مقاصد شریعت- ایک جائزہ

محی الدین غازی

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ’مقاصد شریعت‘کے مصنف ہیں، اور راقم مقاصد شریعت کا اوسط درجے کا طالب علم ہے۔ اسی رشتے سے فاضل مصنف کی خدمت میں ان کی کتاب مقاصد شریعت سے متعلق کچھ  سوالات اور کچھ وضاحتیں پیش ہیں۔

یہ اعتراف ضروری ہے کہ کتاب میں بہت ساری قیمتی بحثیں ہیں، بہت سارے مقامات بے حدجاذب توجہ ہیں۔ کتاب کا تیسرا باب ’مقاصد شریعت کی پہچان اور تطبیق میں عقل اور فطرت کاحصہ‘ اپنے موضوع پر ایک شاہکار ہے۔ بایں ہمہ یہ سوال کیے بغیر چارہ نہیں کہ مقاصد شریعت جیسی مضبوط اور قدآور دلیل تک رسائی حاصل کرلینے کے باوجود فاضل مصنف نے کمزور اور کوتاہ قد دلیلوں کا سہارا کیوں لیا ہے؟

مثال کے طورپر چہرے کے پردے کے سلسلے میں تو امت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے۔ البتہ سر ڈھانکنے کے بارے میں فاضل مصنف کا اپنا خاص خیال یہ ہے کہ ’شریعت میں سر ڈھانکنے کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں ہے اورسر ڈھانکنا ایک فروعی اور اختلافی مسئلہ ہے۔‘ حکم واضح ہے یا نہیں یہ تو ایک اضافی بات ہے، ممکن ہے ایک حکم دوسروں کی نظر میں واضح ہو اور فاضل مصنف کی نظر میں بالکل واضح نہیں ہو۔ فروعی ہونے میں بھی اختلاف رائے ہوسکتاہے۔ فاضل مصنف کے نزدیک حجاب کامسئلہ فروعی ہے، لیکن سود کامسئلہ فروعی نہیں ہے۔ سابق شیخ ازہر کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی تھے۔ مولانا مودودیؒ کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی نہیں تھے۔ تاہم کسی مسئلے کو اختلافی مسئلہ قرار دینے کے لیے تو تاریخ سے ثبوت درکار ہے۔ فاضل مصنف گزشتہ صدیوں سے کسی ایک معتبر عالم کا حوالہ دے دیتے جس نے سر ڈھانکنے کے حکم سے اختلاف کیا ہو۔ فاضل مصنف نے کوشش ضرور کی ہوگی، لیکن ان کو بیسویں صدی سے پہلے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ملا، چناںچہ اپنے ہی معاصر ڈاکٹر حسن ترابی کے حوالے سے لکھاکہ ان کے نزدیک حجاب کاحکم ازواج مطہرات کے لیے تھا۔ فاضل مصنف کی طرح بہت سارے لوگ حسن ترابی کی گفتگو سے یہی سمجھے کہ وہ سر ڈھانکنے کے قائل نہیں ہیں۔ میڈیا میں شور ہوا تو ڈاکٹر ترابی نے اپنے موقف کی خود وضاحت کی اور مشہور اخبار الشرق الأوسط ﴿۲۱/اپریل ۲۰۰۶؁ء﴾ میں جب ان سے اس بارے میں سوال کیاگیاتو ڈاکٹر ترابی کا جواب یہ تھا: ’یہ ان بعض صحافیوں کا گڑھا ہوا جھوٹ ہے جو اس مذاکرے میں آئے ہی نہیں تھے، جہاں میں نے مسلمان خواتین کے بعض مسائل پر گفتگو کی تھی۔ میرے بارے میں وہ الفاظ لکھ دیے گئے جو میں نے کہے نہیں تھے۔ بعض صحافیوں کو ترابی کے نام سے دلچسپی ہے اور وہ ایسی باتیں میری طرف منسوب کردیتے ہیں جو میں کہتا نہیں ہوں۔ میں اس مذاکرے میں شرعی احکام پر گفتگو کر ہی نہیں رہا تھا۔ میں تو یہ بتارہا تھا کہ قرآن کی زبان جب لوگوں کی اصطلاح میں استعمال ہوئی تو بہت بدل گئی ۔ آگے ڈاکٹر ترابی نے بتایا کہ حجاب اس پردے کو کہتے ہیں جو کمرے میں لٹکایاجاتا ہے۔ عورت کے لباس کے طورپر جو چیز استعمال ہوتی ہے وہ تو خمار ہے۔ لیکن لوگوں نے افواہ اڑادی کہ ترابی حجاب کا منکر ہے اور وہ کہتاہے کہ پردہ صرف سینے کا ہے۔ حالانکہ بات صرف یہ ہے کہ جسے لوگ حجاب کہتے ہیں میں اسے خمار کہتاہوں اور حجاب میرے نزدیک کمرے کاپردہ ہے، کیونکہ قرآن کا استعمال یہی ہے۔ گویا ڈاکٹر ترابی کو سرڈھانکنے سے اختلاف نہیں ہے، ان کا اصرارصرف یہ ہے کہ اسے خمار کہو حجاب مت کہو۔

ڈاکٹر ترابی اپنی مشہور کتاب ’المرأۃ بین تعالیم الدین وتقالیدالمجتمع‘ میں صاف لکھتے ہیں: ’نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا کچھ ظاہر نہ ہو۔‘ ہمارے فاضل مصنف اس سلسلے میں مترجم قرآن محمد اسد کا موقف مراد ہوفمان کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک سر ڈھانکنا عرب کے موسم کے سیاق میں پایاجانے والا ایک رواج تھا، جس کی پابندی مغرب میں رہنے والی مسلمان عورت کے لیے ضروری نہیں۔ فاضل مصنف علم وتحقیق کے اصولوں پر کامل دسترس رکھتے ہیں، وہ خود فیصلہ کریں کہ شریعت کے ایک حکم کو جس پر اب تک ساری امت کا اتفاق رہا، اسے محض رواج قرار دے دینے کے لیے کیامحمد اسد کا بیان کافی ہے؟ یورپ میں اسلام تو عہد اول میں پہنچ گیاتھا، اس وقت اس عام سی بات کی طرف کسی کاذہن کیوں نہیں گیا؟ اور آج اس سلسلے میں اس شخص کی بات نقل کی جارہی ہے جس کی خدمات کا اعتراف اپنی جگہ، مگر کیا وہ قدیم عربوں کے سماجی حالات کا اس درجہ کاماہر مانا جاتاہے؟ اور کیا فاضل مصنف کی ذمّے داری نہیں بنتی تھی کہ اتنی بڑی بات کہنے سے پہلے محمد اسد کی اصل عبارت بھی دیکھ لیتے۔ کیا پتا انھوں نے کچھ اور کہا ہو، لوگ کچھ اور سمجھے ہوں۔ جس طرح ڈاکٹر ترابی نے کچھ کہا اور لوگ کچھ اور سمجھے۔ غرناطہ اور قرطبہ کے فقہا اور اہل علم نے کبھی رواج کے اس فرق کی وضاحت یارعایت اپنے فتووں میں کیوں نہیں کی؟ کیا اس وقت کامغرب کا رواج اور سماج مختلف تھا اور اس رعایت کا متقاضی نہیں تھا؟ اس کا جواب بھی فاضل مصنف ہی بہتر طورسے دے سکتے ہیں کہ کیا محمد اسد سے اتنے بڑے دعوے کے حق میں دلائل نہیں مانگے جائیں گے اور محض ان سے سنی ہوئی ایک رائے کو دلیل کا درجہ دے دیاجائے گا؟ اتنی بڑی بات کہنے پر تو ابن خلدون سے بھی دلیل کامطالبہ کیاجائے گا اور ہم نے تو فاضل مصنف سے یہی سیکھاتھاکہ کسی نئے دعوے کو اس وقت تک اعتبار حاصل نہیں ہوگا جب تک اس کی پشت پر قابل لحاظ ریسرچ اور باوزن دلائل نہ ہوں۔اس قدر کم زور دلیلوں کے ذریعے ان مسلمان باہمت خواتین کی ہمت شکنی کہاں تک درست ہے، جو مغرب میں رہ کر اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے بنیادی حق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں؟

فاضل مصنف نے ’مسلمان عورت کتابی مرد کے نکاح میں‘ کے عنوان کے تحت یورپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی ایک قرار دادکا ذکر کیا ہے، جس میں صاف صاف کہاگیاکہ ’مسلمان عورت کے لیے شروعات کے طورپر غیرمسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کااجماع ہے۔ اسلاف واخلاف سب متفق ہیں۔ اس کے بعد عام رائے سے ہٹ کر ایک فیصلہ اس عورت کے سلسلے میں کیاگیا جس کی شادی پہلے ہوگئی اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا۔ لیکن شوہر نے اسلام قبول نہیں کیا۔ آیا وہ مسلمان بیوی اپنے غیرمسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہے گی یا اس کا نکاح فوراً ختم کردیاجائے گا؟ کونسل کی رائے گوکہ مشہور رائے سے ہٹی ہوئی تھی، لیکن ایسا نہیں ہے کہ بالکل نئی تھی۔بل کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اوّلین دور سے اس مسئلے پر ایک سے زائد آراء رہی ہیں۔

توجہ طلب بات یہ ہے کہ فاضل مصنف نے ڈاکٹر حسن ترابی کی ایک رائے ذکر کی جو الشرق الأوسط میں ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئی۔ ڈاکٹر ترابی نے اس انٹرویو میں یہ رائے دی تھی کہ ایک مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ ہمارے فاضل مصنف نے اس رائے کو اس طرح پیش کیاگویا ڈاکٹر ترابی عورت کے شادی کے بعد اسلام لانے کی صورت میں پرانے نکاح کے باقی رہنے کی بات کررہے ہیں۔ فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا سوال حسب ذیل صورت میں نقل کیا:

سوال: کیا آپ کا خیال ہے کہ وہ شادی شدہ عورتیں جو اسلام لائیں ایک غیرمسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہ سکتی ہیں؟۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ سوال کامذکورہ حصہ نامکمل اور نادرست ہے اور قاری کے ذہن کو دوسری طرف لے جاتاہے، مکمل سوال کے جواب حسب ذیل ہیں:

’آپ کے ان فتووں نے جو آپ نے یہودی یا عیسائی مردوں سے مسلمان عورت کی شادی کے متعلق دیے ہیں، بڑی بحث چھیڑدی ہے۔ آپ کی ان فتووں میں کیا یہ مراد ہے کہ جب عورت اسلام لے آئے اور شوہر اسلام نہیںلائے تو نکاح برقرار رہے گا یا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی مرد سے مسلمان عورت نیا نکاح کرسکتی ہے؟‘

راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ فاضل مصنف نے سوال کو ادھورا ذکر کرکے قاری کو یہ تاثر کیوں دیاکہ ڈاکٹر ترابی غیرمسلم مرد سے نیا نکاح کرنے کے بجائے پرانے نکاح کے باقی رہنے کی اجازت دے رہے ہیں؟

فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا وہ جواب نقل کیاہے جس پر ڈاکٹر ترابی کے چاہنے والے بھی سکتے میں آگئے تھے اور انھیں یہ اعتراف کرناپڑاتھا کہ ڈاکٹر ترابی کی یہ راے انتہائی غیرذمّے دارانہ اور دلائل سے عاری ہے۔ ﴿ملاحظہ ہو متعدد ویب سائٹس پر موجودہ محمدمختارشنقیطی کا مضمون آرائ الترابی من غیرتکفیر ولاتشہیر﴾

راقم فاضل مصنف سے یہ سوال کرنے کی بھی جرأت کرے گا کہ ڈاکٹر ترابی کا یہ خیال کہ ’مغرب کے مسلمان اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ اپنی بیٹیوں کو یہودی اور عیسائی مردوں کے ساتھ شادیاں کرنے دیں۔ کیوں کہ غالباً یہ شادیاں ان کے شوہروں کو اسلام کی طرف لے آئیں گی، بصورت دیگر عورت خود اسلام پر قائم رہ سکے گی‘ کیا واقعی مقاصد شریعت کے فہم کی عکاسی کرتا ہے؟ آپ نے خود یورپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی قرارداد کے یہ الفاظ ذکر کیے ہیں کہ ’مسلمان عورت کے لیے شروعات کے طورپر غیرمسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کااجماع ہے، اسلاف واخلاف سب متفق ہیں۔‘

’فوجی خدمت کامسئلہ‘ کے عنوان کے تحت موصوف نے شیخ یوسف قرضاوی کاایک فتویٰ ادھورا ذکر کیاہے۔ فتوے کاپس منظر یہ تھا کہ گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد جب امریکا نے دہشت گردی کے حوالے سے مختلف مسلمان ملکوں پر فوج کشی شروع کی تو امریکا میں مقیم چند لوگوں نے شیخ قرضاوی سے بڑی خاموشی سے ایک فتوی لیا۔ انھوں نے شیخ کو غلط طور سے یہ باور کرایاکہ اگر یہ فتویٰ نہیں دیاگیا اور اس کے برعکس فتویٰ دیاگیاتو امریکا میں مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کاالزام لگ جائے گا اور ان کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں سے بھی بدتر سلوک ہوگا۔ فتوے میں یہ کہاگیاتھا کہ.’مسلمان فوجی کوشش تو یہی کریں کہ وہ فوجی کارروائیوں میں شریک نہ ہوں اور اگر ہوں بھی تو پچھلی صف میں رہیں اور اگر بہت ناگزیر ہوجائے تو عملاً کارروائی میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔‘ اس فتوے کا اطلاق خاص طور سے امریکا کے بمبار جہازوں کے مسلمان پائلٹوں پر ہوتاتھا، کہ کیا ان کے لیے جائز ہے کہ وہ افغانستان اور عراق کے بے قصور مسلمانوں پر وحشیانہ بمباری میں حصہ لیں اور وہ بھی محض یہ ثابت کرنے کے لے کہ امریکا میں رہنے والے مسلمان امریکا کے وفادار ہیں۔ کوشش کی گئی کہ یہ فتویٰ رازرہے، لیکن کسی طرح فتوے کے منظرعام پر آنے کے بعد شیخ کے بعض بہت قریبی لوگوں نے شیخ سے بات کی اور انھیں صحیح صورت حال سے آگاہ کیا، جس کے بعد شیخ قرضاوی نے اپنے فتوے سے رجوع کرلیا۔ فاضل مصنف کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ شیخ قرضاوی کا اپنے اس فتوے سے رجوع کا تذکرہ خود ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور ویکی پیڈیا پر بھی ان کے تعارف کے ساتھ اس کاذکر موجود ہے۔ یہ فتویٰ شیخ قرضاوی کی جہاد و عزیمت سے بھرپور زندگی پر ایک داغ تھا، فتویٰ دینے والے نے تو اپنے فتوے سے رجوع کرلیا، لیکن فاضل مصنف کو وہ اتنا پسند آیاکہ اس میں سے مقاصد شریعت کے موتی تلاش کرلائے۔

مقاصد شریعت کے موضوع پر راقم کی نظر سے بہت ساری کتابیں گزری ہیں۔ قدیم دور کی بھی اور موجودہ زمانے کی بھی۔ فاضل مصنف کی کتاب ’مقاصد شریعت‘ ایک لحاظ سے ان سب سے منفرد ہے۔ وہ اس طرح کہ جب ہم دوسری کتابیں پڑھتے ہیں تو یہ احساس نہیں ہوتاکہ شریعت کے نصوص اور شریعت کے مقاصد میںکوئی تعارض ہے۔ جب کہ زیرِ نظر کتاب سے یہ تاثر ملتاہے کہ وہ خیالات جن کے لیے شریعت کے نصوص میں تائید نہیں ملتی ہے، بل کہ ان کی نفی ہوتی ہے، شریعت کے مقاصد کاحوالہ دے کر ان کو مدلل ثابت کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

فاضل مصنف قواعدفقہیہ اور مقاصد شریعت کے درمیان فرق بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: ’قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو۔ جب کہ مقاصد کااصل کام ہی یہی ہے۔‘ راقم کا فاضل مصنف کی خدمت میں سوال ہے کہ کیا اہل فن میں سے کسی اور نے بھی اس فرق کو ذکر کیا ہے؟ اور کیا اہل فن میں سے کسی نے کسی سے بھی یہ کہاہے کہ قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟ اور کیا قاعدۂ ضرورت کے تحت دورِ جدید کے بہت سارے مسائل کے سلسلے میں نئے اجتہادات سامنے نہیں آئے؟ اور کیا قاعدہ تیسرے معاصر فقہ میں بہت سارے اضافے نہیں کیے؟ اور کیا اہل فن سے کسی نے یہ کہاہے کہ مقاصد کا اصل کام ایسی چیز برآمد کرنا ہے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟

راقم نے جدید دور کے اجتہادات کی ساری اکائیوں کااحاطہ نہیں کیاہے، لیکن جہاں تک نظر پہنچ سکی ہے کوئی فتویٰ یا قرارداد ایسی نہیں ملی جس کی پشت پر قواعد فقیہہ کے بھرپور حوالے موجود نہ ہوں۔ خود فاضل مصنف نے ایسی مثالیں اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں جن میںمقاصد کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ لیکن قواعد کاحوالہ موجود ہے۔

فاضل مصنف لکھتے ہیں:

’اسلام کی دعوت کا سب سے بڑا مفاد جس کی حفاظت ضروری ہے، یہ ہے کہ عام انسانوں کے سامنے نبی کریم رحمۃ للعالمین ﷺ  کی تصویر نہ بگڑنے پائے۔ کیوںکہ دعوت الی اللہ کی قبولیت کا انحصار بڑی حد تک اس پر ہے کہ لوگ آپﷺ  کو اعتماد اور انس کے ساتھ دیکھیں۔ اس کاتقاضا ہے کہ اگر کسی صحیح بل کہ بعض اعتبار سے ضروری اقدام سے غلط فہمی ہوسکتی ہو، یا دشمن اسے غلط معنی پہناسکتاہو تو اس مفاد کی خاطر اسے نہ کیاجائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثیں اس کی اہم اصل کی تصدیق کرتی ہیں۔‘

ہمیں توقع تھی کہ فاضل مصنف اس اصول کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسی مثال پیش کریں گے جس میںایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیاتھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس لیے نہیں کیاکہ اس سے آپﷺ  کی شخصیت پر آنچ آتی تھی۔ لیکن فاضل مصنف نے جو دو مثالیں ذکر کیں، ایک میں یہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ  نے خواہش کے باوجود حطیم کو بیت اللہ میں داخل نہیں کیا اور دوسری میں بعض لوگوں کے مطالبے کے باوجود منافقین کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پہلی مثال کا آپﷺ  کی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بل کہ خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت سے اہل مکہ کو اس درجہ انسیت اور عقیدت تھی کہ آپﷺ  کو لگاکہ وہ اس میں تبدیلی برداشت نہیں کرسکیں گے اور اسلام سے ان کے دل پلٹ جائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ خواہش کے باوجود آج کے مسلمان بھی خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت میں تبدیلی قبول نہیں کرسکتے۔ مزید یہ کہ کسی بھی دور کے فقہاء نے اس اقدام کو ضروری نہیں بتایا۔ جب کہ دوسری مثال بھی یہ بات ثابت کرنا مشکل ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک منافقوں کا قتل کوئی ضروری اقدام تھا۔

فاضل مصنف کو چاہیے کہ کوئی ایسی مثال پیش کریں جس میں ایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیاتھا یا کسی اور پہلو سے ضروری تھا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس لیے نہ کیاہو کہ اس سے آپﷺ  کی شخصیت پر آنچ آتی تھی یا دعوتی مفادات متاثر ہوتے تھے۔ ہمارے پاس تو اس کی بہت ساری مثالیں ہیں، کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پروا کیے بغیر کہ دنیا کیا کہے گی، وہ سارے اقدامات کیے جو شریعت کی رو سے جائز تھے اور حکمت عملی کے لحاظ سے ضروری تھے۔ آپﷺ  رحمۃ للعالمین ہوتے ہوئے کبھی خودلشکر لے کر پہنچے تو کہیں فوجیں بھیجیں۔ ضرورت پڑی تو یہودیوں کو ملک بدر کردیا اور ضرورت کا تقاضا ہوا تو ان کے کھجوروں کے درخت کٹوادیے یا ان میں آگ لگوادی اور جو بھی کیا وہ اللہ کے حکم سے کیا اور اس کی پروا کیے بغیر کیا کہ دنیا کیا کہے گی۔ دشمنوں نے اس حوالے سے آپ کی امیج خراب کرنے کے لیے اشعار بھی کہے اور آپﷺ  کے ساتھیوں نے اس کا جواب بھی دیا۔

فاضل مصنف سے راقم کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ موصوف نے مقاصد شریعت کی فہرست میں اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ لیکن نئی فہرست میں مذکور چیزوں کی ترجیحی پہلو سے ترتیب کیاہوگی، اس پرکوئی گفتگو نہیں کی ہے۔ حالاںکہ مقاصد شریعت پر فنی لحاظ سے گفتگو کرنے والوں نے ترتیب پر بہت زور دیاہے۔ مثال کے طورپر مسلمان عسکری لحاظ سے طاقتور ہوں یہ بھی شریعت کا مقصد ہوسکتا ہے اور دنیا کو عام تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے بچایاجائے یہ بھی شریعت کا ایک مقصد ہوسکتا ہے۔ دونوں مقاصد میں تعارض ہوتو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ فاضل مصنف کا اصرار اس بات پر ہے کہ مسلمان ایٹمی ہتھیاروں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے، لیکن یہ وہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں وہ امریکا ،روس اور چین کانام لیتے ہیں، ایٹمی قوت حاصل کرکے دنیا کی بڑی طاقت بنی ہیں۔ راقم کافاضل مصنف سے سوال یہ ہے کہ اسلامی مملکت کاعسکری طورپر کم زور رہنا اور دوسری بڑی طاقتوں کے رحم وکرم پر رہنا مقاصد شریعت کے مطابق ہے یا خلاف ہے؟ اس سلسلے میں فاضل مصنف اپنے نقطۂ نظر کو مضبوط بتانے کے لیے آدم کے بیٹوں کاواقعہ پیش کرتے ہیں، جس میں ایک نے دوسرے سے کہاکہ تم مجھے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤگے تو میں تم کو مارنے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاؤںگا، لیکن وہ قرآن کی ان بہت ساری آیتوں کو یکسرنظرانداز کرجاتے ہیں، جن میں دشمنوں سے جنگ کرنے کی اور اس جنگ کے لیے مطلوب قوت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

فاضل مصنف ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی سے راقم کاآخری سوال یہ ہے کہ آپ کی مقاصد شریعت والی کتاب پڑھ کر جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ مقاصد شریعت کے نام پر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایک مسلمان لڑکی ایک غیرمسلم لڑکے سے شادی کرسکتی ہے، ایک مسلمان فوجی مسلم آبادی پر بمباری کرسکتا ہے، ایک مسلمان لڑکی نہ صرف چہرہ بل کہ پورا سر کھولے اور وہ بھی بغیر محرم کے سفر کرسکتی ہے۔ اسی طرح مقاصد شریعت کے نام پر کسی بھی چیز سے روکابھی جاسکتا ہے۔ فرانس کی مسلم خواتین سے کہاجاسکتا ہے کہ حجاب کی تحریک مت چلاؤ اس سے اسلام کی رواداری والی امیج پر آنچ آتی ہے۔ مسلمانوں سے کہاجاسکتا ہے کہ ساری دنیا خطرناک ہتھیار بنالے مگر تم مت بناؤ کیونکہ ان ہتھیاروں کے بغیر تم کم زور تو رہ سکتے ہو صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاؤگے اور اگر تم کسی ایٹمی حملے کے نتیجے میں مٹ بھی گئے تو وہ مسلمان تو نہیں مٹیں گے جو امریکا میں رہتے ہیں ﴿اور غالباً اس لیے بھی بہت سارے لوگ اب امریکا جاکر رہنے لگے ہیں﴾ سوال یہ ہے کہ مقاصد شریعت پر سینکڑوں کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں اور ان کو پڑھ کر مقاصد شریعت کی ایسی تصویر کیوں نہیں بنتی ہے؟

فروری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau