رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

اعتکاف کی روح

سوال: اعتکاف کے بارے میںانتشارِ فکر کنفیوزن کا شکار ہوں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اعتکاف ایک فضیلت والا عمل ہے ۔ اس کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیشہ اعتکاف کیا ہے،جب کہ بعض دوسرے حضرات اس کی فضیلت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اعتکاف کی فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اعتکاف کرنے والے بہت سے لوگ اعتکاف کے دوران میں اپنے بعض دفتری کام انجام دیتے ہیں۔ وہ طالب علم ہیں تو کورس کی کتابیں پڑھتے ہیں، ملٹی میڈیا والے موبائل بلاتکلف استعمال کرتے ہیں۔ یہ کام مجھے اعتکاف کی روح کے خلاف معلوم ہوتے ہیں۔

بہ راہ کرم اس کے بارے میں درست نقطۂ نظر کی وضاحت فرما دیجیے۔

جواب:  اعتکاف قرآن مجید سے ثابت ہے۔ _ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا تھا کہ وہ خانۂ کعبہ کو طواف، اعتکاف اور رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں (وَعَہِدْنَآ إِلیٰٓ إِبْرٰہِیْمَ وَإِسْمٰعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ ۔البقرۃ: ۱۲۵)۔ عام مسجدوں میں بھی اعتکاف کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلاَ تُبَاشِرُوہُنَّ وَأَنتُمْ عٰکِفُونَ فِیْ الْمَسَاجِدِ  (البقرۃ:۱۸۷)

’’  اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔‘‘

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پابندی سے اعتکاف کیا ہے۔ _ آپ ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے۔ _ آپ نے ابتدائی دس دنوں میں اعتکاف کیا ہے اور درمیانی دس دنوں میں بھی، لیکن پھر آخری دس دنوں میں اعتکاف کا معمول بنا لیا تھا، اس لیے کہ ان میں آپ شبِ قدر کو تلاش کرتے تھے۔ آخری برس آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا۔آپ کے ساتھ بعض ازواجِ مطہرات اور بعض دیگر صحابہ بھی اعتکاف کیا کرتے تھے۔ _

البتہ یہ درست ہے کہ اعتکاف کی فضیلت میں صحیح احادیث مروی نہیں ہیں۔ اس سلسلے میںجو احادیث پیش کی جاتی ہیں وہ عام طور سے ضعیف ہیں ۔ مثلاً ایک حدیث یہ بیان کی جاتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے:

مَنِ اعتَکَفَ عَشْراً فِی رَمَضانَ حَجَّتَیْنِ وَ عُمْرَتَینِ، یعنی کانَ کَحَجَّتَینِ وَ عُمْرَتَینِ (شعب الایمان للبیہقی)

’’جس شخص نے رمضان میں دس دن اعتکاف کیا اس نے گویا دو حج اور دو عمرے کیے ۔‘‘

اسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے  _

اعتکاف کی روح یہ ہے کہ آدمی ہر طرف سے کٹ کر صرف اللہ تعالی سے جڑے اور صرف اسی سے لَو لگائے ۔ وہ تمام دنیاوی مشاغل سے قطع ِ تعلق کرلے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور اس کا تقرب چاہنے کے لیے خود کو وقف کردے۔ اعتکاف سے قبل اس کا رابطہ دوسرے انسانوں سے رہتا ہے، وہ ان سے معاملات کرتا ہے۔ اعتکاف کی صورت میں وہ خود کو مسجد تک محدود کرلیتا ہے ۔ اس طرح اس کا فعال رابطہ انسانوں سے کٹ جاتا ہے اور صرف اللہ تعالی سے جڑ جاتا ہے۔  اس لیے دورانِ اعتکاف میں آدمی کو صرف وہ کام کرنے چاہئیں جن سے اللہ تعالیٰ سے اس کا تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہو ۔ مثلاً وہ نوافل پڑھے، قرآن مجید کی تلاوت کرے، احادیث پڑھے، ذکر کرے، اوراد و تسبیحات پڑھے، دعاؤں کا اہتمام کرے، توبہ و استغفار کرے، دینی کتابوں کا مطالعہ کرے، مسجد میں ہونے والے دینی خطبات و مواعظ سے فائدہ اٹھائے، وغیرہ۔

لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ آج کل بعض اعتکاف کرنے والوں کی جو سرگرمیاں اعتکاف سے قبل رہتی ہیں، وہی دورانِ اعتکاف بھی جاری رہتی ہیں۔ کوئی شخص کسی ادارہ یا تنظیم کا ذمے دار ہے تو اس کا دفتر،مسجد میں اٹھ آتا ہے۔وہ وہاں رہتے ہوئے  تنظیمی معاملات انجام دیتاہے،  ضروری کاغذات پر دستخط کرتا ہے ۔ کوئی ڈاکٹر ہے تو دورانِ اعتکاف میں مریضوں کو دیکھتا ہے۔ کوئی منتظم ہے تو اعتکاف خانے میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ میٹنگ کرتا ہے۔ کوئی دوکان دار یا تاجر ہے تو دورانِ اعتکاف میں خرید و فروخت کے معاملات طے کرتا ہے۔ کوئی کسی کمپنی کا ڈائرکٹر یا منیجر ہے تو اپنے ماتحتوں سے رابطہ رکھتا اور ان کو ہدایات صادر کرتا ہے ۔ الغرض اعتکاف کے دوران دوسرے انسانوں سے روابط میں ذرا کمی نہیں آتی اور وہ حسبِ سابق جاری  رہتےہیں ۔

آج کل موبائل کی وجہ سے معاملہ اور بھی شدیدہوگیا ہے ۔ دورانِ اعتکاف میں آدمی موبائل کے ذریعے اپنی تمام پسندیدہ شخصیات اور تمام پسندیدہ کاموں سے جڑا رہتا ہے ۔وہ دوسروں کو فون کرتا ہے اور ان کے فون سنتا ہے۔ اس کے علاوہ فیس بک، واٹس ایپ ، ٹیوٹراور ملٹی میڈیا کے دیگر وسائل سے بھی مربوط رہتاہے ۔

اعتکاف کی روح یہ ہے کہ آدمی دورانِ اعتکاف میں صرف اللہ تعالی سے اپنا رابطہ جوڑے اور غیراللہ سے رابطہ محدود کرلے ۔ اس لیے بہتر تو یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا یا تو اپنے پاس موبائل نہ رکھے، یا رکھے تو اسےخاموش سایلنٹ کرلے، دوسروں کے فون ریسیو نہ کرے اور خود جب بہت ضروری ہو تب ہی کسی کو فون کرے ۔

بہر حال اعتکاف کرنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں۔ اس لیے صرف وہی شخص اس کا ارادہ کرے جو نو دس دنوں تک اپنےعام دنیاوی تعلقات سے کنارہ کش ہونے کی سکت رکھتا ہو ۔

اگردورانِ روزہ حیض جاری ہوجائے…

سوال :عورت روزہ سے ہو اور دوپہر میں اسے حیض جاری ہوجائے تو وہ کیا کرے؟ کیااس کا روزہ ٹوٹ گیا؟ اگر ٹوٹ گیا تو کیا وہ کھا پی سکتی ہے؟

جواب: حیض عورتوں کے لیے ناپاکی کی حالت ہے۔ اس حالت میں ان کے لیے روزہ رکھنا ممنوع ہے۔ اگرکسی عورت نے پاکی کی حالت میں روزہ شروع کیا، دوپہر میں اسے حیض آنے لگا تو اس کا اس دن کا روزہ باقی نہیں رہے گا۔ اسے بعد میں اس روزے کی قضا کرنی ہوگی۔

حائضہ عورت کے لیے امساک (یعنی دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکا رہنا ) ضروری نہیں ہے۔ وہ کھاپی سکتی ہے۔ البتہ رمضان کے احترام میں اسے دوسرے لوگوں کے سامنے کھانے پینے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

تشہّد میں انگلی کو حرکت دینا

سوال : بعض حضرات تشہد میں انگشتِ شہادت کو مسلسل حرکت دیتے رہتے ہیں۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟ براہِ کرام رہ نمائی فرمائیں۔

جواب: بعض احادیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تشہد کے دوران میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اس کو حرکت دیتے تھے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت یہ بتائی ہے کہ آپ ؐ جب قعدہ میں بیٹھتے تھے تو اپنے بائیں پیر کو اپنی ران اور پنڈلی کے درمیان کر لیتے تھے اور دائیں پیر کو بچھا لیتے تھے۔ بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے تھے اور انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ (وأشار باصبعہ) صحیح مسلم : ۵۷۹)

حضرت وائل بن حجر ؒ نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت ان الفاظ میں بیان کی ہے: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بایاں پیر بچھا لیتے تھے اور بایاں ہاتھ اپنے بائیں ران اور گھٹنے پر رکھتے تھے اور اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک دائیں ران پر رکھتے تھے، پھر ہاتھ کی دو انگلیوں کو سکیڑ کر حلقہ بناتے تھے، پھر ایک انگلی اٹھا کر اسے حرکت دیتے تھے اور دعا کرتے تھے۔ (نسائی:۸۸۹)

اس مضمون کی اور بھی احادیث ہیں ۔ ان کی روشنی میں فقہاء کے مسالک درج ذیل ہیں: احناف کے نزدیک تشہد میں کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے ’لاالہ‘ پر انگلی اٹھائی جائے گی اور ’الااللہ ‘ پر گرادی جائے گی۔ شوافع کے نزدیک ’الا اللہ ‘ پر انگلی اٹھائی جائے گی۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ نماز سے فارغ ہونے تک نمازی انگلی کو دائیں بائیں حرکت دیتا رہے گا۔ حنابلہ کے نزدیک نمازی انگلی کو حرکت نہیں دے گا، بلکہ جب بھی ’اللہ ‘ کا نام آئے گا وہ انگلی سے اشارہ کرے گا۔

جولائی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau