پانچویں بیماری: نفاق
قلب کی ایک سنگین بیماری نفاق ہے۔ نفاق کا مطلب یہ ہے کہ دل میں کچھ ہو، زبان پر کچھ اور۔ ایمان کی کم زوری، تعلق باللہ کی عدم مضبوطی اور احساسِ ذمہ داری کے فقدان کے نتیجے میں دل کے اندر بہت ساری خطرناک بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں، ان میں سے ایک نفاق بھی ہے۔ ابن رجب حنبلیؒ لکھتے ہیں:
’’نفاق عربی زبان میں مکر و فریب کے قبیل سے ہے، اس کا مفہوم ہے خیر کو ظاہر کرنا اور شر کو دل میں چھپائے رکھنا۔‘‘(جامع العلوم و الحکم: 481/2)
ابن القیمؒ فرماتے ہیں کہ نفاق ایک مہلک مرض ہے اور یہ دل کی ایک حد درجہ پیچیدہ بیماری ہے:
’’اور نفاق دل کی وہ حد درجہ پیچیدہ بیماری ہے کہ آدمی کو اس بیماری میں مبتلا ہو جانے کے باوجود بھی اس کا احساس نہیں ہوتا۔‘‘(مدارج السالکين: 355/1)
نفاق کی دو بڑی قسمیں ہیں: ایک اعتقادی ہے، اسے نفاقِ اکبر کہتے ہیں، اور دوسرا عملی ہے، اسے نفاقِ اصغر کہا جاتا ہے۔ اعتقادی نفاق کفر ہے۔ ایسا منافق ملت سے خارج ہو جاتا ہے۔ منافقین کی یہ قسم نبی کریم ﷺ کے زمانے میں موجود تھی۔ نفاقِ عملی کا مرتکب کافر نہیں ہوتا، اس لیے کہ اس کے دل میں کسی درجے میں ہی سہی ایمان ہوتا ہے۔ وہ مسلمان ہوتا ہے لیکن ایمان کی کم زوری کی وجہ سے عملاً دین و شریعت کی پابندی نہیں کر پاتا۔
نفاقِ اکبر
یہ اعتقادی نفاق ہے،ایسے منافق کے دل میں ایمان بالکل بھی نہیں ہوتا۔ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
’’نفاق کی ایک قسم وہ ہے جسے اکبر کہتے ہیں۔ ایسا منافق جہنم کے نچلے طبقے میں ہوگا، جیسے عبداللہ بن ابی وغیرہ کا نفاق۔ یہ منافق نبی کریم ﷺ کی تکذیب کا اظہار کرتا ہے، جو آپؐ لے کر آئے اس کا انکار کرتا ہے،آپؐ سے بغض رکھتا ہے اور آپؐ کے لائے ہوئے دین کی اتباع کی فرضیت پر عقیدہ نہیں رکھتا۔‘‘(مجموع الفتاوی لابن تيمية: 28/434)
مدارج السالکین میں ابن القیمؒ لکھتے ہیں:
’’نفاق کی دو قسمیں ہیں: اکبر اور اصغر۔ نفاقِ اکبر کفر ہے۔ نفاقِ اکبر کا مرتکب جہنم کے نچلے طبقے میں ہمیشہ رہے گا۔ یہ منافق مسلمانوں کے سامنے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت پر ایمان کا اظہار کرتا ہے، لیکن اس کا دل ایمان سے بالکل خالی ہوتا ہے بلکہ وہ ایمان کی تکذیب کرتا ہے۔‘‘
نفاقِ اعتقادی یا نفاقِ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دل میں کفر رکھے اور زبان پر ایمان کا اظہار کرے۔ یہ نفاق نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں تھا، جنھوں نے اسلام کو کافی نقصان پہنچایا۔ قرآن مجید میں انھی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ. (البقرۃ: 8)
’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالاں کہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔‘‘
اسی طرح منافقین جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ جلیں گے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا. (التوبۃ: 68)
’’ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
نفاقِ اصغر
یہ عملی نفاق ہے۔ اس کا مرتکب کافر نہیں ہوتا اور ملت سے خارج نہیں ہوتا۔ ایک شخص جو دل سے مسلمان ہوتا ہے لیکن اس کے اعمال ایمان کی کم زوری کی وجہ سے دین و شریعت کے مطابق نہیں ہوتے۔ ایسا شخص خارج از ملت اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کے خلاف نہیں ہے، بلکہ وہ اندر سے مومن ہے اور دین کے مطابق عمل نہیں کرپاتا۔ ایسے شخص کے اندر نفاق کی صفات تو ضرور پیدا ہو جاتی ہیں لیکن وہ نفاقِ اکبر کا مرتکب نہیں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
آيةُ المُنافِق ثلاثٌ: إذا حَدَّث كَذَب، وإذا وعد أخلَفَ، وإذا اؤتُمِن خان (رواہ البخاري و مسلم)
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔‘‘
مسلم شریف کے شارح امام نووی ؒ لکھتے ہیں:
’’اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ عادتیں نفاق کی عادتیں ہیں اور ان عادتوں کا مرتکب منافقین سے ان کی عادات و اطوار میں مشابہ ہے۔‘‘ (شرح مسلم: 2/46)
الحمدللہ تعالیٰ ہم تمام کو ایمان کی دولت حاصل ہے۔ البتہ عمل کی دنیا میں کوتاہیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں۔ ہمیں اس کی فکر دامن گیر رہنی چاہیے کہ کہیں ہم عملی نفاق کے مرتکب نہ ہو جائیں۔ اپنے دل کی تطہیر اس انداز سے کرنی چاہیے کہ قول و فعل کا تضاد ختم ہو جائے اور ہم مومنین مخلصین میں شامل ہو جائیں۔
نفاق کی بہت ساری علامات ہیں، ان سے بچنے کی فکر ہمیں ہر آن کرتے رہنا چاہیے۔ جھوٹ بولنا اور غلط بیانی کرنا نفاق کی علامت ہے۔ جھوٹ اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، لہٰذا جھوٹ سے توبہ کرنی چاہیے۔ یہ بیماری اگر دل میں گھر کر لے تو اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إياكم والكذبَ، فإن الكذبَ يهدي إلى الفجورِ، والفجورُ يهدي إلى النارِ، وإن الرجلَ ليكذبَ فيتحرَّى الكذبَ حتى يُكتبَ عندَ اللهِ كذابًا (رواہ البخاري)
’’جھوٹ سے پرہیز کرو کیوں کہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
امانت و دیانت مومن کی اعلیٰ صفات میں شامل ہے۔ امانت میں خیانت کرنا نفاق کی علامت ہے، اس سے بچنے کی ہر تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:
ما خطبنا رسولُ اللهِ ﷺ إلَّا قال : لا إيمانَ لمن لا أمانةَ له، ولا دينَ لمن لا عهدَ له (رواہ احمد)
’’راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمیں جب بھی خطاب فرماتے تو یہ ضرور کہتے: جس کے پاس امانت نہ ہو اس کا کوئی ایمان نہیں اور جس کے پاس عہد نہ ہو اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘
بحث و مباحثے میں حق و صداقت سے ہٹ جانا، یہ بھی نفاق کی علامت ہے۔ اپنی زبان پر قابو رکھنا، تحمل و برداشت کا ثبوت دینا اور کسی بھی حال میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دینا مومن کی صفات ہیں۔
لوگوں سے دو چہروں کے ساتھ ملنا بھی نفاق کی صفت ہے۔ ایک شخص سے ملے تو ایک چہرے کے ساتھ اور دوسرے سے ملے تو دوسرے چہرے کے ساتھ۔ ایسے لوگوں کی اپنی شخصیت تو مجروح ہوتی ہی ہے، وہ معاشرے کے اندر خرابیاں پیدا کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث ہے:
إنَّ شَرَّ النَّاسِ ذو الوجهَينِ؛ الذي يَأتي هؤلا بوجهٍ، وهؤلا بوجهٍ (رواہ مسلم)
’’لوگوں میں سب سے برا شخص دو چہروں والا ہے، کچھ لوگوں کے پاس ایک چہرے کے ساتھ آئے اور دوسروں کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ آئے۔‘‘
نماز سے پیچھے رہ جانا، نماز کے سلسلے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنا اور نماز میں جلد بازی کرنا نفاق کی صفات میں سے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تلْكَ صلاةُ المنافقِ تلْكَ صلاةُ المنافقِ يرقبُ الشَّمسَ حتى إذاكانت بينَ قرني شيطانٍ قامَ فنقرَ أربعًا لا يذْكرُ اللَّهَ فيها إلَّا قليلًا. (رواہ مسلم)
’’یہ منافق کی نماز ہے، یہ منافق کی نماز ہے۔ منافق سورج ڈوبنے کا انتظار کرتا رہتا ہے، سورج جب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہونے لگتا ہے تو منافق اٹھتا ہے اور چار ٹھونگیں مار لیتا ہے۔ نماز میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت کم کرتا ہے۔‘‘
ہمارے لیے اس میں نصیحت یہ ہے کہ ہمیں ان ساری چیزوں سے بچنا چاہیے جو منافق کی صفات میں شامل ہیں اور ہمیں مومنین مخلصین کی صفات سے متصف ہونے کی کوشش کرنی چاہیے، اس لیے کہ نفاق کی صفت جس کے اندر بھی ہوگی اسے خراب کر دے گی اور رحمتِ الٰہی سے دور کر دے گی۔
نفاق سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا تعلق اپنے رب سے مضبوط سے مضبوط تر کریں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوگا تو اس کی محبت ہمارے دل میں پیدا ہوگی اور اخلاص کی کیفیات میں اضافہ ہوگا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلَاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ النَّصِيرُ. (الحج: 78)
’’پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ وہ ہے تمھارا مولیٰ۔ بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق مانگنی چاہیے۔ ان کمیوں اور کوتاہیوں سے نجات دینے والا وہی ہے۔ یہ دل کی وہ بیماریاں ہیں کہ ان کے ساتھ جنت میں داخلہ مشکل ہوگا، لہٰذا ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی توفیق مانگتے رہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ. (غافر: 60)
’’تمھارا ربّ کہتا ہے:مجھے پُکارو، میں تمھاری دُعائیں قبول کروں گا۔ جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے منھ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنّم میں داخل ہوں گے۔‘‘
نفاق سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت پر غیر متزلزل ایمان کے ساتھ ساتھ یومِ آخرت پر بھی اس کا ایمان پختہ ہو۔ آدمی کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ ایک دن آنے والا ہے جس دن اس کے سارے اعمال کا حساب و کتاب وحدہٗ لا شریک لہٗ کے سامنے ہوگا۔ یہ دنیا اور اس کی لذتیں عارضی اور فانی ہیں، جب کہ آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ۔ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ۔ بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا۔ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ. (الاعلیٰ: 14-17)
’’فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ اور اپنے ربّ کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے۔ ‘‘
نفاق دل کی وہ بیماری ہے کہ جو انسان کو رسوا کر کے چھوڑتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ صحابہ کرامؓ حد درجہ فکر مند رہتے تھے کہ کہیں ان کے اندر نفاق کی کوئی صفت پیدا نہ ہو جائے۔ وہ نفاق کے بارے میں اتنے حساس تھے کہ نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں ہوتے تو ان کی کیفیت دوسری ہوتی اور جب گھر جاتے تو اس کیفیت میں کچھ تبدیلی آ جاتی۔ وہ اس تبدیلی سے بھی حد درجہ پریشان ہو جاتے کہ کہیں ان کے اندر نفاق کی صفت تو نہیں پیدا ہو گئی۔ مشہور واقعہ ہے:
’’حنظلہ الاسیدیؓ، جو نبی کریم ﷺ کے کاتب تھے، کہتے ہیں کہ میری ملاقات حضرت ابوبکر ؓ سے ہوئی تو انھوں نے پوچھا: حنظلہؓ! کیسے ہو؟ تو میں نے کہا: حنظلہ تو منافق ہو گیا۔ ابوبکرؓ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ تو میں نے کہا کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ہوتے ہیں اورآپؐ جنت و جہنم کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب آپؐ کے پاس سے رخصت ہو کر گھر آتے ہیں تو بیوی بچوں اور سامانِ دنیا میں مصروف ہو جاتے ہیں اور ہماری کیفیت بدل جاتی ہے۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا: میرا بھی یہی حال ہے۔ دونوں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تفصیل بتائی تو آپؐ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تمھاری کیفیت ہمیشہ ویسی ہی رہے جیسے میرے پاس موجود ہوتے وقت رہتی ہے تو تم سے تمھارے گھروں اور راستوں میں فرشتے مصافحہ کرنے لگیں گے۔ لیکن اے حنظلہ! کبھی یہ حالت ہوگی اور کبھی وہ حالت ہوگی۔ آپؐ نے اسے تین مرتبہ فرمایا۔‘‘(رواہ مسلم)
اسلام نے زیادہ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ اگر بولنا ضروری ہو تو بہتر بات بولے، ورنہ خاموش رہے۔ خاموش رہنے سے انسان کو غور و فکر، احتسابِ ذات اور عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ زیادہ بولنے، لچھے دار گفتگو کرنے اور بے تکان بلا سوچے اظہارِ خیال کرتے رہنے سے نفاق کا شبہ پیدا ہو جاتا ہے، لہٰذا ہمیں اس سے بھی بچنا چاہیے۔ نبی کریمﷺ نے ایک حدیث میں اس اندیشے کا اظہار فرمایا ہے:
إنَّ أخْوَفَ ما أخافُ عليكُم بعدي، كلُّ منافقٍ عليمُ اللِّسانِ. (رواہ الطبرانی)
’’اپنے بعد مجھے تمھارے سلسلے میں سب سے زیادہ اندیشہ ایسے منافق کا ہے جو زبان کا ماہر ہوگا اور بہت گفتگو کرنے والا ہوگا۔‘‘
فضیل بن عیاضؒ کہتے ہیں:
’’مومن بات کم کرنے والا اور کام زیادہ کرنے والا ہوتا ہے اور منافق بات زیادہ کرنے والا اور کام کم کرنے والا ہوتا ہے۔ مومن کی بات حکمت سے پُر ہوتی ہے، اس کی خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہوتی ہے، اس کی نظر عبرت کی نظر ہوتی ہے اور اس کا عمل بھلائی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر آپ کے اندر یہ خصلتیں موجود ہیں تو آپ گویا عبادت میں مشغول ہیں۔‘‘(حليۃ الاولياء: 98/8)
ابن القیم ؒ نے نفاق کو بہت جامع الفاظ میں یوں بیان فرمایا ہے:
’’نفاق کا پودا دو تنوں پر اگتا ہے: ایک تنا جھوٹ کا اور دوسرا تنا ریاکاری کاہے اور یہ دونوں دو چشموں سے نکلتے ہیں: ایک چشمہ ضعفِ بصیرت کا ہے اور دوسرا چشمہ ضعفِ عزیمت کا ہے۔ تو جب یہ چاروں ارکان مکمل ہوجائیں تو نفاق کا پودا اور اس کی جڑیں مستحکم ہو جاتی ہیں۔‘‘(مدارج السالکين: 1/365)
تطہیرِ قلب کے لیے ضروری ہے کہ نفاق جیسے مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور ہمیشہ اس بات کی فکر میں رہا جائے کہ نفاق کے جذبات کبھی بھی دل کے پاس پھٹکنے نہ پائیں، ورنہ آدمی کا دل برباد ہو جاتا ہے اور وہ قلبِ سلیم نہیں بن پاتا۔ خصوصیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام کو ان امراض سے محفوظ رکھے، آمین۔
چھٹی بیماری: بغض وکینہ
بغض وکینہ دل کی بیماریوں میں سے ایک بڑی بیماری ہے۔ یہ بیماری کسی سے ناراض ہونے یا کسی کی جانب سے تکلیف پہنچنے یا حسد وغیرہ کی وجہ سے دل میں چھپ کر بیٹھ جاتی ہے اور آدمی اندرہی اندر گھلتا رہتا ہے اور انتقام لینے کے لیے مناسب موقع کی گھات میں رہتا ہے۔ لغت میں آتا ہے:
’’حقد کینہ کو کہتے ہیں اور اس کا مطلب ہے دل میں دشمنی کو پکڑ کر رکھنا اور انتقام کے موقع کے لیے گھات میں رہنا۔‘‘(الصحاح للجوھري: 2/466)
اس کے اصطلاحی معنیٰ کے سلسلے میں جاحظؒ لکھتے ہیں:
’’انتقام نہ لے پانے کی شکل میں زیادتی کرنے والے کے لیے دل میں برائی چھپا کر رکھنا اور مناسب موقع کے امکان تک اس کو مخفی رکھنا۔‘‘(تہذيب الاخلاق، ص 33)
قرآن مجید نےحِقد کی کیفیت بیان کی ہے اور اس کے بارے میں کا ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ. (الاعراف: 43)
’’ان کے دلوں میں ایک دُوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہو گی اسے ہم نکال دیں گے۔ اُن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘
دل میں کینہ رکھنا دل کو خراب کر دیتا ہے۔ آدمی ہمیشہ انتقام کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر عفو و درگزر اور للہ فی اللہ معاف کرنے کی صفت ختم ہو جاتی ہے۔ عفو و درگزر اور صبر کرنے والا اور لوگوں کی ایذا پر اللہ تعالیٰ سے اجر چاہنے والا، اپنے دل میں کبھی بھی کینہ پال کر نہیں رکھتا۔
کینہ کی ایک وجہ ساتھیوں کے درمیان مختلف امور میں مقابلہ آرائی ہے۔ بات دوری اور قطع تعلق تک پہنچتی ہے، پھر دلوں میں بغض پر منتج ہوتی ہے۔ امام غزالی ؒ لکھتے ہیں:
’’بھائیوں کے درمیان کینہ کی آگ بھڑکانے کا سب سے بڑا سبب بحث و تکرار اور رقابت ہے۔ اس سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں اور بات قطع تعلق تک جا پہنچتی ہے۔ پہلے یہ رایوں اور باتوں سے شروع ہوتی ہے، پھر جسموں تک پہنچتی ہے۔‘‘
کینہ پیدا ہونے کی ایک وجہ حد سے زیادہ مزاح ہے۔ ہنسی مذاق کو اپنے حد میں رہنا چاہیے۔ یہ جب حد سے بڑھتا ہے تو دلوں میں کینہ پیدا کر دیتا ہے۔ ہنسی مذاق جب زیادہ ہوتا ہے تو یہ بے عزتی اور استخفاف تک پہنچ جاتا ہے۔ الابشیہی اپنی کتاب المستطرف میں لکھتے ہیں:
’’مزاح رعب اور وقار کو ختم کر دیتا ہے اور عزت و آبرو کو برباد کر دیتا ہے اور مزاح کینہ پیدا کرتا ہے اور ایمان کی حلاوت اور محبت کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
سعید بن العاصؓ کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:
’’اے بیٹے! شریف سے مزاح نہ کرو، ورنہ وہ تمھارے سلسلے میں کینہ رکھے گا اور کمینہ شخص سے مزاح نہ کرو، ورنہ وہ تم سے بدتمیزی کرے گا۔‘‘
باہم اختلاف کرنے اور جھگڑا کرنے سے بھی کینہ پیدا ہوتا ہے۔ جھگڑے کی وجہ سے آدمی کے اندر غصہ بھڑکتا ہے، غصے کی بنا پر وہ اپنے دل میں کینہ پالنے لگتا ہے۔ امام نووی ؒ اپنی کتاب الاذکار میں لکھتے ہیں:
’’جھگڑا سینوں کو کینہ سے بھر دیتا ہے اور غصے کو بھڑکاتا ہے۔ جب غصہ بھڑک جاتا ہے تو دونوں کے درمیان کینہ پیدا ہو جاتا ہے، پھر ہر ایک دوسرے کی پریشانی سے خوش ہوتا ہے اور دوسرے کی خوشی پر غمگین ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی عزت و آبرو پر زبان درازی کرتا ہے۔‘‘
کینہ اور بغض کے اسباب میں کسی کو سخت ناپسند کرنا، احساسِ محرومی اور حسد شامل ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہو اور جنت الفردوس عطا فرمائے تو ہمیں اپنے دل کو قلبِ سلیم بنانا ہوگا اور کینہ اور بغض جیسی سنگین بیماریوں سے اپنے دل کو پاک کرنا ہوگا۔
کینہ اور بغض سے اسلام نے منع کیا ہے۔ یہ دل کو خراب کر دینے والی بیماری ہے۔ اس کے غیر معمولی نقصانات ہیں۔ آدمی اگر ان پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ کینہ پروری سے دور ہو جائے گا۔
کینہ کے نقصانات
کینہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے ناراض ہوتا ہے جو کینہ کے مرض میں مبتلا ہو۔ جو بندہ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ ان چیزوں سے دور رہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔
کینہ کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ کینہ پرور کے اندر غصہ اور چڑچڑےپن کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر جھوٹ بولنے کی عادت آ جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ ذہنی تناؤ میں رہتا ہے۔ وہ کوئی سنجیدہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کی صحت خراب رہنے لگتی ہے اور وہ دھیرے دھیرے نفسیاتی مریض ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ اس کا اثر اعصاب پر بھی پڑتا ہے اور وہ اعصابی کم زوری کا شکار ہو جاتا ہے۔
کینہ پرور غمگین اور مایوس رہنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنے عزائم پورے نہیں کر پاتا تو اس کے اندر غم و افسوس ڈیرہ ڈال دیتا ہے اور پھر وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے۔
کینہ پرور کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے لگتا ہے۔ اس کی زندگی میں حوصلہ باقی نہیں رہتا اور پھر وہ دھیرے دھیرے جرائم کرنے لگتا ہے۔ جس سے کینہ ہے، اس کو ہر ممکن تکلیف دینے کے لیے منصوبے بناتا رہتا ہے۔
کینہ کا ایک نقصان یہ ہے کہ کینہ پرور اخلاقی پستی میں گر جاتا ہے۔ لوگوں سے اخلاق سے پیش آنا، ان کی غلطیوں پر انھیں معاف کردینا تو دور، انھیں تکلیف پہنچانے لگتا ہے اور ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ لوگوں کے سلسلے میں ہمیشہ بدگمانی میں مبتلا رہتا ہے۔ کسی کے اندر اسے کوئی خیر محسوس نہیں ہوتا۔
کینہ پرور ہمیشہ انتقام کی آگ میں جلتا ہے۔ وہ موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کب اسے موقع ملے اور وہ تکلیف پہنچائے اور اپنے دل کی آگ کو بجھائے۔
حسد، غیبت، لوگوں کے راز کریدنا اور لوگوں کی عزت و آبرو سے کھیلنا جیسی اہم عادتیں کینہ پرور کے اندر پیدا ہو جاتی ہیں۔ غرض یہ کہ کینہ کے نقصانات بے شمار ہیں۔ کینہ پرور کو چاہیے کہ جلد از جلد اس بیماری سے نجات حاصل کر لے ورنہ پوری زندگی اس کی اجیرن تو ہوگی ہی، آخرت بھی برباد ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہم تمام کی اس موذی بیماری سے حفاظت فرمائے، آمین۔
کینہ سے بچنے کی تدابیر
کتاب و سنت میں کینہ سے بچنے کی تدابیر بتائی گئی ہیں۔ انھیں سنجیدگی کے ساتھ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا دل قلبِ سلیم بن سکے۔
کینہ سے بچنے کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے کہ رب ذوالجلال ہمیں کینہ جیسی اہم بیماری سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ. (الحشر: 10)
’’(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اَگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سےپہلے ایمان لائے ہیں اورہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیےکوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب تُو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔‘‘
یہ بیماری بغیر توفیقِ رب کے ختم نہیں ہو سکتی۔ نبی اکرم ﷺ کی ایک مشہور دعا ہے۔ آپؐ دعا فرماتے تھے:
وأجِبْ دَعْوتي، وثَبِّتْ حُجَّتي، واهْدِ قَلْبي، وسَدِّدْ لِساني، واسْلُلْ سَخيمةَ قَلْبي. (رواه ابوداؤد)
’’اے اللہ! میری دعا قبول فرما، میری حجت کو ثابت فرما، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان کو درست فرما اور میرے دل کے کینہ کو ختم فرما۔‘‘
اپنے دل کو پاک و صاف رکھنے کی فکر کرنا چاہیے۔ کسی شخص کے بارے میں اپنے دل میں کوئی کینہ کپٹ نہیں رکھنا چاہیے۔ اس کے لیے حد درجہ فکر مند رہنا چاہیے۔ سلامتِ صدر(دل کا پاک و صاف رہنا) جنت میں لے جانے کا ذریعہ ہے۔ ایک مشہور واقعہ ہے: نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کے لیے جنت کی بشارت دی:
’’حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپؐ نے فرمایا: ابھی تمھارے پاس ایک جنتی شخص آنے والا ہے۔ تو ایک انصاری صحابی تشریف لائے، ان کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا اور ان کے جوتے ان کے بائیں ہاتھ میں تھے۔ دوسرے دن آپؐ نے پھر یہی بات فرمائی اور وہی صاحب تشریف لائے۔ تیسرے دن آپؐ نے پھر یہی بات فرمائی اور وہی صاحب تشریف لائے۔ جب نبی اکرم ﷺ کی مجلس ختم ہوئی تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ اس انصاری صحابی کے پیچھے گئے اور کہا کہ میرے والد مجھ سے ناراض ہیں اور میں نے تین دن تک ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھائی ہے، تو کیا آپ مجھے تین دن تک اپنے پاس رکھ سکتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے تفصیل بتائی کہ وہ ان صحابی کے پاس تین دن تک رہے۔ وہ معمول کی زندگی گزار رہے تھے۔ رات میں تہجد کے لیے بھی نہیں اٹھے۔ رات میں جب نیند کھلتی تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔پھر فجر کی نماز کے لیے اٹھتے۔ تین دن کے بعد عبداللہ ؓ نے کہا کہ میرے والد سے میری کوئی ناراضی وغیرہ نہیں ہے، میں تو صرف یہ دیکھنے کے لیے آیا تھا کہ نبی کریمﷺ نے آپ کے بارے میں جنت کی بشارت کیوں دی ہے۔ میں نے کوئی غیر معمولی عمل نہیں دیکھا، تو نبی کریم ﷺ کی بشارت کا سبب کیا ہے؟تو ان انصاری صحابیؓ نے کہا کہ کوئی بات نہیں ہے، تم نے تو میرے تمام معمولات دیکھ لیے ہیں۔ عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں جانے کے لیے مڑا تو انھوں نے بلایا اور کہا کہ تم نے تو میرے معمولات دیکھ لیے ہیں، مگر ایک بات ہے کہ میں کسی مسلمان کے لیے دل میں کوئی کینہ نہیں رکھتا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر کسی سے حسد نہیں کرتا۔ عبداللہؓ کہتے ہیں کہ یہی وہ بات ہے۔اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے۔‘‘(رواہ النسائی)
کینہ سے بچنے کا ایک طریقہ تواضع ہے۔ آدمی کو اپنے اندر انکساری اور خاکساری پیدا کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ وہ جب چاہے بندے سے دی ہوئی نعمتیں چھین سکتا ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ محض اللہ تعالیٰ کا کرم و احسان ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
إنَّ اللهَ أوحى إلَيَّ أن تواضَعوا، حتَّى لا يَفخَرَ أحَدٌ على أحَدٍ، ولا يبغيَ أحدٌ على أحَدٍ. (رواہ مسلم)
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کی کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو اور کوئی کسی پر فخر نہ جتائے اور کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے۔‘‘
کینہ سے بچنے کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ آدمی ہدیہ دینے کی عادت کو اپنائے۔ ہدیہ دینے سے محبت پیدا ہوتی ہے اور کینہ و بغض ختم ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں:
تَهادَوا تحابُّوا. (رواہ البخاری)
’’آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دو تو تمھارے درمیان محبت پیدا ہوگی۔‘‘
سلام کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔ کثرت سے سلام کرنا چاہیے۔ اس سے بھی کینہ، بغض اور کدورت ختم ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں:
لا تدخلوا الجنةِ حتى تؤمِنوا، و لا تؤمنوا حتى تحابُّوا، ألا أدلُّكم على ما تحابُّون به ؟ قالوا: بلى، يا رسولَ اللهِ، قال: أَفشوا السلامَ بينَكم. (رواہ مسلم)
’’تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے یہاں تک کہ مومن ہو جاؤ اور مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے تم آپس میں محبت کرنے لگو؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسولﷺ۔ تو آپؐ نے فرمایا: آپس میں سلام کیا کرو۔‘‘
نبی کریم ﷺ کی سیرت کو اپنا اسوہ بنانا اور آپؐ کی تیار کردہ جماعتِ صحابہ کرام ؓکی زندگیوں سے نصیحت حاصل کرنا کینہ اور بغض سے نجات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ کثرت سے موت کو یاد کرنا چاہیے کہ کب ہمارا وقت آ جائے اور ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں۔
اللہ تعالیٰ سے ہمیں دعا کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دل کو قلبِ سلیم بنائے اور کینہ اور بغض جیسی بیماریوں سے ہماری حفاظت فرمائے، آمین۔







