سورہ مزمّل – ایک تعارف

محمد اسد ابن محمد اظہر

سورۃ مزمّل کے شان نزول میں یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ قریش دارالندوہ میں اِسلامی دعوت اس کے خلاف تدبیریں سوچنے اور سازشیں کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے۔ جب رسولﷺکو اس بات کاعلم ہوا تو آپﷺکو بہت رنج ہوا اور آپﷺچادر لپیٹ کر حزن وملال کے ساتھ سوگئے۔ اس وقت جبرائیل اس سورۃ کاابتدائی حصّہ ﴿یَاَیُّھَاالْمُزَّمِّلْ قِمُ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاَ ﴾لے کر آئے۔ سورۃ کا دوسرا حصّہ ﴿ان رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ لَقُوْمُ اَدْنیٰ مِنْ …الَّیْل﴾ آخر سورۃ تک پورے ایک سال کے بعد نازل ہوا۔ رسول اور آپﷺکے اصحاب کاگروہ اتنی دیر تک عبادت الٰہی میں کھڑارہتاتھاکہ ان کے قدم متورّم ہوجاتے تھے۔ اس طرح تقریباً بارہ مہینوں کی تربیت کے بعد سورۃ کے اس دوسرے حصّے کے ذریعے تخفیف کاحکم نازل ہوا۔ اس سلسلے میں ایک دوسری روایت بھی بیان کی جاتی ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے قبل غارِحِرا میں عبادت الٰہی کیاکرتے تھے۔ آپﷺکا یہ عمل ہر سال ایک ماہ ہواکرتاتھا۔ ﴿ماہِ رمضان میں﴾ ۔ آپﷺغارحرا تشریف لے جاتے ۔ وہاں آپﷺایک ماہ قیام کرتے۔ اگر کوئی مسکین ادھر پہنچ جاتاتو اسے کھاناکھلادیتے اور اپنا سارا وقت عبادت اور اپنے اردگرد کے مناظر کائنات اور ان کے پیچھے پوشیدہ تخلیقی قدرت میں تفکر و تدبر میں صرف کرتے۔ آپﷺکی قوم شرک کے جن فاسد عقائد میں مبتلا تھی ، ان پر بے چین تھے لیکن آپﷺکے سامنے کوئی واضح راستہ اور متعین طریقہ نہ تھا۔

اللہ تعالیٰ جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو امانت عظمیٰ کا بار اٹھانے روئے زمین کا یا پلٹ دینے اور تاریخ کا دھارا موڑنے کے لیے تیار کررہاتھا، اس نے کار رسالت سونپنے سے تین سال قبل آپﷺکے لیے اس عزلت نشینی کانظم کردیاتھا۔ آپ ایک ماہ کا عرصہ کائنات کی آزاد روح کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر تنہائی میں گزارتے اور اس کے پرے پوشیدہ غیبیات میں تدبر کرتے۔ پھر جب مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس کی رحمت کافیضان اہل زمین پر ہوتو جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غارحرا میں تشریف لائے اور وہ کچھ ہوا جس کی آپﷺنے خبر دی۔ ابن اسحاق نے ویہب بن کبیان سے اور انھوں نے عبید کے واسط سے روایت کیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’جبرائیل ؑ میرے پاس آئے، اس وقت میں سورہاتھا۔ ان کے ساتھ دیبا کے ایک کپڑے میں ایک تحریر تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا پڑھو۔ میں نے کہا۔ میں نہیں پڑھ سکتا۔ انھوں نے مجھے بھینچ لیایہاں تک کہ میں گمان کرنے لگاکہ بس موت آئی، پھر انھوں نے مجھے چھوڑدیا اور کہا۔ پڑھو میں نے کہا۔ میں نہیں پڑھ سکتا۔ انھوں نے مجھے پھربھینچ لیایہاں تک کہ میں گمان کرنے لگا’بس اب موت آئی، انھوں نے پھر مجھے چھوڑدیا اور کہا پڑھو میں نے کہا کیا پڑھوں؟ ﴿آنحضرتﷺفرماتے ہیں کہ میں نے صرف یہ اس لیے کہاتھا کہ کہیں میرے یہ کہنے پر کہ میں پڑھاہوا نہیں ہوں ، وہ میرے ساتھ دوبارہ یہی نہ کریں﴾ اس پر انھوں نے کہا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقo خَلَقَ الْاِنسَانَ مِنْ عَلَقٍo اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمo الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ oعَلَّمَ الْاِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمo آپﷺنے فرمایا: اِن آیات کومیں نے بھی پڑھا۔ اس کے بعد وہ چلے گئے اور میں اپنی نیند سے بیدار ہوگیا۔ مجھے ایسا محسوس ہواکہ گویا وہ آیات میرے دل پر نقش ہوگئی ہوں۔ میں وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب میں پہاڑ کے وسط میں تھا تو میں نے آسمان سے ایک آواز سنی : ’’اے محمدﷺ! آپﷺاللہ کے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں‘‘ میں نے سر اوپر اٹھایاتو دیکھاکہ جبرائیل ایک آدمی کی شکل میں ہیں، ان کے قدم آسمان کے افق میں پھیلے ہوئے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں: ’اے محمد(ص)! آپﷺاللہ کے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔‘ ﴿آپﷺفرماتے ہیں﴾ میں رک کر انھیں دیکھنے لگا۔ میرا قدم نہ آگے بڑھتا نہ پیچھے ہٹتاتھا۔ میں ان کی طرف سے چہرہ ہٹاکر افق میں ادھر ادھر گھمانے لگا لیکن ہر طرف وہ مجھے اسی حالت میں نظرآئے۔ میں وہیں کھڑا کاکھڑا رہ گیا۔ ادھر خدیجہ نے میری تلاش میں لوگوں کو بھیجا۔ وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے مکہ کے بالائی حصّے تک پہنچ گئے اور مجھے وہاں نہ پاکر وہ لوگ واپس چلے گئے۔ میں وہاں کا وہیں کھڑا رہا۔ پھر جبرائیل چلے گئے تو میں بھی گھر واپس آگیا۔ خدیجہ کے پاس آکر میں انتہائی قریب بیٹھ گیا۔ انھوںنے کہا: ’اے ابوالقاسم آپ کہاں تھے، خدا کی قسم میں نے آپ کی تلاش لوگوں کو بھیجاتھا، وہ مکہ تک آپ کو ڈھونڈ آئے، مگر آپ نہ ملے تو تھک ہارکر واپس آگئے۔ میں نے جو کچھ دیکھاتھا، بیان کردیا تو کہنے لگیں: ’اے میرے چچا کے لڑکے بشارت قبول کیجیے اور ثابت قدم رہیے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں خدیجہ کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ آپ اس امت کے نبی ہوں گے۔‘‘

پھر نبی کے پاس ایک مدت تک وحی کی آمد منقطع رہی۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپﷺپہاڑ پر تھے، وہاں اچانک پھر جبرائیل(ع) پر نظر پڑی۔ اس وقت آپﷺپر کپکپی طاری ہوگئی۔ ایسا لگنے لگاکہ آپﷺگرپڑیںگے، آپﷺکانپتے ہوئے گھر واپس آئے اور کہا: مجھے چادر اڑھائو، مجھے چادر اڑھائو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ آپﷺپر خوف طاری تھا، اس کی وجہ سے آپ کانپ رہے تھے۔

سورۃ کے ابتدائی حصّے کی شان نزول کے سلسلے میں خواہ پہلی روایت صحیح ہو یا دوسری، بہرحال رسول صلی اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگیاتھاکہ یہ خواب نہیں ہے۔ بلکہ آپﷺپر ایک گرانبار بوجھ ڈالاگیا ہے۔ یہ دعوت چین کی نیند نہ سونے دے گی۔ بلکہ اب بیداری، محنت اور مشقت کاوقت آگیا ہے۔

رسولﷺکوحکم دیاگیااٹھ کھڑے ہو، آپ کھڑے ہوگئے اور بیس سال سے زائد عرصے کھڑے رہے۔ نہ سکون کی سانس لی نہ اپنے لیے زندہ رہے نہ اپنے گھر والوں کے لیے۔ آپﷺاٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ اپنے کندھوں پر گرانبار بوجھ اٹھاتے رہے اور تھکن کااظہار تک نہ کیا۔

وہ ضمیر جو جاہلیت کے اوہام وخرافات میں ڈوباہواتھا۔ زمین اور اس کی پُرکشش چیزوں کے بوجھوں سے جھکاجارہاتھا۔ اُسے آزادی ملی تو آپﷺنے پے درپے متعددمعرکہ برپا کیے۔ دعوت الٰہی کے دشمنوں کے ساتھ معرکہ جو اس کی اور اس پرایمان لانے والوں کی عداوت پر کمربستہ ہوگئے تھے ۔ آپﷺجزیرہ عرب کے معرکوں سے ابھی فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ روم کے ساتھ معرکہ پیش آیا۔

اس دوران اولین معرکہ، معرکتہ ضمیر، ابھی ختم نہیں ہواتھا یہ تو ہمیشہ رہنے والا معرکہ ہے۔ اس میں فریق مخالف شیطان ہے۔ جو انسانی ضمیرکے اندرون میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں ایک لمحہ بھی نہیں چوکتا۔ محمدﷺاس محاذ پر اللہ کی دعوت پہنچارہے تھے اور مختلف میدانوں میں ہونے والے معرکہ پیہم میں ڈٹے ہوئے تھے۔ آپﷺمسلسل اور پیہم مشقت کرتے اور تمام تکالیف پر صبر جمیل کرتے۔ راتوں میں قیام کرکے اپنے رب کی عبادت اور قرآن کی تلاوت کرتے اور اسی سے لو لگاتے اور وہ کرتے جس کا اللہ نے آپﷺکو حکم دیاتھا۔

یَا أَیُّہَا الْمُزَّمِّل oقُمِ اللَّیْْلَ اِلَّا قَلِیْلاً oنِصْفَہُ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاًo أَوْ زِدْ عَلَیْْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلاً oاِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاًo اِنَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْْلِ ہِیَ أَشَدُّ وَطْئ اً وَأَقْوَمُ قِیْلاً oاِنَّ لَکَ فِیْ اَلنَّہَارِ سَبْحاً طَوِیْلاً o وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْْہِ تَبْتِیْلاً o رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا اِلَہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلاً oوَاصْبِرْ عَلَی مَا یَقُولُونَ وَاہْجُرْہُمْ ہَجْراً جَمِیْلاًo

’’اے چادر میں لپٹے ہوئے کھڑے ہوجائو تھوڑا آدھیرات یا اس سے کچھ زیادہ اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ بیشک رات کا اٹھنا نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔ اپنے رب کے نام کا ذکر کیاکرو اور سب سے کٹ کر اس اسی کے ہورہو وہ مشرق و مغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو اپنا وکیل بنالو اور جو باتیں لوگ بنارہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ ان سے الگ ہوجائو۔‘‘

سورۃ کے ابتدائی حصّے میں ایک موسیقی کااہنگ اور تقریباً یکساں بہائو پایاجاتاہے اور وہ ہے اور وہ ہے لام مطلقہ ممدودۃ کا۔ یہ وقار، آسودگی اور عظمت کا آہنگ ہے جو ذمّے داری کی عظمت، معاملہ کی سنجیدگی اور سیاق میں بیان کردہ پے درپے ہولناک مناظر کے ساتھ چلتاہے۔ ’’وَذَرنِی وَالْمُکَذِّبِیْنَ أوْلِی النِّعْمَۃِ وَمَہِّلْہُمْ قَلِیْلاً اِنَّ لَدَیْنا اَنْکاَلاًوَّحَجِیْماً وطَعَاماَّ ذَا غُضَّۃٍ وَعَذَاباً اَلِیْماً ’’ان جھٹلانے والے خوش حال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑدو اور تم ان کو تھوڑی مہلت دو۔ بیشک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔‘‘

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالبِحَالٌ کثیباً مہیلا ۔یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے اور پہاڑوں کاحال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر میں جو بکھرے جارہے ہیں، فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْماً یَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبا وَالسَّمَائُ مُنْفَطِرٌبِہٰ کَاَنَ وَعَدُہُ مَفْعُوْلاً۔ اگر تم ماننے سے انکار کروگے تو اس دن کیسے بچ پائوگے۔ جو بچوں کو بوڑھاکردے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹاجارہاہوگا؟ اللہ کا وعدہ پورا ہوکر ہی رہتا ہے۔

آخری طویل آیت جو سورہ کا دوسرا حصّہ ہے قیام لیل کے مذکورہ حکم کے ایک سال بعد نازل ہوئی۔ اس کے ذریعے مذکورہ حکم میں تخفیف کردی گئی اور یہ اطمینان دلایاگیاکہ ایسا اللہ تعالیٰ نے ان کی ذمّے داریوں اور فرائض منصبی کو دیکھتے ہوئے اپنے علم اور حکمت کے مطابق کیاہے۔ یہ آیت ایک خاص نہج پر ہے۔ اس میں طوالت اور اس کی موسیقیت میں تموج اور پھیلائو ہے، سکون اور استقرار ہے اور اس کا قافیہ اس استقرار سے ہم آہنگ ہے ۔سورۃ کے دونوں حصّے اس دعوت کی کتاب تاریخ کا ایک صفحہ پیش کرتے ہیں۔ اس کاآغاز اعلیٰ وکریم ذات کی اس ندائ سے ہوتاہے، جس کے ذریعے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم ذمّے داری سے نوازا گیا ہے۔اس کی تیاری کرنے کے لیے قیام لیل، تلاوت قرآن، ذکر، صرف اللہ سبحانہ‘ کی ذات پر بھروسہ، تکالیف پر صبراور جھٹلانے والوں سے شرافت کے ساتھ علیحدگی کاحکم دیاگیا۔اس کی انتہا نرمی،رحمت، تخفیف اور آسانی کے احساس ، اطاعت و طلب تقرب کی ہدایت اور اللہ کی رحمت و مغفرت کے بیان پر ہوتی ہے۔اس طرح سورۃ کے دونوں اجزا سے اس پاکیزہ جدوجہد کاایک صفحہ منظرعام پر آتاہے۔

اگست 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau