوں نے آپریشن کے آلات ( Tools ) بھی بنائے اور ان کے ذریعہ بچے کی ولادت کا طریقہ ایجاد کیا ، پٹی باندھنے ، پلاسٹر چڑھانے ، ٹانکے لگانے اور آپریشن سے قبل بے ہو ش کرنے کے طریقے بھی دریافت کئے ، آپریشن کے آلات انھوں نے قرطبہ کے کاریگروں سے بنوائے اور ایسے سو آلات کی تصویریں بھی دیں ، زہراوی کے کمالات کا سب نے اعتراف کیا ہے ، خاص کر یورپی ماہرین نے ‘‘۔ (۴۴)

زہراوی کی کتاب ’’ التصریف ‘‘ کا یورپ کی تمام زبانوں میں ترجمہ ہوا ، اور اٹھارہویں صدی تک سرجری کے موضوع پر سب سے اچھی کتاب مانی جاتی تھی ، اسی لئے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یورپ میں سرجری کی بنیاد اسی کتاب نے ڈالی ہے ۔

علم طب وجراحت کا دوسرا بڑا اسپینی ماہر ابن زہر (۱۰۹۱۔ ۱۱۶۲) تھا ۔ جو اسپین کے ایک مشہور طبی خاندان کا چشم و چراغ تھا ، اس نے طب پر کل چھ کتابیں لکھیں ، جن میں سے تین ہم تک پہنچی ہیں ، اس کی سب سے مشہور کتاب ’’ التیسیر‘‘ ہے جو اس نے اپنے معاصر اور دوست ابن رشد کی فرمائش پر لکھی تھی، ابن رشد نے اپنے کلیات میں لکھا ہے کہ جالینوس کے بعد ابن زہر سب سے بڑا طبیب ہے۔ پی کے حتی (P K Hitti) کہتے ہیں کہ رازی کے بعد ابن زہر مسلم دنیا کا سب سے بڑا طبیب گزرا ہے ،ابن زہر پہلا طبیب ہے جس نے سب سے پہلے اس امر سے بحث کی ہے کہ ہڈیوں میں صرف احساس پایا جاتا ہے یا جان بھی ہوتی ہے ، اسی طرح ابن زہر پہلا شخص ہے جس نے یہ معلوم کیا کہ انسان کے جسم میں ایک خاص قسم کے جراثیم کی وجہ سے خشک خارش پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی دوا گندھک ہے، ابن زہر کی کتاب ’’ التیسیر ‘‘ نے یورپ کے طبی سائنس پر واضح اثرات مرتب کئے ۔ (۴۵)ڈاکٹر فواد سزگین تحریر فرماتے ہیں : ’’ ابن زہر پہلا طبیب تھا جس نے غذا کی نالی (Gullet) کے مفلوج ہوجانے کی صورت میں سانس کی نالی کو کھولنے ، نیز غذا کی نالی یا مبرز (Rectum) کی راہ سے مصنوعی طور پر غذا رسانی کی تجویز پیش کی ، وہ بہت سے اور امراض کی بھی بڑی وضاحت کے ساتھ نشاندہی کرتا ہے جن میں معدے کا سرطان بھی شامل ہے ‘‘۔(۴۶)  ابن رشد جس کی قابلیت پر اس کے فلسفہ نے پردہ ڈال دیا ، ایک ماہر طبیب بھی تھا ، اس نے طب پر تقریباً سولہ رسالے تحریر کئے جن میں سے ایک رسالہ ’’ کلیات فی الطب ‘‘ ہے ۔ (۴۷) علم طب میں اس کا اہم ترین کارنامہ اس کی وہ تصنیف ہے جس میں اس نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کسی شخص کو ایک سے زیادہ مرتبہ چیچک نہیں نکلتی ۔ اور اس نے پردہ چشم (شبکۃ العین ) کے وظیفہ کی ٹھیک ٹھیک تشریح کی ہے ۔ (۴۸)

مسلم اسپین کے مشہور مؤرخ لسان الدین ابن الخطیب(متوفی ۷۷۶ھ) نے تاریخ کے ساتھ ساتھ طب کے میدان میں بھی کمال حاصل کیا اور اس نے طاعون پر اپنی ایک نایاب کتاب لکھی ۔ انہوں نے مقنعۃ السائل عن المرض الھائل نامی ایک کتاب لکھی جس کا ایک مستشرق میکس مولر (M. Muller) نے ترجمہ کر کے ۱۸۶۳ء میں شائع کیا ۔(۴۹)  ابن الخطیب کے ایک ہم عصر ابن الخاتم نے بھی طاعون پر ایک کتاب لکھی جو اپنے موضوع پر استناد کا درجہ رکھتی تھی ۔ امراض چشم سے متعلق محمد بن قاسم کی کتاب چھ سو صفحات پر مشتمل تھی ۔ داؤد غربی نے امراض چشم اور قبض پر ایک مستقل کتاب تصنیف کی ۔ (۵۰)  طب پر لکھی گئی مسلمانوں کی ان کتابوں کو یورپ نے اپنی زبانوں میں منتقل کر کے ان سے بھرپور استفادہ کیا ، یورپی زبانوں میں پائے جانے عربی الفاظ و اصطلاحات اس کی واضح دلیل ہیں۔ لبنان کا عیسائی مصنف فلپ کے۔ حٹی لکھتا ہے :

’’ ان ترجموں کے ذریعہ سے عربی زبان کی بہت سی فنی اصطلاحیں یورپی زبانوں میں رائج ہو گئیں۔ مثلاً :  Glupکی اصطلاح جو ایک خوشبودار طبی مشروب کے لئے استعال کی جاتی ہے عربی لفظ جلاب سے ماخوذ ہے، جو فارسی لفظ گلاب کا معرب ہے ، اور اس کے معنی عرق گلاب کے ہیں ۔ اسی طرح لفظ  Syrup عربی لفظ شراب  ( بمعنی مشروب ) سے لیا گیا ہے ۔ قرون وسطیٰ کی لاطینی میں سوڈا (  Soda  ) کے معنی درد سر سوڈانیم ( Sodanium ) کے معنی درد سر کے علاج کے تھے ۔ حقیقت میں یہ عربی لفظ ’’صداع ‘‘ ہے جس کے معنی شدید درد سر کے ہیں ‘‘۔ (۵۱)

ڈاکٹر فواد سیزگین لکھتے ہیں :

’’یہی وہ علم طب ہے جو بیزنطہ، اٹلی اور سسلی کی راہ سے ، نیز باہمی انسانی روابط کے ذریعہ چوتھی صدی ہجری سے لاطینی دنیا میں پہنچنا شروع ہوا ۔ عربی کتابیں لاطینی دنیا میں ترجموں اور سرقوں کے ذریعہ ، نیز بعض حالات میں مشاہیر اہل یونان سے منسوب ہوکر پھیل گئیں ، اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ، چنانچہ حنین ابن اسحاق کی کتاب العین ، اسحاق بن عمران کی کتاب المالیخولیا اور ابن الجزار کی کتاب الباہ وہ کتابیں ہیں جو صدیوں تک یورپ میں جالینوس ، روفوس اور سکندر طرالیسی کی تصانیف کی حیثیت سے متداول رہیں ‘‘۔ (۵۲)

 عربی کتابوں کا یورپی زبانوں میں ترجمہ :

طب کے علاوہ دیگر تمام علوم کا یورپ نے اپنی زبان میں ترجمہ کیا اور مسلمانوں سے حاصل کردہ ان علوم میں اتنی محنت کی کہ آج مسلمان خود پیچھے رہ گئے ، مسلمانوں کی کتابوں کے ترجمہ کے حوالے سے ثروت و صولت رقم تراز ہیں کہ ’’قشتالہ کا حکمراں الفانسو دوم (۱۲۵۲۔ ۱۲۸۴) کے زمانے میں بکثرت کتابوں کا عربی سے اسپینی اور لاطینی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور عربی کتابوں کی مدد سے لاطینی زبانوں میں مستقل کتابیں لکھی گئیں ۔ مسلمانوں کے اس اثر کا یہ نتیجہ نکلا کہ ۱۲۳۰ء میں اسپین کے شہر سلامنکہ میں عیسائیوں نے ایک یونیورسٹی قائم کی جو مسیحی یورپ کی پہلی یونیورسٹی سمجھی جاتی ہے (۵۳)

طلیطلہ میں ترجمہ کا کام پورے دو سال تک جاری رہا ، ترجمہ کرنے کی غرض سے یورپ کے ہر حصہ سے اہل علم اس شہر میں آتے تھے اور عربی سے لاطینی زبان میں جو اس وقت یورپ کی علمی زبان تھی ترجمہ کرتے تھے ۔ ان ترجموں کی وجہ سے یورپ میں علوم و فنون پھیل گئے اور مسلمان وہاں کی علمی زندگی پر ایسے چھائے کہ ابن رشد کی فلسفہ کی کتابیں اور ابن سینا کی طب کی کتابیں تین سو سال تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی رہیں (۵۴)

۱۵۱۱؁ء میں اسپین کی حکومت نے عربی کتابوں کو جلا دینے کا حکم دے دیا اور اس طرح لاکھوں کتابیں تباہ کردی گئیں ، صرف غرناطہ میں اسی ہزار کتابیں جلائی گئیں ، کچھ کتابیں جو جلنے سے بچ گئیں اسپین میں اسکوریال کے کتب خانہ میں اب تک محفوظ ہیں۔(۵۵)  فلپ کے۔ حٹی لکھتے ہیں : اسپین کی اسلامی سلطنت کی بردباری کے بعد فلپ ثانی (۱۵۵۶۔ ۱۵۹۸) اور اس کے جانشینوں نے جو باقی ماندی کتابیں عربی کتب خانوں سے فراہم کیں ان کی تعداد کم و بیش دو ہزار تھی، یہی کتابیں کتب خانہ اسکوریاں کی بنیاد بنیں ، یہ کتب خانہ شہر میڈریڈ سے کچھ دور اب بھی موجود ہے ۔ (۵۵)

میکس میوہوف لکھتا ہے :’’  اس طرح یورپ کی سر زمین میں ،جو کہ علمی اور سائنسی لحاظ سے بنجر تھی ، سینکڑوں عربی کتاب کے ترجمے ہو گئے ، اور جس طرح بارش سے بنجر زمین شاداب اور زرخیز بن جاتی ہے وہی اثر ان ترجموں کا یورپ پر ہوا ‘‘۔ (۵۶) یہ ہے مختصر تاریخ یورپ میں علم و فن اور سائنس و حکمت کی روشنی پھیلنے کی ، اسپین کے علاوہ صقلیہ (Sicily)کے مسلمانوں کا بھی یورپ میں علم و سائنس کی اشاعت کے حوالے سے اہم رول رہا ہے ، اسپین ، بغدادا ور قاہرہ سے بہت پہلے نارمن عیسائی حکمرانوں نے صقلیہ کے مسلمانوں سے علم کی روشنی حاصل کرنا شروع کر دیا تھا ، اور یورپ کی تہذیب و تمدن پر اس کے گہرے اثرات پڑے ، یورپ کو مہذب بنانے کافخر اگرچہ بغداد ، قاہرہ اور صقلیہ کے علاوہ پوری اسلامی دنیا کو حاصل ہے ، لیکن اسپین چوں کہ یورپ سے سب سے زیادہ قریب تھا اس لئے یورپ والوں نے سب سے زیادہ فائدہ وہیں سے اٹھایا اس لئے اسپین کے مسلمان بجا طور پر ’’ یورپ کے استاد ‘‘ کہے جانے کے مستحق ہیں ۔

 عصر حاضر میں مسلمانوں کی كیفیت :

جس قوم کی علم و فن اور سائنس و حکمت میں ایسی روشن اور تابناک تاریخ رہی ہےآج عالمی پیمانے پر زیادہ ناخواندگی اسی قوم میں پائی جاتی ہے۔ جو قوم صدیوں تک علم و سائنس کے میدان میں اقوام عالم کی امامت و قیادت کے فرائض انجام دیتی رہی آج وہ ان ہی قوموں کے علم و فن سے مرعوب نظر آرہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان علم و فن کی بلندیوں پر پہنچ کر مطمئن ہو گئے اورانہوں نے محنت چھوڑ دی۔ اطمینان انسان کو آگے بڑھنے سے رو ک دیتا ہے اور ترقی کے عزم و ارادہ کو بتدریج کمزور کر دیتا ہے ، اس لئے کل کے استاذ آج دوسروں کے شاگرد بننے کے قابل بھی نہ رہے اور نکبت و ادبار کی انتہائی منزل کو پہنچ گئے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دن بھر کام کرنے کے بعد جب عالم اسلام سونے کی تیاری کر رہا تھا عین اسی وقت مسیحی یورپ علم و سائنس حاصل کرنے کے لئے بیدار ہو رہا تھا ، اور پھر اس نے اپنی بیداری سے سارے عالم کو متحیر کردیا۔

  خلاصہ :

حاصل یہ کہ علم کی کرنیں جو غار حرا سے نکلی تھیں ، انهوں نےپورے عرب کو روشن و منور کر کے عراق و ایران اور مصر و شام کے درو بام کو جگمگایا، پھر اس روشنی کو مسلم آفتابان علوم سے اسپین اور یورپ کے ماہتابوں نے اخذ کیا اور یورپ کی تاریک گلیوں اور کوچوں کہ ایسا جگمگایا کہ آج خود ان عربوں اور مسلمانوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں ۔ اور دل سے یہ خیال تک محو ہو گیا کہ یورپ میں علم و فن اور سائنس و حکمت کی یہ ساری روشنی ُخود مسلمانوں کے ہی آفتابوں سے حاصل شدہ ہے اور یورپ کی یہ ساری علمی سیرابی و شادابی در اصل عرب کے بے آب و گیاہ چٹیل وادی میں پھوٹنے والے سوتے اور چشمے کی ہی دین اور رہین منت ہے۔

حواشی

(۱)   ڈاکٹر محمد اسحاق ، اندلس اور سسلی کی مسلم تاریخ و ثقافت ، البلاغ پبلیکیشنز ، ابو الفضل انکلیو ، نئی دہلی جنوری ۲۰۰۹؁ء ص: ۹،۱۰

(۲)   فلپ  کے ۔ حٹی ، تاریخ عرب، البلاغ پبلی کیشنز  ۱۰۱۲؁ ء ص:۱۳۵

(۳)   ثروت صولت، ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز نئی دہلی ۲۰۱۴؁، جلد اول : ص: ۳۵۶

(۴)  ایضاً جلد اول  ص: ۳۵۷   (۵)                             ایضاً جلد اول  ص: ۳۵۵

(۶)   ایضاً جلد اول ، ص: ۳۵۷  (۷)                           ایضاً جلد اول، ص: ۳۶۱

(۸)   ایضاًجلد اول، ص: ۳۵۷

(۹)  ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، البلاغ پبلیکیشنز ابو الفضل انکلیو، نئی دہلی ۲۰۱۵؁ء ص: ۲۳۶

(۱۰)  ثروت صولت ، جلد اول، ص: ۳۵۷                                          (۱۱)                           محمد عمر فاروق ، ص:۲۳۷

(۱۲) ثروت صولت ، جلد اول ،ص: ۳۵۸

(۱۳)  فلپ کے۔ حٹی ، تاریخ عرب ، ص: ۱۳۸

(۱۴)  ثروت صولت ، جلد اول ، ص: ۳۵۹

(۱۵)  ثروت صولت ، جلداول ، ص: ۳۵۹

(۱۷)  ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، ص: ۳۴

(۱۸)  ایضاً  ص: ۳۴    (۱۹)                          ایضاً  ص: ۳۵

(۲۰) ایضاً ص: ۳۶     (۲۱)                        ایضاً  ص: ۳۷

(۲۲) ایضاً  ص:۳۷      (۲۳)                     ایضاً  ص: ۳۸

(۲۴)  ایضاً  ص:۱۹۸    (۲۵)                    ایضاً  ص :۱۹۸

(۲۶)  فلپ کے حتی ، تاریخ عرب،  ص: ۱۴۵۔۱۴۶۔

(۲۷)  ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیب و ثقافتی تاریخ ، ص: ۱۹۹

(۲۸)  ایضاً  ص: ۲۰۰        (۲۹)                      ایضاً  ص: ۲۰۳

(۳۰)   ایضاً  ص: ۲۰۴۔ ۲۰۵    (۳۱)                        ایضاً  ص: ۲۰۶۔۲۰۷

(۳۲)   فلپ کے حٹی، تاریخ عرب ،  ص: ۱۴۲

(۳۳) ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، ص: ۲۰۸

(۳۴)  ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، ص: ۲۰۸

(۳۵)   یٰسین مظہر صدیقی ، تاریخ تہذیب اسلامی ، انسیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی  ۲۰۱۲؁ء جلد : ۴، ص: ۳۵۴

(۳۶)   ثروت صولت ، ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ ،  جلد اول  ص:

(۳۷)    ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، ص: ۲۰۹۔ ۲۱۰

(۳۸)   ایضاً ،  ص: ۲۱۰

(۳۹)  یٰسین مظہر صدیقی، تاریخ تہذیب اسلامی ،ج :۴،ص: ۱۸۰

(۴۰)   یٰسین مظہر صدیقی، تاریخ تہذیب اسلامی ِ جلد چہارم  ص: ۱۸۱

(۴۱)   محمد عمر فاروق ، مسلمہ اسپین ۔ تہذیب و ثقافتی تاریخ ۔ ص: ۲۱۱

(۴۲) ڈاکٹر فواد سیزگین ، تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام ، ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد،  ۲۰۰۵ء  ص : ۵۶

(۴۳)  ایضاً ، ص : ۶۰

(۴۴) صدیقی، یٰسین ظہر ، تاریخ تہذیب اسلامی جلد چہارم  ص: ۱۹۳

(۴۵)    محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، ص: ۲۱۱ ۔ ۲۱۲

(۴۶) فواد سیزگین، ص: ۵۶

(۴۷)    محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، ص: ۲۱۲

(۴۸)     فلپ کے ۔حٹی ، تاریخ عرب ،  ص: ۱۴۶

(۴۹)     محمد عمر فاروق ،  ص: ۲۱۲

(۵۰) فلپ کے۔ حٹی ، تاریخ عرب ،  ص: ۱۴۴

(۵۱)   ثروت و صولت ، ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ  جلد اول ص: ۳۶۰

(۵۲)    فواد سیزگین ، ص :۶۲    (۵۳)                    ثروت و صولت ، جلد اول ص: ۳۶۱

(۵۴)   ایضاً :  ص: ۳۶۲      (۵۵)                     فلپ کے۔ حٹی ، تاریخ عرب  ص: ۱۳۹

(۵۶)  ثروت و صولت ، جلد اول  ص: ۳۶۲

کتابیات

٭                                    ڈاکٹر محمد اسحاق ، اندلس اور سسلی کی مسلم تاریخ و ثقافت ، البلاغ پبلیکیشنز ، ابو الفضل انکلیو ، نئی دہلی جنوری ۲۰۰۹؁ء

٭                                    فلپ ۔ کے ۔ حتی ، تاریخ عرب، البلاغ پبلی کیشنز  ۱۰۱۲؁ ء

٭                                    ثروت صولت، ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ ،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیشرز نئی دہلی ۲۰۱۴

٭   ڈاکٹر محمد عمر فاروق ، مسلم اسپین ۔ تہذیبی و ثقافتی تاریخ ، البلاغ پبلیکیشنز ابو الفضل انکلیو، نئی دہلی ۲۰۱۵؁ء

٭                                    یٰسین مظہر صدیقی ، تاریخ تہذیب اسلامی ، انسیٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی  ۲۰۱۲؁ء

٭                                     ڈاکٹر فواد سیزگین ، تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام ، ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد ، ۲۰۰۵ء

جولائی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau