جدید ملحدین کے سوالات

الحادِ جدید پر جاری سلسلہ مضامین کا یہ تیسرا حصہ ہے۔ اس حصے میں جدید ملحدین کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کو ایڈریس کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

الحادِ جدید کے سوالات قدیم الحاد کے سوالات سے خاصے مختلف ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ سوالات قدیم ہیں صرف ان کا غلاف جدید ہے، لیکن یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ الحادِ جدید کے سوالات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یقیناً ان میں بعض سوالات وہ ہیں جو ہمیشہ سے الحاد کی جانب سے مذہب کے ماننے والوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں لیکن الحادِ جدید کے سوالات کا بڑا حصہ وہ ہے جو بالکل نئی فلسفیانہ تعبیر لیے ہمارے سامنے لاتا ہے۔

مثلاً قدیم الحاد بنیادی طور پر وجودِ باری کے فلسفیانہ امکانات سے بحث کرتا تھا، یعنی خدا موجود ہے یا نہیں۔ الحادِ جدید اس سے آگے بڑھ کر یہ کہتا ہے کہ کیا خدا کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت کائنات کی توجیہ وتشریح کے ذیل میں ہے۔ یعنی الحادِ جدید کہتا ہے کہ وہ ازلی سوالات جیسے انسان کو کس نے بنایا، کائنات کیسے وجود میں آئی، اگر ان کے جوابات سائنس دے سکتی ہے یا دینے کی کوشش کرتی ہے تو ان کے لیے کسی خدا کو بیچ میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟

یونانی فلسفے میں بعض مفکرین کائنات کو ازلی مانتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر کائنات ہمیشہ سے موجود ہے تو خالق کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح بعض قدیم مفکرین یہ سوال اٹھاتے تھے کہ اگر خدا کامل ہے تو دنیا میں نقص اور تبدیلی کیوں ہے؟

یہ سوالات خالص فلسفیانہ اور ما بعد الطبیعیاتی نوعیت کے تھے۔ ان میں تجرباتی سائنس کا کردار نہیں تھا۔ الحادِ جدید نے ما بعد الطبیعیاتی سوالات کے جوابات تجرباتی سائنس کے ذریعے دینے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ارتقا کو تخلیق کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے۔ کاسمولوجی کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آسکتی ہے۔ نیورو سائنس کے ذریعے شعور، احساس اور مذہبی تجربات کو دماغ میں مختلف کیمیائی تعاملات اور عصبوں کی فائرنگ کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

چناں چہ یہاں ما بعد الطبیعیاتی حوالے سے الحادِ جدید اور الحادِ قدیم کے سوالات میں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح قدیم الحاد میں وجودی سوالات کا ایک دائرہ تھا جو زیادہ تر مسئلہ وجود سے متعلق تھے۔ یہ کہا جاتا تھا کہ کیا خدا کا وجود منطقی طور پر ممکن ہے؟ کیا علتِ اولی (first cause) کی ضرورت ہے؟ لیکن اب وجودی سوالات اخلاقی نوعیت کے سوالات میں بدل دیے گئے ہیں- الحادِ جدید نے بڑی چالاکی کے ساتھ یہ کام کیا ہے اور الحادِ جدید سوال کرتا ہے کہ اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنا رنج و غم کیوں ہے؟ معصوم بچے کینسر سے تڑپتے کیوں ہیں؟ غریب عوام دکھ درد اور رنج و الم میں کیوں مبتلا ہیں؟ جب خدا رحمان و رحیم ہے تو پھر عام انسانوں کو ظالموں کے ذریعے اس قدر مصائب اور تکالیف میں کیوں مبتلا کیا جاتا ہے؟ مذاہب تشدد و تعصب کو کیوں جنم دیتے ہیں؟ مذاہب انسانی آزادی کو محدود کیوں کرتے ہیں؟ چناں چہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اب الحادِ جدید نے وجودی سوالات کے ساتھ ساتھ مذہب پراخلاقی اعتراضات بھی وارد کر دیے ہیں۔

اسی طرح قدیم اور الحادِ جدید میں اور ان کے سوالات میں ایک تیسرا بڑا اہم پہلو ہے جسے ہم علمی عجز (epistemic humility) اور مطلق سائنس پرستی (scientism) کے تناظر میں بیان کر سکتے ہیں۔ قدیم فلسفہ الحاد میں اور اس کے سوالات میں ایک قسم کا علمی عجز موجود تھا۔ بہت سے قدیم مفکرین خدا کے وجود کو رد کرنے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ انسانی عقل اس مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکتی۔ سائنس کے پاس ایسے طریقے اور ٹیکنالوجی نہیں ہے جو ما بعد الطبیعیاتی سوالات کو مخاطب کر سکے۔ سائنس کا دائرہ کار اس طرح کے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کا نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن الحادِ جدید بہت جا رح ہے۔ وہ اس قسم کے علمی عجز سے بے نیاز ہے۔ وہ مانتا ہے کہ سائنس ہر قسم کے سوالات کا جوابات دے سکتی ہے. وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر آج سائنس بہت سے پیچیدہ قسم کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے پاس اس کی قوت نہیں ہے بلکہ وقت اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے بالآخر سائنس ہر اس سوال کا جواب دینے میں کام یاب ہو جائے گی جس کا جواب مذہب سے لیا جاتا ہے۔

چوتھا اور آخری فرق قدیم الحادی سوالات اور الحادِ جدید کے سوالات میں یہ ہے کہ قدیم الحاد میں زیادہ تر سوالات کائنات کی ساخت کے بارے میں ہوا کرتے تھے۔ مثلاً کیا کائنات ازلی ہے؟ یعنی ہمیشہ سے قائم ہے؟ ہمیشہ قائم رہے گی؟ کیا مادہ خود مختار ہے؟ یعنی، وہ خود بخود وجود میں آ سکتا ہے؟ کیا حرکت کی کوئی ابتدائی علت ہے؟ (عام طور پر یہ بات نیوٹن سے منسوب کی جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے کسی لیکچر میں یہ بات کہی تھی کہ اگر ایک بار کائنات حرکت میں آ جائے تو کشش ثقل اور دیگر طبعی قوانین کے تحت اس کا تجزیہ اور توجیہ ممکن ہے۔ یعنی اگر ایک بار کوئی ان قوانین کو وجود میں لا دے تو اس کے بعد یہ کائنات خود کار ہو جائے گی اور پھر اسے کسی خدا کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اسے عام طور پر ابتدائی علت کہا جاتا ہے۔)

یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں بعض سوالات وہ ہیں جو آج بھی کچھ جدید ملحدین دوسرے لفظوں میں دہراتے ہیں۔ لیکن بہرحال قدیم الحاد کے سوالات میں اور الحادِ جدید کے سوالات میں بہت نمایاں فرق ہے۔ الحادِ جدید انسانی اور سماجی مسائل کے گرد مذہب کو لپیٹتے ہوئے سوالات اٹھاتا ہے۔ مثلاً وہ مذہب اور ریاست کے تعلق سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مذہب میں انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ مذہب اور سائنس سے اس کے تعلق پر سوالات اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ مذہب سائنس کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔ مذاہب انسانی حقوق کو سلب کرتے ہیں اور انسانوں ہی میں امتیازی بنیادوں پر حقوق کی تقسیم کرتے ہیں۔ عورتوں کو مردوں سے کم تر بتاتے ہیں اور یہ کہ مذہب اور سیاست کے ملاپ سے غیر معمولی قسم کا کشت و خون ہوتا آیا ہے، وغیرہ۔

چناں چہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قدیم الحاد کونیاتی سوالات سے زیادہ متاثر تھا، الحادِ جدید انسانی سوالات کی طرف مائل ہے اور مذہب کو انسانیت کے لیے ایک منفی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔

اوپر دیے گئے مقدمے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ قدیم الحاد کے سوالات اور الحادِ جدید کے سوالات مختلف ہیں۔ قدیم الحاد کے سوالات اور الحادِ جدید کے سوالات میں کہیں نہ کہیں مشابہت بھی موجود ہے۔ الحادِ جدید کے سوالات زیادہ جارح ہیں۔ الحادِ جدید بڑی چالاکی سے عقل کے ساتھ جذبات کو بھی ابھارنے کی کوشش کرتا ہے اور جان بوجھ کر ایسے سوالات اٹھاتا ہے جو جذباتی اپیل رکھتے ہوں تاکہ وہ اپنا ایجنڈا آگے بڑھا سکے۔

سوالوں کے موضوعات

الحادِ جدید کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات 12 موضوعات کے تحت سمیٹے جا سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں الحادِ جدید ان 12 بنیادی موضوعات کے تحت مذہبی ڈسکورس سے تعامل کرتا ہے۔

وجود خدا، علتِ اولی، کائنات کا آغاز، مسئلہ شر، ارتقا، شعور، مذہب اور تشدد، مذہب اور سائنس، معجزات، وحی، اخلاقیات، معنیٔ حیات۔

وجودِ باری کے حوالے سے الحادِ جدید یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا کائنات کی تخلیق کے لیے اور اس کو سمجھنے کے لیے کسی خدا کی ضرورت ہے؟

جدید ملحدین خصوصاً رچرڈ ڈاکنز، سیم ہیرس، ڈینیئل ڈینیٹ، کرسٹوفر ہچنز اور انہی کی فکر کو توسیع دیتے ہوئے برائن کوکس، نیل ڈی گریس اور اس طرح کے دیگر محققین کی طرف سے پیش کیا جانے والا یہ دعویٰ کہ ’’کائنات کو سمجھنے کے لیے اور اس کی تخلیق کے لیے ہمیں خدا کی ضرورت نہیں ہے‘‘ محض مذہبی عقائد کے خلاف ایک خطیبانہ چیلنج نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ دعویٰ ہے، جو توضیحی کفایت (explanatory sufficiency) کے تصور پر مبنی ہے۔ اس دعوے کے مطابق جدید سائنس، نظریۂ ارتقا اور سیکولر اخلاقیات کائنات، زندگی، شعور کی اعلی سطح اور اخلاقیات کی وضاحت کے لیے کافی ہیں، لہٰذا خدا کے مفروضے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اس دعوے کا سنجیدہ تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض معذرت خواہانہ انداز میں کلاسیکی دلائل دہرانے کے بجائے اس مسئلے کو توضیحی دائرہ (explanatory scope)، فلسفیانہ ربط (philosophical coherence) اور علمی بنیادوں (epistemic grounding) کے تناظر میں دیکھیں۔ اس زاویے سے مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ آیا خدا کو ثابت کیا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ بن جاتا ہے کہ آیا خالصتاً نیچری (naturalistic) نظریۂ کائنات حقیقت کی بنیادی خصوصیات کی ایسی جامع وضاحت فراہم کرسکتا ہے جو خود ان مابعد الطبیعیاتی مفروضوں پر منحصر نہ ہو جنھیں وہ خود ثابت نہیں کرسکتا۔

ذیل میں ہم ان تینوں پہلوؤں پر الگ الگ روشنی ڈالیں گے اور یہ بتائیں گے کہ نیچری ورلڈ ویو سے اس کائنات کی توضیح و تشریح ممکن نہیں ہے۔ بطور خاص جو بنیادی نوعیت کے سوالات ہیں وہ نیچرانہ تخفیفیت (naturalistic reductionism) کے ذریعے سے پوری طرح واضح نہیں ہو پاتے۔ اس سے یہ مفروضہ غلط ثابت ہوسکے گا کہ خدا کی ہدایت اور اس کے ذریعے دیے گئے حقیقی علم کے بغیر کائنات اور انسان کے تعلق سے بنیادی سوالات کا جواب دیا جا سکتا۔

توضیحی دائرہ (explanatory scope)

توضیحی دائرہ یا توضیحی قوت فلسفۂ علم اور فلسفۂ سائنس میں ایک بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے کسی نظریے کی قوت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کسی نظریے کی مضبوطی صرف اس بات پر منحصر نہیں ہوتی کہ وہ کسی ایک مظہر کی وضاحت کرپاتا ہے، بلکہ اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مظاہر کو ایک مربوط اور جامع فکری فریم ورک میں سمجھا سکتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو خالص نیچری توضیحات عموماً مخصوص میکانزم کی وضاحت تک محدود رہتی ہیں/ مثلاً ارتقا حیاتیاتی تنوع کی وضاحت کرتا ہے اور نیورو سائنس دماغی اعمال کی۔ مگر ان توضیحات کے باوجود کئی بنیادی سوالات باقی رہ جاتے ہیں، جیسے کائنات کے قوانین کی اصل کیا ہے؟ فطرت کے اصول قابلِ فہم کیوں ہیں؟ اور حقیقت کی بنیاد میں نظم کیوں پایا جاتا ہے؟ توضیحی دائرے کے معیار کے مطابق وہ نظریہ زیادہ قوی سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف میکانزم بلکہ حقیقت کے بنیادی ڈھانچے کی وضاحت بھی فراہم کرے۔ لیکن نیچری طرز سائنس اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والا علم کوئی ایسی مشترک بنیاد نہیں فراہم کرتا جو ان تمام سوالات کا اطمینان بخش جواب دے سکے۔ جب کہ آفاقی مذاہب میں یہ بات موجود ہے کہ وہ ان تمام مظاہر کا ایک وحدتی تصور پیش کرتے ہیں جس میں کائنات انسان اور اس سے جڑے حقائق ایک مضبوط اور مربوط وحدت کے تحت سمجھے جا سکتے ہیں اور یہ وحدت خالق کی جانب سے ہے۔

اسی لیے بعض فلسفی یہ استدلال کرتے ہیں کہ الہیاتی فریم ورک کائنات کے وجود، اس کے نظم اور اس کی عقلی ساخت کو ایک مشترک بنیاد کے تحت سمجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

توضیحی دائرے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کسی نظریے کو صرف ایک مسئلے کی وضاحت نہیں بلکہ مختلف النوع مظاہر کی وضاحت کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر کائنات کا وجود، اس کی ریاضیاتی فہم پذیری، انسانی شعور، اخلاقی اقدار اور عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت، یہ سب مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے والے مظاہر ہیں۔ نیچری نقطۂ نظر ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ وضاحت پیش کرتا ہے، مگر اکثر ان وضاحتوں کے درمیان ایک مشترک مابعد الطبیعیاتی بنیاد واضح نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس بعض مفکرین کے مطابق اگر حقیقت کی بنیاد میں ایک عقلی اور با شعور ماخذ، یعنی خدا کو فرض کیا جائے جیسے اسلام میں خدائے وحدہٗ لا شریک کا تصور تو کائنات کا نظم، عقل کی موجودگی اور اخلاقی شعور ایک ہی بنیادی اصول کے تحت قابلِ فہم ہو جاتے ہیں۔ یعنی ایک باشعور سب کچھ جاننے والے خالق نے اس کائنات کی تخلیق کی ہے‌۔

اس استدلال کا مقصد یہ بتانا نہیں ہے کہ خدا کا تصور ہر سوال کا فوری جواب فراہم کرتا ہے، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ بعض اوقات ایک نظریہ اپنی توضیحی وسعت کی وجہ سے زیادہ معقول معلوم ہوتا ہے کیوں کہ وہ مختلف مظاہر کو ایک مشترک فریم ورک میں جوڑ دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم نیچری تشریح دیکھتے ہیں جو کائنات کے تعلق سے پیش کی جاتی ہے تو وہ ادھوری ہے اور باوجود اس کے کہ وہ کائنات کے بہت سے مظاہر پر بات کرتی ہے لیکن بنیادی سوالوں کو حل کرنے میں ناکام ہوتی ہے۔

توضیحی دائرے کے سلسلے میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ کسی نظریے کی قدر اس کے توضیحی ربط (explanatory coherence)سے بھی متعین ہوتی ہے۔ ایک ایسا نظریہ جو مختلف سوالات کے لیے جدا جدا مفروضے پیش کرے وہ کم مربوط سمجھا جاتا ہے، جب کہ وہ نظریہ جو مختلف مظاہر کو ایک ہی بنیادی اصول کے تحت سمجھا سکے زیادہ مضبوط و مربوط سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں بعض فلسفیوں کا کہنا ہے کہ اگر کائنات کو محض اندھے طبیعی اعمال کا نتیجہ سمجھا جائے تو پھر عقل، شعور اور اخلاقیات جیسے مظاہر کو الگ الگ توضیحی ماڈلوں کے ذریعے سمجھانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس اگر حقیقت کی بنیاد میں ایک عقلی ماخذ(رب العالمین) کو تسلیم کیا جائے تو یہ مختلف مظاہر ایک ہی فکری ڈھانچے میں سمجھے جاسکتے ہیں۔

اس طرح توضیحی دائرہ صرف ایک منطقی معیار نہیں بلکہ ایک ایسا فلسفیانہ پیمانہ ہے جو یہ جانچنے میں مدد دیتا ہے کہ کون سا نظریہ حقیقت کی پیچیدگیوں کو زیادہ جامع اور بامعنی انداز میں واضح کر سکتا ہے۔

مذہب (بطور خاص اسلام) کے تصور کائنات اور نیچری تصور کائنات کے درمیان موازنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اول الذکر تصور زیادہ بہتر طریقے سے کائنات کی وضاحت کرتا ہے۔

فلسفیانہ ربط (philosophical coherence)

اس سے مراد کسی نظریۂ کائنات یا فکری نظام کی وہ اندرونی ہم آہنگی ہے جس میں اس کے بنیادی اصول، دعوے اور نتائج ایک دوسرے کے ساتھ منطقی طور پر مربوط ہوں اور باہمی تضاد کا سبب نہ بنیں۔

جہاں توضیحی دائرہ خارج کے مظاہر کے تعلق سے اہم ہے وہیں فلسفیانہ ربط داخل سے عبارت ہے۔

جب الحاد جدید یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کائنات کی وضاحت کے لیے خدا کا تصور غیر ضروری ہے تو اس دعوے کو فلسفیانہ ربط کے معیار پر بھی پرکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔

اسلام مابعد الطبیعیات کو ایک ایسے مربوط نظام کے طور پر پیش کرتا ہے جس کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔ توحید کا تصور صرف مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک جامع فلسفیانہ اصول ہے جو کائنات کے نظم، عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت اور اخلاقی اقدار کی معروضی بنیاد کو ایک مشترک فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔

فلسفیانہ ربط کے تناظر میں اسلامی فکر کا پہلا اہم پہلو عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت ہے۔ اسلامی فلسفہ اور کلام کی روایت میں عقل کو محض ایک حیاتیاتی صلاحیت نہیں بلکہ انسانی فطرت کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ قرآن میں بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی عقل کو حقیقت تک رسائی کا ایک معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق اگر کائنات ایک خالق حکیم کی تخلیق ہے تو انسانی عقل کا حقیقت کو سمجھنے کے قابل ہونا ایک قابلِ فہم امر بن جاتا ہے۔

دوسری طرف جدید ملحدین عقل کو محض ایک اندھے ارتقائی عمل کا نتیجہ مانتے اور سمجھتے ہیں۔ اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پھر عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں عقل اور کائنات دونوں ایک ہی ماخذ یعنی اللہ وحدہٗ لا شریک سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے درمیان مطابقت فلسفیانہ طور پر زیادہ مربوط نظر آتی ہے۔ جب کہ نیچری نظریے میں اس طرح کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

فلسفیانہ ربط کا دوسرا پہلو اخلاقی اقدار کی بنیاد سے متعلق ہے۔ اسلامی فکر کے مطابق اخلاقیات محض سماجی معاہدہ یا ارتقائی عمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک معروضی حقیقت ہے جو الٰہی ہدایت سے وابستہ ہے۔ قرآن میں عدل، رحمت اور احسان جیسے اصولوں کو محض انسانی ترجیحات کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی اخلاقی اصولوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اخلاقیات کی بنیاد صرف انسانی مفاد یا بقا نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی ماخذ سے جڑی ہوئی ہے۔ اسلامی فکر میں اس تصور کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ خدا کی ذات خیرِ مطلق (absolute good)کا سرچشمہ ہے اور اخلاقی اصول اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس طرح اخلاقیات کا تصور ایک ایسی معروضی بنیاد حاصل کر لیتا ہے جو انسانی تاریخ یا سماجی تغیرات سے بالاتر ہے، اور یہی چیز فلسفیانہ ربط کو مضبوط بناتی ہے۔ الحادِ جدید اس سے بھی عاری ہے۔

فلسفیانہ ربط کا تیسرا اہم پہلو شعور اور انسانی نفس سے متعلق ہے۔ اسلام میں انسانی نفس کو محض مادی افعال کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک غیر مادی حقیقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو جسم کے ساتھ تعلق تو رکھتی ہے مگر اس میں مکمل طور پر محدود نہیں ہوتی۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق شعور کو صرف دماغی اعمال تک محدود کرنا انسانی تجربے کی مکمل وضاحت نہیں کرتا۔ اسلامی فکر میں شعور اور عقل کو انسانی وجود کی بنیادی جہات سمجھا جاتا ہے جو انسان کو کائنات کے معنی اور مقصد کو سمجھنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں (سمع، بصر اور فواد)۔ اس طرح شعور کا مسئلہ محض ایک حیاتیاتی مظہر نہیں رہتا بلکہ انسان کی وجودی حیثیت اور اس کے مقصدِ حیات کے ساتھ مربوط ہو جاتا ہے۔

فلسفیانہ ربط کا ایک اور اہم پہلو کائنات کی عقلی فہم پذیری سے متعلق ہے۔ اسلامی فکر میں کائنات کو محض مادی اشیا کا مجموعہ نہیں بلکہ آیات (signs) کے ایک نظام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق فطرت کا نظم اور قوانین انسان کے لیے نشانیوں کی حیثیت رکھتے ہیں جو مقصد اور نظم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق کائنات کا قابلِ فہم ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ کائنات ایک خالقِ حکیم کی تخلیق ہے۔ اس طرح سائنس اور ایمان کے درمیان کوئی تضاد نہیں رہتا بلکہ دونوں حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے ذرائع بن جاتے ہیں۔

ان تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھا جائے تو اسلامی نقطۂ نظر فلسفیانہ ربط کے ایک ایسے ماڈل کو پیش کرتا ہے جس میں عقل، اخلاقیات، شعور اور کائنات کا نظم ایک مشترک مابعد الطبیعیاتی بنیاد سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ اس ماڈل میں توحید صرف ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک ایسا فلسفیانہ اصول ہے جو حقیقت کی مختلف جہات کو ایک ہم آہنگ فکری نظام میں یکجا کرتا ہے۔ اس طرح فلسفیانہ ربط کے معیار پر اسلامی نقطۂ نظر ایک ایسا فکری فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں کائنات، انسان اور اخلاقیات کو ایک بامعنی اور مربوط تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اب اس کا موازنہ آپ نیچری طرز علم سے کر لیجیے جس میں کوئی بات حتمی نہیں ہے، کوئی مشترک بنیاد نہیں ہے، کوئی معروضی حقیقت نہیں ہے، اور اس لیے کوئی معروضی اخلاقیات نہیں ہیں۔ غرض الحاد یہاں تہی دامن نظر آتا ہے۔

علمی بنیاد (epistemic grounding)

اس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی دعوے، عقیدے یا نظریۂ کائنات کی صداقت کو جاننے کے لیے معتبر بنیادیں کیا ہیں؟

فلسفۂ علم میں یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کسی چیز کو سچ کیوں مانتے ہیں اور ہمارے علم کی بنیاد کیا ہے؟

جب الحادِ جدید یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا کا تصور غیر ضروری ہے اور صرف سائنس اور تجربہ ہی معتبر علم فراہم کرتے ہیں، تو یہ دعویٰ خود ایک علمی مفروضہ بن جاتا ہے۔ تنقیدی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ دعویٰ خود سائنسی طریقے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ یہ ایک مابعد الطبیعیاتی دعویٰ ہے نہ کہ تجرباتی نتیجہ۔ اس طرح الحادِ جدید کا علمی ڈھانچہ ایک ایسے اصول پر قائم ہوتا ہے جو خود اسی معیار پر پورا نہیں اترتا جسے وہ علم کی بنیاد قرار دیتا ہے۔

علمی بنیاد کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو عقل کی صداقت پسندی سے متعلق ہے۔ اگر انسان کو صرف ایک حیاتیاتی وجود سمجھا جائے جس کی ذہنی صلاحیتیں اندھے ارتقائی عمل کے ذریعے ظہور میں آئی ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہماری عقل حقیقت تک پہنچنے کے قابل کیوں ہے۔ اس کے جواب میں جدید ملحدین نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ کیا حقیقت تک پہنچنا ممکن بھی ہے، کیا بالآخر حقیقت کی کوئی حقیقت بھی ہے، یا تمام کا تمام کائنات بس ایک بناوٹ (simulation) ہے؟ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ارتقا بنیادی طور پر بقا اور موافقت کو فروغ دیتا ہے، نہ کہ لازماً سچائی کو۔ اس صورت میں انسانی عقائد کا درست ہونا محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔

فلسفیانہ نقطۂ نظر سے یہ ایک اہم مسئلہ ہے کیوں کہ اگر ہماری عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت مشکوک ہو جائے تو وہی عقل سائنسی نظریات اور نیچری دلائل کو بھی غیر یقینی بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی فکر میں عقل انسانی فطرت کا حصہ ہے جو حقیقت کی معرفت کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ قرآن میں انسان کو بار بار کائنات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی عقل کو حقیقت تک رسائی کا ایک معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

علمی بنیاد کا تیسرا پہلو وحی اور فطرت کے تعلق سے متعلق ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں علم کے ذرائع کو صرف حواس اور تجربے تک محدود نہیں کیا جاتا بلکہ عقل، وحی اور فطرت تینوں کو معرفت کے تکمیلی ذرائع سمجھا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق وحی محض ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ وہ انسانی عقل کے حدود سے آگے کے سوالات کو واضح کرتی ہے۔ مثال کے طور پر کائنات کے مقصد، انسانی زندگی کے معنی اور اخلاقی ذمہ داری جیسے سوالات صرف تجرباتی سائنس کے ذریعے مکمل طور پر حل نہیں ہوتے۔ اسلامی فکر میں وحی کو ایک ایسا علمی ذریعہ سمجھا جاتا ہے جو ان سوالات کو ایک وسیع تر تناظر میں ایڈریس کرتا ہے۔ اس طرح علم کا ڈھانچہ زیادہ جامع ہو جاتا ہے کیوں کہ وہ صرف مادی مشاہدات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ انسانی تجربے کی معنوی جہتوں کو بھی شامل کرتا ہے۔

علمی بنیاد کا ایک اور اہم پہلو کائنات کی فہم پذیری سے متعلق ہے۔ سائنس اس مفروضے پر قائم ہے کہ کائنات ایک منظم اور قابلِ فہم نظام ہے جسے انسانی عقل دریافت کر سکتی ہے۔ مگر فلسفیانہ طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کائنات سرے سے قابلِ فہم کیوں ہے؟ اگر کائنات محض اندھے طبیعی عملوں کا نتیجہ ہو تو اس کا اس قدر منظم اور ریاضیاتی قوانین کے تحت ہونا ایک غیر متوقع امر معلوم ہوتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر میں کائنات کو خدا کی تخلیق اور اس کی آیات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق کائنات کا منظم اور قابلِ فہم ہونا فطری ہے کیوں کہ وہ ایک خالقِ حکیم کی تخلیق ہے۔ اس طرح سائنس کی کام یابی خود اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کائنات اور انسانی عقل کے درمیان ایک گہری مطابقت موجود ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو یکجا دیکھا جائے تو علمی بنیاد کا سوال صرف علم کے ذرائع کی تعیین تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے متعلق ہے کہ کون سا نظریۂ کائنات انسانی علم کو زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ الحادِ جدید عموماً علم کو تجرباتی سائنس تک محدود کرتا ہے، مگر اس نقطۂ نظر میں کئی بنیادی سوالات غیر واضح رہ جاتے ہیں، جیسے عقل کی قابلِ اعتماد حیثیت، اخلاقی علم کی بنیاد اور حقیقت کے معنی۔ اسلامی نقطۂ نظر ان سوالات کے جواب میں ایک ایسا جامع علمی فریم ورک پیش کرتا ہے جس میں عقل، تجربہ اور وحی تینوں کو علم کے تکمیلی ذرائع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس طرح معرفت کا ڈھانچہ نہ صرف زیادہ وسیع ہو جاتا ہے بلکہ حقیقت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ایک زیادہ مربوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ (جاری)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

جدید ملحدین کے سوالات

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223