نیرِ دعوتِ حق تیری تجلّی کے نثار

یہ نظم ۱۹۷۴ء میں منعقد ہونے والے جماعتِ اسلامی ہند کے کل ہند اجتماع (دہلی)

کے لیے لکھی گئی تھی

رہروو! جشن کہ منزل کے نشاں ابھرے ہیں

مے کشو! رقص کہ میخانہ نظر آیا ہے

کوہِ فاراں کی بلندی پہ جو چمکا تھا کبھی

پھر وہی جلوۂ جانانہ نظر آیا ہے

جس سے چھلکی تھی کبھی وحدتِ آدم کی شراب

مدتوں بعد وہ پیمانہ نظر آیا ہے

چھوڑ کر شہرِِ ہوس عشق کے ویرانے میں

کوئی وحشی کوئی دیوانہ نظر آیا ہے

عشق اک محفل فردا کو سجانے کے لیے

عیشِ امروز سے بیگانہ نظر آیا ہے

یہ مرا حسنِ نظر ہے کہ تمنا کا فریب

فقر باسطوتِ شاہانہ نظر آیا ہے

گھُپ اندھیرے میں چمکتے ہوئے جگنو کی طرح

ایک بھولا ہوا افسانہ نظر آیا ہے

اک ذرا غُرفۂ ظلمت سے جو پردہ سرکا

نگہِ شوق کو کیا کیا نہ نظر آیا ہے

نیرِِ دعوتِ حق تیری تجلّی کے نثار

اپنے اندر کا صنم خانہ نظر آیا ہے

مشمولہ: شمارہ نومبر 2024

مزید

حالیہ شمارے

فروری 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223