رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

کفن کا کپڑا کیسا ہو؟

سوال:  کیا یہ ضروری ہے کہ کفن سفید کپڑے کا ہو؟ کیا کفن کی تعداد کا تذکرہ احادیث میں آیا ہے؟ کیا کفن کی کوالٹی کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ کی کوئی ہدایت موجود ہے؟ براہِ کرم وضاحت فرمادیں۔

جواب: کفن ہر اس کپڑے کا ہو سکتا ہے جسے پہننا زندگی میں جائز ہے۔ چنانچہ مردوں کے لیے ریشمی کفن ناجائز ہے، لیکن عورتوں کے لیے اس کا جواز ہے۔ اس لیے کہ وہ زندگی میں ریشم کا استعمال کر سکتی ہیں، البتہ اسراف کی وجہ سے اسے مکروہ کہا گیا ہے۔

کفن کے لیے نئے کپڑے کا استعمال ضروری نہیں، پرانے کپڑوں میں بھی کفنایا جا سکتا ہے،بس اس کا پاک ہونا ضروری ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے اپنے بارے میں پرانے کپڑوں میں کفنائے جانے کی وصیت کی تھی۔

بہتر ہے کہ کفن سفید کپڑے کا ہو۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِلْبَسُوْا مِنْ ثِیَابِکُمْ الْبَیَاضَ، فَاِنِّھَا مِنْ خَیْرِ ثِیَابِکُمْ، وَکَفِّنُوْا فِیْھَا مَوْتَاکُمْ (ابو داؤد: ۳۸۷۸،ترمذی: ۹۹۴)

’’سفید کپڑے پہنا کرو، اس لیے کہ یہ عمدہ ہوتے ہیں اور ان میں اپنے مُردوں کو کفنایا کرو‘‘۔

اس حدیث کی بنا پر علما نے لکھا ہے کہ سفید رنگ کے کپڑے کا کفن مستحب ہے، ورنہ وہ کسی بھی رنگ کے کپڑے کا ہو سکتا ہے۔

بہتر ہے کہ مرد کا کفن تین کپڑوں پر مشتمل ہو: ازار، قمیص اور لفافہ(ازار سر سے پیر تک ہوتا ہے۔ قمیص گردن سے پیر تک، جس میں آستین، کلی اور گریبان نہ ہو۔ لفافہ اس سے بڑا ہوگا، جس میں سر سے پیر تک مردے کو لپیٹا جا سکے اور اوپر سے نیچے تک باندھا جا سکے۔) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین یمنی سفید کپڑوں میں کفنایا گیا تھا۔(ترمذی: ۹۹۶، نسائی: ۱۸۹۷)

عورتوں کے کفن کے لیے پانچ کپڑے بہتر ہیں۔ مَردوں کے کفن کے تین کپڑوں کے علاوہ خمار(اوڑھنی) جو سر اور چہرے کو ڈھک سکے اور کپڑے کا ایک ٹکڑا،جو سینے کو چھپائے۔ البتہ حسبِ ضرورت و موقع مردوں اور عورتوں کو مذکورہ تعداد سے کم کپڑوں کا کفن دیا جا سکتا ہے۔

حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کفن اچھے کپڑے کا دینا چاہیے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اِذَا کَفَّنَ اَحَدکُمْ اَخَاہُ فَلْیُحَسِّنْ کَفَنَہُ (مسلم: ۹۴۳) ’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے‘‘۔

امام نوویؒ نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس کا مطلب کفن کے کپڑے کا بیش قیمت ہونا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کفن کا کپڑا صاف ستھرا، کثیف، ساتر اور اوسط درجے کا ہو۔ نہ بہت زیادہ قیمتی ہو، نہ بہت معمولی۔‘‘(صحیح مسلم بشرح النووی،موسسۃ قرطبۃ، طبع ۱۹۹۴، ۷؍۱۶)

عقیقہ کی مدت

سوال: اگر کسی بچے کا بچپن میں عقیقہ نہ ہوا تو کیا بعد میں اس کا عقیقہ کروایا جا سکتا ہے؟

جواب: عقیقہ کا وقت جاننے سے قبل اس کی مشروعیت کے بارے میں واقفیت حاصل کرنی ضروری ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے نواسوں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ کا عقیقہ کیا ہے۔(ابو داؤد: ۲۸۴۱)اور آپؐ سے اس کا حکم بھی ثابت ہے۔ (بخاری: ۵۴۷۲) البتہ اس کی مشروعیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔

شوافع اور (مشہور قول کے مطابق) حنابلہ کے نزدیک عقیقہ سنت موکدہ اور مالکیہ کے نزدیک مستحب ہے، جب کہ امام ابوحنیفہؒ اسے صرف مباح کہتے ہیں۔ وہ اس کے مسنون یا مستحب ہونے کے قائل نہیں ہیں، البتہ حنفی فقیہ امام طحاویؒ سے اس کا مستحب ہونا منقول ہے۔ (رد المختار: ۵؍۲۱۳)

شوافع اور حنابلہ کے نزدیک بچہ پیدا ہونے کے بعد کسی بھی دن عقیقہ کیا جا سکتا ہے، احناف اور مالکیہ کے نزدیک ساتویں دن سے قبل نہیں ہو سکتا۔ البتہ تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کرنا بہتر ہے۔

اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو مالکیہ کہتے ہیں کہ اس کا استحباب ختم ہوجائے گا۔ شوافع کے نزدیک بچے کا باپ یا ولی اس کے بالغ ہونے تک عقیقہ کر سکتا ہے۔ حنابلہ اور( ایک قول کے مطابق) مالکیہ کے نزدیک ساتویں دن نہ ہو سکے تو چودھویں دن اور اس دن بھی نہ ہو سکے تو اکیسویں دن عقیقہ کیا جا سکتا ہے۔

بچہ بالغ ہو جائے تو کسی دوسرے کی طرف سے اس کے عقیقہ کا حکم ساقط ہوجاتا ہے، البتہ وہ خود اپنا عقیقہ کر سکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: الموسوعۃ الفقہیۃ کویت: ۳۰؍۲۷۸۔۲۷۹، قاموس الفقہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند: ۴؍ ۴۱۰، کتاب الفتاویٰ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، کتب خانہ نعیمیہ دیوبند: ۴؍۱۷۴)

عدت کی قسمیں

سوال:  عورتوں کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔ بعض کا کم عمری میں نکاح ہوجاتا ہے۔ بعض کی رخصتی سے قبل طلاق ہوجاتی ہے۔ بعض طلاق کے وقت حائضہ ہوتی ہیں، بعض نہیں۔ بعض بڑھاپے میں بیوہ ہوتی ہیں۔ بعض دوران حمل بیوہ ہوجاتی ہیں۔ کیا ان تمام طرح کی عورتوں کی عدت یکساں ہے یا ان کا الگ الگ حکم ہے؟ بہ راہِ کرم اس کی وضاحت فرمادیں۔

جواب: عورتوں کے مختلف احوال کے مطابق عدت کے احکام الگ الگ ہیں۔ انھیں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

۱۔ جن بالغ لڑکیوں کے نکاح کے بعد ان کی رخصتی ہوگئی ہو، بعد میں انھیں طلاق دے دی جائے، ان کی عدت تین حیض ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوَء (البقرۃ: ۲۲۸) ’’جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ تین مرتبہ ایام ماہ واری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں‘‘۔

۲۔ جن لڑکیوں؍عورتوں کو حیض نہ آتا ہو، چاہے حیض ابھی آنا نہ شروع ہوا ہو (یعنی لڑکی نابالغ ہو) یا حیض آنا بند ہو گیا ہو(یعنی عورت بڑی عمر کو پہنچ گئی ہو) ان کی عدت تین ماہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے: وَالّٰئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِن نِّسَائِکُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ أَشْہُرٍ وَالّٰئِیْ لَمْ یَحِضْنَ (الطلاق:۴) ’’اور تمھاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملے میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمھیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم ان کا ہے جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو‘‘۔

۳۔ نکاح کے بعد رخصتی سے قبل ہی اگر کسی لڑکی؍ عورت کو طلاق دے دی جائے تو اس کی عدت نہیں ہے، چاہے وہ حائضہ ہو یا غیر حائضہ۔ وہ طلاق پاتے ہی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَأَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا(الاحزاب: ۴۹)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمھاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے، جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو‘‘۔

۵۔ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَأُوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُہُنَّ أَن یَضَعْنَ حَمْلَہُن(الطلاق :۴)

’’اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے‘‘۔

۶۔ اگر بیوہ حاملہ ہو تو اس کی عدت کیا ہوگی؟ چار ماہ دس دن یا وضع حمل؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں اس پر ایک طویل حاشیہ لکھا ہے، جس سے اس مسئلے کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے۔ اسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے: ’’اس امر پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ مطلقہ حاملہ کی عدت وضع حمل تک ہے۔ لیکن اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا ہے کہ آیا یہی حکم اس عورت کا بھی ہے جس کا شوہر زمانہ حمل میں وفات پا گیا ہو؟ یہ اختلاف اس وجہ سے ہوا ہے کہ سورۂ بقرہ آیت ۲۳۴ میں اس عورت کی عدت چار مہینے دس دن بیان کی گئی ہے جس کا شوہر وفات پا جائے اور وہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حکم آیا تمام بیوہ عورتوں کے لیے عام ہے یا ان عورتوں کے لیے خاص ہے جو حاملہ نہ ہوں؟

حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ان دونوں آیتوں کو ملا کر یہ استنباط کرتے ہیں کہ حاملہ مطلقہ کی حد تو وضع حمل تک ہی ہے، مگر بیوہ حاملہ کی عدت آخر الَاَجلَین ہے، یعنی مطلقہ کی عدت اور حاملہ کی عدت میں سے جو زیادہ طویل ہو وہی اس کی عدت ہے۔ مثلاً اگر اس کا بچہ چار مہینے دس دن سے پہلے پیدا ہوجائے تو اسے چار مہینے دس سن پورے ہونے تک عدت گزارنی ہوگی۔ اور اگر اس کا وضع حمل اس وقت تک نہ ہو تو پھر اس کی عدت اس وقت پوری ہوگی جب وضع حمل ہوجائے۔ یہی مذہب امامیہ کا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ سورۂ طلاق کی یہ آیت سورۂ بقرہ کی آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، اس لیے بعد کے حکم نے پہلی آیت کے حکم کو غیر حاملہ بیوہ کے لیے خاص کردیا ہے اور ہر حاملہ کی عدت وضع حمل تک مقرر کردی ہے، خواہ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ۔ اس مسلک کی رو سے عورت کا وضع حمل چاہے شوہر کی وفات کے فوراً بعد ہوجائے یا چار مہینے دس دن سے زیادہ طول کھینچے، بہر حال بچہ پیدا ہوتے ہیں وہ عدت سے باہر ہوجائے گی۔ اس مسلک کی تائید حضرت ابی بن کعب کی یہ روایت کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں، جب سورۂ طلاق کی یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا: کیا یہ مطلقہ اور بیوہ دونوں کے لیے ہے؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا: ہاں۔ دوسری روایت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزید تصریح فرمائی:اجل کل حامل ان تضع مافی بطنہا، ’’ ہر حاملہ عورت کی عدت کی مدت اس کے وضع حمل تک ہے ’’ (ابن جریر، ابن ابی حاتم۔) ابن حجر کہتے ہیں کہ اگرچہ اس کی سند میں کلام کی گنجائش ہے، لیکن چوں کہ یہ متعدد سندوں سے نقل ہوئی ہے اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس کی کوئی اصل ضرور ہے)۔ اس سے بھی زیادہ بڑھ کر اس کی مضبوط تائید حضرت سبیعہ اسلمیہ کے واقعہ سے ہوتی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں پیش آیا تھا۔ وہ بہ حالت حمل بیوہ ہوئی تھیں اور شوہر کی وفات کے چند روز بعد (بعض روایات میں ۲۰ دن، بعض میں ۲۳ دن، بعض میں ۲۵ دن، بعض میں ۴۰ دن اور بعض میں ۳۵ دن بیان ہوئے ہیں) ان کا وضع حمل ہوگیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے معاملہ میں فتویٰ پوچھا گیا تو آپؐ نے ان کو نکاح کی اجازت دے دی۔ اس واقعہ کو بخاری و مسلم نے کئی طریقوں سے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کیا ہے۔ اسی واقعہ کو بخاری، مسلم، امام احمد، ابو داؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے مختلف سندوں کے ساتھ حضرت مسور بن مخرمہ سے بھی روایت کیا ہے۔ مسلم نے خود حضرت سبیعہ اسلمیہؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت سعد بن خولہ کی بیوی تھی۔ حجۃ الوداع کے زمانے میں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا، جب کہ میں حاملہ تھی۔ وفات کے چند روز بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہوگیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ تم چار مہینے دس دن سے پہلے نکاح نہیں کرسکتیں۔ میں نے جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ نے فتویٰ دیا کہ تم وضع حمل ہوتے ہی حلال ہوچکی ہو، اب چاہو تو دوسرا نکاح کرسکتی ہو۔ اس روایت کو بخاری نے بھی مختصراً نقل کیا ہے۔

صحابہ کی کثیر تعداد سے یہی مسلک منقول ہے۔ امام مالک، امام شافعی، عبد الرزاق، ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر رحمہم اللہ نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے حاملہ بیوہ کا مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اس کی عدت وضع حمل گی ہے۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب بولے کہ حضرت عمرؓ نے تو یہاں تک کہا: تھا کہ اگر شوہر ابھی دفن بھی نہ ہوا ہوا بلکہ اس کی لاش اس کے بستر پر ہی ہو اور اس کی بیوی کے ہاں بچہ ہوجائے تو وہ دوسرے نکاح کے لیے حلال ہوجائے گی۔ یہی رائے حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو مسعود بدری اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھم کی ہے، اور اسی کو ائمہ اربعہ اور دوسرے اکابر فقہاء نے اختیار کیا ہے‘‘۔ (تفہیم القرآن، جلد پنجم، ص ۵۷۱۔۵۷۲، سورۂ الطلاق، حاشیہ ۱۴)

عدت کے احکام میں مزید تفصیلات اور جزئیات ہیں، انھیں کتبِ فقہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

نومبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau