نماز میں چہرہ ڈھکنا
سوال:آج کل موسم سرما میں اکثر مساجد میں دیکھنے میں آتا ہے کہ امام اور چند مقتدی حضرات اپنے چہروں کو مفلر یا رومال وغیرہ سے اس قدر ڈھانپ لیتے ہیں کہ پوری پیشانی اور ناک سے لے کر منھ ،ٹھڈّی اورڈاڑھی کا مکمل حصہ پوری طرح چھپ جاتا ہے۔
برائے مہربانی وضاحت فرمائیں کہ نماز میں امام اور مقتدی حضرات اپنے چہرے کو کس قدر ڈھانپ سکتے ہیں ؟ اور کم از کم کتنا چہرہ کھلا رکھنا ضروری ہے؟
جواب:نماز میں مرد کے لیے چہرہ کھلا رکھنا صحت ِ نماز کے لیے شرط نہیں ہے، البتہ فقہاء نے اس کی کچھ تفصیل بیان کی ہے : چاروں ائمہ کے نزدیک مرد کا چہرہ ستر میں شامل نہیں۔ اس کا ستر ناف سے گھٹنے تک ہے۔ لہٰذا اگر کسی وجہ سے چہر ہ ڈھک جائے تو نماز فاسد نہیں ہو گی۔
نماز میں بلا عذر چہرہ ڈھانپ لینا مکروہ قرار دیا گیا ہے، کیوں کہ حدیث میں آیا ہے:
نھی رسول اللہ ﷺأن یغطّي الرجل فاہ في الصلا ۃ(سنن ابی داؤد: 643)
’’رسول اللہ ﷺنے منع کیا ہے کہ آدمی نماز میں اپنا چہرہ ڈھکے۔‘‘
فقہاء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ منھ، ناک اور ہونٹوں کا حصہ ڈھانپنا مکروہ ہے، خصوصاً بغیر ضرورت کے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے: و یکرہ أن یغطي فاہ في الصلا ۃ (نماز میں منھ ڈھانپنا مکروہ ہے۔)
فقہی اعتبار سے کم از کم اتنا حصہ کھلا ہو نا چا ہیے کہ سجدہ درست ہو سکے (یعنی پیشانی اور ناک زمین پر رکھنا ممکن ہو)۔ اگر چہرہ کا کچھ حصہ (مثلا ًسردی کی وجہ سے ) ڈھکا ہوا ہو، لیکن پیشانی اور ناک کھلی ہوں اور سجدہ صحیح ہو جائے، تو نماز درست ہے۔
پورا چہرہ کپڑے سے لپیٹ لینا بلا عذر مکروہِ تنزیہی ہے۔ شدید سردی، بیماری، گردو غبار یا کسی مجبوری میں چہرہ ڈھانپنا جائز ہے اور کراہت بھی نہیں رہتی۔
عذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی کا تدارک
سوال: میں پرائمری سکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائرڈ ہو گیا ہوں۔ زندگی بھر تحریکِ اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسبِ توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ(۶) لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی، وہ میں نے ان میں تقسیم کر دی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا، لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ گھٹنے ناکارہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون 2025ء سےمیں چار پائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں۔ وضو بھی نہیں کر سکتا، نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔
ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دو کلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کر سکیں گے؟ مجھے امید نہیں۔ میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نماز تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوق ِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہو گئی ہے۔ برائے کرم میری رہ نمائی فرمائیں۔ میں کیا کروں؟
جواب : اس دنیا میں ہر انسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھ انسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کر کے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پا کر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کام یاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پا کر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔
کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ بعض فتاویٰ میں یہی ہر نماز کا فدیہ قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ درست نہیں۔ نماز سراسر بدنی عبادت ہے اور بدنی عبادت کا کوئی فدیہ نہیں ہوتا۔ اس کے لیےتوبہ و استغفار کافی ہے۔
جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔ جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کر سکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمم کر لیا کریں۔ اٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کر لیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور، حسبِ توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو، جب بھی موقع ملے دہراتے رہیں ۔
آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عذر کی وجہ سے نہیں کر پا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عذر کی وجہ سے انہیں نہ کر سکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔
زکوٰۃ اور غیر زکوٰۃ فنڈ کو فکسڈ ڈپازٹ کرنا اور اس کے انٹرسٹ کو استعمال کرنا
سوال:دو سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
ا۔ اگر کوئی مسلم این جی او اپنے بینک اکاؤنٹ میں زکوٰۃ ، صدقات اور دیگر خیراتی عطیات جمع کرتی ہے، پھر یہ تمام رقوم سال بھر ایک منظّم نظام کے تحت مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ عمل پورے سال جاری رہتا ہے اور جمع شدہ رقم بینک اکاؤنٹ میں موجود رہتی ہے۔ اس دوران میں اگر کچھ رقم عارضی طور پر چند مہینوں تک استعمال میں نہ آئے اور مستحقین میں تقسیم سے پہلے بینک اکاؤنٹ میں پڑی رہے، تو کیا ایسی غیر استعمال شدہ رقم کو این جی او کے ذریعے کم مدت کے لیے فکسڈ ڈپازٹ (FD) میں رکھنا شرعا جائز ہے؟ بالخصوص کیا 7 دن ، 15 دن، 30 دن ، 60 دن ، 90 دن ، 180 دن 365 دن ، یا کسی بھی مختصر یا طویل مدت کے لیے فکسڈ ڈپازٹ کی جاسکتی ہے، جب کہ اس سے مستحقین کو رقم کی ادائی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو؟
۲۔ کیا فکسڈ ڈپازٹ (FD) سے حاصل ہونے والے سود یا سیونگ بینک اکا ؤنٹ میں ملنے والے عام سود کو کوئی این جی یاتنظیم یا ادارہ اپنے انتظامی اخراجات میں استعمال کر سکتا ہے؟ مثلاً عملے کی تنخواہیں، سفری اخراجات ، بجلی اور پانی کے بل، تشہیری مصارف، دفتر کے ضروری سامان یا خدمات کی خریداری، وغیرہ۔
جواب: مسلم این جی او کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہونے والی زکوٰۃ ، صدقات ِ واجبہ اور دیگر خیراتی عطیات کی رقمیں دراصل ادارے کی ملکیت نہیں ہوتیں، بلکہ وہ امانت ہوتی ہے، جسے مستحقین تک پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔
عام طور پر بینک کا فکسڈ ڈپازٹ (FD) سودی بنیاد پر ہوتا ہے، یعنی اس میں اصل رقم کے ساتھ متعین سود ملتا ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کی رقم کو سودی فکسڈ ڈپازٹ میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ اس میں سود کا لین دین پایا جاتا ہے، جو شریعت میں حرام ہے۔ قرآن مجید میں سود کی سخت ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا( البقرۃ: 275)’’ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘ زکوٰۃ کا مال این جی او کے پاس امانت ہے، اسے ایسے معاملہ میں لگانا جس میں حرام شامل ہو، درست نہیں۔
اگر کسی این جی او یا ادارے کے بینک اکاؤنٹ میں سودی رقم (چاہے وہ فکسڈ ڈپازٹ کا سود ہو یا سیونگ اکاؤنٹ کا سود ) جمع ہو جائے تو اس رقم کا حکم یہ ہے کہ یہ حرام مال ہے، اس کی ملکیت لینا یا اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ۔ ادارے کے اپنے اخراجات میں سود کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں، کیوںکہ اس صورت میں ادارہ حرام مال سےفائدہ اٹھارہا ہوگا۔سودی رقم کو غربا و مساکین میں خرچ کر دینا چاہیے۔
عدّت پوری کرنے سے قبل کیے گئے نکاح کا حکم
سوال:اگر کسی عورت نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا ہو اور خلع کے صرف پندرہ دن کے بعد اس کا دوسرے شخص سے نکاح کر دیا جائے تو کیا یہ نکاح شرعاً صحیح ہوگا؟ اگر صحیح نہیں ہے تو اس کی دلیل کیا ہے؟ براہ کرم یہ بھی بتائیں کہ اس غلطی کی اصلاح کیسے ہوسکتی ہے؟
جواب: خلع کے بعد عدّت گزارنا عورت کے لیے لازم ہے۔ احناف ، مالکیہ اور شوافع کے نزدیک خلع طلاقِ بائن کے حکم میں ہے، اس لیے اس کی عدّت وہی ہے جو مطلقہ کی عدّت ہوتی ہے، یعنی تین حیض۔حنابلہ کے نزدیک خلع فسخ نکاح کے حکم میں ہے ،اس لیے اس کی عدّت صرف ایک حیض ہے۔ جب تک یہ عدّت مکمل نہ ہو جائے، اس عورت کا کسی دوسرے شخص سے نکاح جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ( البقرۃ:۲۲۸)
’’جن عورتوں کو طلاق دےدی گئی ہو وہ اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔‘‘
دوسری جگہ ہے:
وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتٰبُ أَجَلَهُ ( البقرۃ:۲۳۵)
’’ نکاح کا پختہ ارادہ نہ کرو جب تک عدّت پوری نہ ہو جائے۔‘‘
فقہاء نے صراحت کی ہےکہ خلع حاصل کرنے والی عورت پربھی مطلقہ کی طرح عدّت واجب ہوگی۔ چنانچہ بدائع الصنائع میںہے:
المختلعة تعتدّ بثلاثة قروءٍ ،لأنها مطلَّقة ( خلع یافتہ عورت بھی مطلقہ کی طرح تین حیض عدت گزارے گی۔)
لہٰذا اگر کسی عورت کاخلع کے صرف پندرہ دن بعد دوسرا نکاح کر دیا گیا ہو اور عدّت مکمل نہ ہوئی ہو تو یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہوگا، کیوں کہ عدّت کے اندر نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
اگر ایسا نکاح ہو گیا ہو تو اس کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان فوراً علیحدگی کرا دی جائے۔عورت پہلے خلع کی عدّت مکمل کرے۔ اس کے بعد اگر دونوں نکاح کرنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کےساتھ ان کا دوبارہ نکاح کروا دیا جائے۔







