رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

شوال کے روزے

سوال: کیا شوال کے روزوں کی فضیلت صحیح احادیث سے ثابت ہے؟ اگر ہاں تو اس کا طریقہ کیا ہے؟ کیا انھیں عید کے بعد فوراً رکھنا ہے، یا کچھ وقفہ کرکے رکھے جا سکتے ہیں۔ مسلسل رکھنے ہیں یا تسلسل ضروری نہیں ہے؟براہ کرم وضاحت فرمادیں۔

جواب: حدیث میں رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ (۶)روزوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

من صام رمضان، ثم أتبعہ ستّاً من شوال، کان کصیام الدھر(مسلم : ۶۴۱۱(

جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے مزید رکھے۔ اس نے گویا ہمیشہ روزہ رکھا۔

ایک دوسری حدیث میں اس کی تشریح کر دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ہر نیک کام کا دس گنا اجر ہے۔ (الانعام:۱۶۰) اس اعتبار سے ایک ماہ کے روزوں پر دس ماہ کے روزوں کے برابر اجرملے گا اور چھ دن کے روزوں پر دو ماہ (ساٹھ دن) کے روزوں کے برابر اجرملے گا۔ اس طرح پورے سال کے روزوں کااجرمل گیا۔ (دارمی:۱۷۹۶(

ان احادیث کی بنا پر جمہور فقہاء نے شوال کے چھ روزوں کو مسنون قرار دیا ہے۔ جس طرح فرض نمازوں سے قبل اور بعد کی سنتوں کی بہت اہمیت ہے، انھیں ’ سنن ِرواتب‘ کہا جاتا ہے، اسی طرح رمضان کے روزوں سے قبل شعبان کے روزوں اور ان کے بعد شوال کے روزوں کی اہمیت ہے۔

عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے۔ اس کے بعد اگلے دن سے روزے مسلسل رکھے جائیں گے، یا ماہ شوال میں کبھی رکھے جا سکتے ہیں، اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع کے نزدیک عید کے بعد چھ روزے مسلسل رکھنا افضل ہے۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ چاہے مسلسل رکھے جائیں، یا درمیان میں وقفہ کرکے، دونوں برابر ہے۔ احناف کے نزدیک الگ الگ بغیر تسلسل کے رکھنا بہتر ہے۔ مالکیہ نے عید کے بعد متصل روزے رکھنے کو مکروہ قرار دیا ہے۔

میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ اس معاملے کو ہر فرد کے اوپر چھوڑ دیا کہ وہ اپنی سہولت سے چاہے تو عید کے بعد مسلسل چھ روزے رکھ لے اور چاہے تو پورے ماہ شوال میں متفرق طور پر رکھ لے۔

 

حرمتِ مصاہرت کے بعض احکام

سوال:  پندرہ برس پہلے میری شادی ہوئی۔ دس برس ازدواجی زندگی گزارنے کے بعد میرے شوہر کا انتقال ہوگیا، جن سے میرے تین بچے ہوئے: ایک بیٹی اور دو بیٹے۔

میری سسرال والوں نے میرے مرحوم شوہر کے چھوٹے بھائی سے میرے نکاح کی تجویز دی۔ میرا دیور مجھ سے ۶، ۷ سال چھوٹا تھا۔ بہرحال ہمارا نکاح ہوگیا اور اس سے بھی میرے دو بیٹے ہوئے ہیں، جو ابھی کم سن ہیں۔

چند ایام قبل ایک افسوس ناک صورت حال پیدا ہوگئی کہ میرے موجودہ شوہر نے میری بیٹی (جو اس کی اپنی بھتیجی بھی ہے، اور ابھی تیرہ برس کی ہے) کی شرم گاہ کو شہوت سے چھوا۔ دو مرتبہ کپڑوں کے اوپر سے اور ایک بار زبردستی زیرِ جامہ بھی ہاتھ سے مَس کیا، تاہم زنا نہیں کیا۔ اس صورتِ حال میں، میں سخت صدمہ کی حالت میں ہوں۔ یہ بات میں نے اپنی ایک صاحبِ علم سہیلی کو بتائی تو انھوں نے کہا: ’’تمھارا نکاح ٹوٹ گیا اور اب تم اس کی بیوی نہیں رہی۔‘‘

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا واقعی میرے شوہر کی اس دست درازی سے میرا نکاح ٹوٹ گیا ہے؟ اور ہم ایک دوسرے کے لیے حرام ہوگئے ہیں؟ میں سخت پریشان ہوں کہ میرے ان پانچ بچوں اور مجھے اس فرد کی بے حیائی کی کیوں سزا ملے؟ یاد رہے، میرا شوہر اپنی اس حرکت پر سخت نادم ہے۔

جواب:  اصل سوال کا جواب دینے سے قبل اس جانب توجہ دلانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پہلی فرصت میں گھر کا وہ ماحول لازماً تبدیل کر دیا جائے جس میں یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ مرد سے ایک انتہائی گھناؤنی حرکت سرزد ہوئی ہے کہ اس نے اپنی بھتیجی اور’ربیبہ‘ (بیوی کی لڑکی جو دوسرے شوہر سے ہو) کے ساتھ دست درازی کی۔ اسے توبہ و استغفار کرنا چاہیے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے کہ شیطان کے بہکاوے اور نفس کی شرارت سے مغلوب ہوکر اس سے یہ نہایت غلط کام سرزد ہوا۔ لڑکی کو اس گھر سے ہٹا کر کسی محفوظ جگہ (ننیہال یا کہیں اور) رکھنا چاہیے، تاکہ آئندہ اس مرد (سوتیلے باپ) کے ساتھ اس کا آمنا سامنا نہ ہو اور اس سے اختلاط اور خلوت کے مواقع ختم ہوجائیں۔ عورت ہوشیار اور بیدار رہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ آئندہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ اور کہیں نہ پیش آئے۔

جہاں تک مذکورہ واقعہ کے بارے میں شرعی حکم کا تعلق ہے، فقہ میں اسے ’حرمتِ مصاہرت‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت سے کسی مرد نے جنسی تعلق قائم کیا ہو، اس کی بیٹی اور ماں اس (مرد) پر حرام ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح مرد پر وہ عورت ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے جس سے اس کے باپ یا بیٹے نے جنسی تعلق قائم کیا ہو۔ جنسی تعلق جائز بھی ہوسکتا ہے، یعنی نکاح کے بعدہوا ہو اور ناجائز بھی، یعنی بغیر نکاح کے ہوا ہو۔ اول الذکر صورت میں تمام فقہاء کے نزدیک حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے۔لیکن اگر کسی شخص نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا ہو تو اس کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔

احناف کے نزدیک اس کی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجائے گی۔ اس میں زنا اور مقدِّماتِ زنا دونوں شامل ہیں۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص کسی لڑکی سے زنا کر لے، یا شہوت کے ساتھ اس کا بوسہ لے یا چھولے یا اس کی شرم گاہ دیکھ لے تو اس کی ماں (خواہ اس کی بیوی ہو) اس پر حرام ہوجائے گی۔ دلیل کے طور پر ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَن نَظَرَ الیٰ فَرج امرأۃٍ لم تحلّ لہ أمُّھا ولا بِنتُھا “جس شخص نے کسی عورت کی شرم گاہ دیکھی، اس کی ماں اور بیٹی اس کے لیے حلال نہیں رہیں گی۔‘‘

یہ حدیث مصنف ابن ابی شیبہ (۴؍۱۶۵) میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے۔ اس کی روایت بعض اور صحابہ سے بھی ہے۔ بعض روایات موقوف اور بعض مرسل ہیں، لیکن سب میں کوئی نہ کوئی ضعف پایا جاتا ہے۔

یہی رائے حنابلہ کی بھی ہے، لیکن ان کے نزدیک حرمتِ مصاہرت صرف زنا سے ثابت ہوتی ہے، مقدِّماتِ زنا سے نہیں۔

امام مالکؒ سے ایک قول ا حناف کے مثل حرمت کا ابن قاسمؒ نے نقل کیا ہے۔ لیکن سحنونؒ کہتے ہیں کہ اصحابِ مالک ابن قاسم کی روایت کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک امام مالکؒ کی اصل رائے وہ ہے جو ان کی کتاب ’الموطا‘ میں مذکور ہے کہ زنا سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

شوافع کا مسلک اس معاملے میں دو ٹوک ہے کہ زنا سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی ماں یا بیٹی سے زنا کرلے تو بیوی اس پر حرام نہیں ہوجاتی۔ اس کی دلیل کے طور پر ایک حدیث پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک موقع پر دریافت کیا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے بدکاری کرے، پھر اس کی بیٹی سے نکاح کرے، یا بیٹی سے بدکاری کرے، پھر اس کی ماں سے نکاح کرے۔ کیا یہ جائز ہے؟ اس پر آپؐ نے ارشاد فرمایا:

لایُحَرِّمُ الحَرَامُ الحَلالَ، اِنَّمَا یُحَرِّمُ مَاکانَ بِنِکاحٍ حَلالٍ ’’ایک شخص کوئی حرام کام (یعنی زنا) کرے تو اس سے حلال کام (یعنی نکاح) حرام نہیں ہوجاتا، بلکہ جائز طریقے سے نکاح کرنے پر کچھ رشتے حرام ہوجاتے ہیں۔‘‘

یہ روایت ہیثمی کی مجمع الزوائد (۴؍ ۲۶۸)، طبرانی کی المعجم الاوسط (۵؍۱۰۴) اور دیگر کتب میں آئی ہے، لیکن اس کی سند میں بھی ضعف پایا جاتا ہے۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ حرمتِ مصاہرت ایک نعمت ہے۔ نکاح کے ذریعہ اجنبی لوگ قریبی رشتے دار بن جاتے ہیں، اس بنا پر ان سے نکاح حرام ٹھہرتا ہے، جب کہ زنا حرام ہے، پھر وہ اس نعمت کا سبب کیسے بن سکتا ہے؟ اس موضوع پر امام محمد بن حسن شیبانیؒ سے امام شافعیؒ کا مناظرہ ہوا تھا تو انھوں نے فرمایا تھا: ’’ایک جنسی تعلق (بعد نکاح) عورت کے لیے قابلِ تعریف ہوتا ہے اور وہ مضبوط حصار میں چلی جاتی ہے۔ دوسرے جنسی تعلق (بغیر نکاح) پر اسے سنگ سار کیا جاتا ہے۔ ایک نعمت ہے، اس سے نسبی اور سسرالی رشتے قائم ہوتے ہیں اور حقوق عائد ہوتے ہیں۔ دوسرا قابلِ سزا عمل ہے۔ پھر دونوں ایک جیسے کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘

سوال میں جن مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ قابلِ غور ہیں۔ پانچ چھوٹے چھوٹے بچے پرورش، تربیت اور کفالت کے محتاج ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان رشتۂ نکاح ختم کر دینے کی صورت میں ان بچوں کی صحیح طریقے سے پرورش نہیں ہوسکے گی۔ پہلے شوہر کے انتقال کے بعد عورت اور اس کے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنے کے مقصد سے ہی اس کا دوسرا نکاح اس کے دیور سے کر دیا گیا تھا۔ اب ان کے درمیان حرمت کا فیصلہ کر دینے کی صورت میں عورت پھر بے یار و مددگار ہوجائے گی۔ مزید یہ کہ اس مسئلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ صرف بوس و کنار اور لمس و نظر کی صورت میں ائمہ ثلاثہ حرمتِ مصاہرت کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے مذکورہ مسئلے میں یہ رائے مقاصدِ شریعت سے قریب تر معلوم ہوتی ہے کہ مرد و عورت کے درمیان رشتہ نکاح باقی ہے۔

زنا اور مقدمات زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے سلسلے میں فقیہ بصرہ عثمان البتی تابعی کی رائے عملی پہلو سے مفید معلوم ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر شادی سے پہلے کسی نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا ہو تو اس کی بیٹی یا ماں سے شادی نہیں کی جائے گی، لیکن اگر شادی کے بعد ایسی حرکت سرزد ہوجائے تو نکاح باقی رہے گا۔

جون 2020

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau