دعوتی مكالمے كے نكات

محمد زین العابدین منصوری

غلط فہمیاں:

کنسیپٹ نوٹ(موضوع كے تعارف اور ا س كے مركز توجه پہلوئوں ) كے ذیل میں تین باتیں نمایاں كی گئی هیں۔ ایك : برادرانِ وطن كا بڑا حصه اسلام اور مسلمانوں كے تئیں ناواقفیت اور مغالطوں كا شكار هے۔ دو: اس ناواقفیت كو دور كرنے اور مغالطوں كے ازاله كے لیے مثبت مكالموں كی ترویج هماری قومی ضرورت هے۔ اس سے زیاده یه هماری منصبی ذمے داری هے تاكه ماضی كی تاریخ كے حوالے سے پیش كی جانے والی منفی رایوں میں مثبت تبدیلیاں آئیں ، اور تین: اجتماعی روابط كے بجائے انفرادی روابط كے تقاضوں پر گفتگو كی جائے۔

هو سكتا هے ایسا محسوس هو كه مكالمے كا مواد اور اسلوب اصولی اور اكیڈمك قسم كاہوتا هے اور اس میں انفرادی روابط كے تقاضے ملحوظ نهیں ره پاتے۔ لیكن اصلاً اس میں انفرادی روابط كے بنیادی تقاضے بیان كردیئے گئے هیں جو دوسرے درجے پر وسیع تر اجتماعی روابط كے لیے بھی مفید هیں۔

تین كیفیات: مكالمےكے نكات كو افهام و تفهیم میں آسانی كے لیے تین كیفیتوں كے ذیل میں بیان كیا جا سكتا هے:

ایك : وه كیفیت جو مسلم سماج كی خامیوں وكمزوریوں كی وجه سے پیدا هوتی هے۔ خامیوں كی ذمه داری راست یا بالواسطه طور پر اسلام كے كھاتے میںڈالی جاتی هے ۔

دو :وه كیفیت جو ذرائع ابلاغ كی فراهم كرده غلط معلومات ، ناقص اور ادھوری معلومات اور افواهوں(hearsay) سے پیدا هوتی هے۔

تین :وه كیفیت جو اسلام كی مخالف اور مسلمانوں كی دشمن وبد خواه طاقتوں اور عناصر كے ذریعه قصداً، منصوبه بند طریقے سے پیدا كی جاتی هے۔

مسلمانوں كا حال:

پهلی كیفیت:  مخاطبین كو اشكال هوتا هے كه اسلام اگر واقعی ان بے مثال اعلیٰ وا متیازی خوبیوں سے متصف هے جو ان كے رو برو بیان كی جاتی هیں تو پھر اسلام ان خوبیوں كا حامل سماج بنانے سے قاصر كیوں هے۔ كبھی كسی اسكالر كا یه قول دُهرادیا جاتا هے كه ’’اسلام بهترین مذهب هے لیكن مسلمان بد ترین قوم ‘‘هیں اور كبھی یه دلیل پیش كر دی جاتی هے كه مسلم سماج كے لوگ ان سارے جرائم میں ملوث هوتے هیں جن میں غیر اسلامی سماجوں كے لوگ ملوث هوتے هیں۔ كبھی یه اعتراض هوتا هے كه اسلام قرآن اور كتابوں میں هے، معاشرے كی ٹھوس زمین پر نهیں۔۔۔ اس اشكال كے كئی مضمرات هیں، اسی مناسبت سے انھیں  رفع كی كوشش كرنی چاهیے۔ مثلاً:

ایك : مسلم سماج میں یقیناً بهت سی خامیاں وخرابیاں هیں اور هر قسم كے جرم میں مسلمان بھی ملوث هوتے هیں اس كی ایك وجه فطری وسرشتی سطح كی بشری كمزوریاں هیں۔ دوسری وجه یه هے كه ایك طرف اسلام الوهی مذهب divine religion كی حیثیت میں بے عیب ، بے نقص اور perfect کامل هے تو دوسری طرف مسلمان انسان هونے كی حیثیت میں بے عیب اور پرفیكٹ نهیں هو سكتا ۔ لهٰذا ایك خدائی دین اور اس كے بالمقابل انسانی سوسائٹی كے مابین فطری ومنطقی فرق كو ملحوظ ضرور ركھنا چاهیے۔

دو : مخاطین كو اس مغالطے میں نهیں ڈالنا چاهیے كه هم مسلمانوں كی كمزوریوں كا جوازفراهم كر رهے هیں۔ بلكه انهیں یه باور كرانے كی كوشش هونی چاهیے كه كمزوریوں كا سبب اسلام پر عمل نه كرنا هے ۔ همارا مطح نظر مسلم قومی برتری كا اثبات نهیں، بلکہ اسلام كی برتری پر  مخاطبین كو مطمئن كرنا هے همیں اس بات پر انهیں شرح صدر دلانا چاهیے كه مسلم سماج كی خرابیوں كی بڑی وجه یه هے كه اسے بنانے میں جتنے مواقع اسلام كو دستیاب هیں اس سے كئی گنا زیاده مواقع اسے بگاڑنے میں غیر اسلام كو حاصل هیں۔

تین : مسلم سماج كی مذكوره بالا صورت حال سے مسلم ملت غافل هے، ایسا نهیں هے۔ ایك تو اسلام كے عقاید اور عبادات اصلاحِ حال كا خاموش لیكن غیر معمولی رول انجام دیتے هیں، دوسرے بهت سی تنظیمیں اور اداروں، دینی تعلیم وتربیت گاهوں اورافراد پر مشتمل ایك همه وقت خود كار نظام، اسلام كی تعلیمات ، هدایات اور احكامات كا مسلم سماج میں نفوذ كراتا رهتا هے، اور عمل ِ اصلاح مسلسل و متواتر جاری رهتا هے۔ همیں برادران وطن سے دوران مكالمه زمینی حقائق كاذكر بھی كرنا چاهیے۔یه غلط تاثر ختم كرنے كی كوشش كرنی چاهیے كه مسلمان بُری قوم هیں، یعنی اسلام ان كو اچھابنانے میں كوئی  رول انجام نهیں دیتا۔

چار: چند مثالیں – غیر مسلم معاشرے سے ہر وقت کے سماجی اختلاط اور تمدنی امور میں اشتراک کے باوجود ، یہ اسلام کا ہی کرشمہ ہے کہ مسلم سماج میں کچھ خوبیاں ہمسایہ سماج سے  زیادہ هیں اور بهت سے جرائم کا تناسب کم هے۔معاشی طور پر، بوجوہِ کثیر بہت کمزور ہونے کے باوجود مسلم قوم، رفاہی سرگرمیوں میں دوسروںسے کم و بیش دس گنا زیادہ مالی، افرادی اور ذهنیintellectual وسائل بروئے کار لاتی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق صدقہ، زکوٰۃ، صدقہ فطر اور عمومی صدقہ پر سالانہ پچاس ہزار کروڑ روپیے یہ معاشی طور پر پسماندہ اور ٹو ٹی ہوئی قوم رضاکارانہ طور پر خرچ کرتی ہے، صرف آخرت میں اجر اس كا محرك هے۔

اخلاقی خوبیاں:

بوڑھے والدین کی خدمت، اطاعت اور ادب واحترام کے حسن سلوک کا حکم اسلام میں اللہ کے حقوق کی ادائیگی كی تلقین کے معاً بعد دیا گیا ہے۔ اس کے متعدد مثبت اثرات میں ایک نمایاں اور قابل مشاہدہ اثر یہ ہے کہ مسلم سماج کو دارالضعفاء old-age homes بنا کر بوڑھوں کوا ن میں دھکیل دینے کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ شراب نوشی حرام قرار دیئے جانے کے بعد اس اُمّ الخبائث كا رواج مسلمانوں میں بدكاری كی نئی شكلوں سے مسلم سماج پوری طرح پاک ہے۔ معیشت اور کسب معاش میں اسلام کے حرام و حلال کے اصولوں نے سود ، رشوت، غبن و غیرہ بے شمار قباحتوں سے مسلم سماج کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے فیض سے مسلمان ملک و وطن سے غداری میں ملوث نہیں ہوتے۔

دوسری کیفیت : غلط فہمیوں ، اشکالات اور اعتراضات کی دوسری کیفیت ذرائع ابلاغ( میڈیا) کے مسلسل پروپیگنڈےسے اور اس میں سیاسی جماعتوں کے مفادات کی آمیزش سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ باور کرانے کا زبردست مشن ہے۔ عوام الناس کی اس سے متاثر هوتی ہے۔ مکالموں کے دوران ہمیں مخاطبین کو پہلے یہ حقیقت باور کرانی چاہیے اور un-prejudiced state of mind غیر جانب دارانه ذهن سے گفتگو سننے پر آمادہ کرنا چاپیے۔ مثال کے طور پر ایک بڑی غلط فہمی’’ مسلم دشت گردی ’’اور ’’اسلامی دہشت گردی ‘‘ ہے ، اور یہ بیانیہ کہ ’’ہر مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے ۔’’ اس موضوع پر مکالمے كا یہ اسلوب مسلمانوں میں رائج هے مگرغیر موثر هے کہ مسلم قوم کی مذمت اور ملامت کی جائے یا اسلام کے تئیں مدافعانہ (defensive) اور معذرت خواہانہ (apologetic) بیانیے جاری کئے جائیں۔ ہمیں اس اصطلاح کی تاریخ پر نگاہ ڈالنی چاہیے۔ (پہلے اسلامک فنڈ امنٹلزم ، پھر اسلامک ریڈیکلزم ، پھیر اسلامک ٹیرر، حتیٰ کہ اسلامک بامب بھی، پھر اسلامک ایکسٹریمزم ، پھر اسلامک ٹیررزم  اسی مناسبت سے مسلم فنڈا منٹیلٹس، مسلم ریڈیکلز، مسلم ایکسٹریمیسس، پھر مسلم دہشت گرد)

دهشت گردی كی حقیقت

مسلم ممالک پر عسکری حملہ آوری کی مسلح مزاحمت کو مسلم دہشت گردی کہا گیا ۔ ملک پر قابض بیرونی طاقتوں   كی لوٹ مار پر ان سے مسلح مقابلہ کرنے والوں کو مسلم دہشت گرد کہا گیا۔ کسی مغربی مفکر کے الفاظ میں’’ طاقتور کی دہشت گردی کو جنگ اور کمزور کی جنگ کو دہشت گردی کہا گیا ‘‘۔ ظلم ، قتل، و خونریزی ، نسل کشی ، استبداد و استحصال کو روکنے کے سارے قانونی ، سفارتی و سیاسی راستے بند کردیئے جانے کے بعد ہتھیار بدست مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گرد کہا گیا ۔ خون ریز دھماکہ کرکے متعدد مصنوعی مسلم تنظیموں کے نام اس کی ذمہ داری منڈھ کرمسلمانوں کو داخلِ زنداںکردیا گیا۔

عدالتی کارروائی کے بے شمار فیصلوں نے اور غیر جانب دار پروبنگ ایجنسیوں اور میڈیا نے مندرجہ بالا ساری باتوں کی تصدیق بھی کی۔ انفارمیشن ایکسپلوژن کے انٹر نیٹ اور جدید ٹکنا لوجکل دور میں حقائق زیادہ مدت تک چھپائے نہیں رکھے جاسکتے ۔ ان پر پڑے پردے ہٹا کر، مکالمے کے دوران مخاطب کو حقائق سے روشناس کرادینا ضروری هے۔ اسلام نیز مسلمانوں کے بارے میں بنی منفی رایوں میں مثبت تبدیلی لے آنا اب زیادہ مشکل کام نہیں رہ گیا ہے۔ ہمیں مخاطب کو یہ اصولی سچائی سمجھ لینے اور مان لینے پر آمادہ کرنا چاہیے کہ اسلام کو اور مسلم سماج کو سمجھنے کا صحیح ذریعه میڈیا اور سیاست داں نہیں ہیں۔  اسلام کو اسلام کے معتبرذرائع سورسز سے اور اسلامی اسکارلز کی تحریروں ، تقریروں اور مکالموں سے سمجھئے اور مسلم سماج کو خود مسلمانوں سے ربط  اور تبادلۂ خیال سے سمجھئے۔ پھر کوئی رائے قائم کیجیے۔

اس کے بعد میڈیا سے متعلق کچھ امور کو تیسرے زمرے میں بیان کیا جاتا ہے ۔ کیوں کہ تیسری کیفیت کے ابلاغ کا کام میڈیا سے ہو رہاہے۔

تیسری کیفیت:  اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی ترقی و استحکام کا شدید مخالف اور دشمن ہمیشہ سے ایک طبقہ رہا ہے۔ چھوٹا سا ، لیکن  منظم اور قوی۔اسے اسلام کے بارے میں کوئی غلط فہمی لاحق نہیں ہوئی۔ یہ اسلام کی حقانیت اور اس کے پیروکاروں کی ایمانی قوت کا بھر پور ادراک رکھتا ہے۔  یہ متعدد و متنوع ذرائع اختیار کرکے، منصوبے بناکر ، ان پر  عمل پیرا ہو کر عامتہ الناس میں اسلام اور مسلمانوں کے تئیں غلط فہمیاں ، منافرت  اور عداوت پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس ضمن میں برادران وطن سے قومی کشمکش اور حریفانہ آویزش عموماً نتیجہ معکوس پیدا کرتی ہے۔ مسلسل مکالموںكے ذریعے  ان کی منفی سوچ اور جارحانہ رویوں میں مثبت تبدیلی کا امکان معدوم نہیں ہے۔ چند امور بطور مثال یہاں بیان کئے جارہے ہیں ۔

ایک : تاریخی عوامل، ماضی بعید کی مسلم حکمرانی کی تاریخ ، مقامی آبادیوں کی مزعومه ’’غلامی‘‘ اور ’’جبری تبدیلی مذہب‘‘ کے افسانے كے نام پر، اور ماضی قریب میں ملک کی تقسیم کے حوالے سے عام برادران وطن میں مغالطے اور نفرت وعداوت کے رجحانات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ہمیں مکالموں میں چند چیزیں مخاطبین کے روبرو رکھنی چاہئیں۔ مثلاً: مسلم حکمراں حملہ آور کی حیثیت سے آتے تھے، اسلام کے نمائندہ کے طور پر نہیں۔ وہ ہم مسلمانوں کے آئیڈیل نہیں ہیں، ہمارے آئیڈیل حضورﷺہیں۔ مسلمانوں نے کوئی غلطی کی جو بالخصوص اسلامی تعلیمات كےخلاف تھی تو ہم اس کی حمایت نہیں کرتے بلکہ اسلام کے معیار كے مطابق اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تاریخ کے صفحات اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ انھوں نے به جبر مذہب تبدیل کرایا۔ اس کی تصدیق خود متعدد غیر مسلم اسکالرز ، دانشوروں اور معاصر تاریخ کے جائزہ کاروں کی تحریریں اور تصنیفات کرتی ہیں۔ ان کی مذہبی رواداری کے ثبوت میں خاطر خواہ لٹریچر موجود ۔ آٹھ سو سالہ طویل دور حکمرانی کے باوجود مقامی باشندوں کی عبادت گاہوں ، مذہبی روایات و رسوم اور تہذیب و ثقافت کا باقی (intact) رہ جانا اس کا زندہ اور بیّن ثبوت ہے۔ تقسیم ملک کے اسباب وعوامل کے مروجہ بیانیہ کے برعکس ایک بیانیہ اور بھی ہے جو ستر سالہ مدت کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا ہے۔

اس کے مطابق مسلمانانِ بر صغیر تقسیم ملک کے ذمہ دار قرار نہیں پاتے۔ بلکہ تقسیم چند دیگر بڑی طاقتوں شخصیتوں کے پلان کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوئی۔

وطن پرستی:

آج ’’دیش بھکتی، وطن پرستی‘‘ ۔ دیش پریم (حُب الوطنیpatriotism) اور دیش بھکتی (وطن پرستیnation-worship) کو خلط ملط کرکے برادران وطن کوغلط فهمی میں مبتلا کنفیوز کر دیا گیا ہے۔ وندے ماترم کے مشرکانہ گیت سے اجتناب كی بناپر مسلمانوں کو ملک کا غدار باور کرایا جاتا ہے۔ مکالمے کے دوران ہمیں مخاطب پر واضح کرنا چاہیے کہ دیش پریم اور دیش پوجا میں بہت فرق ہے۔ اولی الذکر ہر انسان کی فطری و سرشتی صفت ہے جبکہ آخرا لذکر ایک خلاف حقیقت عقیدہ ۔ دونوں ایک دوسرے کے ہم معنی و مترادف نہیں ہیں۔ مسلمانانِ ہند وطن سے فطری طور پر – نہ کہ کسی دباؤ میں آکر محبت کرتے ہیں لیكن اپنے بنیادی عقیدے کے برعکس کوئی عقیدہ قبول نہیں کر سکتے۔ ہم ان بے شمار واقعات کو بطور دلیل پیش کر سکتے ہیں جن میں حساس راز غیر مسلموں نے حریف ملکوں تک پہنچائے ۔ ملک کی اربوں کھربوں کی دولت جو ملک کے باشندوں کے لیے، اور ڈیولپمنٹ اسکیموں کو بروئے کارلانے میں خرچ ہونی تھی، ملک سے باہر ذاتی خفیہ کھاتوں میں جمع كی جاتی رهی  اور نام نهاد دیش بھکت لوگوں کے ذریعہ۔ ان لوگوں میں مسلمان نہیں ہیں۔ اسلامی اخلاقیات مسلمانوں کو اس سے باز رکھتی ہے۔

عورت كی حیثیت:

اسلام اور مسلم سماج میں عورت کی پستی، پسماندگی، مظلومیت کے دسیوں افسانےگڑھ لئے گئے ہیں۔ اور میڈیا کی زبردست طاقت جھونک دی گئی ہے برادرانِ وطن کے ذہنوں کو مسموم کر دینے کے لئے۔ مثلاً: طلاق۔ گھر کی چہار دیواری میں قید رکھنا۔ مردوں اور شوہروں کا ظلم وقہر ۔ تعلیم سے محرومی ۔ مردوں کے ساتھ اختلاط سے دوری، سماج اور ملک کی ترقی و تعمیر میں رول انجام دینے سے باز رکھا جانا۔ ڈریس کوڈ اور پردہ و برقع مسلط کرنا گویا اس کی آزادی اور حقوق انسانی سلب کر لئے گئے ہیں۔ تعدد ازدواج کے ذریعے عورت کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا ہے۔ وغیرہ ۔ مکالمے کے دوران مذکورہ موضوع پر مسلم سماج اور دوسرے سماجوں كا تقابلی جائزہ پیش کرکے مخاطب پر واضح کرنا چاہئے کہ استشنائی انفرادی کو چھوڑ کر اسلام نے مسلم سماج میں عورت کی حیثیت کو مجموعی اور عمومی طور پر بہت اونچا رکھا ہے۔ اس کی عصمت و عفت کو محفوظ اور نسوانی وقار کو بلند کیا ہے۔ اسے ازدواجی ماحول میں طمانیت وسکینت اور آسودگی عطا کی ہے۔ اسے نفسیاتی ، معاشی و جسمانی تحفظ دینے کا پختہ انتظام و اہتمام کیا ہے۔ جسے حقارت کے ساتھ’’گھر کی چہار دیواری‘‘ کہا جاتا ہے وه آرام وسکون کے جگہ ہے۔ عصمت وعزت کی حفاظت گاہ اور باہر کی پرہنگام وہیجان دنیا کے شرور، فتنوں اور استحصال سے محفوظ رہنے کا قلعہ ہے۔  اسلام نے بچّی كو پیدا هونے سے پهلے ماں کے پیٹ میں ماری جانے سے بچالیا ہے۔ بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دینے کو کالعدم کیا ہے۔

معاشی ذمہ داریوں اور کسب معاش کی سخت گیریوں(hardship) سے اسے سبکدوش کیا ہے۔ پیسہ کمانے کے لئے دوسرے سماجوں کی عورت کے برعکس مسلم سماج کی عورت کو بازاروں ، کے دھکے کھانے، اپنی عصمت سے سمجھوتہ کرنے كی ضرورت نهیں۔ مسلم عورت کو جتنا ایمپاورمنٹ ڈیڑھ ہزار سال سے حاصل ہے تاریخ  اس کی نظیر پیش کرسکنے سے قاصر ہے ۔ مکالمے کے دوران مخاطب کو شواہد و نظائر پیش کرکے بتانا چاہئے کہ ویمن ایمپاورمنٹ کے ہزاروں دعووں اور شورشرابے کے علی الرغم جدید دور کی ساری  تہذیبیں اور قوانین اسلام کے سامنے حقیر اور بونے نظر آتے ہیں۔ مسلم عورت کو حیا کی چادر اوڑھاکر جنسی استحصال وتشدد سے اور سماج کو بے شمار اخلاقی ، سماجی وقانونی جرائم سے محفوظ کر دیا ہے۔ عورت سے متعلق جرائم کے اعداد وشمار سے مخاطبین کو واقف کرانا چاہئے ۔ اسلام نے مسلم سماج کی خواتین کو  بڑی حد تک اس ذلت اور عذاب سے محفوظ کردیا ہے۔ جہیزی اموات(bride-burninng) اورجہیز سے متعلق ظلم کی شرح مسلم سماج میں بهت کم ہے۔ طلاق کی پیچیدگیوں اور عدالتوں کی وجہ سے عورتیں جس قتل، خود کشی اور طرح طرح کے جرائم کی شکار ہوتی ہیں اسی طلاق کے اسلامی طریقے كے ذریعہ مسلم عورت نسبتاً  آسانی سے  ناقابل اصلاح ازدواجی بندھن سے آزاد ہو جاتی ہے۔ اسلام کا ہی فیض ہے کہ مسلم سماج میں بیوہ گاہیں ( ودھوا شرم) نہیں ہیں اور جن میںعورتوں پر ظلم هوتا هو۔ نہ مسلم بیوہ خواتین ہموطن بہنوں کی طرح دھرم نگریوں میں بھیک مانگنے اور دھکے کھانے کی کیفیت سے گزرتی ہیں۔ مسلم سماج میں بهت سی مطلقہ اور بیوہ عورتیں نکاح ثانی کے اسلامی طریقے کے ذریعہ پرسکون ، باعزت اور محفوظ ازدواجی وخاندانی زندگی گزارنے لگتی ہیں۔ غیر مسلم سماجوں میں طلاق کی پیچیدگیوں کی وجہ سے لاکھوں عورتیں بے سہارا اور معلق ہیں۔ مسلم سماج میں یہ سطح صفر کے قریب ہے۔ غیر مسلم سماجوں میں عورت کو وراثت میں حق ملنے کی تاریخ سو ڈیڑھ سو سال سے پرانی نہیں ہے اور اپنے ملک میں تو نصف صدی هے۔ اسلام نے مسلم عورت کی پیدائش سے زندگی کی آخری سانس تک عرصۂ حیات میں اسے معاشی تحفظ دیا هے۔ باپ، ماں، شوہر اور مخصوص حالات میں بھائیوں اور بہنوں کی دولت وجائیداد میں وراثت کے حصے ڈیڑھ ہزار سال قبل متعین کر دیئےگئے تھے۔ نکاح میں مہر اور وراثت میں حصہ دیکر اسلام نے مسلم عورت کامعاشی مقام بلند كیاہے۔ غیر مسلم تہذیبوں میں عورت ورک پلیس پر غیر محفوظ ، پبلک پلیس پر غیر محفوظ، بسوں ٹیکسیوں ، پرائیویٹ کاروں میں غیر محفوظ، واش رومس، چینجگ رومس میں خفیہ کیمروں سے اس کے جسم کی حساس پرائیویسی غیر محفوظ۔ اس کے برعکس مسلم عورت اپنے فطری دائرہ کار یعنی رہائش گاہ میں محفوظ ہے۔

یہ مختصراً، صرف چند مثالیں ہیں ۔ مسلم عورت کے بارے میں اسلام و مسلم دشمن عناصر نے میڈیا کے توسط سے عام برادران وطن میں جو غلط فہمیاں اور منفی رائے پیدا کر دی ہے اس میں مکالموں کے ذریعہ مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

اضافہ آبادی کاافسانہ :

مسلمانوں کی آبادی میں  اضافہ پر’’خطرے‘‘ کا الارم بجا کر گزشتہ تیس پینتیس سال سے، بعض  حلقے منصوبہ بند طریقے سے لوگوں كو گمراه كرتے رہے ہیں ۔ جدید میڈیائی دور میں برادران وطن کو اس اضافے سے خوفزدہ کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے، تاثر یہ عام کیا گیا ہے کہ اس اضافے سے آبادیاتی توازن demographic balance بگڑ رہا ہے۔ کچھ مدت گزرنے پر کثرت تعداد کے ذریعہ مسلمانان ہند کا حکمرانی میں اثر زیاده ہو جائے گا۔ اسی وجہ سے ووٹر لسٹ سے لاکھوں مسلمانوں کے نام خارج ہونے کی خبریں شایع ہونے پر برادران وطن کا مخالف ردّ عمل سامنے نہیں آتا۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں تعدد ازدواج (polygamy) اس کی بڑی وجہ ہے۔ مکالموں کے دوران مناسب ہے کہ ہم دشمنوں اور بدخواہوں کے ایجنڈے میں الجھنے کے بجائے حقیقت حال سے مخاطبین کو واقف کرائیں۔ مثلاً:  ’’ہم دو، ہمارے دو‘‘ کے عالمگیر اور ملک گیر نعرے کے برخلاف مسلم سماج اولاد کی کثرت کو مصیبت نہیں مانتا بلکہ افزائش نسل کو قدرت کا پسندیدہ اور مطلوبہ عمل گردانتا ہے ۔ عمرانیات و سماجیات کے اسکالرزاس حقیقت سے ناواقف نہیں ہیں کہ تمدن کی ترقی کے تمام وسائل میں سب سے بنیادی اور اہم مقام افرادی وسائل (human-resource) کو ہے اور یہ حقیقت خالق کے منصوبۂ عظیم و منصوبۂ تخلیق کے عین مطابق ہے۔ مسلمان ادلاد کو مصیبت ، لعنت اورعذاب نہیں، نعمت ، خوش بختی اور قدرت کا بیش بہا عطیہ مانتے ہیں۔ لہذا ان کا سماج اسقاط اور قتل اولاد سے پاک ہے۔ یہ عوامل هیں مسلم آبادی کی شرح نمو میں نسبتاً اضافے کے لیکن یہ اضافہ بھی قدرت کے check balance کے نظامِ توازن سے کنڑول شدہ ہوتا ہے ۔خود مسلم قوم نے غور وخوض کرکے اسٹریٹجی کے طور پر ، حکمرانی میں اپنا رول بڑھانے کے مقصد سے اضافۂ آبادی کا کوئی پلان نہیں بنا رکھا ہے۔

برادران وطن کو اس مغالطے میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ مسلمانانِ ہند علاحدگی پسند واقع ہوئے ہیں۔ لہذا یہ اپنا علاحدہ اور متوازی تعلیمی نظام ، پرسنل لا کے تعلق سے متوازی عدالتی نظام (دارالقضاء)اور غیر سودی معیشت کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا مالی واقتصادی نظام چلاتے ہیں۔ مکالمے کے دوران مخاطب کو سمجھانا چاہئے کہ مسلم سماج کی زندگی دین اور دنیا کے ارتباط و امتزاج کی حامل ہے۔ تعلیمی نظام سماج کا لاینفک inseparable جز ہے۔ حکومت سیکولر ہونے کی وجہ سے مسلم سماج کی دینی تعلیم کی ضرورت پوری نہیں کر سکتی لہذا مسلمانوںنے اس کا نظام خود قائم کیا ہے۔ پرسنل لاز کا بھی یہی معاملہ ہے جس کی کم سے کم سطح ذاتی و خاندانی سطح پر عائلی قوانین پر مشتمل ہے۔ اور یہی معاملہ سود کے استحصالی نظام کے بالمقابل غیر سودی معیشت کا بھی ہے جس کے مواقع مسلم سماج کو بہت کم اور انتہائی محدود پیمانے پر دستیاب ہیں۔ یہ مسلم قومی و ملّی شناخت اور معنوی وجود کا معاملہ ہے۔ علاحدگی پسند ی نہیں۔

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau