نقد و تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

قرآن کا نظام خاندان

مصنف     :               مولانا سید جلال الدین عمری

صفحات     :               ۳۲٭اشاعت نومبر۲۰۱۲٭قیمت :۱۸روپئے

ناشر          :               مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دعوت نگر، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر،نئی دہلی۱۱۰۰۲۵

پیش نظر کتاب مولانا سید جلال الدین عمری کا وہ کلیدی خطبہ ہے، جو انھوں نے ادارہ علوم القرآن علی گڑھ کے سیمینار منعقد نومبر ۲۰۰۹؁ء میں پیش فرمایا تھا۔ سیمینار کا مرکزی موضوع ’’خاندانی نظام اور قرآنی تعلیمات ‘‘ تھا۔ اس خطبے میں اصلاً قرآن مجید کی روشنی میں زوجین کے حقوق وفرائض کی وضاحت کی گئی ہے۔ مولانا موصوف کی طویل تصنیفی زندگی کا اختصاصی موضوع اسلامی معاشرہ اور عائلی نظام رہا ہے۔ اس پر آپ کی وقیع اور مؤقر تصانیف موجود ہیں۔ مثلاً عورت اسلامی معاشرے میں، اسلام کا عائلی نظام، عورت اور اسلام، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعتراضات کاجائزہ وغیرہ ، ان کتابوں کے مختلف زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ پیش نظر کتاب اگرچہ مختصر ہے مگر اس میں جامعیت کے ساتھ مقاصد نکاح، حقوق زوجین، حکمت تعددازدواج، مصلحت طلاق، تربیت اولاد، والدین اور رشتے داروں کے حقوق کی وضاحت کی گئی ہے۔ نظام خاندان کے ضمن میں پردہ اور وراثت کی تقسیم کے موضوعات بھی زیر بحث آسکتے تھے، اس لیے کہ مولانانے اپنی دیگر تصانیف میں ان پر تفصیل سے بحث کی ہے، غالباً اسی وجہ سے یہاں انھوں نے ضروری نہیںسمجھا۔یہ مختصر سی کتاب اس پہلو سے اہمیت رکھتی ہے کہ کم وقت میں خاندانی نظام سے متعلق قرآنی تعلیمات سے فی الجملہ واقفیت ہوجاتی ہے۔   ﴿محمد جرجیس کریمی﴾

خدا کی بستی میں

مصنف     :               ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی

سالِ اشاعت:           ۲۰۱۲ ٭صفحات:۲۳۲٭ قیمت=/۱۲۵روپے

ناشر          :               القلم پبلی کیشنز ٹرک یارڈ، بارہ ملّا، کشمیر ۱۹۳۱۰۱

ڈاکٹر عبیداللہ فہد ہمارے تحریک پسند حلقے کے مشہور ونام ور اسکالر ہیں۔ وہ علی گڑھ یونی ورسٹی علی گڑھ کے شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں ایک موقر وہردل عزیز استاذ کی حیثیت سے خدمت درس وتدریس انجام دے رہے ہیں۔ تصنیف وتالیف اور مطالعہ وتحقیق سے انھیں خصوصی شغف ہے۔ مختلف سطح کے علمی وادبی سمی ناروں اور مذاکروں میں آئے دن ان کی شرکت ہوتی رہتی ہے اور ان میں وہ اپنے جو مقالات و مضامین پیش کرتے ہیں۔ انھیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔اب تک ان کی متعدد تصانیف اور تراجم شائع ہوچکے ہیں۔ ایک سے زائد کتابیں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی نے بھی شائع کی ہیں۔

ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی کی زیر نظر کتاب ’’خدا کی بستی میں‘‘ پاکستان کے دو بڑے شہروں اسلام آباد اور لاہور کے سفرناموں پر مشتمل ہے۔ انھوں نے پہلا سفر مارچ ۱۹۸۸؁ء میں اپنی تعلیمی وتحقیقی ضرورت کے پیش نظرکیا تھا، جب کہ دوسرا سفر عالمی رابطہ ادب اسلامی کی طرف سے منعقد ہونے والے سہ روزہ سمی نار کی دعوت پر پہلے سفر کے دس برس بعد ہوا۔ اس سفر میں انھیں پروفیسر علامہ نثار احمد فاروقیؒ، پروفیسر یٰسین مظہر صدیقی، پروفیسرسید ضیاء الحسن ندویؒ اور پروفیسر اسلوب احمد انصاری حیسے رجال علم وتحقیق کی معیت حاصل تھی اور تیسرا سفر انھوں نے مارچ ۲۰۱۱؁ء میں اُس سہ روزہ سمی نار میں شرکت کی غرض سے کیا تھا جو بین الاقوامی اِسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد میں ادارۂ تحقیقات اسلامی، اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فارریسرچ اینڈ ڈائی لاگ اور ہائرایجوکیشن کمیشن پاکستان کے اشتراک سے ’دورِ جدید میں سیرت نگاری کے رجحانات ‘ کے موضوع پر انعقاد پزیر ہوا تھا۔

’’خدا کی بستی میں‘‘ کے مطالعے سے اس بات کا بہ آسانی اندازہ کیاجاسکتاہے کہ سفر ناموں پر مصنف کی اچھی نگاہ ہے۔ ان کی تحریر سے ان کی محنت اور کثرت نویسی کا بھی احساس ہوتا ہے۔وہ جو بات بھی لکھتے ہیںبہ ہر پہلو اس کی جزیات کااحاطہ کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے:

’’﴿پاکستان کے ﴾مردوں کا قومی لباس شلوار سوٹ اور اوپر سے جیکٹ عام ہے۔ شاہ راہوں پر ، دکانوں میں کھیت کھلیانوں میں، کالجوں اور مدرسوں میں عام ہوچکا ہے۔ بعض دینی وسیاسی رہ نماؤں کو شیروانی کااستعمال کرتے بھی دیکھا، مگر خال خال ۔پینٹ شرٹ اور جینز کااستعمال کم ہے۔ اسے وہاں مغربی لباس تصور کیاجاتا ہے اور اس کی ہمت شکنی کی جاتی ہے۔ تاہم کالجوں میں یہ سج دھج بھی نظر آجاتی ہے۔ ‘‘                                                     ﴿ص:۶۰﴾

اسی طرح صفحہ ۶۱ اور ۶۲پر جو انھوں نے وہاں کے کتب بازاروں ، اپنی خریداریِ کتب اور پھر ہندستان کے بارڈر واگھا پرکسٹم آفیسر کے رویے کا ذکر کیا ہے، وہ بھی دلچسپ ہے، اس سے مصنف کی جزرسی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور دیدہ وری کا بھی۔

صفحہ۱۶۹ پر مصنف نے ’’بے قید مذہبی تعبیرات‘‘ کے عنوان سے لبرل افکار اور بے قید مذہبی ترجمانی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جاوید احمد غامدی وہاں کے ایک بڑے لبرل مفکر ہیں۔ انھوں نے ملک میں اپنے لیے ناسازگار حالات دیکھ کر عارضی طور پر ملیشیا میں سکونت اختیار کرلی ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدا میں وہ تحریک اسلامی کے ساتھ تھے۔ پھر فکر فراہی کے خوشہ چیں بن کر امین احسن صاحب کے حلقے سے وابستہ ہوگئے اور اب بامِ ارتقا پر قدم رکھ کر لبرل مفکر ہوگئے ہیں اور وہاں کی لبرل قوتوں کی طرف سے ان کی حمایت ہورہی ہے۔

ڈاکٹر عبیداللہ فہد نے ایک جگہ افکار اصلاحی پر ایک تحقیقی مقالے کا تذکرہ کرتے ہوئے بڑی معلومات افزا باتیں لکھی ہیں۔ مقالہ نگار کی یہ بات اہل علم خصوصاً وابستگانِ تحریک کے لیے قابل توجہ ہے کہ احادیث سے استدلال واستناد کے باب میں تفسیر ’تدبرقرآن ‘ کا پہلو بہت کم زور ہے۔ ڈاکٹر عبیداللہ فہد نے لکھاہے کہ فاضلِ مصنف نے تدبرقرآن کی نو جلدوں کا بالا ستعاب مطالعہ کیا اور ہرجلد میں جن احادیث کو نقل کیاگیا ہے، اُنھیں شمار کیا تو ۵۸۴۴ صفحات کی اس تفسیر میں صرف اَسّی احادیث جگہ پاسکی ہیں اور اس پر مزید یہ کہ ان ذکر کردہ احادیث میں تقریباً چوتھائی احادیث وہ ہیں، جو محض تردید کے لیے نقل کی گئی ہیں۔ اس طرح تقریباًساٹھ احادیث ہی باریاب ہوسکی ہیں۔

’خدا کی بستی میں‘ کے مطالعے کے دوران میں بعض باتیں شدت کے ساتھ کھٹکیں ۔ ان کا اجمالی تذکرہ بھی مناسب ہوگا۔ بیش تر مقامات پر طوالت بے جا کا اِحساس ہوا، مصنف ایک عربی مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں، ان کے قلم سے علی الصبح، گردن زدنی کے قابل اور اکابرین جیسے الفاظ دیکھ کر حیرت ہوئی، انھوں نے کتاب کا انتساب ’مذہب کے اجارہ داروں کے نام‘ کیا ہے۔ یہ ایک اچھی اور قابل مطالعہ کتاب میں خواہ مخواہ کی نازیباپیوند کاری محسوس ہوئی۔ اس قسم کا طنز دوسرے لوگوں کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔امید ہے کہ کتاب کا اگلا ایڈیشن اِس قسم کے داغ دھبّوں سے پاک ہوگا۔

تبصرہ نگار کی رائے میں ’خدا کی بستی میں‘ ایک اچھی اور وقیع کتاب ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اس قابل ہے کہ اِسے خرید کر ذاتی اور اجتماعی لائبریریوں کی زینت میں اضافہ کیا جائے۔ میں ایک اچھی کتاب کی تصنیف اور اس کی اشاعت پر اپنے عزیز ورفیق ڈاکٹر عبید اللہ فہد کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔    ﴿تابش مہدی﴾

سہولت

ایڈیٹر       :               اوصاف احمد

جلد:۱، شمارہ۱،جون ۲۰۱۲، صفحات:۳۸، قیمت:۱۵۰روپے

ملنے کا پتا     :               F- A/۸۱، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی۱۱۰۰۲۵

دوسال قبل سماجی خدمات فراہم کرنے والی ایک سوسائٹی سہولت ومائکروفائنس سوسائٹی، کے نام سے دہلی میں رجسٹرڈ کروائی گئی ہے۔ اس کا مقصد غریب اور پسماندہ طبقات کو غیر سودی بنیاد پر قرضے فراہم کرنا اور معاشی میدان میں اُنھیں اونچا اٹھانا ہے۔ زیرنظر مجلہ اسی کا شش ماہی انگریزی ترجمان ہے۔ یہ اس کا پہلا شمارہ ہے۔ اس میں عالمی شہرت کے حامل ماہرین کے مقالات شامل ہیں۔ پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی نے غیر سودی مائکروفائننس کے بعض پہلوؤں پر اظہار خیال کیاہے۔ ڈاکٹر محمد عمر چھاپرا نے فائننس میں عدم مساوات کا اسلامی حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر سیدمحمد عبداللہ نے زکوٰۃ اور اوقاف کا جائزہ مائکروفائننس کے ذرائع کی حیثیت سے لیا ہے، ڈاکٹر سیدوقار انور نے مائکیرو فائننس کی سہولت فراہم کرنے والے بنگلہ دیش کے اداروں گرامین بینک اور اسلامی بینک کی بیلنس شیٹ کا تجزیہ کیا ہے۔ جناب ارشد اجمل نے دوکوآپریٹیو سوسائٹیوں : الخیر اور جن سیوا کا تعارف کرایا ہے۔ موضوع سے متعلق بعض دیگر اہم مضامین بھی ہیں۔ آخر میں مائکروفائنسس بل ۱۱۰۲ئ کو بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے۔ حاصلِ تبصرہ یہ کہ مجلہ سہولت مائکرو وفائننس کے موضوع پردستاویزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذمہ داران اس اہم خدمت پر قابل مبارک باد ہیں۔ ﴿محمد رضی الاسلام ندوی﴾

مارچ 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau