تطہیر قلب

(9)

نویں بیماری: حرص و طمع

حرص و طمع دل کی مہلک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری انسان کو چین سے رہنے نہیں دیتی۔ آدمی ہائے دنیا ،ہائے دنیا کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جو نعمتیں اسے ملی ہوئی ہیں ان پر شکر ادا کرنے کے بجائے ہمیشہ ناشکری کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پانے کے باوجود سکون و اطمینان محسوس نہیں کرتا بلکہ بے سکونی سے دوچار رہتا ہے۔

حرص و طمع اگر خیر کے کاموں میں ہو تو قابل تعریف ہے، ورنہ قابلِ مذمت ہے۔ حرص وطمع آخرت اور جنت کے حصول کے لیے ہو تو بہت اچھی خوبی ہے لیکن حصولِ دنیا، جاہ و منصب اور     حصولِ عزت و شہرت کے لیے ہو تو معیوب ہے، اور یہی دل کی بیماری ہے۔

حرص و طمع کا مفہوم

حرص و طمع کا مفہوم ہے لالچ کرنا، حد درجہ خواہش کرنا اور کسی چیز کو زیادہ سے زیادہ چاہنا۔ طمع میں یہ کیفیت ایک حد تک ہوتی ہے، لیکن حرص میں یہ کیفیت شدید تر ہوجاتی ہے۔ حرص میں طمع سے زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔ قرآن مجید کی دو آیتوں سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ یَعْلَمُوْنَ (البقرۃ:75)

’’اے مسلمانو!اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟حالاں کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہےکہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خُوب سمجھ بُوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔‘‘

اس آیت میں خطاب مومنین سے ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ ایمان لے آئیں۔ یہاں مومنین کے لیے ’طمع‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

دوسری آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ (النحل:37)

’’اے محمدؐ، تم چاہے اِن کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کر سکتا۔‘‘

یہاں خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے، لہٰذا ’حرص‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی نبی اکرم ﷺ کی خواہش دوسروں کے ایمان لانے کے سلسلے میں، مومنین کے مقابلے میں شدید ہے۔ اس لیے مومنین کے لیے ’طمع‘ اور نبی اکرم ﷺ کے لیے ’حرص‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ حرص کا لفظ طمع کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے۔ معنیٰ کی اسی بلاغت کے پیش نظر نبی اکرم ﷺ کے لیے قرآن مجید میں ایک جگہ ’حریص‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یعنی آپؐ مومنین کے لیے خیر کے سلسلے میں حریص ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (التوبۃ: 128)

’’دیکھو! تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے، تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے، تمھاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق اور رحیم ہے۔‘‘

یہ بات آچکی ہے کہ حرص و طمع اچھے کاموں میں قابلِ تعریف ہے۔ قرآن مجید میں ایک جگہ دعا مانگنے کے سلسلے میں ’خوف و طمع‘ دونوں کا استعمال ہوا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (الاعراف:56)

’’زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔‘‘

قرآن مجید میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی خواہش کرنے کے لیے ’طمع‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ (الشعراء:51)

’’اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے کیوں کہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔“

حرص و طمع کے نتائج بد

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حرص و طمع اگر آخرت کے بارے میں ہو تو قابلِ تعریف ہے اور اگر دنیا کے بارے میں ہو تو قابلِ مذمت ہے۔ یہاں ہماری گفتگو کا موضوع نا پسندیدہ حرص و طمع ہے، جو دل کی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ اس سے بچنے کی حتی الامکان کوشش لازم ہے۔

حضرت عمرؓ نے طمع اور لالچ کو فقر و محتاجی سے تعبیر فرمایا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے:

تَعلَمُنَّ أنَّ الطَّمَعَ فَقرٌ، وأنَّ الإیاسَ غِنًى (مرعاۃ المفاتیح 6/279)

’’اچھی طرح جان لو کہ طمع(لالچ) فقر و محتاجی ہے اور قناعت مال داری ہے۔‘‘

حرص و طمع دنیا کی کسی بھی چیز میں ہو وہ پریشانی کا باعث ہے۔ جو لوگ ایمان کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں، وہ مرنا نہیں چاہتے۔ وہ زندگی کے حریص ہوجاتے ہیں۔ ہزار ہزار برس کی زندگی کی تمنا میں پریشان رہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوةٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ   (البقرۃ:96)

’’تم انھیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاوٴ گے حتّٰی کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالاں کہ لمبی عمر بہر حال اُسے عذاب سے تو دُور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انھیں دیکھ ہی رہا ہے۔‘‘

مال کی حرص بھی نہایت خطرناک ہے۔ مال انسان کی ضرورت ہے۔ لیکن ضرورت کے مطابق اس سے استفادہ کرنا مطلوب ہے۔ لالچ اور حرص کے ساتھ اس کے پیچھے دیوانہ ہوجانا معیوب ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے مال کے حرص کے بارے میں ایک حدیث میں فرمایا ہے:

ما ذِئبانِ جائعانِ أُرْسِلا فی غنَمٍ بأفسدَ لَها من حِرصِ المَرءِ علَى المالِ والشَّرَفِ لدینِهِ (رواہ الترمذی)

’’دو بھوکے بھیڑیے بکری کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا مال اور عزت و مرتبے کی حرص انسان کے دین کے لیے ضرر رساں ہوتی ہے۔‘‘

مال کے سلسلے میں انسان کی حرص و طمع کا یہ حال ہے کہ وہ کبھی بھی آسودہ نہیں ہوتا۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت حکیم بن حزامؓ کو نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

إنَّ هذا المالَ حُلْوةٌ خضِرةٌ فمَن أخَذه بطِیبِ نفسٍ بورك له فیه ومَن أخَذه بإشرافِ نفسٍ له لم یبارَكْ له فیه وكان كالَّذی یأكُلُ ولا یشبَعُ والیدُ العلیا خیرٌ مِن الیدِ السُّفلى (رواہ البخاری)

’’بے شک یہ مال شیریں اور دل کش ہے۔ جس نے اسے نفس کی پاکیزگی کے ساتھ حاصل کیا تو اس میں برکت ہوگی، اور جس نے اسے لالچ اور طمع کے ساتھ حاصل کیا تو اس میں اس کے لیےبرکت نہیں ہوگی اور وہ اس شخص کی طرح ہوجائے گا جو کھاتا ہے مگر آسودہ نہیں ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘

حرص و طمع میں سکون نہیں ہے۔ آدمی ہمیشہ اس پیاس کے مریض کی طرح رہتا ہے جو مستقل پانی پیتا جاتا ہے لیکن اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ حرص اس کو سکون سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ یہ دل کی بیماری ہے۔ دل میں چوں کہ قناعت نہیں ہوتی اور آدمی کو اللہ رب العزت پر توکل نہیں ہوتا، لہٰذا وہ ہمیشہ مال کے حرص میں پاگل رہتا ہے۔ ایک گھر مل جائے تو دوسرے گھر کے چکر میں، ایک دکان مل جائے تو دوسری دکان کے چکر میں اور ایک کمپنی مل جائے تو دوسری کمپنی کے چکر میں رہتا ہے۔ اس کو قبر کی مٹی ہی آسودہ کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی مشہور حدیث ہے:

لَو أنَّ لابنِ آدَمَ وادیا مِن ذَهَبٍ أحَبَّ أن یكونَ له وادیانِ، ولَن یملَأَ فاه إلَّا التُّرابُ، ویتوبُ اللهُ على مَن تاب (رواہ البخاری)

’’اگر ابن آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں۔ اور اس کے منھ کو مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے جو اس کی طرف پلٹے۔‘‘

دنیا کی حرص آدمی کو تباہ کردیتی ہے۔ آدمی کتنا بوڑھا کیوں نہ ہوجائے دنیا کی حرص اس کے اندر سے نہیں جاتی۔ بندۂ مومن وہ ہے جو دنیا سے فائدہ اٹھائے لیکن اس کا دیوانہ بن کر نہ رہ جائے۔ آخرت کی تیاری کے لیے کوشاں رہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

یهرَمُ ابنُ آدَمَ وتَشِبُّ منه اثنَتانِ: الحِرصُ على المالِ، والحِرصُ على العُمُرِ  (رواہ البخاری)

’’ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن اس کی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: مال کی حرص اور عمر کی حرص۔‘‘

انسان کی ایک حرص منصب اور عہدہ حاصل کرنا ہے۔ اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ جاہ و منصب حاصل کرے اور مشہور ہو۔ بندۂ مومن اس سے اپنی نظریں پھیرے رہتا ہے۔ اس لیے کہ    نبی اکرم ﷺ نے عہدہ اور منصب حاصل کرنے اور اس کے لیے کوشش کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آدمی اگر اپنی کوشش اور محنت سے عہدے حاصل کرتا ہے تو آخرت میں یہ اس کے لیے وبال ہوگا۔ عہدے بغیر کوشش اور خواہش کے آجائیں تو امانت سمجھ کر اس کو اٹھانے کی کوشش کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہیے کہ آخرت میں کہیں کوئی مواخذہ نہ ہوجائے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ روایت کرتے ہیں:

دَخَلتُ على النَّبی ﷺ أنا ورَجُلانِ مِن بَنی عَمِّی، فقال أحَدُ الرَّجُلَینِ: یا رَسولَ اللهِ، أمِّرْنا على بَعضِ ما ولَّاكَ اللهُ عَزَّ وجَلَّ، وقال الآخَرُ مِثلَ ذلك، فقال: إنَّا واللهِ لا نولِّی على هذا العَمَلِ أحَدًا سَألَه، ولا أحَدًا حَرَصَ علیه                                                                                                   (رواہ البخاری)

’’میں اور میرے چچا کے بیٹوں میں سے دو اشخاص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ان میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں بعض وہ عہدے عطا فرمائیں جو اللہ عز و جل نے آپؐ کے سپرد فرمائے ہیں۔ دوسرے شخص نے بھی اسی طرح کہا۔ تو آپؐ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ عہدہ ہم اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے مانگے یا اس کا حریص ہو۔‘‘

آدمی سمجھتا ہے کہ عہدے اور مناصب اس کی حیثیت بڑھاتے ہیں اور اسے شہرت عطا کرتے ہیں۔ لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو عہدے اور امارت کا حریص ہو تو قیامت کے دن یہ چیز اس کے لیے ندامت کا باعث ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

إنَّكُم سَتَحرِصونَ على الإمارةِ، وستَكونُ نَدامةً یومَ القیامةِ، فنِعمَ المُرضِعةُ وبئسَتِ الفاطِمةُ (رواہ البخاری)

’’(ایک وقت آئے گا ) کہ تم امارت کے حریص ہوجاؤ گے، حالاں کہ وہ قیامت کے دن ندامت اور حسرت لے کر آئے گی۔ پس کیا ہی ہے وہ بہترین دودھ پلانے والی اور بدترین دودھ چھوڑانے والی۔‘‘ (یعنی بظاہر تو وہ خوش نما لگتی ہے لیکن دنیا و آخرت میں اس کا انجام بہت برا ہے۔)

حرص و طمع، دل کی سنگین بیماری ہے۔ ایمان کی کم زوری اور اللہ تعالیٰ پر توکل نہ کرنے کے نتیجے میں یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جڑ پکڑ لیتی ہے۔ آدمی ہمیشہ دنیا طلبی میں سرگرداں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں پانے کے باوجود شکر گزار نہ ہوکر مزید کے چکر میں پڑا رہتا ہے۔ حرص و لالچ کی وجہ سے کبھی بھی اسے سکون نہیں نصیب ہوتا اور اسی حالت میں وہ قبر میں چلا جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُ۔ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(التکاثر:1۔2)

’’تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دُوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں تک کہ (اِسی فکر میں) تم لبِ گور تک پہنچ جاتے ہو۔‘‘

حرص و لالچ کی وجہ سے انسان کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ بے سکونی اور اضطراب و بے چینی کے ساتھ ساتھ اس کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں:

ما شیءٌ أذهَبَ لعُقولِ الرِّجالِ من الطَّمَعِ (بہجۃ المجالس، ص 159)

’’مَردوں کی عقل کو ماؤف کرنے والی سب سے بڑی چیز طمع و حرص ہے۔‘‘

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ طمع ایک ایسی چیز ہے جو انسانوں کو ہمیشہ کے لیے غلام بنا لیتی ہے:

الطمع رقّ مؤبد (ربیع الابرار:3/270)

’’طمع انسان کے لیے ہمیشہ کی غلامی ہے۔‘‘

حرص و طمع اتنی خطرناک چیز ہے کہ علما کے دلوں سے علم کو نکال باہر کرتی ہے اور وہ علم رکھتے ہوئے بھی ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ حضرت کعبؓ اور عبد اللہ بن سلامؓ ایک ساتھ تھے تو حضرت کعبؓ نے حضرت عبداللہ بن سلامؓ سے پوچھا:

یا ابنَ سلَامٍ: مَن أربابُ العِلمِ؟ قال: الذین یعمَلون به. قال: فما أذهَبَ العِلمَ عن قلوبِ العُلَماءِ بعدَ أن عَلِموه؟ قال: الطَّمَعُ، وشَرَهُ النَّفسِ، وطلَبُ الحوائِجِ إلى النَّاسِ (احیاء علوم الدین 4/438)

’’اے ابن سلام ! اربابِ علم کون لوگ ہیں؟تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ لوگ جو اس پر عمل کرتے ہوں۔ کعبؓ نے پھر پوچھا: علما کے دلوں میں موجود علم کو ختم کردینے چیز والی کیاہے؟ تو ابن سلامؓ نے جواب دیا: طمع، شدید لالچ اور لوگوں سے اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد چاہنا۔‘‘

حسن بصریؒ نے طمع اور لالچ کو دین کے فساد سے تعبیر کیا ہے:

صلاحُ الدِّینِ الوَرَعُ، وفَسادُه الطَّمَعُ (مرقاۃ المفاتیح: 8/3304)

’’دین کی سلامتی تقویٰ میں ہے اور اس کا بگاڑ طمع اور لالچ میں ہے۔‘‘

حرص و طمع دل کی وہ بیماری ہے جو انسان کو اپنے بندھن میں ایسا جکڑ لیتی ہے کہ وہ کسی کام کا نہیں رہ جاتا۔ ابن تیمیہؒ نے الفتاویٰ الکبریٰ میں طمع کے بارے میں لکھا ہے:

الطَّمَعُ غُلٌّ فی العُنُقِ قَیدٌ فی الرِّجلِ، فإذا زال الغُلُّ من العُنُقِ زال القَیدُ من الرِّجلِ (الفتاویٰ الکبریٰ:5/179)

’’طمع گردن کا طوق اور پیر کی بیڑی ہے۔ جب گردن کا یہ طوق اتر جاتاہے تو پاؤں کی بیڑی بھی خود بخود ٹوٹ جاتی ہے۔‘‘‏

ابن قیمؒ نے لکھا ہے کہ اخلاص اور حرص و طمع ایک جگہ اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا اخلاص کو باقی رکھنے کے لیے طمع اور لالچ سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے:

لا یجتَمِعُ الإخلاصُ فی القَلبِ ومحبَّةُ المدحِ والثَّناءِ والطَّمَعُ فیما عِندَ النَّاسِ إلَّا كما یجتَمِعُ الماءُ والنَّارُ، والضَّبُّ والحُوتُ؛ فإذا حدَّثَتْك نفسُك بطَلَبِ الإخلاصِ فأقبِلْ على الطَّمَعِ أوَّلًا فاذبَحْه بسِكِّینِ الیأس (الفوائد، ص 148)

’’دل کے اندر اخلاص، مدح و ثنا کی محبت اور لوگوں کی چیزوں میں لالچ اسی طرح ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، جس طرح پانی کے ساتھ آگ اور گوہ کے ساتھ مچھلی اکٹھا نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا اگر تم اپنے اندر اخلاص پیدا کرنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے لالچ کا رخ کرو اور اسے نا امیدی کی چھری سے ذبح کردو۔‘‘

حرص و طمع کی وجوہات

حرص و لالچ بہت ساری چیزوں کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا سبب ایمان باللہ میں کم زوری ہے۔ آدمی کا ایمان کم زور ہوگا اور اللہ تعالیٰ پر یقین کی کیفیت میں کمی ہوگی تو دھیرے دھیرے دنیا کی حرص اور لالچ اس کے دل کو جکڑلے گی۔ بندۂ مومن کو اس بات پر یقین ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت رازق ہے۔ اس نے ہر شخص کو اس کی ضرورت کے لحاظ سے نعمتوں سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرنا چاہیے اور جو اسے نہیں ملا ہے اس پر صبرکرنا چاہیے۔ اپنی استطاعت کے مطابق کوشش ضرور کرنی چاہیے، لیکن اس کے بعد اللہ رب العزت پر توکل کرنا چاہیے کہ اللہ        رب العزت خیر فرمائیں گے۔ حرص و لالچ میں مبتلا ہوکر اپنی زندگی اجیرن نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ حرص و لالچ کرنا ہی چاہتا ہے تو حصولِ آخرت اور حصولِ جنت کے سلسلے میں کرے کہ اس سے دل کو سکون حاصل ہوگا، دنیا کے مسائل حل ہوں گے اور آخرت میں رتبہ بلند ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے    اللہ تعالیٰ سے لو لگاتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں، اسی سے دعائیں کرتے ہیں اور حرص و لالچ کے بجائے وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ؗ وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ    (السجدۃ: 16)

’’اُن کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پُکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘

حرص و لالچ کی ایک وجہ حبِّ دنیا ہے۔ لالچی آدمی آخرت کے بجائے دنیا سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اس کی نظروں سے یہ بات اوجھل ہوجاتی ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ ہم عارضی طور پر اس دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ دل کے اندر تعلق باللہ کم زور ہونے کی وجہ سے وہ متاعِ دنیا سے محبت کرنے لگتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ وَّزِیْنَةٌ وَّتَفَاخُرٌ. بَیْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ۔كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا۔  وَفِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ۔ وَمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (الحدید:20)

’’خُوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اورتمھارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دُوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی۔ پھر وہ بُھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹّی کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

حرص اور لالچ کی ایک وجہ قناعت سے محرومی ہے۔ آدمی کی ضرورتیں پوری ہورہی ہوں تو اسے اللہ رب العزت کا بے پناہ شکر ادا کرنا چاہیے اور آخرت کے لیے محنت کرنا چاہیے۔ اس کے بر خلاف انسان ہائے دنیا ہائے دنیا کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

مَن أصبحَ منكم آمنًا فی سربِهِ، مُعافًى فی جسدِهِ، عندَهُ قوتُ یومِهِ، فَكَأنَّما حیزت لَهُ الدُّنیا (رواہ الترمذی)

’’جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے گھر میں امن کے ساتھ ہو، صحت مند ہواوراس کے پاس اس دن کا کھانا موجودہو تو گویا اسے پوری دنیا مل گئی ہے۔‘‘

حرص و طمع کا ایک سبب توکل کی کمی ہے۔ آدمی کو یہ فکر دامن گیر ہوجاتی ہے کہ کل کا کیا ہوگا۔ وہ اپنی سات پشت کا انتظام آج ہی کرنا چاہتا ہے۔ پھر اسے اس بات کی بھی فکر ہوتی ہے کہ کل اگر حالات خراب ہوگئے تو کیا ہوگا؟ مستقبل کے بارے میں ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ دنیا کے مستقبل کے بارے میں تو وہ اتنا سوچتا ہے، لیکن آخرت کے مستقبل کے بارے میں وہ کچھ بھی نہیں سوچتا۔ یہ سب خراب کیفیتیں توکل کی کمی کی وجہ سے انسان کے اندر پیدا ہوجاتی ہیں۔ توکل کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی کوشش روک دے، بلکہ توکل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے بس میں جو کچھ ہے اسے بروئے کار لائے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ پر توکل کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مسائل ضرور حل فرمائیں گے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:

وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا۔ وَّیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (الطلاق:2۔3)

’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اُسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسا کرے اُس کےلیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔‘‘

حرص و طمع سے بچنے کے طریقے

حرص و طمع کی بیماری دل کو کم زور کردیتی ہے۔ یہ بیماری دل کو قلبِ سلیم بننے میں رکاوٹ کا کام کرتی ہے۔ حرص و طمع کی بیماری انسان کے ایمان و اخلاق کو متأثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے لیے جنت کا حصول بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لہٰذا کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارا دل حرص و طمع کی بیماری سے محفوظ رہے۔

حرص و طمع سے بچنے کا اہم طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العزت پر توکل کرے اور اپنے تمام معاملات اس کے حوالے کردے۔ اپنی استطاعت بھر کوشش کرنے کے بعد معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کردے اور حرص و لالچ کو ترک کردے کہ اسے دنیا سے اتنا ہی ملنے والا ہے جتنا اللہ نے اس کے حق میں لکھ دیا ہے۔ توکل سے انسان کو سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے اور وہ آخرت کے لیے کام کرسکتا ہے۔ مومنین کی ایک بڑی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب ذوالجلال پر توکل کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ (الانفال:2)

’’سچے اہلِ ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کرلرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیںتو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے، اور وہ اپنے ربّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘

حرص و لالچ سے بچنے کا دوسرا اہم طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے لیے بہتر ہی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھنا چاہیے اور اللہ           رب العزت کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، حدیث قدسی ہے:

یقولُ اللهُ تَعالى: أنا عِندَ ظَنِّ عَبدی بی، وأنا معهُ إذا ذَكَرَنی، فإن ذَكَرَنی فی نَفسِه ذَكَرتُه فی نَفسی، وإن ذَكَرَنی فی مَلَإٍ ذَكَرتُه فی مَلَإٍ خَیرٍ منهم، وإن تَقَرَّبَ إلی بشِبرٍ تَقَرَّبتُ إلیه ذِراعًا، وإن تَقَرَّبَ إلی ذِراعًا تَقَرَّبتُ إلیه باعًا، وإن أتانی یمشی أتَیتُه هَرولةً (رواہ البخاری)

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے سلسلے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اس سے اچھی مجلس میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک گز قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں لپک کر اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں۔‘‘

حرص و طمع سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی قناعت کو لازم پکڑلے۔ اگر اس کی واجبی ضرورتیں پوری ہوجاتی ہیں تو وہ ہائے دنیا ہائے دنیا کے چکر میں پڑنے کے بجائے قناعت کی زندگی اختیار کرے۔ اس سے اس کی زندگی میں سکون ہی سکون رہے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

قد أفلح من أسلَم و رُزِقَ كفافًا، و قَنَّعَه اللهُ بما آتاه (رواہ مسلم)

’’یقیناً کام یاب ہوگیا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اسے بقدر ضرورت ملی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے عطا کردہ رزق میں قناعت نصیب فرمائی۔‘‘

اپنےاندر قناعت کی صفت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی دنیا کے معاملے میں اپنے سے کم تر لوگوں کو دیکھے۔ اس کے ذریعے اس کے اندر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر کا جذبہ پیدا ہوگا اور حرص و لالچ سے نجات حاصل ہوگی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

انظروا إلى من هو أسفلَ منكم ولا تنظروا إلى من هو فوقَكم، فإنه أجدَرُ أن لا تزدَروا نعمةَ اللهِ علیكم (رواہ الترمذی)

’’ اس شخص کی طرف دیکھو جو تم سے کم تر ہو اور اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے برتر ہو۔ یہ طریقہ بہتر ہے اس بات کے لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ نعمتوں کے بارے میں ناشکرے ثابت نہ ہو۔‘‘

حرص و طمع سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے اندر صبر و شکر پیدا کرے۔ شکر کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کی مزید نعمتوں کا حق دار بن جاتا ہے۔ نعمتوں کے اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر اطمینان و سکون کی کیفیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراہیم:7)

’’اور یادرکھو،تمھارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گےتو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔‘‘

حرص و طمع سے پوری قوت کے ساتھ بچنے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے دل کے بارے میں فکر مند ہو۔ دل کے اندر ایمان کی مضبوطی، حبِّ الٰہی جل جلالہ، حبِّ رسول ﷺ، آخرت کی فکر اور جنت الفردوس کے حصول کا جذبہ اگر قوی ہو تو انسان حرص و لالچ سے بچ سکتا ہے۔ ورنہ اس کے حصے میں ذلت و محرومی ہی آئے گی۔ الوراق کہتے ہیں:

لو قیل للطمع: من أبوك؟ قال: الشك فی المقدور. ولو قیل: ما حرفتك؟ قال: اكتساب الذل. ولو قیل ما غایتك: قال الحرمان (فیض القدیرللمناوی:290/4)

’’اگر لالچ سے پوچھا جائے کہ تمھارا باپ کون ہے تو وہ بتائے گی کہ تقدیر میں شک کرنا اور اگر اس سے پوچھا جائے کہ تمھارا پیشہ کیا ہے تو وہ جواب دے گی: ذلت اور اگر اس سے پوچھا جائے کہ تمھارا مقصد کیا ہے تو وہ کہے گی محرومی۔‘‘

حرص و طمع سے بچنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی آخرت کو ترجیح دے اور دنیا کوحقیر سمجھے۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا مچھر کے پَر کے برابر بھی نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لو كانتِ الدُّنیا تعدلُ عندَ اللهِ جناحَ بعوضةٍ ما سقى كافرًا منها شربةَ ماءٍ (رواہ الترمذی)

’’ اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی حیثیت رکھتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہیں پلاتا۔‘‘

دل کی بیماریوں سے نجات حاصل کرنا اشد ضروری ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے دل کو قلبِ سلیم بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دل کی بیماریوں سے محفوظ رکھے اور ہمارے دل کو قلبِ سلیم بنائے، آمین۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تطہیر قلب

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223