تطہیرِ قلب

(4)

کبر و غرور

کبر و غرور بھی ایک سنگین قلبی مرض ہے۔ اس مرض میں آدمی کو غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ وہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوگیا ہے۔ نعمتیں سب دی ہوئی اللہ رب العزت کی ہیں، لیکن ان کو پاکر آدمی شکر کا جذبہ اختیار کرنے کے بجائے کبر و غرور کا رویہ اپنانے لگتا ہے۔ لغت کے بڑے عالم زبیدیؒ لکھتے ہیں:

’’ کبر ایک ایسی مخصوص حالت ہے جس میں انسان خود پسندی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔‘‘(تاج العروس: 14/8)

امام غزالیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’کبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو عظیم سمجھنے لگے اور دوسروں کے مقابلے میں اپنی قدر و منزلت کو زیادہ سمجھے۔‘‘(احياء علوم الدين 353/3)

نبی اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں کبر کو بالکل واضح فرمادیا ہے۔ اچھا کھانا، اچھا پہننا، صاف ستھرا رہنا، غلط بات نہیں ہے بلکہ نامناسب بات یہ ہے کہ اس کی وجہ سے دل کے اندر گھمنڈ پیدا ہو، وہ اس پر اترائے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

’’جس کے دل میں ذرہ برابر کبر ہے وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے پوچھا:آدمی چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اور جوتا بہتر ہو تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ کبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔‘‘(رواہ مسلم)

کبر و غرور کرنے والے اور گھمنڈ میں مبتلا ہونے والے اللہ رب العزت کو پسند نہیں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ. (النحل: 23)

(اللہ یقیناً اِن کے سب کرتوت جانتا ہے چھپے ہوئے بھی اور کھلے ہوئے بھی۔ وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہوں۔)

کبر وغرور کرنے والا اصلاً ناشکرا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پانے کے بعد اس کے اندر شکر کے جذبات پیدا ہونے کے بجائے ناشکری جنم لیتی ہے۔ اس کے دل کے اندر بڑا بننے کا احساس پروان چڑھ جاتا ہے اور وہ کفرانِ نعمت کے جرم میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ابن قیمؒ نے کبر کو کفر کی صف میں رکھا ہے۔ وہ اپنی مشہور کتاب’الفوائد‘ میں لکھتے ہیں:

’’کفر کے چار ارکان ہیں اور وہ یہ ہیں: کبر، حسد، غضب اور شہوت۔‘‘ (کتاب الفوائد: ص 157)

آدمی جن چیزوں پر غرور اور گھمنڈ کرتا ہے وہ سب اللہ رب العزت کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ وہ کبھی اپنے حسب و نسب پر غرور کرتا ہے کہ لوگوں کے درمیان وہ سب سے معزز ہے۔ اپنی خوبصورتی پر اتراتا ہے کہ اس سے خوبصورت کوئی نہیں ہے۔ لوگوں کی صورتوں کا مذاق اڑاتا ہے یا معذور لوگوں کی دل آزاری کرتا ہے۔ اپنے مال پر غرور کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اسی کا مستحق تھا۔ وہ اسے اللہ رب العزت کی طرف سے آزمائش نہیں سمجھتا بلکہ غریبوں کا مذاق اڑاتا ہے۔ اولاد پر اتراتا ہے کہ اس کے پاس اولاد زیادہ ہے اور اس کے بچے دوسروں سے اچھے ہیں۔ جاہ و منصب کی اینٹھن اس کے اندر پیدا ہوجاتی ہے۔ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ قوت، طاقت اور حکومت کا غرور بھی بہت خطرناک ہوتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ عزت اور ذلت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ علم کا غرور بھی انسان کو برباد کردینے والا ہوتا ہے۔ آدمی کو یہ زعم ہوجاتا ہے کہ میرے پاس جو علم ہے وہ کسی اور کے پاس نہیں۔ میں سب سے زیادہ ذہین و فطین ہوں۔ تقویٰ کا گھمنڈ جان لیوا ہے۔ اپنے آپ کو بہت متقی، پرہیزگار اور دیندار سمجھنا اور دوسروں کو دینداری کے معاملے میں کمتر سمجھنا اعمال کو برباد کردیتا ہے۔ ابن تیمیۃؒ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’تکبر عابد کے لیے آفت ہے۔ بہت سارے عبادت گزار ریا کی مصیبت اوراپنے اعمال سے دھوکہ کھاجانے کی آزمائش میں گرفتار ہوجاتے ہیں، یہ کبر خفی کے قبیل کی چیز ہے جو انھیں عبادت کی حقیقت سے محروم کردیتا ہے۔‘‘(الرد علی الشاذلي، ص207)

کبر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ بلکہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ تواضع اور انکسار کو پسند فرماتا ہے۔ مغرور شخص کے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے اور ہر حرکت سے غرور جھلکتا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت لقمانؑ کی اپنے بیٹے کو نصیحت کا تذکرہ یوں ہوا ہے:

وَ لَا تُصَعِّر خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمشِ فِی الاَرضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰہَ لَا یحِبُّ کُلَّ مُختَالٍ فَخُورٍ(لقمان:18)

(اور لوگوں سے منھ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔)

ایک حدیث قدسی میں ہے کہ جو شخص بڑا بنتا ہے اور کبر و غرور اپناتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے اور عذاب سے دوچار ہوگا۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

إنَّ اللهَ تعالى يقولُ : إنَّ العزَّ إزاري ، والكبرياءَ ردائي ، فمَن نازعَني فيهِما عذَّبْتُه (رواہ مسلم)

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: عزت و قوت میری ازار ہے اور کبریائی (بڑا ہونا) میری چادر ہے۔ تو جو کوئی ان دونوں کے سلسلے میں مجھ سے جھگڑے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

من تعظَّم في نفسِه أو اختال في مِشيتِه ، لقيَ اللهَ تبارك وتعالى وهو عليه غَضبانُ (رواہ احمد)

’’جو اپنے آپ میں بڑا بنا یا اپنی چال میں گھمنڈ کیا وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوگا۔‘‘

کبر و غرور آدمی کی عقل کو کم کردیتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس بات کا احساس ختم ہوجاتا ہے کہ یہ ساری نعمتیں اسے اللہ رب العزت نے عطا فرمائی ہیں اور چشم زدن میں وہ انھیں چھین بھی سکتا ہے۔ امام غزالیؒ نے احیاء علوم الدین میں ایک قول نقل کیا ہے کہ مغرور کی عقل میں غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے کمی واقع ہوجاتی ہے:

’’محمد بن حسین بن علی ؒ نے فرمایا: جس کے دل میں کبر و غرور داخل ہوجاتا ہے اس کی عقل کم ہوجاتی ہے، تھوڑا غرور ہوگا تو تھوڑی عقل جائے گی۔ زیادہ غرور ہوگا تو زیادہ عقل کم ہوجائے گی۔‘‘(إحياء علوم الدين، ج3، ص524)

گھمنڈ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اس لیے اس کی سزا بھی سخت ہے۔ اس بیماری کا سختی کے ساتھ نوٹس لینا چاہیے اور جلد ازجلد کوشش کرنی چاہیے کہ دل کے اندر سے یہ بیماری ختم ہوجائے اور دل قلبِ سلیم بن جائے۔ نبی اکرم ﷺ کی ایک مشہور حدیث ہے:

لا يَدْخُلُ الجَنَّةَ مَن كانَ في قَلْبِهِ مِثْقالُ ذَرَّةٍ مِن كِبْرٍ (رواہ مسلم)

(جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوسکے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر و غرور ہوگا۔)

مغرور شخص کے لیے شریعت میں سخت وعید آئی ہے۔ اس کی ہر ادا سے غرور جھلکتا ہے۔ وہ کپڑا پہنتا ہے تو اس میں بھی گھمنڈ نظر آتا ہے۔ کبر کی وجہ سے جو اپنے کپڑے کو لٹکا کر چلے اس کے لیے بھی سخت سزا کی دھمکی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لا ينظرُ اللهُ يومَ القيامةِ إلى من جرَّ ثوبَه من الخُيلاءِ (رواہ ابن ماجہ)

’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو نہیں دیکھے گا جو کبر کی وجہ سے اپنے کپڑے کو گھسیٹ کر چلتا ہے۔‘‘

کبر و غرور دل کی خطرناک بیماری ہے۔ دل میں ایمان کی مضبوطی، دنیا کی بے ثباتی، نعمتوں پر شکر کا جذبہ اور خوفِ خدا کے بجائے دوسری چیزیں گھر کر لیتی ہیں۔ پھر اس کے اندر طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ جن میں ایک بڑی بیماری اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر گھمنڈ کرنا ہے۔ اگر انسان نے اس پر توجہ نہیں دی اور کبر وغرور کو اپنے اندر سے ختم نہیں کیا تو اس کا انجام قیامت کے دن ذلت و رسوائی اور شدید عذاب ہے۔ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن باریک چیونٹیوں کی طرح اٹھایا جائے گا۔ ان کی شکلیں انسانوں جیسی ہوں گی، لیکن حجم باریک چیونٹیوں کا ہوگا۔ ہر جگہ سے ان پر ذلت برس رہی ہوگی۔ ان کو جہنم کے قید خانے (بولس) کی طرف ہانک کر لے جایا جائے گا۔ آگ کے شعلے ان پر بھڑک رہے ہوں گے۔ جہنمیوں کے زخموں کا دھوون جو جسم کو برباد کردے گا، انھیں پلایا جائے گا۔‘‘(رواہ الترمذي)

آدمی جب اپنے قلب کی اصلاح نہیں کرتا ہے او ر کبر و غرور کے مرض میں مبتلا ہوکر نافرمانی پر نافرمانی کرتا چلا جاتا ہے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور اس کے لیے ہدایت کا راستہ مسدود ہوجاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ. (غافر: 35)

( اِسی طرح اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔)

ہمیں ان چیزوں سے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

یاد رہے کہ کبر و غرور ناشکری کی بدترین صورت ہے۔ اس لیے کبر وغرور سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْئَرُونَ (النحل: 53)

(تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو۔)

نعمتیں سب اللہ رب العزت کی طرف سے ہیں۔ ہم رب دو جہاں کی نعمتوں میں غرق ہیں۔ شمار کرنا چاہیں تو شمار نہیں کر سکتے:

وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ(النحل: 18)

(اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔)

نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے نعمتیں اور ملتی ہیں۔ اللہ رب العزت کے پاس زمین و آسمان کے خزانے ہیں، لیکن ناشکری کرنے والوں سے نعمتیں چھن جاتی ہیں اور وہ سخت عذاب سے دو چار ہوتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ(ابراہيم: 7)

(اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔)

کبر و غرور سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اندر تواضع، انکسار اور خاکساری پیدا کرے۔ اپنی حیثیت کو سمجھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرے۔ وہ کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے کس مقام پر فائز کردیا۔ انکسار و تواضع اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اوپر اٹھادیتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

وما تَواضَعَ أحَدٌ للَّهِ إلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ(رواہ مسلم)

’’ جو اللہ رب العزت کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سر بلندی عطا فرمادیتے ہیں۔‘‘

نبی اکرم ﷺ نے ہمیں انکسار و تواضع سکھایا ہے۔ آپؐ کی پوری زندگی میں تواضع کی تعلیم ملتی ہے۔ آپ کا کھانا اور پہناوا بالکل سادہ تھا۔ ایک بار حضرت عمرؓ آپ کے حجرے میں تشریف لے گئے تو وہاں کا ماحول دیکھ کر آپؓ رونے لگے۔ راوی کے مطابق:

’’حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ آپؐ ایک چٹائی پر تشریف فرما تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے اوپر صرف ایک ازار (تہہ بند) ہے۔ چٹائی نے آپؐ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے۔ ایک صاع کے قریب جو ہے۔ کمرے کے کونے میں دباغت کے پتے ہیں اور ایک چمڑا سُکھانے کے لیے لٹکایا گیا ہے۔ میں یہ سب دیکھ کر رونے لگا۔ تو آپؐ نے فرمایا: عمرؓ کیوں رونے لگے؟ میں نے کہا میں کیوں نہ روؤں۔ چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر پڑا ہوا ہے۔ یہ آپ کا توشہ دان ہے۔ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ اور وہ قیصر و قصریٰ پھلوں اور دریاؤں کی خوش حالی میں زندگی گزار رہے ہیں اور آپؐ اللہ کے سچے نبی اور اس کے چنیدہ بندے ہیں۔ آپ کا حجرۂ مبارکہ اس طرح ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابن خطابؓ! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا۔ حضرت عمؓر نے کہا، جی ہاں۔ آپؐ نے درست فرمایا۔‘‘(رواہ ابن ماجہ)

فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ دورانِ سفر تسبیح اور تحلیل میں مصروف تھے۔ ٹھیک سے بیٹھنے کے بجائے آپؐ کا سَر شکر کے جذبے سے سواری کے کجاوے سے لگا جا رہا تھا اور جب آپؐ مکہ پہنچے تو منظر دیدنی تھا۔ عفو و درگزر کا دریا بہہ رہا تھا۔ اسی دوران ایک شخص کو لایا گیا جس کا بدن قابو میں نہیں تھا۔ آپؐ نے اس کو قریب کیا اور فرمایا: پریشان مت ہو:

’’نبی ﷺ کے پاس ایک شخص آیا۔ آپؐ نے اس سے گفتگو کی تو وہ کانپنے لگا۔ آپؐ نے اس سے کہا: اطمینان سے رہو۔ میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں۔ میں ایک ایسی خاتون کا بیٹا ہوں جو سکھایا ہوا گوشت کھاتی تھی۔‘‘(رواہ ابن ماجہ)

حضرت عمرؓ کی خاکساری کا یہ حال تھا کہ پیوبند لگے کپڑے پہننے میں کوئی عار نہیں تھا۔ انکسار و تواضع کی زندگی گزارتے تھے۔ درخت کے نیچے ریت پر لیٹ جاتے تھے۔ بیت المقدس پہنچے تو پیدل تھے، سواری پر خادم تھا۔

کبر و غرور جیسے مرض سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی اوقات یاد رکھے کہ میں کیا تھا۔ ماں کے پیٹ میں ایک جنین اور پیدائش کے بعد ایک کم زور نو زائیدہ، مکھی بھی نہیں بھگا سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور مجھے کیا سے کیا بنا دیا۔

ابن قتیبۃؒ نے ایک جگہ کبر و غرور پر قابو پانے کے لیے اپنی اوقات یاد رکھنے کی ضمن میں لکھا ہے:

’’ احنف بن قیس نے کہا: مجھے تعجب ہے کہ جو شخص پیشاب کے راستے سے دوبار (ماں باپ کے) گزرا ہو وہ کیسے کبر و غرور کر سکتا ہے۔‘‘(عيون الاخبار: 384/1)

گھمنڈ سے نجات پانے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر شخص کی عزت کرے، کسی کو کمتر نہ سمجھے اور فقراء و مساکین سے ہمدردی اور دوستی رکھے۔ ان کے ساتھ بیٹھے اور ان کو خود سے قریب کرے۔ ان کو سلام میں پہل کرے۔ ان کو اپنے دسترخوان پر بٹھاکر کھانا کھلائے۔ ان سے دل میں محبت رکھے۔ نبی ﷺ کی حدیث ہے:

’’ ابو ذر غفاریؓ نے فرمایا کہ میرے خلیل نبی اکرم ﷺ نے مجھے چند خیر کی باتوں کی نصیحت فرمائی۔ آپؐ نے مجھے نصیحت فرمائی کہ میں اپنے سے اوپر کے لوگوں کو نہ دیکھوں اور میں اپنے سے نیچے کے لوگوں کو دیکھوں اور مجھے نصیحت فرمائی کہ میں مساکین سے محبت کروں اور ان سے قریب رہوں۔‘‘(رواہ احمد)

اسلامی اجتماعیت میں ہر شخص کی بڑی اہمیت ہے۔ خواہ وہ مالی اعتبار سے کمزور کیوں نہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ سب سے محبت فرماتے اور سب کو نوازتے۔ ایک صحابی کا تذکرہ آتا ہے ان کا نام زاہرؓ تھا۔ دیہات کے رہنے والے تھے۔ معاشی اعتبار سے بہت مضبوط نہیں تھے۔ جسمانی اعتبار سے بہت خوبصورت نہیں تھے۔ نبی کریمﷺ کا ان کے ساتھ برتاؤ کتنا حسین تھا، حدیث شریف میں بیان ہے:

’’دیہات کے ایک صحابیؓ تھے۔ ان کا نام زاہر بن حرامؓ تھا۔ دیہات سے وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے تحفہ لاتے اور نبی اکرم ﷺ جاتے وقت انہیں شہر کے تحائف عطا فرماتے۔ آپؐ فرماتے زاہر ہمارے دیہاتی ساتھی ہیں، ہم ان کے شہری ساتھی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ ان سے محبت فرماتے تھے۔ وہ جسمانی طور پر زیادہ خوبصورت نہیں تھے۔ ایک دن وہ اپنا سامان بیچ رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو پیچھے سے جاکر پکڑ لیا۔ انھیں معلوم نہیں تھا کہ پکڑنے والا کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے چھوڑو، کون ہے؟ وہ پیچھے مڑے تو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ہیں۔ تو وہ اپنی پیٹھ نبی اکرم ﷺ کے سینۂ مبارک سے دوبارہ لگانے لگے کہ مجھے اپنے سینے سے پھر لگا لیجیے۔ نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ اس بندے کو کون خریدے گا؟ تو حضرت زاہرؓ نے کہا کہ واللہ آپؐ میری قیمت بہت کم پائیں گے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لیکن تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک گراں ہے۔‘‘(رواہ احمد)

نبی ﷺ نے ہمیں بتایا کہ کبر و غرور انسان کو برباد کردینے والی چیز ہے۔ آدمی کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور دوسروں کو کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آزمائش ہے۔ کسی کو نوازتا ہے تو آزماتا ہے اور کسی کو تنگی دیتا ہے تو آزماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کس سے خوش ہے، ہمیں نہیں معلوم۔ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں سب کچھ ہے۔ ہم فقیر محض ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر: 15)

(لوگو، تم ہی اللہ کے محتاج ہو اور اللہ تو غنی و حمید ہے۔)

کبر و غرور سے نجات حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کا ہمہ آن استحضار رکھا جائے۔ جواب دہی کے احساس کو بڑھایا جائے اور ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو کبر و غرور سے محفوظ رکھے، آمین۔

 غیبت

غیبت ایک سنگین مرض ہے۔ آدمی کا دل اپنے رب کی طرف یکسونہیں ہوتا۔ اس کے اندر خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی کا جذبہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے اور ایک ایک چیز کا حساب دینے کا احساس ماند پڑ جاتا ہے۔ لہٰذا اس کے اندر طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ غیبت ایک اخلاقی اور سماجی برائی ہے۔

غیبت کہتے ہیں کہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی بیان کی جائے۔ معروف لغوی جوھری لکھتے ہیں:

’’انسان کسی غیر حاضر شخص کے بارے میں ایسی بات کرے کہ اگر وہ سن لے تو اسے غم ہو۔ وہ بات سچی ہو تو اسے غیبت کہتے ہیں اور اگر وہ جھوٹی ہو تو بہتان ہے۔‘‘(الصحاح في اللغۃ: 1/196)

غیبت کے دائرے میں زبان سے بات کرنے کے علاوہ اشارہ کنایہ بھی غیبت میں شامل ہے۔ ایک بڑے عالم المُناوی لکھتے ہیں:

’’کسی کے عیب کا تذکرہ اس کی غیر موجودگی میں کرنا غیبت ہے۔ چاہے وہ لفظ سے ہو یا اشارہ ہو یا حکایت کے انداز میں ہو۔‘‘(فيض القدير 3/166)

نبی اکرم ﷺ نے غیبت کے بارے میں ایک مشہور حدیث میں فرمایا:

آپؐ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے۔ صحابہؓ نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ زیادہ جانتے ہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کی کوئی ناپسندیدہ بات اس کے غیاب میں بیان کرو۔ آپؐ سے پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہے توآپؐ نے فرمایا : اگر اس میں موجود ہے تو غیبت ہے اور اگر اس میں وہ برائی موجود نہیں ہے تو بہتان ہے۔‘‘(رواہ مسلم)

یہ بیماری اتنی عام ہوچکی ہے کہ شاید ہی کوئی اس سے بچا ہو۔ ہماری مجلسوں میں بے تکلف دوسروں کی برائیاں بیان کی جاتی ہیں اور ہم بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اگر بولتے نہیں تو کم از کم اس سے لطف اندوز تو ہوتے ہی ہیں۔ یہ بھی غیبت ہی کے درجے میں ہے۔ ہمیں غیبت سے کلی طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے پاس کوئی غیبت کر رہا ہے تو اسے خاموش کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر اس مجلس سے اٹھ کر چلے جانا چاہیے۔

غیبت اتنا شنیع عمل ہے کہ غیبت کرنے والے کی شخصیت سے روحانیت ختم ہوجاتی ہے۔ وہ سب سے بڑا ظلم اپنے اوپر کرتا ہے اور پھر لوگوں کی عزتوں سے کھلواڑ کرتا ہے نیز وہ اسلامی معاشرے کے تقدس کو پامال کرتا ہے۔ اللہ رب العزت نے غیبت کرنے والوں کے لیے سخت وعید فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: 12)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تجسس نہ کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ دیکھو، تم خود اس سے گھن کھاتے ہو اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔)

غیبت کرنے والا گویا اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔ اس سے زیادہ قبیح مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔ آخرت میں بھی ان کی حالت اچھی نہیں ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نے معراج کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’جب مجھے معراج میں لے جایا گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخون تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میں نے کہا جبریلؑ یہ کون لوگ ہیں؟ تو جبریل نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزت سے کھلواڑ کرتے تھے۔‘‘(رواہ ابوداؤد)

آدمی یہ سب حرکتیں اس لیے کرتا ہے کہ اس کا دل پاک نہیں ہوتا۔ دل نامناسب چیزوں کی آماجگاہ بنا ہوتا ہے اور اس کا دل خوفِ خدا اور خشیتِ الٰہی سے عاری ہوتا ہے۔ اس کا ایمان کمزور ہوتا ہے۔ اسے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی شخصیت کو مجروح کرنا دین میں ناجائز ہے لیکن ایمان کی کم زوری کی وجہ سے وہ غیبت کرتا رہتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو حرام فرمائی ہے تو ایک مخلص مسلمان اس کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے۔ خطبۂ حجۃ الوداع میں آپؐ فرمایا:

’’بیشک تمہاری جان، مال اور عزت ایک دوسرے پرحرام ہے۔ جیسے آج کا دن اس شہر اور اس مہینے میں حرام ہے۔‘‘ (رواہ البخاري)

غیبت کے مرض میں مبتلا ہوجانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آدمی غلط صحبت اختیار کرلیتا ہے۔ جن کے درمیان وہ اٹھتا بیٹھتا ہے وہ اچھے لوگ نہیں ہوتے۔ ان کے درمیان رہتے رہتے وہ غیبت سیکھ جاتا ہے۔ دینِ اسلام نے اسی وجہ سے صحبتِ صالحہ اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اچھے ساتھی اور برے ساتھی کی مثال بیان کرتے ہوئے آپؐ نے فرمایا:

’’اچھے ساتھی کی مثال عطر فروش کی ہے۔ یا تو وہ آپ کو عطر ہدیہ کردے گا یا آپ اس سے خرید لیںگے۔ آپ نہ بھی خریدیں تو اچھی خوشبو آپ تک آئے گی ہی۔ برے ساتھی کی مثال دھونکنی پھونکنے والے لوہار کی ہے۔ یا تو وہ آپ کے کپڑے جلادے گا نہیں تو خراب بو تو آپ کو مل کر رہے گی۔‘‘(رواہ البخاري و مسلم)

غیبت کی ایک وجہ دنیا داری ہے۔ آخرت پر یقین کی کمی ہے۔ جواب دہی کے احساس کا فقدان ہے۔ آدمی دنیا ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ آخرت بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا۔ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (الاعلیٰ: 16۔17)

’’مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘

غیبت کی وجہ حسد بھی ہوتی ہے۔ آدمی جس سے حسد کرتا ہے۔ اس کی کمیاں ادھر ادھر بیان کرتا پھرتا ہے۔ کہیں بھی اس کا ذکر ہو اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کردیتا ہے۔ اسے حسد کی ممانعت کا علم تو ہوتا ہے لیکن ایمان کی کم زوری کی وجہ سے اس پر یقین نہیں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’حسد سے بچو کیوں کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔‘‘ (رواہ ابوداؤد)

غیبت کی ایک وجہ خالی اور بے کار رہنا بھی ہے۔ خانہ خالی را دیومی گیرد۔ آدمی بے کار خالی رہتا ہے تو ادھر ادھر لوگوں کی غیبت کرتا پھرتا ہے۔ ابن قیمؒ اپنی کتاب الجواب الکافی میں لکھتے ہیں:

’’خالی رہنے سے خرابیاں در آتی ہیں۔ نافرمانیاں ہلاکت خیز ریلے کی طرح بندے کو گھیر لیتی ہیں۔ اس سے ایمان کمزور ہوتا ہے اور بندہ اپنے رب سے دور ہوجاتا ہے۔‘‘(الجواب الکافي ص 109)

غیبت ایک سنگین معاشرتی بیماری ہے۔ اپنی کمیوں کو بھول جانا، دوسروں کے عیوب تلاش کرنا اور اِدھر اُدھر بیان کرنا نہایت معیوب بات ہے۔ اس سے انسان کا اپنا اعمال نامہ تو خراب ہوتا ہی ہے، معاشرے کی پاکیزگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ برائیاں عام ہونے لگتی ہیں اور پھر کسی کی عزت محفوظ نہیں رہتی۔ اسلام چاہتا ہے کہ آدمی کی عزت نفس بھی محفوظ رہے اور معاشرہ کے اندر بھی پاکیزگی اور تقدس کا ماحول قائم رہے۔ اللہ رب العزت ہم تمام کو کبر و غرور، حسد اور غیبت جیسی تمام مہلک بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تطہیرِ قلب

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223