گفتگو کا معیارِ مطلوب

قرآن کی روشنی میں

لئیق اللہ خان منصوری

انسان کو جو خاص فضیلتیں حاصل ہیں، ان میں سے ایک بیان (اظہارِ خیال)کی صلاحیت بھی ہے۔سورۂ رحمن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: خَلَقَ الْإِنسَانَ (۳) عَلَّمَهُ الْبَیانَ (۴) ‘‘اس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھا یا۔’’ سورۂ بلد (آیت ۹)میں زبان اور دو ہونٹوں کو اللہ کے عطیہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وَلِسَانًا وَشَفَتَینِ ‘‘کیا (ہم نے انسان کو) ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟۔’’تفہیم القرآن میں مولانا مودودیؒ اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:

‘‘زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ نفس ناطقہ ہے جو ان آلات کی پشت پر سوچنے سمجھنے کا کا م کرتا ہے اور پھر ان سے اظہار مافی الضمیر کا کام لیتا ہے۔’’

انسانی زندگی میں گفتگو اور بات چیت کی بڑی اہمیت ہے۔انسان کو شب و روز دوسرے انسانوں سے تبادلۂ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے۔قرآن و حدیث میں گفتگو کے اصول و آداب سکھا دیے گئے ہیں۔زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال فرد کو جنت کا حقدار بنادیتا ہے جب کہ اس کے غلط استعمال سے جہنم کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔انسان کے قول و فعل کو کراماً کاتبین کے ذریعے محفوظ کیا جارہا ہے۔سورۂ ق(آیت:۱۸) میں کہا گیا : مَا یلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَیهِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ ‘‘کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگران موجود نہ ہو۔’’نبی اکرم ﷺ نے یہ اصول سمجھا دیاہے کہ

‘‘جو کوئی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ یا تو بھلی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔’’ (بخاری)۔

قرآن مجید میں زبان کے استعمال کے حوالے سے متنوع اصول بیان ہوئے ہیں۔مختلف مواقع کے لیے مختلف لہجے اور اسلوب سکھائے گئے ہیں۔درست لہجوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے اوربعض ناپسندیدہ طریقوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔اس مضمون میں موضوع کے صرف تربیتی پہلوؤں کا حاطہ کیا جارہا ہے۔

قول معروف ( اچھی بات)

‘‘قولِ معروف’’ کا ذکر قرآن مجید کی ان چھ آیات میں ہوا ہے۔(البقرۃ:۲۳۵، ۲۶۳، النساء :۵، ۸، الاحزاب:۳۲، محمد:۲۱)۔مثلاً سورۂ نساء کی آیت نمبر۵کے آخرمیں کہا گیا: وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ‘‘اور ان سے معروف طریقے سے بات کرو۔’’ معروف ‘‘ عُرف ’’سے بنا ہے جس کے معنی جاننے اور پہچاننے کے ہیں۔معروف جانی پہچانی چیز کو کہا جاتا ہے۔قرآن مجید میں نیکی اور بھلائی کو معروف کہا گیا ہے، اس لیے کہ نیکی یابھلائی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قولِ معروف سے مراد اچھی بات ہے۔ایسی بات جو درست ہو، معقول ہو، جسے انسانی ضمیرصحیح سمجھتا ہو، اورایسی گفتگو جو نیک ہو۔جن مواقع پر جھنجھلاہٹ پیدا ہونے یا ناگواری کا احساس پیدا ہونے کا امکان ہو، ان مواقع پر حلم و بردباری کے ساتھ اچھے طریقے سے بات بتادینے کو بھی قولِ معروف کہا گیا ہے۔وراثت کی تقسیم کے وقت اگر کچھ رشتہ دار، غرباء مساکین و یتیم آجائیں تو انھیں جھڑکا نہ جائے، بلکہ اچھے انداز سے ان سے بات کی جائے۔ان آیات میں ایک مقام (البقرۃ:۲۶۳) پر معروف کے ساتھ مغفرت کا بھی ذکر کیا گیا ہے : قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَیرٌ مِّن صَدَقَةٍ یتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِی حَلِیمٌ اس میں انفاق کرنے کے بعد احسان جتانے کو معیوب قرار دیا گیا ہے اور دلداری کی بات اور درگزر یا معذرت کی بات کواس سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔اس لیے کہ احسان جتانا دلآزاری ہے جب کہ انفاق کا تقاضا دلداری ہے۔سورۂ احزاب (آیت ۳۲) میں امہات المؤمنین کو دی گئی ہدایات کی روشنی میں معروف سے مراد ضرورت کی بات چیت ہے جس میں نہ نزاکت ہو اور نہ تلخی۔سورۂ نساء ( آیت ۵) میں وارد ‘‘قولِ معروف ’’کو ‘‘نیک ہدایت کرنے ’’سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔سورۂ محمد(آیت:۲۱) میں وارد ‘‘قولِ معروف ’’کو ‘‘سمع و طاعت کاقول’’ مرادلیا گیا ہے جسے سورۂ نور(آیت:۵۱) میں قولِ مومنین بھی کہا گیا ہے۔

خلاصہ: قولِ معروف کی درج بالا تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم زبان کا محتاط استعمال کریں۔گفتگوکا اسلوب و لہجہ شائستہ وباوقار ہو۔کسی کی دلآزاری نہ ہو۔گفتگو ضرورت سے کم ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ ہو۔ہماری گفتگو حلم و بردباری کی آئینہ دار ہو۔کسی کی نصیحت مقصود ہو تو اس کی تحقیر نہ ہو۔اگر کسی وقت کسی سے گفتگو مناسب محسوس نہ ہو تو سلام کے ساتھ معذرت کر لی جائے۔ناگوار مواقع پر ضبطِ نفس کے ساتھ ضبط کلام کا بھی مظاہرہ ہو۔

قول سدید (سیدھی بات)

‘‘قولِ سدید ’’کا ذکر قرآن مجید میں دو مرتبہ ہوا ہے۔(النساء:۹، الاحزاب:۷۰)۔سورۂ نساء کی آیت میں وراثت کی تقسیم کے موقع پر یتیموں کی دلداری کے حوالے سے قول سدید کی تلقین کی گئی ہے۔جب کہ سورۂ احزاب کی آیت میں مسلمانوں کو تقویٰ کی تلقین کے بعد قولِ سدید کا حکم دیا گیا ہے جس کے التزام کا انعام اعمال کی درستی اور گناہوں کی معافی قرار دیا گیاہے۔ سورۂ احزاب کی یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت خطبۂ نکاح میں بھی شامل ہے۔ قولِ سدید سے مراد سیدھی بات، راستی کی بات، جچی تلی بات، سچی بات، معقول بات، ٹھیک بات، صاف بات، پکّی بات اور حق پر مبنی بات، لیے جاتے ہیں۔سورۂ احزاب کی آیت ملاحظہ ہو:

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِیدًا ‘‘اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو’’

قولِ سدید کی تشریح کرتے ہوئے صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں: قول سدید کی تفسیر بعض نے صدق کے ساتھ کی ہے، بعض نے مستقیم، اور بعض نے صواب، وغیرہ سے کی۔ابن کثیر نے سب کو نقل کر کے فرمایا کہ سب حق پر ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم نے اس جگہ صدق یا مستقیم وغیرہ کے الفاظ چھوڑ کر سدید کا لفظ اختیار فرمایا، کیوں کہ لفظ سدید ان تمام اوصاف کا جامع ہے۔ اسی لیے کاشفی نے روح البیان میں فرمایا کہ قولِ سدید وہ قول ہے جو سچا ہو، جھوٹ کا اس میں شائبہ نہ ہو، صواب ہو جس میں خطا کا شائبہ نہ ہو، ٹھیک بات ہو، ہزل یعنی مذاق و دل لگی نہ ہو، نرم کلام ہو دل خراش نہ ہو۔تدبر قرآن میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ ‘‘سمع و طاعت کے اقرار’’ کو قول سدید قرار دیتے ہیں جس سے ایمان کی تصدیق ہوتی ہے۔

خطبۂ نکاح میں قولِ سدید کی تلقین میاں بیوی کے لیے اہم ہدایت ہے۔میاں بیوی کو زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے، گفت و شنید کرنا ہے۔باہمی مشاورت بھی کرنی ہے۔اکثر یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی زبان کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، تحقیر کرنا، طعنے کسنا، برا بھلا کہنا، ناشکری کرنا، احسان جتانا، وغیرہ امورگھریلو ماحول میں بدمزگی پیدا کرتے ہیں، ازدواجی تعلق کوکم زور کرتے ہیں اور رشتہ ٹوٹنے تک کی نوبت آجاتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے قولِ سدیدکا حکم دیا ہے۔ زوجین کے مابین قولِ سدید یہ ہے کہ دونوں کی گفتگو میں اعتدال ہو، احتیاط ہو، محبت ہو، خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ایسی گفتگو سے احتراز ہوجو خلاف حقیقت ہو یا باعث نزاع ہو۔

خلاصہ: قولِ سدید کی درج بالا تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ ہماری گفتگو واضح ہو، درست ہو۔ ہم پہلے تولیں پھر بولیں، اورمبہم گفتگو سے احتراز کریں۔

قول بلیغ (موثر بات)

‘‘قولِ بلیغ’’ قرآن مجید کی سورۂ نساء کی آیت :۶۳ میں مذکور ہے۔ارشاد ہوا:

أُولَٰئِكَ الَّذِینَ یعْلَمُ اللَّهُ مَا فِی قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُل لَّهُمْ فِی أَنفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِیغًا ‘‘اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، ان سے تعرض مت کرو، انھیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔’’

قولِ بلیغ سے مراد ایسی گفتگو ہے جو دلوں میں اتر جائے اور اثر کرجائے۔بلاغ اور تبلیغ بات پہنچادینے کو کہا جاتا ہے۔فصاحت اور بلاغت کے الفاظ بھی ارود میں معروف اور مستعمل ہیں۔قولِ بلیغ معیاری اور مؤثر گفتگو کو کہا جاتا ہے۔حضورﷺ کو سورۂ نساء کی اس آیت میں ان منافقین کو قولِ بلیغ کے ذریعے وعظ و نصیحت کا حکم دیا گیا ہے جو اللہ اور رسول کی طرف دعوت دیے جانے پر آپ کے پاس آنے سے کتراتے تھے۔یہاں قولِ بلیغ کا پس منظر سمجھنے کے لیے اس بات پر غور کرنا کافی ہوگا کہ جن لوگوں میں نفاق کا مرض ہو اور جو دوہری شناخت لیے پھر رہے ہوں، ان کے لیے محض قولِ معروف یا قولِ سدید ناکافی ہوگا، بلکہ ان کے لیے ایسی مؤثر گفتگو کے ذریعے نصیحت ضروری ہے جو ان پر اثر ڈال سکے اور وہ خود پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہوسکیں۔

خلاصہ: قولِ بلیغ کا استعمال ہر اس موقع پر ضروری ہے جب سامعین کے دلوں پر اثر ڈالنا مقصود ہو۔اسی لیے فصاحت و بلاغت کو خطابت کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔یہ اصول بھی معروف ہے کہ لوگوں سے ان کے فہم و فراست کے مطابق بات کی جائے۔ مخاطبین اگر اہل علم ہوں تو ان کے روبرو عامیانہ گفتگو ناکافی ہوگی۔ ان کے روبرو علمی گفتگو ہی قولِ بلیغ ہی ہوگا۔

قول کریم (عزت واحترام والی بات)

‘‘قولِ کریم’’ کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل کی آیت :۲۳ میں ہوا ہے۔: وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیمًا ‘‘ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔’’

یہ فقرہ اُس آیت کا حصہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کی تلقین کے معاً بعد والدین کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے کی نصیحت کی ہے۔اس آیت میں مزید یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ان میں کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو انھیں اف تک نہ کہا جائے، نہ انھیں جھڑک کر جواب دیا جائے بلکہ ان سے احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے۔قولِ کریم کا ترجمہ مفسرین نے احترام، ادب، عزت، تعظیم، کرم والی بات، سعادت مندانہ بات، شریفانہ بات، نرم بات، وغیرہ الفاظ سے کیا ہے۔قول کریم میں تواضع، عاجزی، فروتنی و خاکساری کا مفہوم شامل ہے۔اسی آیت میں والدین کو اُف تک نہ کہنے کی تلقین بھی کی گئی ہے، جو اولاد کی بے زاری اور والدین کی دلآزاری کو ظاہر کرتا ہے۔اس کے برعکس اولاد کو عزت و احترام سکھایا گیا ہے۔اگلی آیت میں سکھائی گئی دعا میں والدین کے احسانات اور اولاد کے تئیں ان کے مربیانہ رول کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ان خدمات کا کم از کم صلہ جو اولاد اپنے والدین کو دے سکتے ہیں وہ ادب و احترام کی گفتگو ہے۔

خلاصہ: قولِ کریم سے مراد ایسی گفتگو ہے جس میں ادب و احترام کا جذبہ شامل ہو۔قولِ کریم کے اصل حقدار والدین ہی ہیں، لیکن ان کے ساتھ ہمارے اساتذہ، ہمارے اکابر، ہمارے ذمہ داران، بزرگ احباب سب اس زمرے میں شامل ہیں۔اس لیے کہ حضور اکرمﷺ نے اس شخص کو ملت سے خارج قرار دیا ہے جو چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں کی توقیر نہ کرے۔(مسند احمد)

قول میسور ( آسان بات)

‘‘قولِ میسور’’ کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل کی آیت :۲۸ میں ہوا ہے:

وَإِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِّن رَّبِّكَ تَرْجُوهَا فَقُل لَّهُمْ قَوْلًا مَّیسُورًا ‘‘اور ان سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمھیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو، تلاش کر رہے ہو، تو انھیں نرم جواب دے دو۔’’

یہ آیت سورہ بنی اسرائیل کی ان آیات کا تسلسل ہے جن میں عبادت، والدین کے ساتھ حسن سلوک، رشتہ داروں، مساکین اور مسافروں کے حقوق کی ادائیگی، اسراف سے اجتناب جیسی متعدد اہم ہدایات دی گئیں ہیں۔قولِ میسور کا ترجمہ اکثر مفسرین نے ‘‘نرم بات ’’سے کیا ہے، بعض نے ‘‘آسان بات ’’سے بھی کیا ہے۔میسور، ‘‘یسر’’سے ہے جس کے معنی آسانی کے ہیں۔اس سے قبل قولِ معروف کے تحت ناگوار مواقع پر خوش اسلوبی کے ساتھ معذرت کا ذکر گزر چکا ہے۔اب یہاں ایک دوسری قسم کے موقع پر طرزِعمل سکھا یا گیا ہے کہ ضرورت مندوںکی مدد کے ارادے کے باوجود تعاون کی کوئی سبیل نہ ہو تو کس طریقے سے معذرت کی جائے۔

‘‘بیان القرآن’’ میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ لکھتے ہیں: ‘‘کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی محتاج اپنی کسی حاجت برآری کے لیے ایسے موقع پر آپ کے پاس آتا ہے جب آپ کے پاس بھی اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔آپ کو اللہ تعالیٰ سے اچھے دنوں اور فراخ دستی کی امید تو ہے مگر وقتی طور پر آپ سائل کی حاجت سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے۔اگر تمہیں کسی وقت ایسی صورت حال کا سامنا ہو: فَقُل لَّهُمْ قَوْلًا مَّیسُورًا ایسے موقع پر سائل کو جھڑکو نہیں بلکہ متانت اور شرافت سے مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کرلو۔’’‘

‘تدبر قرآن’’ میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ مذکورہ صورت حال میں آسان بات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘‘تو اس سے دل داری اور ہم دردی کی بات کرو اور آئندہ کے لیے اچھے وعدے کے ساتھ اس کو رخصت کرو’’

خلاصہ: قولِ میسورکے مفہوم میں مختصر، سادہ، عامیانہ اور قابلِ فہم گفتگو شامل ہوسکتی ہے۔حضور اکرمﷺکے دیے ہوئے اصول ‘‘یَسِّرُوْا وَ لَا تُعَسِّرُوْا’’ (آسانی پیدا کرو، مشکل میں مت ڈالو)کا تقاضا بھی یہی ہے کہ لوگوں سے ایسی گفتگو کی جائے جو آسانی سے سمجھی جاسکے۔

قول لین (نرم بات)

‘‘قولِ لین’’ کا ذکر قرآن مجید کی سورۂ طٰہٰ کی آیت :۴۴ میں ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و حضرت ہارون علیہم السلام کو فرعون کے دربار میں نرم گفتگو کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّینًا لَّعَلَّهُ یتَذَكَّرُ أَوْ یخْشَىٰ ‘‘اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کے وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔’’

فرعون کی سفّاکی، جبر و استبداد اور سرکشی کے مقابلے میں نرم گفتگو کی تلقین بظاہر تعجب خیر نظرآتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی علّت یہ بیان کی کہ نرم گفتگو کے نتیجے میں تذکّر اور خشیت کا امکان پایا جاتا ہے۔قولِ لین کی تلقین بڑی معنی خیز ہے۔صاحبِ تفہیم القرآن لکھتے ہیں کہ ‘‘آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے’’تدبر قرآن میں تشریح آئی ہے کہ‘‘ یہ طریقِ دعوت سے متعلق ہدایت ہے کہ دعوت بہر حال نرمی کے ساتھ دی جائے۔سخت سے سخت حالات میں بھی ان (انبیا)کا طرزِ خطاب اور اندازِ جواب نہایت ہی نرم، مؤثر اور ہم دردانہ رہا ہے۔’’تفسیر احسن البیان میں ہے ‘‘سختی سے لوگ بدکتے ہیں اور دور بھاگتے ہیں اور نرمی سے قریب آتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں اگر وہ ہدایت قبول کرنے والے ہوتے ہیں۔’’ بہرحال فرعون کی سختی کا جواب سختی سے نہیں بلکہ نرمی سے دیے جانے کا حکم اسلامی مزاج کا آئینہ دار ہے۔

خلاصہ: اسلام کے داعی حضرات کو بالخصوص قولِ لین کے ذریعے گفتگو کرنی چاہیے، جو اسلام کے نمائندے بن کر انسانوںکو اللہ کی طرف دعوت دینے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔نرم لہجہ دعوتِ حق قبول کرنے کے لیے ماحول کو سازگار بناتا ہے۔بات صحیح ہو، لیکن انداز کرخت ہو تو مدعو قریب آنے کے بجائے متنفر ہوسکتا ہے۔ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ مخاطب کی عزتِ نفس کا خیال کرتے ہوئے نرم لہجہ اختیار کیا جائے۔ نرم گوئی دلوں کو فتح کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

قول احسن (بہترین بات)

سورۂ بقرۃ، آیت :۸۳ میں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے : وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ‘‘لوگوں سے بھلی بات کہو۔’’ سورۂ زمر(آیت:۲۳)میں قرآن مجید کو ‘‘احسن الحدیث’’ (بہترین بات )کہا گیا ہے۔سورۂ بنی اسرائیل (آیت:۵۳) میں کہا گیا ہے : وَقُل لِّعِبَادِی یقُولُوا الَّتِی هِی أَحْسَنُ ‘‘اور اے محمد، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو۔’’ ان حوالوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بہترین بات قرآن مجید کی بات ہے۔ بہترین بات لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دینے کی گفتگو ہے۔قولِ احسن یا قولِ حسن (اچھی بات) یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی گفتگو کی جائے۔مولانا امین احسن اصلاحیؒ صاحب وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا کو قولِ معروف، قولِ سدید اور قولِ مغفرت سے مماثل قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ‘‘قرآن مجید نے والدین، اقربا، یتامی اور مساکین سے متعلق ایک طرف حسنِ سلوک اور ادائے حقوق کی تاکید کی ہے، دوسری طرف اس امر کی ہدایت کی ہے کہ ان کے ساتھ بات شریفانہ انداز میں کی جائے۔ان کے خلاف دل میں برہمی ہو تو اس کو ضبط کیا جائے اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے ۔’’ڈاکٹر اسرار احمدؒ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا کو ‘‘امر بالمعروف اور نیکی کی دعوت’’ قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ: سب سے بہترین بات قرآن مجید کی بات ہے۔ قرآن کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور قرآن کے اوامر کا حکم دینا بہترین بات ہے۔ہر بندۂ مؤمن کو اپنی استطاعت کی حد تک دین کی دعوت اور اصلاحِ امت کا کام انجام دیتے رہنا چاہیے۔

فصل خطاب (فیصلہ کن بات)

سورۂ ص(آیت:۲۰) میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی توصیف بیان کرتے ہوئے ان کے ‘‘قولِ فیصل’’ کا ذکر کیا ہے:

وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَینَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ ‘‘ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی’’

‘‘فصل الخطاب’’ کے معنی فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت کے ہیں۔اس کی جامع تشریح تفہیم القرآن میں یوں درج ہے:‘‘ یعنی ان کا کلام الجھا ہوا نہ تھا کہ ساری تقریر سن کر بھی آدمی نہ سمجھ سکے کہ کہنا کیا چاہتے ہیں، بلکہ وہ جس معاملہ پر بھی گفتگو کرتے، اس کے تمام بنیادی نکات کو منقح کر کے رکھ دیتے، اور اصل فیصلہ طلب مسئلے کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کا بالکل دو ٹوک جواب دے دیتے تھے۔ یہ بات کسی شخص کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ عقل و فہم اور قادرالکلامی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا ہوا نہ ہو۔’’

خلاصہ: قولِ فیصل کی صلاحیت امت کے ان افراد میں پیدا ہونا ضروری ہے، جو لوگوں کے معاملات حل کرنے میں مدد کرتے ہیں، تاکہ وہ برحق فیصلہ اور مناسب رہ نمائی کرسکیں۔قائدین کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اندر تدبر، اصابتِ رائے اور معاملہ فہمی کے ساتھ اظہارِ خیال کی صلاحیت کو بھی بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

سلام (کنارہ کشی کی بات)

کبھی ایسا موقع بھی آتا ہے جب خاموشی بہتر ہوجاتی ہے۔سورۂ فرقان میں عباد الرحمن کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان:۶۳) ‘‘اور جاہل اُن کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام ’’

اس فقرے کی تشریح تفہیم القرآن میں مولانا یوں کرتے ہیں: ‘‘ جاہل سے مراد اَن پڑھ یا بے علم آدمی نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بد تمیزی کا برتاؤ کرنے لگے۔ رحمان کے بندوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ گالی کا جواب گالی سے اور بہتان کا جواب بہتان سے اور اسی طرح کی ہر بیہودگی کا جواب ویسی ہی بیہودگی سے نہیں دیتے بلکہ جو اُن کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتا ہے وہ اس کو سلام کر کے الگ ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: وَإِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ أَعْرَضُوا عَنْهُ وَقَالُوا لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ سَلَامٌ عَلَیكُمْ لَا نَبْتَغِی الْجَاهِلِینَ (القصص:۵۵) ‘‘اور جب وہ بیہودہ بات سُنتے ہیں تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں کہ ‘‘ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔’’

خلاصہ: جس جگہ گفتگو بے سود ہو اور موقع سنجیدہ فہم و افہام کا نہ ہو، وہاں خاموش ہوجانااور سلام کہہ کر رخصت ہوجانابہتر ہے۔تحریکی شاعر حفیظؔ میرٹھیؒ نے اپنے شعر میں اس آیت کی ترجمانی یوں کی ہے:

ہم تو اٹھ آئے حفیظؔ احباب کو کر کے سلام

انجمن میں بحث جب بے کار کی ہونے لگی

ستمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau