اِسراف مسلم معاشرے کا ناسور

محمد نصیر الدین

ایسا خرچ جو کہ ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے کیاجائے یا مخلوق خدا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیاجائے یہ ضروری خرچ ہے اِسے اسراف یا فضول خرچی نہیں کہتے۔ انسانی زندگی میں ضروریات زندگی کے علاوہ دوسری قسم کا خرچ بھی داخل ہوگیاہے، جس کو اسراف کا نام دیاگیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اسراف کس ‘خرچ ’کو کہتے ہیں؟ اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ جو خرچ بھی نمودو ونمائش،نفس کی تسکین، ذوق و شوق کی تکمیل یاسماج میں خود کو بڑا ثابت کرنے کے لیے کیاجائے وہ اسراف اور فضول خرچی کی تعریف میں آتاہے۔ فی زمانہ یوں تو ہر شخض اس بُرائی میں مبتلا ہے، لیکن وہ ملت جو احکام شریعت اور نظام زندگی رکھتی ہے وہ بھی اس قبیح بُرائی کا شکار نظرآتی ہے۔ آج کل فضول خرچی اور اسراف کے معاملے میں مسابقت ہونے لگی ہے۔ غریب، امیر، شہری، دیہاتی، جاہل، عالم اور عورت، مرد سب اس بُرائی کو اپناے ہوئے ہیں۔ اگر وہ بھی اسراف کی راہ پر چل پڑیں تو اس سے زیادہ بدنصیبی اور کیاہوسکتی ہے۔ اخبارات میں برابر تقاریب اور سرگرمیوں کی تفصیلات آتی رہتی ہیں، جن سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ملت اسلامیہ کے افراد اپنی دولت کو کس طرح بے دریغ خرچ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ شادی بیاہ اورچھوٹی موٹی تقریبات پردولت کو پانی کی طرح بہاناقابل فخر بن گیا ہے۔ روزمرّہ کی زندگی میںبھی اسراف و فضول خرچی عام نظرآتی ہے۔ گھروں کی سجاوٹ، لباس کے اہتمام، سواریوں کی خریداری اور دوسری ضروریات زندگی کی تکمیل میں ہر شخص تفاخر و تکاثر کی راہ پر گامزن نظرآتا ہے۔

دینی و فلاحی اداروں کی سرگرمیوں کاجائزہ لیں تو معلوم ہوگاکہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ ان کی آمدنی زکوٰۃ ، صدقات اور عطیات پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن دفاتر کی تزئین وآرائش، قیام و طعام، سفروحضر اور سواریوں کے اہتمام میں یہاں بھی اسراف و فضول خرچی نمایاں طورپر نظرآتی ہے۔ اسی طرح مختلف اجتماعات، سمپوزیمس، سمینار، کانفرنس، گیٹ ٹو گیدر جیسی سرگرمیوں کاجائزہ لیں تو پتا چلے گا کہ یہ ادارے بھی اب عالیشان ہوٹلوں اور بڑے بڑے شادی خانوں میں ان کا اہتمام کرنے کو قابل فخر سمجھنے لگے ہیں۔انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہر جگہ مال و دولت کو اپنی پسند اورخواہش و تمنا کے مطابق خرچ کیاجانے لگا ہے اور معاشرہ ‘‘شتر بے مہار کی طرح دولت لٹانے میں مصروف ہے۔

کچھ لوگوں کایہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب کسی کو دولت سے نوازا ہے تو اسے استعمال کرنے میں اور خاص کر اپنی خوشیوں کو دوبالاکرنے اور اپنے اور مانوںآرزوئوںکی تکمیل کرنے میں اور عیش وآرام کے لیے صرف کرنے میں کیا حرج ہے؟یقینا مال و دولت اللہ کی نعمت ہے، جس کے حاصل ہونے پر ہر شخص کو شکر ادا کرنا چاہیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے دولت عطا کرکے کسی فرد کو یہ کامل اختیار نہیں دے دیاکہ وہ جسے چاہے اسے خرچ کرے ۔بعض لوگوں کایہ خیال ہے کہ سوائے ناجائز و حرام کاموں کے دیگر امور پر دولت کو جیسے چاہے خرچ کیاجاسکتا ہے۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے اسلام نے دولت کی آمد اور خرچ دونوں پر بندھ باندھا ہے۔ نہ حصول دولت میں حرص و ہوس کی اجازت دی ہے اور نہ خرچ میں بے اعتدالی کی اجازت دی ہے ۔بل کہ یہ بات بھی بتادی ہے کہ قیامت کے دن دولت کی آمد و خرچ کے متعلق سوال کیاجائے گا۔ چنانچہ حدیثﷺ میں آیاہے کہ قیامت کے دن کسی بنی آدم کے قدم اس وقت تک نہیں ہٹیںگے، جب تک کہ اس سے پانچ سوال نہ کیے جائیں:

﴿۱﴾عمر کیسے گزری؟﴿ ۲﴾جوانی کیسے گزری؟ ﴿۳﴾مال کہا ںے کمایا؟﴿ ۴﴾مال کہاں خرچ کیا؟ ﴿۵﴾ جو کچھ علم حاصل کیاتھا، اس پر کہاں تک عمل کیا؟

اسلام نے مہمان کی خاطر مدارات سے منع نہیں کیاہے، بلکہ مہمان کی توقیر و عزت کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ نبی کریمﷺ نے فرمایا  :

’’جو لوگ خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، انھیں اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع کرنی چاہیے ‘‘ ﴿بخاری ومسلم﴾

اسی طرح سیرت النبیﷺمیں یہ بات ملتی ہے کہ جب آپ ﷺمہمان کو اپنے دسترخوان پر کھانا کھلاتے تو باربار فرماتے ’’اور کھائیے اور کھائیے‘‘ اسی طرح قرآن مجید میں فرمایاگیا: ’’اے بنی آدم! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھائو، پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ سورۃ بنی اسرائیل میں فرمایاگیا:’’فضول خرچی نہ کرو فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے‘‘۔ درج بالا احادیث نبویﷺاور آیات مبارکہ کے پس منظر میں ہم اپنی تقریبات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگاکہ مہمانوں کی تکریم کے نام پر انواع واقسام کے پکوان کوضروری کرلیاگیا ہے۔ علاوہ ازیں شادی خانوں کی سجاوٹ اور روشنی کے نام پر لاکھوں روپیہ خرچ کردیاجاتاہے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ شادی بیاہ کے پکوانوں ، شادی خانوں کی سجاوٹ، ویڈیو اور فوٹوگرافی ، زرق برق لباس، دلہن کے زیورات و دیگرچیزوں پر مقابلہ آرائی ہونے لگی ہے۔ دعوت ناموں کی چھپائی پر ہی ہزاروں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’میری امت میںایسے لوگ آئیں گے جو رنگ برنگ کے کھانے کھائیں گے، انواع واقسام کے مشروبات استعمال کریں گے اور منھ پھاڑپھاڑ کر باتیں کریں گے۔ یہی لوگ میری امت کے بدترین افراد ہوں گے‘‘۔ ﴿طبرانی﴾

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  :

’’بخدا مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ دنیا تم پر اپنا جال پھیلائے گی، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر اس نے پھیلایاتھا، تو تم بھی دنیا طلبی میں مقابلہ کرنے لگوگے، جس طرح انھوںنے مقابلہ کرنا شروع کردیاتھا۔ پس وہ تمہیں ہلاک کردے گی، جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیاتھا‘‘۔ ﴿بخاری﴾

دوسری جوچیز فخر و مباہات کا باعث بنتی جارہی ہے وہ شادیوں کے موقع پر ایک سے بڑھ کر ایک اعلیٰ لباس اور زیور ہے۔ ہر شخص اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ وہ مشہور زمانہ یا زمانہ کا چلتاہوا جدید فیشن کاحامل لباس زیب تن کرے ، اسی طرح خواتین بھی لباس کے نت نئے انداز اور فلموں یا سیریلوں کے اداکارائوں کے لباس کو اپنانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ جدید لباس کے چکرمیں خواتین اتنی بے لگام ہوگئی ہیں کہ انھیں جسم کی نمائش یا عریانی کی بھی کوئی پروا نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ زیورات خریدنا، موقع بہ موقع زیورات کو تبدیل کرنا یا انھیں جدید فیشن بنانا اور ہر تقریب کے مواقع پر نئے زیور کا استعمال کرنا خواتین کی ایک عادت سی ہوگئی ہے۔نبی کریم ﷺلم نے اس طرح کے مرد و خواتین کے لیے واضح طورپر تنبیہ فرمائی ہے۔ آپ ﷺکا ارشاد مبارک ہے:

’’جس نے دنیا میں شہرت کا لباس زیب تن کیا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا اور اس میں آگ بھڑکاجائے گا‘‘۔﴿ابن ماجہ﴾

اسی طرح خواتین کو آپ ﷺنے خاص طورپر تنبیہ فرمائی: ’’سونے سے منڈھی ہوئی اور زرد رنگ میںرنگی ہوئی عورتوں کے لیے تباہی ہے‘‘۔ ﴿ابن حبان﴾ وہ افراد جو فلمی اداکاروں یا سیریلوں کے کرداروں کی تقلید میں لباس بناتے ہیں یا اس طرح کالباس زیب تن کرتے ہیںاور وہ عورتیں جو سراپا سونے کے زیورات میںنظرآنا چاہتی ہیں، ان کے لیے ان احادیث میں کافی سبق ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں جو کچھ نعمتیں عطا کی ہیں، خاص طورپر جو کچھ دولت عطا کی ہے، اس پر ہر انسان کو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کرنی ہے۔ چنانچہ سورۃ التکاثر میں ارشاد ہے: ’’تم سے ضرور ان نعمتوں کے بارے میں قیامت کے دن پوچھاجائے گا‘‘۔  ظاہر ہے جو شخص اللہ کی نعمتیں پاکر اللہ کی مرضی اور منشائ کے مطابق زندگی گزارے گا وہ اللہ کے محبوب بندوں میں شامل ہوسکے گا اور جو شخص اللہ کی نعمتوں کو تفاخر، نام ونمود اور شہرت وعزت کی طلب میں لگائے گا، اسے ذلّت و رسوائی کاسامنا کرناپڑے گا۔ مال ودولت عطا فرماکر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دولت مندوں پر زکوٰۃ فرض فرمائی ہے۔ بل کہ محتاجوں، ضرورت مندوں، مسکینوں، مسافروں کے علاوہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا بھی بار بار حکم دیاہے۔ مال و دولت حاصل کرکے آزاد ہوجانا، کیف و سرور کی محفلیں آراستہ کرنا، پارٹیز و کلب پر دولت خرچ کرنا، عالیشان بنگلوں اور فارم ہائوز میں عیش کوشی کاسامان فراہم کرنا اورتفریح طبع کے لیے دولت کالٹانا کسی بھی صورت میں اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں ہوسکتا۔ دولت عطا کرکے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر چند ذمے داریاں بھی ڈالی ہیں۔ اگر اہل دولت اللہ و رسوال کے واضح احکام کے باوجود اسراف و فضول خرچی میں اپنی دولت صرف کریں اور انفاق فی سبیل اللہ سے کتراینگے تو قیامت کے دن وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کو کیا منہ دکھائینگے؟ اپنی خوشی، بچوں کی خواہش، بیوی کی آرزو، ماں باپ کی تمنا کے نام پر بے مصرف اور فضول امور میںدولت لٹانا، احکام الٰہی سے کھلی بغاوت ہے، ایسے افراد شیطان کے راستے کے راہی ہیں۔ بل کہ وہ شیطان کے بھائی ہیں۔ شیطان پر جس طرح اللہ کا غضب ہے، اسی طرح وہ بھی غضب الٰہی کا مستحق بن سکتے ہیں۔

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau