جنسی انحرافی رویوں کا نفسی معاشرتی ڈسکورس

صنفی شناخت اور صنفی اضطراب کے حوالے سے

ڈاکٹر محمد رضوان

دسویں قسط

پچھلے مضمون میں صنفی شناخت کے حوالے سے کچھ بنیادی باتیں عرض کی گئی تھیں جن سے یہ وضاحت ہوگئی کہ صنفی شناخت اور جنسی شناخت دو مختلف تصورات ہیں۔ جنسی شناخت ثانوی جنسی اعضاء کی بنیاد پر ہوتی ہے جب کہ صنفی شناخت ایک احساس ہے جو ثانوی جنسی اعضاء کے مطابق ہو سکتا ہے اور اس کے علی الرغم بھی جیسے مرد، عورت، لڑکا، لڑکی، یا دو جنسیے وغیرہ جب کہ صنفی شناخت کی اب تک ۱۶ متفق علیہ قسمیں مانی/منوائی جا چکی ہیں۔

 امریکہ اور انگلینڈ میں سرکاری فارموں میں، اسکولوں میں داخلے کے وقت دیے جانے والے فارم میں ۱۶ قسم کی صنفی شناخت کے کالم موجود ہیں۔ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ کالم ان فارموں میں بھی موجود ہیں جن کا استعمال KG اور پرائمری اسکولوں کے داخلے کے لیے ہوتا ہے۔

 صنفی شناخت اور اس سے جڑے صنفی اضطراب (gender dysphoria) کے سلسلے میں اس قدر شور و غوغا ہے کہ پروپیگنڈے اور حقیقت میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مثلًا اگر یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ صنفی اضطراب علم  وبائیات(epidemiology) کے اعتبار سے کہاں ہے! یعنی کتنے نو عمر، نوجوان، بالغ افراد یا مرد و عورت اس کا شکار ہیں تو صرف امریکہ کے اعداد و شمار ملیں گے یا بعض یوروپی ممالک کے! باقی پوری دنیا کے تقریباً ۱۹۰ ممالک کے اعداد و شمار ہی موجود نہیں ہیں۔ لیکن آپ جب صنفی اضطراب کا پورا ڈسکورس پڑھتے ہیں تو گویا یہ محسوس ہوتا کہ یہ پوری دنیا میں بالعموم موجود ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہاں یہ نہیں کہا جارہا ہے کہ تعداد مسئلہ ہے! یا تعداد کم ہے اس لیے صنفی اضطراب کوئی قابل اعتبار شے نہیں ہے بلکہ اگر کچھ افراد بھی اس کا شکار ہیں تو اس پر بات ہونی چاہیے۔ تعداد یا وبائیات یا اس کا پھیلاؤ اور اس کے طیف کی معلومات اس لیے ضروری ہے کہ یہ پورا ڈسکورس ہی اس بات پر کھڑا ہے کہ اس طرح کے جنسی انحرافی رویے یا صنفی اضطراب ایک نارمل بات ہے۔ یا یہ جنسیت کے طیف میں ہونے کی نشانی ہے۔ کیوں کہ یہ انسانی سماج میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جب کہ ڈاٹا کچھ ہی ملکوں کا موجود ہے تو یہ عموم کیسے ہوا! عام یا نا رمل کیسے ہو گیا مثلًا جب ہم کہتے ہیں کہ ملیریا ایک عام بیماری ہے تو اس کے لیے دنیا کے تقریبًا تمام ممالک کا ڈاٹا موجود ہے اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ ایڈز تیزی سے پھیلا ہے تو اس دعوے کی دلیل کے لیے ہمارے پاس بڑا مستند ڈاٹا موجود ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ یہ دلائل تو عام بیماریوں کے لیے ہیں تو ہم کہیں گے کہ ڈپریشن ایک عام کیفیت ہے یا ایک نفسیاتی بیماری ہے اور اس کا تجربہ کرنے والے بڑی تعداد میں ہیں تو ۱۹۰ ممالک میں سے تقریبا ۱۰۰ ممالک سے زیادہ کا بھاری ڈاٹا موجود ہے جو اس دعوے کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔

 لیکن صنفی اضطراب، جنسی کشمکش یا صنفی شناخت کے مسائل کے لیے اتنی بڑی تعداد تو کیا محض چند ملکوں کا ڈاٹا موجود ہے۔ اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ مسئلہ پورے انسانوں کے ساتھ عام ہے۔ یقینًا دوسری جگہوں پر بھی اس کے مظاہر ملے ہوں گے۔ لیکن کتنے فیصد؟

 پھر عرض کر دیا جائے کہ تعداد اس لیے اہم ہے تاکہ اس بات پر دلیل بنے کہ اس طرح کے رویے عام ہیں! اس لیے وہ نارمل ہیں۔ اور کسی ایک سماجی فضا (social setting)کے غماز نہیں ہیں بلکہ ہر قسم کی سماجی کیفیت میں پائے جاتے ہیں۔

 اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جانا چاہیے کہ صنفی اضطراب سے دوچار افراد مظالم، بدنامی(stigma)، اور تعصب کا شکار نہیں ہوتے۔ یقینًا ہوتے ہیں لیکن شناخت کی بنیاد پر ظلم محض جنسی اور صنفی شناخت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ سیاہ فام اپنے رنگ کی وجہ سے، مسلمان اپنی مسلمانی شناخت کی وجہ سے، فلسطینی اپنی جغرافیائی شناخت کی وجہ سے، ایشیائی اپنے خطے کی شناخت کی وجہ سے، اور ہندوستان میں ذات کی شناخت کی وجہ سے افراد اور قومیں ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کا حل شناخت کی جدا حیثیت کو منوانا نہیں ہے بلکہ شناخت پر غیر ضروری زور اور اپنے سے مختلف کو برداشت کرنے اور اسے عزت دینے پر منحصر ہے۔

 بہرحال اس وقت ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں صنفی اضطراب سے نبرد آزما افراد کی تعداد 0.6% ہے۔ یہ تعداد یوروپ میں 0.8%-1% فیصد تھی۔ (۱)

 لیکن اس تعداد پر ہر طرح کے سوالات ہیں۔ مثلًا جن بنیادوں پر صنفی اضطراب کی تعریف متعین ہوتی ہے وہ مختلف فیہ ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی کبھی اس طرح کے احساس سے گزرا لیکن پھر نارمل جنسی دوئی کی طرح احساسات رہے اسے بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ بہت چھوٹے بچوں سے بھی سوالات پوچھ پوچھ کر اندازہ لگایا جاتا ہے کہ وہ صنفی شناخت کے حوالے سے کیا محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر اس کا اندراج کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے مختلف طریقے سے ڈاٹا  کا تخمینہ (extrapolate) لگایا جاتاہے۔

 اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ڈاٹا فضول یا غلط ہے ،بلکہ قارئین کے سامنے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اعداد و شمار جمع کرنے کی اپنے محدودیت ہے۔ اس کے باوجود بھی ساری پالیسیاں اعداد و شمار ہی کی بنیاد پر بنتی ہیں اور بننی چاہئیں۔ اصل مسئلہ خاص اور حساس موضوعات کے اعداد و شمار کا ہے۔ اس طرح کے اعداد و شمار کو بہت سخت تصحیح کے مراحل سے گزارا جانا چاہیے۔ لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کسی بیانیے کہ حوالے سے جب فضا بن جاتی ہے تو اعداد و شمار کے چیک اینڈ بیلنس کم زور ہو جاتے ہیں۔ مخالف بیانیے کی بجا تنقید کو بھی بے جا مانا جاتا ہے۔

 بہرحال صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد کی ایک معتد بہ تعداد امریکہ میں موجود ہے اور ان کے لیے ہر قسم کی سہولت کی فراہمی پر یشر گروپوں اور لابی گروپوں کے ذریعے کرنے کی کام یاب کوشش کی جا رہی ہے۔ ابتدا میں امریکی سائکلوجیکل ایسوسی ایشن نے اسے صنفی شاخت کے عارضے (gender identity disorder)کے درجے میں رکھا تھا۔ تب اسے ایک بیماری سمجھا جاتا تھا بعد میں یہ صرف ایک کیفیت سے تعبیر کیا جانے لگا ہے اور اس کے افراد کے لیے اس کیفیت کو دور کرنے کے لیےعلاج و معالجے کی گائیڈ لائنیں دی جا رہی ہیں۔

 لیکن اگر کوئی یہ سوال کرے کہ صنفی اضطراب سے گزر رہے افراد کی ہندوستان میں تعداد کتنی ہے یا چین میں کتنی ہے، تو اس کا جواب اعداد و شمار کی بنیاد پر دینا ممکن نہیں ہے۔

 تو اس کا مطلب کیا ہوا کہ کیا دنیا کی تقریبًا آدھی آبادی میں اس طرح کے لوگ ہی نہیں ہیں۔ یقینًا ایسا نہیں ہے۔ یہاں بھی صنفی اضطراب سے گزر رہے نوجوان ہوں گے۔ لیکن پھر وہی بات کہ کتنے؟ حقیقت یہ کہ پچھلے مضمون میں جو سب سے اہم اور بنیادی سوال اٹھایا گیا تھا کہ صنفی اضطراب کی موجودگی تو ناقابل انکار حقیقت ہے لیکن اس کا عموم یا اس طرح کے واقعات کا نارمل ہونا ویسی ناقابل انکار حقیقت نہیں ہے۔

 صنفی اضطراب کے اسباب

 عام طور پر یہ باور کرا دیا گیا ہے کہ

 صنفی اضطراب ایک نارمل رویہ ہے۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے۔ اور اس کا واحد علاج اپنے ثانوی جنسی اعضا کو ویسا بنا لینا ہے جیسا کہ فرد داخلی طور پر محسوس کرتا ہے اور اس کا دوسرا کوئی علاج نہیں ہے۔

 صنفی اضطراب میں مبتلا فرد مجبور ہے اور اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ یہ سب جینی بنیادوں پر فیصل ہوتا ہے۔ یعنی فرد کے اندر صنفی اضطراب کے جین موجود ہوتے ہیں وہ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے ٹرانس وومین اپنے آپ کو مرد کے جسم میں ٹرانس مین اپنے آپ کو عورت کے جسم میں مضطرب محسوس کرتا ہے۔

 صنفی اضطراب اور دیگر انحرافی جنسی رویوں کا کوئی تعلق ماحول سے نہیں ہے بلکہ یہ رویے کسی بھی قسم کے ماحول میں نمودار ہو سکتے ہیں۔

 صنفی اضطراب کی وجوہات میں دوران حمل کے حالات یا ہارمون کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔

 صنفی اضطراب کا علاج کروا کر کر (یعنی اگر کسی مرد کے مرد کی طرح جذبات ہیں اور ظاہری طور پر عورت ہے تو وہ مرد بن جائے اور اگر مرد ہے لیکن عورت کی طرح محسوس کرتا ہے تو عورت بن جائے) خوش و خرم اور نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

 اوپر کے تمام نکات صرف جزوی طور پر درست ہیں۔ ان نکات کے بعض حصے بالکل درست ہیں بعض مکمل طور پر غلط ہیں۔ اور بعض حتمی طور پر تحقیق کے ذریعے فیصل نہیں کیے جا سکتے ہیں۔ ان تینوں قسموں کی موجودگی کے باوجود عام طور پر عوامی بحثوں میں، پاپولر سائنس میں، مناظروں میں، مخالف اور موافق گروپوں کے ذریعے یہ مسلمہ بنیادوں کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں ان میں سے ہر نکتے پر تفصیلی گفتگو کی جا سکتی ہے بلکہ ان میں سے ہر ایک نکتے پر ایک تحقیقی مقالہ تیار کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ لیکن طوالت سے بچنے کے لیے، ہر نکتے کے تحت کچھ بنیادی باتیں عرض کی جاتی ہیں۔

 صنفی اضطراب ایک کیفیت ہے۔ یہ ایک نارمل بات ہے۔ اصل مسئلہ اس احساس کا نہیں بلکہ ثانوی اعضا کا ہے! یہ عجیب منطق ہے۔ یقینًا اگر صنفی اضطراب کو بیماری مانا جائے تو اس سے تعصب پیدا ہوتا ہے، غیریت ہوتی ہے، لیکن اسے ایک ‘جدا کیفیت’ بھی تو مانا جا سکتا تھا۔

 یہ کہا جاتا ہے کہ احساس ہی اصل ہے اور احساس کو بدلا نہیں جا سکتا اور یہ کہ اس طرح کے تمام تجربات ناکام ہوئے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ داخل کو خارج کی طرح نبھانے کے بجائے خارج کو داخل کی طرح ہی لیا جائے۔ لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ یہ ناکام تجربات کس سنہ کے ہیں جب کہ نفسیاتی تحلیل اور خود علم نفسیات اپنی بالکل ابتدائی حالت میں تھا اور یہ علاج اور معالجین اور اس سے نبرد آزما افراد ایک خاص سماجی و نفسیاتی ماحول میں تھے!

 پھر اس کے بعد اس ضمن میں تحقیق ہی بند ہو گئی۔ لیکن اب بھی بہت سارے نفسیاتی تحلیل کے ماہرین دعوی کرتے ہیں کہ صنفی اضطراب کو دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن انھیں قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا ایسا کیوں؟

 جدید تحقیقات میں ادراکی رویہ جاتی طریقہ علاج (cognitive behavioural therapy)اور اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہبی بنیادوں کو شامل عمل کرتے ہوئے جو تھراپی نشو و نما پا رہی ہے۔ اس کی بنا پربہت سے مثبت نتائج آ رہے ہیں، انھیں کیوں مشکوک کہا جاتا ہے۔ 

 جو افراد تبدل پذیر(transitioned) ہوکر تبدل ناپذیر (de-transitioned)ہو گئے، ان پر تحقیق کو کیوں آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ یہ وہ افراد تھے جو صنفی اضطراب سے گزر رہے تھے۔ وہ ہارمون تھراپی اور سرجری کے استعمال سے (داخلی صنفی احساس کے مطابق) تبدل پذیر ہوئے اور اس حالت میں بھی سکون اور اپنی صنفی شناخت پر اطمینان حاصل نہیں کر پائے اور پھر اپنی اسی شناخت کی طرف لوٹ گئے جو انھیں پیدائش کے وقت تفویض کی گئی تھی، یعنی ثانوی جنسی اعضا والی صنفی شناخت۔

 اس کے رد میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان افراد کے متعلق کیا خیال ہے جو تبدل پذیر ہو کر خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کتنی تحقیقات ہیں جو ان دونوں میں تقابل کرتی ہیں۔ کتنی تحقیقات ہیں جنھوں نے قابل اعتبار طریقہ کار سے ان دونوں قسموں کا تقابلی مطالعہ کیا ہے۔ اگر تحقیقات ہی کسوٹی ہیں! تو تاحال اس طرح کی تحقیقات نہیں آ جاتیں۔ دونوں دعووں کے سلسلے میں معتدل موقف اختیار کرنا ہوگا۔ کسی ایک دعوے پر اصرار صحیح نہیں ہوگا۔ مشاہداتی اعتبار سے البتہ ہر فریق کے یہاں اپنے اپنے مشاہدات ہو سکتے ہیں۔

 اس طرح سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اگر کوئی صنفی اضطراب سے پریشان ہوکر کسی معالج سے رجوع کرتا ہے تو معالج یہ کہتا ہے کہ وہ اس فرد کو صنفی اضطراب کی وجہ سے پیدا مسائل جیسے ڈپریشن، یا دیگر نفسیاتی الجھنوں کے لیے تو علاج یا کونسلنگ تو کرسکتا ہے لیکن اگر فرد یہ چاہے کہ وہ اپنا صنفی اضطراب اس طرح سے دور کرے کہ اپنے خارج کے مطابق اپنے داخل کو بنالے تو یہ ممکن نہیں ہے، معالج اس سے معذرت کر لیتا ہے۔ وہ کہتا یہ کہ ایسا ہونا یا کرنا ممکن نہیں ہے، کیوں کہ ایسا نہیں ہو سکتا ہے اور یہ غیر قانونی بھی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ تحقیقات جو یہ بتا رہی ہیں کہ تبدل پذیر ہونے والے افراد تبدل ناپذیر ہو کر اسی شناخت کی طرف واپس چلے گئے جو پیدائش کے وقت ان کو دی گئی تھی۔ اس کا کیا مطلب ہے؟

 یعنی صنفی اضطراب کا علاج ممکن ہے۔ چاہے اس کے طریقے مختلف ہوں۔ پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کیوں اس طرح کی تھراپی کو غلط طور پر کنورژن تھراپی  (conversion therapy) کا نام دے دیا گیا ہے اور اسے قانونی طور پر ممنوع بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات انتہائی غیر علمی بنیادوں پر فیصل کی گئی ہے۔ اور مغرب میں ایک خاص قسم کے نفسیاتی اسکول آف تھاٹ کے زیر اثر ایک ایسا بیانیہ تخلیق دیا گیا ہے کہ جس کی رو سے داخل اور خارج کی کشمکش میں داخل ہی سب کچھ ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی عوامل اور نفسیاتی مظاہر انتہائی پیچیدہ، انتہائی تہہ دار انتہائی معمہ خیز اور اپنے اندر انتہائی سیالیت (fluidity)لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے معاملے میں ہر قسم کے آپشن کو کھلا رکھنا ضروری ہے اور دیگر نفسیاتی معاملات، مسائل اور کیفیات میں یہی اپروچ ہوتی ہے۔ لیکن صنفی اضطراب کے سلسلے میں ہی ایسا کیوں نہیں!

 صنفی اضطراب کو لے کر اتنا غیر منطقی رویہ کیوں ہے۔ 

 قارئین کی دل چسپی کے لیے عرض ہے کہ ابتدا میں جب اس طرح کی کشمکش سے گزرنے والے افراد کا ماہر نفسیات علاج کرتے تھےتو بہت سارے ایسے طریقے اپنائے جاتے تھےجنھیں دیکھ کر یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ تو نفسیاتی تشدد ہے۔ بطور خاص بچوں میں صنفی اضطراب کو دور کرنے لیے ایسے ایسے منفی طریقے اپنائے گئے کہ مغرب کو (جس نے انسانی حقوق کا مزا حال ہی میں چکھا تھا)، ایسا لگا کہ یہ تمام طریقے تو فرد کے بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالنے جیسے ہیں۔ بلکہ اس پر ظلم ہیں۔ یاد رہنا چاہیے کہ اس وقت رویہ پر مبنی تھراپی طفلِ مکتب تھی۔ اس وقت صنفی اضطراب کے لیے اسے کنورژن تھراپی کے نام سے جانا تھا۔

 اس طرح کے حالات میں جب صنفی اضطراب کو دور کرنے میں کام یابی نہیں ملی تو اسے ناکارہ سمجھا گیا۔ اور ہر طرح کی تھراپی پر روک لگا دی گئی۔

 معقول اور صحیح رویہ یہ تھا کہ اس طرح کے معالجین اور محققین کے لیے ہدایات اور طریقہ کار متعین ہوتا۔ اور خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس وغیرہ کی منسوخی کی سزا ہوتی۔ اور صنفی اضطراب کو دونوں طرح سے ڈیل کرنے یا علاج کرنے کی سہولت بر قرار رکھی جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ نورژن تھراپی  نفسیاتی علمی حلقوں میں دھیرے دھیرے ایک گالی بن گئی اور صنفی اضطراب کے حوالے سے اپنے خارج کے مطابق داخل کو ڈھال لینے والے پیراڈائم پر تحقیق اور عملی تجربات مکمل طور پر ختم ہو گئے۔ حالاں کہ جدید دور میں سی بی ٹی وغیرہ کی غیر معمولی کام یابی نے اس پیراڈائم کو دوبارہ تجربات کی دنیا میں زندہ کرنے کی امید دلائی ہے۔ لیکن چوں کہ جنسیت اور نفسیات کے افق پر صرف ایک خاص بیانیے کی اجارہ داری ہو چکی ہے اس لیے کسی بھی متبادل بیانیے کو تحقیق کے درمیان قبولیت دلوانے کے لیے غیر معمولی عبقریت اور ادارہ جاتی سرپرستی درکار ہے جو فی الوقت علمی دنیا کے افق پر ندارد ہے۔

 صنفی اضطراب کا شکار فرد مجبور ہے کیوں کہ صنفی اضطراب جینیاتی ہے۔

 عام طور پر یہ بیانیہ سب سے مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنسی سیالیت کی بنا پراس طرح کے رویے ‘عام’ ہیں اور یہ جینی بنیادوں پر فیصل ہوتے ہیں۔ فرد کا، ماحول کا، پرورش کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ لیکن آخر کار بہت ساری تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ:

 الف۔ جنسیت ایک انتہائی پیچیدہ خاصہ ہے۔ وہ ایک جین یا جین کے گچھوں سے فیصل نہیں ہوتی بلکہ کئی جین جو جنسیت کے لیے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، وہ دوسرے افعال کے لیے بھی ذمہ دار ہیں۔ یعنی متعین طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں اور فلاں جین جنسیت یا جنسی سیالیت، یا جنسی انحرافی رویوں کے یا صنفی اضطراب کے لیے کامل طور پر ذمہ دار ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ کہنا غلط ہے اور قطعی طور پر غلط ہے کہ ‘‘صنفی اضطراب یا جنسیت کے وہ مظاہر جو جنسی دوئی سے باہر نظر آ رہے ہیں وہ جینی جبریت (genetic determination)کے ثبوت ہیں۔’’

 بطور خاص پیچیدہ خاصے جیسے صنفی اضطراب و دیگر خواص کے حوالے سے جینیاتی حلقوں میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ Many genes contribute to but do not determine complete traits یعنی بہت سے جینز مکمل خاصوں کے ظہور پذیر ہونے میں حصہ تو ڈالتے ہیں، لیکن ان کا تعین نہیں کرتے۔[2]

حقیقت یہ ہے کہ ‘ماحول’ اور ‘جین’ اور دونوں کے تعامل پر بہت سارے عوامل غیر معمولی اثر ڈالتے ہیں اور اس لیے ‘صرف ماحول’ اور ‘صرف جین’ یہ دونوں تصورات دراصل صحیح نہیں ہیں۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر جین اور ماحول دونوں مل کر کسی خاص پیچیدہ خاصے کے لیے ذمہ دار کہے جا سکتے ہیں۔ یہ پیچیدہ خاصے مذہبیت، روحانیت، جنسیت اور اعلی ادراکی صلاحیتوں سے عبارت ہیں۔

صنفی اضطراب اور دیگر انحرافی جنسی رویوں کے سلسلے میں مندرجہ بالا نقطہ نظر سب سے زیادہ صحیح مانا جاتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایک ہی بیضہ سے جنم لینے والے جڑواں بچوں کے مطالعات (monozygotic twin studies)اور دوبیضوںسے جنم لینے والے جڑواں بچوں کے مطالعات (dizygotic twin studies) سے  بسا اوقات ’صرف جین’ کے لیے محدود ثبوت فراہم ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بادی النظر میں صحیح لگے گا۔ جیسے ہی آپ ان تحقیقات کی گہرائی میں جاتے ہیں، فرق صاف نظر آنے لگتا ہے۔ وہ یہ کہ بہت سارے MT ایک جیسا ڈی این اے رکھنے کے باوجود دو جڑواں بچوں میں صنفی شناخت مختلف دیکھی گئی ہے۔ جب کہ وہ ماحول جس میں ان کی پرورش ہوئی ایک جیسا تھا۔

اس نکتہ سے جین کا تفرقی  ظہور (differential gene regulation)کا تصور سامنے آتا ہے۔ یعنی ایک جیسا ڈی این اےرکھنے کے باوجود یہ ڈی این اے کس طرح ظہور پذیر ہوتا ہے۔ سارا دار و مدار اس ظہور پذیری پر ہوتا ہے۔ یعنی اس طرح کچھ عوامل یا بہت سے عوامل ایسے ہوسکتے ہیں جن کا حساب کرنا یا انھیں ’مفرد’ طور پر حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی کنہ جین میں نہیں ہے (Not everything is in gene)۔

اوپر دیے گئے مقدمہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ صنفی اضطراب کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور جین یا جینیات اس کی ایک وجہ یا ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ صرف وہی ایک وجہ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے صنفی اضطراب کے پہلو سے ہر قسم کے تجربات اور استنباط کے لیے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔n

حوالہ جات:

Bakker A, van Kesteren PJ, Gooren LJ, Bezemer PD (1993) The                                       prevalence of transsexualism in The Netherlands. Acta Psychiatr                   Scand 87(4):237–238

Polderman TJC, Kreukels BPC, Irwig MS, Beach L, Chan YM, Derks EM,
          Esteva I, Ehrenfeld J, Heijer MD, Posthuma D, Raynor L, Tishelman                     A, Davis LK; International Gender Diversity Genomics Consortium.                      The Biological Contributions to Gender Identity and Gender                          Diversity : Bringing Data to the Table. Behav Genet. 2018 Mar;48(2):95
          108. doi: 10.1007/s10519-018-9889-z. Epub 2018 Feb 19. PMID: 29460079.

جولائی 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau