نقد وتبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

حامد ومخفی اور ان کے کلام کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ

مصنف     :               ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی

صفحات     :               208        ٭ قیمت   :               200/-

ملنے کاپتا     :               مرزاساجد امروہوی، محلّہ سدّو، امروہہ-244221،یوپی

ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی ایک ذہین، صاحبِ بصیرت اور سنجیدہ ناقد ومحقق ہیں۔ مذہبی سوچ، تعمیری فکر اوربے باکی وغیرجانب داری ان کی شناخت ہے۔ وہ مذہب، تصوّف، سماجیات اور شعرو ادب کو موضوع گفتگو بناکر اورصلہ وستایش سے بے نیاز ہوکر مسلسل لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی کئی کتابیں اورایک سو کے قریب مضامین اور مقالے شائع ہوچکے ہیں۔ انھوںنے اِقبالیات پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اِس سلسلے کی ان کی ایک کتاب آٹھ دس برس پہلے شائع ہوئی تو اہلِ علم طبقے میں اس کا کافی چرچا رہا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ملازمت کے باوجود انھوںنے سرسیّد کی مذہبی فکر پر جس جرأت و بے باکی کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے، اس سے سنجیدہ اہلِ علم طبقے میں اُنھیں قدر کی نگاہ سے دیکھاگیا۔

زیرنظر کتاب حامد  ومخفی اور ان کے کلام کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ، ایک قابلِ تحسین ادبی و تنقیدی کارنامہ ہے۔ اس میں انھوںنے امروہہ کے درویشِ صفت سخن ور، مدّاح رسولﷺ حضرت رؤف امروہوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادے کے دوخوش نصیب سخن وروں جناب حامد  امروہوی اور محترمہ مخفی  امروہوی کی شاعری کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ کیا ہے۔ حسبِ ضرورت عملی تنقید کا بھی رویّہ اختیار کیا ہے۔ یہ کتاب مجموعی طورپر دو سو آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔ شروع کے چند صفحات میں ’’امروہہ اور اس کی ادبی وشعری روایات‘‘ کے عنوان سے امروہے کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایاگیا ہے کہ علم وادب کی دنیا میں امروہہ یا امروہے سے تعلق رکھنے والے شعرا وادبا کو کیا حیثیت حاصل رہی ہے۔اِسے اتفاق ہی نہیں بل کہ حسنِ اتفاق کہیے کہ کتاب میں جن دو سخن وروںکو موضوعِ گفتگو بنایاگیاہے اور ان کی شاعری کاجائزہ لیاگیاہے، وہ دونوں باہم میاں اور بیوی کے رشتے سے منسلک ہیں۔ ایسی صورت میں لکھنے والے کے سامنے یہ مسئلہ بہ ہرحال ہوتاہے کہ کس طرح توازن کو برقرار رکھاجا سکے گا۔

مصنف نے سب سے پہلے بزرگ سال وکہنہ مشق شاعر جناب حامد  امروہوی کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ حامد  امروہوی کاخاندانی پس منظر، کے عنوان سے حامد امروہوی کا خاندانی تعارف کراتے ہوئے انھوںنے ان کے والدِ محترم حضرت رؤف امروہوی کی شخصیت اور شاعری پر بڑی بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ جب میں نے درج ذیل سطریں پڑھیں تو مجھے ایسا لگاکہ حضرتِ رؤف امروہوی بالکل میرے سامنے موجود ہیں:

’’حضرت رؤف قدیم تہذیب و روایات اور مشرقی وراثت کے وارث و امین تھے۔ قد مختصر سا تھا اور جسم بھی کم زور، لیکن خلوص ومحبت، اخلاق وآداب، خداترسی اور حُبّ رسول سے سرشار تھے۔ روایت پسندی ان کی طبیعت و مزاج میں رچی بسی تھی اور ان کی شخصیت کا جزو لاینفک بن گئی تھی۔ وہ روایت کی پابندی نہ صرف خصوصی معاملات میں کرتے تھے، بل کہ نشست وبرخاست ، گفتگو و ملاقات اور روزمرّہ کے مشاغل میں بھی ہمیشہ اپنی روایات کی پابندی کا خاص لحاظ رکھتے تھے۔ معمولات کے سختی سے پابند تھے اور مدت العمر اُن پر عامل رہے۔‘‘

اِس لیے کہ مجھے بھی حضرت رؤف کی صحبتیں حاصل رہی ہیں اور ان کے اُس اخلاقی و تہذیبی رکھ رکھاؤ سے میں بھی متاثر رہاہوں، جن کا انھوںنے تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔

جناب حامد امروہوی حضرت رؤف کے منجھلے فرزند ہیں۔ شاعری خصوصاً نعت گوئی کاذوق اُنھیں ورثے میں ملاہوا ہے۔ انھوںنے اپنے والدِ محترم کے علاوہ علّامہ شہباز امروہوی، مفتی نسیم احمد فریدی، حضرت کوثرالقادری، حکیم کلب علیشاہد امروہوی اور اپنے برادرِ بزرگ حضرت سیفی امروہوی سے بھی کسب فیض کیاہے۔ سرکاری ملازمتوں کے ساتھ انھوںنے مشقِ سخن سے بھی رشتہ جوڑے رکھا۔ ۱۹۹۶؁ء تک ہندستان میں رہے تو یہ سلسلہ کچھ کم زور سا رہا، لیکن ۱۹۹۶؁ء میں جب یہاں کی ملازمت سے سبک دوش ہوکر انھوں نے امریکا کو اپنا مسکن بنایا تو یہ سلسلہ اتنا زوردار اور مستعدی سے چلاکہ دیکھتے دیکھتے ان کے کلام کے پانچ مجموعے وجود میں آگئے۔ اپنے والدِ محترم کی تربیت اور فیضان کے مطابق نعت گوئی ہی کو انھوںنے اپنا میدانِ سخن بنایا۔ امریکا میں اپنے مکان کا نام بھی‘‘نعت کدہ‘‘ رکھا اور پورے ملک میں ایک نعت گوکی حیثیت سے شہرت و نیک نامی حاصل کی۔ ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی نے ان کی شاعری خصوصاً نعت گوئی پر بڑی تفصیلی گفتگوکی ہے اور اس کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ انھوںنے اس سلسلے میں حامد امروہوی کی تمام کتابوں کابھی تفصیلی تعارف کرایا ہے۔ مثلاً یہ کہ ان میں کتنے صفحات ہیں، کون کون سی اصناف اس میںشامل ہیں اور ہر صنف میں کتنی تخلیقات ہیں، کن کن لوگوں نے ان پر دیباچے اور مقدمّے لکھے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی بتایاہے کہ ان کتابوں کا انتساب کس کے نام کیاگیا ہے۔

محترمہ سردار خانم مخفی امروہوی امروہہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد محترم جناب الحاج سردار احمد خاں ﴿علیگ﴾ ایڈوکیٹ امروہہ میونسپل بورڈ کے ایگزیکیٹیوآفیسر رہے ہیں۔ تقویٰ، طہارت، دین پسندی اور امانت و دیانت میں اپنے زمانے میں وہ غیرمعمولی شہرت رکھتے تھے۔ مجھے بھی اس بات کا شرف حاصل رہاہے کہ میں نے کئی سال تک دارالعلوم چلّہ میں ان کے تحت کام کیا ہے۔ میرے ساتھ ان کی شفقتیں اور ہم دردیاں مثالی رہی ہیں۔ لیکن عدل و انصاف کے معاملے میں وہ کسی کو بخشنے کے قائل نہیں تھے۔ محترمہ مخفی میں شعری ذوق تو پہلے ہی سے تھا، ان کے والدِ محترم جناب سردار احمد خاں ﴿علیگ﴾ بھی ستھرا شعری ذوق رکھتے تھے اور شاعری کے حسن و قبح پر ان کی گہری نگاہ تھی، لیکن جب خانوادۂ رؤف میں ان کا داخلہ ہوا اور وہ اس گھر کی بہو بن کر اس میں داخل ہوئیں تو یہاں کی دنیا ہی دوسری تھی۔ شعرو نعت گوئی ہی اس گھر کا اوڑھنا بچھوناتھا۔ چناں چہ ’’ہرکہ درکانِ نمک رفت نمک شد‘‘ کی فارسی کہاوت کے مطابق وہ بھی اسی رنگ میں رنگ گئیں اور باقاعدہ مشقِ سخن کرنے لگیں۔ ان کے شوہر محترم حضرت حامد امروہوی نے ان کے شعری رویّے کی قدر افزائی کرتے ہوے ’’متاعِ مخفی‘‘کے نام سے ان کی غزلوں کا مجموعہ مرتب کرکے شائع کردیا۔ ایک شاعر شوہر کی اپنی شاعرہ بیوی کی ایسی قدر افزائی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی نے کتاب کے دوسرے حصّے میں محترمہ مخفی امروہوی کی غزل گوئی کو موضوع گفتگو بنایاہے اور ان کی بعض تاثراتی نظموں کو بھی۔

حقیقت یہ ہے کہ زیرِ نظر کتاب جہاں جناب حامد امروہوی اور ان کی اہلیہ محترمہ مخفی امروہوی کی شاعری سے متعارف کراتی ہے اور ان دونوں سخن وروں کی شاعرانہ حیثیت متعین کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہے وہیں اس کے مصنف ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی کے فہم وفراست اور ادبی و تنقیدی بصیرت کابھی تعین کرتی ہے۔

جماعت اسلامی ہند ایک نظر میں

مصنف:    غلام رسول دیش مکھ

ناشر:        مکتبہ اسلامی ریڈینس اسکول، راٹھ حویلی، فیض آباد یوپی

جناب غلام رسول دیش مکھ تحریک اسلامی کے ایک بزرگ و فعال خادم ہیں۔ زیرنظر کتابچہ ان کے مراٹھی میں تیار کردہ پریس ریلیزکا اُردو ترجمہ ہے۔ اِس میں انھوںنے نہایت اختصار کے ساتھ برادرانِ وطن کے سامنے جماعت اسلامی کا تعارف اور اس کے ارتقائی مراحل کو قلم بند کیاہے۔ ان کی یہ تحریر ماہ نامہ زندگی نو، سہ روزہ دعوت اور کانتی میں بھی چھپ چکی ہے۔ تحریر کی اہمیت کے پیشِ نظر جناب محمد حسن ناظم ضلع فیض آباد یوپی نے اِسے اپنے مکتبے سے شائع کیاہے اور قیمت صرف 3/-روپے رکھی ہے۔ امید ہے کہ یہ کتابچہ ’’بہ قامت کہتر، بہ قیمت بہتر‘‘ کے مصداق عام انسانوں تک جماعت کی دعوت اور پیغام کو پہنچانے میں معاون ثابت ہوگا۔

ملت کی شیرازہ بندی ﴿بھارت کے تناظر میں﴾

مصنف :    محمد نصیرالدین

صفحات:    ۲۱۱          ٭ قیمت: 60/-

ناشر:        ہادی پبلی کیشن 16-2-867/A جے-وائی-جے کالونی، سکندرآباد، حیدرآباد۵۰۰۰۵۹

ملتّ اسلامیہ دنیابھر میں بڑی تعداد میں موجود ہونے اور جماعتوں اور تنظیموں کی کثرت کے باوجود عالمی سطح پر جس بحرانی و اضطرابی صورتِ حال سے دوچار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس سلسلے میں اخبارات و جرائد میں آئے دن مضامین، مقالات اور بیانات آتے رہتے ہیں۔ تقریروں اور نجی مجلسوں میں بھی اِس پر گفتگو رہتی ہے۔ اِ ن تحریروں، گفتگوؤں اور بیانات سے یہ حقیقت واضح طورپر سامنے آتی ہے کہ اِس بحران میں بہت بڑا حصہ خود موجودہ ملّت اسلامیہ کا ہے۔ زیرنظر کتاب ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی بھی اِسی سوچ اور فکرمندی کامظہر ہے۔ کتاب کے مصنف پوٹا کے غیرمنصفانہ قانون کے تحت ایک فرضی جرم کے الزام میں کئی سال تک احمدآباد کے جیل میں رہے ہیں۔ اس مخصوص صورتِ حال نے کتاب کی تاثیر کو دوچند کردیاہے۔

بہ جا طورپر اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے اتحاد واتفاق کا جذبہ پروان چڑھے گا، اصلاح معاشرہ کا احساس پیدا ہوگا اور ملت کی حفاظت و نصرت کی فکراجاگر ہوگی۔ ‘‘

اپریل 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau