تطہیر قلب

تطہیر قلب – معنیٰ و مفہوم

تطہیر، تزکیہ کا ہم معنیٰ ہے۔ دونوں کے مفہوم میں پاک کرنا اور صاف کرنا شامل ہے۔ البتہ تزکیہ، تطہیر کے مقابلے میں زیادہ جامع ہے۔ قران مجید نے ایک جگہ دونوں کو ایک ساتھ استعمال کیا ہے:

خُذْ مِنْ أَمْوَٰلِهِمْ صَدَقَةًۭ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّیهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَیهِمْ ۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٌۭ لَّهُمْ ۗ وَٱللَّهُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ (التوبة:103)

(اے نبیﷺ) تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور اس کے ذریعے ان کا تزکیہ کرو اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو، تمہاری دعا ان کے لیے وجہِ تسکین ہوگی۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔)

لیکن جب یہ دونوں قلب کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں تو دونوں کا معنیٰ تقریباً ایک ہی ہوتا ہے۔ تزکیۂ قلب اور تطہیرِ قلب دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ تطہیرِ قلب کا مطلب ہے دل کو ہر طرح کی نامناسب چیزوں سے پاک و صاف کرنا اور فکری وروحانی اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام پر فائز کرنا۔ دل کو جملہ بیماریوں سے پاک کر کے قلبِ سلیم بنانا۔ تطہیرِ قلب قرآنی اصطلاح ہے:

أُولَٰئِكَ الَّذِینَ لَمْ یرِدِ اللَّهُ أَن یطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِی الدُّنْیا خِزْی ۖ وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ (المائدة:41)

(یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک کرنا نہ چاہا ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔)

تطہیرِ قلب کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ یہ انبیائے کرام علیہم السلام کے اہم فرائض میں شامل رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کا ایک بڑا مقصد تطہیرِ قلب اور تزکیۂ قلب تھا۔ قلب کی تطہیر ایک مشکل اور دشوار عمل ہے۔ لہٰذا اس جانب حد درجہ توجہ اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

قلب کی تعریف

قلب کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ پورے جسمِ انسانی میں اس سے اہم کوئی حصہ نہیں ہے۔ جسمانی اور روحانی اعتبار سے زندگی کی بقا اسی پر منحصر ہے۔ قلب کے معنیٰ الٹنے پلٹنے کے ہیں۔ جسمانی اعتبار سے یہ الٹتا پلٹتا ہے اور روحانی اعتبار سے بھی یہ ایک حالت میں نہیں رہتا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

إنما سمی القلب من تقلبه، إنما مثل القلب كمثل ریشة معلقة فی أصل شجرة تقلبها الریح ظهراً لبطن. (رواہ احمد)

( دل کا نام اس کے الٹنے پلٹنے کی وجہ سے پڑا ہے۔ دل کی مثال ایک درخت کے تنے سے اٹکے، پَر کی مانند ہے، جس کو ہوا الٹتی پلٹتی رہتی ہے۔)

قلب کے کئی نام ہیں، جن میں اہم درج ذیل ہیں:

صدر: سینے کو کہتے ہیں۔ دل چوں کہ سینے کے اندر ہوتا ہے، اس لیے صدر، قلب کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَمَن یرِدِ اللَّهُ أَن یهْدِیهُ یشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ. (الانعام:125)

(پس اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے، اس کے سینہ(دل)کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ۔)

فؤاد: یعنی قلب کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ فؤاد دل کا وہ اندرونی حصہ ہے جہاں فطانت، ذہانت اور زیرکی پائی جاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالی ہے :

إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا. (الاسراء:36)

(بے شک کان ،آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔)

نفس: کبھی کبھی نفس بھی قلب کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے:

تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلَا أَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُیوبِ . (المائدة:16)

(تو جانتا ہے جو میرےّ دل میں ہے اور جو تیرے دل میں ہے، میں نہیں جانتا ۔)

قلب کی اہمیت

دل خیر و شر کی آماج گاہ ہے۔ دل شرور کے فتنوں سے محفوظ ہوجائے اور قلب صالح بن جائے یہ مطلوب ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:

ألا وإن فی الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهی القلب . (متفق علیہ)

(سنو! جسم میں ایک لوتھڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ سنو وہ دل ہے۔)

دل کبھی ایک حالت میں نہیں رہتا۔ مختلف قسم کی کیفیات آتی جاتی رہتی ہیں۔ دل کبھی مغموم ہوتا ہے تو کبھی شاداں۔ کبھی انشراح کی کیفیت تو کبھی انقباض کی۔ اللہ رب العزت کی توفیق کے بغیر اسے کنٹرول کرنا نا ممکن ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

إن القلوبَ بین إصبعین من أصابعِ اللهِ یقلِّبُها كیف یشاءُ. (رواہ مسلم)

(بے شک دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ وہ جدھر چاہتا ہے انہیں موڑ دیتا ہے۔)

یہاں ایک اشکال یہ ہوسکتا ہے جب بندے کا دل رب کی انگلیوں کے درمیان ہے۔ وہ جدھرچاہے ادھر پھیردے تو بندے کا کیاکردار۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بندہ جب خیر کی جانب بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو خیر کی طرف پھیر دیتا ہے اور جب شرک کی طرف بڑھتا ہے تو اس طرف کا راستہ کھول دیا جاتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ بندہ خیر کی طرف جانا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو شرک کی طرف پھیر دے۔ یہ اس کی سنت کے خلاف ہے۔ لہٰذا بندے کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا مانگتے رہنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور دعا ہے:

كان رسولُ اللهِ ﷺ یكثرُ أن یقولَ یا مقلِّبَ القلوبِ ثَبِّتْ قلبِی على دینِك(رواہ مسلم)

(نبی اکرم ﷺ اکثر یہ فرمایا کرتے تھے: اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر جمادے۔)

قلب کا مقام

دل کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ پورے انسانی وجود میں اس سے اہم کوئی حصہ نہیں ہے۔ جسمانی اعتبار سے اس کی اہمیت کے سب قائل ہیں، لیکن اسلام نے روحانی اعتبار سے بھی دل کو خاص اہمیت دی ہے۔ دل میں ایمان بستا ہے اور دل کی روحانی حالت پر اعمال کی کیفیت کا دارومدار ہے۔ جب تک دل کی دنیا نہ بدلے ، کامیابی ممکن نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺنے صحابۂ کرام ؓ کے دل کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کے دل بدلے تو پوری زندگی بدل گئی۔ دل میں ایمان، حب ِّاللہ جل جلالہ، حبِّ رسول ﷺ، فکر آخرت اور شوقِ دیدار الہٰی نے گھر کیا تو پوری زندگی پُر بہار ہوگئی اور ان کا ہر کام صرف رضائے الہٰی کے جذبے سے انجام پانے لگا۔

دل ہر طرح کے خیالات کی جگہ اور جملہ خیر و شر کا مسکن ہے۔ ہم آگے جائزہ لیں گے کہ وہ کن کن حیثیتوں سے اہم ہے:

ایمان

ایمان دل کے اندر ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِكُمْ. (الحجرات: 14)

(دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، آپ فرما دیجیے: تم ایمان نہیں لائے، ہاں یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔)

ایک دوسری جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ الْإِیمَانَ وَأَیدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ . ( المجادلة: 22)

(یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے اور ان کو اپنے فیض سے قوت دی ہے۔)

ان دونوں آیات سے یہ بات واضح ہے کہ ایمان جیسی غیر معمولی اہمیت کی حامل چیز کا مسکن قلب ہے۔ نام کا مسلمان ہونے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ آدمی دل سے ایمان قبول نہ کرے ۔جب ایمان شعوری طور پر دل کی گہرائیوں میں سرایت کر جاتا ہے تو ایمان کی لذت محسوس ہوتی ہے اور پوری زندگی پر نور ہو جاتی ہے۔

تقوی

تقویٰ ایمان کا جوہر ہے۔ بندۂ مومن سے مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تقویٰ کی صفت کو پروان چڑھائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی بندہ سب سے زیادہ پسندیدہ ہے، جو زیادہ متقی ہو۔ تقویٰ کا مقام بھی دل ہے ۔

كلُّ المسلمِ على المسلمِ حرامٌ ، عِرضُه ، ومالُه ، ودمُه ، التقوى ها هنا وأشار إلى القلبِ بحسْبِ امریءٍ من الشرِّ أن یحقِرَ أخاه المسلمَ.(رواه مسلم)

(ایک مسلمان کی جان، مال اور عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے اور آپؐ نے دل کی طرف اشارہ کیا۔ آدمی کے برا ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنے بھائی کو حقیر سمجھے۔ )

ہدایت

ہدایت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ سیدھے راستے کی رہنمائی کرنا، اس پر چلانا اور نگرانی کرنا اللہ تعالی کا فضلِ خاص ہے، اس بندے پر جو اپنے رب سے ہدایت کا طلب گار ہو۔ ہدایت کا مسکن بھی دل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

مَا أَصَابَ مِن مُّصِیبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَمَن یؤْمِن بِاللَّهِ یهْدِ قَلْبَهُ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَیءٍ عَلِیمٌ . ( التغابن: 11 )

( (کسی کو) کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے تو وہ اُس کے دل کو ہدایت فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔)

عقل

قلب عقل کا کام بھی کرتا ہے۔ عام طور پر لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ عقل کا کام صرف دماغ کرتا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ عقل کا کام دل کرتا ہے۔ دماغ کے اپنے کام سے انکار نہیں ہے، لیکن دماغ ،دل کی طرف سے مفوضہ کام انجام دے کر دل کو واپس کر دیتا ہے اور حتمی فیصلے دل لیتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

أَفَلَمْ یسِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ یعْقِلُونَ بِهَا. (الحج: 46 )

(کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے اَیسے دل ہوجاتے جن سے عقل کا کام لیتے۔)

سمجھ بوجھ (فقہ )

سمجھنا بوجھنا، نتیجہ نکالنا اور خیر و شر میں تمیز کرنا، دل کے کام ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا یفْقَهُونَ بِهَا. (الاعراف: 179)

(اور ہم نے دوزخ کے لیے بہت سے جن اور آدمی پیدا کیے ہیں، ان کے دل ہیں کہ ان سے سمجھتے نہیں۔)

تدبر

غور و فکر اور تدبر و تفکر بھی دل ہی کا خاصہ ہے۔ اللہ رب العزت نے دل کو بڑی خوبیوں کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ غور و فکر کرنا، اس کی باریکیوں میں جانا اور صحیح نتیجے تک پہنچنا دل کے اہم کاموں میں سے ہے۔ قرآن مجید پر غور و فکر کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

أَفَلَا یتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا. (محمد: 24)

( پھر کیوں وہ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔)

یاد دہانی حاصل کرنا

نصیحت قبول کرنا، یاد دہانی حاصل کرنا اور مثبت تبدیلی لانے کی طرف آمادہ کرنا دل کا کام ہے۔ قوموں کے عروج و زوال سے عبرت حاصل کرنا، واقعات اور حادثات سے نصیحت پکڑنا، دل کے فرائض میں شامل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

إِنَّ فِی ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِیدٌ. (ق:37)

(بے شک اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت ہے، جس کے پاس دل ہو یا وہ متوجہ ہو کر کان لگا دیتا ہو۔)

اطمینان و سکون

سکون و اطمینان دل کے اندر ہوتا ہے۔ دل بے سکونی کی کیفیت میں ہو تو زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

هُوَ الَّذِی أَنزَلَ السَّكِینَةَ فِی قُلُوبِ الْمُؤْمِنِینَ لِیزْدَادُوا إِیمَانًا مَّعَ إِیمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِیمًا حَكِیمًا (الفتح:4)

(وہی تو ہے جس نے مومنوں کے دلوں پر تسکین نازل فرمائی تاکہ ان کے ایمان کے ساتھ اور ایمان بڑھے اور آسمانوں اور زمین کے لشکر سب اللہ ہی کے ہیں اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔)

عزم و ارادہ

عزم و ارادہ کی جگہ بھی دل ہی ہے۔ انھیں چیزوں کا اعتبار ہے جو دل کے ارادے سے کیے جائیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

وَلَیسَ عَلَیكُمْ جُنَاحٌ فِیمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِیمًا (الاحزاب:5)

(اور تمہیں اس میں بھول چوک ہو جائے تو تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن وہ جو تم دل کے ارادہ سے کرو، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔)

شرح صدر

شرح صدر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

فَمَن یرِدِ اللَّهُ أَن یهْدِیهُ یشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ (الانعام: 125)

(جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے۔)

جمنا، مضبوط ہونا

کسی چیز پر جمنا اور مطمئن ہونا دل کی خوبی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَیكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ (هود: 120)

( اور ہم رسولوں کے حالات تیرے پاس اس لیے بیان کرتے ہیں کہ ان سے تیرے دل کو مضبوط کر دیں۔)

 تمنا کرنا

تمنائیں اور خواہشات بھی دل کے اندر ہوتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

والقلب یتمنی ویشتھی (رواہ البخاری)

(اور دل تمنا کرتا ہے اور خواہشات رکھتا ہے۔)

دل مثبت اور منفی ہر طرح کی چیزوں کی آماجگاہ ہے۔ درج بالا سطور میں بعض مثبت چیزوں کا تذکرہ ہوا ہے۔ اب ذیل کی سطور میں کچھ منفی چیزوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، جن کا مقام دل ہے۔

غل

روز مرہ کی مصروفیتوں کے دوران بعض اوقات ایک دوسرے سے کشیدگی ہوجاتی ہے۔ کبھی کبھی بات جھگڑے اور تلخ کلامی تک پہنچ جاتی ہے۔ بعد میں معافی تلافی بھی ہوجاتی ہے، لیکن دل میں میل باقی رہتا ہے۔ دلوں میں کینہ اور میل کا ہونا بھی مومنین کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اس لیے اس سے پناہ مانگنا چاہیے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَجْعَلْ فِی قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِیمٌ. (الحشر: 10)

(اور ہمارے دلوں میں مومنوں کی طرف سے کینہ قائم نہ ہونے پائے، اے ہمارے رب! بے شک تو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔)

وساوس

وسوسے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ غلط فہمیاں اور بدگمانیاں دل کے اندر جنم لیتی ہیں۔ وسوسوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ نبی اکرم ﷺ اعتکاف میں تھے۔ آپؐ سے ملنے آپؐ کی زوجہ، ہماری ماں حضرت صفیہ بنت حیؓ  آئی تھیں۔ جب وہ جانےلگیں تو آپؐ انھیں رخصت کرنے کے لیے باہر نکلے۔ سامنے سے دو انصاری صحابیؓ جارہے تھے۔ انھوں نے آپؐ کو دیکھا تو تیز تیز قدم جانے لگے۔ آپؐ نے انہیں روکا اور فرمایا کہ یہ میری فلاں زوجہ ہیں۔ دونوں صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہمارے حاشیۂ خیال میں نہیں ہوگا کہ آپؐ کسی غیر کے ساتھ ہوں گے۔ آپؐ نے یہ وضاحت کیوں فرمائی۔ تو آپؐ نے فرمایا:

إنَّ الشَّیطَانَ یجْرِی مِنَ الإنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ، وإنِّی خَشِیتُ أنْ یقْذِفَ فی قُلُوبِكُما سُوءًا. (رواه البخاری)

(بے شک شیطان انسان کے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے اور مجھے اندیشہ محسوس ہوا کہ وہ تمہارے دل میں بد گمانی نہ ڈال دے۔)

انقباض

تنگ اورپریشان ہونا بھی دل کی خاص کیفیت ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَن یرِدْ أَن یضِلَّهُ یجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا یصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ. (الانعام: 125)

( اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گویا کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے۔)

مرعوبیت

خوف، رعب اور دہشت دل میں ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

سَنُلْقِی فِی قُلُوبِ الَّذِینَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ ینَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ۖ وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۚ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِینَ.( آل عمران :151)

(اب ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈال دیں گے اس لیے کہ انہوں نے اللہ کا شریک ٹھہرایا جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کا وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔)

حسرت

حسرت ایک جذباتی کیفیت ہے۔ یہ بھی دل سے وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِیجْعَلَ اللَّهُ ذَٰلِكَ حَسْرَةً فِی قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ یحْیی وَیمِیتُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ.(آل عمران. 156)

’’ تاکہ اللہ اس خیال سے ان کے دلوں میں افسوس ڈالے، اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھنے والا ہے۔‘‘

 وہن

وہن کمزوری کو کہتے ہیں۔ بزدلی، بے حوصلگی اور مایوسی یہ سب کیفیت اس میں شامل ہے۔ وہن دل کے اندر ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے وہن کا سبب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ حب دنیا اور موت سے خوف کی وجہ سے آتا ہے۔ مشہور حدیث ہے:

ولیقذفن فی قلوبكم الوهن. فقال قائل: یا رسول الله، وما الوهن؟ قال: حب الدنیا، وكراهیة الموت.( رواه ابوداؤد)

(اور تمھارے دلوں میں اللہ تعالیٰ وہن ڈال دے گا۔ ایک صحابیؓ نے پوچھا: وہن کیا ہے؟ اے اللہ کے رسولﷺ۔ آپؐ نے فرمایا: دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔)

دل پر دھیان دیں

اللہ کی نگاہ بندےکے دل پر خاص طور سے ہوتی ہے، اس لیے بندے کی نگاہ بھی سب سے زیادہ اپنے دل پر ہونی چاہیے۔

اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرمایا ہے۔ وہ اس کی شہہ رگ سے بھی قریب ہے اور ہر چیز سے واقف ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری نعمتیں عطا فرمائی ہیں: بہترین جسم، دلکش صورت، مال و دولت، عزت و شہرت اور بہت کچھ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں بندے کا دل دیکھتا ہوں کہ وہاں کیا ہے؟ ایمان، اخلاص ،حب اللہ جل جلالہ ، حبّ رسول ﷺ اور فکرِ آخرت ہے یا کچھ اور ہے۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں:

إن الله لا ینظر إلى أجسامكم، ولا إلى صوركم، ولكن ینظر إلى قلوبكم ۔ (رواہ مسلم)

(بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے جسم اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تطہیر قلب

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223