ہندوستان میں تحریک اسلامی کے لیے مواقع

ڈاکٹر محمد فاروق اعظم

تحریک اسلامی روزِ اول سے  متحرک ہے۔اسلام بجائے خود ایک تحریک ہے۔ تحریک اس رویہ کو کہتے ہیں جسے اختیار کرتے ہی اختیار کرنے والوں کی زندگیاں حرکت میں آجاتی ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو جمود سے نکال کر متحرک رکھنا چاہتا ہے۔

’’جماعت کے بغیر اسلام نہیں، اور جماعت امارت کے بغیر نہیں اور امارت اطاعت کے بغیر نہیں۔‘‘

نظامِ زندگی

اسلام انسانوں کی پوری زندگی کو محیط ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام قبول کرنے والوں کی اجتماعیت تشکیل دی۔وہ ایک طرف اپنی فلاح و بہبود کے لیے  متحرک رہے اور دوسری طرف عالم انسانیت كی اصلاح میں  میں لگ گئے۔ کلمہ توحید وہ زبردست کلمہ ہے جسے شعوری طور پر قبول کرنے کے ساتھ ہی قبول کرنے والوں کی زندگیاں بدلنے لگتی ہیں کیوں کہ اب وہ صحیح رخ پر لگ گئی ہوتی ہیں۔

علامہ اقبال نے کلمہ لا الٰہ الااللہ کو عنوان بنا کر ایک مشہور نظم پیش کی ہے ۔

یہ نغمه فصلِ گل ولالہ کا نہیں پابند                                                      بہار ہو کہ خزاں لاالہٰ الا اللہ

اسلام انسانی زندگی کو صحیح معنی میں کامیابی سے ہمکنار کرنے والا دین ہے۔ اس دین کو قبول کرنے والوں نے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیاں بدل کر اس حقیقت کا عملی ثبوت فراہم کیا۔

اسلام کی اس حقیقت کو جن لوگوں نے سمجھا انهوں نے  انسانی زندگی کو گمراہیوں سے نکال کر راہِ راست پر لانے کی کوششیں کی ۔ انہیں کوششوں کا نام تحریک اسلامی ہے۔

جماعت اسلامی

بعض دوسرے خطوں کی طرح برصغیر ہند میں بھی آج سے تقریباً اسی سال پہلے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قیادت میں یہ تحریک از سر نو رونما ہوئی اور جماعت اسلامی کے نام سے موسوم ہوئی اور ملک کی تقسیم کے بعد جماعت اسلامی ہند ، جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نام سے اپنے اپنے خطے میں سرگرم عمل ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سامنے بڑی آبادی اسلام کے نام لیواؤں کی ہے جبکہ جماعت اسلامی ہند کے سامنے بڑی آبادی غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ اس نقطۂ نظر سے جماعت اسلامی ہند کی ترجیحات اور بقیہ دونوں ممالک کی جماعت کی ترجیحات میں  فرق ہے ۔  مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے برصغیر ہند کے بکھرے ہوئے شیرازوں کو از سر نو اسلامی اجتماعیت میں سمونے کی منظم تحریک چلائی۔ آپ ؒ نےماہنامہ ترجمان القرآن کے ذریعہ علماء اور دانشوران کو ملت کی شیرازہ بندی کی طرف متوجہ کیا۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں                                  موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

اسلام  اجتماعیت کا قائل ہے جس کے بغیر ملت اسلامیہ کے افراد کی کوئی وقعت نہیں رہ جاتی ۔ جب بوندیں بڑے پیمانے پر یکجا ہوتی ہیں تو دریا بنتا ہے اور موج دریا میں ہی موجزن ہوتی ہے۔ اسی طرح ملت اسلامیہ کے افراد جب ایک مضبوط اجتماعیت سے وابستہ ہوجاتے ہیں توا س اجتماعیت سے نہ صرف افراد کو بقا وتحفظ کا احساس ہونے لگتا ہے بلکہ دریا کی طرح اسلامی اجتماعیت بھی رواں دواں ہو جاتی ہے۔    قرآن نے اس امت كو ’’امت وسط‘‘ کے لقب  سے ملقب کیا ہے۔

تحریک اسلامی متحرک رہنے والی هے اسے زندہ رکھنے کی ذمہ داری اس سے وابستہ افراد پر عائد ہوتی ہے۔وه خلوص و للٰہیت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور ان کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خدمات پیش کریں ۔

مواقع

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ مجموعی حالات جس خطۂ ارض کےاصلاح طلب ہوں گے وہاں تحریک اسلامی کی زیادہ ضرورت محسوس کی جائے گی اور وہاں اس کے لیے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔

ملک ہندوستان کی اکثریت ہندوكهلاتی ہے مسلم یہاں کی سب سے بڑی اقلیت هیں۔ چھوٹی چھوٹی اقلیتیں بھی یہاں موجود ہیں۔  گویا یہاں مسلمان ’’امت وسط ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ لہٰذا امت وسط کی ذمہ داریوں سے  بری نہیں ہو سکتے۔ برصغیر ہند میں تحریک اسلامی کے احیاء سے پہلے ہی ہندوقوم پرستی کی ابتدا ہوگئی تھی۔ بیسویں صدی میں  مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریریں  سامنے آنے لگیں گرچہ ابھی تحریک اسلامی کی باضابطہ بنیاد نہیں پڑی تھی مسلمانان ہند کے سامنے یہ سوال اُٹھ کھڑا ہوا تھا کہ جب ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات مل جائے گی تو مسلمانو ںکا مستقبل کیا ہوگا۔ اس سوال كی اهمیت كاایك سبب  ہندو قوم پرستوں کا جارحانہ کردار تھا جو ان کے زعمِ باطل کے باعث سامنے آ رہا تھا۔

جد وجہد آزادی کے آخری دور کی سیاسی صورتحال کا بخوبی اندازہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کو تھا۔ مولانا مرحوم نے یہ محسوس کیا کہ ایک بڑی ہندو آبادی والے ملک میں بھی اسلام اور اس کے نام لیواؤںكو دعوتی كردار ادا كرنا چاهیے۔ ملک کے تمام باشندگان کی بھلائی کا  راستہ یہی ہے کہ انسانوں پر سے انسانوں کی حکومت کےبجائے حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی کوشش کی جائے۔

تحریک اسلامی کا اصل مقصود

تحریک اسلامی کا مقصود حکومتِ الٰہیہ یا قرآنی اصطلاح میں اقامت دین ہے۔ دستور جماعت اسلامی ہند كی دفعہ ۴ میں درج ہے -’’جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہے۔ جس کا حقیقی محرک صرف رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا حصول ہے‘‘

اس دفعہ کی تشریح میں لکھا گیا ہے کہ:

’’اقامت دین ‘‘ میں لفظ ’’دین ‘‘ سے مراد وہ دین حق ہے جسے اللہ رب العالمین اپنے تمام انبیاء کے ذریعے مختلف زمانوں اور ملکوں میں بھیجتا رہا ہے اور جسے آخری اور مکمل صورت میں تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نازل فرمایا اور جو اب دنیا میں ایک ہی مستند ، محفوظ اور عنداللہ مقبول دین ہے اور جس کا نام ’’اسلام ‘‘ ہے۔

یہ دین انسان کے ظاہر و باطن اور اس کی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔ عقائد ، عبادات اور اخلاق سے لے کر معیشت ، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے ، جو اس کے دائرے سے خارج ہو۔

یہ  دین جس طرح رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کا ضامن ہے، اسی طرح دنیوی مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظام زندگی بھی ہے اور انفرادی و اجتماعی زندگی کی صالح و ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔

اس دین کی ’’اقامت ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہو کر کی جائے، اور انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقا، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو۔ اس دین کی اقامت کا مثالی اور بہترین عملی نمونہ وہ ہے جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے قائم فرمایا‘‘۔ (دستور جماعت اسلامی ہند)

عقائد کی اصلاح

عقائد کی اصلاح مسلمانوں کے لیے بھی ضروری ہے اور دوسروں كے لیے بھی۔ اسلام کے بنیادی عقیدہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی صحیح تفہیم مسلمانوں کو کرانے کی ضرورت ہے وہیں اس عقیدے کی تفصیلی وضاحت برادرانِ وطن کے سامنے بھی پیش کرنا ضروری هے۔

برادرانِ وطن کے اپنے داخلی مسائل بھی ان کے عقیدہ کے صحیح نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئے ہیں۔ اس مناسبت سے غیر مسلموں کے عقائد کی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ یہاں آبادی ذاتوں اور قبیلوں میں منقسم ہے۔ ذات پات کا جھگڑا بھی رونما ہوتا رہتا ہے  نام نہاد اونچے طبقے کے لوگ بقیہ آبادی کو منتشر رکھنے كی كوشش کرتے ہیں۔  یہی  لوگ  مسلمانوں کو بھی آزمائش میں ڈالتے رہتے ہیں۔ ملک کی موجودہ حالت اسی لیے اچھی نهیں۔

اگرظلم کے اسباب اور اس کے دور رس اثراتِ بد سے باشندگانِ ملک کو آگاہ کیا جائے  تو بیداری آسكتی هے۔ اسلام کے بتائے ہوئے نظامِ عدل کی افادیت عملی نمونوں کے ذریعہ بتائی جائے تو اس کے اچھے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ یہ کام  اس ملک کی اہم ضرورت ہے  اس کام کا بھرپور موقع آج یہاںموجود ہے۔ اگر تحریک اسلامی سے وابستہ افراد باشندگانِ وطن کے عقائد اور غلط تصورات کی اصلاح میں کامیاب ہوجائیں تو ایک بڑے خطۂ ارض پر اقامت دین آسان ہو جائے ۔

عبادات

عقیدے درست نه ہوں تو رسوم عبادت كی انجام دهی میں غلطی لازمی ہے۔ ایک اللہ کے علاوہ متعدد معبودوں کو ماننے اور پوجنے کی غیر معقول روایت یہاں برسہا برس سے جاری ہے ۔

اس صورتحال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صورتحال کو بدلنے کی ذمہ داری اہلِ اسلام کی ہے۔ دعوتِ حق كے بغیر شرک اور بت پرستی سے یہاں کے لوگوں کو نجات نهیں مل سکتی ۔

شرک انسانی فطرت کے خلاف ہے، اس حقیقت کو باشندگانِ ملک کو بتانے اور سمجھانے کی  ضرورت ہے ۔

اخلاق

اخلاق کا گہرا تعلق انسان کے عقائد اور طریقۂ عبادات سے ہے۔ جس انسان یا انسانی گروہ کا عقیدہ صحیح ہوگا اور جواپنے معبودِ حقیقی کی عبادت صحیح ڈھنگ سے کرے گا وہ اخلاقِ فاضلہ کا دھنی ہوگا۔  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم   مکارمِ اخلاق كی تكمیل کے لیے مبعوث ہوئے تھے،آپ نے لاالہ الااللہ کی تعلیم پیش کرکے انسانی عقیدہ کو درست كیا اورپھر ایک اللہ کی عبادت کرنا سکھایا ۔انسان كو چاهیے كه صرف ایک رب کے آگے جھکے ۔

انسانوں كی بڑی تعداد عقیدے اور عبادت کی گمراہی کی شکار ہے اس لیے اعلیٰ اخلاق سے محروم ہے۔

یہ ایک بڑی محرومی ہے جس کی وجہ سے یہاں ڈھیروں مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل سے سنجیدہ لوگ پریشان ہیں ۔ اس پریشانی سے وہ نجات چاہتے ہیں۔ اگر باشندگانِ ملک کو اعلیٰ اخلاق کی  اہمیت بتائی جائے اورعقائد و عبادات کی اصلاح کی ضرورت کا احساس دلایا جائے تو صورتحال بد سکتی ہے۔ اس کا بھی یہاں بھرپور موقع ہے۔

معیشت

یہاں کا معاشی نظام سود پر مبنی ہے ۔ حرام وحلال کی باتیں صرف زبانی جمع وخرچ کے طور پر ہوتی ہیں۔ عملاً کاروبار یا لین دین میں سود در سود کو بڑا عمل دخل ہے۔

سودی کاروبار کے برے اثرات معیشت پر پڑتے ہیں وہ یہاں کے اخلاق و معاشرت پر صاف نظر آتے ہیں ۔ محبت ، اخوت ، ہم دردی، رواداری، امداد باہمی اور خدمت خلق کا جذبہ صرف دکھانے کے لیے رہ گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ملک کو ایک ایسا معاشی نظام عطا کرنے کی ضرورت ہے جس سے یہاں کی معیشت میں توازن آئے اور اخلاق و معاشرت پر  اچھے اثرات پڑیں۔ ہم بلا سودی معیشت کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس پر عملاً گامزن نہیں هوسكے۔ بهر حال معاشی میدان میں کام کرنے کے مواقع ہیں۔

معاشرت

مختلف فکر و نظر اور رنگ ونسل کے لوگ عرصۂ دراز سے ملك میں رہتے بستے آئے ہیں لیکن پڑوسی كے حقوق ادا کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں عدل برقرار نہیں رہ پارہا ۔  چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر سماج میں جھگڑے   ہوتے رہتے ہیں ۔ ان جھگڑوں  نے  معاشرہ کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے۔ یہاں  انتشار پیدا کرکے سیاسی مفاد حاـصل کرنا سیاستدانوں کے لیے بڑا آسان ہوگیا ہے۔ اسلام کامنفرد معاشرتی نظام موجود ہے اسے یہاں لوگوں کو بتانے اور سمجھانے كی  ضرورت ہے  اس کا بھی  خوب موقع ہے۔

ریاست اور سیاست

اسلامی تحریک کا نصب العین اقامت دین ہے اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے سیاست کی مدد اور ریاست کی تشکیل ضروری ہے۔

فوری طور پراسلامی نہج پر ریاست کی تشکیل کا موقع نه سهی، اتنا ضرور ہے کہ ملک کو بڑی حد تك امن و سلامتی کا ماحول عطا \کیا جا سكتا هے۔ اس كےلیے یہاں مواقع ہیں ۔ اسلامی نہج پر ریاست کی تشکیل سے قبل ملک کے جمہوری اور دستوری کردار کو بحال و برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ اس كے بغیر باشندگانِ ملک كواسلام کی دعوت نه دی جا سكے گی۔ اللہ کے فضل سے اس سمت میں کوششیں ہو رہی ہیں۔

تحریک اسلامی کے وابستگان

ملک ہندوستان كو تحریک ِ اسلامی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مواقع بھی ہیں ۔اس حقیقت کے باوجود وابستگان میںبعض اختلافات بھی موجود هیں۔ الیکشن اور سیاست كے سلسلے میں آج بھی اختلاف رائے کی کیفیت طاری ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ایسا شاید اس لیے ہے کہ ہم نے تحریکِ اسلامی اور اس کے کاموں کو ٹھیک سے سمجھا نہیںیا  کاموں کو انجام دینے كے لیے ہمت کی کمی ہے۔  ایسے کتنے افراد ہیں جو  پالیسی اور پروگرام كو سمجھتے هیں  ان پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کی  اہلیت رکھتے ہیں؟ تحریکی سرگرمیوں کو بحسن وخوبی آگے بڑھانے کے لیے عزم و ہمت درکار ہے ۔  سوال  پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم تحریک اسلامی سے واقعی وابسته هیں۔کام كرنے  والوں کو مواقع  كے لیے مواقع ہوتے ہیںجبكه کام سے جی چرانے والوں کو کام ملتا ہی نہیں ۔ بلا شبہ مواقع کے ساتھ موانع بھی ہیں۔ لیکن جب ہم کام کے لیے آگے بڑھیں گے تب ہی موانع بھی کم ہوں گے ۔  تحریک اسلامی منظم ومتحرک گروہ ہے جو انسانیت کی بقا وفلاح کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رهتا هے۔ مواقع اورموانع کی فکر بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ للہیت تحریك كا سرمایه هے۔

تحریک اسلامی سے ہماری وابستگی جس قدر خلوص كے ساتھ ہوگی اس میں خیر و برکت بھی اسی قدر ہوگی۔

تحریک اسلامی کو  ہماری صلاحیتوں اور قابلیتوں کی ضرورت ہے  صلاحیتوں اور قابلیتوں کو حق كی راه میں لگاتے وقت ہم یاد رکھیں کہ یہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں اس لیے ان نعمتوں کا استعمال خالصتاًلوجہ اللہ ہی ہونا چاہیے۔ اور یہ تبھی ہوتا ہے جب انسان کے اندر خوف خدا ہوتا ہے۔

محكم لائحہ عمل کی ضرورت

نظریوں کی لڑائی میں حق کو غالب کرنے کے لیے سیاسی قوت کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس وقت  ملک میں ایک مخصوص نظریہ کو به جبرنافذ کرنے کی کوششیں منصوبہ بند طریقے سے کی جا رہی ہیں ۔ اس نادانی سے ملک کو ہونے والے نقصانات کا بخوبی اندازہ كیا جا سكتا هے ۔ مگر حزب اختلاف كی  جماعتیں اپنے مفادات کی بیڑیوں میں جکڑی نظر آتی ہیں ۔ اس کی  وجہ زندگی کے تعلق سے واضح نظریے کا حامل نہ ہونا ہے۔

بهر حال انسانی زندگی میں سیاست کی ضرورت و افادیت مسلّم هے۔اس کے پیش نظر تحریک اسلامی کواپنے اصولوں كے مطابق  سیاسی سرگرمیوں میں  بھرپور دلچسپی لینی چاهیے۔ سیاست کو صحیح رخ عطا کرنا  تحریک اسلامی کا ہی کام ہے تحریک اسلامی کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جولائی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau